ادب اور عام آدمی

باذوق نے 'نقد و نظر' میں ‏ستمبر 10, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    ادب اور عام آدمی

    یہ کوئی ضروری امر نہیں ہے کہ ہر عام آدمی ادب میں دلچسپی لے !
    ادب سے وابستگی یا یوں کہئے کہ ادب دوستی کی صفت کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے ۔
    ہاں ، ادب سے لطف اندوز ہونے کے لئے ایک شرط ہے ۔
    اور وہ ہے : '' بات کا سمجھ میں آ جانا ۔ ''
    شاید اسی بنا پر اکثر لوگ کہتے ہیں کہ : ' زبان کو عام فہم ہونا چاہئے ۔'
    لیکن معاملہ یہ نہیں ہے ۔ علامتی اور اشاراتی زبان بھی سمجھ میں آتی ہے جب کہ ذہنی سطح اُس معیار کی ہو ۔ اور یہ '' معیار '' ضروری نہیں کہ بہت زیادہ پڑھنے لکھنے سے آجائے ۔ یہ اصل میں ماحول کی تربیت اور کچھ کچھ خداداد صلاحیت پر مبنی ہوتا ہے ۔ تجزیہ کرنے بیٹھیں تو شاید '' نسلیات'' یعنی Genetics کی اصطلاحوں میں بات کرنا پڑے گی ، جس کا یہاں موقع نہیں ہے ۔
    پھر بھی ایک باذوق قاری یا ادب ذوق سامع کچھ عرصہ کے مطالعے کے بعد اِس دشواری پر قابو پا لیتا ہے ۔

    علامتی ادب کی ایک خوبی یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے انداز میں اس کا مطلب نکالے اور اس کی کئی تشریحیں کی جا سکیں ۔

    میرا ، یعنی باذوق کا یہ کہنا ہے اور یہ میرا استدلال بھی ہے کہ آج کے جدید الکٹرانک دور کا انسان جب اتنا باشعور اور حساس ہو چکا ہے کہ وہ جنسی اشاروں کی زبان سمجھ سکتا ہے ، نت نئی ایجادات کی تیکنک کو قبول کر سکتا ہے ، لطیفوں میں جو علامتیں اور طنز و مزاح کی کاٹ ہوتی ہے (اپنی اپنی سطح پر سہی) ، اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ، تو پھر ۔۔۔ جدید ادب کی مشکل پسندی یا علامتی انداز کو کیوں نہیں سمجھ سکتا ؟
    دراصل یہ چیزیں اُس کے سر سے '' سوپر فاسٹ ایکسپریس ٹرین '' کی طرح اس لئے گذر جاتی ہیں کہ وہ اِن علامتوں کے مبداء سے ناواقف ہے ۔ جب قاری / سامع پر اِن علامتوں کا انکشاف ہوتا جائے گا تو گرہیں بھی کھلتی جائیں گی ۔ مگر یہ بہت بعد کی منزل ہے۔ ابتداء میں تو اُسے عام فہم ادب کی منزل سے گزرنا پڑے گا ۔
    اِس میں شک نہیں کہ یہ عوامی معیار کی چیز نہیں ، خواص کے معیار کی چیز ہے ۔

    ادب کا ہی کیا رونا رویا جائے ؟ فنونِ لطیفہ کی جتنی شاخیں ہیں ، اُن سبھوں میں یہ کیفیت موجود ہے ۔ مثال کے طور پر ۔۔۔
    رقص ، مصوری ، عکاسی ، مجسمہ سازی ، موسیقی ، فنِ تعمیر وغیرہ ۔

    خصوصاً اِن فنون میں روایات جب Classic کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں تو عوام کے معیار سے اونچا ہو کر خواص کا معیار بن جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر :
    مغل آرٹ ، چغتائی آرٹ ، تجریدی آرٹ ، ایلورہ / اجنتا کی مجسمہ سازی ، دادرا ، ٹھمری ، خیال ، بھارت ناٹیم ، کتھا کلی ۔۔۔
    کسی زمانے میں عوام کا ایک بڑا طبقہ اِن فنون کا دلدادہ ہوا کرتا تھا لیکن آج تو یہ صرف خواص کی پسند بن کر رہ گئے ہیں ۔
     
  2. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    بہت خوب
     
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    بہت خوب
     
  4. راضی

    راضی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2007
    پیغامات:
    10,524
    اچھی تحریر شئیر کی ہے بھائی آپنے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں