اقبال کے تصور اجتہاد کے بعد … محمد شریف

dani نے 'نقد و نظر' میں ‏اگست 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اقبالؒ کے تصور اجتہاد کے بعد … (۱)
    ـ 22 اپریل ، 2010
    محمد شریف ...........
    نوائے وقت
    خطبات اقبال میں چھٹے خطبے کی خاص اہمیت ہے… اجتہاد پر یہ خطبہ زیر بحث بھی زیادہ آتا ہے اور جدید دور میں اسکی عملی حیثیت بھی زیادہ ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے خطبات کی تفہیم کے سلسلہ میں مختلف اعتراضات کا جائزہ لیا ہے۔ یہ اعتراضات فکری نوعیت کے بھی ہیں اور عملی نوعیت کے بھی۔ اجتہاد پر سب سے قوی دلیل حضرت معاذ کا قول ہے کہ کتاب وسنت کے بعد اجتہاد کرونگا جس کو رسول اللہﷺ نے پسند فرمایا۔
    الطاف احمد اعظمی کے بقول یہ اضافہ ہے جس کی بقول ڈاکٹر جاوید اقبال کوئی دلیل نہیں دی گئی جبکہ یہ مشہور حدیث اس سلسلے میں روایتی علماء بھی شدومد سے پیش کرتے ہیں۔
    علامہ اقبال کے برعکس خطبات اقبال صفحہ 184 پر جاوید اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ ترک قوم پرستوں نے کلیسا اور ریاست کی علیحدگی کا تصور یورپ کی سیاسی تاریخ سے لیا جبکہ ترکی میں اب نئے تجربے ہو رہے ہیں۔ الطاف احمد اعظمی کا دوسرا اعتراض طلاق تفویض پر ہے جو کہ اعظمی صاحب کے نزدیک عورت کیلئے جائز نہیں۔ جاوید اقبال نکاح کو سول معاہدہ کہتے ہیں جس میں دیگر شرائط کی طرح طلاق تفویض کا حق بھی دیا جا سکتا ہے۔ انکے نزدیک علامہ کے اس اجتہاد کی کوئی خصوصی ممانعت قرآن و حدیث میں موجود نہیں۔
    بعض مخصوص حالات کو چھوڑ کر اسکی اجازت عام ہے مسلم قانون اور روایات البتہ خالی ہیں۔ اسی سلسلہ میں ایچ اے آرگب کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے کہ علامہ کے مساوات مرد وزن کی قرآن سے تائید نہیں ہوتی کیونکہ آیت علیھن درجہ ( مردوں کو ایک درجہ برتری ہے) پر ختم ہوتی ہے۔
    جاوید اقبال بحوالہ نذیر نیازی دلیل دیتے ہیں کہ یہ درجہ معاشی نقطہ نگاہ سے ہے‘ اگرچہ نسفی کے حوالے کے بغیر یہ دلیل خود قرآن میں موجود ہے لیکن دوسری آیت ’’الرجال قداموت علی النسائ‘‘ میں معاشرتی نقطہ نگاہ بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے خطبات اقبال صفحہ 190 پر فرانسیسی مسلم مادام ایوا میرووچ کا اعتراض درج کیا ہے کہ اقبال کا بیان کردہ مساوات کا اصول اسی صورت تسلیم کیا جا سکتا ہے جب عورت کو بیوی کی حیثیت سے دیکھا جائے لیکن شادی نہ ہونے کی صورت میں وراثت کی تقسیم میں عدم مساوات کا مسئلہ اٹھ سکتا ہے‘‘ ۔
    جاویداقبال صاحب کے خیال میں ایسے غیر معمولی حالات میں اجتہاد کے ذریعہ یا تو عدلیہ فیصلہ دے سکتی ہے یا منتخب اسمبلی ذیلی قانون سازی کر سکتی ہے حالانکہ جواب یہ ہونا چاہئے تھا کہ قانون عموم پر ہوتا ہے اور اس خاص صورت میں بھی عورت کو نقصان نہیں کیونکہ شادی نہ کرنے کی صورت میں عورت کی معاشی کفالت بھائیوں پر ہوتی ہے‘ اس لئے بجا طور پر اسلام کے قانون وراثت اور اسکے فلسفہ تقسیم مال میں بعض ایسے سوشل پہلو دکھائی دینگے جو پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئے البتہ شرط یہ ہے کہ قانون کو من و عن نافذ کیا جائے۔
    الطاف اعظمی کا ایک اعتراض یہ ہے کہ قرآن بطور ماخذ قانون پر اقبال کے خیالات پوری طرح صحیح نہیں کہ قرآن کے بعض احکام مقامی نوعیت کے ہیں جن کا اطلاق بعد کے زمانوں پر نہیں ہو گا۔ اسی ضمن میں قرآنی سزائوں کا ذکر ہے جو دائمی نوعیت کی ہیں۔ جاوید اقبال کے بقول اقبال کا استدلال شبلی اور شاہ ولی اللہ کی آرا پر قائم ہے۔ اعظمی کا استدلال اصول تدریج کے حق میں ہے جس کی رعایت نہ کرنے کے سبب اکثر ممالک میں شریعت کا بڑا حصہ نافذ العمل نہیں۔ اعظمی بھولتے ہیں کہ عدم نفاذ کا سبب عزم کی کمی اور جہاں عزم موجود ہو مثلاً سعودی عرب وہاں تدریج کے بغیر بھی نتائج حیران کن ہیں۔ سہیل عمر، محمد الغزالی اور جاوید غامدی کی رائے میں شاہ ولی اللہ تعزیرات کو شریعت بامجملہ میں شمار کر کے ہر دور کیلئے واجب قرار دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر خالد مسعود اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی رائے دوسری ہے( خطبات اقبال از جاوید اقبال) ڈاکٹر خالد مسعود جنکی ذمہ داری اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی ہے جس کی رپورٹیں تدریج تو کیا مسلسل تصدیق کا شکار ہیں کہ حکمرانوں کی کوئی نیت ہی نہیں کیا ا س میں ڈاکٹر صاحب کے نظریات معاون بھی نہیں۔ سہیل عمر صاحب نے باقاعدہ تحقیق کے ساتھ شاہ صاحب کی اصل عبارات اور علامہ شبلی کے الکلام کے اقتباس سے واضح کیا ہے کہ شاہ صاحب کا مقصود نفاذ حدود صحیح نقل نہیں ہوا البتہ ڈاکٹر جاوید اقبال کا یہ فرمانا کہ شاہ صاحب کا یہ کہنا تو یہی چاہتے تھے مگر نکتہ کھل کر واضح نہ ہو سکا جس کو شبلی نے واضح کر دیا۔ اس کیلئے ڈاکٹر صاحب نے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔
    سہیل عمر کی مفصل اور طویل بحث سے قطع نظر الکلام میں شبلی کے محولہ اقتباس میں بھی اجمل الناس جمیعاً علی اتباع الشریعہ موجود ہے۔ جس میں عرب اور عجم کی تفریق نہیں اور تمام پر یہ احکام لاگو ہوتے ہیں‘ البتہ شبلی کے حدود کو مقصود بالذات نہ ہونے کے الفاظ نہ معلوم کہاں سے وارد ہوئے اوراگر مابعد کو آزادی دینا مطلوب ہے تو پھر تو اقتباس مذکورہ کی اس تعبیر کے مطابق عرب کو بھی چھٹی مل گئی۔
    چودہ صدیوں کی تاریخ اور تعامل نے عالم اسلام کو یا تو پورا عرب بنا دیا جیسے مصر اور مغرب (مراکش) اور یا نیم عرب بنا دیا جیسے ایران اور اسلامی عہد کا ہندوستان… اس لئے یہ نظری بحثیں جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی شریک ہیں منزل سے دور کرنیوالی باتیں ہیں۔ باسٹھ سال تو ہو گئے کتنی تدریج کی ضرورت ہے جو ابھی تک پوری نہیں ہو سکی۔ ضیاء الحق کے دور کی قانون سازی کو جاوید اقبال شبلی اور اقبال کے تصورات کے برعکس خیال کرتے ہیں۔
    یہ سہیل عمر کی تحقیق کا غالباً اثر تھا کہ اس میں شاہ ولی اللہ کا نام نہیں لیا گیا لیکن جب جاوید اقبال کے بقول ان پر عملدرآمد ہی نہ ہوا تو بہتر نتائج کب آ سکتے تھے جبکہ پرویز مشرف دور میں ایک مہم کے ذریعے ان کو متنازعہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی ہو۔
    برسبیل تذکرہ جو نتیجہ شبلی کی تحریر پر اعتماد کے نتیجہ میں سہیل عمر نے نکالا تقریباً اسی قسم کا نتیجہ خالد مسعود نے علامہ کے سید سلیمان ندوی پر اعتماد سے نکالا کہ اجماع قرآن کا ناسخ ہو سکتا ہے یا نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان طویل بحثوں میں الجھنے کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں۔ اور بنیادی بات یہ بھی کہ ہماری نظریاتی کونسل کے چیئرمین قرآن تک کی تنسیخ کیلئے دلائل فراہم کر رہے ہیں جبکہ شبلی کا موقف بھی علامہ نے قرآن کے ذیل میں پیش نہیں کیا بلکہ حدیث کے عنوان کے تحت پیش کیا ہے اور ساتھ ہی روایات کی تقسیم اور اصناف کی طرف سے حدیث کی طرف کم میلان کا ذکر کیا ہے مگر یار لوگ تو قرآنی سزائوں پر بھی ہاتھ صاف کرنے کو تیار ہیں۔
    حدیث کے بطور ماخذ ہونے پر اعظمی کے اعتراضات جاوید اقبال کے نزدیک ناقابل فہم ہیں کیونکہ حدیث کے بغیر تنقید کو قبول نہ کرنا ابوحنیفہ کی پیروی کے مترادف ہے حالانکہ ابو حنیفہ سے لیکر اب تک ہمیشہ اصناف نے اس کو ایک الزام سمجھا اور امام صاحب کا مشہور قول ہے کہ حدیث کے مقابلے میں مرے قول کو دیوار پر مار دو۔
    اعظمی کے اس اعتراض پر کہ عوامی نمائندے اجتہاد سے نابلد نہیں جاوید اقبال جواب دیتے ہیں کہ اسمبلی میں غیر علماء ماہرین بھی ہونگے اور یہ مقابل عمل بھی ہے جاوید اقبال صاحب کی رائے اس لئے بھی صائب ہے کہ غیر مذہبی امور میں بھی آئینی ماہرین وغیرہ کی مدد اسمبلی سے باہر کے لوگوں سے بھی لی جا سکتی ہے اور عوام اور علماء کسی قانونی سقم کا محاسبہ بھی کرسکتے ہیں اور پاکستان میں اسلامی شریعت کورٹ اور پھر سپریم کورٹ اس کا جائزہ بھی لے سکتی ہے۔ (جاری ہے) ​
     
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اقبالؒ کے تصور اجتہاد کے بعد

    اقبالؒ کے تصور اجتہاد کے بعد … (آخری قسط)
    ـ 24 اپریل ، 2010
    محمد شریف
    نوائے وقت

    مولانا زاہد الراشدی کے اعتراض کے بارے میں کہ اقبال خود مجتہد نہ تھے۔ جاوید اقبال لکھتے ہیں (خطبات اقبال ص:195) کہ علامہ بیرسٹر تھے اور موجودہ قوانین کی خامیوں کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے وقت کے تقاضوں کے تحت اجتہاد کی ضرورت پر خطبہ دیا۔ لکھتے ہیں مولانا کا خیال ہے کہ اجتہاد کی بندش ضرورت مکمل ہونے کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح مولانا کے نزدیک ترکی تجربہ اسلام سے قربت کی بجائے اسلام سے دوری تھا۔ اسکے باوجود علماء نے اقبال کے زیر اثر قرار داد مقاصد، اکتیس دستوری نکا ت میں عوامی مرضی سے حکومت اور قادیانیوں کو اقلیت تسلیم کیا۔ حتیٰ کہ دستور1973ء کو قرآن و سنت کی پابندی پر تسلیم کیا۔
    تیسرا اعتراض یہ ہے کہ خطبات کو پون صدی گزر چکی ان پر دوبارہ غور ہونا چاہئے۔ جاوید اقبال یوسف خان جذاب کا شافی جواب نقل کرتے ہیں کہ علما کو اپنے موقف پر نظرثانی کر کے اجتہاد کا بند دروازہ کھولنا چاہئے لیکن مولانا راشدی نے تو مطلقاً نظرثانی (اور وہ بھی وقت گزرنے اور ترکی تجربہ کی وجہ سے) کا مطالبہ کیا تھا جب کہ جذاب یہ حق کسی کو بھی دینے کو تیار نہیں کہ ان ابتدائی خیالات پر نظرثانی کی جائے تقلید پھر کس کا نام ہے۔
    ڈاکٹر برہان فاروقی کیمطابق اقبال نے اس ترک اجتہاد کہ خلافت منتخب اسمبلی کو سونپی جا سکتی ہے کو تسلیم کرنے میں غلطی کی کیونکہ وہ محض یورپی نقالی تھی اور یہ اقبال کی جمہوریت کیلئے معذرت خواہی ہے۔ فاروقی صاحب کے نزدیک اسلامی حکومت اخوت پر استوار ہے نہ کہ مغربی جمہوریت، سہیل عمر کے خیال میں اقبال کا پارلیمنٹ کیلئے حق اجتہاد مبہم رہ گیا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے نزدیک فاروقی اور سہیل عمر نہ صرف روایتی انداز فکر کے حامی ہیں بلکہ ان کا تصور ریاست تخیلی ہے افسوس کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ارشادات کی بنیاد کیلئے کوئی دلیل پیش نہیں کی اور الزام پر اکتفا کیا ہے جبکہ اسی قسم کے الزامات کی زد میں وہ خود بھی رہتے ہیں البتہ فارابی کی المدینۃ الفاضلہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں المدینۃ الجمعیہ (جمہوریت) کو مثالی ریاست کے قریب قرار دیا ہے۔
    اسی طرح شاہ ولی اللہ کے ریاست کے وجود کے تین طریقوں انتخاب، نامزدگی اور غصب کو پھیلا کر ڈاکٹر جاوید اقبال انتخابی ادارہ اور استصواب تک توسیع دیتے ہیں جو کہ اجمال کی تفصیل ہے لیکن یہ تو ریاست کی ظاہری صورت ہے جبکہ اپنی حقیقت میں تو اسلامی ریاست کلیتاً نہ صورت میں جمہوریت کے تابع ہے نہ روح میں اور غالباً اسی لئے ڈاکٹر صاحب کو یہ تخیل رومانی سا لگا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے بقول (خطبات اقبال ص 202) اقبال نے شاہ ولی اللہ کا نام تو لیا مگر سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل کی وہابی عسکری تحریک یا علماء کے خلافت کے سلسلہ میں اجتہادات کا ذکر نہیں کیا۔
    دونوں تحریکوں سے مسلمانوں کی شناخت تو مستحکم ہوئی مگر میدان عمل میں ناکامی پر شدید نقصان کا اندازہ نہیں کیا گیا کیونکہ جذبہ موجود اور حکمت عملی مفقود تھی۔ ڈاکٹرجاوید اقبال نے خامیوں کو گنوایا نہیں جب کہ ناکامی ناکردہ گناہوں کا اضافہ کرتی ہے اور کامیابی فاش غلطیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
    ویسے مجتہد غلطی بھی کر سکتا ہے البتہ تحریک خلافت کے دوران انگریزی اداروں سے قطع تعلق پر اقبال نے علماء اسلامی کے اجماعی فیصلہ کی ضرورت پر زور دیا تھا اور اس امر کو ڈاکٹر جاوید اقبال زندہ رود میں خود ریکارڈ کر چکے ہیں۔
    اقبال تو اس وقت علماء کو دنیوی معاملات میں بھی حکم مانتے تھے جب کہ جاوید دینی میں بھی نہیں مانتے۔ بقول جاوید اقبال علماء وقت کے کبھی جہاد اور کبھی ہجرت کے حق میں قدامت پسندانہ اجتہادات کے زیر اثر وہابی تحریک اور بعد ازاں تحریک خلافت کی ناکامی سے مسلمانوں پر مایوسی طاری تھی جب کہ دوسری طرف سر سید تقلید کو زہرقاتل قرار دے رہے تھے لیکن ڈاکٹر جاوید اقبال واضح نہیں کر سکے کہ تضاد کہاں ہے جبکہ دونوں تحریکیں تقلید سے آزاد لوگ چلا رہے تھے خاص طور پر خلافت جس کے سربراہ علی گڑھ کے فاضل مسٹر محمد علی تھے جو بعد میں مسلم لیگ میں قائداعظم سے سینئر معتبر ساتھی تھے۔ علامہ اقبال نے جس طرح قائداعظم کی قیادت کی طرف رہنمائی کی اسی طرح کی رہنمائی محمد علی جوہر نے بھی کی تھی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کو چاہئے کہ تحریکوں کو محض کامیابی سے ناپنے کی کوشش نہ فرمائیں۔ خلافت کی ناکامی پر خود اقبال نے کس کو مورد الزام ٹھہرایا ہے…؎
    چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
    سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
    بہرحال نظری بحثیں ہو چکیں اب نفاذ اسلام کیلئے عملی اجتہاد ہونا چاہئے جو کہ پوری پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے نہ علما اس سے بچ سکتے ہیں نہ عوام ! ​
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں