عقل کے سہارے خدائی پر شاعری کرنے والے شعراء

عندلیب نے 'نقد و نظر' میں ‏مئی 4, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. عندلیب

    عندلیب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 19, 2008
    پیغامات:
    4,642
    موجودہ دور کے کئی شاعروں کے یہاں خدا سے بغاوت اور اس کی بارگاہ میں بے ادبی اور گستاخی دکھائی دیتی ہے ۔
    جیسے:
    او میرے مصروف خدا
    اپنی دنیا دیکھ ذرا

    ۔۔۔۔ ناصر کاظمی
    ہمیں پیار سے دیکھتا ہی نہیں
    وہ جیسے ہمارا خدا ہی نہیں

    ۔۔۔۔۔۔ مظفر حنفی
    دعا کے ہاتھ پتھر ہوگئے ہیں
    خدا ہر ذہن میں ٹوٹا پڑا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔ ندا فاضلی
    قیامت کی دھمکی عذابوں کا ڈر
    ابھی تک خدا سے ہو اکچھ نہیں

    ۔۔۔۔ ارتضیٰ نشاط
    کون جانے گا اب خدا کو
    جس کی ہر بات آدمی کی سی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال حیدر

    ان کے اس طرح کے اشعار پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاذاللہ خدا عظیم کائنات کا عظیم خدا نہیں ہے ۔ بے بس ہے ، مجبور ہے ، بے خبر ہے، بے وفا ہے ، نظام کائنات پر اس کا کنٹرول نہیں ہے ، شاعری کے فن سے ناآشنا ہے ، تخلیق کائنات کے بعد ملول ہے ، صرف دھمکی دینے والا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
    عقل کے سہارے خدا کی خدائی اور اس کی مشیت اور قدرت کا اندازہ لگانے والے شعراء نے اسی قسم کے گمراہ کن اشعار کہے ہیں ۔ اقتصادی بد حالی اور مالی بحران کا شکار ہونے والے یا مذہب بے زار دانشوروں کے خیالات سے متاثر ہونے والے شعرا ء نے اس خالق کائنات اور مدبر ہستی پر جس کی عظمت وبرتری انسان کے حدود عقل سے باہر ہے ، بے ہودہ تنقید کی ہے اور اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کئے ہیں ۔

    اس قسم کے خیالات بے انتہا گمراہ کن ہیں ، ان سے سوائے نقصان کے مطلق فائدہ نہیں ۔ چونکہ الوہیت کا مقام اور خدا کی قدرت ومشیت کی تفہیم انسان کے فہم و ادراک سے بالاتر ہے اور اس راہ میں اس کی عقل کی کوتاہی حائل ہے ، جس کا نتیجہ بقول اکبر الہ آبادی یہ نکلتا ہے :
    جہاں ہستی ہوئی محدود لاکھوں پیچ پڑتے ہیں
    عقیدے ، عقل ، عنصر سب کے سب آپس میں لڑتے ہیں


    اس لیے اس میں عقل کھپانا جہالت و گمراہی کو فروغ دینا ہے ۔ خدا کے سامنے انسان بے انتہا کم درجہ ہے لہذا بے مایا انسان کے لیے یہی سزا وار ہے کہ وہ اس خدا کے سلسلہ میں جس کا علم سب پر حاوی ہے اور جس کی طرف کائنات کی ہر شئے کو بہرحال لوٹنا ہے ، جب اپنی زبان کھولے تو ادب و شائستگی کا پورا خیال رکھے اور مولانا اسمٰعیل میرٹھی کی طرح حقیقت کا اس طرح اعتراف کرے:

    اتنا تو جانتے ہیں کہ بندے خدا کے ہیں
    آگے حواس گم ، خرد نا ساز کے ہیں


    بحوالہ : مضمون "اردو شاعری میں خدا" ( روزنامہ اعتماد)
    مضمون نگار : ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل
     
  2. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    بہت بہت شکریہ محترمہ عندلیب صاحبہ

    آپ کے اس مضمون نے آخرت کی یاد میں رس گھولا ہے۔آپ کے مضمون کو پڑھ کر آخرت کی یاد تازہ ہو گئی۔اسی کے ساتھ ایک اور چیز بھی شامل ہوگئی میں چاہتا ہوں کہ اسے شیئر کروں۔


    او میرے مصروف خدا
    اپنی دنیا دیکھ ذرا
    ۔۔۔۔ ناصر کاظمی
    ہمیں پیار سے دیکھتا ہی نہیں
    وہ جیسے ہمارا خدا ہی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔ مظفر حنفی
    دعا کے ہاتھ پتھر ہوگئے ہیں
    خدا ہر ذہن میں ٹوٹا پڑا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔ ندا فاضلی
    قیامت کی دھمکی عذابوں کا ڈر
    ابھی تک خدا سے ہو اکچھ نہیں
    ۔۔۔۔ ارتضیٰ نشاط
    کون جانے گا اب خدا کو
    جس کی ہر بات آدمی کی سی ہے


    مذکورہ اشعار میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ دراصل کریشن پلان آف گاڈ نہ سمجھنے کی بنا پر کہی گئی ہیں۔مثلا
    او میرے مصروف خدا
    اپنی دنیا دیکھ ذرا
    اس شعر میں یا نثر میں جس بات کا شکوہ کیا گیا ہے وہ کریشن پلان آف گاڈ کو نہ سمجھنے کی بنا پر کیا گیا ہے۔اگر شاعر کو شعوری طور پر اس بات کا پتہ ہوتا کہ آج جو کچھ اس دنیا میں ہورہا ہے وہ بطور امتحان ہورہا ہے۔اللہ نے کسی بھی انسان کو ایسی کوئی دنیا نہیں دی کہ جس کو پانے کے بعد وہ شکوہ شکایت سےخالی ہوجائے۔اور وہ خدا کے اس دین پر پوری طرح مطمئن ہو۔ایسا کسی کے ساتھ نہیں کیا گیا۔امتحان کی خاطر اللہ نے ہر ایک کے ساتھ کسی نہ کسی چیز کی کمی یا شکایت کی جگہ خالی رکھا ہے۔اللہ نے خود اپنی مرضی سے کسی کو غریب تو کسی کو امیرَ ،کسی کو ادیب تو کسی کو شاعر ،کسی کو ایک چیز تو کسی کو دوسری چیز،الغرض ہر کسی کو اس احساس کے ساتھ امتحان میں ڈالا ہےکہ وہ خدا سے اپنی دنیاوی کمیوں کی شکایت کرسے،وہ دوسروں کو ملی ہوی چیز پر خود کو نہ دئے جانے کا شکوہ یا شکایت یا غم کرسکے۔
    اب خداکو یہ دیکھنا ہے کہ کون کریشن پلان آف گاڈ کو جان کر آخرت کو اپنا کنسرن بناتا ہے اور کون اس سے بےخبر رہکر ابدی مایوسی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔

    میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ سارے ہی اشعار اسی کریشن پلان آف گاڈ کو نہ جاننے کی وجہ سے کہے گئے ہیں۔ ورنہ آخرت کے دن کا انتظار ،دنیا کے غموں کی ڈھارس بندھا نے کے لئے کافی ہے۔آخرت میں پانے کی خاطر ،انسان کے لئےدنیا کی قربانی یا خدا کی تقسیم پر راضی برضا رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کےلئے کافی ہے۔

    دوبارہ میں آپ کا شکریہ ادا کروں گا کہ آپ نے بہت محنت کے ساتھ چنندہ اشعار پیش کیا ہے۔جزاک اللہ فی الدارین
     
  3. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    کوئی پانچ چھ سال قبل ، جب میں اردوپیجز فورم پر نیا نیا تھا تو ناصر کاظمی کی اسی غزل "او میرے مصروف خدا" پر میں نے اعتراض اٹھایا تھا۔ اس پر لمبی بحث ہوئی۔ ڈھونڈنے پر بھی وہ تھریڈ اب نہیں مل رہا۔ کسی اور جگہ سے یہ بحث مل جائے تو اسے مجلس پر ضرور شئر کروں گا۔
    میرے خیال سے ناصر کاظمی نے کوشش کی تھی کہ علامہ اقبال کی طرح بطرز "شکوہ" غزل کہی جائے۔ مگر علامہ نے "جوابِ شکوہ" جو لکھا تھا اسے شائد ناصر کاظمی فراموش کر گئے۔
     
  4. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    استغفراللہ

    انہوں نے اللہ کی قدر کو نہ پہچانا جس طرح اس کی قدر کو پہچاننے کا حق تھا۔

    اچھا ان کے ان گٹیا شاعری سے میرے اللہ رب العالمین کی شان میں کوئی کمی نہیں آنے والی۔ میرا رب اللہ عظیم ہے۔
     
  5. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    جب میں بھی اردو پیجز پر ممبر تھا تو میں نے بھی غالبا پریمیر ممبر سیکشن میں آپ کی بہت سارے تھریڈز میں بحث پڑھی تھی ایک تو وطن پرستی پر تھی اور دوسری کئی بحثینں بھی تھیں۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاکم اللہ خیرا عندلیب سسٹر ۔ بہت عمدہ مضمون شئیر کیا ۔
     
  7. انصاری آفاق احمد

    انصاری آفاق احمد -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 5, 2010
    پیغامات:
    405
    السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ
    جزاک اللہ فی الدارین
    سبحان اللہ وبحمدہ
    سبحان اللہ العظيم
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں