میں مسلمان کیسے ہوئی؟ایک تھائی خاتون کی قبول اسلام کی کہانی

m aslam oad نے 'نو مسلم اور تائب شخصيات' میں ‏ستمبر 11, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    قرآنی آیات کی معجزانہ تاثیر دیکھئے کہ آسٹریلیا کی ایک خاتون سورہ یٰسین کی آیات کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ ام امینہ بدریہ کی ایمان افروز داستان قبول اسلام انہی کی زبانی سنیے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا۔ وہ پیدائشی لحاظ سے مسلمان تھے لیکن عملی طور پر ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جبکہ میری والدہ بدھ مت تھیں اور والد صاحب سے شادی کے وقت مسلمان ہوئی تھیں۔ وہ دونوں بعدمیں آسٹریلیا آ کر آباد ہو گئے تھے۔ میرا پیدائشی نام ( ٹے نی تھیا ) Tanidthea تھا۔ میں نے یونیورسٹی آف نیوانگلینڈ، آرمیڈیل سے ایم اے اکنامکس کیا اور بزنس مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورسز کے مضامین پڑھے۔ پھر میں بطور ٹیوٹر پڑھانے لگی۔ اسی اثناءمیں شادی ہو گئی شادی اسلامی قانون کے مطابق ہوئی۔ میرے شوہر کمپیوٹر گرافکس ڈیزائنر تھے۔ وہ شادی کے وقت مسلمان ہوئے تھے لیکن نام کے مسلمان تھے۔ اسلام پر ہرگز عامل نہیں تھے۔
    میرے باپ بھی نام کے مسلمان تھے اور انہیں دین کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا نہ انہوں نے ہمیں کچھ بتایا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم بھی دین سے مکمل طور پر عاری تھے۔ میں کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں ملحد تھی۔ میں جب اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزار چکی تو ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ دنیا سے میرا دل اچاٹ ہو گیا اور میں پریشانی کی حالت میں تھی۔ اس پر میں نے سوچا کہ مجھے نماز پڑھنی چاہیے جیسا کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد صاحب کو کہیں پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن جب میں نے اپنے شوہر کو اس کے بارے میں بتایا تو اس نے اس بات کا بہت برا مانا۔ اس نے کہا ( نعوذ باللہ ) کوئی اللہ واللہ نہیں ہے اور نہ نماز وغیرہ کچھ ہے۔ دریں اثنا میرے والدین وفات پا گئے تھے۔
    تقریبا سات سال پہلے آسٹریلیا کی نیوساؤتھ ویلز سٹیٹ کے شہر آرمیڈیل کی ایک چھوٹی سی مسجد میں گئی جو کہ غیر ملکی مسلم طلبہ کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔ وہاں سے میں نے انگلش ترجمے والا قرآن مجید پڑھنے کیلئے مستعار لیا۔ یہ قرآن مجید خادم الحرمین شریفین الملک فہد بن عبدالعزیز آل سعود ( سعودی عرب ) کی جانب سے شائع شدہ تھا۔ میں اسے گھر لے جا کر محض اس کی ورق گردانی ( Flip ) کر رہی تھی کہ سورہ یاسین کی ان آیات کا ترجمہ میرے سامنے آیا جن میں چاند اور سورج کی حرکت کے بارے میں سائنسی انداز میں بیان کیا گیا ہے: ” اور سورج اپنی معین راہ پر گردش کر رہا ہے یہ اللہ عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ ہر پھر کی کھجور کی سوکھی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ “ یہ ترجمہ پڑھنا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ میں نے سوچا کہ نبی علیہ السلام امی تھے۔ یعنی پڑھے لکھے نہ تھے لیکن اتنے بہترین سائنسی انداز میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے تو ضرور ان پر اللہ کی طرف سے وحی ہو سکتی ہے۔
    بس اس لمحے میرے دل کی دنیا بدل گئی اور میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم الشان کا مطالعہ اور اس میں غور و فکر شروع کر دیا۔ میں جب بھی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتی ہوں پہلے اپنے سابقہ عمل پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتی ہوں اور پھر ان پر پورا پورا عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں قبول اسلام کے بعد مسجد میں جاتی رہی۔ شروع شروع میں، میں پردہ نہیں کرتی تھی پھر جب نمازیوں نے مجھے بتایا کہ یہ گناہ ہے تو اسی دن سے میں نے اپنے گھر جا کر اسکارف لیا اور پہننا شروع کر دیا، نیز اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنے لگی۔ میں نے خاصی کوشش کی کہ میں اپنے شوہر کو اسلام کے بارے میں قائل کر سکوں لیکن وہ نہ مانا، حالانکہ میری اس سے بیٹی بھی پیدا ہو چکی تھی۔ آخر میں نے اس سے کہا کہ یا اسلام قبول کر لو یا مجھے چھوڑ دو۔
    تب اس نے مجھے طلاق دے دی اور مجھ سے اور میری بیٹی سے دستبردار ہو گیا۔ دریں اثنا میں انٹرنیٹ پر اپنے ایک پاکستانی بھائی عبدالصمد سے چیٹنگ کرنے لگی اور ان سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی جو وہ مجھے وقتاً فوقتاً بہم پہنچاتے رہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ میں آسٹریلیا سے اسلام کیلئے ہجرت کر لوں۔ میں نے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دی۔ اسلام لانے سے پہلے میری بیٹی کا نام ( توان وارٹ ) تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے امینہ رکھ دیا۔ میں نے اپنا نام غزوہ بدر کی نسبت سے بدریہ رکھا تھا بیٹی کے حوالے سے میں ام امینہ کہلاتی ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کو آسٹریلیا کے کسی سکول میں بھجوانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہاں تعلیم میں موسیقی اور ان کے پرچم کے آغے ادب و احترام کیلئے مختلف افعال کی ادائیگی شامل تھی جو کہ مجھے پسند نہیں تھی، لہٰذا میں نے اپنی بیٹی کو اپنے گھر ہی میں اسلام کی ابتدائی تعلیم و تربیت دی ہے۔
    آسٹریلیا میں اکثریت عیسائی مذہب پر یقین رکھتی ہے لیکن الحمد للہ اب لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور خاص طور پر خواتین بڑی تیزی سے اسلام کی طرف آ رہی ہیں۔ چند خواتین نے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں۔ اکثر خواتین اپنے تحفظ اور احترام کیلئے اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہے جو کہ صرف اسلام عطا کرتا ہے۔ آسٹریلیا کے مسلمانوں میں اکثریت عمل سے دور ہے لیکن وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو قرآن اور سنت پر مکمل عمل کر رہے ہیں لیکن مجھے بعض اوقات ایسے معلم علماءکے رویوں سے بہت دکھ ہوتا ہے جو اللہ کی خاطر حق بات نہیں کہتے بلکہ ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے آسٹریلیا کے اہل اقتدار کو خوش کیا جائے۔ مثلا پچھلے دنوں ایک عالم دین سے انٹرویو کیا گیا تو اس نے یہ کہا کہ عراق میں جو مسلمان مر رہے ہیں وہ شہید نہیں ہیں۔
    آج ہم جہاد کے نام سے بھی ڈر رہے ہیں جبکہ عراق کے لوگ کوئی جارحانہ لڑائی ( Offensive )نہیں لڑ رہے بلکہ اپنی بقا کی جگہ ( De fensive ) لڑ رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ ان پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ میں ہر چیز کیلئے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کرتی رہتی ہوں کہ اے اللہ تو میری رہنمائی فرما اگر انسان اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ سیدھے راستے کی درخواست کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اپنے بندے کی رہنمائی فرماتا ہے۔ لہٰذا میں ہر کام میں صراط مستقیم کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری رہنمائی فرماتا ہے۔ میں پاکستانی مسلمان عورتوں سے بھی کہوں گی کہ وہ اپنے دین کی طرف متوجہ ہوں۔
    دنیا کی کچھ حیثیت نہیں ہے یہ چند روزہ زندگی ہے اسے گزر ہی جانا ہے، اگر یہ حقیقت سمجھ لی جائے تو مال، جائیداد، پوت، ان سب کی حقیقت انسان پر آشکارا ہو جاتی ہے۔ اس لئے ان کو چاہیے کہ صحیح معنوں میں اسلام کو بطور دین قبول کریں اور رسم و رواج سے ہٹ کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن میں نے یہاں دیکھا ہے کہ اکثر عورتیں شرعی پردہ نہیں کرتیں۔ صرف رواجی پردہ کرتی ہیں، جب گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے تو خوب پردہ کر لیتی ہیں لیکن گھروں میں نوکروں، دیوروں اور رشتے داروں کے سامنے پردے کا حق ادا نہیں کرتیں جس کا سارا گناہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہروں کو بھی ہو گا۔ میں ان سے یہی کہوں گی کہ وہ اپنے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ان شاءاللہ ان کا یہ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کیلئے اجر کا ذریعہ ہو گا۔

    میں مسلمان کیسے ہوئی؟ایک تھائی خاتون کی قبول اسلام کی کہانی | ایرانی اہل سنت کی آفیشل ویب سائٹ
     
  2. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    [font="alvi nastaleeq v1.0.0"]جزاک اللہ علی بھائی بہت اچھی تحریر لگائی ہے۔
    ہمارے ہاں بھی کچھ اسی طرح ہے۔ ہم لوگ پیدائشی مسلمان ہیں۔قرآن و سنت کو سمجھنے کا جس طرح حق ہے اس طرح ہم یہ حق ادا نہیں کر رہے۔
    کچھ بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ مسلمان ہیں ہم نے کلمہ پڑھا ہوا ہے قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بخشش کروا دیں گے۔
    کچھ بھائیوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنےماں باپ کو جس طرح دن پرعمل کرتے دیکھا اسی طرح اس پر عمل کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ طریقہ عبادت ہمارے پیارےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے بالکل الٹ ہے۔جب بات کریں تو کہتے ہیں۔ کہ کیا باپ داد غلط دین پر تھے اور تم صحیح ہو۔
    کچھ بھائی جو دین کا اچھا خاصا علم رکھتے ہیں۔ اوروعظ بھی کرتے ہیں اور گاہے بگاہے تربیتی پروگرام بھی رکھتے ہیں۔ لیکن عمل سے کوسوں دور ہیں۔
    اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور صرف اور صرف اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر ہی چلنے کی توفیق دے۔
    امین
    [/FONT]
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں