کمپیوٹر ریپیئرنگ کا کام کر سکتے ہیں؟سوال رفیق صاحب سے

03arslan نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏ستمبر 17, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. 03arslan

    03arslan -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2009
    پیغامات:
    418
    [font="alvi nastaleeq v1.0.0"]اسلام علیکم
    بھائی کیا کمپیوٹر ریپیئرنگ کا کام شرعی طور پر جائز ھے؟
    [/font]
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    کمپیوٹر ریپیئرنگ میں کوئی مضائقہ نہیں ہے
    جسطرح ٹیپ ریپیئرنگ کا معاملہ ہے ویسا ہی کمپیوٹر ریپیئرنگ کا ہے
    اور ان دنوں کا معاملہ " انسان رپیئرنگ " والا ہے لیکن کچھ قدریں مختلف ہیں
    ایک طبیب کا کام ہے کہ وہ ہر قسم کے مریض کا علاج کرے گوکہ علاج کے مستحق اہل توحید وایمان ہیں اور مشرک وکافر کا علاج ازارہ انسانی ہمدردی ہے
    اور
    ٹیپ یا کمپیوٹر خریدنا یا استعمال کرنا یا اسکو صحیح کرنا منع نہیں ہے
    ہاں
    اسکا استعمال اچھا اور برا دونوں طرح کا ہوسکتا ہے جسطرح ایک انسان اچھے یا برے دونوں طرح کے افعال سر انجام دے سکتا ہے
    لیکن انسانوں سے ان مشینوں میں یہ قدر مختلف ہے کہ انسانی جان بچانا کار ثواب ہے خواہ کیسی بھی ہو اور اسکے لیے ہدایت کی دعا اور امید کی جاسکتی ہے
    لیکن یہ مشینری اپنے استعمال کرنے والے کے ہاتھوں میں ہے
    اور اللہ تعالى کا حکم ہے کہ :
    تقوى اور نیکی کے کاموں میں ایکدوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی والے کاموں پر ایکدوسرے سے تعاون نہ کرو
    لہذا
    کمپیوٹر وغیرہ اگر اللہ کی نافرمانی والے کاموں میں استعمال نہ ہوں تو انکی رپیئرنگ جائز و درست ہے
    اور
    اگر اسکا استعمال کرنے والے اسکو معاصی میں استعمال کرتا ہے یا شر خیر پر غالب ہے تو اسکی رپیئرنگ سے اجتناب ہی بہتر ہے
     
  3. 03arslan

    03arslan -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2009
    پیغامات:
    418
    جزاک اللہ
    رفیق صاحب
    اب ایک بندے کی ریپئیرنگ کی شاپ ہے
    اس کی شاپ پر دونوں طرح کے بندے آتے ہیں، اب اس کو کیسے پتا چلے گا کہ اس کمپیوٹر کا استعمال صحیح ھوتا ہے یا غلط؟
    دوسری بات:
    دو بھائی ہیں دونوں کا 1 کمپیوتر ھے۔ 1 بھائی کمپیوترکا جایز استعمال کرتا ھے اور دوسرا ناجایز۔
    اب یہی اگر خراب ھو جائے
    تو پھر ایسے کمپیوتر کو ریپئر کرنے کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں ؟
    یعنی جو ایسے کمپیوتر کو ریپئر کرے گا۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فرمایئں۔
     
     
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    ارسلان بھائی میں ذرا آپ کے سوال سے ہٹ کر اپنا تجربہ بتاتا ہوں۔
    آج سے تقریبا 7 سال پہلے میں ایک دکان میں کام کرتا تھا ہارڈوئیر کا۔ میرے پاس ہر قسم کے لوگ آتے تھے۔ آپ کو پتہ ہے کہ گانے بجانے اور فلمیں کس قسم کے لوگوں کا کام ہے۔ میں جب بھی ان کے کمپیوٹر میں کوئی ایسی چیز دیکھتا تھا تو ہر ممکن ڈیلیٹ کردیتا یا پھر چالاکی کرکے پہلے ہی کسٹمر کو کہہ دیتا کہ وائرس وغیرہ پھر بھی باقی رہے گا (اور یہ حقیقت بھی ہے کیوں کہ یہاں پر لوگ اینٹی وائرس کا استعمال کم کرتے ہیں سعودیوں کی بات ہے) پھر وہ خوشی سے اپنی فلمیں اور گانے اڑانے کا کہہ دیتا۔
    ایک دفعہ مجھے بھی یہی شک گزرا اور کمپیوٹر کے کام سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا سوچا۔ ہارڈوئیر کا کام تو صرف چار مہینے کیلئے دکان میں کیا تھا لیکن پھر ایک سعودی دینی شخص کے مشورے نے مجھے مزید مطمئن کیا۔ وہ خود بھی کمپیوٹر کے دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اگر تم کمپیوٹر کے کام چھوڑ دو گے تو تمہاری جگہ کوئی اور کرے گا جو برائی پھیلائے گا۔
    حقیقت میں ہم لوگ کمپیوٹر پر اچھے کام بھی بہت کرسکتےہیں اور یہ بھی ایک میڈیا کا ٹول ہے۔
    آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ آپ شیخ رفیق طاہر سے کس طرح آسانی سے سوالات کرتے ہیں اور فائدہ سب کو ہورہا ہے۔
    اس کے علاوہ کوئی دینی ادارہ ایسانہیں جہاں کمپیوٹر کا استعمال نہ ہو۔
    بھائی اس کے ذریعہ آپ دینی اداروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
    خیر میں زیادہ باتیں مزید نہیں کروں گا۔
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. 03arslan

    03arslan -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2009
    پیغامات:
    418
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    1- کیسے علم ہوگا کا جواب شاہ صاحب نے بخوبی دے دیا ہے مزید وضاحت کی حاجت نہیں
    2- دیکھا جائے گا کہ خیر غالب ہے یا شر
    اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا
    * یاد رہے کہ میں بھی کمپیوٹر رپیئرنگ کا کام کرتا ہوں اور میرے پاس صرف اور صرف طلباء دین و علماء کرام ہی اس مقصد کے لیے آتے ہیں کیونکہ سب کو علم ہے کہ انکے علاوہ کسی اور کا سسٹم یہاں سے ٹھیک ہو کر نہیں جائے گا۔
     
  7. 03arslan

    03arslan -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2009
    پیغامات:
    418
    [font="alvi nastaleeq v1.0.0"]جزاک اللہ رفیق صاحب
    ماشااللہ اعجاز صاحب نے اچھا جواب دیا ھے۔
    مزید میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک ایسا شخص میرے پاس آیا ہے جس کے کمپیوٹر میں گانے اور غلط فلمیں ہیں۔
    اور میں اس کو کہتا ہوں کہ بھائی اس میں وائرس ہے ”گانے اور فلمیں تو ایمانی وائرس ہیں“
    وائرس کا کہہ کر میں غلط چیزیں تو ڈیلیٹ کر دوں گا اور کمپیوٹر پاک صاف ہو جائے گا۔
    اب وہ شخص گھر جا کر دوبارہ گانے اور فلمیں اپنے کمپیوٹر میں بھر سکتا ہے۔
    اب اس نے جو دوبارہ غلط چیزیں بھری ھیں
    کیا اس کا وبال مجھ پر آے گا؟؟؟؟ یا میں گانے اور فلمیں ڈیلیٹ کرنے کے بعد بری ہو چکا ہوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔۔۔۔۔۔
    [/font]
     
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    بھائی جتنا ہم استطاعت رکھتے ہیں ہمیں ڈرنا چاھیے۔
    اسطرح کے مسائل صرف کمپیوٹر تک محدود نہیں۔
    مثال کے طور پر اسلحہ کا کاروبار دیکھا جائے ۔ اسلحہ حفاظت کیلئے استعمال ہوتا ہے اور کافروں کے خلاف جہاد کیلئے لیکن اگر یہی اسلحہ سے مسلمان کی طرف صرف اشارہ کیا جائے تو پھر یہ گناہ ہے
    ہم لوگوں کے بس میں جو جتنا ممکن ہو ہم کریں باقی جو بس سے باہر ہو اللہ سے ڈرنا چاھیے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں