عبداللہ چکڑالوی، غلام احمد پرویز و غیرہ کے نظریات۔۔۔

جاء الحق نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏ستمبر 12, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاء الحق

    جاء الحق -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2007
    پیغامات:
    90
    بسم اللہ الرحمن الرحییم​

    السلام علیکم

    عصر حاضر کے فتنوں میں سے جو فتنہ اس وقت اہل اسلام میں سب سے زیادہ خطرناک حد تک پھیل رہا ہے وہ انکار حدیث کا فتنہ ہے اس کے پھیلنے کی چند وجوہات عام ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ منکرین حدیث نے روافض کی مانند تقیہ کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے یہ براہ راست حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ خود کو اہل قرآن یا قرآنی تعلیمات کے معلم کہلاتے ہوئے اپنے لٹریچر میں قرآن ہی پر اپنے دلائل کا انحصار کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین کو یہ ذہن نشین کرانے کی سعی کرتے ہیں کہ ہدایت کے لئے تشریح کے لئے ' تفسیر کے لئے ، سمجھنے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کافی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں۔ قرآنی تعلیمات کے یہ معلم اپنے لیکچرز اور لٹریچر میں '' کسی دوسری کتاب کی تفصیل اور گہرائی میں نہیں جاتے لیکن وہ چند مخصوص قرآنی آیات کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین و قارئین کو یہ باور کرانے کی بھر پور جدوجہدکرتے ہیں کہ قرآن کے علاوہ پائی جانے والی دیگر کتب اختلافات سے محفوظ نہیں جبکہ قرآن میں کوئی بھی کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف قرآن ہی منزل من اللہ ہے چونکہ دوسری کتابوں میں روایات میں ، اسناد میں اور متون اقوال میں اختلافات بکثرت ہیں لہذا یہ دوسری کتابیں نہ تو منزل من اللہ ہیں نہ مثل قرآن ہیں نہ ہی اس لائیق ہیں کہ انہیں پڑھا جائے اور ان کی روایات پر عمل کیا جائے۔ انکار حدیث کے موجودہ داعیوں نے اپنے پیش رو حضرات عنایت اللہ مشرقی، عبداللہ چکڑالوی، غلام احمد پرویز و غیرہم ہی کے نظریات کا پرچار اور ان ہی کی فکر کو عام کرنے کے لئے ان کا نام لئے بغیر قرآنی ریسرچ کے نام سے اس وقت مختلف ادارے اور مشن قائم کررکھتے ہیں جہاں ہفتہ واری ، ماہانہ اور دیگر اقسام کی نشستوں کے ذریعے جو کہ مختلف مقامات پر انعقاد پذیر ہوتی ہیں جدید تعلیم یافتہ طبقے کو سنت و احادیث سے برگشتہ و بدگمان کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے ایسا ہی ایک ادارہ کراچی شہر میں ایک مرکز کے طور پر بہت زیادہ فعال ہے۔ یہاں نہ صرف اجتماعات ہوتے ہیں بلکہ لیکچرز کی موویز اورپرنٹ لٹریچر بھی عوام میں تقسیم کیا جاتا ہے پھر اس مرکز کے کئی ذیلی مراکز ہیں جو شہر کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں موجود ہیں۔ ان مراکز میں چونکہ کھل کر احادیث و سنن پر سب وشتم نہیں کیا جاتا بلکہ تقیہ کی آڑ میں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ فتنہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے یہ تقیہ ہی اس کے پھیلنے کی اولین وجہ ہے۔
    دوسری وجہ اس جانب سے اکثر علماء کا تغافل ہے اس غفلت کا ارتکاب کسی ایک مکتبہء فکر کی طرف سے نہیں بلکہ اکثر مکاتب فکر نے یہ میدان فکری اور عملی اعتبار سے خالی چھوڑ رکھا ہے جس کی وجہ سے دشمنان اسلام کو یہاں سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کے خلاف نقب لگانے کا موقع مل گیا ہے۔ آج مسئلہ علم غیب نبی پر ، مسئلہ حاضر و ناظرپر، مسئلہ نورو بشر پر، مسئلہ تقلید و عدم تقلید پر ، مسئلہ حیات و ممات رسولصلی اللہ علیہ وسلم پر، مسئلہ تعداد تراویح پر، مسئلہ عدم رفع الیدین و وجوب رفع الیدین پر ، مسئلہ آمین بالجہر و بالسّر پر اور دیگر ڈھیر سارے مسائل پر مناظرے کرنے والے تو ہمیں بہت میسر ہیں۔ہر وہ مسئلہ جو قرآن مجید اور احادیث و سنن سے ثابت ہے اس سے انکار در حقیقت انکاررسالت ہے ۔ مناظرے ان مسائل پر ہونے چاہئیں جن کے دلائل قرآن و حدیث سے نہ ملتے ہوں جو مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً اور فعلاً ثابت ہے اس کی مخالفت ، مخالفت رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سخت وعیدیں نازل فرمائی ہیں جو آگے چل کر بیان ہوںگی (انشاء اللہ)
    تیسری وجہ منکرین حدیث میں سے اکثر کا رد روافض کی آڑ میں محدثین پر سب و شتم اور احادیث کے راویوں پر شیعیت کے الزامات لگا کر ان کی قبولیت کو مجروح کرنا اور ان کو نا قابل اعتماد ٹھہرانا ہے۔ ان منکرین حدیث میں بالخصوص تمنا عمادی جبیب الرحمن کاندھلوی ، عزیر احمد صدیقی اور اسی قسم کے دوسرے مصنفین کتب شامل ہیں ان حضرات نے بالخصوص محدثین صحاح ستہ اور ان کے روات پر عجمیت اور شیعیت کے الزامات لگا کر تمام ذخیرہ احادیث کو مجروح و مشکوک بنانے کی کوششیں کیں اور اس حد تک کامیاب رہے کہ دینی علوم سے بے بہرہ اور عصری فنون سے باخبر افراد میں سے بھی ایک فیصد سے بھی کم کو ورغلا سکے ہیں باوجودیکہ گمراہی کا تناسب کم ہے لیکن اب کچھ عرصے سے منکرین حدیث و دشمنان حدیث کے خلافِ حدیث پروپیگنڈے میں کافی شدت آگئی ہے۔ ہر محدث اور ہر راوی حدیث کو عجمی اوررافضی ٹھہرا کر انکار حدیث کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔
    میں پوچھتا ہوں کہ اگر عجمی ہونا جرم ہے اور عجمی لوگ نا قابل اعتبار ہیں تو تمنا عمادی، کاندھلوی اور عزیر صاحب بھی تو عجمی ہیں ان کے نزدیک اگر عجمی محدث سازشی لوگ تھے تو ہمارے نزدیک ان جیسے نا م نہاد مورخ اور مصنف عجمی ہونے کی بنیاد پر سازشی اور اسلام دشمن لوگ ہیں ۔
    چند احادیث کی روایتوں میں غالی شیعہ کا ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے عیب راوی کا کذاب ہونا ہے جو کہ غیر رافضی بھی ہو سکتا ہے اور ہمارے پاس تمنا عمادی، عزیر احمد صدیقی اور حبیب الرحمن کاندھلوی کے کذاب ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ پھر ان کی روایات و تحقیقات کو کیوں نہ رد کر دیا جائے؟
    یہ درست ہے کہ احادیث وضع کرنا سب سے پہلے روافض نے شروع کیا لیکن بعد میں مخالین روافض بھی وضع حدیث سے باز نہیں رہ سکے حد یہ ہے کہ تمنا عمادی احادیث صحیحہ کارد موضوعات سے کرتا ہے اور محدثین عظام پر وضع حدیث کے شرمناک الزام لگاتا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ منکر حدیث و ضاح حدیث بھی ہیں۔
    چونکہ روافض کے گمراہ کن عقائد ، ان کی ازواج مطہرات پر تہمتیں صحابہ کرام پر الزام تراشیاں اور عقائد اہل سنت پر سب و شتم سے حضرات اہل سنت کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں اور وہ روافض کی ان حرکات سے مضطرب ہوتے ہیں چنانچہ ان منکرین حدیث نے رد روافض کی تحریک شروع کی اور اہل سنت کی ہمدردیاں حاصل کیں ان منکرین حدیث میں مذکورہ بالا منکرین حدیث کے ساتھ دیگر بھی شریک ہوگئے جن میں محمود احمد عباسی، اسحاق سندیلوی، عمر احمد عثمانی وغیرہ بھی شامل تھے۔ شروع شروع میں یہ لوگ روافض کا رد کرتے اور ہر وہ حدیث جو فضائل سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا فضائل اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہوتی اس کا رد کرتے تھے کہ اس کی سند میں غالی شیعہ ہے اس طرح انہوں نے رفتہ رفتہ انکار حدیث کا یہ نیا دروازہ کھولنا شروع کیا ۔ جب عام لوگوں نے ان کی بات توجہ سے سنی اور انہوں نے اپنی محنتیں بار آور ہوتی دیکھیں تو انہیں یہ حوصلہ ہوا کہ انہوں نے تما م محدثین صحاح ستہ پر عجمی ہونے کا الزام لگا کر احادیث شریفہ کے اس عظیم ترین ذخیرے کو نا قابل اعتبار بنانے کی ناپاک مہم شروع کردی ۔
    چونکہ رد روافض کے ذریعے یہ عوام اہل سنت میں پذیرائی حاصل کر چکے تھے اس لئے کم علم حضرات میں یہ لوگ معتبر سمجھے گئے اور ان کی احادیث شریفہ کے خلاف یہ مہم بھی بالعموم روافض کا رد ہی سمجھی جا رہی ہے اس طرح یہ بظاہر روافض کا رد کررہے ہیں اوربباطن احادیث و سنن کے انکار کے کافرانہ، مرتدانہ اور زندیقانہ عقائد و نظریات کو جنم دے کر فروغ دے رہے ہیں۔
    انکار حدیث کا فتنہ کسی طرح بھی انکار ختم نبوت کے فتنے سے کم نہیں ہے۔ منکرین حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابدی اور دائمی نبوت و رسالت کے منکر ہیں در حقیقت انکار حدیث ہی انکار رسالت ہے حدیث شریف کے منکر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے منکر ہیں ۔ احادیث شریفہ کو نا قابل اعتبار کہہ کر تمام ذخیرہ احادیث بشمول احادیث صحیحہ مسترد کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مسترد کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے معلم ہیں آپ نے قرآنی احکام کی جو کلامی اور عملی تفسیر فرمائی ہے وہ قرآن میں نہیں بلکہ احادیث شریفہ میں ہے قرآن مجید معلم قرآن کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا باوجودیکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ۔ وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآن لِلذِّکْر فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرْ اور ہم نے قرآن نصیحت کے لئے آسان کر دیا پس کوئی ہے جو غور کرے؟
    مثال اس کی یوں ملاحظہ ہو کہ کتب تدریس جو کہ اسکول و کالج میں مروج ہیں باوجود یکہ ان میں سے اکثر ہماری مادری زبان اردو میں ہوتی ہیں لیکن طلباء ان کتابوں کو سمجھنے کے لئے معلم کے محتاج ہوتے ہیں چنانچہ اسکول، کالجز اور یونیورسٹی وغیرہ میں طلباء اساتذہ سے یہ کتابیں پڑھتے اور سمجھتے ہیں اور بسا اوقات تو اساتذہ کی تعلیم بھی طالب علم کو کفائت نہیں کرتی لہذاہ وہ ٹیوشن یا کوچنگ کی ضرورت محسوس کرتا ہے بازار سے درسی کتب کی تشریحی کتابیں خرید کر اپنی درسی کتب کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان تشریحی کتب کا مطالعہ حقیقی درسی کتب کو سمجھنے میں ممد و معاون ہوتا ہے لہذا عام و خواص سب بھی ان کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ آج تک کسی صاحب عقل اور صاحب ہوش و حواس نے یہ مطالبہ طلباء سے نہیں کیا کہ وہ اپنی بنیادی درسی کتابوں کو معلم کی مدد کے بغیر ، تشریحی کتب کی مدد کے بغیر ،کوچنگ یا ٹیوشن کے بغیر خود ہی پڑھیں اور خو د ہی سمجھیں ۔ یہ بات بڑی نکتہ خیز ہے کہ ایک معمولی سی درسی کتاب جو کہ سیکنڈری اسکول کی سطح کی ہے وہ تو بغیر معلم، بغیر شرح اور بغیر ٹیوشن وکوچنگ کے پڑھی نہ جا سکے اور قرآن مجید جو کہ ازل تا ا بد تمام انسانی کائنات کا دائمی اورفلاحی منشور و دستور آئین و قانو ن او ر الہامی کتاب ہے اس کو معلم قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تشریحات کے بغیر سمجھنے اور سمجھانے کا دعویٰ کیا جائے۔ بلاشک و شبہ یہ دعوی' باطل ہے اور دعوی' کرنے والے ایک باطل دعوت کے مدعی ہیں بلکہ مشاہدہ یہ ہے کہ ان کا اپنا عمل ان کے دعوے کے خلاف ہے ۔
    (پہلا مغالطہ) ان کا کہنا ہے کہ قرآن سمجھنے اور سمجھانے کے لئے تشریح اور توضیح کی ضرورت نہیں اس لئے کہ قرآن کو اللہ نے پہلے ہی سے سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے لہذا ان کے نزدیک نہ صرف معلم قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ غیر ضروری ہیں بلکہ مفسرین قرآن مجید کی تحریر کردہ کتب تفسیر بھی غیر ضروری ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ مفسرین نے معلم قرآن کی بیان کردہ تشریحات کی روشنی میں اپنی تفاسیر قلم بند کی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئیے کہ اس فکر کا حامل ، داعی اورعلم بردار قرآن مجید کو بغیر کسی تشریح نقلی و عقلی کے پڑھیں اور اسی طرح پڑھائیں کہ جو کچھ قرآن میں مکتوب ہے اسے پڑھ دیں اگر غیر عربی کو پڑھا رہے ہیں تو زیادہ سے زیادہ ترجمہ کردیں لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ یہ حضرات اپنی جانب سے اپنی رائے سے قرآنی آیات کی تشریح کرتے ہیں اور پھر اس بے ڈھنگی اور غیر معتبر تشریح کو عوام پر مسلط کرنے کی ناپاک کوششیں بھی کرتے ہیں جب بقول ان جغادریوں کے قرآن آسان ہے تو پھر ان حضرات کا تشریح کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ یہ کیوں قرآنی دروس کا اہتمام کرتے ہیں؟ جب ان کے بقول روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتاتو پھر ان کی رائے پر کس دلیل قرآنی کے تحت اعتبار و اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
    سب سے پہلے تو عوام الناس کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِّرْ '' کا وہ مفہوم نہیں ہے جو منکرین حدیث ترجمہ اور تفسیری آراء کی شکل میں پیش کرتے ہیں بلکہ خود قرآن مجید ہی نے ہمیںاس قسم کی تفسیر سے بے نیاز کرتے ہوئے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے یہ ایک علیحدہ امر ہے کہ بے بصیرت منکرین حدیث کو قرآن مجید میں اللہ تعالی کا یہ فرمان گرامی نہ دکھائی دیتا ہے نہ سوجھائی دیتا ہے۔
    فَاِنَّمَا یَسَّرْنَاہ' بِلسِانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہ المُتَّقیْنَ وتُنذِرَبہ قَوْماً لُدّاً (مریم ٩٧)
    پس ہم نے قرآن کو آپ کی زبان میں صرف اس لئے آسان کردیا ہے کہ آپ اس کے ذریعے پرہیزگاروں کو بشارت دیں اورجھگڑالو لوگوں کو ڈرائیں ۔
    نیز سورہ دخان میں بھی فرمایا
    فَاِنَّما یَسَّرْنَاہ' بِلِسَانِکَ لَعلَّہُمْ یَتَذَکَّروْنَ (دخان ٥٨)
    ترجمہ بے شک ہم نے قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی زبان میں بہت آسان بنا دیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
    سورہ دخان اور مریم کی ان آیات کے ساتھ سورئہ قیامہ کی یہ آیات بھی پڑھ لی جائیں تو منکرین حدیث کے سارے مغالطے دم توڑ دیتے ہیں
    لاَ تُحَرِّکْ بِہ لِسانَکَ لِتَعْجَلَ بِہ ٭ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہ' وَقُرآٰنَہ'٭ فَاِذَا قَرَئْ نَہٰ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہ'٭ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہ'٭ (القیامہ آیت ١٦ تا ١٩)
    مت حرکت دیں آپ اپنی زبان کو قرآن میں جلدی کرنے کے لئے ، بے شک قرآن کو جمع کرنا اور اس کو پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے پھر ہم اسے پڑھائیں تو آپ اس پڑھانے کی پیروی کریں پھر بے شک اس کی توضیح و تشریح ہماری ذمہ داری ہے۔
    اس کے علاوہ سورئہ طٰہٰ میں فرمایا
    وَلَاتَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِن قَبْلِ اَنْ یُقْضیٰ وَحیُہ' وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً (١١٤)
    سورئہ طٰہٰ اور قیامہ کی یہ آیات وضاحت کر رہی ہیں کہ قرآن کا پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا تھا لہذا جب اللہ کی طرف سے یہ قرآن آپ کو پڑھایا جاتا تو آپ کی اپنی زبان کو قرآن یاد کرنے کے لئے یا اپنے دل میں جمع کرنے کے لئے جلدی جلدی چلاتے تھے جس سے اللہ نے آپ کو منع فرمایا اور فرمایا کہ اس قرآن کو آپ کے دل میں جمع کرنا، اسکو پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے لہذا جب آپ کو قرآن ہم پڑھائیں تو آپ قرت قرآن کی پیروی کریں پھر اس قرآن کی توضیح وتشریح کرنا بھی ہم پر ہے نیز سورة الاعلیٰ میں اس سے بھی بڑھ کر فرمایا
    سَنُقزِئُکَ فَلاتَنْسیٰ اِلاَّ مَاشآء اللہ (الاعلی ٦'٧)
    یعنی ہم آپ کو پڑھائیں گے پس آپ نہ بھولیں گے مگر یہ کہ جو اللہ چاہے۔

    جاری ہے
     
  2. جاء الحق

    جاء الحق -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2007
    پیغامات:
    90
    ان آیات کا مطالعہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ قرآن مجید کا پڑھنا اس کو یاد کرنا اور اس کی توضیح و تشریح کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق اور دشوار تھا لہذا اسے آپ کی زبان پر پڑھنے کیلئے آسان بنا دیاگیا۔ یہ قرآن نصیحت حاصل کرنے کیلئے ہے غورو فکر اور تدبر کرنے کے لئے ہے عمل کرنے کے لئے ہے۔ مگر بلاواسطہ نہیں بلکہ بالواسطہ ہے اور یہ بالواسطہ ہی آسان بنایا گیا ہے جو لوگ بلاواسطہ قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کے مدعی ہیں ان کے پاس اپنے حق میں کوئی قرآنی دلیل نہیں ہے جبکہ ہم بالواسطہ آسان سمجھنے کی دلیل کے طور پر سورة دخان وسورئہ مریم کی آیت مذکورہ بالا کو پیش کرتے ہیں جس میں صاف صاف لفظوں میں اعلان خداوندی ہے کہ ہم نے اس قرآن کو آپصلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میںآسان بنا یا ہے ، تو جو اسے بواسطہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی توضیحات و تشریحات یعنی سنت و احادیث کی روشنی میں پڑھے گا تو وہی اسے سمجھے گا اور اس پر عمل کرے گا اوہی اس سے نصیحت پکڑے گا اس لئے کہ یہ سب کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہی آسان اور ممکن ہیں اوریہی بات اللہ تعالی سمجھا رہا ہے کہ یہ قرآن آپ کی زبان میں آپ کی تعلیمات کی روشنی میں، آپ کی بیان کردہ توضیحات و تشریحات کے تحت آسان ہے وگرنہ ہم منکرین حدیث سے یہ سوال ضرور کر سکتے ہیں کہ اگر قرآن مجید احادیث و سنن کے مطالعہ اور ان کی تشریحات و توضیحات کے بغیر آسان ہے تو پھر حروف مقطعات الم ، الر، حمعسق، کہیعص، حم اور یٰسین وغیرہ کے نہ صرف معنی بتائیں بلکہ ان سے نصیحت بھی پکڑ کر دکھائیں ؟ ہَاتُو بُرہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُم صَادِقِیْنْ دشمنان حدیث و سنت رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا مغالطہ یہ دینے کی کوشش کی ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ قرآن مجید کے ذریعے نصیحت کی ہے جس کی دلیل سورئہ ق کی یہ آیت ہے۔
    فَذَکِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْد (سورہ ق ٤٥)
    پس قرآن کے ساتھ نصیحت کر اس کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔
    میں کہتا ہوں کہ قرآن کی اس سچی آیت کے ذریعے دشمنان حدیث وسنت ایک جھوٹی بات کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ صرف قرآن کے ذریعے نصیحت کی۔ اس لئے کہ نصیحت کرنے کے احکام قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر بھی ہیں اور آپصلی اللہ علیہ وسلم کو صرف قرآن کے ذریعے نصیحت کرنے کا پابند نہیں بنایا گیا۔ علاوہ ازیں ذَکِّرْ کے معنی صرف نصیحت کرنا ہی نہیں ہیں اسکے معنی تذکرہ کرنے اور یاد دلانے کے بھی ہیں جیسا کہ سورئہ ابراہیم میں حکم خداوندی ہے
    وَذَکِّرْہُمْ بِاَیَّامِ اللہ اِنَّ فی ذالِکَ لآیاتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ (٥)
    اور انہیں اللہ کے ایام یاد دلا بے شک اس میں صابر شکر گزار کے لئے نشانیاں ہیں اور نصیحت کے معنوں میں فرمان خداوندی ہے
    فَذ َکِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّکْرَیٰ (الاعلی ٩)
    پس نصیحت کر اگرنصیحت نافع ہو۔
    اور یہاں یہ نہیں فرمایا کہ قرآن ہی کے ساتھ نصیحت کر بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو ہرگز ہرگز اس امر کا پابند نہیں بنایا کہ آپ صرف قرآن ہی سے نصیحت کریں سورئہ ق کی آیت کا مفہوم یہ نہ تھا جو کہ دشمنان سنت اور منکرین حدیث بیان کر رہے ہیں بلکہ اس آیت سے قبل والی آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس میں یوم خروج یعنی قیامت کا ذکر ہے یہاں فذکر بالقرآن کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو قیامت کا دن یاد دلائیں اور قرآن میں چونکہ قیامت کا ذکر جا بجا مقامات اور سورتوں میں بیان ہوا ہے لہذا آپ سے یہ فرمایا گیا کہ آپ قرآن کے ذریعے یوم خروج یا یوم قیامت لوگوں کو یاد دلاتے رہیں خاص کر انہیں جو اللہ کی وعید یا اللہ کی سزا سے ڈرتے ہیں۔
    اس غلط مفہوم کی اصلاح کے بعد ہم دشمنان سنت اور منکرین حدیث سے پوچھتے ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن ہی کے ذریعے (بقول تمہارے) نصیحت فرمایا کرتے تھے تو پھرقرآن مجید کی ان آیات کی تم کیاتفسیر کروگے اورکیا تاویل کروگے جو سورئہ عبس کی ابتدائی آیات ہیں۔
    عَبَسَ وَتوََلّٰی ٭ اَنْ جَآئَ ہ' الاَعُمیٰ٭ وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّہ' یَزَّکیّٰ٭ اَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہ' الذِّکْریٰ٭ اَمَّا مَنِ استَغْنیٰ٭ فَاَنْتَ لَہ' تَصَدَّیٰ ٭ وَمَا عَلَیْکَ اَلاَّیَزَّکیّٰ ٭ وَاَمَّا مَنْ جَآئَکَ یَسْعیٰ ٭ وَہُوَ یَخْشیٰ ٭ فَاَنْتَ عَنْہ' تَلَہّٰی ٭ کَلّآ اِنَّہَا تَزْکِرَة ٭ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہ' ٭ (سورہ عبس آیت ١ تا ١٢)
    ترجمہ اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا کہ ایک نابینا اس کے پاس آیا ٭ اور تجھے کیا معلوم کہ شائد وہ تزکیہ کر لیتا٭ یا یہ کہ وہ نصیحت قبول کر لیتا اور نصیحت اسے فائدہ دیتی ٭ لیکن وہ جو بے پروائی برتتا ہے٭ تو اسی کی طرف متوجہ ہے ٭ حالانکہ اگر اس کا تزکیہ نہ ہوتا تو تو ذمہ دار نہ تھا ٭ لیکن جو تیرے پاس دوڑا آتا ہے ٭ اور وہ ڈرتا ہے ٭ تو اس سے تغافل برتتا ہے ٭ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تو ایک نصیحت ہے ٭ پس جو چاہے اس سے سبق حاصل کر لے ٠
    (نوٹ : سورئہ عبس کی آیات کا یہ ترجمہ ایک دشمن سنت اور منکر حدیث کے ترجمہ قرآن سے اخذ کیا گیا ہے تاکہ اس پر اسی کے ترجمے سے حجت بھی قائم ہو اور اس کے سحر میں گرفتار افراد پر سے اس کا سحر بھی ٹوٹ سکے۔)
    میں پوچھتا ہوں کہ اس وقت جب کہ نابینا صاحبِ قرآن محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نصیحت لینے کیلئے آیا تو آپ ایسے کون سے کام میں مشغول تھے کہ آپ نے بجائے نصیحت کرنے کے تیوری چڑھالی اور منہ پھیرلیا ؟ دشمنان سنت اور منکرین حدیث اس سوال کا جواب قرآن مجید سے نہیں دے سکتے یہاں ان کا وہ دعویٰ باطل قرار پاتا ہے کہ قرآن مجید میں ہر شے کا واضح بیان ہے ۔ یہ دعویٰ اگرچہ انہوں نے قرآن مجید ہی سے اخذ کیا ہے جو کہ سورئہ نحل کی آیت نمبر ٨٩ میں مذکور ہے لیکن انہوں نے ا س کا غلط مفہوم لیا ہے اور اگر یہ دشمنان حدیث اپنے دعوے کو درست کہتے ہیں تو پھر میں کہتا ہوں کہ سورئہ عبس کی تشریح ، توضیح قرآن مجید ہی سے کرکے دکھائیں میں ایک بار پھر کہتا ہوں اورچیلنج دے کر کہتا ہوں کہ اگر دشمنا ن سنت و حدیث میں کوئی صاحب علم و بصیرت ہے تو وہ حدیث و سنت کے سہارے کے بغیر یہ بتائے کہ وہ نابینا کون تھا؟ وہ کس کے پاس آیا تھا؟ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آیا تھا؟ اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیوری کیوں چڑھائی اور منہ کیوں پھیر لیا؟ اور اس وقت آپ کو ن سے کام میں مشغول تھے؟ کیا آپ اس وقت فَذَکِّرْ بالقرآنِ پر عمل فرمارہے تھے جیسا کہ دشمنان سنت و حدیث کا دعویٰ ہے کہ آپ ہمیشہ قرآن سے نصیحت فرماتے تھے اگر آپ اس وقت کچھ لوگوں کو قرآن ہی سے نصیحت فرما رہے تھے تو پھریہ سرزنش آپ پر کیوں نازل ہوئی؟
    سنئیے! آپ اس وقت قرآن ہی کے مطابق کچھ ایسے لوگوں کی طرف متوجہ تھے جو آپ سے بے پروائی برت رہے تھے ان بے پروا ہ لوگوں کی طرف آپ کس کام میں متوجہ تھے؟ کیا وہ اسلام کی تعلیم نہیں تھی؟ یا وہ محض دنیاوی باتیں تھیں؟ قرآن ہی بتاتا ہے کہ آپ لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور اس وقت بھی فرما رہے تھے لیکن فَذِکّرْ بالقرآن کے پرویزی مفہوم کے مطابق نہیں اس لئے کہ اگر آپ اس وقت بھی قرآن مجید کے ذریعے نصیحت فرما رہے تھے تو ان آیات عتاب کے نزول کی دوسری وجوہات کیا ہیں؟ قرآن سے نصیحت فرمانے پر تو عتاب نازل نہیں ہو سکتا تھا۔


    اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح دین سمھجنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔
    اور اللہ ہی ہمیں ہدایت دینے والا ہے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں