کیا عورت کو اپنے پاؤں ڈھانپنے چاہییں اور "بالخصوص نماز میں اس کاکیا حکم کیا ہے"؟

منہج سلف نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مئی 30, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    کیا عورت کو اپنے پاؤں ڈھانپنے چاہییں اور "بالخصوص نماز میں اس کاکیا حکم کیا ہے"؟


    سوال کے آخری حصے کے بارے میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کے مختصر الفاظ ہیں: "بالخصوص نماز میں اس کاکیا حکم کیا ہے"

    " دوران نمازعورت کے لئے پاؤں کی پشت ڈھانپنے کے بارے میں سنن ابی داؤد وغیر میں جو روایت ہے وہ سندا مرفوع اور موقوف دونوں طرح ضعیف ہے لہذا قابل حجت نہیں۔۔۔۔۔۔ جو لوگ عورت کے لیے پاؤں ڈھانپنے کے وجوب کے قائل ہیں، ان کا انحصار اس کمزور دلیل پر ہے جو ناقابل التفات ہے لہذا اگر کوئی خاتون اس کا اہتمام کرے تو بہتر ہے ، ورنہ مسئلہ ہذا میں تشدد اختیار کرنا درست نہیں-"
    ظاہر ہے کہ اس میں پہلے حصے: " کیا عورت کو اپنے پاؤں ڈھانپنے چاہییں" کا جواب نہیں، حالانکہ اس کی باب راجح اور صحیح موقوف یہی ہے کہ عورت کی پشت پاؤں بھی ستر ہے، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    " جو شخص تکبرا اپنا کپڑا لٹکاتا ہے- قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا"-
    یہ سن کر حصرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: عورتیں اپنے کپڑوں سے کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    " مردوں سے بالشت برابر مزید لٹکایا کریں-"
    انھوں نے عرض کیا: یوں تو ان کے قدم ننگے ہوجائيں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ایک ہاتھ کے برابر لٹکالیا کریں اس سے زیادہ نہیں-"
    یہ روایت ترمذی (ج 3، ص 47) اور نسائی وغیرہ میں سند صحیح سے مروی ہے

    اور امام بیہقی رح نے لکھا ہے:

    وفی ھذا دلیل علی وجوب ستر قدمیھا
    " یہ حدیث دلیل ہے کہ عورت کے لئے قدموں کو ڈھنپنا واجب ہے-"
    (بیہقی ج2، ص 233)

    علامہ البانی رح نے اس موضوع پر مختصرا نفیس بحث کی ہے:

    وعلی ھذا جری العمل من النساء فی عھد صلی اللہ علیہ وسلم وما بعدہ
    "عورتوں کے لیے پاؤں ڈھانپنے پر ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عمل رہا ہے-"
    (حجاب المراۃ:ص 37)

    مزید تشفی کے لیے عرض ہے۔ حضرت محدث روپڑی رح سے دریافت کیا گیا کہ ستر کی تفصیل کیا ہے؟
    انہوں نے فرمایا:

    "ستر عورت شرط ہے، یعنی ناف سے گھٹنوں تک مرد کے لئے اور عورت کے لئے سارا وجود منہ اور ہاتھ کے سوا، پشت پاؤں تک ڈھانکنا ضروری ہے-"
    (فتاوی اہل حدیث: ج 2، ص 20،21)

    لہذا عورت کے لئے ضروری ہے کہ عام حالات میں بھی پاؤں کی پشت ڈھانپ کر رکھے، کیونکہ یہ بھی "ستر" میں شامل ہے، اور جب عام حالت میں بھی یہ حکم ہے تو نماز میں بھی یہی حکم ہے کہ عورت کے پاؤں کی پشت ڈھکی ہوئی ہو، اس بارے میں ابی داؤد کی روایت تو بلا شبہ ضعیف ہے، جیسا کہ محترم حافظ صاحب حفظہ اللہ نے ارواء الغلیل کے حوالے سے نقل کیا ہے مگر اجماع صحابہ رضی اللہ عنہ اس روایت کا موید ہے-
    علامہ ابن عبدالبر رح نے تو کہا ہے:

    ولا اجماع فی ھذا الباب اقوی من الخبر فیہ
    "اس بارے میں اجماع حدیث سے زیادہ قوی دلیل ہے"
    (التہمید: ج 6، ص 368)

    مزید فرماتے ہیں:

    لا خلاف ،علمتہ بین الصحابۃ فی ستر ظھور قدمی المراۃ فی الصلواۃ وحسبک بما جاء فی ذلک عن امھات المسلمین رضی اللہ عنھن۔
    " میں صحابہ رضی اللہ عنہم میں عورت کے پاؤں ڈھانپنے کے بارے میں اختلاف نہیں جانتا- تمہارے لیے اس بارے میں امہات المسلمین رضی اللہ عنہن کے آثار کافی ہیں-"
    (الاستذکار: ج 5، ص 444)

    اس حوالے سے انھوں نے آثار کی طرف اشارہ بھی فرمایا ہے کہ صحابہ کرام "درع سابغ" میں نمازکا حکم دیتے تھے اور "درع سابغ" اسے کہتے ہیں جو عورت کے پاؤں کو ڈھانپے-
    علامہ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    ھو قمیص المراۃ الذی یغطی بدنھا ورجلیھا ویقال لھا سابغ
    "در" عورت کی اس قمیص کو کہتے ہیں جس سے اس کا بدن اور پاؤں چھپ جائيں او ر اسے "سابغ" کہا جاتا ہے-"
    (نیل الاوطار: ج 2، ص 70)

    یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ علامہ البانی رح نے ابو داؤد کی مذکورہ روایت کو ارواہ الغلیل میں اگر ضعیف کہا ہے تو اس کے معنی قطعا نہیں کہ وہ عورت کے لیے نماز میں پاؤن ڈھانپنے کے وجوب کے بھی قائل نہیں، کیونکہ امر واقع یہ ہے کہ وہ عورت کے لیے نماز میں پاؤں ڈھانپنے کے وجود کے بھی قائل نہیں، کیونکہ امر واقع یہ ہے کہ وہ اسے واجب قرار دیتے ہیں- اور ان کا استدلال حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے ہے جس ہم امام ترمذی اور نسائی رحمھما اللہ وغیرہ کےحوالے سے نقل کر آئے ہیں، بلکہ وہ تو اس حوالے سے آزاد اور غلام عورت کے بارے میں بھی فرق درست نہیں سجھتے، ان کے الفاظ ہیں:

    والحدیث یدل علی وجوب ستر قدمی المراۃ وھو مذھب الشافعی وغیرہ، واعلم انہ لا فرق فی ذلک بین الحرۃ والامۃ لعدم وجود دلیل الفرق۔ الخ
    " یہ حدیث عورت کے قدم ڈھانپنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے- اور یہ امام شافعی رح وغیرہ کا مذھب ہے اور یہ بھی جان لو کہ اس بارے میں آزاد اور غلام عورت کا کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں میں فرق کی کوئی دلیل نہیں-"
    (الثمر المستطاب فی فقہ السنہ والکتاب: ج 1، ص 324)

    اور جو اس فرق کے بارے میں بعص احادیث ہیں، وہ ضعیف ہیں اور امام مالک رح فرماتے ہیں کہ اگر عورت کے پاؤں ننگے ہوں تو نماز دوبارہ پڑھے-
    مزید عرض ہے کہ اس مسئلے میں استحباب ووجوب کی بحث سے قطع نظر دیکھا جائے کہ صحابیات رضی اللہ عنھن کا معمول کیا تھا اور وہ اس پاکیزہ معاشرہ میں پاؤں ننگے رکھ کر چلتی اور نماز پڑھتی تھی، یا ڈھانپ کر؟
    حافظ ابن عبدالبر رح کے بیان اور حصرت ام سلمہ رض کے استفسار سے تو اس کی تائید ہوتی ہے کہ ان کے پاؤں بہرحال ننگے نہیں ہوتے تھے، لہذا مسلمان عورتوں کو امہات المسلمین رضی اللہ عنھن کی پیروی کرنی چاہیے اور مادر پدر آزاد معاشرے کی نقالی سے اجتناب کرنا چاہیے، اس لیے صحیح یہی ہے کہ عورت کے پاؤں بھی "ستر" ہیں اور ان کا ڈھانپنا بھی واجب اور ضروری ہے-
    ابوداؤد کی مرفوع روایت گو ضعیف ہے مگر اجماع اس کا موید ہے، جیسا کہ علاوہ ابن عبدالبر رح نے کہا ہے، بلکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی وجوب ہی مترشح ہوتا ہے-
    ھذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب
    الاعتصام: 6 مئی 2005
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    عمدہ شرئینگ اور مفید بھی

    جزاک اللہ عتیق بھائی

    ایسی معلومات تازیانہ بھی اور روشنی کا چراغ بھی۔۔۔
    فی زمانہ ایسی معلومات شئیر کرنا خاص طور پر ہماری صنف نازکوں‌کے لئے بہت ضروری ہے۔۔۔اور ساتھ ہی ساتھ ہم میں روشن روشن خیال لبرل اذہان کے لئے بھی جو مغرب کی گند زدہ تعفن میں ذہنی عیاشی کرکرکے وہیں پر شیطانی سکون تلاش کرتے ہیں انکے لئے تازیانے۔۔یا ہدایت کا چراغ بھی
     
  3. JUNAID BIN SHAHID

    JUNAID BIN SHAHID نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    805
    جزاک اللہ
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم ۔ اس ميں تو كوئى شك نہیں كہ گھر سے باہر یا اجنبى كى موجودگی ميں پیر بھی ستر ميں داخل ہے ، مگر یہ کہنا كہ گھر كے اندر نماز كے دوران بھی پاؤں ڈھانپنا واجب ہے ، یہ مسئلہ بہر حال مختلف فيہ ہے ۔

    شيخ رفيق طاہر نے لکھا کہ

    پہلی بات بالكل درست ہے کیونکہ اس سے ٹخنے کھل جاتے ہیں جو كہ بالكل غلط ہے ( اللہ ہم مسلمان عورتوں كو ہدايت دے ) ۔
    مگر یہ کہنا كہ "گھر كے اندر نماز كے دوران بھی پاؤں ڈھانپنا واجب ہے ، اور عورت کا یہ لباس نماز اور غیر نماز دونوں کے لیے یکساں ہے" كچھ علمائے كرام دوسرى رائے ركھتے ہیں ۔ وہ اسے واجب نہیں كہتے ۔ اس پر محدث ميں بھی فتوى چھپا تھا ۔اگر وہ ميسر ہو سكے تو معاملہ واضح ہو جائے گا ۔ واللہ تعالى اعلم ۔ اللہ تعالى ہمیں دين کے بہترین پہلو كى اتباع كى توفيق دے ۔
     
  5. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    جزاک اللہ خیر عین سسٹر
    مگر کچھ علماء کرام پہلی راء رکھتے ہیں جو میں نے پیش کی ہے۔
    احتلاف تو بدستور موجود ہےنا!!!
    اب تحقیق کرنے والے پر محیط کہ کس کی راء کو مستند سمجھتا ہے۔
    والسلام علیکم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں