حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

mahajawad1 نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏فروری 26, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    امّ المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا​

    نام زینب، کنیت امّ الحکم ہے۔ ان کا تعلق قریش کے خاندان اس بن خزیمہ سے تھا۔سلسلہ نسب یہ ہے:
    زینب بنت جحش بن رمأب بن یعمر بن صبرۃ بن مرۃ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ۔
    ماں کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے سابقون الاولون بننے کا شرف حاصل کیا۔ سن ۱۳ ہجری بعد بعثت میں اپنے اہل خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئیں۔
    حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیحد محبوب رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ علامہ ابن سعد رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت زینب کو بعض وجوہات کیا بناء پر یہ رشتہ پسند نہ تھا اسلئے انہوں نے نکاح سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ! میں زید کو اپنے لئے پسند نہیں کرتی۔‘‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نکاح میں بہتری سمجھتے تھے اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کے مطابق حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا عقد حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ہو گیا۔ لیکن دونوں میں نباہ نہیں ہو سکا۔ تقریباً ایک برس بعد حضرت زید نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی’’ کہ یا رسول اللہ! زینب مجھ سے زبان درازی کرتی ہے میں اسکو طلاق دینا چاہتا ہوں۔‘‘
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ طلاق اللہ کے نزدیک پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ چنانچہ سورۃ احزاب کی اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے:

    وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ (الاحزاب:۳۷)

    ترجمہ: اور جبکہ تم اس شخص سے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا، یہ کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو نکاح میں رکھو اور اللہ سے ڈرو۔

    بہرحال حضرت زید رضی اللہ عنہ کا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نباہ نہ ہو سکا،اور حضرت زید نے بالاخر حضرت زینب کو طلاق دے دی۔ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایّام عدّت پورے کر چکیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان سے نکاح کرنا چاہا لیکن عرب میں اس وقت تک رسوم جاہلیّت کا اثر باقی تھا اور لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کے برابر سمجھتے تھے۔ چونکہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے تھے اور لوگوں میں زید بن محمد کے نام سے مشہور تھے اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عام لوگوں ( اور بالخصوص منافقوں) کے اعتراض کے خیال سے اس نکاح میں تامّل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کو چونکہ جالیت کی رسوم کو مٹانا مقصود تھا اس لئے یہ آیت نازل ہوئی۔

    وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ (سورۃ الاحزاب: ۳۷)
    ترجمہ: تم اپنے دل میں وہ بات چھپاتے ہو جس کو اللہ ظاہر کر دینے والا ہے اور لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔

    اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں معترضین کا متنبّہ کیا۔

    مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (سورۃ الاحزاب:۴۰)
    ترجمہ: لوگو! محمّد تمہارے مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النّبیّین ہیں۔
    پھرحکم ہوا۔

    ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ( الاحزاب:۵)
    ترجمہ: لوگوں کو انکے (حقیقی) باپ کے نام سے پکارو۔

    اب کوئی امر مانع نہ تھا چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خدمت حضرت زید رضی اللہ عنہ کع و ہی تفویض کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا پیغام لے کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور کہا: ’’ زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے نکاح کے خواہشمند ہیں۔‘‘
    حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ میں اللہ کے حضور استخارہ کرتی ہوں۔‘‘
    یہ کہہ کر مصلّے پر کھڑی ہو گئیں، ادھر اللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی:۔

    فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا ( الاحزاب:۳۷)
    ترجمہ: پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے وہ (مطلّقہ خاتون) تیرے نکاح میں دے دی۔

    گویا اللہ تعالیٰ نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب کے مکان پر تشریف لے گئے اور بلا استیذان اندر چلے گئے۔ صبح کو دعوت ولیمہ ہوئی جس میں روٹی اور سالن کا انتظام کیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو بلانے کے لئے بھیجا، تین سو آدمی دعوت میں شریک ہوئے۔ دس دس کی ٹکڑیوں میں آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ چند لوگ کھانا کھا کر باتوں میں مشغول ہو گئے اور اٹھنے کا خیال ہی نہ رہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازراہ مروّت انہیں اٹھنے کیلئے نہ فرماتے اور بار بار اندر آتے اور باہر جاتے۔ اسی مکان میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھی تھیں۔ جب بہت دیر ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل کی:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ (سورۃ الاحزاب: ۵۳)
    ترجمہ: اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کروکھانے کیلئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور کھانے کے بعد نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو۔نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ( بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کی اوٹ سے طلب کرو۔

    اس آیت کے نزول کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کے دروازے پر پردہ لٹکا دیا اور لوگوں کو گھر کے اندر داخل ہونے کی ممانعت ہو گئی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح کئی خصوصیات کا مظہر تھا۔
    (۱) جاہلیت کی رسم کے متنبّیٰ حقیقی بیٹے کا درجہ رکھتا ہے، مٹ گئی۔
    (۲) لوگوں کو حکم ہوا کہ کسی کو حقیقی باپ کے علاوہ دوسرے (منہ بولے باپ) سے منسوب نہ کرو۔
    (۳) اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح وحی کے ذریعے کیا۔
    (۴) نہایت شاندار ولیمہ کیا گیا جس میں بکری کا گوشت اور روٹی حضرت امّ سلیم رضی اللہ عنہا کا بھیجا ہوا مالیدہ شامل تھا۔ بکثرت لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔
    (۵) اس موقع پر آیت حجاب نازل ہوئی اور پردے کا رواج ہوا۔
    یہی خصوصیات تھیں جن کی بنا پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہمسری کا دعویٰ تھا۔
    حضرت زینب رضی اللہ عنہا نہایت دیندار، پرہیزگار، حق گو اور مخیّر تھیں۔ ان کی عبادت و زہد کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اعتراف تھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’الاصابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی ایک جماعت میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی اس موقع پر موجود تھیں۔انہوں نے کوئی ایسی بات کہی جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ناگوار گزری۔ انہوں نے ذرا تلخ لہجے میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو دخل دینے سے منع کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عمر ان سے کچھ نہ کہو یہ اوّاہ (یعنی بڑی عبادت گزار اور اللہ سے ڈرنے والی ہیں)۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کے متعق فرمایا ہے:
    ’’ میں نے دین کے معاملے میں زینب سے بہتر کوئی عورت نہیں دیکھی۔‘‘
    واقعہ افک میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی حقیقی بہن حمنہ رضی اللہ عنہا بنت جحش بھی غلط فہمی کا شکار ہو گئی تھیں، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا: ’’ میں عائشہ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں پاتی۔‘‘
    ابن سعد کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہّرات کو مخاطب کر کے فرمایا:
    تم میں سے مجھے وہ جلد ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہوگا۔‘‘
    لمبے ہاتھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد فیّاضی تھی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بیحد فٰیّاض اور مخیّر تھیں۔ چنانچہ اس پیشگوئی کا مصداق ثابت ہوئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج میں سب سے پہلے انہوں نے ہی وفات پائی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا خود اپنے دست بازو سے روزی کماتی تھیں وہ فن دباغت جانتی تھیں، اس سے جو آمدنی ہوتی تھی اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتی تھیں۔
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں تمام امّہات المؤمنین کا خطیر وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا یہ وظیفہ ملتے ہی حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ سالانہ وظیفہ ملا تو اسکو اپنے رشتہ داروں اور یتیموں میں تقسیم کرکے دعا کی:
    ’’ اے اللہ! آئندہ یہ مال مجھ کو نہ ملے کیونکہ یہ فتنہ ہے۔‘‘
    حضرت عمر کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’ زینب بڑی مخیّر ہیں۔‘‘
    پھر مزید ایک ہزار درہم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجے، انہوں نے وہ بھی فوراً خیرات کر دیئے۔
    حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ۵۳ سال کی عمر میں سنہ ۲۰ ہجری میں وفات پائی۔ ان کے انتقال سے مدینہ کے فقراء اور مساکین میں حشر برپا ہو گیا، کیونکہ وہ ان کی مربّی و دستگیر تھیں۔ وفات کے وقت سوائے ایک مکان کے کوئی ترکہ نہ چھوڑا، سب کچھ اپنی زندگی میں راہ خدا میں لٹا چکی تھیں۔ وفات سے کچھ دیر پہلے وصیت کی کہ مجھے تابوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اٹھایا جائے چنانچہ انکی وصیت پوری کی گئی۔ وفات کے دن شدید گرمی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قبر کی جگہ خیمہ لگوادیا۔ نماز جنازہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے پڑھائی، حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش، اسامہ بن زید ، عبداللہ بن ابی احمد اور محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی وفات کے موقع پر فرمایا:

    ذَھَبَتْ حَمِیْدَۃُُ فَقِیْدَۃُُ مُفَزِّعَۃُ الیَتَامیٰ وَالاَرْمَلَۃِ’’

    وہ نیک بخت بے مثل خاتون چلی گئیں اور یتیموں اور رانڈوں کو بے چین کر گئیں۔‘‘ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے گیارہ احادیث مروی ہیں جن کے راویوں میں حضرت امّ حبیبہ اور زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا وغیرہ شامل ہیں۔

    رضی اللہ عنہا​
     
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا سسٹر
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں