تبلیغی ودیوبندی جماعت کا عقیدہ صوفیت

کارتوس خان نے 'اسلامی کتب' میں ‏ستمبر 21, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مقالات اھل الضلال
    من اصحاب تبلیغی نصاب
    و فضائل اعمال یعنی
    تبلیغی و دیوبندی جماعت
    کا عقیدہ صوفیت

    موؤلف:
    علامہ عطاءاللہ ڈیروی حفظہ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    فہرست مضامین

    فہرست مضامین​
    عنوان
    مقدمۃ الکتاب
    تبلیغی و دیوبندی جماعت کا تباہ کن صوفیت کا عقیدہ
    بانی جماعت کاقبروں پر مراقبہ
    اہل قبورسے فیض کا حصول
    تین سو اولیاء حرم میں ہروقت رہتے ہیں
    تبلیغی جماعت دیوبندی جماعت ہے
    بانی جماعت صوفی تھے
    بانی جماعت نے سات برس کامل پانی نہیں پیا
    مولوی الیاس کی والدہ کادعویٰ مجھے اﷲ کھلاتاپلاتاہے
    رسول اﷲ ۖمولوی الیاس کے والد کے جنازہ کے…
    معین الدین چشتی کو ایک صوفی نے کچھ کھلاکر صوفی بنایا
    جماعت تبلیغ کی غیبی آدمی سے تائید
    ہندوستان کی نسبت حجازمیں تبلیغ کی زیادہ ضرورت
    آپۖ نے کبھی کفار کے ملک میں مبلغ نہیں بھیجے
    کفارکے ملک کی طرف قرآن لے جانے کی ممانعت
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    انگریزوں کے ساتھ خضرعلیہ السلام
    ایک ہندو قوم پرست کاتبلیغی جماعت پر اظہار طمانیت
    اسلامی تحریک کے قاتل کو جنت کاسرٹیفیکٹ
    محمدۖ اﷲ کے نورسے اورباقی مخلوق محمد ۖ کے نورسے
    جماعت تبلیغ کی بنیاد اشرف علی تھانوی کی تعلیم عام …
    جماعت تبلیغ کی کرامت سے کھایا ہوا بکرا دوبارہ زندہ
    قبروں اورمزاروں کے ساتھ مسجد بنانا
    قبرکی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا
    قبروں میں تمام عبادات ،نماز ،اذان وتلاوت …
    نبی کریم ۖ کی روح بدن سے جدانہیں ہوئی
    قبرسے بزرگ کی اپنے مہمانوں کی ضیافت
    قبرسے جواب ''تیرامال محفوظ ہے
    میت کا کشف
    جماعت تبلیغ کے جاہل مبلغین اپنی عاقبت کی فکر کریں
    رسول اﷲ ۖ نے قبرسے لوگوں سے مصافحہ کیا
    رسول اﷲ ۖ اپنی قبرسے نکل کرلوگوں کو ادھر ادھر …
    قبرسے رسول اﷲ ۖ کی بڑھیاکو صبرکی تلقین
     
  4. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    نبی کریم ۖ نے اپنی قبر سے عثمان کوپانی کاڈول پیش کیا
    رسول اﷲ ۖ نے اپنی قبر سے مسلمان کو سفر خرچ…
    غیبی درہم
    رسول اﷲ ۖ کی قبرسے روٹی کی وصولی
    شرک و بدعت کی طرف دعوت دینے ایک اورکہانی
    درود پڑھنے والے کا آپۖ نے منہ چوم لیا
    جمعہ کی رات دنیاکے تمام ولی بیت اﷲ میں جمع ہوتے ہیں
    نبی کریم ۖ کی قبرکی زیارت کرنے والا یہ سمجھے کہ میں…
    رسالہ فضائل حج کی تالیف پر بشارت
    رسول اﷲ ۖ کے سر پر انگریزی ٹوپی
    رسول اﷲ ۖ علماء دیوبندکے شاگرد
    رسول اﷲ ۖ آسمان سے مدرسہ دیوبندکا حساب لینے آئے
    شیطان کبھی بزرگوں کی شکل بناکر لوگوںکو گمراہ کرتاہے
    دعا بزرگوں کے وسیلے سے مانگنی چاہیے
    بزرگوں کی قبر پر دعا کرنا،رسول اﷲ ۖ کے بالوںنے…
    جماعت تبلیغ کا دوسری جماعتوںکے ساتھ سلوک
    تبلیغ پر نکلے ہوئے مردکی نظر اگر حاملہ عورت پر پڑجائے…
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    تبلیغی چلہ لگانے والا مجاہد کی موت مرتاہے اورنہ لگانے والا…
    تبلیغی چلوں کی حقیقت کا انکشاف
    شاہ عبدالعزیز کی پگڑی
    صوفی اپنے آپ کو سورو کتے سے بھی بدتر سمجھتاہے
    صوفیاء کتوں اورخنزیروں کو اپنامعبود سمجھتے ہیں
    بعض اولیاء ایسے ہیں کہ کعبہ خود ان کی زیارت کوجاتاہے
    کعبہ شریف کے پتھر بول پڑے
    کعبہ کا طواف کیالبیک کا جواب نہیں سنا تو لبیک کا کیافائدہ
    لوگ بیت اﷲ کا طواف کرتے ہیں اگروہ اﷲ کی پاک …
    مسجدوں کے بجائے قبروں اورمزاروں پر چلّے
    صوفیوں کا براہ راست اﷲ تعالیٰ سے علم حاصل کرنے کادعویٰ
    کتابوں میں کیارکھاہے کچھ سینے سے عطاء فرمایئے
    اﷲ کی طرف سے حاجی کو خط، تیرے اگلے پچھلے گناہ معاف…
    صوفیوں کی طرف سے لوگوں کو جنت کے پروانے اوراﷲ
    ستائیس سو میل سے صبح کی نماز مکہ میں
    خضرعلیہ السلام پانچ نمازیں کہاں پڑھتے ہیں
    جب تک عشق پیدانہ ہواس وقت تک ان واقعات پر…
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    ﷲ تعالیٰ آسمان پر ہے ہرجگہ نہیں
    حلول کاعقیدہ
    ظہور و حلول میں فرق
    عقیدہ وحدت الوجود
    جبرائیل کون تھے ؟محمدۖ خود جبرائیل تھے
    صوفیاء کے نزدیک حلوا وغلاظت دونوں ایک چیز ہیں
    آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے اس لئے سجدہ کیاکہ وہ…
    سورج چاند ستارے رب تعالیٰ کے مظاہر ہیں ابراہیم…
    شیطان کاجنت میں جانے کے مسئلہ پر صوفی سہل …
    اولیاء اﷲ تعالیٰ کی صفت سے متصف ہوسکتے ہیں
    دنیامیں کوئی کسی پر ظلم کرے تو صوفی کہتاہے کہ …
    دیوبندی و تبلیغی جماعت کے شیوخ و اکابرین کاپیر …
    صوفی کا اپناکوئی رنگ نہیں ہوتا
    کفر و ایمان کی تفریق بے معنی ہے
    رسول اﷲ ۖ کائنات کی اصل تھے
    اصحاب خدمت ابدال
    ولایت کے شئون
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    اپنے یہودی پیر سے میراسلام کہنا
    ستر کروڑ نیکیاں
    شیخ کی روح کسی خاص جگہ مقید نہیںبلکہ وہ اپنے مرید …
    پیر اورشیخ کا اصطلاحی عالم ہونا ضروری نہیں
    مزاروںکا چڑھاوا اورعلماء دیوبند
    خواجہ اجمیرکے مزار پر مراقبہ
    پیر کامل اگر جانماز کو شراب سے رنگ دینے کا کہے تو …
    شاہ عبدالعزیز و سید احمد بریلوی کے آستانے کے کتے …
    یہ تبلیغ شریعت ،طریقت اورحقیقت تینوںکو جامع ہے
    صوفیاء کے نزدیک طریقت و حقیقت کیاہے
    ایک مریدکا خواب کہ پیر کی انگلیاں شہد میںاورمریدکی…
    عشاق کی جنت وہ ہے جس میںدوست کی ملاقات ہواور…
    تبلیغ سے مولانا تھانوی کو ایصال ثواب
    جماعت تبلیغ کے کارکنان کو مخالفین کی بات نہ سننے کا حکم
    سمندروں اوردریاؤں پر صوفی کی حکومت
    یہاںکے زندہ تو زندہ مردے بھی لڑتے ہیں
    دیوبندی علماء بزرگوں کی کرامات ،کوادیوبندی مذہب…
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    قاسم نانوتوی صاحب نے زندہ آدمی کا جنازہ پڑھاوہ…
    ابوالوقت اولیائ
    قبروں پر قبّہ بنانا
    مرنے کے بعد بھی بزرگوںکے فیوض و برکات باقی رہتے ہیں
    صوفی جنیدکی نظر پڑنے سے کتا باکمال ہوگیا
    صوفیاء کے دو اسلام
    سات اولیاء نے اپنے بدن کا گوشت اﷲ کے نام پر…
    لا الہ الا اﷲ کے تین معنی
    مرتبہ حق الیقین پر پہنچنے سے تکالیف شرعیہ ساقط ہوجاتی ہیں
    بعض کتابوں میں ابلیس کی مدح پائی جاتی ہے
    اﷲ کی زیارت کرنی ہے توعشاء کی نماز نہ پڑھ
    وقت نزع کلمہ پڑھنے سے انکار
    عورت مظہر مردکی اورمرد مظہر حق کاہے
    جو کچھ اﷲ کے سوا ہے وہ اس کے اسماء و صفات ہیں
    بعض لوگوں نے حضرت حق کوابوبکر صدیق کی شکل میںدیکھا
    مطلوب کا تصور شیخ کی صورت میں کرناجائز ہے
    ذکر نفی و اثبات
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    انسان کاظاہر عبد اورباطن حق ہے
    کلمہ توحید بھی شرک ہے
    الصوفی ھواﷲ ۔صوفی ہی اﷲ ہے
    دیوبندی اکابرین کا عقیدہ ختم نبوت محمدۖ ایک نہیں سات ہیں
    سلوک ایک اہم ترین رکن توحید مطلب
    حنفیہ دیوبندیہ کا قرآن کے بارے میں عقیدہ
    قرآن کو بوسہ دینا اورچومنا اس لئے کہ وہ کلام اﷲہے
    ایک صوفی کا خواب کہ رسول اﷲ ۖ اپنی قبر مبارک میں…
    اپنے بدعتی پیر سے ہمارا بھی سلام کہنا
    وحدۃالوجود کی ایک اور مثال
    عارفین کی جنت میںنہ حور ہوگی اورنہ قصورمگر یہ کلمہ…
    ایک صوفی نے اپنے پیر کو خاوندسے تعبیر کیا
    خدا کو خداسے کیاڈر
    رمضان میںبیس تراویح کے حساب قرآن ختم کرنے…
    عقائد علماء دیو بند ماخوذاز مھند علی المفند
    قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی کا فرمان
    فرعون کے انا الحق اورحلاج کے انا الحق کہنے میں کیافرق ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    انسان عالم صغیر ہے یا عالم کبیر
    صوفی نے دیکھا میں کائنات کو پیدا بھی کررہاہوںاور…
    شیخ یاقوت عرشی کی وجہ تسمیہ
    صوفی تلخ اوربدبو دار چیزوں کوانتہائی لذت و خوشی…
    صوفی اﷲ تعالیٰ کو دنیامیں اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح…
    لفظوں کے پجاری علماء
    مسئلہ توحید خالی کتابوں سے حل نہیں ہوتا
    صوفی کانور جہنم کو ٹھنڈا کردے گا
    کشف ذات
    ہمہ اوست
    اﷲکی طرف سب سے قریب راستہ
    حقیقت محمدیہ ۔جسے تم محمدۖ کہتے ہو وہ ہمارے نزدیک…
    صوفیاء کے قول سید عبدالقادر جیلانی کی مجلس میں انبیاء…
    شاہ ولی اﷲ اورصوفیت
    اولیاء میں صدیق کے درجہ تک پہنچنے کیلئے زندیق ہونا شرط ہے
    اولیاء اﷲ اپنی ولایت کو چھپانے کے لئے گناہ کرتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مقدمۃ الکتاب

    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
    جناب رسالت مآب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدا مت مسلمہ ِ کے اندر رفتہ رفتہ بدعقیدگی کی خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوگیئں اور آج تک اس میں اضا فہ ہی ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے اس امت میں جب افتراق و انتشار پیدا ہوا تو اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہ کی کافی تعداد زندہ تھی۔۔۔

    یہ افتراق جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے شروع ہوا سب سے پہلا فرقہ جو اس امت سے علٰیحدہ ہوا وہ خوارج کا تھا یہ فرقہ جنگ صفین کے اختتام پر ظاہر ہوا پھر جناب علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شیعہ فرقہ وجود میں آیا اس فرقہ کا بانی عبداللہ بن سبا تھا جو باطن میں یہودی تھا ظاہراً مسلمان ہوگیا تھا اور جناب علی رضی اللہ عنہ کی ذات میں حلول کا قائل تھا ، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگ ان سے علیحدہ ہوگئے ان کو حسن بصری کے ساتھ رہنے والوں نے معتزلہ کا نام دیا، پھر مرجیہ ، جہمیہ، قدریہ وجود میں آگئے اور اس امت کے افتراق و انتشار کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ان مذکورہ بڑے بڑے فرقوں میں سے بعض فرقے بہت سارے فرقوں میں منقسم ہوگئے جیسا کہ خوارج اور شیعہ، ان دونوں فرقوں کے بیس بیس فرقے بن گئے۔۔۔

    پھر مامون رشید کی خلافت میں فتنہ خلق قرآن کھڑا ہوگیا اس فتنے میں مامون رشید نے بنفسہ حصہ لیا اس کو خوب پروان چڑھایا اس کی مخالفت کرنے والوں میں سے بعض کو تختہ دار پر چڑھادیا گیا اور بعض کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، اس فتنے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ مامون کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے، سالہا سال تک قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا ، اللہ تعالی نے امام احمد رحمہ اللہ کو اس میں کامیابی عطا فرمائی، انہوں نے اس فتنے کو آگے بڑھنے سے روک دیا، اس امت میں فتنہ خلق قرآن سے بڑھ کر ایک اور فتنہ نمودار ہوگیا، یہ فتنہ عقیدہ وحدۃ الوجود اور حلول کا عقیدہ تھا ۔ ایک شخص حسین بن منصور الحلاج اس امت میں پیدا ہوا جو اس عقیدے کا حامل تھا۔ وہ اپنے آپ کو ”انالحق “ یعنی خدا کہنے لگا اور اسی عقیدے کی بنیاد پر اس کو سولی پر چڑھایا گیا اس کے قتل سے فتنہ ختم نہیں ہوا لیکن اس کے ماننے والے خوف سے اپنا حلیہ بدلنے پر مجبور ہوگئے انہوں نے نئی نئی اصطلاحیں جاری کیں، نئے نئے الفاظ وضع کئے جن کے اندر انہوں نے حلاج کے مذہب کو چھپا لیا انہی اصطلاحوں میں سے وحدۃ الوجود ، وحدۃ الشہود ، حلول اور ظہور کی اصطلاحیں ہیں جب تک حکومت اسلامیہ میں اسلامی حدود پر عمل ہوتا رہا کسی ایسے زندیق و ملحدکو زندہ نہیں چھوڑا گیا جس نے قرآن و سنّت کی مقرر کردہ حدود کو توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔۔۔

    اسی ضمن میں جعد بن درہم اور جہم بن صفوان کو سزائے موت دی گئی کیونکہ انہوں نے خدائی صفات کا انکار کیا مثلاً اللہ تعالی کا کلام کرنا، رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر نزول فرمانا، اللہ تعالی کا باصورت ہونا، اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونا یعنی بذاتہ ہر جگہ نہ ہونا، اللہ کے کلام کا حروف و الفاظ و آواز کے ساتھ ہونا وغیرہ جعد بن درہم کو عیدالاضحی کے دن خالدالقسری رحمہ اللہ نے قربانی کے جانور کی طرح ذبح کیا۔ خالد نے کہا لوگو! جاو اپنی اپنی قربانی کے جانوروں کو اللہ کے نام پر ذبح کرو میں جعد بن درہم کو ذبح کرتا ہوں یہی میری قربانی ہے۔اسی طرح اس نے کہا اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام نہیں کیا کیونکہ اس کے خیال و عقیدے میں اللہ تعالی کے کلام کے حروف ہیں نہ الفاظ اور اس کے کلام کی آواز بھی نہیں ۔اس لئے موسیٰ علیہ السلام نے جوآواز سنی تھی وہ اللہ تعالی کی آواز نہیں تھی، وہ مصنوعی اور مخلوق کی آواز تھی، اس جرم میں اس امیر نے جعد کو قتل کی سزا دی کیونکہ یہ عقیدہ کفر و الحاد کا ہے۔۔۔

    جب تک اسلامی حکمراں اسلامی حدود کے نفاذ پر عمل کرتے رہے اس وقت تک ملحدین و مرتدین کے ساتھ یہی سلوک رہا، کسی کو اسلامی سزا سے بچ جانے کا موقع نہیں ملا مگر جب اسلامی حکمرانوں نے اسلامی حدود کے نفاذ کو معطل کردیا تو ملحدین نے پھر اپنا کام اعلانیہ طور پر شروع کردیا انہوں نے اعلانیہ طور پر اپنے آپ کو خدا نہیں کہا لیکن ایسی اصطلاحیں جاری کیں جن کے توسط سے انہوں نے ربوبیت کا اظہار کیا جیسا کہ ابویزید بسطامی کا قول : لیس فی جبتی الااللہ یعنی میرے جبے کے اندر خدا ہی ہے اور انہیں ملحدین کی روش پر چلتے ہوئے متاخرین صوفیاءنے لفظ مظہر ایجاد کرلیا۔

    لفظ مظہر دیو بندیوں و بریلویوں کے مشترک پیرومرشد حاجی امداداللہ کے کلام میں بہت ملے گا اور ان کے خلیفہ و جانشین شیخ اشرف علی تھانوی کی کتب اس سے بھری پڑی ہیں۔ لفظ مظہر کا معنی ہے اللہ تعالی نے فلاں چیز میں ظہور فرمایا ہے یعنی اللہ تعالی اپنی مخلوق کے روپ میں دنیا کے سامنے آتا رہتا ہے اس گمراہ عقیدے کی وضاحت ہم نے اس کتاب میں کی ہے۔

    ان کے عقیدے کے مطابق دنیا کی تمام مخلوق میں اللہ تعالی کی ایک ایک صفت ہے مگر انسان اللہ تعالی کی تمام صفات کا جامع ہےجب اللہ تعالی کی ایک صفت انسان کے علاوہ باقی مخلوق میں ہوئی تو وہ جزوی خدا ہوئی اور انسان مکمل خدا ہواکیونکہ اس کے اندر اللہ تعالی کی تمام صفات موجود ہیں اور حلاج کا یہ قول جس کو حکیم الامت اشرف علی تھانوی صاحب نے لکھا ہے کہ میری دوحیثیتیں ہیں ایک ظاہر کی اور ایک باطن کی میرا ظاہر میرے باطن کو سجدہ کرتا ہے انہوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی تھی کہ تم اپنے آپ کو خدا کہتے ہوتو نماز کس کی پڑھتے ہو؟ توانہوں نے یہی مذکورہ جواب دیا تھا ان کا یہ جواب اس عقیدے کی بنیاد پر ہے کہ انسان کی روح مخلوق نہیں یہ خالق کی تجلی ہے اس لئے یہ انسان خالق و مخلوق کا جامع ہے اس کا ظاہری بدن مخلوق ہے اور اس کی روح خالق کی روح ہے۔۔۔

    صوفیاء اس کو روح اعظم بھی کہتے ہیں، اس لئے صوفیاء کے مذہب میں خالق کائنات اگر موجود ہے تو اسی انسان میں موجود ہے اس انسان کے باہر اس کا کوئی وجود نہیں ،اسی عقیدے کو وحدۃ الوجود کہتے ہیں یعنی اس کائنات میں ایک ہی ذات کا وجود ہے اور وہ اللہ کا وجود ہے اس کے علاوہ اس کائنات میں کوئی دوسری چیز موجود نہیں ہے یہاں ظاہر میں جو مخلوق نظر آتی ہے وہ اللہ کا غیر نہیں بلکہ اس کے اسماء وصفات ہیں جیسا کہ اس کتاب میں حاجی امداد اللہ کے کلام میں قرآنی آیت ”اللہ لا الہ الاہو لہ الاسماءالحسنیٰ“ (طہ : ) کی تفسیر و تشریح میں بیان ہوا ہے حاجی امداداللہ نے صاف طور پر بیان کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ اس لئے ہوا کہ وہ اللہ کا مظہر تھے یعنی اللہ تعالی آدم کی شکل و صورت میں ظاہر ہوا اور حاجی صاحب نے یہ انکشاف بھی فرمایاکہ بیت اللہ کو بھی اسی لئے طواف کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کا مظہر ہے یعنی اللہ کی ایک شکل و صورت ہے ، وہ غیر اللہ ہوتا تو کبھی مسجود الیہ نہ ہوتااور دیوبندیہ و بریلویہ کے پیرو مرشد نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ابلیس بھی اللہ کا مظہر ہے یعنی مظہر مضل ہے کیونکہ اللہ تعالی کی دو صفتیں ہیں ایک ہادی دوسری مضل یعنی ہدایت دینے والا اور گمراہ کرنے والا جیسا کہ قرآن میں ہے یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیرا (البقرۃ ) اس لئے ابلیس اللہ کی صفت مضل کا مظہر ہے اور آدم اس کی صفت ہادی کا مظہر ہے اس لئے نہ آدم اللہ کا غیر ہے اور نہ ابلیس اس کا غیر ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں اس واقعہ میں آپ کو ملے گی جو اشرف علی تھانوی صاحب کے کلام سے ہم نے درج کی ہے،


    یعنی وہ واقعہ جس میں بیان ہوا ہے کہ ایک آدمی مست ہاتھی پر سوارہو کر آرہا تھا اور یہ اعلان کرتا جارہا تھا کہ میرا ہاتھی میرے قابو میں نہیں ہے اس سے بچو ۔ ایک صوفی نے یہ سن کر کہا : خدا کو خدا سے کیا ڈر ، وہ بھی خدا ہے میں بھی خدا ہو ں تو ڈر کس بات کا وہ ہاتھی کے قریب گیا ہاتھی نے اس کو مارڈالا یہ سن کر اس صوفی کے مرشد نے فرمایا : یہ ہاتھی اللہ کا مظہرمضل تھا اور اس پر سوار آدمی اللہ کا مظہر ہادی تھا ،اس صوفی نے مظہر مضل کو دیکھا ، مظہر ہادی کو نہ دیکھا اس لئے ہلاک ہوا یعنی اس مرشد نے اپنے صوفی مرید کی اس بات کو غلط نہیں کہا کہ یہ ہاتھی خدا تھا اور وہ صوفی بھی خدا تھا : بلکہ ہاتھی پر سوار آدمی کو بھی خدا کہا یہ تینوں خدا تھے نعوذ باللہ من الضلال کی مثال یہ ہے کہ جیسا کہ پانی میں شکر ملا دی جائے اور یہ شکر پانی میں گھل کر پانی ہوجائے شکر کا وجود باقی نہ رہے اس مثال میں مولوی اشرف علی صاحب نے حلاج کا دفاع کیا ہے کہ وہ حلول کا قائل نہیں تھا، ظہور کا قائل تھا مگر حلاج کا اپنا قول جو خود اشرف علی صاحب نے ہی نقل کیا ہے کہ میرا ظاہر میرے باطن کو سجدہ کرتا ہے اشرف علی صاحب کے قول کی تردید کرتا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہے کہ وہ رب تعالی کو اپنے اندر موجود مانتا تھا اسی لئے وہ کہتا ہے میرا ظاہر میرے باطن کو سجدہ کرتا ہے ، تواس کا باطن خدا ہوا

    حاجی امداد اللہ اور ان کے مریدوں کے عقیدے کی اس بات سے وضاحت ہوتی ہے جو انہوں نے اپنے رسالے ”وحدت الوجود “میں لکھا ہے انہوں نے لکھا ہے وحدت الوجود کی مثال یہ ہے جیسے کسی بڑے درخت کا بیج ہوتا ہے اس بیج کے اندر مکمل طور پر وہ درخت موجود ہوتا ہے مگر نظر نہیں آتا جب اس کو بویا جاتا ہے تو اس سے تمام ٹہنیاں ایسے ہی ظاہر ہوجاتی ہے جب درخت اگتا ہے تو درخت ہی نظر آتا ہے اس کا اصل بیج فناہوکر گم ہوجاتا ہے اسی طرح اس کائنات کی اصل اللہ کی ذات ہے جب اللہ نے کائنات بنائی تو وہ اس کائنات میں مخفی ہوگیا اب یہی مخلوق باقی ہے اس کا اصل ظاہر میں موجود نہیں یعنی اللہ کی ذات اس مخلوق سے باہر موجود نہیں یہ ہے عقیدہ وحدۃ الوجود درخت اور اس کے بیج کی مثال سے اس کا ئنات کا حقیقی وجود اور نعوذ باللہ رب تعالی کا اس میں فنا ہوجانا ثابت ہوتا ہے یہ دہریوں کا عقیدہ ہے جو اس کائنات میں رب کا وجود نہیں مانتے اور یہی عقیدہ فرعون کا تھا۔ شیخ ابن عربی صوفی نے فرعون کو مومن لکھا ہے (فصوص الحکم اردو ص 400)۔۔۔

    اس کی دلیل اس نے یہ دی ہے
    دیو بندیوں کے حکیم الامت سے سوال ہواکہ جناب حلول و ظہور میں کیا فرق ہے؟ فرمایا جیسے انسان آئینہ دیکھتا ہے، آئینہ میں نظر آنے والی اس کی صورت اس کے ظہور کی مثال ہے، حلول کہ جب اس کائنات میں ہر شخص خدا ہے تو فرعون بادشاہ ہونے کی وجہ سے بڑا خدا ہوا ہمارے زمانے کے صوفیاء جن کے عقائد و نظریات کی وضاحت کے لئے ہم نے یہ کتاب تالیف کی ہے اس ابن عربی کو اپنا امام و پیشوا مانتے ہیں، اس کو شیخ محمد زکریا کاندھلوی اپنی کتاب تبلیغ نصاب و فضائل اعمال میں شیخ اکبر قدس سرہ لکھتے ہیں، جس سے صاف طور پر ثابت ہے کہ یہ صوفیاء تبلیغی جماعت کے قائدین و پیشوا اور دیوبندی علماءو اکابرین، اسی ابن عربی کے دین و مذہب پر ہیں ابن عربی کے مذہب کی نشر و اشاعت حاجی امداد اللہ نے خوب کی ہے اور انہوں نے اپنے رسالے ”وحدۃ الوجود“ میں صاف طور پر لکھا ہے کہ دیو بندی اکابرین و شیوخ اس کے مذہب پر ہیں، اور وحدۃ الوجود کے عقیدہ پر ثابت قدم ہیں مگر چونکہ اس عقیدے کو چھپانا فرض ہے اس لئے وہ بظاہر اس کا انکار کرتے ہیں دیکھئے حاجی امداد اللہ کے رسائل پر مشتمل کتاب (کلیات امدادیہ ص ۹۱۲)۔۔۔

    عقیدہ حلول و وحدۃ الوجود پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جن صوفیاء نے خدائی دعویٰ کئے وہ اس دعویٰ میں حق پر تھے اور فرعون بھی حق پر تھا اس بات کی قوی شہادت یہ ہے کہ مولوی اشرف علی نے لکھا ہے کہ بندہ اپنے وجود سے پہلے خدا تھا اس کا حوالہ کتاب میں ہے اور اس بات کا ثبوت کہ دیوبندی علماءو شیوخ اسی عقیدے پر ہےںاس کتاب کے اندر آپ کو ملے گا اشرف علی صاحب کے خلیفہ خواجہ مجذوب نے حضرت کی سوانح حیات میں اشرف السوانح کتاب لکھی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ مولوی اشرف علی صاحب نے وعظ کہنا موقوف کررکھا تھا ، ایک جلسہ میں کچھ لوگوں نے وعظ کے لئے مجبور کرنا چاہا تو مولوی شاہ سلیمان پھلواری نے کہا کہ اگر اس حالت میں اس شخص نے وعظ کہلوایا تو ....بیٹھتے ہی ان کے منہ سے جو پہلا لفظ نکلے گا وہ ہوگا -انا الحق- میں خدا ہو ں(ص ۷۱۲)۔۔۔

    سوال یہ ہے کہ مولوی اشرف علی صاحب کے منہ سے اس کلمے کے نکلنے کی وجہ کیاہے ؟ اگر یہ کلمہ ان کے نزدیک دہریت و زندیقیت و الحاد ہوتا تو اس کے نکلنے کا ہر گز امکان نہ ہوتا اس لئے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کا حق یعنی خدا ہونا اشرف علی صاحب تھانوی اورا ن کی تعلیم کے عام کرنے کے لئے بنائی گئی جماعت تبلیغ کے نزدیک حق و صواب ہے چونکہ اس کا عوام الناس سے چھپانا فر ض ہے اس لئے عام حالات میں مولوی اشرف علی صاحب کے منہ سے اس کا نکلنا ممکن نہ تھا لیکن اس وقت جب ان کو وعظ کے لئے کہا جارہا تھا حالت وجد ان پر طاری تھی اس وقت ان کے منہ سے حق و سچ کلمہ کے نکلنے کا امکان تھا اس لئے اس حقیقت پر پردہ رکھنے کے لئے ان سے وعظ کہلوانا موقوف کردیا گیا
    حاجی امداد اللہ صاحب نے رسالہ وحدۃ الوجود -کلیات امدادیہ ص ۱۲۲- میں یہ بھی لکھا ہے کہ وحدۃ الوجود کی مثال اس آہنی سلاخ کی ہے جس کو آگ میں ڈال کر گرم کیا گیا ہو اور بظاہر وہ آگ بن گئی ہو اور اسی اثناء میں وہ نعرہ لگائے کہ میں آگ ہوں حالانکہ وہ فی الحقیقت سلاخ ہی ہے لیکن اس کا اپنے آپ کو آگ کہنا بھی کوئی غلط نہیں ہے میں کہتا ہوں حقیقت میں یہ مثال وحدۃ الشہود کی ہے وحدۃ الوجود کی نہیں۔۔۔

    وحدۃ الوجود کی صحیح مثال وہ ہے جو حاجی صاحب نے درخت اور اس کے بیج سے دی ہے ، کیونکہ درخت بن جانے کے بعد بیج خود بخود کالعدم ہوجاتا ہے کسی شکل میں باقی نہیں رہتا بعض لوگوں نے صوفیاء کی زندیقیت و الحاد پر مبنی اقوال کو جن میں انہوں نے اپنے آپ کو یا اللہ کے سوا کسی اور کو خدا کہا ہے ، وحدۃ الشہود پر محمول کیا ہے یعنی ظاہر میں ان کو وہ چیز خدا نظر آئی اگر چہ حقیقت میں وہ چیز خدا نہیں مخلوق تھی ان کو نظر کا دھوکہ ہوا ہے جیسا کہ آگ بن جانے والا لوہا، ظاہر میں آگ ہی نظر آتا ہے اگر چہ درحقیقت اندر سے وہ لوہا ہی ہوتا ہے اس کو وحدۃ الشھود کہتے ہیں۔۔۔

    وحدۃ الوجود پر مبنی صوفیاء کے اقوال کو وحدۃ الشہود پر محمول کرنا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا لینے سے زیادہ کچھ نہیں ہے کیونکہ وحدۃ الوجود صوفیاء کے اقوال و ملفوظات میں واضح اور صاف ہے اس میں کوئی تاویل مفید نہیں ہوسکتی جیسا کہ اس کتاب میں درج اقوال سے معلوم ہوگا
    حاجی امداد اللہ نے لکھا ہے خدا کو واحد کہنا توحید نہیں واحد دیکھنا توحید ہے (کلیات امدادیہ ص ۰۲۲) یعنی اللہ تعالی کو وحدہ لا شریک سمجھنا توحید نہیں بلکہ توحید یہ ہے کہ اس کے سوا اس کائنات میں کوئی چیز موجود ہی نہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات میں موجود ہر چیز اللہ کا عکس ہے اسی کا سایہ اسی کا پرتو ہے ہر گز اس کا غیر نہیں اور حاجی صاحب مذکور نے لکھا ہے” معلوم شد کہ درعابد و معبو د فرق کردن شرک است “(کلیا ت ص ۰۲۲)

    اور حاجی صاحب نے لکھا ہے مبتدی کو الا اللہ کہتے وقت لا معبود ، متوسط کو لا مقصود یا لا مطلوب ، کامل کو لا موجود اور ہمہ اوست کا تصور کرنا چاہئیے (کلیا ت ص ۵۱)۔۔۔

    یعنی لا الہ الا اللہ کا جب کوئی شخص ورد کرے تو لا الہ کا معنی لا معبود سمجھے ،اور جب کوئی اوسط درجہ کا صوفی و عارف ذکر کرے تو لا الہ کا معنی لا مقصود یا لا مطلوب کرے، اور جب کوئی کامل عارف اس کلمہ کا ذکر کرے تو لا الہ کا معنی لا موجود کرےاس سے معلوم ہوا کہ ہمارے زمانے کے صوفیاء بریلوی ہوں یا دیوبندی یا تبلیغی جماعت والے ان کے لاالہ الا اللہ کہنے کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ وہ اس کلمہ کا معنی وہ نہیں کرتے جو آج تک ائمہ سلف کرتے آئے ہیں یعنی لامعبود الا اللہ بلکہ وہ اس کا معنی اپنے عقیدے کے مطابق لاموجود الا اللہ کرتے ہیں ، یعنی اللہ کے سوا اس کائنات میں کوئی چیز حقیقی و اصلی طور پر موجودہی نہیں ہے ہماری اس کتاب میں اسی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ ہمارے زمانے کے صوفیاء بھی حلاج ، فرعون اور ابن عربی جیسا عقیدہ رکھتے ہےں اس کے علاوہ ہماری کتاب میں آپ کو یہ بھی ملے گا کہ دیوبندی و تبلیغی جماعت بریلویوں کی طرح قبروں سے مد د مانگنے کو جائز سمجھتے ہیں ان کے عقیدے میں انبیاء واولیاء اپنی قبروں میں اسی طرح زندہ ہیں جیسا کہ دنیا میں تھے وہ اپنی قبروں سے دوستوں کی مدد کرتے ہیں اور دشمنوں کو ہلاک کرتے ہیں اور یہ انبیاء و اولیاء اپنی قبروں میں وہ تمام کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرتے تھے، بریلوی بزرگان کی کتابوں میں اس بات کی تصریح پائی جاتی ہے کہ انبیاء قبروں میں بیویوں سے شب باشی کرتے ہیں اس بات کی صراحت بریلویوں کے امام و مجدد احمد رضا خان کے ملفوظات ص ۶۷۲ میں موجود ہے۔۔۔

    دیوبندیوں کی کتابوں میں اگرچہ اس کی تصریح موجود نہیں ۔ مگر ان کا یہ قول کہ انبیا ءاپنی قبروں میں وہ تمام کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرتے تھے تو اس میں شب باشی بھی آگئی۔۔۔

    اور تفسیر مظہری میں قاضی ثناءاللہ پانی پتی جو حنفی المسلک و صوفی المشرب ہیں لکھا ہے ، شہداء اپنے دوستوں کی مدد کرتے اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتے ہیں اور حاجی امداد اللہ صاحب نے لکھا ہے : نماز پڑھنے والا جب ایاک نعبد کہے تو لاموجود الا اللہ کا یقین کرے (کلیات امداد یہ ص ۹۵)

    اور حضرت حاجی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے :
    ذات احمد ہے وہ بحربیکراں
    ٭ جس کا ایک قطرہ ہے یہ کون و مکاں
    (کلیات امدادیہ ص ۷۵۱)

    یعنی محمد صلی اللہ علییہ وسلم ایسا سمندر ہیں جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے نعوذ باللہ من ذالک۔

    باقی تفصیلات کتاب میں ملاحظہ فرمائیں۔
    امید ہے کہ ہماری اس کتاب سے دیوبندی و تبلیغی جماعت کا دین و مذہب و عقیدہ قارئین کرام کے سامنے واضح ہوجائے گا بصمیم قلب ہم اﷲقادر مطلق سے دعاگو ہیں کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے راہ ہدایت بن جائے جو صدیوں سے پھیلائی گئی صوفیت کے اندھیروں میں گم ہیں اور ابلیس لعین اور اسکے حواریوں کی چالوں سے قرآن و سنّت سے اعراض کو ہی دین سمجھے بیٹھے ہیں۔ اللھم اھدنا الصراط المستقیم ۔ آمین۔
    الحمد للہ اولا و آخرا
    عطاءاللہ ڈیروی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    مقالات اھل الضلال

    من اصحاب تبلیغی نصاب و فضائل اعمال
    تبلیغی و دیوبندی جماعت کا تباہ کن صوفیت کا عقیدہ
    مذہب حنفی دو جماعتوں میں منقسم ہے ایک دیو بندی، دوسرے بریلوی، دیو بندی جماعت میں سے نصف صدی پہلے ایک جماعت تبلیغ کے نام سے بنی ہے .اس جماعت کے بانی صوفی الیاس صاحب ہیں جن کی ولادت ١٣٠٣ھ ، مطابق ١٨٨٦ء اور وفات ١٣٦٤ھ مطابق ،١٩٤٤ء میں ہوئی ،تبلیغ کا حکم ان کو خواب میں ملا.(ملفوظات الیاس ، ملفوظ ٥٠)

    مولاناالیاس صاحب اور دیوبندی جماعت کے اکابرین و شیوخ صوفی تھے. سید ابوالحسن علی میاں ندوی فرماتے ہیں :''مولانا الیاس صاحب کا خاندان صدیقی شیوخ کا معتبر گھرانہ تھا ''(مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت ص ٤١) اس کتاب میں علی میاں لکھتے ہیں :' مولوی الیاس صاحب نے دس سال مولوی رشید احمد گنگوھی کے پاس بسر کئے ص ٥٣ مولوی رشید احمد صاحب گنگوھی مشہور صوفی بزرگ تھے ان سے ہی مولوی الیاس صاحب نے صوفیت کے سلسلوں پر بیعت کی . کتاب مذکورکے ص ٥٤پر علی میاں لکھتے ہیں مولانا الیاس صاحب ذکر کرتے تو ایک بوجھ محسوس کرتے حضرت (گنگوھی) سے کہا تو حضرت تھرا گئے اور فرمایا مولانا محمد قاسم صاحب نے یہی شکا یت حاجی امداد اللہ صاحب سے فرمائی تو حاجی صاحب نے فرمایا اللہ آپ سے کوئی کام لے گا (کتاب مذکور ص ٥٥ ) آنے والے اوراق میں ہم نے جماعت تبلیغ اور دیو بندی علماء و اکابرین کے بارے میں انہی کی کتابوں سے ثابت کیا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں صوفی ہیں.

    بانی جماعت کا قبروں پر مراقبہ
    علی میاں فرماتے ہیں مولوی الیاس ، عبدالقدوس گنگوھی کے روضہ کے پیچھے ایک بوریہ پر بالکل خاموش دوزانوں بیٹھتے(ص٥٨) اور آپ سیدبدایونی کے مزار کے قریب پہروں خلوت میں بیٹھتے.(ص ٧١) حالانکہ مولوی الیاس صاحب کا یہ عمل استمداد بالقبورہے اورقبر والوں سے فیض حاصل کرنے کا طریقہ صوفیانہ ہے مولوی الیاس صاحب کا تعلق جماعت دیوبندیہ سے ہے اور دیوبندی جماعت صوفیت کی راہ پر گامزن ہے.

    اہل قبور سے فیض کا حصول
    اس لئے ان کے ہاں قبر والوں سے فیض ملتا ہے دیو بندی جماعت کے حکیم الامت اشرف علی صاحب سے سوال ہوا ! کیا اہل قبور سے فیض حاصل ہوتا ہے؟ مولانا نے کہا ہوتا ہے اور حدیث سے ثابت ہے حدیث شریف میں قصہ ہے ایک صحابی نے قبر پر بھولے سے خیمہ لگالیا دیکھا کہ مردہ بیٹھا ہوا قرآن شریف پڑھ رہا ہے انہوں نے سنا، اور قرآن سننے سے ثواب ہوتا ہے تو یہ فیض اہل قبور سے ہوا(الافاضات الیومیہ ج ٨ ص ٢٢٩) ۔ مولوی اشرف علی صاحب نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ ضعیف ہے حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے (تفسیر ابن کثیر اردو ص ٣ پارہ ٢٩) اور الافاضات الیومیہ ج ٣،ص ١١١ میں ہے مولوی اشرف علی صاحب سے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت قبروں پر جاکر فیض لیتے ہیں وہاں کس کا اذن ہوگا فرمایا وہاں اذن کی ضرورت نہیں اور الافاضات الیومیہ ج ٩ ص ٤٣ میں یہ بھی ہے کہ مولوی اشرف علی صاحب فرماتے ہیں اس لئے میں جو اس عمل میں مشغول ہوا تو اس مشغولی کی وجہ سے مجھ کو اس قدرظلمت محسوس ہوئی کہ اس ظلمت کی مجھ کو برداشت نہ ہوسکی اور میں پریشان ہوگیا آخر میں نے چاہا کہ اس ظلمت کو کس طرح دور کروں تو سوچا… کچھ عرصہ اہل نور کی صحبت میں بیٹھنا چاہئیے تو اس وقت زندوں میں سے کوئی ایسا نہ ملا کہ اس کے پاس بیٹھتا پھر تین کوس کے فاصلے پر ایک بزرگ کا مزار ہے وہاں گیا تب وہ ظلمت دفع ہوئی.
     
  13. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    تین سو اولیاء حرم شریف میں ہر وقت رہتے ہیں
    الافاضات الیومیہ ج ٦ ص ١٥٨ میں ہے حاجی صاحب نے فرمایا حرم شریف میں ہر وقت تین سو ساٹھ اولیاء حاضررہتے ہیں مجھ کو ایکبار باطنی اشکال پیش آیا جس سے میں پریشان ہوگیا دل میں کہا کہ تم تین سو ساٹھ کس مرض کی دوا ہو یہ خیال آنا تھا کہ ایک شخص آیا اس نے مجھ پر نظر کی وہ اشکال دور ہوگیا. ان واقعات سے معلوم ہوا جماعت دیو بند یہ قبروں سے فیض حاصل کرنے پر یقین رکھتی ہے اور بیت اللہ میں تین سو ساٹھ اولیاء کا ہر وقت موجودہونا بھی دیو بندی جماعت کے اکابرین کے ایمان میں داخل ہے .قریش مکہ نے بھی تین سو ساٹھ بت بیت اللہ میں گاڑ رکھے تھے دیکھئے دیو بندی عقیدے اور مشرکین مکہ کے عقیدے کے مابین کتنی مشابہت پائی جاتی ہے قریش مکہ نے جو بت بنا رکھے تھے وہ بھی ان کے عقیدے کے مطابق اولیاء ہی کے مجسمے تھے.
    تبلیغی جماعت دیو بندی جماعت ہے۔۔۔

    تبلیغی جماعت ہمیشہ انکار کرتی ہے کہ دیو بندی جماعت سے اس کا کوئی تعلق ہے یہ بات سوائے دھوکے بازی کے اور کچھ نہیں اس کے ثبوت کے لئے پڑھئیے.علی میاں ندوی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ آخری علالت میں یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ ایسا بیمار تھا اور اتناکمزور تھا کہ بالاخانے سے نیچے نہیں اترسکتا تھا اتنے میں خبر سنی کہ حضرت سہارنپوری (خلیل احمد مؤلف بذ ل المجھود ) دہلی تشریف لائے ہیں بس بے اختیار اسی وقت پیدل دہلی روانہ ہوگیا یہ بھی یادنہ رہا میں اسقدر بیمار اور کمزور تھا کہ بالاخانے سے اترنا دشوار تھا دہلی کے راستہ میں مجھے یاد آیا… اس کے بعد علی میاں نے لکھا ہے (دوسرے مشائخ اور بزرگوں سے تعلق)اس عرصہ میں دوسرے مشائخ اور مولانا گنگوھی کے دوسرے خلفاء سے عقیدت مندی اور صحبت و استفادہ کا تعلق برابر قائم رہا شاہ عبدالرحیم رائے پوری، مولانا محمودالحسن تھانوی صاحب، (دیوبندی) اور مولانا اشرف علی تھانوی ،سے ایسا تعلق تھا کہ فرماتے تھے یہ حضرات میرے جسم و جان میں بسے ہوئے تھے.(مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت ص ٥٨،٥٩)

    بانی جماعت صوفی تھے
    بانی جماعت تبلیغ مولوی الیاس صوفیت کے طریق کار پر کاربند تھے یہ طریقہ گنگوھی کے صاحب زادے حکیم مسعود احمد صاحب کے ہاتھوں پروان چڑھا علی میاں ندوی فرماتے ہیں آپ ابتدا سے نحیف ولاغر تھے اسی گنگوہ کے قیام میں آپ کی صحت خراب ہوگئی درد سرکا ایک خاص قسم کا دورہ پڑا جسکی وجہ سے مہینوں سرکا جھکانا تکیہ پر سجدہ کرنا بھی نا ممکن تھا مولانا گنگوھی کے صاحبزادے حکیم مسعود احمد صاحب معالج تھے ان کا خصوصی طرز یہ تھا کہ بعض امراض میں پانی بہت دنوں کے لئے چھڑا دیتے تھے بہت کم لوگ اس پرہیز کو برداشت کرسکتے مگر مولانا نے اپنے مخصوص اصول کی پابندی اور اطاعت کے مطابق معالج کی پوری اطاعت کی اور پانی سے پورا پرہیز کیا.

    بانی جماعت نے سات برس کامل پانی نہیں پیا
    مولوی الیاس صاحب نے سات برس کامل پانی نہیں پیااس کے بعد بھی پانچ برس تک برائے نام پانی پیا (کتاب مذکورہ ٥٥،٥٦) اس واقعہ سے یہ حقیقت کھل گئی کہ صوفیت کی راہ پر مولوی الیاس صاحب کو اسی صوفی حکیم نے ڈالااس حکیم صاحب کا یہ طریقہ علاج بالکل جوگیوں اور رہبانیت کی راہ پر چلنے والوں کے مشابہ تھا یہ حکیم صاحب ایک سیدھے سادھے فطرت انسانی پر ہونے والے کے دماغ کو اسقدر بگاڑدیتے تھے کہ وہ زندگی بھر اپنی فطرت کی طرف لوٹنا معدوم کردیتا پانی ،کھانا، فطرت انسانی کے لئے لازمی چیزیں ہیں جو انسان غیر فطری طریقہ اختیار کریگا اس کا دل و دماغ قطعاً فطرت پر نہیں رہیگا معلوم یہ ہوتا ہے اس حکیم صاحب نے سیدھے صاف عقیدہ مسلمانوں کو جو گیوں ،کاہنوں رھبانوں کی راہ پر ڈالنے کا مطب کھول رکھا تھا ان کے طریقہ علاج نے مولوی الیاس صاحب کو وہاں پہنچا دیا جہاں سے واپس ہونا تقریبا نا ممکن ہوجاتا ہے.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں نبوت سے پہلے عبادت کی ان ایام کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا پانی اپنی ساتھ رکھتے اور بوقت ضرورت استعمال فرماتے تاکہ فطرت انسانی میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو امام بخاری اپنی صحیح میں حدیث لائے ہیں اس میں یہ الفاظ پڑھئے.

    فکان یخلو بغارحراء فیتحنث فیہ وہو التعبدالیا لی ذوات العدد قبل ان ینزع الی اہلہ ویتزود ثم یرجع الی خدیجۃ فیتزود لمثلہا حتی جاء ہ الحق (البدایۃ والنہایۃ).

    یعنی جتنی راتیں غار حراء میں رہتے اس قدر کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوں میں وصال سے بھی اسی لئے منع فرمایا :
    عن ابی ہریرۃ قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الوصال فقال رجل من المسلمین فانک تواصل یا رسول اللہ فقال وایکم مثلی الی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی. (متفق علیہ سبل السلام ص ٦٥١).

    ابوہریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوں میں وصال سے منع فرمایا تو ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول آپ بھی وصال فرماتے ہیں آپ نے فرمایا تم میں سے کون ایسا ہے جو میری مثل ہو مجھے میرا اللہ رات کو کھلاتا و پلاتا ہے. اس حدیث میں صاف وضاحت ہے کہ روحانی غذا انبیاء کو ملتی ہے انبیاء بغیر کھائے پیئے زیادہ عرصے جی سکتے ہیں اس چیز میں انبیاء کا کوئی ثانی نہیں ہے.
     
  14. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    مولوی الیاس کی والدہ کا دعویٰ مجھے اللہ کھلاتاپلاتاہے
    لیکن مولوی الیاس صاحب کی والدہ کا دعویٰ تھا کہ وہ تسبیحات سے غذا حاصل کرلیتی ہیں اس لئے وہ بغیر کھائے پیئے صحت مند تندرست رہتیں .(مولوی الیاس کی دینی دعوت ص ٥٠)
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں