قرآن، آئينِ پاکستان اور قائد اعظم

عائشہ نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏ستمبر 27, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    قرآن، آئينِ پاکستان اور قائد اعظم​

    محمد عطاء اللہ صديقي
    بحوالہ: www.kitabosunnat.com
    حکمت و دانش کا تقاضا ہے کہ انسان جس موضوع کے بارے ميں زيادہ معلومات نہ رکھتا ہو، تو اُس کے متعلق کوئي بات کرتے ہوئے يا حتمي رائے کے اظہار سے گريز کرنا چاہيے، ورنہ اُس کي کم علمي اور جہالت اُس کے ليے رسوائي اور خجالت کا باعث بن سکتي ہے? مگر کچھ لوگ دانش مندي کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائي غيرمحتاط اور بے باکانہ انداز ميں ايسے بيانات بھي داغ ديتے ہيں جس پر انھيں تنقيد اور شرمندگي کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ سننے والوں کے ذہن ميں ايک پيکرِجہالت کا تاثر چھوڑتے ہيں? ??/مئي کو فوزيہ وہاب نے ميڈيا کے سامنے جو بيان ديا اُس سے کچھ اس قسم کا تاثر ہي سامنے آتا ہے? يہ نہايت قابلِ اعتراض تھا جسے بجا طور پر تنقيد کا نشانہ بنايا گيا اور عين ممکن ہے کہ خود فوزيہ وہاب کے سياسي کيرئير پر اس نامعقول بيان کے ديرپا اثرات مرتب ہوں?
    فوزيہ وہاب نے صحافيوں کے ايک سوال کا جواب ديتے ہوئے کہا:
    ”حضرت عمر رضي اللہ عنہ کے دور ميں آئين نہيں تھا، صرف قرآنِ مجيد تھا، آج کي عدالتيں صدرِ مملکت کا احتساب نہيں کرسکتيں کيونکہ انھيں آئيني تحفظ حاصل ہے، آئين نہ ہونے کي وجہ سے حضرت عمر رضي اللہ عنہ کو عدالت ميں طلب کيا گيا تھا? صدر عام شہري نہيں ہوتا? اگر صدرِ مملکت کو تحفظ نہيں ديا جائے گا تو وہ کام نہيں کرسکيں گے?“ (جيو ٹي وي ، اے- آر- وائي نيوز)
    اس بيان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوزيہ وہاب کو اسلام ميں حاکميت کے تصور اور اس تصور کے آئينِ پاکستان کي اساس سے تعلق کے بارے شعور اور فہم نہيں ہے ورنہ وہ يہ بيان کبھي نہ ديتي? معلوم ہوتا ہے کہ اسلامي تاريخ ميں خليفہ يا اميرالمو?منين کي قرآن و سنت کے بارے ميں ثانوي حيثيت کا بھي انھيں اندازہ نہيں ہے? ہميں گمانِ غالب ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے اس موضوع پر واضح بيانات پر بھي ان کي نگاہ نہيں رہي ورنہ شايد وہ يہ بيان دينے سے گريز کرتيں? يہ ہمارا قومي الميہ ہے کہ ہمارے سياستدانوں، جديد تعليم يافتہ افراد کي کثير تعداد ديگر موضوعات کے متعلق تو بہت جانتي ہے مگر اس اہم موضوع کے متعلق اُنھوں نے جاننے کي شايد کوشش کبھي نہيں کي ۔

    ہماري خوش قسمتي ہے کہ اس موضوع پر مصورِ پاکستان، حکيم الامت علامہ محمد اقبال اور بانيِ پاکستان قائداعظم کے ارشادات ريکارڈ پر ہيں جن سے ہم راہنمائي حاصل کرسکتے ہيں? قائداعظم کے درجنوں بيانات تاريخ کے صفحات پر محفوظ ہيں? ????ء کا واقعہ ہے قائداعظم ال?ہ آباد ميں مسلم ليگ کے اجلاس کے سلسلے ميں نواب سر محمديوسف کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ وکلا ء کا ايک وفد ملاقات کے ليے آيا? وہاں يہ مکالمہ ہوا?
    ارکانِ وفد: پاکستان کا دستور کيسا ہوگا؟ کيا پاکستان کا دستور آپ بنائيں گے؟
    قائداعظم: پاکستان کا دستور بنانے والا مَيں کون ہوں؟ پاکستان کا دستور تو تيرہ سو سال پہلے ہي بن گيا تھا۔

    ??/جولائي ????ء کي بات ہے? کھانے کي ميز پر راولپنڈي مسلم ليگ صدر محمد جان بيرسٹر نے پوچھا: سر! آپ جو پاکستان بنانا چاہتے ہيں اس کا دستور کيا ہوگا؟
    قائداعظم: يہ تو اس وقت کي دستور ساز اسمبلي کا کام ہے? مَيں کيا بتا سکتا ہوں؟
    محمد جان: اگر ہم فرض کرليں کہ آپ کي موجودگي ميں پاکستان بنتا ہے اور آپ اس ملک کے سربراہ ہيں تو پھر دستور کي حيثيت کيا ہوگي؟
    قائداعظم: اس کے متعلق پريشان ہونے کي ضرورت نہيں، آپ کے پاس تيرہ سوسال سے دستور موجود ہے?“

    ايک اور موقعہ پر ارشاد فرمايا:
    ”مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کيسا ہوگا؟ پاکستان کا طرزِ حکومت متعين کرنے والا مَيں کون ہوں؟ يہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے اور ميرے خيال ميں مسلمانوں کا طرزِ حکومت کا آج سے ساڑھے تيرہ سوسال قبل قرآنِ حکيم نے فيصلہ کر ديا تھا?“
    ????ء ميں بمبئي ميں عيدالفطر کے موقع پر آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمايا:
    ”مسلمانو! ہمارا پروگرام قرآنِ پاک ميں موجود ہے? ہم مسلمانوں کو لازم ہے کہ قرآنِ پاک غور سے پڑھيں? قرآني پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم ليگ مسلمانوں کے سامنے کوئي دوسرا پروگرام پيش نہيں کرسکتي?“
    قائداعظم نے فرمايا:
    ”مَيں نے قرآنِ مجيد اور قوانينِ اسلاميہ کے مطالعے کي اپنے طور پر کوشش کي ہے? اس عظيم الشان کتاب کي تعليمات ميں انساني زندگي کے ہر باب کے متعلق ہدايات موجود ہيں? زندگي کا رُوحاني پہلو ہو يا معاشرتي، سياسي پہلو ہو يا معاشي، غرض يہ کہ کوئي شعبہ ايسا نہيں جو قرآني تعليمات کے احاطہ سے باہر ہو? قرآنِ کريم کي اُصولي ہدايت اور طريقِ کار نہ صرف مسلمانوں کے ليے بہترين ہے بلکہ اسلامي حکومت، غيرمسلموں کے ليے حسنِ سلوک اور آئيني حقوق کا جو حصہ ہے، اس سے بہتر تصور ناممکن ہے۔“
    مسلمانانِ پشاور کے عظيم اجتماع ميں ??/نومبر ????ء کو قائداعظم نے جو بيان ديا وہ بے حد جامع اور ہمارے ليے راہنمائي کے اُصول فراہم کرتا ہے? آپ نے فرمايا:
    ”اسلامي حکومت کا يہ امتياز پيشِ نظر رہنا چاہيے کہ اس ميں اطاعت اور فرمائشي کا مرجع اللہ تعالي کي ذات ہے جس کے ليے تعميل کا مرکز ”قرآنِ مجيد“ کے احکام اور اُصول ہيں? اسلام ميں نہ اصلاً کسي بادشاہ کي اطاعت ہے نہ کسي پارليمان کي، نہ کسي اور شخص يا ادارے کي، قرآنِ کريم کے احکام ہي سياست و معاشرت ميں ہماري آزادي اور پابندي کي حدود متعين کرتے ہيں? ”اسلامي حکومت“ دوسرے الفاظ ميں ”قرآني اُصول اور احکام کي حکمراني ہے?“
    قائداعظم کے يہ اور ديگر اس طرح کے بيانات ”حياتِ قائداعظم“، ”قائداعظم کا مذہب و عقيدہ“، ”قائداعظم کي تقارير و بيانات“ جيسي مستند کتابوں ميں موجود ہيں? يہ بيانات اس قدر واضح اور مترشح ہيں کہ ان کي مزيد وضاحت کي ضرورت باقي نہيں رہتي? قائداعظم نے اپنے بيانات ميں تواتر سے قرآنِ مجيد اور اسلام کو تيرہ سوسال پہلے کا آئين قرار ديتے اور اِسے ديگر اقوام کے سامنے نہايت فخر سے بيان کرتے تھے مگر افسوس آج کس قدر مغالطہ آميز اور گمراہ کن بيانات ديے جارہے ہيں? ايسے بيانات صرف وہ شخص دے سکتا ہے جس کي بدنصيبي نے اُسے اسلام، اسلامي تاريخ، اسلام کے سياسي فلسفہ اور نظامِ حيات کے مطالعے سے محروم رکھا ہو? فوزيہ وہاب کو قائداعظم کے مندرجہ بالا بيانات کو غور سے پڑھنا چاہيے اور پھر فيصلہ کرنا چاہيے کہ اس کا بيان کس حد تک نامعقول ہے?
    حکيم الامت علامہ اقبال نے ????ء ميں خطبہ? ال?ہ آباد ميں مسلمانوں کے ليے الگ ملک کا تصور پيش کيا مگر يہ خيال کہ قرآن ملتِ اسلاميہ کا آئين ہے، بہت پہلے پيش کرچکے تھے? فوزيہ وہاب جيسي سوچ کے حامل افراد کو اگر زباني بتايا جائے تو شايد وہ يقين نہ کريں مگر يہ ايک ناقابلِ ترديد حقيقت ہے کہ علامہ اقبال کي شہرہ? آفاق فارسي شاعري کي کتاب ”رموزِ بے خودي“ جب ????ء ميں شائع ہوئي تو اقبال نے اپني اس طويل نظم کے ايک حصہ کا عنوان ”آئينِ محمديہ قرآن است“ رکھا، اس عنوان کے تحت ??اشعار درج ہيں? علامہ اقبال کے درج ذيل معروف اشعار بھي ان ميں شامل ہيں? ملاحظہ فرمائيے:
    ملّتي را رفت چون آئين ز دست
    مثل خاک اجزاي او از ہم شکست
    ہستيِ مسلم ز آئين است و بس
    باطن دينِ نبي اين است و بس
    آن کتاب زندہ قرآنِ حکيم
    حکمت او لايزال است و قديم
    نوع انسان را پيام آخرين
    حامل او رحمة للعالمين
    نسخہ? ي اسرارِ تکوينِ حي?ات
    بي ثبات از قوّتش گيرد ثبات
    گر تو ميخواہي مسلمان زيستن
    نيست ممکن جز بقرآن زيستن

    ان اشعار کا آسان ترجمہ و مفہوم کچھ يوں ہے: اقبال فرماتے ہيں:
    کہ جس قوم نے آئين ہاتھ سے جانے ديا، اس کے اجزا خاک کي صورت پريشان ہوگئے? مسلمانوں کي قوت کا دارومدار آئين پر ہے? ہمارے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے دين کا باطن بھي آئين ميں ہے? قرآن ايک زندہ و تابندہ کتاب ہے، اس کي حکمت لازوال اور اس کي دانش قديم ہے? يہ نوعِ انساني کے ليے آخري پيغام ہے? حضرت محمد صلي اللہ عليہ وسلم جو رحمت اللعالمين ہيں، اس کے حامل ہيں? اگر مسلمانوں کي طرح جينے کا ارماں رکھتے ہو تو جان لو کہ قرآن کے علاوہ کوئي ہادي نہيں مل سکتا?“

    علامہ محمد اقبال نے ملتِ اسلاميہ کے ليے قرآنِ مجيد کو آئين قرار ديا ہے? درحقيقت پوري اسلامي تاريخ ميں مسلمانوں کي سياسي فکر کا يہ بنيادي نکتہ رہا ہے اور اس متعلق کبھي شکوک و شبہات يا ذہني تحفظات وار نہيں کيے گئے، اسلامي تاريخ ميں جن برگزيدہ ہستيوں نے اسلام کي سياسي فکر پر قلم اُٹھايا ہے، ان ميں الماوردي، نظام الملک طوسي، امام غزالي، ابنِ تيميہ اور شاہ ولي اللہ دہلوي رحمہم اللہ تعالي? کے اسمائے گرامي قابلِ ذکر ہيں۔ ان سب مفکرينِ اسلام نے قرآنِ مجيد کو اسلام کي سياسي فکر و نظامِ رياست کا سرچشمہ قرار ديا ہے۔ علامہ محمد اقبال اور قائداعظم اپنے اسلاف کي اسي تابندہ فکر کے عَلم بردار تھے۔
    ??/اپريل کو دن کے تقريباً ??بجے ميڈيا نے فوزيہ وہاب کا بيان نشر کيا? علمائے دين، ماہرينِ قانون، سياستدانوں اور دانشوروں کي طرف سے فوري احتجاج بھي سامنے آيا? ميڈيا نے اس احمقانہ بيان کا اتنا مو?ثر تعاقب کيا کہ شام ہوتے ہي فوزيہ وہاب نے پسپائي اختيار کرنے اور معذرت پيش کرنے ميں ہي عافيت سمجھي? ہم سمجھتے ہيں کہ اس معاملے ميں اس نے قدرے عقل مندي سے کام ليا اور مزيد تنقيد سے وقتي طور پر نجات حاصل کرلي? فوزيہ وہاب نے وضاحت کي کہ وہ ايک راسخ العقيدہ مسلمان ہے اور اُس نے قرآنِ مجيد پر آئين کو کبھي فوقيت نہيں دي? اُس نے اپنے بيان ميں کہا کہ وہ حضرت عمررضي اللہ عنہ کا بے حد احترام کرتي ہے? البتہ اُس نے اپنے وضاحتي بيان ميں يہ بھي کہا کہ اُس کا بيان سياق وسباق سے ہٹ کر پيش کيا گيا? نجانے ”سياق و سباق“ سے موصوفہ کيا مراد ليتي ہيں? ہماري رائے ميں اُس نے جو بات کي تھي اُس کو ميڈيا نے بالکل درست سياق و سباق ميں پيش کيا? درحقيقت پريس کانفرنس کے دوران ايک صحافي نے صدرِ مملکت کے خلاف عدالتي کاروائي کے متعلق استثناد کو موضوع بناتے ہوئے سوال کيا کہ اگر حضرت عمررضي اللہ عنہ کو عدالت ميں بلايا جاسکتا ہے تو صدرِ پاکستان کو کيوں نہيں? اُس صحافي نے اپنے سوال کي تائيد ميں بيرسٹر اعتزاز احسن کے دلائل کا حوالہ بھي ديا جو اُنھوں نے سپريم کورٹ کے سامنے ديے تھے? بيرسٹر صاحب نے صدر پرويز مشرف کے خلاف دلائل ديتے ہوئے حضرت عمررضي اللہ عنہ کي مثال دي تھي? بہرحال سياق و سباق واضح البتہ اس پر مزيد بات کي ضرورت شايد نہيں ہے?
    يہ موضوع شايد آنے والے دنوں ميں بھي زيرِ بحث رہے? اس ليے کچھ مزيد اُصولي باتيں اور حقائق اگر پيش کرديے جائيں تو مناسب ہوگا?
    يہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ آئينِ پاکستان کے آرٹيکل2 کي رُو سے اسلام، اسلامي جمہوريہ پاکستان کا رياستي مذہب ہے? آرٹيکل 227 کے مطابق پاکستان ميں کوئي ايسا قانون نہيں بنايا جاسکتا جو قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتا ہو? يہ آرٹيکل يہ بھي کہتا ہے کہ اگر موجودہ قوانين قرآن و سنت سے مطابقت نہيں رکھتے تو انھيں قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور مطابقت پيدا کي جائے گي? آرٹيکل41 کے مطابق صدر کے ليے مسلمان ہونے کي شرط ہے، پھر قراردادِ مقاصد جسے اب آئين کے قابلِ تنفيذ آرٹيکل (2-اے) کا درجہ حاصل ہے، بے حد وضاحت سے اللہ تعالي? کي حاکميت کا اعلان کرتي ہے، يہ سب باتيں معروف ہيں، البتہ آئين ميں صدرِ پاکستان کے عہدے کے ليے جو حلف کي عبارت دي گئي ہے، اُس کا تذکرہ کم کم ہوتا ہے، اس عبارت ميں جہاں حلف لينے والے صدر کو توحيدِ باري تعالي? اور قرآنِ مجيد کے آخري الہامي کتاب اور حضرت محمدصلي اللہ عليہ وسلم کي ختمِ نبوت اور يومِ آخرت پر ايمان کا اقرار کرنا پڑتا ہے وہاں قرآنِ مجيد کے ”تمام تقاضوں اور تعليمات“ پر عمل پيرا ہونے کا بھي حلف لينا پڑتا ہے? ”تمام تقاضے اور تعليمات“ کے اندر سب کچھ آجاتا ہے? مختصراً يہ ہے کہ آئينِ پاکستان کي رُو سے بھي قرآن و سنت کو بالادستي حاصل ہے? ہر آئين کا ايک سرچشمہ اور ماخذ ہوتا ہے، پاکستان کے آئين کا حقيقي سرچشمہ قرآن و سنت ہيں۔ اس تناظر ميں فوزيہ وہاب کے مذکورہ بالا بيان کو ديکھا جائے تو وہ غيرمنطقي، غيرعقلي اور حددرجہ قابلِ اعتراض اور اسلامي جمہوريہ پاکستان کے مسلمانوں کے ليے ناقابلِ قبول ہے?
    فوزيہ وہاب کا يہ بيان بھي لاعلمي کا آئينہ دار ہے کہ حضرت عمر فاروق رضي اللہ عنہ كے دور ميں آئين نہيں تھا? جناب رسالت مآب صلي اللہ عليہ نے مدينہ کي رياست کے قيام کے وقت ہي ”ميثاقِ مدينہ“ کي صورت ميں آئين عطا فرمايا تھا? بعد ميں قرآن و سنت کے عظيم ضابطے سامنے آئے تو ان کي حيثيت بھي آئين ہي کي تھي? حاکميت، عدل و انصاف، انتظاميہ اور ديگر اداروں کے ليے واضح ضابطے موجود تھے? آج کي جديد رياست جن اُصولوں پر قائم ہوتي ہے، اس کے تمام بنيادي اُصول مدينہ کي رياست ميں کارفرما تھے? يہاں تفصيل کي گنجائش نہيں ہے?
    بادشاہوں کے ”خدا“ ہونے اور خدا کا ”اوتار“ يا ”ظلِ ال?ہي“ ہونے کا تصور بہت قديم ہے? فراعنہ? مصر ، روم و يونان کے ”شہنشاہوں“ کے ليے يہ القابات استعمال ہوئے تھے? پندرھويں اور سولھويں صدي ميں جب چرچ اور بادشاہ کے درميان اختيارات اور قانوني برتري کے حصول کي کشمکش عروج پر تھي، يورپ کے پوليٹکل فلاسفرز نے بادشاہوں کے ليے ”خدائي حقوق“ کے نظريے کا پرچار کيا تھا?اس نظريے کے مطابق بادشاہ سے غلطي يا جرم کا صدور نہيں ہوسکتا، اِس ليے اس کے خلاف کوئي عدالتي کاروائي بھي نہيں ہوسکتي? اُسي زمانے ميں برطانيہ ميں بادشاہ اور پارليمنٹ کے درميان کشمکش بھي برپا تھي جو بالآخر ????ء کے سنہري انقلاب پر منتج ہوئي جب ہميشہ کے ليے يہ تسليم کرليا گيا کہ پارليمنٹ کو قانون سازي ميں بالادستي حاصل ہے، برطانيہ ميں جمہوريت کا ارتقا ايک خاص نکتے پر آکر ٹھہر گيا? برطانوي قوم کي مخصوص نفسيات کي وجہ سے بادشاہت کا ادارہ قائم رکھا گيا? بادشاہ سے باقي سب اختيارات چھين ليے گئے، البتہ اُس کا يہ استحقاق باقي رکھا گيا کہ اُس کے خلاف کوئي قانوني يا عدالتي کاروائي نہيں ہوسکتي? بظاہر يہ جمہوريت کے تصورِ مساوات کے منافي ہے?
    مسلمانوں کي تاريخ کے دورِ ملوکيت ميں خليف? المسلمين يا سلطان کے ليے ”ظل الله في الارض“ کا تصور موجود رہا ہے? اب بھي جمع? المبارک کے خطبات ميں يہ روايتي الفاظ سننے کو ملتے ہيں? مگر کسي بھي دور ميں مسلمانوں کے بادشاہ نے اپنے آپ کو شريعت سے بالاتر سمجھا نہ عدالتوں کے سامنے پيش ہونے کے ليے کسي استثنا کا سہارا تلاش کيا، يہي وجہ ہے کہ خلفائے راشدين کے بعد بھي ہم ديکھتے ہيں کہ عباسي خليفہ ہارون الرشيد، سپين ميں عبدالرحمن‘سوم برصغير ميں علاؤالدين خلجي، التتمش اور اورنگ زيب عالمگير جيسے مقتدر بادشاہ بھي قاضي کي عدالت ميں پيش ہوتے رہے?
    ????ء ميں جب پاکستان کا آئين بنايا گيا تو اس ميں آرٹيکل248-اے بھي شامل کيا گيا جو صدر کو فوجداري مقدمات ميں استثنا عطا کرتا ہے? گمان يہي ہے کہ اس معاملے ميں بعض جديد رياستوں کي دستوري روايات کو برقرار رکھا گيا? ????ء کي قومي اسمبلي ميں مولانا مفتي محمود، مولانا شاہ احمد نوراني، مولانا غلام غوث ہزاروي اور جماعتِ اسلامي کے اراکين بھي شامل تھے۔ يہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اُنھوں نے آئينِ پاکستان کے اس آرٹيکل پر کيونکر رضامندي اور اتفاقِ رائے ہوگيا۔ البتہ جب جنرل ضياء الحق برسرِ اقتدار آئے تو اس آرٹيکل کے متعلق رائے زني کا سلسلہ شروع ہوگيا اسلامي نظرياتي کونسل نے بھي سفارش کي کہ اس ميں مناسب ترميم کي جائے? ????ء ميں جب آئين بحال ہوا اور آٹھويں ترميم پيش کي گئي تو آرٹيکل248 کو جوں کا توں برقرار رکھا گيا? غالباً جنرل ضياء الحق بطور صدرِ مملکت کے اس کے برقرار ہنے ميں زيادہ عافيت محسوس کرتے تھے? آج بھي ہمارے دانشور اس بات پر بہت کم غور کرتے ہيں کہ آرٹيکل248 ميں صدر کي ذات کو جو استثني? حاصل ہے، اس کا حقيقي فائدہ ماضي کے فوجي آمروں کو ہي حاصل ہوا جو صدرِ مملکت کے عہدے پر فائز تھے?
    جنرل ضياء الحق اور جنرل مشرف نے بطورِ صدر بہت سے اقدامات اِسي استثنا کي وجہ سے اُٹھائے? راقم الحروف کا خيال ہے کہ جنرل مشرف نے جامعہ حفصہ کي معصوم طالبات کا قتلِ عام اور نواب اکبر بگٹي کا قتل جس بے خوفي سے کيا، اُس کے ذہن ميں اِس استثنا کا تصور ضرور کام کررہا تھا? يہي وجہ ہے کہ ان واقعات کي بنياد پر اس کے خلاف ايف -آئي-آر درج کرانے کي اجازت نہ دي گئي، اگر اس سيکولر دستوري روايات کو ہي بنياد بنايا جائے تو پارليماني جمہوري نظام ميں اس طرح کے استثنا کا مستحق ترجيحاً وزيراعظم کو ہونا چاہيے? رياست کے سربراہ کي حيثيت محض ايک خيالي پيکر سے زيادہ کچھ نہيں?
    جناب ايس ايم ظفر نے ايک ٹي وي شو ميں ارشاد فرمايا کہ دورِ حاضر کي رياستوں کے دساتير ميں بھي آرٹيکل248 جيسي دفعات شامل ہيں? ايس ايم ظفر نہايت قابلِ احترام ماہرِقانون ہيں ليکن ہمارا خيال ہے کہ ان کي رائے قياس مع الفارق کا درجہ رکھتي ہے، کيونکہ ديگر رياستوں کے آئين سيکولر نوعيت کے ہيں اور اسلامي جمہوريہ پاکستان کے آئين کے مطابق اسلام کو رياستي مذہب کا درجہ حاصل ہے اور يہاں قرآن و سنت کي حيثيت برتر ہے? آئين کے متعلق تشريح کا حق سپريم کورٹ کو حاصل ہے لہ?ذا وہي اس دستوري ابہام کو واضح تشريح کے ذريعے دور کرسکتي ہے، اس معاملے ميں انفرادي آرا قطعي الدلالت نہيں ہيں?

    يہ بات فراموش نہيں کرني چاہيے کہ سيکولر دساتير ميں بھي سربراہِ رياست کو اس طرح کوئي استثنا اگر ديا بھي گيا ہے، تو وہاں کے عوام اپنے بادشاہ يا صدر سے بھي مثالي کردار کي توقع رکھتے ہيں، وہ انھيں اس طرح کي چھوٹ يا آزادي دينے کو بھي تيار نہيں ہيں جو ايک عام شہري کو حاصل ہے? ماضي قريب ميں امريکا کے صدر رچرڈ نکسن کو وائرگيٹ سيکنڈل کا سامنا کرنے کي وجہ سے صدارت سے الگ ہونا پڑا? ان کا قصور صرف يہ تھا کہ اُنھوں نے اپنے سياسي مخالفين کے فون ٹيپ کرنے کي اجازت دي تھي? صدر بل کلنٹن کو مونيکا ليونسکي کيس ميں انکوائري کميشن کے سامنے وضاحت پيش کرني پڑي? ان کاجرم يہ تھا کہ اُنھوں نے اپني خاتون سٹاف افسر سے عشق بازي کي تھي اور پھر عوام کے سامنے جھوٹ بولا تھا? برطانيہ کے عوام کے خيال ميں ملک سے کسي جرم کا صدر محال ہے? فرض کيجيے اگر ملک کے خلاف بہت بڑي اخلاقي يا مالي کرپشن کا کوئي الزام سامنے آتا ہے، تو برطانوي عوام اُس کي معزولي کي تحريک چلائيں گے? برطانوي بادشاہ چارلس اوّل کو اس بنا پر پھانسي کي سزا دي گئي کہ اُس نے پارليمنٹ کو معزول کيا تھا? يہ ????ء کو واقعہ ہے? اسي ليے ہمارے دانشور جو سربراہِ رياست کو استثنا دينے کے حامي ہيں، انھيں ترقي يافتہ جمہوري معاشروں کي ان روايات کو بھي پيشِ نظر رکھنا چاہيے?


    اس مضمون کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھیے ۔قرآن،آئین پاکستان اور قائداعظم
    بشکریہ:
    WELCOME TO MONTHLEY MOHADDIS
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    صدیقی صاحب نے اوپر باتیں صحیح کہی ہیں مگر وہ پاکستان میں رائچ نہیں ہوتی۔
    صرف آئين میں لکھ کر الو بنایا گیا ہے عوام کو۔
    محمد علی جناح نے بھی سیاسی بیانات دیے تھے۔
    فارغ ہوکر وضاحت پیش کروں گا۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    جی نہیں قائد محمد علی جناح نے تو قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی اصولوں کو اپنانے کی بات کئی مواقع پر کہی، اور آج تک پاکستان میں نفاذِ اسلام کے لئے جتنی بھی قانون سازی ہوئی یہی ایک نقطہ سب کے لئے دردِ سر بنا رہا کہ ہر ایک اپنے مسلک کے تحت ریاست کا وجود چاہتا ہے۔

    نفاذِ شریعت ایکٹ 1991 کے درج ذیل دو نقاط ہی سیاستدانوں کی نفاذِ اسلام کے بارے میں کی جانے والی کارکردگی کا منہ چڑاتا ثبوت ہیں۔

    1۔ اسلام كے احكامات كو بالاد ست ﴿سپریم﴾ قانون قرار دیا گیا بشرطیكہ سیاسی نظام اور حكومت كی مروجہ شكل متاثر نہ ہو۔

    2۔ شریعت كی تشریح و توضیح قرآن و سنت كی روشنی میں ہو گی۔ نیز مسلمہ فقہائ كی آراء كو بھی اس ضمن میں مد نظر ركھا جائے گا۔

     
  4. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    صحیح کہا بھائی جان
     
  5. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم محترم رفی بھائی!
    آپ کی بالا باتوں سے میں اتفاق کرتا ہوں۔
    بے شک محمد علی جناح نے ایسے باتیں کی تھیں مگر ان کی وہ باتیں بھی یہاں پیش کی جائيں جن میں انہوں نے سکولر ریاست کے قیام کی باتیں کی تھیں۔
    افسوس کہ اس وقت میرے پاس ان کی کوئی کتاب موجود نہیں ہے وگرنہ ان کے حوالے پیش یرتا۔
    دوسری بات کہ جناح صاحب نے جمہوری پاسکتان کا نقشہ پیش کیا تھا نہ کہ اسلامی جمہوریہ پاسکتان۔
    یہ لفظ اسلامی تو ایوب خان نے آئین میں ڈالا تھا۔
    اور دوسری بات کہ آج کل جو بھی اسلام ہے وہ ضیاء الحق مرحوم کی کاوش کا نتیجہ ہے کہ اس ملک میں حدود آرڈیننس وجود میں آیا۔
    جناح صاحب کے آئین میں تو غیر مسلم بھی سربارہ حکومت بن سکتا تھا۔
    کاش میں میں نے جو پڑھا ہے وہ کوٹ کرتا۔
    خیر تلاش کروں گا حقیقت حال بیان کرنے کے لیے۔
    آپ نے جناح صاحب کی وہ ہسٹری پڑھی ہے جو آپ کو پڑھائی جاتی ہے پاکستان میں، اس لیے آپ کو اصل حقائق معلوم نہیں ہیں۔
    خیر اس پر بحث کرنا لا حاصل ہے۔
    بات ہورہی ہے اسلامی آئین کی۔
    بے شک پاکستان کے آئین میں اسلامی احکامات کو سپریم قرار دیا گیا ہے مگر اس ملک میں وہ رائج نہیں ہے اور نہ ہوسکتے ہیں۔
    ایک وفاقی شرعی عدالت ہے جوکہ صرف نام کی ہے۔
    اس میں وہ ہی جج اپوانٹ ہوتا ہے جس کو سزا کے طور پر ادھر بھیجا جاتا ہے۔
    اور شرعی عدالت کی پاکستان میں کیا ویلیو ہے اس کو سب کو پتہ ہے۔
    شرعی عدالت کا کیا گیا فیصلہ پاکستان کے قانون کی عدالت کالعدم کر سکتی ہے مگر پاکستانی قانون کی عدالت کا فیصلہ شرعی عدالت کاعدم نہیں کرسکتی۔
    اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ سپریم قانون پاکستان میں کون سا رائج ہے۔
    فوجداری کیسز ، کرمنل کیسز، سزائيں وغیرہ سب کچھ پاکستان کے قانون کی عدالت کے زمرے میں آتا ہے نہ کہ شرعی عدالت کے زمرے میں۔
    وہاں صرف سول کیسز سنے جاتے ہیں وہ بھی لمٹیڈ۔
    کیونکہ زیادہ تر وہ کیسز بھی عام عدالت میں ہوتے ہیں۔
    رہی بات کہ پاکستان کا صدر اسلامی حلف لیتا ہے تو یہ یہانا بنا کر کوئی بھی یہ نہیں کہ سکتا کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔
    تو یہ پی پی سی کیا چيز ہے؟
    سب کو پتہ ہے کہ پاکستان میں وہ ہی 60 سالہ پرانا برٹش قانون ہے۔
    میں آپ کو ایک عجیب بات بتاتا ہوں کہ برطانیہ میں کوئی بھی لکھا ہوا آئین نہیں ہے اور نہ یہاں آئین کی کوئی کتاب سرے سے موجود ہے۔
    یہاں قانون حالات کے مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔
    معاشرے کو دیکھ کر اس کے مطابق قانون بنائے جاتے ہیں۔
    مگر ہمارے ملک میں برٹش دور کے وہ ہی پرانے قانون ہیں جو ایک صدی کے بعد کے تازہ حالات و معاشرہ پر لاگو ہوتے ہیں تو خاک ملک چلے گا۔
    آپ 100 سال پرانا سسٹم آج کل کے اکیسویں دور میں لاگو کریں گے تو اس سے الٹا نظام کو نقصان ہوگا۔
    میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی شقیں صرف دکھاوا ہے وہ کہیں بھی رائج العمل نہیں ہوتی۔
    کوئی بھی وکیل یا جج قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے اسلامی قوانین کو نہیں پڑھتا نہ وہ اسلامی قوانین میں ماسٹرکرتا ہے۔
    بلکہ وہ برٹش قانون کو پڑھتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ وکیل یا جج بنتا ہے۔
    برطانیہ میں وکیل بار ایٹ لا کرکے بیرسٹر بنتے ہیں تو وہ پاکستان میں واپس جاکر اسی وقت پریکٹس کرتے ہیں کہ وہ جو بھی برطانیہ سے سیکھ کرگئے ہیں وہ قانون ادھر پہلے سے موجود ہے۔
    پاکستان کے آئین کو اسلامی آئین کہنے والے مذاق کے موڈ میں ہوتے ہیں۔
    سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
    والسلام علیکم
     
  6. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    شکریہ
    میں‌آپکی باتوں سے اتفاق کرونگا۔۔۔بس تھوڑا سا تیکھا لہجہ مخاطب کو الجھا کر کردیتا ہے۔۔ورنہ آپکی باتیں‌درست ہیں۔
    دوسری بات۔۔۔اگر آپکی بات کہ "پاکستان کے آئین کو اسلامی آئین کہنے والے مذاق کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ " اگر یہ نہ بھی کہیں‌اور مارجن دے بھی لیں‌تب یہ کہا جاسکتا ہے کہ لوگ معصوم ہیں۔۔۔جو یہ کہتے اور سمجھتے ہیں۔۔البتہ پاکستان کو مکمل اسلامی نظام میں ڈھالنے کی کوشش کی جاسکتی جسکے سارے دروازے ہمیشہ سے کھلے ہیں۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    جناب ۔ محترم عتیق صاحب نے اس پوسٹ میں تو کوئی وضاحت نہیں کی ، وضاحت تو ان کی اگلی پوسٹ میں ہے ۔ لہذا آپ نے پہلے ہی صحیح کہا دیا ۔۔ :):00032:
     
  8. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    1۔ ۔۔۔ جب تک آپ کے پاس وہ کتاب نہیں آتی ۔ آپ کسی بھی قسم کی رائے نہیں دے سکتے ہیں ۔ بغیر تحقیق کے بات کرنا صحیح نہیں‌ ۔

    2 - گویا حقیقت حال بیان کرنے کے لیے حوالے تلاش کریں گئے یہ ثابت کرنے کے لیے پاکستان اسلامی ملک نہیں ۔ بلکہ ۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کے گردو و پیش میں کوئی مستند عالم موجود نہیں ؟ یا پھر آپ عوام الناس کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہی غیر اسلامی آئین پر ہے ۔

    3- بقول آپ کے یہ آئین اسلامی نہیں ۔ ِ(شاید اس لیے قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا ) ۔ اور آپ نے کہا کہ پاکستان کے آئین کو اسلامی آئین کہنے والے مذاق کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے اس طرح نہیں لکھنا چاہے ـ باقی آپ کی مرضی ـ ۔-
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 28, 2010
  10. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    بہت معلوماتی مضمون ہے۔
    جزاکم اللہ خیرا

    بالکل 100 % درست بات​
     
  11. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398

    64 سالہ تاریخ میں ایسا دن دکھائیں جس میں کسی ایک چور کے ہاتھ کاٹے گئے ہوں۔ جس ملک کی 64 سالہ تاریخ میں ایک اللہ کی حد بھی نافذ نہیں ہوئی اس ملک کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے۔
    ایک اور سوال کا تذکرہ کرتا چلوں
    1:یا تو پاکستان کے آئین میں اللہ کی حدود نافذ کرنے کی شقیں موجود ہیں۔
    2:یا پھر پاکستان کے آئین میں اللہ کی حدود نافذ کرنے کی شقیں موجود نہیں ہیں۔

    اگر پہلا آپشن ہے تو پھر اللہ کی آیت کے مطابق ایک بھی سزا دکھا دیں 64 سالہ تاریخ میں۔اگر دوسرا آپشن ہے تو بات ہی ختم وہ آئین ہی کیا جو قرآن کے مخالف ہو۔اللہ معاف کرے آمین۔
     
  12. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    صرف ایک مثال ارسلان بھائی۔
    لاہور میں سرعام پپو کے قاتلوں کو سزائے موت دینا جس کے بعد کئی ماہ تک کسی کو قتل کی جرات نہ ہوئی۔ یہ واقعہ ضیا کے دور میں پیش آیا۔

    عتیق بھائی۔
    پاکستان بنتے ہی حالات کی سنگینی کے پیش نظر آئین فوری طور پر مرتب نہیں ہو سکا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد قرار داد مقاصد نے اسلامی آئین کی بنیاد رکھی۔
    اس کے بعد جو کچھ ہوتا رہا وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے۔
    جہاں تک بات رہ گئی کتب کی تو ہمیشہ بعد والا قول راجح اور پہلے والا مرجوح ہوتا ہے۔ اس لیے آپ کو محمد علی جناح کا تازہ ترین حوالہ پہش کرنا ہو گا۔ اور ایک بات کہ متعصب مستشرقین اور مخالفین پاکستان کا حوالہ پیش نہ کیجیئے گا۔ کیونکہ ہم ان کے قلم سے بھی واقف ہیں اور ان کی ایماندار تاریخ نویسی سے بھی۔
    ایک بات ہے کہ جنرل ضیا کے دور میں قائد کے خالص اسلامی ہونے کا تصور دیا جاتا رہا جو کسی حد تک مشکوک لگتا ہے۔ تفصیل کبھی بعد میں عرض کروں کا۔
    دوسرا جنرل ضیا تو شریعت بل بھی لا رہا تھا۔ وہ کیوں قابل قبول نہ ہوا؟؟؟؟
     
  13. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398
    سر عام سزائے موت دینے سے پہلے کسی قاضی نے باقاعدہ طور پر مقدمے کی سماعت کی تھی اس کے بعد کیا شریعت کی رو سے سزائے موت دی گئی تھی ان قاتلوں کو قتل کرنے کے بعد اور کتنے قاتلوں کو چوروں کو ڈاکووں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق سزائیں دی گئیں باقاعدہ طور پر اس کا جواب ابھی درکار ہے۔
    ورنہ اس طرح تو کئی سزائیں ہر ملک میں دی جاتی ہیں۔
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    السلام عليكم ورحمت اللہ وبركاتہ
    آپ سب برادران كا شكريہ ۔ اب تك كے تجربے كى روشنى ميں کچھ لوگوں كى ذہنی اپچ كچھ اس قسم كى معلوم ہوئی ہے کہ جہاں پاكستان كا نام نظر آيا، سياق وسباق ديکھے بغیر پاكستان پر چاند مارى شروع ۔۔۔ ظاہر ہے كہ ان سے مخاطب ہونے كى جرات كرنا تو نا ممكن ہے ۔۔۔
    البتہ آپ کی توجہ اس بات كى طرف ضرور دلانا چاہوں گی کہ فوزيہ وہاب كے احمقانہ بيان كا تعلق آرٹیکل 248 ۔ اے كى تشريح سے متعلق ہے جو صدر مملكت كو اميونٹی عطا كرتا ہے۔ اس وقت پاکستان ميں يہ بحث عروج پر ہے کہ آرٹیکل 248 ۔ اے ميں صدر كى ذات كو عطا كيے گئے استثنى كا اطلاق صدر زردارى پر كس حد تك ہوتا ہے اور اين آر او ختم ہونے سے زردارى صاحب كو كتنا فرق پڑے گا۔فوزيہ اور زردارى كے باقى حوارى ايك عرصے سے آرٹیکل 248 ۔ اے كی چھتری استعمال كر کے اپنے باس كو بچانا چاہ رہے ہیں ۔ جب كہ اسلام پسند اس آرٹیکل كى ايسى تشريح كے خلاف ہیں كہ سربراہ مملكت كى ذات كو عدالت كى جواب دہی سے مكمل استثنى ديا جائے کونکہ اسلامى تاريخ ميں سربراہ مملكت كى عدالت كو جواب دہی كا تصور موجود ہے مثلا حضرت على رضي اللہ عنہ معمولى زرہ كے مقدمے ميں قاضي وقت کے سامنے پیش ہوئے تھے، جب کہ یہ استثنی جدید جمہوری ریاستوں سے مستعار لیا گیا تصور ہے۔۔ بہر حال پاکستان میں يہ معاملہ خاصى اہميت اختيار كر چکا ہے ، اسی سلسلے ميں یہ مضمون شيئر كيا تھا۔اللہ تعالى ہمارى عدليہ اور قانون دانوں كو بہتر فيصلے كى توفيق دے۔بہتر ہے موضوع سے متعلق بات کی جائے۔ جب کہ فوزیہ وہاب کے فضول بیان پر مجلس میں یہاں بحث ہو چکی ہے۔ فوزیہ وہاب کا جاہلانہ بیان۔۔۔۔۔ - URDU MAJLIS FORUM
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    محترم بھائی عتيق الرحمن، ہر شخص رائے رکھنے ميں آزاد ہے مگر تھریڈ كا موضوع بھی تو ديكھیے؟ اس قسم كى بحث پہلے ايك تھریڈ ميں ہو رہی تھی آپ نے مقفل كروا ديا تھا۔ اگر آپ مزيد بات كرنا چاہتے ہیں تو اسى تھریڈ ميں بات جارى ركھتے ہیں؟
    انگلینڈ اور پاکستان کے قوانین انسانی - URDU MAJLIS FORUM
    اور يہ بھی آپ ہی كا تھریڈ ہے
    کیا سعودی عرب اسلامی ملک نہیں؟ - URDU MAJLIS FORUM
    آئیے دلائل كے ساتھ سنجيدہ گفتگو کیجیے، اپنی کہیے، اوروں کی سنئیے۔
    ايك تھریڈ يہاں برادر دانى نے اسى موضوع پر شروع كر ركھا ہے كہ جناح رحمت اللہ عليہ سيكولر رياست كے حامى تھے يا اسلامى رياست كے؟
    كيا جناح اور اقبال پاکستان كو سيكولر ملك بنانا چاہتے تھے؟ - URDU MAJLIS FORUM

    متعلقہ تھریڈ میں آپ کے نقطہ نظر کا انتظار رہے گا۔اس تھریڈ کو آرٹیکل 248 سے متعلق بحث كے ليے مخصوص رہنے دیجیے۔
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم ، درست فرمايا۔
    پاكستان ميں نفاذ اسلام سے روكنے كے ليے سيكولر قوتيں عموما مسلك كا سوال اٹھايا كرتى تھیں، جس كے جواب ميں تمام مسالك كے علمائے كرام( بشمول شيعہ وسنى) نے 1951ء میں مل كر متفقہ طور پر 22 رہنما نكات پیش كيے تھے جن كى روشنى ميں آئين كو اسلامائز كيا جائے۔ اسى كے نتيجے ميں آئین میں بہت سی تبديلياں كى گئیں۔اس ليے علماء كرام مسلکی معاملے ميں اپنا فرض نبھا چکے۔ان پر تنقيد ممكن نہیں۔ماہ نامہ محدث شمارہ مئی 2010ميں جسٹس خليل الرحمان كا ايك مضمون شائع ہوا تھا جس ميں انہوں نے نشان دہی کی ہے كہ علماء كرام كے تمام 22 نكات آئين ميں کہاں کہاں شامل كيے جا چکے ہیں، انہی 22 نكات كى بنياد پر قانون توہین رسالت اور قاديانيوں اور بنيادى اسلامى عقائد کے منكرغير اسلامى فرقوں كو كافر قرار دينے کے قوانين بنے۔ (وہ شمارہ ابھی محدث كى سائٹ پر اپ لوڈ نہیں ہوا ورنہ ربط ضرور مہیا كرتى )
    ۔1986میں علماء نے شريعت بل تجويز كيا جو 1991 ميں نواز شريف عہد ميں آئين ميں شامل كيا گیا مگر بدقسمتى سے ابھی يہ موثر طور پر نافذ نہیں۔
    پاكستان کے بحيثيت ملك شروع ہی سے قرار داد مقاصد کے ذریعے مقاصد متعين ہو چکے ہیں مگر اسلام پسندوں اور دين بيزاروں كى سرد جنگ ہميشہ سے جارى رہی ہے اور حق وباطل كى جنگ تو ہميشہ رہے گی ۔ مگر یہ طے ہے كہ پاكستان اسلام كے نفاذ كے ليے حاصل كيا گیا تھا، اس كا آئين، جمہور كى بجائے اللہ كى حاكميت اعلى كو مانتا ہے اور قرآن وسنت كو سپریم لاء کہتا ہے ۔اور يہاں کے لوگ اس كو سيكولر بنانے كى كوئى كوشش كامياب ہونے نہیں دیں گے بلكہ اس كو روز بروز بہتر سے بہتر اسلامى ملك بنا كر دم ليں گے۔ ان شاء اللہ ۔
     
  17. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    شریعت بل سے علامہ صاحب یاد آ گئے۔ اور ان کی وہ بات
    ب ٹھیک، ج ٹھیک اور د غلط
    جس کے بارے میں کسی نے کہا کہ احسان الہی ظہیر کی کیا حیثیت ہے تو علامہ صاحب نے کہا کہ احسان الہی ظہیر کے بغیر منوا کر تو دکھاؤ ذرا۔
    اور یہ وہی شریعت بل ہے جسے جماعت اسلامی نے نافذ‌کروانے کے لیے یہ کہا کہ ہم مخالفین شریعت بل کے خون سے سڑکیں سرخ کر دیں گے۔ یہ اشارہ علامہ صاحب کی طرف تھا۔
    اور انہی کوششوں کے نتیجے میں علامہ صاحب کی ایک تقریر منظر عام پر آئی جس میں فتاویٰ عالمگیری کا آپریشن کیا گیا تھا۔جس کو ملک کا آئین بنانے کی تجویز دی جا رہی تھی۔
     
  18. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,398

    السلام علیکم
    میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات میرے متعلق کہی گئی ہے لیکن بلکل ٹھیک ہے اور شائستہ انداز سے کہی گئی ہے میں خود بھی اس بحث سے ختم ہو رہا ہوں لیکن ایک بات ہے کہ آپ لوگوں کی بحث سے علم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

     
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اہل الحديث بھائى ميرے خيال ميں ان متفقہ نكات كا كريڈٹ كسى ايك مكتب فكر كو دينا بھی درست نہيں کجا كہ ايک شخصيت كو دينا ۔ اللہ سبحانہ وتعالى اس نيك عمل ميں شريك تمام افراد كى مساعى قبول فرمائے اور ہميں اپنے نظرياتى اور فكرى ورثے كى حفاظت كى توفيق عطا فرمائے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں