بحرین: امریکہ اور سعودی عرب کی بے چینی

کنعان نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏فروری 16, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850

    بحرین: امریکہ اور سعودی عرب کی بے چینی


    امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ خیلیج کی چھوٹی سے ریاست بحرین میں ہے جہاں آج کل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اور امریکی اور سعودی عرب نگاہیں ان مظاہروں پر بڑی باریک بینی سے جمی ہوئی ہیں۔

    بحرین میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن یہاں اقتدار سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندان کے پاس ہے جنھیں الخلیفہ کہا جاتا ہے۔

    جوں جوں مصر میں تیزی کے ساتھ واقعات آگے بڑھے، بحرین میں حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے چودہ فروری کو غصے کے دن کے طور پر منانے کا مطالبہ کر دیا۔

    چنانچہ پیر کو جزیرے کے ان دیہاتوں میں جہاں شیعہ مسلمانوں رہتے ہیں جھڑپیں ہوئیں اور دارالحکومت مناما میں ’مصر کی تحریر سکوائر جیسی تحریک‘ کے آغاز کی کوششیں ہوئیں۔

    مظاہرین کی طرف سے بنائی گئی وڈیو سے جسے انٹرنیٹ پر بھی پوسٹ کیا گیا ہے دکھائی دیتا ہے کہ پولیس پُر امن مظاہرین پر اشک آور گیس سے حملہ کر رہی ہے اور ان پر ربڑ کی گولیاں چلا رہی ہے۔

    ابھی تک حکومت کی طرف سے درشت طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں اور دوہلاک ہوگئے ہیں۔ اکیس برس کے ایک نوجوان کی ہلاکت ربڑ کی گولی لگنے سے ہوئی۔

    منگل کو جب اس نوجوان کے جنازے کے موقع پر احتجاجی مارچ ہوا تو گولی لگنے سے ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔

    ماضی میں بھی احتجاج کرنے والوں کو عام طور پر آنسو گیس کا بھی سامنا ہوتا ہے اور سکیورٹی افواج کے ہاتھوں مار پیٹ کا بھی۔ لیکن گزشتہ کسی برسوں میں پہلی بار اس طرح کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان ہلاکتوں کی وجہ سے بحرین کے عام لوگوں میں غصہ مزید بڑھے گا۔

    مظاہرین جن میں سے اکثر بحرینی پرچم لہرا رہے ہوتے ہیں، اب ایک نئے آئین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اگست سنہ دو ہزار دس سے اب تک جن سینکڑوں شیعہ افراد اور لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے انھیں رہا کیا جائے اور شہری حقوق کی پامالیاں ختم کی جائیں۔

    بحرین میں سکیورٹی پر مامور افراد بحرینی نہیں بلکہ پاکستان، یمن، شام اور اردن کے سنی مسلمان ہیں۔ ان کی شہریت یقینی بنانے کے لیے برق رفتار طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جاتا ہے۔ اور مظاہرین ان لوگوں سے تنگ ہیں۔بحرین کے بادشاہ نے سرکاری ٹی وی پر آ کر وعدہ کیا ہے کہ دو مظاہرین کی ہلاکتوں کی تقحقیات کی جائے گی اور تبدیلیوں پر بات چیت کے لیے انھوں نے ایک کمیٹی بنانے کی بھی پیشکش کی ہے۔

    لیکن بحرین کے حقوقِ انسانی کے مرکز میں نجیب رجب نے اپنے فوری ردِ عمل میں یہ کہا: ’بہت دیر ہوگئی اور یہ سب کچھ بہت کم ہے۔کل لوگ اصلاحات کی مانگ کر رہے تھے لیکن آج ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت تبدیل کی جائے۔‘

    تاہم مغربی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں بحرین میں مصر جیسا انقلاب شاید نہ آئے۔ جین ڈیفنس ویکلی کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے سینیئر تجزیہ نگار گالا ریانی کہتے ہیں ’بحرین اس طرح کی بد امنی کا عادی نہیں ہے۔ یہاں حکام صورتِ حال پر قابو پا لیں گے جیسا کہ وہ ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں اگر احتجاج کی نوعیت فرقہ وارانہ ہوئی تو۔‘

    لیکن یہ ایک بڑی ’اگر‘ ہے۔

    خاتون صحافی ریم خلیفہ جو بحرین کے اخبار الوسط کے سینیئر ایڈیر ہیں کہتی ہیں ‘اس مرتبہ احتجاج مختلف قسم کا ہے۔ نوجوان سنی اور شیعہ دونوں اکٹھے مارچ کر رہے ہیں اور وہ نعرے لگا رہے ہیں ہم ’نہ سنی نہ شیعہ صرف بحرینی‘۔ ریم کہتی ہیں کہ اس طرح کی صورتِ حال ہم نے پہلی نہیں دیکھی۔

    ریم کے مطابق اس احتجاج میں خواتین کی بھر پور شمولیت ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سیکورٹی کے اہلکار ان کے ساتھ بدتمیزی شاید بہت کم کریں۔ تاہم انھوں نے خود ایک خاتون کے ساتھ اس وقت بدسلوکی ہوتے دیکھی جب اس خاتون نے ملکی پرچم لہراتے ہوئے سکیورٹی لائن عبور کی۔

    بحرین میں سکیورٹی پر مامور افراد بحرینی نہیں بلکہ پاکستان، یمن، شام اور اردن کے سنی مسلمان ہیں۔ ان کی شہریت یقینی بنانے کے لیے برق رفتار طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جاتا ہے۔ اور مظاہرین ان لوگوں سے تنگ ہیں۔

    مظاہرین میں سے ایک نے مجھے بتایا ’ان میں سے کچھ پولیس والے ایسے ہی جو عربی ہی نہیں بولتے اور نہ لوگوں کے لیے ان کے دل میں کوئی احترام ہے۔ انھیں احترام ہے تو بس اپنے آقاؤں کا۔‘

    ادھر امریکی صدر براک اوباما کو ایک اور سر دردی کا سامنا ہے کیونکہ بحرین میں پانچواں امریکی بحری بیڑہ ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کے سامنے دیوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    اگر یہ مظاہرے فرقہ وارانہ تقسیم سے آگے نکل گئے اور بحرینی حکومت نے ان کو دبانے کے لیے مزید وحشیانہ طریقے استعمال کیے تو واشنگٹن کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گیاور مصر کی طرح امریکی پالیسی یہی رہی ہے کہ بحرین میں استحکام اور لوگوں کو دبا کر رکھنے والی حکومت کی حمایت جاری رکھی جائے اور بحرینیوں کے جائز مطالبات نظر انداز کیے جاتے رہیں۔

    لیکن اگر یہ مظاہرے فرقہ وارانہ تقسیم سے آگے نکل گئے اور بحرینی حکومت نے ان کو دبانے کے لیے مزید وحشیانہ طریقے استعمال کیے تو واشنگٹن کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی اور بحرینی حکومت کی مدد کرنے کا مطلب ایک اور عرب ملک میں لوگوں کی جمہوری خواہشات پوری نہ کرنا ہوگا۔

    سعودی عرب کی پریشانی تو اور بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ پانی کے اوپر سے ایک راستہ بحرین کو سعودی عرب کی سلطنت سے ملا دیتا ہے۔

    طاقتور سعودی وزیرِ داخلہ شہزادہ نایف سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ماہر نے مجھے بتایا کہ اگر بحرین میں صورتِ حال قابو سے باہر ہوگئی تو سعودی حکومت وہاں مداخلت کر دے گی۔

    گالا ریانی بھی متفق ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں سعودی عرب کو بحرین کی حمایت کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور بدترین صورت میں براہِ راست سعودی مداخلت کا بھی امکان ہے اگر بحرینی حکومت مظاہرین پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی۔


    بحوالہ خبر
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    امریکی بحری بیڑہ انتظار کر رہا ہے کہ کب حالات خراب ہوں اور کب ایرانی رافضیوں کے لیے راستہ بنایا جا سکے ۔ اس لیے کہ انہیں بحرین کی سنی حکومت پسند نہیں‌۔

    سعودی وزیز اتنا طاقتور ہے کہ اس کا اپنے قریبی تعلق رکھنے والا ماہر بھی بی بی سی کو خبریں دے رہا ہے ۔
     
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم!

    اللہ سبحان تعالی سے دعا ھے کہ اس وقت دنیا میں مسلمان پر جو مشکل وقت ھے اسے ٹال دے اور مسلمانوں کو قوت عطا فرما کہ وہ ان کا مقابلہ کر سکیں آمین ثم آمین

    والسلام
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    آمین ثم آمین
     
  5. وردۃ الاسلام

    وردۃ الاسلام -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2009
    پیغامات:
    522
    مجھے یہ شیعہ مسلمان اور سنی مسلمان پڑھ کر انتہائی حیرت ہوئی ادھر تو لکھا ہے کہ حضرت عائشہ مومنوں کی مائیں ہیں۔۔مومنوں کی ماوں پر بہتان لگانے والے خبثاء مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔انہیں مسلمان کہنے والے برائے مہربانی علماء کی طرف رجوع کریں اور اپنے دین کی طرف لوٹیں۔۔۔۔مجھے حیرت ہوئی کہ جواب میں کسی بھی ساتھی نے شیعہ مسلمان کے لفظ پر اعتراض نہیں کیا شاید یہ دینی غیرت اور دینی محبت کے خاتمہ کی دلیل ہے اللہ ہمیں اپنی اپنے رسول کی انکی بیویوں کی محبت نصیب فرمائے اور ہمیں ہدایت نصیب کرے۔
     
  6. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    میرے خیال سے یہ خبر صرف کاپی پیسٹ کی گئی ہے اس لئے اس خبر پر کسی نے توجہ نہیں کی!
    بہر حال شیعہ ہوں یا سنی فتوی نام پر نہیں‌عمل پر لگتاہے اگر جو کام شیعہ کرتے ہیں تو وہی کام اگر سنی کریں‌تب بھی کافر ہیں‌مگر ہم سنی مسلمان لکھتے ہیں۔
     
  7. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    بحرین میں احتجاج



    بحرین میں بھی احتجاج شروع ہو گیا

    http://www.youtube.com/watch?v=kRxi9LJXoTY

    بحرین میں حکومت مخالف مظاہروں کے چوتھے دن علی الصبح پولیس نے ان مظاہرین کے خلاف کارروائی کی جو دارالحکومت مناما کے پرل سکوائر میں جمع تھے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔



     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وردہ سسٹر یہ بحث پہلے بھی ہو چکی ہے۔ ہر شيعہ كو رافضى سمجھنا غلط ہے۔ کچھ لوگ صرف نام كے شیعہ ہوتے ہیں غلو اور صحابہ كرام اور ازواج مطہرات رضوان اللہ عليہم اجمعين کی منافرت نہیں رکھتے۔ اب ان كو كيا كہیں گے؟
     
  9. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672

    بھائی یہ ایک بیماری ہے جو دور سے علاج کی طرح لگتی ہے مگر اس کے پیچھے بہت بڑے نقصانات چھپے ہوئے ہیں۔
     
  10. علی....Ali

    علی....Ali -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 17, 2009
    پیغامات:
    39
    اپکا شکریہ ۔ ۔ ۔
    اچھی شئیرنگ ہے
     
  11. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    واقعی؟؟؟
    مجھے سچ میں یہ بات نہیں‌معلوم تھی
     
  12. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ویسے اس بات کو لیکر میں‌یہاں‌کچھ آڈ کرونگا۔
    میرے ایک شناسا ہیں، بنیادی طور پر وہ مہدوی ہیں، اور انکا گھرانا اس معاملے میں‌کٹر مہدوی ہے، انکے خاندان میں‌شادیاں بھی انکے اپنے مہدوہی ہی میں‌ہوتی ہیں، یہ لوگ صرف مہدوی مساجد ہی میں‌نماز پڑھتے ہیں ، یہاں‌تک کہ جمعہ بھی یہ لوگ اگر مہدوی مسجد نہ ملے تب گھر میں ہی پڑھنے کو ترجیح‌دیتے ہیں۔

    میں‌نے جب بہت ہی محتاط انداز میں‌ان سے بات کی، تب پتہ چلا کہ وہ باغی مہدوی ہیں، یعنی انکے شروع ہی سے اٹھنا بیٹھا تبلیغی جماعت کے لوگوں‌کے ساتھ رہا، یہاں‌تک کہ وہ ایک ایریا کے تبلیغی جماعت کے امیر بھی رہ چکے ہیں۔۔۔:00003:

    بہرحال عملی طور پر وہ آج بھی ایک عام مسلمان ہے، عام معنوں‌میں‌سنی مسلمان کہلائے جاسکتے ہیں، نہ وہ حنفی ہیں‌اور نہ وہ پورے کے پورے مہدوی۔۔۔!!! انکی شادی مکمل مہدوی رسم و رواج کے ساتھ ہوئی۔

    بہرحال اسلام سے خارج کردینے کا معاملہ تھوڑا سا جلدبازی ہوگی کسی کو بھی کیونکہ اللہ اسکے عقائد اور اعمال کو بہتر جانتا ہے، لوگ تو اسکو مہدی جانتے تھے، لیکن وہ ایک تیسری کیٹگری کے صاحب نکلے ایسے ہی میرے بھی کنٹیکٹ میں‌بعض‌شیاہ حضرات ہیں، جو کہ ان مہدوی صاحب جیسے ہی ہیں۔

    باقی واللہ اعلم۔
     
  13. یاسر عمران مرزا

    یاسر عمران مرزا -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 15, 2010
    پیغامات:
    205
    اب پاکستان میں عوامی احتجاج کا انتظار ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  14. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بھائی اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا، اللہ تعالی ہمیں‌محفوظ رکھے۔ آمین
    حکومت نا ہونے سے بہترہے کہ ظالم حکومت ہی ہو، کیونکہ جب حکومت نہیں‌ہوتی تو زیادہ خون بہتا ہے۔
     
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    جزاکم اللہ خیرا۔ ابوبکر بھائی ۔
    واقعی ان مظاہروں نے فتنے کی شکل اختیار کر لی ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے ۔ جو لوگ کل تک تیونس میں تبدیلی کو انقلاب کہ رہے تھے وہی آج اسے فتنہ کہ رہے ہیں ۔ پہلے تیونس ، پھر مصر اور اب بحرین ، یمن اور لیبیا میں بھی حالات خراب ہو رہے ہیں‌۔ معلوم نہیں اسلام کے دشمنوں کا یہ پھیلایا ہوا فتنہ کیا گل کھلائے گا۔

    پاکستان میں بھی ریمنڈ ڈیوس کی وجہ سے ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں‌۔ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے ، ڈرون اٹیکس اور جو دھماکوں کا جو سلسلہ تھا وہ بھی کم ہو گیا ہے ۔ اللہ بہتر جاتا ہے کہ مستقبل میں‌مسلمانوں کے لیے کونسی آفت آنے والی ہے ۔ اللہ مسلمانوں کو محفوظ رکھے ۔ آمین ۔
     
  16. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جی ہاں در اصل یہ تو ایک سازش سی لگ رہی ہے اور لگتا ہے کہ دشمنان اپنے کھیل کا اختتام کرنا چاہتے ہیں اور مسلم امہ کو بےچین و منتشر کرنے کی کوشش ہے۔
    مگر لوگ یہ نہیں‌سمجھتے۔
    اللہ تعالی مسلم امہ کو ان فتنوں‌سے بچائے
    آمین
     
  17. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم!

    جزاک اللہ خیر، یہ بات ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا، میں اس بات سے متفق ہوں،
    انقلاب کے لئے کوئی نعم البدل بڑی شخصیت کا ہونا بھی بہت ضروری ھے، مگر اس وقت جتنے بھی عرب ممالک میں انقلاب لائے جا رہے ہیں ان کا نعم البدل امریکہ ہی ھے، یاسر عرفات کو ہٹایا تو اپنا پسندیدہ نمائندہ مکمل طور پر کھڑا کر دیا۔ پاکستان میں زرداری اور اسی طرح عراق اور اب بحرین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی ساتھ دوسرے عرب ممالک میں بھی لہر دور رہی ھے۔

    والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 19, 2011
  18. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    دیکھا جائے تو مسلم ممالک میں‌جب بھی کوئی صدر کھڑا ہوتاہے یا کوئی ان مسلم ممالک میں‌صدر بنایا جاتا ہے تو زیادہ طرح تو امریکہ کے ہی بتائے ہوئے یا چوز کیئے ہوئے لوگ ہوتے ہیں‌تاکہ وہ خود بھی اُن ملکوں‌میں‌آسانی سے آجا سکیں‌۔
     
  19. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    لیبیا: :ہلاکتوں کی تعداد چوراسی

    لیبیا: :ہلاکتوں کی تعداد چوراسی


    لیبیا کے شہر بن غازی میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوراسی تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ادھر بحرین کے بادشاہ نے ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے قومی مشاورت کا اعلان کیا ہے تاہم حکومت مخالف مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کے بعد دارالحکومت مناما میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔

    لیبیا میں چھیالیس ہلاکتیں بحرین میں بڑھتا تناؤ یمن میں پانچ ہلاکتیں.​


    حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں تین دن سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوراسی تک پہنچ گئی ہے۔

    اب تک تشدد کی زیادہ تر کارروائیاں لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں ہوئی ہیں جہاں صرف ایک ہسپتال میں پینتیس لاشیں دیکھی گئی ہیں۔

    اس سے پہلے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک اور تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ اسے شہر کے الجعلہ ہسپتال میں موجود ذرائع نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے بیشتر کے سر، سینے اور گردن میں گولیاں ماری گئی ہیں۔

    مشرقِ وسطی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا اندازہ بھی کافی محتاط ہو سکتا ہے۔

    لیبیا میں حکام حکومت مخالف مظاہرین کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ حکومتی غضب اور سختی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔حکام نے مظاہرین کا زور توڑنے کے لیے متعدد انٹرنیٹ ویب سائٹس بند کر دی ہیں جبکہ مظاہروں کا مرکز بنے علاقے کی بجلی بھی منقطع کر دی گئی ہے۔

    صدر قذافی کے حامی میڈیا پر بھی مظاہرین کو سنگین نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔ معمر قذافی کے نظریات کی حفاظت پر مامور سرکاری ادارے انقلابی کمیٹی تحریک کا کہنا ہے کہ صدر قذافی اور انقلاب وہ سرخ لکیریں ہیں جن کے نزدیک آنا ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف ہوگا۔

    لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بِن غازی میں حکومت مخالفت سرگرمیوں کا سلسلہ جمعہ کو دوسرے دن بھی جاری رہا اور دسیوں ہزاروں مظاہرین شہر کی سڑکوں پر جمع رہے۔ مظاہرین کا بڑا اجتماع شہر کی عدالت کے سامنے ہوا اور عینی شاہدین کے مطابق جہاں احتجاج میں شامل کچھ لوگ تبدیلی کا مطالبہ کرتے نظر آئے وہیں کچھ کا کہنا تھا کہ انہیں تبدیلی نہیں بلکہ کچھ زیادہ آزادی چاہیے۔

    صدر قذافی اور انقلاب وہ سرخ لکیریں ہیں جن کے نزدیک آنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔

    لیبیائی حکام
    عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کو مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں شہر کے الکش علاقے میں تین افراد ہلاک اور دیگر علاقوں میں کم از کم بارہ افراد مارے گئے ہیں۔ تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    بن غازی میں جمعرات کو بھی مظاہروں کے دوران پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ جمعہ کو بھی بن غازی میں متعدد سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔ بن غازی کے ہوائی اڈے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    بن غازی کے ہمسایہ شہر البیدہ سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات پیں اور دو جلا وطن گروپوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ البیدہ پر اب قذافی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ تاہم بی بی سی کے لیے ان معلومات کی تصدیق کرنا ممکن نہیں کیونکہ بن غازی سے غیر ملکی نامہ نگاروں کی کوریج پر پابندی عائد ہے۔


    بحوالہ خبر
     
  20. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    میں تو یہ ہی کہوں گا کے سازش کو بھی سازش کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کے شیعوں کو مسلمان سمجھنے والے پہلے اس غلط فہمی کو بالکل دور کردیں کے ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔۔۔ بحرین میں مظاہرہ کرنے والے شیعہ ہیں۔۔۔ بی بی سی نے لفظ مسلمان ایڈ کرکے تھوڑا سا تحفظ فراہم کردیا ہے۔۔۔ تاکہ شغل میلہ لگا رہے۔۔۔سیدھی بات ہے کسی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی ممالک کی مداخلت کو سب سے پہلے ختم کرنا چاہئے۔۔۔ تاکہ مسئلے کو ایک ٹریک پر ڈالا جائے۔۔۔ یہاں پر علماء حق پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کے وہ اس فتنے کو دبانے کے لئے حکمت اور قرآن وحدیث کے واضح احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے فتوٰے جاری کریں۔۔۔ جن کو من وعن تسلیم کیا جائے اور جو گروہ تسلم نہیں کرنا چاہتا تو یہ راہ اُس نے خود تجویز کی ہے لہذا کچھ نہیں ہوسکتا جیسا کے قرآن نے بھی کھلم کھلا بیان کیا ہے کے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں اگر کسی بات میں نزاع یا اختلاف ہوجائے تو اُس کو دور کرو اور اگر کوئی جماعت زیادتی کرتی ہے تو جن پر زیادتی ہورہی ہو اُن کے ساتھ مل کر زیادتی کرنے والی جماعت کے خلاف جنگ کرو بات ختم۔۔۔۔یہ فتنہ یہیں ختم ہوجائے گا۔۔۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا الامان والحفیظ والی بات رہ جاتی ہے۔۔۔ یعنی فرقہ واریت سنی شیعہ۔۔۔اب لفظ مسلمان کدھر گیا؟؟؟۔۔۔ یعنی حالات جب قابو سے باہر ہوجائیں گے تو بحری بیڑہ موجود ہے ہی نظام حکومت کو سمبھالنے کے لئے۔۔۔۔ مسلمانوں بیداری کا وقت ہے۔۔۔۔ لفاظی کا نہیں۔۔۔
    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 20, 2011
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں