اقبال دور حاضر میں اجتہاد کے امکانات و شرائط اور اقبال رحمہ اللہ

dani نے 'نقد و نظر' میں ‏اگست 17, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329

    دور حاضر میں اجتہاد کے امکانات و شرائط اور اقبال رحمہ اللہ
    جناب پروفیسر عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ
    http://www.ahlehadith.com

    اسلامی فکر کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنے پیغام و عمل میں عالم گیر اور آفاقی رجحان رکھتی ہے نیز اس کی تعلیمات وقتی، عصری یا زمانی نہیں بلکہ ابدی اور دائمی ہیں، یہ کسی خاص زمان و مکان کی پابند نہیں ہیں۔ اس عقیدہ و فکر کا تحقیقی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ سابقہ انبیائے کرام علیہ السلام اور ان کے صحائف کی جملہ تعلیمات کی توثیق اور تجدید کرتی ہے۔ اس میں ہر دور کی روح عصر کی تشنگی اور اضطراب کا علاج موجود ہے۔

    یہ ہر عہد کے سماجیاتی، بشریاتی اور عمرانیاتی تقاضوں اور مطالبات کا جواب فراہم کرتی ہے۔ اس عقیدہ و فکر میں ختم نبوت کے حتمی اور قطعی تصور نے ہمہ نوع جامعیت اور کاملیت کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ اس حقیقت سے مفر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ آخری الہامی پیغام سرزمین حجاز میں نازل ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، مگر اس پیغام کے حقیقی مخاطب روئے ارضی کے وہ تمام انسان ہیں جو اس وقت موجود تھے یا جو اس کائنات کے اختتام تک پیدا ہوتے رہیں گے۔

    اس عالم گیر پیغام نے بعثت نبوی کی پہلی صدی کے اختتام تک اس حقیقت کو اس قدر نمایاں کر دیا کہ عقیدہ توحید تین براعظموں کے درجنوں ممالک تک پہنچ گیا اور مابعد کی صدیوں میں ممالک کی جغرافیائی حدود تو تبدیل ہوتی رہیں مگر اس کی فکر حقیقی معنوں میں ایک عالم گیر شکل و صورت اختیار کر گئی۔ مختلف زمانوں میں مختلف تہذیبوں اور اقوام کے درمیان اس فکر کو جس حوالے سے رسوخ حاصل ہوا وہ اس دین کی اجتہادی روح تھی، جس کی داغ بیل خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے رکھ دی تھی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حین ِحیات میں اس عقیدہ و فکر نے بارہ لاکھ مربع میل سے زائد کے علاقوں میں اپنی جاذبیت کے جوہر دکھائے۔

    عالم اسلام میں اسلام کی یہ اجتہادی روح کبھی انفرادی اور کبھی اجتماعی اور ادارتی سطح پر کار فرما رہی مگر یورپ میں احیائے علوم کی تحریک نے بہت جلد مغرب کو ایک صنعتی قوت میں بدل دیا۔ اپنی نوبہ نو صنعتوں کے لیے خام مال کی ضرورت اور اپنی مصنوعات کے لیے نئی نئی منڈیوں کی تلاش نے اہل مغرب کو اپنی جغرافیائی سرحدوں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اول اول تو وہ بلاد اسلامیہ کے مختلف علاقوں میں ایک تجارتی طائفے کے طور پر داخل ہوئے مگر بہت جلد انہوں نے یہاں کے سیاسی اقتدار پر بھی قبضہ کر لیا۔ ہر چند نو آبادیاتی اور استعماری قوتوں نے ان مقبوضہ اور محروسہ ممالک کے مسلمانوں کو پرسنل لا کی حد تک آزادی دے رکھی تھی مگر مسلمان اپنی تعلیمات کے اجتماعی تقاضوں کی تعمیل اور تکمیل سے کلیتاً محروم ہو گئے۔

    سترھویں صدی عیسوی میں انگلستان میں جو صنعتی تغیر رونما ہوا اس نے بتدریج ایک سائنسی اور ٹیکنیکل انقلاب کی شکل اختیار کر لی۔ یوں انسانی تمدن میں جس برق رفتاری سے تغیرات اور تبدیلیاں پیدا ہوئیں، انہوں نے علوم و فنون، معاشرت، معیشت، ریاست اور سیاست کے ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر دیا۔ مقبوضہ ممالک اسلامیہ کے مسلمان ان تبدیلیوں سے بہت متاثر ہوئے۔ ان کے ہاں اس عہد غلامی میں فقہی جمود چھایا رہا۔ بیشتر علماءاور درس و تدریس کے مراکز صرف فقہ الاحکام کے روایتی متون کو زندہ رکھے ہوئے تھے مگر ہر آن بدلتی ہوئی فقہ الواقع، ( Existing Envirnoment ) پر ناقابل تغیر احکام شریعت کا اطلاق کیسے کیا جائے، ایسی اجتہادی بصیرت کے ادارے مفقود ہو چکے تھے۔ اس صورت حالات نے عالم اسلام کے مفکرین کو ایک تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ برصغیر پاک و ہند میں اس فقہی جمود کو توڑنے اور نئے پیش آمدہ حالات کا دینی فکر کی روشنی میں حل پیش کرنے اور مذہبی فکر کی تجدید اور تشکیل نو کے چیلنج کو جس شخصیت نے سب سے بڑھ کر محسوس اور قبول کیا وہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ ( 1938ئ، 1977 ء ) تھے۔

    علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے اپنے قیام انگلستان ( 1905ئ، 1908ء) کے دوران میں مغربی معاشرت و سیاست کا بغور مشاہدہ کیا اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنج کا جائزہ لے کر اپنی فکری راہ عمل متعین کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے 1911ءمیں علی گڑھ یونیورسٹی میں The Muslim Community: A Sociological Study کے عنوان سے جو فکر انگیز لیکچر دیا، اس میں ملت بیضا کے عمرانی مسائل کا بھرپور تجزیہ موجود ہے۔ اقبال اب قوم رسول ہاشمی کی خاص ترکیب کو جان چکے تھے۔ 1915ءمیں ” اسرار خودی “ شائع ہوئی تو اس پرچاروں جانب سے اعتراضات کی جو بوچھاڑ ہوئی، اس سے اقبال نے ملت اسلامیہ کے فقہی جمود کا بخوبی اندازہ لگا لیا۔ شاید یہی باعث ہے کہ 1918ءمیں جب ” رموز بے خودی “ شائع ہوئی تو اقبال نے مجبوراً یہ بات کہی، جس کا عنوان یوں ہے:
    ” در معنی ایں کہ درزمانہ¿ انحطاط تقلید از اجتہاد اولیٰ تراست “ ( محمد اقبال، رموز بیخودی، مشمولہ کلیات اقبال فارسی، ص 124 )
    اجتہاد اندر زمان انحطاط
    قوم را برہم ہمی پیچد بساط
    ز اجتہاد عالمان کم نظر
    اقتدا بر رفتگاں محفوظ تر
    ” انحطاط کے زمانے میں اجتہاد قوم کا شیرازہ بکھیر دیتا ہے اور اس کی بساط لپیٹ دیتا ہے۔ کوتاہ نظر عالموں کے اجتہاد سے اسلاف کی پیروی زیادہ محفوظ ہے۔ “

    قدرت نے اقبال کو ایک دل درد مند عطا کیا تھا جو ملت اسلامیہ کی غلامی اور مغلوبیت کو دیکھ کر کڑھتا تھا۔ قدرت نے انہیں چشم بینا اور روشن دماغ عطا کیا تھا۔ وہ فکر و نظر کی دنیا کو پرکھنے کے لیے اپنے فلسفیانہ دماغ سے ملت اسلامیہ کے زوال کے اسباب و محرکات کا جائزہ لے سکتے اور اس کا تجزیہ بھی کر سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا تو علم المعیشت کے جدید رجحانات سے آگاہی ہوئی۔ 1904ءکی ابتداءمیں ان کی پہلی نثری تصنیف ” علم الاقتصاد “ شائع ہوئی۔ 1905ءمیں انگلستان گئے تو قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور سیاسیات حاضرہ سے باخبر ہوئے۔ وہ مغربی تہذیب و تمدن کے مشاہدے سے رنجیدہ ہو کر فرماتے ہیں
    عذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں
    کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیلؑ
    ( محمد اقبال، بال جبریل، مشمولہ کلیات اقبال اردو، ص 355 )

    اقبال اس حقیقت سے باخبر تھے کہ مغربی علوم و فنون نے عالمی تمدن میں کیا بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ عالمی معیشت میں کیا تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ریاست و سیاست کی دنیا میں کیا انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ بین الاقومی سیاسیات میں کیا تغیر رونما ہو چکے ہیں اور ان سب کے نتیجے میں اسلامی فکر اور خود مسلمانوں کو کیا خطرات درپیش ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ ماضی کی تاریخ سے بے جا عقیدت اور اس کے مصنوعی احیاءسے ملت کے زوال اور انحطاط کا علاج نہیں ہو سکتا۔ ان کے نزدیک ملت اسلامیہ کی آزادی اور احیاءکے لیے اولا سیاسی غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ہو گا۔ اور پھر نو آزاد مملکتوں کی تعمیر کے لیے انفرادی درجے کے اجتہاد کے بجائے اجتماعی اجتہاد کے ادارے قائم کرنا ہوں گے۔ مستقبل کی جدید آزاد اسلامی ریاستوں کے لیے وہ اس اجتہاد کا وجود اور وجوب پارلیمنٹ کو قرار دیتے ہیں جسے ثقہ علمائے دین کی رہنمائی میسر ہو۔ ان کے نزدیک ملت اسلامیہ کے احیاءاور بقا دونوں کا راز اجتہاد کے بند دروازے کھولنے میں مضمر ہے۔ اپنے اس احساس کو وہ ایک علامتی شعر میں یوں بیان کرتے ہیں
    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی
    ( ایضاً ص 304 )

    نو آبادیاتی اور استعماری دور میں اسلامی قانون کا فقہی ارتقا نہ ہو سکا۔ جدید تمدنی مظاہر نے اسلامی فکر کے جمود کو واضح کر دیا۔ اس کے لیے جس اجتہادی فکر کی ضرورت تھی، اس کا اولین تقاضا سیاسی آزادی تھی، جس کے لیے افریشیائی ممالک میں آزادی کی تحریکیں جدوجہد کر رہی تھیں۔ خود برصغیر میں اقبال نے مسلم قومیت کے لیے جو آئینی، سیاسی اور تہذیبی استدلال پیش کیا اس کے پیش نظر مسلم قومیت کے لیے ایک الگ خطہ ارضی کا حصول ناگزیر تھا۔ یہی وہ تصور تھا کہ جس کی بنیاد پر دس سال بعد اس سیاسی فکر نے ایک خود مختار مملکت کی قرارداد کی شکل اختیار کی۔ اقبال نہ صرف برصغیر میں ایک آزاد اور خود مختار اسلامی سلطنت کا خواب دیکھ رہے تھے بلکہ وہ پوری اسلامی دنیا میں ایک نئی سیاسی لہر محسوس کر رہے تھے۔ مستقبل کی ان اسلامی ریاستوں کے احیاءاور بقا کے لیے جس ناگزیر فکری لوازمے کی ضرورت تھی وہ اجتماعی اجتہاد کے اداروں کے علاوہ کسی دوسری صورت میں ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی تناظر میں 13 دسمبر 1924ءکو قطب البلاد لاہور میں انہوں نے اپنا فکر انگیز مقالہ ” الاجتہاد فی الاسلام “ کے عنوان سے پیش کیا جس کی نقول انہوں نے برصغیر کے مختلف اہل دانش کی خدمت میں ارسال کیں۔ صدیوں سے جمود کے شکار ذہن ” اسرار خودی “ کی اشاعت کی طرح پھر سے ایک بار معترض ہوئے۔ بہت سی پیشانیاں شکن آلود ہوئیں۔ سید سلیمان ندوی جیسے جید عالم اور محقق کا خیال تھا کہ یہ خطبات شائع نہ کءے جاتے تو بہتر تھا۔ ( سید ابوالحسن علی ندوی، نقوش اقبال، حاشیہ ص 40 ) عبدالماجد دریا آبادی نے بھی تحریری اعتراض کیا تو علامہ نے 22 مارچ 1925ءکو جواباً لکھا:
    ” والا نامہ مل گیا ہے جس کے لیے سراپا سپاس ہوں، مگر آپ کا نوٹ پڑھ کر مجھے بہت تعجب ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ عدیم الفرصتی کی وجہ سے آپ نے وہ مضمون بہت سرسری نظر سے دیکھا ہے۔ بہرحال میں آپ کا خط زیر نظر رکھوں گا.... “ ( سید مظفر حسین برنی، کلیات مکاتیب اقبال ( جلد دوم، ص 582 )

    جنوری 1929ءمیں اقبال نے جو تین خطبات مدراس میں پیش کےے ” الاجتہاد فی الاسلام “ والا خطبہ ان میں شامل تھا۔ اس کے بعد یہی خطبے بنگلور، میسور اور حیدرآباد دکن میں بھی اہل علم و دانش کے سامنے پیش کےے گئے۔ بعد ازاں اقبال نے مزید علمی خطبات تیار کےے اور یوں یہ چھ خطبات 19 نومبر 1929ءسے علی گڑھ یونیورسٹی کے اسٹریچی ہال میں پیش کےے گئے جہاں اس سے قبل وہ 1911ءمیں بھی اپنا ایک خطبہ ” ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر “ کے عنوان سے پیش کر چکے تھے۔ یہ خطبات 1930ءمیں لاہور سے شائع ہوئے۔
    ( Six Lectures on the Reconstruction of Religious Thoughts in Islam ) کپور آرٹ پرنٹنگ پریس، لاہور۔

    مگر ایک مزید خطبے Possible Is Religion کے اضافے کے ساتھ یہ ساتوں خطبات The Re-construction of Religious Thought in Islam کے عنوان سے 1934ءمیں آکسفورڈ سے شائع ہوئے۔ 1924ءمیں اقبال نے ” الاجتہاد فی الاسلام “ کے عنوان سے جو خطبہ لاہور میں پیش کیا، ان اشاعتوں میں وہ خطبہ The Principle of Movement in the Structure of Islam کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کے آخری متن میں چند جزوی تبدیلیاں ہیں جن سے خطبے کی اصل روح اور معانی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ہے۔ اس اہم موضوع پر کچھ مزید کہنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس خطبے کے اہم نکات کو آپ کے سامنے پیش کیا جائے:

    اقبال فرماتے ہیں:
    ” اسلام کائنات کے پرانے سکونی نظریے کے بجائے ایک حرکی نقطہ نگاہ کو پیش کرتا ہے۔ انسانی وحدت خونی رشتوں کے بجائے ایک روحانی وجود رکھتی ہے۔ تیرھویں صدی عیسوی اور بعد کے فقہاءماضی کے ساتھ ایک جھوٹی عقیدت کی بنا پر زندہ تھے جب کہ ابن تیمیہ ( پ 1263ء) نے اپنے قلم میں ایک اجتہادی شان پیدا کی، ان کی تربیت حنبلی روایات میں ہوئی مگر انہوں نے آزادی اجتہاد کا دعویٰ کرتے ہوئے فقہی مذاہب کی قطعیت سے انکار کر دیا اور اسلام کے بنیادی اصولوں کی طرف رجوع کیا۔ ان کی تعلیمات اور تجدید مساعی اٹھارویں صدی عیسوی کی ابتدا میں عظیم مصلح محمد بن عبدالوہاب ( م 1792ء) کی صورت میں جلوہ گر ہوئی جو اپنی روح کے اعتبار سے امام غزالی رحمہ اللہ کے شاگرد محمد بن تومرت بر بر ( م 524ھ ) کے مشابہ تھے۔ اس دور میں ترکی میں سعید حلیم پاشا ( 1864ئ، 1921ء) نے اسلامی فکر کو جدید عمرانی تصورات سے ہم آہنگ کیا۔ اقبال نے ترکی میں مذہب و سیاست کی دوئی کو ایک غلط قدم قرار دیا جو محض یورپ کے مادی اور سیاسی افکار کے نتیجے میں اٹھایا گیا تھا۔ ان کے نزدیک اسلامی نظام میں مذہب کا تصور سب سے قوی ہے۔ توحید کا جوہر ایک عملی تصور کے لحاظ سے مساوات، اتحاد عمل اور آزادی سے عبارت ہے۔ اقبال کے نزدیک اس دور کے مسلمانوں کے حقیقی خیالات پر مقامی اثرات غالب آ رہے تھے اور اسلام سے ماقبل قوموں کے توہمات ان پر بتدریج چھاتے جا رہے تھے۔ اقبال مشورہ دیتے ہیں کہ اسلامی روح کی قوت سے اس دبیز غلاف کو اتار پھینکنا چاہیے جس نے اسلام کے حرکی نظرےے کو جامد بنا رکھا ہے۔ “

    اقبال نے اس خطبے میں ترکی میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور کمال اتاترک کے انقلاب کے حوالے سے جو تبدیلیاں پیدا ہو رہی تھیں، ان پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اقبال کے نزدیک جمہوری طرز حکومت اسلامی روح کے قریب تر ہے، اس لیے خلافت کو اب ایک فرد کے گرد مرتکز کرنے کے بجائے چند افراد کی جماعت یا ایک منتخب اسمبلی کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ اب چونکہ اسلامی سلطنت کی مرکزیت برقرار نہیں ہے لہٰذا عالمگیر قیادت یا امامت کا تصور بھی باقی نہیں رہا، نتیجتاً مسلمانوں کے بہت سے سیاسی واحدے پیدا ہو گئے ہیں۔ ابن خلدون اور قاضی ابوبکر باقلانی ( م 403ھ ) کے حوالے سے اقبال لکھتے ہیں کہ اب جب کہ قیادت کے لیے قریش کی شرط باقی نہیں رہی تو پھر خود مختار اور آزاد اسلامی ممالک کو تسلیم کر لیا جانا چاہیے ۔ یوں وہ ترکی میں پیش آمدہ تبدیلیوں کو صحت مند قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام میں وسیع النظری ہے مگر اسے انتشار میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے ۔

    اس خطبے میں اقبال یہ اہم ترین سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا قانون اسلام میں ارتقاءکی صلاحیت موجود ہے؟ اقبال نے مغربی مصنف ہارٹن ( Horten۔ پ 1874ء) کے حوالے سے بتایا ہے کہ 800ءسے 1100ءتک اسلام میں ایک سو سے زیادہ دینیاتی نظام پیدا ہوئے۔ یہ وسعت اور لچک قابل توجہ ہے۔ ان کے نزدیک قدامت پسند مسلمان فقہی ذخائر پر تنقید کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

    مگر اقبال کہتے ہیں کہ میں ان تین حقائق کو بیان کرنے کی جرا¿ت کرتا ہوں:
    1. عہد عباسیہ کے آغاز تک قرآن حکیم کے علاوہ اسلامی قانون تحریری شکل میں موجود نہیں تھا۔
    2. پہلی صدی کے وسط سے چوتھی صدی کے آغاز تک انیس فقہی مذاہب اور آراءکا ظہور ہوا۔ یوں بدلتے ہوئے حالات میں ہمارے فقہا نے اپنی آراءکا اظہار کیا۔ یہ فقہا اپنی قانونی اور تشریحی کوششوں میں بتدریج استخراجی اسلوب سے نکل کر استقرائی طریق تحقیق تک جا پہنچے۔
    3. جب ہم اسلامی قانون کے چار مسلمہ مآخذ اور ان سے پیدا شدہ اختلافات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے مسلمہ مذاہب فقہ میں مزعومہ سختی اور تشدد کا کہیں نشان نہیں ملتا اور ارتقائے مزید کا سامان صاف نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔

    اپنے مضمون کے آخر میں اقبال اسلامی قانون کے چار اہم مآخذ پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن، احادیث، اجماع اور قیاس کے حوالے سے بہت فکر انگیز خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

    اقبال کے نزدیک قرآن کا نظریہ حرکی ہے اور یہ ارتقاءکے خلاف نہیں۔ احادیث کے سلسلے میں وہ گولڈزیہر ( 1850۔ 1921ء) کا ذکر کرتے ہیں جو اس ذخیرے کو ناقابل اعتماد ٹھہراتا ہے مگر اغنادیس کی کتاب ” محمڈن تھیوریز آف فنانس “ کے تیسرے باب کے حوالے سے اس کا یہ مختصر اقتباس لکھتے ہیں:
    ” لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ احادیث کے مجموعے جنہیں مسلمان مستند اور مسلم سمجھتے ہیں، بڑی حد تک اسلام کے آغاز اور اس کی ابتدائی ترقی کی ا صلی اور سچی دستاویز ہیں۔ “ ( اغنادیس ” محمڈن تھیوریز آف فنانس “ 1916ءباب سوم )

    اقبال اس باب میں فقہی اور غیر فقہی احادیث کا ذکر کرتے ہوئے احادیث کے بارے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں۔
    اقبال کی نگاہ میں اجماع فقہ اسلامی کا سب سے اہم قانونی نظریہ ہے۔ اموی اور عباسی خلفاءاجماع اور اجتہاد کو انفرادی ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ اجتماعی یا ادارتی اجتہاد ان کی سلطنت کے لیے خطرات پیدا کر سکتا تھا۔ اقبال کے نزدیک عصر حاضر میں اجماع کی یہی صورت ممکن ہے کہ قوت اجتہاد کو فقہی مذاہب کے انفرادی نمائندوں کے ہاتھ سے لے کر ایک مسلم مجلس قانون ساز یا پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا جائے جسے علماءکی رہنمائی حاصل ہو۔ اقبال اغنادیس کے حوالے سے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اجماع قرآن کی تنسیخ کر سکتا ہے اور پھر خود ہی جواب دیتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں بھی یہ شان نہیں کہ وہ قرآن کے کسی حکم کی تنسیخ کر سکے۔ اقبال کے نزدیک قیاس وضع قوانین میں تمثیلی استدلال کا استعمال ہے۔ عراقی فقہاءنے حالات کے تقاضوں کے تحت اس کو اختیار کیا ہے۔ پیش نظر رہے کہ عراقی فقہا مکانی پہلو کو‘ جب کہ حجازی فقہا زمانی پہلو پر توجہ دیتے تھے۔ امام شافعی کے نزدیک قیاس، اجتہاد ہی کا ایک دوسرا نام ہے۔ امام شوکانی ( 1760۔ 1834ء) کے نزدیک خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قیاس پر عمل کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ امام زرکشی کا قول ہے کہ اجتہاد کے لیے متقدمین کی نسبت متاخرین کو زیادہ سہولتیں اور مواقع حاصل ہیں۔

    اپنے خطبے کے آخر میں اقبال نے ایک جذب آفریں کیفیت میں یہ بات کہی ہے:
    ” آج انسانیت کو تین چیزوں کی ضرورت ہے، کائنات کی روحانی تشریح، فرد کی روحانی آزادی و نجات اور عالمگیر بنیادی اصول جو روحانی اساس پر انسانی معاشرہ کے ارتقاءکی رہنمائی کریں۔ ان کے نزدیک یورپ کی عقل محض اعتقاد و یقین کی حرارت پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ یقین کیجےے کہ انسانوں کی اخلاقی ترقی کے راستے میں یورپ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسلام میں ختم نبوت کے بنیادی تصور کے پیش نظر ہمیں روحانی طور پر دنیا کی سب سے زیادہ فوقیت رکھنے والی قوموں میں سے ہونا چاہیے ۔ عصر حاضر کے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی پوزیشن کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرے۔ ان بنیادی اصولوں کی روشنی میں اپنی معاشرتی زندگی کو پھر سے ڈھالے اور اسلام کے تاہنوز نیم منکشف مقصد کے مطابق اس روحانی جمہوریت کو تشکیل دے، جو اسلام کا آخری منشا ہے۔ “

    ” الاجتہاد فی الاسلام “ کے موضوع پر اقبال کے ان خیالات کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی مجتہدانہ بصیرت، فقہی شعور، قانونی فراست اور مستقبل شناسی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں مگر علمائے دین کے ذہنوں پر طاری تدخل فی الدین کا خوف، خانقاہوں کی رہبانیت اور سلاطین و ملوک کی حریصانہ تمناؤں کا سنگی حصار ابھی تک اجتماعی اجتہاد کے راستے کا سنگ گراں بنا ہوا ہے۔ عصر حاضر میں سائنسی انکشافات، تکنیکی ایجادات، طبی مشاہدات، مہندسانہ اختراعات اور مشینی مصنوعات نے صرف ایک جہان نو کی ہی تعمیر نہیں کی بلکہ انسان، معاشرے اور ریاست کے مزاج کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ سماجیات، بشریات اور عمرانیات میں نئے نئے تصورات پیدا ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اور معاہدات نے قوانین و ضوابط کے سانچے تبدیل کر دےے ہیں۔ جدید نظم معیشت نے بیع و شرا کے پیمانے تبدیل کر دےے ہیں۔ زرِ خالص کے بجائے زر اعتباری نے اپنا رسوخ حاصل کر لیا ہے بلکہ بڑے بڑے تجارتی سودے انٹرنیٹ کے ذریعے سے طے ہو رہے ہیں جس کے باعث Cyber Crimes کے رجحانات سر اٹھا رہے ہیں۔

    معاشیات کی دنیا میں غیر سودی بینکاری مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انشورنس اور اجتماعی تکافل ایک فلاحی معاشرے اور معیشت کا ناگزیر تقاضا بن چکے ہیں۔ اشیاءکے بجائے حصص کی تجارت ہو رہی ہے۔ قرضوں کی اشاریہ بندی مسلم معیشت کے لیے نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ جیب میں بھاری رقوم لیے پھرنے کے بجائے زندگی کریڈٹ کارڈ کی خوگر ہو رہی ہے۔ نقد اور ادھار کی مارکیٹ نے ایک نئی کتاب البیوع مرتب کر دی ہے۔ دارالاسلام، دارالحرب اور دارالعہد کے حوالے سے نئے ضوابط کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ طب کی دنیا میں Mercy Killing خون کی منتقلی، اعضا کی پیوندکاری، آنکھوں کے عطیات، فیملی پلاننگ، کلوننگ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی، ضبط ولادت کی مختلف صورتیں، پلاسٹ سرجری، ایڈز سے متعلق مسائل اور بہت سے دوسرے طبی موضوعات کا ہمیں سامنا ہے۔

    معاشرتی زندگی میں عورتوں کے حقوق، شرعی طلاق کی نوعیت، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون پر نکاح و طلاق، نو مسلم بیوی اور غیر مسلم خاوند یا نو مسلم خاوند اور غیر مسلم بیوی کی نوعیت، دیت اور شہادت اور سماجی زندگی سے وابستہ متنوع مسائل درپیش ہیں۔ اسلامی ریاستوں میں رو¿یت ہلال، فضائی سفر میں نمازوں کی ادائیگی اور روزے کا دورانیہ، ذرائع ابلاغ میں تصویر کا مسئلہ۔ دینی مدارس میں عصری علوم کی شمولیت، اسلامی کیلنڈر‘ مشینی ذبیحہ، انتہا پسندی اور خود کش حملوں کے جواز جیسے اہم مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اسلامی ریاست میں طرز حکومت، شورائیت، طرز انتخاب‘ عدالتی نظام‘ احتساب کے ادارے، ریاستی اداروں کے باہمی تعلقات اور حدود، آئینی مسائل، غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق، خاتون کی حکمرانی، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کی خود مختاری، بنیادی حقوق، نفس جمہوریت، جاگیرداری، ارتکاز دولت، نفع کی حدود کا تعین، کارخانے کے منافع میں کارکنوں کا حصہ، ٹیکسیشن اور زکوٰۃ و عشر جیسے موضوعات پر ہمیں غور و فکر کرنا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں معاہدات کے اصول، قانون بین الممالک کے اصول و ضوابط، فقہ الاقلیات، اشیاءو خدمات کے تبادلے کے اصول، عالمی اداروں کی ہیئت اور ساخت میں مسلمانوں کی شرکت اور قوت جنگ اور امن کے حالات میں ضوابط، بین المذہبی مکالمے کے آداب و رسوم، مذاہب و ادیان کے اکابر کا احترام، مذہبی شعائر اور معابد کی حرمت اور بہت سے دوسرے پیش آمدہ مسائل کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔


    اگر آپ امت مسلمہ کے مذکورہ بالا اجمالی موضوعات کی فہرست کو پیش نظر رکھیں تو آپ کا ذہن خود بخود اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ ان سب امور کے لیے ایک اجتماعی اجتہاد کی ضرورت ہے۔ اور یہ سب امور محل اجتہاد ہیں۔ پیش نظر رہے کہ اجتہاد ہمیشہ غیر منصوص مسائل کے بارے میں ہوتا ہے۔ تاریخ کی ثقہ روایات سے پتہ چلا ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشاورت کی روایت کو مستحکم کیا۔ قرآن مجید نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ کر مشاورت کا پابند بنایا کہ:
    وشاورھم فی الامر ( آل عمران3 : 159 ) ” اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرو۔ “

    ایک دوسرے مقام پر مسلمانوں کے باہمی امور کی ترتیب و ترکیب میں اصول مشاورت کو لازمی قرار دیا:
    وامرھم شورٰی بینھم ( الشورٰی 42 : 38 )
    ” اور ( یہ ) اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ “

    اسلام کا یہ اصول مشاورت اجتماعی فیصلوں کی مستقل اساس ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منصب اور اپنی بعثت کے لحاظ سے مشورے کا محتاج نہیں ہوتا کیونکہ اسے براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہدایات ملتی ہیں۔ مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر نگاہ دوڑائیں تو عبادات و معاملات، صلح و جنگ اور معاشرت و عدالت میں ہر جگہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مشاورت دراصل صحابہy کے لیے ایک دعوت و تربیت کا درجہ رکھتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلافت راشدہ بھی اسی اصول مشاورت کی روشنی میں اپنے مسائل کو حل کرتی دکھائی دیتی ہے۔

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ©
    ” میری نظر میں کوئی ایک شخص ایسا نہیں ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اپنے رفقاءسے مشورہ کرنے والا ہو۔ “ السنن الکبریٰ للبیھقی، ج 7 ، ص 45 )
    اسی روح مشاورت نے صحابہ رضی اللہ عنہ میں قیاس اور اجتہاد کا جوہر پیدا کیا۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ بن جبل کو یمن جیسے ترقی یافتہ علاقے کا گورنر اور قاضی مقرر کیا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی مسئلہ آئے یا مشکل درپیش ہو تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ تو عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے، پھر پوچھا کہ اگر سنت سے بھی نہ ملے تو عرض کیا: اجتھد برایی ولاآلو ( اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھوں گا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا: ” اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق فرمائی جو اللہ کے رسول کو پسند ہے۔ “ ( ابوداود، حدیث 3592 )

    طبرانی نے اپنی معجم اوسط میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وہ روایت درج کی ہے جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ” یا رسول اللہ! اگر کوئی ایسی مشکل پیش آجائے جس میں امر یا نہی واضح نہ ہو تو ایسی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں فقہا اور عبادت گزار لوگوں سے مشورہ کرو اور کسی شخص کی رائے پر عمل نہ کرو۔ “
    ( ہیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، 178/1 ، دارالکتب العربی )

    خلافت راشدہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی نوپیش آمدہ معاملات طے کرنے کے لیے یہی اسلوب اختیار کیا کہ آپ سب سے پہلے قرآن اور پھر سنت میں مسائل کا حل تلاش کرتے اور اگر مسئلہ کا حل نہ ملتا تو علماءکو بلاتے اور ان سے مشورہ طلب کرتے، پھر اگر ان کا اتفاق ہو جاتا تو اس فیصلے کو نافذ کر دیتے تھے۔ ( السنن الکبریٰ للبیہقی، 115 - 114/10 ، مطبع حیدر آباد دکن )

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ میں اس درجہ وسعت پیدا ہوئی کہ اس میں مصر و شام، ایران و عراق اور مکران و بلوچستان کے علاقے بھی شامل ہو گئے۔ اس صورت حال میں بے شمار نئے نئے مسائل پیدا ہوتے تھے۔

    ابن قیم اپنی تصنیف ” اعلام الموقعین “ میں لکھتے ہیں:
    ” خلافت فاروقی میں جب بھی کوئی نیا حل طلب مسئلہ سامنے آتا جس کے بارے میں کتاب و سنت میں کوئی منصوص حکم نہ ہوتا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو جمع کرتے اور ان سے مشاورت کرتے تھے۔ “ ( ابن قیم، اعلام الموقعین، 84/1 ، قاہرہ مصر )
     
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    دور حاضر میں اجتہاد کے امکانات و شرائط اور اقبال رحمہ اللہ (حصہ دوئم)

    دور حاضر میں اجتہاد کے امکانات و شرائط اور اقبال رحمہ اللہ (حصہ دوئم)

    قرن اول کی تاریخ میں مدینہ کے فقہائے سبعہ کی مشاورت اور اجتہاد معروف ہے۔ قاضی مدینہ ان کے فتویٰ اور اجتماعی رائے پر اپنا فیصلہ صادر کرتا تھا۔ ان فقہاءمیں سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، خارجہ بن زید، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث، سلیمان بن یسار اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ شامل تھے۔

    فقہ اسلامی کی تدوین کا عمل کئی صورتوں میں محفوظ ہو گیا۔ قرآن مجید میں احکام و نصوص کے حوالے سے احکام القرآن کی کتب مرتب ہوئیں۔ احادیث کے مجموعوں میں تراجم ابواب کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے درج ہوئے۔ ایسے ہی فیصلوں کا ایک مجموعہ ابن الطلاع اندلسی نے ” اقضیۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم “ کے نام سے مرتب کیا۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے جس اجتماعی اجتہاد کی داغ بیل ڈالی اس کے فیصلے امام ابویوسف رحمہ اللہ تحریر کرتے تھے۔ تاریخ میں فتاویٰ کی بہت سی کتابیں مرتب ہوئی ہیں مگر اجتماعی فتاویٰ میں فتاویٰ عالمگیری کو بہت شہرت حاصل ہے۔ سلطنت عثمانی میں احمد جودت پاشا کی سربراہی میں سات رکنی مجلس مشاورت تشکیل دی گئی جس نے نو سال کی محنت اور ریاضت سے 1293ھ میں ” مجلہ الاحکام العدلیہ “ مرتب کیا جو تقریبا ایک صدی تک عثمانی خلافت میں رائج رہا اور آج بھی اس کے فیصلے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ دور جدید میں بہت سے اسلامی ممالک میں ایسے فقہی اور قانونی ادارے، تنظیمیں اور تحریکیں موجود ہیں جو اجتماعی اجتہاد کی صورت میں بہت وقیع کام کر رہی ہیں۔ دور جدید کے سائنسی، سیاسی، معاشرتی، معاشی، طبی، عدالتی، تجارتی اور عسکری مسائل و مشکلات کے موضوع پر ان اداروں کے فتاویٰ اور فیصلے بہت گراں قدر اہمیت کے حامل ہیں۔

    1924ءمیں اقبال نے جب اسلامی ممالک میں اجتماعی اجتہاد کے لیے ایسے اداروں کا خواب دیکھا تو کوئی گمان بھی نہ کر سکتا تھا کہ پون صدی کے اندر بیسیوں ایسے ادارے وجود میں آجائیں گے اور ان کی کارکردگی اور ثقاہت عالم اسلام کو مستحکم کرنے میں معاون ہو گی۔ ایسے اداروں میں حکومتی اور غیر حکومتی دونوں طرح کے فقہی مراکز بہت مفید اور مثبت کام سرانجام دے رہے ہیں۔ سعودی عرب میں ” مجمع الفقہ الاسلامی اور ہئیۃ کبار العلماء“ او آئی سی کی ” فقہ اکیڈمی “ ایران کی ” شورائے نگہبان “ اور ” شورائی تشخیص مصلحت نظام “ مراکش کی ” مجلس علمی “ رابطہ عالم اسلامی کی ” المجمع الفقہی “ ہندوستان کی ” اسلامی فقہ اکیڈمی “ مجلس شرعی مبارک پور “ ” مجلس تحقیقات شرعیہ “ اور ” ادارہ مباحث فقیہ “ مصر میں ” مجمع البحوث الاسلامیہ “ پاکستان میں ” ادارہ تحقیقات اسلامی “ شریعہ اکیڈمی ” اسلامی نظریاتی کونسل “ ” وفاقی شرعی عدالت “ اور ” فلاح فاؤنڈیشن پاکستان “ جس نے حال ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو ” الموسوعۃ القضائیہ “ کے عنوان سے عربی اور اردو زبان میں شائع کیا ہے۔ راقم اس ادارے کے بورڈ آف گورنرز کا ایک ادنیٰ رکن ہے۔ کویت میں موسوعۃ فقہیہ کی متعدد جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور ہنوز یہ اجتماعی اجتہاد کا کام جاری ہے۔ غیر مسلم ممالک میں بھی یورپی افتاءکونسل اور ” مجمع الفقہ الاسلامی جنوبی امریکہ “ جیسے ادارے اجتماعی اجتہاد کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

    اقبال نے 1924ءمیں اجتماعی اجتہاد کے تصور کے لیے پارلیمنٹ کے فورم کو تجویز کیا جسے ثقہ اور مخلص علمائے دین کی عملی معاونت حاصل ہو۔ 1926ءمیں اقبال خود پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اپنی عمر عزیز کے آخری سالوں میں انہوں نے چوہدری نیاز علی خان کے تعاون سے دارالسلام ٹرسٹ قائم کیا جس میں فقہ اسلامی کی تدوین جدید کی نیو ڈالی گئی۔ اقبال نے مولانا انور شاہ کاشمیری، سید سلیمان ندوی اور بہت سے دوسرے علماءکو اس مقصد کے لیے جمع کرنے کی کوشش کی مگر بوجوہ ناکام رہے۔ علامہ نے اس سلسلے میں شیخ الازھر مصطفی مراغی مرحوم کو بھی خصوصی خط لکھا کہ فقہ اسلامی کی تدوین جدید کے لیے کسی ایک محقق اور فقیہ کو بجھوا دیں مگر وہاں سے بھی کوئی حوصلہ افزا پیغام نہ ملا۔ سید نذیر نیازی، چوہدری نیاز علی خان اور علامہ اقبال کی باہمی مراسلت سے پتہ چلتا ہے کہ صرف سید ابوالاعلیٰ مودودی ( 1979, 1903 ) نے حیدر آباد دکن سے پٹھان کوٹ کے دارالسلام میں حاضر ہونے کی حامی بھرلی۔ محمد اسد ( 1992, 1900 ) جیسے فاضل نو مسلم دانش ور بھی اسی ادارے سے وابستہ تھے۔ فقہ اسلامی کی تدوین جدید کا کام تو عالم اسلام کے مختلف ممالک میں شروع ہو چکا ہے مگر اقبال کی اس نوع کے ادارے سے وابستہ امیدیں ابھی تشنہ ہیں۔

    اقبال کے دل دردمند سے نکلی ہوئی صدا کا یہ اعجاز ہے کہ1953ءمیں شام کے ممتاز قانون دان اور فقیہ مصطفی احمد زرقا نے عالمی فقہ اکیڈمی کی تجویز پیش کی۔ بیسویں صدی کے نامور محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے بھی ہر اسلامی ملک میں جہاں کہیں ان کی قابل ذکر تعداد موجود ہے، ایک ایسے ہی اجتماعی اجتہاد کے لیے فقہ اکیڈمیز قائم کرنے پر توجہ دلائی۔ پھر ان تمام اکیڈمیوں کا آپس میں فیڈریشن جیسا تعلق ہو جو اجتماعی سطح پر ملت اسلامیہ کے ہمہ نوع مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ عالم اسلام کی جامعات اور ان کے کلیات شرعیہ، شریعہ اکیڈمیز، لا کالجز اور بعض معروف دینی درس گاہوں میں اس نوع کا انفرادی کام ہو رہا ہے۔ مگر اس نوع کا انفرادی اور اداری اجتہاد بھی اس اجتماعی اجتہاد کا متبادل ثابت نہیں ہو رہا جو اقبال کی فکر کے اس مجوزہ خاکے کی تکمیل کرتا ہو۔

    ہمارے ہاں ملک عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے1956 ءکے آئین میں اس مقصد کے لیے ایک کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی۔ 1924 ءکے دستور کے آرٹیکل 199 میں اسلامی نظریہ کی ایک مشاورتی کونسل کی تشکیل کا فیصلہ ہوا۔ پھر 1973 ءکے کانسٹی ٹیوشن کے آرٹیکل 228 میں ایک اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کا ذکر ہوا۔ اس دستور کے آرٹیکل 230 میں اس کے جن فرائض منصبی کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ایک حد تک اطمینان بخش ہیں۔ اس ادارے نے مختلف قومی اور ملی مسائل و موضوعات پر 78 کے قریب گراں قدر رپورٹیں تیار کی ہیں جن کی سفارشات پر اگر صدق دل اور اخلاص نیت سے عمل کیا جاتا تو یہ ملک عالم اسلام میں ایک ماڈل اسلامی ریاست کا روپ اختیار کر لیتا مگر حیف کہ اس ادارے کی تمام تر مساعی کا درجہ سفارش سے بڑھ کر کچھ نہیں اور ان مساعی کو بھی اقتدار کا ٹرائیکا اپنے لیے ایک بوجھ محسوس کرتا ہے۔

    دین و شریعت کا تقاضا ہے کہ جہاد اور اجتہاد قیامت تک جاری رہے۔ قومی اور ملی سطح پر یہ احساس بھی موجود ہے کہ اجتہاد کے دروازوں کو کھولنا چاہیے مگر شاید ہم نے اس کی کلید کہیں گم کر دی ہے۔ اہل دین کو اس امر پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے کہ ایک دوسرے کی تکفیر اور ایک دوسرے کے گلے کاٹنا جہاد نہیں بلکہ جہاد یہ ہے کہ کتاب و سنت کی نصوص کی بنیاد پر ایسا اجتہاد کیا جائے جس سے ایک سماجی، ثقافتی، تمدنی، معاشی، اخلاقی، روحانی اور معاشرتی انقلاب برپا کیا جا سکے۔ اسلامی نشاۃ ثانیہ کا ایک راستہ علم و تحقیق اور اجتہاد بھی ہے۔ حیرت ہے کہ عقائد و عبادات میں اجتہاد کی ضرورت نہیں مگر مختلف مسالک اور فرق نے صدیوں سے اسے استخوان نزاع بنا رکھا ہے۔ ہمیں اسلام کے اصول حرکت اور تمدنی ارتقاءکے باعث معاملات میں اجتہاد کی ضرورت ہے مگر ہمیں اس کا احساس نہیں اور کہیں احساس ہے تو اس کی استعداد نہیں اور اگر کہیں استعداد ہے تو اخلاص نہیں۔ اجتہاد کا پورا فلسفہ ایک جملے میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ کبھی نہ بدلنے والے منصوص احکام شریعت کو ہر لمحہ تبدیل ہونے والے فقہ الواقع ( Existing Environment ) پر کیسے منطبق کیا جائے۔ اس کے اسالیب اور مناہج پر بیش قیمت کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ فقہی اجتہادات میں قیاس، استحسان اور مصالح مرسلہ کے ساتھ قواعد کلیہ اور مقاصد شریعت کے عناصر خمسہ کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے ۔


    اجتہاد جیسے اہم اور عظیم مقصد کے لیے مجتہدین میں کیا شرائط یا لوازم ہونا چاہئیں۔ اجتہادی اداروں اور فقہی اکیڈمیوں کی تشکیل سے قبل ان پر توجہ بہت ناگزیر ہے۔ اس دور میں کسی ایک مجتہد میں تمام علوم و فنون اور مہارتوں کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ شاید کوئی معجزہ یا کرامت ہی ایسی صورت پیدا کر سکتا ہے۔ یہی باعث ہے کہ اجتہاد اب انفرادی کے بجائے اجتماعی ہونا چاہیے ۔ مجتہد کے لیے عصری شعور سے آگاہی ضروری ہے۔ وہ اپنے عہد کے سماجی، بشری، عمرانی اور ثقافتی ماحول اور میلانات سے کامل آگاہی رکھتا ہو۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل یعنی جو اپنے زمانے سے واقف نہ ہو وہ جاہل ہے۔ اس لیے علماءکو دور جدید کے رجحانات کی معرفت اور ادراک ہونا چاہیے کیونکہ ان تصویر المسئلۃ نصف العلم ( بے شک کسی مسئلے کی ہیئت اور شکل و صورت کو جان لینا آدھا علم ہے ) مجتہد کو مقاصد شریعت کا علم ہونا چاہیے ۔ علم فقہ اور اصول فقہ میں کامل مہارت ہونا چاہیے ۔ اسے عرف و عادات سے واقفیت، احوال و ظروف زمانہ سے آگاہی اور ادلہ شریعہ پر کامل عبور ہونا چاہیے ۔ اجتہاد کی اصطلاح جہد یا جہد سے مشتق ہے جس کے معنی کوشش کرنے اور مشقت اٹھانے کے ہیں لہٰذا ایک مجتہد یا عالم یا فقہیہ کو غیر منصوص احکام کی عدم موجودگی کی صورت میں نئے مسائل کے حل کے لیے احکام شریعہ معلوم کرتے ہوئے پوری استعداد صرف کرنا چاہیے ۔
    اسلاف نے مجتہد کے لیے آٹھ علوم میں مہارت کو لازم قرار دیا ہے۔

    1. قرآن کا علم
    2. سنت کا علم
    3. اجتماعی مسائل کا علم
    4. مبادیات کا علم
    5. عربی زبان کا علم
    6. ناسخ و منسوخ کا علم
    7. اصول حدیث کا علم

    مجتہد کو اجماع اور اختلاف کی معرفت ہونی چاہیے نیز وہ مقاصد شریعت اور احکام کی حکمت سے پوری طرح آگاہی رکھتا ہو۔ دور حاضر میں مجتہد کو عربی کے علاوہ انگریزی، جرمن اور فرانسیسی زبانوں کا بھی علم ہونا چاہیے کیونکہ مستشرقین زیادہ تر انہیں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ چونکہ کوئی ایک فرد تمام علوم و فنون کی مہارت کا دعویدار نہیں ہو سکتا ہے لہٰذا اجتماعی اجتہاد میں مختلف علوم اور متنوع فنون کے متخصصین اور ماہرین کو موجود ہونا چاہیے ۔ احوال عالم پر مجتہدین کی گہری نظر ہونی چاہیے ۔ مجتہد کو متقی، نیک، پارسا، عابد، زاہد، عادل، مخلص اور صادق ہونا چاہیے ۔ مجتہد کو محل اجتہاد کا تعین کرنا چاہیے کیونکہ اجتہاد صرف غیر منصوص نئے مسائل پر ہو سکتا ہے، اس لیے اسے عصری تقاضوں کا ادراک اور ان کا فہم ہونا چاہیے ۔ مجتہد کو متعصب نہیں ہونا چاہیے اور اسے صرف حقیقت کی جستجو کرنا چاہیے ۔ مجتہد میں استدلال، استخراج، تحلیل اور تجزیہ کی استعداد ہونا چاہیے ۔ مجتہد کو کتاب و سنت کے جملہ پہلوؤں، آیات کے شان نزول، ناسخ و منسوخ، احکام کی علت، اور علوم الحدیث میں اسماءالرجال، جرح و تعدیل اور روایت و درایت کا علم ہونا چاہیے ۔ مجتہد کو اپنے اسلاف کی مجتہدانہ خدمات کا علم ہونا چاہیے ۔

    امام غزالی رحمہ اللہ ( 1111, 1059 ء) نے مجتہد کے لیے شرائط بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس فرد کو اسلامی قانون کے مآخذ پر پورا عبور حاصل ہو۔ وہ عادل اور دیانت دار ہو اور ان گناہوں سے اجتناب کرتا ہو جو عدالت و دیانت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ مجتہد کے لیے تقابل ادیان کے علم کی بھی ضرورت ہے۔
    راقم کے خیال میں اجتہاد کے تقاضوں اور شرائط کو سمجھنے کے لیے کم از کم ذیل کی کتب کا مطالعہ ناگزیر ہے:

    1. تفسیر ابن کثیر و تفسیر قرطبی۔ 11. بدائع الصنائع ازکاسانی۔
    2. صحاح ستہ مع شروح بالخصوص فتح الباری۔ 12. المدونہ از امام مالک۔
    3. الموافقات از شاطبی۔ 13. المغنی از ابن قدامہ۔
    4. الاحاکم فی اصول الاحکام از سیف الدین الآمدی۔ 14. فتاویٰ امام ابن تیمیہ۔
    5. ارشاد الفحول از محمد بن علی الشوکانی۔ 15. بدایۃ المجتہد از ابن رشد۔
    6. الرسالہ از امام شافعی۔ 16. المستصفیٰ از امام غزالی۔
    7. اعلام الموقعین از ابن قیم۔ 17. الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم۔
    8. حجۃ اللہ البالغہ از شاہ ولی اللہ۔ 18. اصول الفقہ الاسلامی ازد /وھبہ الزحیلی۔
    9. المحلیٰ از ابن حزم۔ 19. صول الفقہ للشیخ محمد خضری بک۔
    10. فلسفہ شریعت اسلام از صبحی محمصانی۔ 20. تشکیل جدید الہیات اسلامیہ از اقبال۔

    میں آخر میں مسک الختام کے طور پر اپنے مضمون کو علامہ اقبال کے ایک خط کے اقتباس پر ختم کرتا ہوں جو انہوں نے 2 ستمبر 1925ءکو صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے نام لکھا:

    ” میرا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے ” جورس پروڈنس “ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا، وہی اسلام کا مجدد ہو گا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم بھی وہی شخص ہو گا۔ قریباً قریباً تمام ممالک میں اس وقت مسلمان یا تو اپنی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں یا قوانین اسلامیہ میں غور و فکر کر رہے ہیں ( سوائے ایران و افغانستان کے ) مگر ان ممالک میں بھی امروز و فردا یہ سوال پیدا ہونے والا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ زمانہ حال کے اسلامی فقہا یا تو زمانہ کے میلان طبیعت سے بالکل بے خبر ہیں یا قدامت پرستی میں مبتلا ہیں۔ ایران میں مجتہدین شیعہ کی تنگ نظری اور قدامت پرستی نے بہاءاللہ کو پیدا کیا جو سرے سے احکام قرآنی کا ہی منکر ہے۔ ہندوستان میں عام حنفی اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کے تمام دروازے بند ہیں۔ میں نے ایک بہت بڑے عالم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت امام ابوحنیفہ کا نظیر ناممکن ہے۔ غرض کہ یہ وقت عملی کام کا ہے کیونکہ میری رائے ناقص میں مذہب اسلام اس وقت گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے اور شاید تاریخ اسلام میں ایسا وقت اس سے پہلے کبھی نہیں آیا۔ “ ( سید مظفر حسین برنی، کلیات مکاتیب اقبال ( جلد دوم ) ص 604, 601 )
    دور حاضر میں اجتہاد کے امکانات و شرائط اور اقبال رحمہ اللہ
    دور حاضر میں اجتہاد کے امکانات و شرائط اور اقبال رحمہ اللہ (حصہ دوئم)
     
  3. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    1915ءمیں ” اسرار خودی “ شائع ہوئی تو اس پرچاروں جانب سے اعتراضات کی جو بوچھاڑ ہوئی، اس سے اقبال نے ملت اسلامیہ کے فقہی جمود کا بخوبی اندازہ لگا لیا۔ شاید یہی باعث ہے کہ 1918ءمیں جب ” رموز بے خودی “ شائع ہوئی تو اقبال نے مجبوراً یہ بات کہی، جس کا عنوان یوں ہے:
    ” در معنی ایں کہ درزمانہ¿ انحطاط تقلید از اجتہاد اولیٰ تراست “ ( محمد اقبال، رموز بیخودی، مشمولہ کلیات اقبال فارسی، ص 124 )
    اجتہاد اندر زمان انحطاط
    قوم را برہم ہمی پیچد بساط
    ز اجتہاد عالمان کم نظر
    اقتدا بر رفتگاں محفوظ تر
    ” انحطاط کے زمانے میں اجتہاد قوم کا شیرازہ بکھیر دیتا ہے اور اس کی بساط لپیٹ دیتا ہے۔ کوتاہ نظر عالموں کے اجتہاد سے اسلاف کی پیروی زیادہ محفوظ ہے۔ “

    مضمون نگار کی یہ باتیں ظن اورتخمین پر مبنی ہیں اس کی کوئی قابل ذکر شہادت یادلیل موجود نہیں کہ جب لوگوں نے تنقید کی تب انہوں نے ایساکہا۔بلکہ اس کے مقابلہ میں مولاناابوالحسن علی ندوی نے روائع اقبال اور مسلم ممالک میں اسلامیت ومغربیت کی کشمکش میں جو صورت حال بیان کی ہے وہ زیادہ مناسب ہے۔ان کے کہنے کاخلاصہ یہ ہے کہ پہلے اقبال عدم تقلید کے حامی تھے جس کاثبوت ان کا یہ شعر ہے
    تقلید کی روش سے توبہترہے خودکشی
    رستہ بھی ڈھونڈ خضر کاسوادبھی چھوڑدے
    لیکن بعد میں جب اپنے دور کے مجتہدین مثلا سرسیداحمد خان اوردیگرسفہائ الاحلام کی اجتہادی کاوشیں دیکھیں تو ان کو کہناپڑا۔
    زاجہتادعالمان کم نظر
    اقتدابررفتگان محفوظ تر
    اوریہ صورت حال ابھی بھی کوئی زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔آج بھی بیسیوں نمونے دورحاضر کے ’’عظیم مجتہدین‘‘کے موجود ہیں
     
  4. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    1. تفسیر ابن کثیر و تفسیر قرطبی۔ 11. بدائع الصنائع ازکاسانی۔
    2. صحاح ستہ مع شروح بالخصوص فتح الباری۔ 12. المدونہ از امام مالک۔
    3. الموافقات از شاطبی۔ 13. المغنی از ابن قدامہ۔
    4. الاحاکم فی اصول الاحکام از سیف الدین الآمدی۔ 14. فتاویٰ امام ابن تیمیہ۔
    5. ارشاد الفحول از محمد بن علی الشوکانی۔ 15. بدایۃ المجتہد از ابن رشد۔
    6. الرسالہ از امام شافعی۔ 16. المستصفیٰ از امام غزالی۔
    7. اعلام الموقعین از ابن قیم۔ 17. الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم۔
    8. حجۃ اللہ البالغہ از شاہ ولی اللہ۔ 18. اصول الفقہ الاسلامی ازد /وھبہ الزحیلی۔
    9. المحلیٰ از ابن حزم۔ 19. صول الفقہ للشیخ محمد خضری بک۔
    10. فلسفہ شریعت اسلام از صبحی محمصانی۔ 20. تشکیل جدید الہیات اسلامیہ از اقبال۔
    مصنف کا اجتہاد کیلئے پیش کردہ کتابوں کی فہرست انتہائی نامکمل ہے اوریوں لگتاہے کہ کافی عجلت میں پیش کی گئی ہے اوراس سلسلے میں دقت نظر سے کام نہ لیتے ہوئے قدیم وجدید کے فقہ اوراصول فقہ کے ذخائر پر بہت سرسری طورپر نگاہ ڈالی گئی ہے۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485


    "مولانا ابو الحسن ندوى كے کہنے كے خلاصے" كا حوالہ حسب معمول مبہم ہے ۔ روائع اقبال کا ذرا صفحہ نمبر بتائيے ؟

    مضمون كے آخر ميں ذكر كردہ مكتوب اقبال كے حوالے پر نظر جاتى تو معلوم ہوتا کہ یہ اقتباس آپ كى یہ سارى تھیوری غلط ثابت نہیں كر ديتا كہ اقبال پہلے عدم تقليد كے قائل تھے اور پھر تقليد كے قائل ہوئے؟ ايك بار پھر دیکھیے :
    اس سے بڑا لطيفہ اور مضحكہ خيز دعوى اور كيا ہو گا كہ اقبال كو قائلين تقليد ميں شامل كر ليا جائے؟ اور پھر اس كے ليے علامہ ندوى كا مبہم حوالہ استعمال كيا جائے جب كہ خود اقبال كا كلام محكومى، تقليد اور زوالِ تحقيق كا ماتم كر رہا ہے:

    اجتہاد

    ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے؟
    نہ کہیں لذت کردار، نہ افکار عمیق !

    حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں؟
    آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق!

    خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
    ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!

    ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
    کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!

    بحوالہ: ضربِ کلیم، بعنوان: اجتہاد

     
  6. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 18, 2010
  7. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    جزاك اللہ خيرا سسٹر۔ صرف كلام اقبال ہی نہیں خطبات اقبال كا ایک پورا خطبہ صرف اجتہاد پر ہے پتہ نہیں طحاوى صاحب قابل ذكر شہادت كسے کہتے ہیں؟

    واہ طحاوى صاحب، تعصب كى حد ہوتی ہے۔ پروفيسر عبد الجبار شاكر رحمت اللہ عليہ كى رائے كو سلفى ہونے كى وجہ سے ظن اور تخمين كہہ سکتے ہیں ۔ چلیں اہل تقليد ميں مولانا گلزار احمد مظاہری سے تو واقف ہوں گے؟ ان کے صاحب زادے ڈاکٹر حسین احمد پراچہ كى شہادت قابل ذكر ہے یا نہیں؟
    تفصيييييل :ڈاکٹر جاوید اقبال اور فہمِ اقبال … (آخری قسط)
    ڈاکٹر حسین احمد پراچہ ـ 24 اپریل ، 2010
    Nawaiwaqt eNewspaper - A house of quality news content | Urdu News | Pakistan News | Nawaiwaqt | Nawaiwaqt Group | A house of quality news contents
    اب بتائيں پروفيسر عبد الجبار شاكر رحمت اللہ عليہ نے ظن وتخمين سے كام ليا کہ آپ نے؟
    ابھی اجتہاد پر ايك مضمون شئير كرنا باقى ہے اسے پڑھ کے بتانا اقبال آخری عمر ميں تقليد كے قائل تھے یا اجتہاد كے؟


     
  8. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    :00039: :00039:
     
  9. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    ویسے الطحاوی بھائی، اگر آپ اس بات کا حوالہ علامہ اقبال کی زندگی سے دے دیں تو ذرا ہمارے بھی علم میں اضافہ ہو گا۔
     
  10. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    شاید آپ میری بات سمجھنانہیں چاہ رہے ہیں۔
    حنفی ہونے میں اور پیش آمدہ حالات وزمانہ کے مطابق اجتہاد کرنے میں کوئی تضاد نہیں‌ہے ۔ایسے بہت سے حنفی علماء کے نام بتائے جاسکتے ہیں جنہوں‌نے خود دورحاضر میں اجتہاد پر زوردیاہے تاکہ وہ مسائل جن کاہمیں سامناہے ان سے عہدہ برہواجائے اوران مسائل کے بارے می اسلامی احکام لوگوں‌کو بتائے جائیں لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اجتہاد پر زور دینے والاشخص حنفی نہیں‌رہا۔میں ایسے کئی علماء کے نام بتاسکتاہوں جنہوں‌نے اس پر زور دیاکہ دور حاضر میں پیش آمدہ سوالات کیلئے اجتہاد ضروری ہے اوراس کیلئےا دارے قائم کئے لیکن اس سے کسی نےبھی یہ نہیں‌کہاکہ وہ حنفی نہیں‌رہے۔
     
  11. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    طحاوی صاحب کہتے علامہ اقبال ساری زندگی حنفی رہے اس بات کا ثبوت علامہ اقبال کی زبان سے دیں
    اور یہ بھی بتانا ہے کون سے حنفی تھے دیو بندی یا بریلوی
    اگر دیوبندی تھے تو کون سے تھے حیاتی یا مماتی
    دیو بند علماء کے نزدیک بریلوی مشرک گمراہ
    اور بریلوی کے نزدیک دیوبند کافر مرتد گمراہ اور نا جانے کیا کیا فتوی موجود ہیں
    اور سب کا دعوی یہی ہے کہ وہ حنفی ہیں
     
  12. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    آپ کی ان باتوں کااچھی طرح سے جواب دیاجاسکتاہے خود ہندوستان میں جماعت اہل حدیث کئی فرقوں میں تقسیم ہے کسی سے بھی دریافت کرسکتے ہیں۔فی الحال اتناہی کافی۔
     
  13. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    سر کار کس نے روکا ہے جواب دینے سے ، جواب دیں
    ہم منتظر ہیں

    پھر وہی بات کہوں گا اس بادل کی طرح نا بنیں جو صرف گرجتا ہے برستا نہیں
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825


    انتہائى غير اخلاقى ، غير شائستہ، اور شرمناك الفاظ حذف كيے گئے ۔
    سبب : خلاف ورزى : اخلاقی / مذہبی [خ] 4 قوانین اردو مجلس
     
  15. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ
    الطحاوی صاحب! آپ کی مذکورہ بالا تحریر پڑھ کر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال : وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان فأتاني آت فجعل يحثو من الطعام فأخذته ، فقلت : لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث ، فقال : " إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي لن يزال عليك من الله حافظ ولا يقربك شيطان حتى تصبح ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : صدقك وهو كذوب ذاك شيطان۔ "

    الطحاوی صاحب! آپ اپنے اس کلام کو یاد رکھئے گا ، آئندہ بہت کام آئے گا۔ اقبال اور مدرسہ کے متعلقات کو یاد رکھنے کی خاص ضرورت نہیں ، مگر تقلید کے حوالے سے آپ نے جو کچھ لکھا ہے ، بس وہ نہ بھولئے گا۔بلکہ ایسا کریں کہ اس کو اس عبارت کو موم جامہ پہنا کر ہر وقت اپنے ساتھ ہیں رکھیں۔ اور یہ جب بھی آپ تقلید کے وجوب کو ثابت کرنے لگیں تو اس عبارت کو ضرور پڑھ لیجئے گا۔ کیونکہ یہ ہی حرکت تمام دائیان تقلید کرتے ہیں کہ بس کسی کتاب میں لفظ تقلید نظر آیا کہ خود ساختہ طور پر اس سے فقہی تقلیدمراد لے لیا۔
    ہم اہل السنۃ و الجماعۃ خود ساختہ طور پر نہیں لیتے۔ہاں مگر قرائن کے ساتھ۔

    ما اہلحدیثیم دغا را نشاناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست​
    [/font]


    پوری پوسٹ کا ٹیکسٹ سائز 5 سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، تھریڈ کے اندر صرف عنوانات کا سائز اس سے زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ 10مراسلہ نگاری [م] -قوانین اردو مجلس
     
  16. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925


    انتہائى غير اخلاقى ، غير شائستہ، اور شرمناك الفاظ حذف كيے گئے ۔
    سبب : خلاف ورزى : اخلاقی / مذہبی [خ] 4 قوانین اردو مجلس
     
  17. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,354
  18. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
  19. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    :00039::00002: :00039: :00002: :00039: ​

    :00039::00002: :00039: :00002: :00039: ​

    آآآآآآآآہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ امام طحاوی ی ی ی ی ی ی​
     
  20. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    مقلد صاحب پہل بھی آپ کرتے ہیں اور شور بھی آپ ،کیونکہ اندھے مقلد کی یہ پہچان ہوتی ہے جہان جواب نادارد وہاں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پے چل پڑتا ہے جیسی زبان شریف آپ استعمال کریں گے ویسی سننے کے لیے تیار بھی رہیں
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں