جب تک ویسا قانون نہیں آتا

عائشہ نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏جون 3, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جب تک ویسا قانون نہیں آتا

    (تحریر:اوریا مقبول جان)​

    کیا یہ وہی امت ہے جس کا کل اثاثہ سید الانبیاءﷺ سے عشق اور محبت اور کل متاع ان کی حرمت پر کٹ مرنے کی آرزو تھی۔ میرے جیسے دقیانوس اور فرسودہ خیال شخص کے سامنے آج کے روشن خیال دانشور کیسی کیسی دلیلیں لے کر آتے ہیں۔فیس بک یا یوٹیوب بند کر کے دنیا سے کٹ جاؤ گے۔دنیا تم پر ہنسے گی۔پہلے ہی پاکستان کا دنیا بھر میں شمار دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر ہوتا ہے۔تم جیسے لوگ توپتا نہیں کس صدی میں رہتے ہو۔کیا آج کے دور میں کسی کو طاقت کے زور پر کچھ کہنے،کرنے،لکھنے،یا کارٹون بنانے سے روکا جا سکتا ہے؟۔ان سب کا مقابلہ تو عقل سے اور ٹھنڈے دماغ سے کیا جاتا ہے۔لیکن تم جیسے لوگ تو بس لوگوں کو جذبات کی رو میں بہا کر ڈبو دیتے ہو۔

    لیکن میں کیا کروں میں جب سید الانبیاء ﷺ کی شان میں گستاخی کے درداور کرب سے گذرتا اور دوسری جانب ان آزادئ اظہار اور ترقی کے دیوانوں کی باتیں سنتا ہوں تو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔آزادی اظہار کے نعرے کے دلدادہ ان دانشوروں کو شاید یورپ اور امریکہ کے وہ قوانین نظر نہیں آتے جو ان ملکوں کے آئین اور قانون میں یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کو جرم قرار دیتے ہیں اور گزشتہ ساٹھ سالوں سے ہزاروں لوگ ان جرائم کی پاداش میں جیل جا چکے ہیں،کئی اخبارات اور رسائل بند ہو چکے ہیں،کتابیں ضبط کی جا چکی ہیں اور ویب سائٹس پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

    انسانی آزادی، اظہار رائے اور حرمتِ لفظ وتحریر کے ان پروانوں کو میں صرف اس سال یعنی2010کے دوران سزا پانے والے اور پابندی لگنے والی ویب سائٹس اور ٹی وی چینلوں کی ایک جھلک دکھانا چاہتا ہوں اور پھر سوال کرونگا کہ کیا یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے جرم کو عقل اور ٹھنڈے مزاج سے نہیں روکا جا سکتا تھا؟۔ان کے خلاف بات کرنے والوں کو سزا کا مستحق کیوں قرار دیا گیا؟۔
    I. 15مئی2010 یونون کے شہر سیلون بکا میں ایک یہودی قبرستان کے باہر یہودیوں کے خلاف نعرے لکھنے پر تین افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک17سالہ بچہ بھی شامل تھا۔

    II. اسی دن یعنی15مئی کو پرلینڈ کے جنوب میں ایک فٹ بال سٹیڈیم سے پانچ شائقین کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے یہودیوں کے بارے میں ایک بینر پر ایک بڑا سا کارٹون بنایا تھا جس میں ایک لمبی ناک والا شخص جو یہودیوں کی علامت ہے اس پر موت کی علامت بنائی گئی تھی۔

    III. 11مئی2010 کو کینڈا کے ایک83سالہ بوڑھے شخص میکس مہر کو چھ ماہ قید سنائی گئی اور دو سال پروبیشن پر رکھنے کو کہا گیا جس نے دیوار پر یہودیوں کے خلاف نعرے لکھے تھے۔

    IV. 6مئی2010 کو امریکہ کے شہر نورفوک کی عدالت نے ایک شخص کرسٹوفر بروکس کو پانچ سال قید کی سزا سنائی جس نے ساٹھ سٹیکروں پر یہودیوں کے خلاف نعرے لکھے اور انہیں گرجے کی دیوار پر لگایا۔

    V. 3مئی،2010 کو ناروے کی وزارت ثقافت نے ایک مصری ٹیلی ویژن"الرحمة" کی نشریات پر پابندی لگا دی کیونکہ وہ یہودیوں کے خلاف نفرت اگلتا تھا۔اسی ٹیلی ویژن چینل پر فرانس میں31اکتوبر 2004کو اس وقت پابندی لگائی جب اس نے ایک مصری عالم دین کی یہودیوں کے خلاف تقریر نشر کی۔

    VI. 30اکتوبر،2010 کو برطانیہ کی نیو کاسل عدالت نے19سالہ نکی ڈیوسن جو ایک دودھ بیچنے والا نوجوان ہے اس کو اس بات کا مجرم قرار دیا گیا کہ اس نے انٹرنیٹ پر یہودیوں کے خلاف آرین سٹرائک نامی ایک گروپ بنایا تھا۔ا س سارے فیصلہ کی سماعت صرف پچاس منٹ میں مکمل ہو گئی۔

    VII. 16اپریل،2010 جرمنی کے شہر ریگن برگ کی ایک عدالت نے ایک عیسائی بِ شپ رچرڈ ولیم سن کو اس بات پر سزا سنائی کہ اس نے سویڈن کے ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ جنگ عظیم دوئم میں یہودیوں کا قتل عام ہو تھا۔

    VIII. 14پریل،2010 کو فرانس کی حکومت نے وہاں کی ایک سیٹلائٹ آپریٹر کو حکم دیا کہ وہ ایک مصری چینل کی نشریات مکمل طور پر بند کر دے کیونکہ یہ یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلاتا ہے۔

    IX. 12اپریل،2010 کو اٹلی کی ایک عدال نے ایک شخص پاؤ مزی کو اس بات پر مجرم قرار دیا کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایک بلاگ بنایا تھا جس میں162یونیورسٹی پروفیسروں کی لسٹ شائع کی تھی جو متعصب یہودی ہیں۔

    X. کینڈا کی یارک یونیورسٹی نے یکم اپریل،2010 کو ایک طالب علم کو یونیورسٹی سے نکال دیا جس نے یہودیوں کے خلاف ایک ویب سائٹ بنائی تھی۔اس وقت وہ شخص انٹیریو پولیس کی تحویل میں ہے۔

    XI. 25جون،2010 کو امریکہ کے شہر یوجین کی پولیس نے ایک شخص مائکل رسٹر کو گرفتار کیا جو بازاروں میں یہودیوں کے خلاف نعرے لگاتا تھا۔

    XII. 18مارچ،2010 کو امریکہ کی ریاست ٹیکساس کی عدالت نے ایک فرم برادر سکاٹ کو ایک لاکھ پندرہ ہزار ڈالر جرمانہ کیا تھا کیونکہ اس کے اعلی افسران اکثر گندے یہودی”Dirty Jew”جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے۔

    XIII. 18مارچ،2010 کو کینڈا کے شہر کالگری میں ایک 17سالہ لڑکے کو گرفتار کیا گیا جو دیواروں پر یہودیوں کے خلاف نعرے لکھتا تھا۔

    XIV. 9مارچ،2010 کو سپین کے شہر بارسلونا کی عدالت نے ایک شخص پیڈرو ویریلا کو دو سال نو ماہ قید کی سا سنائی۔یہ شخص ایک کتابوں کی دکان یورپا بک سٹور کا مالک تھا اور یہودیوں کے خلاف کتابین بیچتا تھا۔

    XV. 20فروری، 2010 کو امریکہ کے شہر بوکارائن کی پولیس نے 15سے16سال کی عمر کے تین لڑکوں کو گرفتار کیا جنہوں نے ایک یہودی عبادت گاہ کی پاس کھڑے ہو کر انہیں برا بھلا کہا تھا۔

    XVI. 18فروری،2010 کو چیک ریپبلک کی سپریم کورٹ نے ایک سیاسی پارٹی"ورکرزپارٹی"پر پابندی لگائی کیونکہ وہ یہودیوں کے خلاف نظریات رکھتی تھی۔

    XVII. 13فروری،2010 کو برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ کی رکن اور ترجمان بیرنس جینی نونکے کو پارٹی سے بر طرف کر دیا کیونکہ اس نے صرف یہ بیان دیا تھا کہ اسرائیلی افواج نے ہیٹی کے زخمیوں کے اعضاء فروخت کر ڈالے تھے۔

    XVIII. 11فروری،2010 کو برطانیہ کے کل سیمنگ علاقے کے جج نے 18سالہ جورڈن بوکٹن کو مجرم قرار دیا کیونکہ اس نے ایک نوکری دینے والے ادارے میں یہ نعرہ لگایا تھا"یہودی کے لیے موت" اسے بارہ ماہ کی سزا سنائی گئی۔

    XIX. 5جنوری، 2010 کو نیو یارک کے علاقے بروک لین کے ایوللوایو نوکواس جرم پر18سال قید کی سزا سنائی گئی کہ ان سے23جگہوں پو یہودیوں کے خلاف بینر لگائے تھے۔

    XX. 5فروری،2010 کو روس کے شہر پیٹرز برگ کے اخبار آرتھوڈوکس رشیا کے چیف ایڈیٹر کان نیٹ ٹن ڈر شبود کو تین سال سزا سنائی کیونکہ اس نے اپنے اخبار میں یہودیوں کے خلاف لکھا تھا۔

    یہ صرف گزشتہ تین ماہ کے چند اہم مقدمے ہیں۔ اور میں اس صرف ان لوگوں کے لیے لکھ رہا ہوں جنہیں آزادی اظہار کے جنون میں اندازہ نہیں کہ اس امت کی سند الانبیاء ﷺ کے ساتھ کتنی محبتین وابستہ ہیں۔لیکن میری دکھ گہرا ہے۔ ہم شافع محشر سے شفاعت کے طلب گار ہیں لیکن ہمارے جذبات اور محبت کسی اور سے وابستہ ہے۔ ہم میں سے کسی سیاسی پارٹی کے لیڈر کی شان میں گستاخی کرو اور نتیجہ دیکھ لو۔کیسے دھڑلے سے کہا جاتا ہے کیا اس کی قبر پر مقدمہ چلاؤ گے ہم دیکھ لیں گے۔

    کاش اس اقتدار کے ایوانوں سے لوگ اٹھ کڑے ہوتے اور کہتے ہمیں سید الانبیاء ﷺ اپنے ماں باپ سے، اپنے لیڈر سے زیادہ پیارے ہیں۔ ہم تم سے نفرت کرتے ہیں۔جو دکاندار کسی کے باپ کو گالیاں دیتا ہو کیا اس کی دوکان سے سودا خریدا جا سکتا ہے۔لیکن ہم وہ بے حس ہیں جو انہیں کال مال روز استعمال کرتے ہیں اور انہیں سے تعلق بھی جوڑے ہوئے ہیں۔ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہونا چاہیے کہ جب تک یورپ کے مملک توہین سید النبیاء ﷺ کے بارے میں ویسا ہی قانون نہیں بناتے جیسا انہون نے یہودیوں کے خلاف لکھنے کے بارے میں بنا رکھا ہے تو ہمارا تم سے کوئی رشتہ نہیں۔ہمارا جینا مرنا الگ ہے۔اگر مسلم امہ نے ایسا کر لیا تو یہ پیسے پر مرنے والے،ملٹی نیشنل کے غلام اس امت سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگیں گے اور اپنے ملکوں میں ویسا قانون بھی لائیں گے۔سید الانبیاء ﷺ سے عشق کا تقاضا یہی ہے جب تک ویسا قانون نہ آئے ہمارا جینا مرنا ان سے الگ ،جدا۔ ربط
     
  2. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    اوريا مقبول جان نے اپنے کالم ميں امريکہ کے اندر جن واقعات کے حوالے ديے ہيں وہ اسی سوچ کی غمازی کرتے ہيں جس کی بنياد حقائق کی تحقيق کيے بغير امريکہ کو مورد الزام قرار دينا ہے باوجود اس کے کہ صحافت کی پہلی ترجيح حقائق کی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔

    مثال کے طور پر انھوں نے امريکہ ميں دو يہودی بھائيوں کی اپنی فرم کے خلاف جس مقدمے میں کاميابی کا حوالہ ديا ہے، اس مقدمے کا اس بات سے کوئ تعلق نہيں تھا کہ امريکہ ميں يہوديوں کے خلاف بولنے والے کو قانونی چارہ جوئ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ يہ کيس درحققیت اس کمپنی ميں ايک مسلسل يکطرفہ رويے، دانستہ اذيت ناک سلوک اور ذہنی اور جسمانی تشدد کے نتيجے ميں عدالت کے سامنے پيش کيا گيا تھا۔ امريکی قانون کے تحت يہ سلوک کسی کے ساتھ بھی قابل قبول نہيں ہے۔ آپ اس کيس کے حوالے سے مزيد تفصيلات اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

    http://articles.baltimoresun.com/20....eeoc18mar18_1_administaff-harassment-alleged

    اسی طرح نارک فورک ميں جان ايڈورڈ نامی جس شخص سے متعلق واقعے کا حوالہ ديا گيا ہے وہ بھی آزادی راۓ کے ضمن ميں نہيں آتا۔ اس شخص پر ايک عبادت گاہ کی بے حرمتی کا الزام لگا اور اسی بنياد پر اسے سزا دی گئ۔

    http://www.wavy.com/dpp/news/local_news/synagogue-vandal-gets-5-years

    امريکی نظام قانون ميں تمام مذہبی گروہوں اور ان کے مقدس مقامات کو يکساں تحفظ حاصل ہے۔ اس ميں ملک بھر ميں موجود 1200 سے زائد مساجد بھی شامل ہيں۔

    جہاں تک امريکی عدالتوں اور امريکی نظام انصاف کا تعلق ہے تو ميں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ 911 کے واقعے کے بعد جسٹس ڈيپارٹمنٹ نے مسلم، عرب، مشرق وسطی اور ايشيا سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف تشدد کے واقعات کے ضمن ميں قريب 800 واقعات کی تحقيقات کروائ۔ اب تک ان ميں 48 ملزمان کے امريکی فيڈرل قوانين کی خلاف ورزی کرنے پرمقدمات کی سماعت ہوئ ہے اور 41 افراد کو سزائيں بھی دی جا چکی ہيں۔ 911 کے واقعے کے بعد جسٹس ڈيپارٹمنٹ نے تعصب پر مبنی واقعات ميں اسٹيٹ اور مقامی انتظاميہ کی مدد سے 160 مقدمات درج کيے ہيں۔

    آپ اس بارے ميں تفصيلات اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔

    http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=1234963&da=y

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
     
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم

    اوپر جو مراسلہ لکھا گیا ھے اور اس میں جتنے بھی کیسیز کے حوالوں سے ذکر کیا گیا ھے ان سب میں توجہ کریں کہ کیا لکھا ہوا ھے شائد یہ تحریر لکھنے والے نے بغیر تحقیق کے حوالے درج کر دئے،

    اگر قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کا قانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مقام 1 مقام 2 کے ساتھ زیادتی کرے اور سزا مقام 2 کو ملے۔

    یہاں پر جتنی بھی مساجد ہیں مسجد انتظامیہ کی گزارش پر انہیں سیکیورٹی فراہم کی جاتی ھے۔

    ریسز قانون ہیں اور اس کے لئے یہ نہیں ھے کہ مجھ پر کوئی ریس اٹیک کرے اور میرے بلانے پر پولس نہ آئے اور اسے گرفتار نہ کرے اور اسے اس پر سزا بھی نہ ملے بھلہ وہ کریسچین ہو یا یہودی۔

    والسلام
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مجھے اس بات سے سو فيصد اتفاق ہے ۔ جب فيس بك پر پابندی لگی تو بہت سوں كى طرح ميرا بھی يہی خيال تھا كہ یہ بس چند دن كا ابال ہے پھر وہی مسلمان ہوں گے وہی فيس بك ۔ اور وہی ہوا ! يہی ہمارا مزاج ہے ۔۔ اتنے صدمے اتنے جھٹکے کھا كر بھی غيرت وہیں كى وہیں خوابيدہ ہے ۔ لہک لہک كر گانوں كى طرز پر نعتيں پڑھنا ، جلسوں جلوسوں ميں " غلامئ رسول ميں موت بھی قبول ہے" کے نعرے لگانا آسان ہے، عملى طور پر كچھ كركے دکھانا بہت مشكل ہے ۔

    افسوس

    زباں پہ صرف ہیں دعوے مثال كوئى نہیں
    ديار عشق نبي ميں بلال كوئى نہیں !!

    صلى اللہ عليہ وسلم ۔ يہ ايك حقيقت ہے ، ہم اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم سے اپنی جان سے بڑھ كر محبت نہیں كرتے ۔ كرتے ہوتے تو ہماری زندگی اس سانچے میں ڈھلی ہوتی جو انہوں نے ہمارے ليے پسند كيا تھا ۔ہم بس گفتار كے مومن ہیں ۔اور گفتار کا نازك مومن بائيکاٹ جیسی مشقت كيسے كر سكتا ہے ؟
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جو لوگ یورپی اور امريكى قانون وانصاف كے قصيدے پڑھ رہے ہیں وہ ذرا يہ سطور آنکھیں كھول كر پڑھیں:
    بحوالہ توہین آميز خاكے-- اسلام اور عصرى قانون
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    تحقيق سے شغف رکھنے والوں كو ابھی اس محقق پروفیسر كا مقدمہ بھولا نہیں جس نے اپنی تحقيق ميں یہ كہا تھا کہ ہولو كاسٹ ميں پچاس لاكھ يہودی نہیں مرے تھے یہ تعداد مبالغہ ہے ۔ اس جرم كى پاداش ميں وہ اب جيل ميں سڑ رہا ہے ۔ یہ ہے آزادئ اظہار ؟؟؟؟

    اور مسٹر فواد اس معاملے پر انصاف پسند امريكہ نے کیا كار روائى كى اب تك ؟؟؟امریکا: مرتدہونے والوں کیلئے امداد کے اشتہارات
     
  7. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850

    السلام علیکم

    ہر گھر، محلہ، شہر، ملک کا جو بھی مذھب ہوتا ھے وہاں اسی کے "مذھب کی توھین" کے مطابق سزا دی جاتی ھے۔
    آنکھوں کے ساتھ دماغ کا ہونا بھی ضروری ھے۔

    والسلام
     
  8. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    ---------------------------------------------------------------
    محترم عین بہنا!
    کاش کہ آپ جیسے جذبات آج ہم بھائیوں کے بھی ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    کاااااش​
     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department



    نيويارک میں مسلمانوں کے خلاف اشتہاری مہم کے حوالے سے اپنی گزشتہ پوسٹ میں واضح کيا تھا کہ امريکہ میں اپنے خيالات اور افکار کے پرچار کی آزادی مسلمانوں سميت معاشرے کے تمام طبقات کو يکساں حاصل ہے۔ اس ضمن میں يہ نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ سال 2008 میں فلوريڈا میں مسلمانوں کی کميونٹی کی جانب سے بسوں کے اوپر اسی قسم کی اشتہاری مہم چلائ گئ تھی جس کی تفصيل آپ ان ويب لنکس پر ديکھ سکتے ہیں۔

    http://www.freeimagehosting.net/uploads/d39ccddac0.jpg

    Bus Ad Campaign - Press Release

    جہاں تک امريکہ ميں اسلام کے خلاف اٹھائ جانے والی آوازوں کا سوال ہے تو اس ضمن میں واضح رہے کہ يہاں پر کسی بھی مذہب، نقطہ نظر، اعتقاد اور سياسی سوچ پر تنقيد کرنے کے لیے انفرادی سطح پر بھی اور تنظيمی سطح پر بھی افراد کی موجودگی ايک حقیقت ہے۔ ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ امريکی حکومت اسلام کے خلاف کسی مہم يا کوشش کی سرپرستی کر رہی ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو بھی اپنے پيغام کی تشہير کے ليے وہی مواقع دستياب ہيں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امريکی معاشرہ اور رائج قوانين آزادی راۓ، اجتماعی سطح پر برداشت اور تمام افراد کو ان کی سياسی اور مذہبی وابستگی سے قطع نظر يکساں مواقع فراہم کرنے کے عمل کو يقينی بناتے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ملٹی نیشنل پیسے کے غلام !
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اس تحریر کے مصنف کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے !
     
  13. وردۃ الاسلام

    وردۃ الاسلام -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2009
    پیغامات:
    522
    آپ لوگوں کو فواد سے کسی قسم کا جواب طلب نہیں کرنا چاہئے ۔۔۔ایسے لوگوں کا جواب آنے سے پہلے ہی پتا ہوتا ہے انہوں نے کیا بکنا ہے۔۔۔۔۔

    اسلام کے مخالف فواد جیسے لوگوں سے اللہ ہی پوچھے گا ان شاء اللہ
     
  14. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850

    السلام علیکم!

    بہن جی جزاک اللہ خیر، غصہ مناسب الفاظ سے بھی نکالا جا سکتا ھے۔

    والسلام
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں