منکرین روایات یا پھر یہودی گرائپ واٹر کے اثرات

کارتوس خان نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏ستمبر 2, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔​

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

    عزیز دوستوں!۔
    دین میں سازشوں کا سلسلہ کوئی نیا ہے اور نہ ہی اپنی ذات میں کوئی اور انوکھی چیز ہے کیونکہ عہد رسالت کے بعد سب سے پہلے معتزلہ کا جو فرقہ مسلمانوں سے علیحدہ ہوا اسکی بنیاد انکار حدیث ہی تھی اور اُس کے بعد سے آج تک جتنے بھی فرقے بنتے رہے ان سب کی نبیاد میں انکار حدیث یا منکرین روایت کسی نہ کسی طور پر موجود رہا ہے یعنی یہ تمام تر باطل فرقے درحقیقت معتزلہ ہی کی روحانی اولادیں ہیں اور الحمداللہ ان تمام فرقوں کے علی الرغم ایک گروہ اہلسنت والجماعت یا اہلحدیث یا محدثین کا ہمیشہ موجود رہا ہے جو دین میں قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث کو بھی حجت تسلیم کرتا ہے اور ان کے نزدیک احادیث کے رد وقبول کا معیار صرف صحت و ضعف ہے یہی وجہ ہے احادیث کی کُتب میں موجود روایات جو چودہ سو سال قبل صحیح اور مقبول تھیں ان کا صحیح ہونا آج بھی مسلم ہے کیونکہ ان کتب روایات کو جرح و تعدیل کے معیار پر پرکھنے کے بعد قبول کیا گیا ہے جبکہ منکرین روایات یا انکار حدیث کی طرف مائل جو بھی ذہن ہیں اُنکے نزدیک روایات کے رد وقبول کا معیار عقل، کبھی فلسفہ، اور کبھی اپنا ذاتی فہم القرآن کے مطابق ہوتا ہے جبکہ دیگر روایات کو ظنی اور مشکوک قرار دے کر رد کردیا گیا۔۔۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی کا ایسے فرقوں کے بارے میں ارشاد ہے کہ!۔

    إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيْنَ اللّهِ وَرُسُلِهِ وَيقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً أُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا۔

    بلا شبہ جو لوگ اﷲ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کردیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اس (ایمان و کفر) کے درمیان کوئی راہ نکال لیں ایسے ہی لوگ درحقیقت کافر ہیں، اور ہم نے کافروں کے لئے رُسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے (النساء ١٥٠۔١٥١)۔۔۔

    کُتب روایات یا انکار حدیث کے مجرم جو یہودی ونصرانی ساختہ گرائپ واٹر پی کے جو الزام لگاتے ہیں کہ!۔
    اصحابہ رسول کے ایسے 'واقعات' ، 'حدث' ، 'حادثات' ، 'حدیث' ، 'واقعات' اور 'خبروں' کے سنے سنائے مجموعات ہیں - جن کی سند و صحت کی کوئی ضمانت نہیں ہے تو یہ خود ہی اپنے پھینکے ہوئے پھندے میں آپ پھنس جاتے ہیں کیونکہ ہر ذی شعور مسلمان یہ جانتا ہے کہ جو دعوٰی یہ منکرین روایت یا انکار حدیث پارٹی کرتی ہے یہ بتائے کہ رسومات کے ضمن میں کلی طور پر کیا یہ روایت کے محتاج نہیں ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر حج اور زکوۃٰ کی ادائیگی ہی لے لیں کیا یہ کُتب روایات کو اپنائے بغیر ممکن ہے؟؟؟۔۔۔ اسی طرح منکریں روایات یا انکار حدیث والی پارٹی نکاح یا مردے کی تجہیز و تکفین وغیرہ کے مسائل میں کتب روایات سے رہنمائی لئے بغیر کیسے ان امور کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں؟؟؟۔۔۔ اسی طرح منکرین روایات یا انکار حدیث والے قرآن سے یہ کسیے ثابت کریں گے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اُس کی ختنہ کروانا سنت ہے؟؟؟۔۔۔

    اور آخری سٹ منکرین روایات یا انکار حدیث ساقی محفل والے جن کا شعار ہے کہ آزادی اظہار کا حق سب کو ہے سے یہ سوال کروں گا کہ وہ کیسے یہ ثابت کریں گے کہ وہ اپنے ماں باپ کی جائز اولاد ہیں؟؟؟۔۔۔ نکاح نامے کی فوٹو کاپی دکھا کر یا اُن تین گواہوں کی گواہی پیش کر کے جنہوں نے نکاح نامے پر دستخط کئے تھے؟؟؟۔۔۔ لیکن پھر بھی ایک سوال ذہن میں رہ جاتا ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جن گواہوں کو پیش کیا گیا ہے وہی گواہ ہیں عقل کیسے تسلیم کرے؟؟؟۔۔۔ خیر!۔

    اب ذرا جو دعوٰی کیا گیا ہے جس کو بنیاد بنا کر روایات کے مشکوک ہونے پر اعتراضات پیش کئے جارہے ہیں کیا وہ اس بات کی دلیل قرآن سے پیش کرسکتے ہیں کہ قرآن میں کہاں یہ بات لکھی ہے کہ وفات رسول کے ٢٥٠ سال تک ان کتب روایات کے لکھنے والوں یا جن سے یہ کتب منسوب کی گئی ہیں، کوئی وجود نہیں تھا۔۔۔ اور اگر یہ قرآن میں نہیں ہے تو پھر کہاں سے منکرین روایات نے اس روایت کو لے کر کُتب روایات پر اعتراض کیا یعنی یہ اس پینبترے بدلتی ہوئی سازش کا خود شکار ہوگئے اور اپنے لئے بھی حجت راویت کو ہی بنایا۔۔۔ آفریں ہے اُن لوگوں پر جو ان پر بھروسہ کر کے راویات پر شک کرتے ہیں ایسے لوگوں سے میں یہ جاننا چاہوں گا کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر قرآن میں کہاں ہے؟؟؟۔۔۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاط کے جس کا میں مولا اس کا علی مولا یہ قرآن میں کہاں لکھا ہے۔۔۔ اگر اس قول کے قبول کا معیار روایت ہے تو پھر کُتب روایات پر ہی حجت تسلیم کی جائے گی اور جب حجت کُتب روایات ہیں تو پھر منکرین روایات کا ساتھ کیوں دیا جارہا ہے۔۔۔ کہیں اس کی وجہ وہی گرائپ واٹر تو نہیں؟؟؟۔۔۔

    ان شاء اللہ زندگی باقی تو بات باقی
    وسلام۔۔۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں