امینہ السلمی - معروف امریکی داعیہ

حرب نے 'نو مسلم اور تائب شخصيات' میں ‏اپریل 11, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    امینہ جناں کی پیدائش جنوری١٩٤٥ء میں امریکا کی ریاست لاس اینجلس کے علاقہ ویسٹ میں ہوئی تھی ۔ امینہ کا خاندان پروٹسٹنٹ عیسائی تھا اور گھر میں مذہب کا کافی چرچا رہتا تھا۔ جب امینہ ٨ ویں میں تھی تو ان کے والدین فلوریڈا منتقل ہو گئے۔ امینہ کو بائبل سے خاص دلچسپی تھی اور وہ بہت دل لگا کر اسے پڑھتی تھی، بہت سے حصے اسے زبانی یاد تھے ، وہ وومن لبریشن موومنٹ (تحریک آزادی نسواں) کی پرجوش کارکن تھی۔

    ہائی اسکول کے بعد اس کی شادی ایک اچھی جگہ کر دی گئی ، شادی کے بعد امینہ ماڈلنگ کرنے لگیں او راس میں اس نے کافی ترقی کی، شوبز میں اس کا کافی نام ہو گیا، پیسے کی بھر مار ہو گئی، غرض آسائش کا ہر سامان مہیا ہو گیا۔ بعض اوقات امینہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خریداری کے لیے ہوائی سفر کرکے دوسرے شہر جاتی تھی، اسی دوران امینہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی کی ماں بن گئی، مگر ہر طرح کے آرام اور آسائش کے باوجود اسے سکون نہیں تھا۔ زندگی میں کسی چیز کی کمی محسوس کرتی ، سکون کی تلاش میں امینہ نے ماڈلنگ چھوڑ دی ، دو بارہ مذہبی زندگی اختیار کر لی اور مختلف تعلیمی اداروں میں مذہبی تبلیغ کا کام کرنے لگی اور ٣٠ سال کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونی ورسٹی میں داخلہ لے لیا۔

    یونی ورسٹی میں امینہ کو ایک ایسی کلاس میں داخلہ ملا، جس میں سیاہ فام اور ایشیائی مسلمانوں کی تعداد خاصی بڑ ی تھی ، امریکا اور یورپ کے عام مصنفین او رمؤرخین مسلمانوں کو دہشت گرد وجاہل، غیر مہذب ، عیاش اور عورتوں پر ظلم کرنے والے لکھتے آرہے تھے، جس کی وجہ سے عام یورپین اورامریکن ،مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ امینہ کواپنی کلاس میں مسلمانوں کی موجودگی کی وجہ سے گھٹن کااحساس ہوتا۔ پہلے وہ بھی مسلمانوں سے نفرت کرتی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امینہ کو یہ دیکھ کر خاص حیرت ہوئی کہ مسلم سیاہ فام نوجوان عام امریکی نوجوانوں کے برعکس نہ لڑکیوں سے بے تکلف ہونا پسند کرتے، نہ آوارگی اور عیش پسندی کے رسیہ تھے۔ نہ مارکاٹ نہ دہشت گردی کی کوئی بات کرتے۔ یہاں تک کہ امینہ انہیں عیسائیت کی دعوت دیتی تو وہ بڑے احترام سے اس کی باتیں سنتے اوربحث میں پڑنے کے بجائے مسکرا کر خاموش ہو جاتے۔ امینہ کو ان مسلم نوجوانوں میں ایسی کوئی برائی نظر نہ آئی جیسی وہ مسلمانوں میں سنتی آرہی تھی ، اسی وجہ سے امینہ نے اسلام کا مطالعہ کرنے او رحقیقت حال سے آگاہی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ چناں چہ اسی مقصد کی خاطرامینہ نے سب سے پہلے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ پڑھنا شروع کیا اور یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کتاب دل کے ساتھ ساتھ دماغ کو بھی اپیل کرتی ہے۔

    بائبل کے مطالعہ کے دوران ذہن میں کتنے ہی سوال پیدا ہوتے تھے مگر کسی دانشور کے پاس ان کا کوئی جواب نہ تھا مگر قرآن پڑھا توان سارے سوالوں کے جواب مل گئے جو عقل وشعور کے عین مطابق تھے۔ امینہ کو لگا وہ ابھی تک اندھیروں میں ہی بھٹک رہی تھی۔

    امریکن اور یورپین مصنفین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی بڑا پروپیگنڈہ کرتے ہیں، اس لیے امینہ نے مزید اطمینان کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کیا تو یہ دکھ کر حیرت میں رہ گئی کہ پیغمبر اسلام بنی نوع انسان کے سچے خیر خواہ ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، غیر مسلموں سے بھی محبت کا پیغام دیا اور خاص طور سے عورتوں کا درجہ اس قدر بلند فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے او رتم میں سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کر ے اور بیٹیوں سے محبت اور شفقت کو آخرت میں اپنی قربت کا سبب بھی بتایا۔ یہ سب پڑھ کر امینہ جھوم اٹھی۔ اچھی طرح غور وخوض کرکے امینہ سمجھ گئی کہ سچا سکون اسلام میں ہے اور اس نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ٢١ مئی ١٩٧٧ء کو ڈینور کی مسجد کے امام کے سامنے امینہ نے اسلام قبول کر لیا۔ امینہ کے قبول اسلام سے پورے خاندان میں جیسے کہرام مچ گیا ۔ امینہ اور اس کے شوہر کے تعلقات مثالی تھے اور ان دونوں میں آپس میں بہت محبت تھی۔ امینہ کے شوہر نے اس سے اسلام یا اس میں سے ایک کو چننے کو کہا ۔ امینہ نے اسلام کو چنا اور دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ عارضی طور پر بچے امینہ کے پاس رہے، اس کے شوہر نے بچوں کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

    معاشی ضرورتوں کے پیش نظر امینہ کو ملازمت کرنی تھی ، کئی جگہ صرف اس لیے ملازمت نہیں ملی کہ اس نے اسلام قبل کر لیا تھا۔ بڑی مشکل سے ایک دوست کی مدد سے امینہ کو ملازمت مل گئی۔ امینہ کا ایک بچہ بچپن سے معذور تھا۔ ملازمت کے بعد بچے کا علاج بلامعاوضہ ہونے لگا۔ ڈاکٹروں نے دما غ کے آپریشن کا فیصلہ کیا۔ امینہ نے اللہ کے حضور گڑ گڑا کر خوب دعائیں کیں ۔ اللہ کے فضل سے آپریشن کام یاب رہا۔ بچوں کی تحویل کا مقدمہ ٢ سال تک چلا اور اس فیصلے پر ختم ہوا کہ اگر امینہ اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے تو اسے اسلام سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ اس فیصلے سے امینہ ٹوٹ سی گئی پر اللہ کی رحمت نے اسے تھام لیا اور اس نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ میں اپنے بچوں سے جدائی گوارا کر لوں گی، پر اسلام سے دست بردار نہیں ہو سکتی اور دنیا کی کسی چیز کی محبت ایمان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی ۔ دونوں بچے باپ کی تحویل میں دے دیے گئے۔

    ایک سال تک امینہ قرآن وحدیث اور دینی کتب کے مطالعہ میں مشغول رہی، ساتھ ہی اللہ تبارک وتعالی سے اپنا تعلق گہرا کرنے کے لیے تبلیغ دین میں لگ گئی۔خیر خواہوں کے اصرار پر ایک مراکشی مسلمان سے نکا ح کر لیا۔ یہ صاحب مالی طور پر زیادہ مضبوط نہیں تھے۔ امینہ نے ایک بڑی رقم اپنے خاوند کو دی جس سے وہ کوئی کاروبار کر لیں۔ ٣ مہینے بعد ہی اس مراکشی نے امینہ کو طلاق دے دی اور تحریر موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس نے امینہ کی بھاری رقم بھی ہضم کر لی اور اس رقم کی مدد سے جلد ہی دوسری شادی بھی رچالی۔ طلاق کے چند ماہ بعد اللہ نے امینہ کو ایک چاند سے بیٹے سے نوازا جس کا نام امینہ نے محمد رکھا۔

    امینہ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے وقف کر دی ۔ امینہ نے عربی زبان سیکھی، اس وقت امریکا میں قرآن کے ٢٧ ترجمے دست یاب ہیں، جن میں سے ١٠ کا امینہ نے مطالعہ کیا ہے ۔ مختلف حدیث کی کتابوں یعنی بخاری ، مسلم ، ابوداؤد او رمشکوٰہ کا کئی کئی بار مطالعہ کر چکی ہیں او رمختلف مسلمان علماء کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتی رہتی ہیں۔ امنیہ کا خیال ہے کہ جب تک ایک مسلمان قرآن وحدیث اور اسلام کے بارے میں بھرپور معلومات نہ رکھتا ہو وہ تبلیغ کے تقاضوں سے کماحقہ عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ امینہ مانتی ہیں کہ یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ امریکا جیسے ملک میں رہتے ہوئے بھی میں پردہ کر رہی ہوں۔

    امینہ نے مختلف مقامات پر مسلم وومن اسٹڈی سرکل قائم کیے ہیں، جہاں مسلم خواتین کے ساتھ ساتھ غیر مسلم خواتین بھی آتی ہیں ۔ امینہ خواتین کو بتاتی ہے کہ اسلام نے ١٤ سو سال پہلے خواتین کو جو حقوق عطا کیے ،چاہے وہ ماں ہو ، بیٹی ہو ، بیوی یا بہن ہو دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ اسے جائیداد میں بھی حق دار بنایا خاوند سے کہا گیا کہ اپنی بیوی سے بہترین سلوک کرے ، باپ کو بیٹی کی بہترین پرورش پر جنت کا حق دار بتایا، ماں کے قدموں میں جنت قرار دی گئی اور باپ کے مقابلے میں اسے ٣ گناہ زیادہ واجب الاحترام قرار دیا گیا۔ یہ سب باتیں سن کر امریکا کی غیر مسلم خواتین کے منھ حیرت سے کھلے رہ جاتے ہیں ۔ امینہ کی کوشش سے بہت بڑی تعداد میں غیر مسلم خواتین دائرہ اسلام میں داخل ہو چکی ہیں ۔ امینہ کی کوشش سے اس کے خاندان کے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، امینہ کا بڑا بیٹا جواپنے عیسائی باپ کے پاس رہتا ہے، اکثر امینہ سے ملنے آتا رہتا تھا، امینہ ہمیشہ اسے دین اسلام کی اچھائیوں کے بارے میں بتاتی اور امینہ نے مناسب وقت پر اپنے بیٹے کو اسلام کی دعوت پیش کی جسے اس نے قبول ہی نہیں کیا، بلکہ اپنا نام بھی اپنی مرضی سے فاروق رکھا، وہ بہت سچا او رپکا مسلمان ہے۔ امینہ خود کہتی ہیں کہ ساری محرومیوں کے باوجود دین کی تبلیغ سے مجھے لگتا ہے کہ ایک خاص قسم کے سکون وا طمینان کی دولت میرے پاس ہے۔

    محترمہ ام فاکہہ زنجانی، جدہ
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم ، يہ ممتاز امريكى داعيہ، (ڈائریکٹر انٹرنیشنل یونین آف مسلم وومن ) امينہ السلمى كى داستان حيات ہے۔اسلام لانے سے قبل يہ مسيحى بیپٹسٹ تھیں۔
    ان كے ايك خطاب کے یہ جملے اسلام سے ان كى محبت كو واضح كرتے ہیں:
    "
    Aminah Assilmi
    امينہ السلمى گزشتہ برس 4 مارچ 2010 كو 65 برس كى عمر ميں ايك حادثے ميں وفات پاگئیں تھیں۔ اللہ سبحانہ وتعالى ان کی مغفرت فرمائے ،انہیں فردوس اعلى ميں جگہ دے اور مسلمان خواتين كو ان كى جانشين داعيات عطا فرمائے ۔
     
  3. خان

    خان ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2011
    پیغامات:
    391
    آمین ، اللہ ان کی اولاد کو بھی ھدایت دے ، آمین
     
  4. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو پیدا تو کسی اور مذہب پر ہوں اور اُن کا خاتمہ دین اسلام پر ہوتا ہے۔۔۔ یہ حقیقت پیدائشی مسلمان کہلانے والے اُن اصحاب کے لئے بڑی غور طلب ہے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود بھی اپنے دین اور مذہب سے غافل ہیں۔۔۔ اس چھوٹی سی تحریر میں سب کچھ ہے اگر کوئی سمجھنا چاہئے۔۔۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار دنیا میں گذاری جانے والی اُس زندگی سے ہے جو خالص اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں بسر کی جائے۔۔۔ سب سے اہم اور سمجھنے والی بات مرحومہ نے خود قرآن وحدیث کے مطالعے کے ساتھ دیگر کتب کا بھی مطالعہ کیا لیکن انہوں نے کوئی تیسری راہ تلاش نہیں کی یہ اللہ کا اُن پر بہت بڑا کرم تھا۔۔۔ کے آخری وقت تک وہ قران وحدیث کے مطالعے پر ثابت قدم رہیں۔۔۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت پر کسی دوسرے امام کو فوقتیت یا ترجیح نہیں دی۔۔۔ کتنی حیرت کی بات ہے۔۔۔ اللہ رب العزت سے دُعا کے محترمہ کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت میں اعلٰی مقام حاصل ہو۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  6. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    آمین
     
  7. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    753
    ایک مشورہ

    بھا ئی اگر آپ یہ تحریر امينة السلمي رحمها الله کے تعارف کے شروع میں لگا دیں تو خوب زور ِقلم ثابت ہو سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,580
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں