ڈاکٹرمحمد علامہ اقبال کاخواب اور آج کی نوجوان نسل

قاسم نے 'ادبی مجلس' میں ‏مئی 7, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. قاسم

    قاسم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 29, 2011
    پیغامات:
    875
    حوالہ http://columns-izharulhaq.blogspot.com/2010/04/blog-post_24.html

    [​IMG]
    مظلوم اقبال

    اے بادصباءکملی واے سے جا کہیو پیغام میرا۔۔
    قبضےسے امت بیچاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی

    عزت ہے محبت کی قائم اے قیس حجاب محمل سے
    محمل جو گیا عزت بھی گئی غیرت بھی گئی لیلا بھی گئی

    کی ترگ تک ودوقطرے نے تو آبروے گوہر بھی ملی
    آوارگی فطرت بھی گئی اور کشمکش دریا بھی گئی

    نکلی تو لب اقبال سے ہے کیا جانے کس کی ہے یہ صدا
    پیغام سکوں پنچابھی گئی دل محفل کا تڑپابھی گئی



    چوک پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ایک آدمی اونچی جگہ پر کھڑا ان سے مخاطب تھا۔

    انوری سننے کے لئے نزدیک ہو گیا۔ وہ شخص انوری ہی کے شعر سنا رہا تھا اور لوگ داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے تھے۔ سنانے والا دم لینے کیلئے رکا تو انوری نے چیخ کر کہا

    ’’ یہ تو انوری کے اشعار ہیں

    اس آدمی نے اثبات میں سر ہلایا…‘‘ہاں یہ انوری ہی کے اشعار ہیں۔

    ’’تو تم کیوں سنا رہے ہو؟‘‘

    ’’میں انوری ہی تو ہوں‘‘

    اس موقع پر انوری نے اپنا وہ فقرہ کہا جو آج تک مشہور ہے کہ

    ’’شعر تو چوری ہوتے سنے تھے۔ شاعر چوری ہوتے نہیں دیکھا تھا"۔


    رسم الخظ

    وسط ایشیائی مسلمانوں کے ساتھ ہونیوالے المیے کا ذکر کرتے وقت ہم آخر اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ رسم الخط بدل کر انہیں اپنے ماضی سے کاٹ دیا گیا لیکن ہم شاید یہ کبھی نہیں سوچتے کہ ہماری تو پوری کی پوری زبان ہی بدل دی گئی! جیسے صرف شعر نہیں، شاعر بھی چوری ہوگیا۔گویہ ساری کی ساری دال ہی کالی ہے۔
    ٹیلی ویژن چینلوں پر اقبال کے اشعار گاے اور پڑھے جاتے ہیں اقبال کے نام پر بننے والے اداروں کے سربراہ سکرین پر آکر رٹی رٹائی تقریریں کرتے ہیں اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔میرا مقصد آپ ان اشعار سے سمجھ جا ے گے


    ضمیر جعفری مرحوم نے اس ضمن میں کہا تھا

    بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں

    پھر اْسکے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں

    اس بنیادی نکتے پر کوئی بات نہیں کی جاتی کہ اقبال شناسی کے فقدان کا اصل سبب کیا ہے؟
    ۱۸۶۰ میں ایک طویل جدوجہد کے بعد زارِ روس نے تاشقند پر قبضہ کیا۔ اس سے پہلے ترکستان کے دوسرے بڑے بڑے شہر وہ ہڑپ کر چکے تھے۔ 1917ء میں اشتراکی انقلاب آیا تو یہ قبضہ لینن کی حکومت کو منتقل ہو گیا۔ سوویت یونین نے وسط ایشیا کے مسلمانوں کو اپنے ماضی اور عالم اسلام دونوں سے کاٹنے کیلئے ترکی زبان کا رسم الخط تبدیل کیا اور لاطینی کر دیا لیکن کچھ عرصہ بعد جب اتاترک نے بھی انقرہ میں ترکی رسم الخط کو لاطینی میں بدل دیا تو اشتراکیوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ ایک رسم الخط ہونے سے وسط ایشیائی مسلمان ترکی کے قریب ہو جائینگے۔ چنانچہ انہوں نے دوسرا وار کیا اور وسط ایشیاء پر لاطینی کے بجائے روسی رسم الخط مسلط کر دیا لیکن اس ظلم کے باوجود وسط ایشیائی اپنی زبان سے محروم نہ ہوسکے کیونکہ زبان وہی تھی فقط رسم الخط بدلا تھا۔ وہ اب بھی نوائیؔ ، جامیؔ، ابوسیناؔ اور بابرؔ کی تحریریں پڑھ سکتے تھے۔ اگرچہ نئے رسم الخط کیساتھ الجھنیں بھی آئی تھیں۔لیکن برصغیر کے مسلمانوں کیساتھ جو حادثہ پیش آیا وہ اپنی نوعیت کا انوکھا ہی تھا۔ یہاں شعر نہیں، شاعر چوری ہو گیا۔ رسم الخط تو وہی رہا، پوری زبان اٹھا لی گئی،انیسویں صدی کی تیسری دہائی تھی۔

    جب لارڈ میکالے نے ایک خاص طبقہ پیدا کرنے کیلئے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنا دیا۔ یہ طبقہ اسکے الفاظ میں رنگت کے اعتبار سے مقامی لیکن اندر سے انگریز تھا۔ روسی بے وقوف تھے۔ رسم الخط بدلنے کے چکر میں الجھ گئے۔ انگریز شاطر اور مکار تھے۔ انہوں نے اردو کو چھیڑا نہ فارسی کو۔ انہوں نے صرف یہ کیا کہ اعلیٰ تعلیم کی اور روزگار کی زبان انگریزی کو قرار دیا اب کون ہوگا جو فارسی اردو پڑھ کر بے روزگاری کے دریا میں غوطے کھاتا۔ معاش، تہذیب و تمدن تو کیا، اپنے پیاروں کو چھڑوا دیتا ہے۔چنانچہ سو سال سے کم عرصہ میں ایک ہزار سال پر محیط ادبی اور تہذیبی میراث درس گاہوں گلیوں بازاروں مکانوں اور دالانوں سے منہ موڑ کر مخطوطوں پرانی لائبریریوں اور عجائب گھروں میں بند ہو کر رہ گئی۔

    آج سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر پوچھئے کہ بیدل کون تھا؟ نظیری کہاں سے آیا تھا؟ صائبؔ طالبؔ آملی، ابو طالبؔ کلیم، عرفیؔ، فیضی اور ابو الفضل لوہار تھے یا ترکھان؟ آخر کئی سو سال تک ایران سے نقل مکانی کا تانتا کیوں بندھا رہا؟ ہر صاحب کمال بخارا، سمرقند، نمنگان، شیراز، اصفہان، تبریز اور تہران کیوں چھوڑتا تھا اور دہلی کا رخ کیوں کرتا تھا، طالب علم تو طالب علم ہیں، اساتذہ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ہاہ افسوس ہم نے مغرب کی تعلیم کو اپنایا اور اس مغرب کی تعلیم نے ہمیں کیا دیا بے غیرتی و بے حیاہی۔ہم یہ بھول گے کہ مغرب ڈوبنے کی جگہ ہے اور مشرق ابرنے کی۔
    علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔


    لڑکیاں پڑھ رہی ہے انگریزی
    ڈھونڈلی قوم نے فلاح کی راہ
    روشن مغربی ہے مدنظر
    وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
    یہ ڈرامہ کیا دکھاے گا سین
    پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ


    یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے اہل علم اپنے ہی ماضی کے مشاہیر سے بے خبر ہیں! آج کتنے پڑھے لکھے پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ غالب کا اصل کارنامہ اس کا فارسی کلام ہے۔ اردو شاعری تو وہ چھینٹے ہیں جو ادھر اْدھر پڑ گئے تھے!۔ اب اس سیاق و سباق میں غور کیجئے کہ اقبال کتنا مظلوم ہے! خطاب تو اسے شاعر مشرق کا دیا گیا، حکیم الامت بھی کہہ دیا گیا، قومی شاعر بھی قرار دیدیا گیا لیکن اسکے ستر فیصد کلام کو پڑھا ہی نہیں جاتا، پڑھا جا سکتا ہی نہیں۔ سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ جاوید نامہ، اسرار و رموز۔ پیامٍ مشرق زبور عجم، پس چہ باید کرد اور ارمغانِ حجاز کا تین چوتھائی حصہ۔ سب فارسی میں ہیں اور شاید ہر دس ہزار لوگوں میں فارسی جاننے والا ایک بھی مشکل سے ملے گا!۔

    آپکا کیا خیال ہے کہ کیا اقبال کا اردو کلام پڑھا جاتا ہے؟ اور سمجھا جاتا ہے؟ اور کیا آپکو معلوم ہے کہ اردو کا اس ملک میں جو حال ہے اسکی وجہ کیا ہے؟

    جس طرح جڑ کے بغیر کوئی درخت کھڑا نہیں رہ سکتا اردو کی جڑ فارسی ہے۔ آج جن لوگوں کو اردو جاننے کا دعوی ہے انکی اکثریت فارسی سے نابلد ہے اور اردو جاننے والے غلط اردو پڑھا رہے ہیں اور اس طرح پڑھا رہے ہیں کہ یہ پڑھنے والے اردو کے جوہر سے آشنا نہیں ہو سکتے اسکی مثال یوں سمجھیے کہ ایرانی ساری عرب دشمنی کے باوجود فارسی زبان و ادب کے طلبہ کو بنیادی عربی ضرور پڑھاتے ہیں اس لئے کہ عربی زبان و ادب فارسی میں رچا بسا ہوا ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت کو اپنے قومی شاعر کے کلام کے انہی حصوں سے آشنائی ہے جو گویوں نے گائے ہیں اور بار بار گائے ہیں۔ جیسے خودی کا سرِ نہاں لاالٰہ الا اللہ اور، ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان۔اقبال کی مظلومی کے اس پہلو پر بھی غور کیجئے کہ کہا تو اس نے یہ تھا کہ…؎

    کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق


    نے ابلہِ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

    خدا کا کلام نہ بچ سکا تو اقبال کا کلام کیا کرتا


    جس قرآن نے بار بار تدبّرکی تعلیم دی اور قوت و شوکت کی اہمیت جتائی اسی کو دنیا سے پیچھے رہنے کے لئے آڑ بنایا جا رہا ہے ۔ خود اقبال ہی نے تورونا رویا تھا

    اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم

    جس نے مومن کو بنایامہ و پرویں کا امیر


    رہی یہ بات کہ عربی اور فارسی پڑھ کرہم ترقّی نہیں کر سکتے توانگریزی کو ماں باپ بنا کر ہم نے جتنی ترقی کی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔اس کے مقابلے میں ایران ،جہاں سب کچھ فارسی میں ہوتا ہے،بجلی میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ برآمد بھی کرتا ہے۔ترقی دوسروں کی زبان اپنانےسے نہیں ہوتی محنت اور عزت نفس سے ہوتی ہےاور یہ وہ اجناس ہیں جو بازار میں نہیں بکتیں۔



    لیکن اب بھی وقت ہے ، ہماری نسل اس دھانے پر کھڑی ہے کہ اگر انہوں نے پرانی اقدار، علوم اور روایات کو سنبھالا نہ دیا اور آنیوالوں تک منتقل نہ کیا، تو ہماری تہذیب اور اقدار کے جنازے پر نوحہ پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکے گا۔اور اسکی ذمہ داری ان پر نہیں ہم پر ہو گی، سو جی چاہے نہ چاہے، اس کام میں اپنا حصہ ادا کر دیجیے۔ یہ نہ ہو کہ کہنا پڑے



    تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

    [​IMG]
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 7, 2011
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں