اقبال علامہ اقبال کے ذہن پر ابن عربی کے اثرات

آزاد نے 'نقد و نظر' میں ‏اگست 18, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,558
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ایک تحریر پیش کررہا ہوں، اہل علم سے درخواست ہے کہ اس کا درست یا غلط ہونا ظاہر فرمادیں۔

    ’’پروفیسر یوسف سلیم چشتی جو علامہ اقبال کے انتہائی قریبی رفیق ہیں اور آپ کی تمام کتابوں کے عظیم شارح ہیں، علامہ اقبال کے نظریات میں جو عقیدۃ کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ عصر حاضر میں ارباب علم کو اس سے کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔۔۔۔ ہم پروفیسر چشتی کی تحریر سے اس اشتباہ کو دور کررہے ہیں کہ علامہ اقبال آخر میں ابن عربی کے الحادی نظریے کی طرف کیوں راغب ہوگئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:
    ’’علامہ اقبال نے اپنی مشہور کتاب جاوید نامہ کا بنیادی تصور بواسطہ رومیؔ، جامیؔ، عراقیؔ اور ابن عربی کے فلسفے سے مقتبس کیا ہے۔ بعض اصحاب کو میرا یہ قول عجیب سا معلوم ہوگا۔ وہ یہ کہیں گے کہ علامہ اقبال تو ایک جگہ یہ لکھ رہے ہیں:
    ’’جہاں تک مجھے علم ہے، فصوص الحکم میں‌سوائے الحاد وزندقہ کے اور کچھ نہیں ہے‘‘
    ارباب علم کو یہ غلط فہمی اس لیے لاحق ہوتی ہے کہ علامہ اقبال کے ذہنی ارتقاء کی مکمل تصویر ان کے سامنے نہیں ہوتی۔
    اس کا مختصر جواب یہ ہے:
    ۱۔ علامہ اقبال آغاز میں صف اول کے کانگریسی اور وطن پرست تھے ۔ 1905ء میں علامہ اقبال نے یہ نظم لکھی تھی
    ؎ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
    ۲۔ 1911ء میں علامہ اقبال مرزائیت کی طرف راغب ہوگئے تھے کیونکہ انہیں ٹھیٹھ اسلام کا نمونہ صرف قادیان میں نظر آتا تھا ۔ 1922ء میں انہوں نے وطن پرستی سے اور 1925ء میں انہوں نے احمدیت سے قطع تعلق کرلیا تھا۔
    ۳۔ 1912ء میں جب علامہ اقبال نے امام ابن تیمیہ کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو وہ ابن عربی سے بدظن ہوگئے ۔ انہوں نے 1915ء میں ابن عربی کےلیے نادانستہ طور پر سخت الفاظ استعمال کیے لیکن جب 1928ء میں علامہ اقبال نے بطور خود فصوص الحکم کا مطالعہ کیا تو وہ ابن عربی کی جلالت شان کے معترف ہوگئے۔ پھر اس کے بعد اپنی بقیہ عمر میں اسی عقیدے پر جمے رہے ۔ چنانچہ انہوں نے لندن میں مجلس افکار ارسطو پر جو خطبہ 1933ء میں پڑھا تھا ۔ اس میں جب وہ کانٹ کے نظریے پر تنقید کرتے ہیں تو وہاں اس خطبہ میں فصوص الحکم کو اپنا مستدل بناتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:۔
    ’’شیئ کما ھو‘ اور ’شیئ کما ظہر ‘ کے متعلق کانٹ نے جو نظر یہ پیش کیا ہے اس کی بدولت مابعد الطبیعات کے امکانات کے مسئلہ کی نوعیت بڑی حد تک متعین ہوگئی لیکن میں کہتا ہوں اگر اس موقف کو معکوس کردیں تو دنیا کے عظیم المرتبت فلسفی ابن عربی نے کس پتہ کی بات لکھی ہے کہ حق تعالیٰ مشہود ہے اور عالم معقول۔ ‘‘ (فلسفہ الہٰیات کی تشکیل جدید۔ ص:183)
    (شرح جاوید نامہ از پروفیسر چشتی۔ ص:238)
    علامہ اقبال کی اس متضاد روز کے بعد بہتر یہی ہے کہ ارباب علم آپ کی کسی تحریر کو بھی کسی بات کےلیے بطور استدلال استعمال نہ کریں بس ان کے متعلق یہی عقیدہ رکھیں کہ وہ ایک مجذوب قلندر تھے ، انہوں نے جس میکدے میں بھی قدم رکھا ، ان کے کسی جام کو بھی سیدھا کرکے نہیں پیا۔
    پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:
    ’’علامہ اقبال نے مجھ سے ایک دفعہ فرمایاتھا: چار آدمی ایسے گزرے ہیں ، اگر کوئی شخص ان کے طلسم میں گرفتار ہوجائے تو اس کی رہائی بہت ہی مشکل ہے۔ وہ چار یہ ہیں:
    ۱۔ ابن عربی ۔638ھ
    ۲۔ میرزا بیدل 1154ھ
    ۳۔ شنکر اچاریہ ۔ وفات:1836ء
    ۴۔ ہیگل۔ وفات : 1831ء
    شنکر اچاریہ وہ ہے جس نے گیتا کی تشریح وحدۃ الوجود کے رنگ میں کرکے ہندو قوم کو عمل سے بیگانہ کردیا ہے ۔ شنکر اچاریہ اتحاد الوجود کا قائل ہے یعنی خدا بشکل کائنات جلوہ گر ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ ہندو صوفیہ نے خدا کو اس قدر پست کردیا ہے کہ ہر شیئ خدا ہوگئی۔ ویدانتی کہتا ہے کہ برہما خود سنسار بن گیا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خدا غائب ہوگیا ۔ ابن عربی کہتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی موجود نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالم غائب ہوگیا۔ (شرح اسرار خودی علامہ اقبال۔ ص:190)
    آخر میں علامہ اقبال خود ابن عربی کے طلسم میں گرفتار ہوگئے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں:
    ؎ چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
    وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
    (شرح اسرار خودی، ص:182)
    بحوالہ: فلسفہ توحید کی عجمی تشکیل از ابو الخیر اسدی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    علامہ اقبال کے بیٹے جاوید اقبال کی کتاب "اپنا گریبان چاک" کے شروع کے چند ابواب کا مطالعہ کریں تو یہ معلوم پڑتا ہے کہ اقبال اول و آخر ایک صوفی تھے۔ آپ دیکھ لیں جتنے بھی free thinkers ہیں جو کہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے ہیں اور باقاعدہ قرآن اور حدیث اور اس کے علوم کا مطالعہ نہیں کیے ہوتے ان کی کتب کا مطالعہ کرنے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ وہ کہیں پر کتاب و سنت کے حق میں اگر بات کہے دیتے ہیں تو کہیں پر اس کے خلاف، مثال کے طور پر سید ابو الاعلیٰ مودودی، سید قطب اور کہیں علامہ اقبال۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485

    وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
    يہ يوسف چشتی كى ذاتى رائے ہے ـ انہوں نے ہمیشہ اقبال كو وحدت الوجود كا قائل ثابت كرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ليكن دوسرى رائے رکھنے والوں كى بھى كمى نہیں۔ صرف يوسف چشتی اقبال كے قرب كا دعوى نہیں رکھتے اور بھی بہتيرے ہیں۔ جن میں ایک سيد نذير نيازى ہیں جنہوں نے ری کنسٹرکشن آف ريليجس تھاٹ ان اسلام كا اقبال كى زيرنگرانى ترجمہ كيا ، ان كى رائے ہے کہ اقبال كبھی بھی وحدت الوجود كے قائل نہیں رہے ۔
    اولا تو يہ ثابت كيجيے کہ يہ شعر اقبال كے آخرى دور كا ہے؟
    اگر صرف ايك شعر سے ان كا ميلان وحدت الوجود كى طرف ثابت كيا جا سكتا ہے تو اس قطعے كا كيا ہو گا ؟
    آزاد بھیا اس معاملے كا دوسرا رخ جاننے كے ليے یہ ضرور دیکھیے۔
    ثانيا : اس بات سے كوئى ماہر اقباليات انكار نہيں كرسكتا كہ اقبال تطہير تصوف کے سلسلے میں سيد سرهندى سے متاثرتھے اور وہ ابن عربى پر شديد رد كے ليے معروف ہیں !
    ثالثا: فصوص الحكم پر تنقيد اقبال كے صرف اس ايك جملے تك محدود نہيں كہ اتنى آسانى سے اس كى يہ بودى توجيہ مان لى جائے۔




     
  4. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960

    علامہ اقبال فرماتے ہیں:

    "مجھے اس امر کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ میں ایک عرصے تک ایسے عقائد و مسائل کا قائل رہا جو بعض صوفیہ کے ساتھ خاص ہیں اور جو بعد میں قرآن شریف پر تدبر کرنے سے قطعا غیر اسلامی ثابت ہوئے مثلا شیخ محی الدین ابن عربی کا مسئلہ قدم ارواح کملاء مسئلہ وحدت الوجود یا مسئلہ تنزلات ستیہ یا دیگر مسائل جن میں سے بعض کا ذکر عبدالکریم جبلی نے اپنی کتاب "انسان کامل" میں کیا ہے۔ یہ تینوں مسائل میرے نزدیک مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ مسئلہ قدم ارواح افلاطونی ہے۔ بو علی سینا اور ابونصر فارابی دونوں اس کے قائل تھے۔ چنانچہ امام غزالی نے اسی وجہ سے دونوں بزرگوں کی تکفیر کی ہے۔ شیخ ابن عربی نے اس مسئلے میں اس قدر ترمیم کی کہ صلحاء وکملاء کے ارواح کے قدم کے قائل ہوئے مگر ظاہر ہے کہ اصول وہی ہے اور مسلمانوں میں اس مسئلے نے قبر پرستی کی بنیاد رکھی"

    (حوالہ کتاب: مطالب اسرار و رموز، مصنف: مولانا غلام رسول مہر، صفحہ: 14 اور 15، بحوالہ: رسالہ اقبال بابت 1953 صفحہ 92، 93)
     
  5. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    جزاکاللہ خیرا
     
  6. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    جہاں تک میرا علم ہے، اقبال تصوف کی نئی جہتوں کی تلاش میں تھے۔ عام صوفیانہ افکار سے ہٹ کر لیکن نئے افکار کی تلاش میں۔

    ارمغان حجاز جو اقبال کا آخری شعری مجموعہ ہے اس میں ایک نظم انا الحق کا آغاز کچھ یوں کرتے ہیں۔

    "انا الحق" جز مقام کبریا نیست
    سزاے او چلیپا ہست یا نیست؟
    اگر فردے بگوید سرزنش بہ
    اگر قومے بگوید ناروا نیست​

    یعنی انا الحق صرف مقام کبریا کے ہی لائق ہے۔ اور ایسا کہنے کی سزا سولی ہے کہ نہیں؟؟
    اگر کوئی فرد کہے تو اسے سزا ملنی چاہیے لیکن اگر کوئی قوم کہے تو نامناسب نہیں۔

    یعنی اقبال انا الحق کو صرف اللہ کے لائق ہی سمجھتے تھے۔ لیکن قوموں کو یہاں خودی کا درس دے رہے ہیں۔

    اس کے بعد اسی نظم کے آخری شعر میں کہتے ہیں۔۔۔

    اگر خواہی ثمر از شاخ منصور
    بہ دل "لا غالب الا اللہ" فرو ریز​

    اگر تو منصور کی شاخ سے پھل حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ کے سوا کوئی غالب نہیں اپنے دل میں‌ڈال لے۔

    یہاں ایک جانب اقبال انا الحق کہنے کو موجب سزا بھی سمجھتے ہیں اور اسے کبریائی کے مقام کے ساتھ مختص بھی کرتے ہیں‌اور دوسری جانب منصور کا یہ کہنا عین توحید قرار دیتے ہیں۔

    پھر اسی مجموعہ میں "رومی" نامی نظم میں کہتے ہیں
    بکام خود دگرآں کہنہ مے ریز
    کہ باجامش نیرزد ملک پرویز
    ز اشعار جلال الدین رومی
    بہ دیوار حریم دل بیاویز​

    یہاں اقبال رومی کے کلام سے فیضیاب ہونے کا درس دے رہے ہیں جبکہ مثنوی از رومی میں کیا لکھا ہے یہ ہم سب کو معلوم ہے اور رومی کیا تھا یہ بھی سب جانتے ہیں
    لیکن اس کے باوجود پھر کہتے ہیں

    زچشم مست رومی و ام کردم
    سرورے از مقام کبریائی​
    کہ رومی کی چشم مست ادھار لے کر میں نے مقام کبریائی کی بزرگی حاصل کی ہے۔

    لیکن اس تمام نظم کا ماحصل خودی ہے۔ اور اقبال کا ہر شعر خودی کا درس دیتا نظر آتا ہے۔

    اور اگر ہم اسی مجموعہ کی نظم "ملا زادہ ضیغم لولابی کا کشمیری بیاض" میں‌کہتے ہیں۔

    خود داری و خود گیری و گلبانگ انا الحق
    آزاد ہو سالک تو یہ ہیں اس کے مقامات

    محکوم ہو سالک تو یہی اس کا ہمہ اوست!
    خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات!​

    یہاں اقبال خودداری اور انا الحق کو سالک کا مقام قرار دیتے ہیں جب وہ روح کی آزادی حاصل کر لے اور اگر روح کی آزادی حاصل نہ کر سکے تو اس میں غلامی کے نتیجے میں‌ہمہ اوست کی فکر پیدا ہو جاتی ہے۔

    یعنی جس نے خود گیری اور خود داری کی بات کی، وہ آزاد ہو گیا اور انا الحق کی آواز دے دی۔ اور خود داری کے بغیر وہ سالک غلام ہی رہا تو اس نے اس کو ہمہ اوست سمجھ لیا۔ اور خود مردہ ہو گیا۔

    یعنی اقبال انا الحق اور ہمہ اوست کو دو علیحدہ چیزیں سمجھتے تھے اور ہمہ اوست کو مردہ پن سے تشبیہ دیتے تھے۔

    مندجہ بالا بحث یہ ظاہر کرتی ہے کہ اقبال کا انا الحق کا مفہوم ، عام صوفیا کے لیے گئے مفہوم سے علیحدہ تھا۔ وہ اس کو مقام کبریا پر پہنچنے یا وحدت الوجود نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس نعرہ کو انسان کے اندر خود داری پیدا کرنے سے تعبیر کرتے تھے۔

    شاید یہی چیز طرفین کے درمیان وجہ نزاع ہو۔ لیکن اس کا جواب تو اقبالیات کے ماہرین دے سکتے ہیں۔

    ویسے ہمارے مجلس کے شعرا حضرات اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں؟؟؟
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ان تينوں كا قصور بس اتنا ہے کہ مذہبی لوگوں كى سلطنت ميں قدم ركھ بیٹھے ۔ اب ان سے حسن ظن ركھنا اور ان كے اقوال كى اچھی توجيہ كرنا يا ان كى معمولى غلطيوں سے صرف نظر كرنا تو ممكن ہی نہیں۔
    مذہبي لوگ ان كو ٹھونس ٹھونس كر اپنى مرضى كے سانچے ميں فٹ كرنا چاہتے ہیں كوئى يہ نہیں سوچتا كہ ان شخصيات كو ان كى اصل حالت ميں مطالعہ كر كے درست باتوں كو اپنا ليا جائے اور شرعى لحاظ سے غلط باتوں سے شائستگی سے تحقيق كر كے آگاہ كيا جائے کہ ان سے صرف نظر كر ليا جائے ۔
    اب كون سوچے گا كہ موضوع كا عنوان كيا ہے اور بحث كا مركزى نكتہ كيا ہے۔ بس چن چن كر بتايا جائے گا كہ اقبال كى تو داڑھی نہیں تھی وہ تو زائچہ بنواتے تھے وہ تو ہندوؤں سے دوستى ركھتے تھے وغيرہ وغيرہ ۔بھائى رومى كے اشعار سے اچھی باتوں سے مستفيد ہونا منع ہے کیا؟ كيا نبي صلى اللہ عليہ وسلم جاہلى شعرا كے اشعار سن كر ان كى درست باتوں كى تحسين نہیں کرتے تھے؟ ان سب كو پڑھنا حرام ہے تو لائيے مجھے ان كا متبادل ديجيے جس كا مطالعہ كر كے وہ خلا پورا ہو سکے ۔اور اسلامى مدارس اور جامعات كے نصاب سے ديوان الحماسہ اور الشعر الجاهلي كا انتخاب نكلوا كر خالص اسلامى شاعرى كا انتخاب شامل كروائيے۔
    ميرى سمجھ سے بالاتر ہے کہ مودودى سيد قطب اقبال جناح اور ايسى ہر شخصيت كى چند اخطا كو ديكھ كر ہم ان كے وجود ہی كا انكار كر ديں ؟ يہ كون سا اسلام ہے؟
    بندوں کے حساب كتاب ميں جو خدا كے كرنے کے کام ہیں وہ ہم نے اپنے ذمے لے ركھے ہیں اور اپنے كرنے كا كام مطالعہ تحقيق اللہ توكل پر كافروں کے ذمے لگا ركھا ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    شاید یہی بات میں کہنا چاہ رہا تھا لیکن کہہ نہیں پایا کہ یہ سب لوگ بہت سے ارتقائی مراحل طے کر کے یہاں تک پہنچے۔ اب کسی جگہ ان کا منہج درست ہے تو کسی جگہ غلط۔

    ان کی کاوشوں سے کلی طور پر انکار ممکن بھی نہیں اور مکمل طور پر استفادہ بھی ممکن نہیں کہ یہی کلی طور پر صحیح ہے۔ میرا خیال ہے کہ معتدلانہ رویہ اپناتے ہوئے صحیح اشعار و افکار سے فائدہ اٹھایا جائے اور ہر فکر کو کتاب و سنت کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ اگر درست ہو تو قابل قبول ورنہ رد کر دیا جائے۔
    اب دوسری بات یہ کہ ان پر کیا فتویٰ ٹھونکا جائے تو یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جس میں ہم انسانوں کو ٹانگ نہیں مارنی چاہیے کیونکہ انہوں نے اپنا جواب اللہ کو دینا ہے اور ہم نے اپنا۔
    ہماری ذمہ داری صرف یہ بنتی ہے کہ باطل آرا اور اشعار سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ وہ انجانے میں کوئی غلط افکار نہ بنا لیں۔
    یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ اقبال کے توحیدی اشعار علیحدہ کر دئیے جائیں یا اقبال کے اشعار کی تشریح یا تنقید کتاب و سنت کی کسوٹی پر کی جائے۔ تاکہ معاشرہ اقبالیات کے ایک نئے روپ سے آگاہ ہو سکے۔ افسوس کہ اقبالیات کے حوالے سے موحدین کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔
     
  9. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    اگرچہ ہمارے پیارے علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمتہ اللہ علیہ (ان شاء اللہ شہید) خطاب کے آخری حصہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا شعر پڑھتے ہوئے ہی دھماکے میں زخمی ہوئے کہ "کافر ہے تو تیغ پہ کرتا ہے بھروسہ۔۔۔۔"، اقبال کی علمیت اپنی جگہ، ان کو توصیف میں علماء اور محقیقین کے اقوال بھی ایک طرف لیکن جب ہمارا نصاب اور خود ہم ان کو حکیم الامت گردانتے ہوئے ان کی شاعری کو "امت کے امراض کا علاج" مانتے ہیں تو اس قسم کے کڑوے اقتباسات share کرنے ہی پڑتے ہیں۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اگر بابا بلھے شاہ کے کسی شعر پر اس کی گرفت ہم کر سکتے ہیں کے یہ توحید کے خلاف ہے تو کسی اور کے کیوں نہیں؟
    اگر بابا بلھے شاہ رب کو "ٹھگاں دا ٹھگ" لکھتا ہے (نعوذ باللہ، نقل کفر، کفر نباشد)
    تو "ہم وفادار نہیں تو تو بھی تو دلدار نہیں" کو ہم کیسے آسانی سے ہضم کر لیتے ہیں۔
    اگر ہم علماء دیوبند کے کشف قبور اور مراقبہ جات پر تنقید کر سکتے ہیں تو لوگوں کو بتائیے، ڈنکے کی چوٹ پر بتائیے کہ اقبال کے کسی شعر میں توحید ہے تو کسی میں اسی توحید کا رد۔ تصوف اور شریعت میں زمین و آسمان کا بعد ہے اور اقبال اول و آخر صوفی تھے۔

    معذرت اور اللہ سے معافی کا خواستگار ہوں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کا کیا انجام ہے، اور یہ بھی واضح‌رہے کہ مجھے اقبال سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں۔ البتہ میں اس school of thought کا حامل نہیں جو اقبال کو حکیم الامت اور محمد علی جناح کو قائداعظم مانتے ہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 19, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    یہ بحث لگتا ہے کہ ایک طویل سفر طے کرے گی مگر بحیثیت ادب کے ایک ادنی طالبعلم اپنے معزز ناقدین حضرات کی خدمت میں اپنے چند معروضات پیش خدمت ہیں۔
    کسی بھی شخصیت کو پرکھنے سے پہلے ایک اصولی بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ کسی بھی شخصیت چاہے اس کا تعلق مذہب سے ہو سیاست سے ہو یا پھر کسی اور شعبہ ہائے زندگی سے انکے متعلق کبھی بھی حتمی رائے قائم نہ کی جائے۔۔۔جو لوگ کسی شخصیت کے متعلق حتمی رائے قائم کرلیتے ہیں وہ بھی تو محض رائے ہی ہوتی ہے یہ کیسے باور کرلیا جائے کہ ناقد کماحقہ اس شخصیت سے واقف ہے سب سے بڑا مغالطہ بس یہیں پہ ہم سے سرزد ہوجاتا ہے کہ ہم بنا سوچے سمجھے یا تو کسی کی تکفیر کردیتے ہیں یا پھر کسی کو صوفی وغیرہ بنا بیٹھتے ہیں یہاں پر بات چونکہ علامہ محمد اقبال مرحوم کی ہورہی ہے تو انکے متعلق بس اتنا کہ ہر کس وناکس کو اپنا منہ نہیں کھولنا چاہئے یہ ہم بھی خوب جانتے ہیں کہ اقبال مرحوم ایک طویل عرصہ تک صوفیت کے قائل رہے ہیں مگر یہ کہہ دینا کہ اقبال اول و آخر صوفی تھے سراز سر ناانصافی اور کم علمی پر مبنی ہے اسکی مثال کچھ اس طرح کہ ایک شخص ساری عمر صوفیت کا قائل رہا ہو صوفیت کے حق میں ڈھیر ساری کتابیں بھی لکھ ماری ہوں مگر مرنے سے پہلے اگر اس نے اپنے اس عقیدہ سے توبہ کرلی ہو۔۔۔تو پھر کیا ہوگا۔۔۔۔اس نے تو اپنا آپ بخشوا لیا مگر ہم لگے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کے۔۔۔ہاں جو چیز ہمیں خلاف شرع نظر آرہی ہو اور وہ چاہے کسی بڑے سے بڑے فنے خان کی کیوں نہ ہو ہم اسے بلاشبہ رد کریں گے علامہ مرحوم کے صوفیت کے حق میں لکھے گئے تمام اشعار کو ہم بلا جھجک ایک سائیڈ پر رکھ لیں گے مگر یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ہم علامہ کی تبحر علمی کے منکر ہوجائیں علامہ مرحوم بلا شبہ ایک اعلیٰ پایہ کے دانشور اور حکمت آشنا تھے انہوں نئی نسل کیلئے اپنے بعد بہت کچھ چھوڑا ہے غلطیاں کس سےنہیں ہوئیں تاریخ جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ دنیا کے اکثر زعماء سے غلطیاں ہوئی ہیں پھر اگر اس معاملے علامہ مرحوم سے چند غلطیاں ہوگئی ہیں تو کونسی قیامت پبا ہوگئی ہے حمید الدین فراہی مرحوم ہندوستان کےایک گمنام اور عظیم عالم دین ہیں فراہی مرحوم کی کتب کا مطالعہ کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کتنے بلند پایہ عالم دین تھے مگر وہ بھی کہیں کہیں پرتفرد کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ اس معاملے اپنے شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کو دیکھ لیں مسلک اہلحدیث کے ایک درخشاں ستارے۔۔۔انکی مشہور زمانہ کتاب غنیہ الطالبین قریباً ہر مکاتب میں پڑھائی جاتی ہے مگر اتنے بڑے بزرگ بھی کہیں کہیں تفردات کا شکار ہوگئے ہیں اسی طرح امیں احسن اصلاحی مرحوم سید مودودی مرحوم حتی کہ ہم تو کہتے ہیں کہ غلام احمد پرویز صاحب منکر حدیث اپنی جگہ انکی تحریک احمدیت کے خلاف تحریرں آج بھی طلو ع اسلام میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں کسی بھی شخص میں جہاں خوبیاں موجود ہوتی ہیں وہاں اس میں چند ایک خامیاں بھی ہوتی ہیں یہ الگ بات کہ کسی کی خامیاں سنگین نوعیت کی ہوتی ہیں اور کسی کی معمولی۔۔۔۔
    علامہ مرحوم کے متعلق اگر کوئی عزیز تفصیلات جاننا چاہتا ہے تو ہمارے بزرگ اور معروف ماہر اقبالیات جناب احمد جاویدصاحب سے رجوع کرے آج کل وہ ایجیرٹن روڈ پر واقع ایوان اقبال میں بحیثیت ڈائریکٹر کے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بھائى بات كڑوے ميٹھے كى نہيں، ہم بھى حقيقت سے آنكھيں چرانا نہيں چاہتے ليكن بات يہ ہے كہ زير بحث موضوع كيا ہے؟
    آپ بلھے شاہ سے لے كر اقبال تك سب پر مدلل تنقيد ميں آزاد ہیں ايك الگ موضوع شروع كركے ان كی غلط باتوں كى ضرور نشان دہی فرمائيں ليكن اس موضوع كو وہاں تك محدود رہنے ديں جہاں تك صاحب موضوع كا سوال ہے۔
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہ لیجیے آزاد بھیا
    ابن عربی اور اقبال از ڈاکٹر سید عبداللہ
    یہ مضمون نقوش کے اقبال نمبر میں شائع ہوا تھا ۔
    یہ اقبالیات کے ایک ماہر کی رائے ہے ۔ اس موضوع پر سید نذیر نیازی اور دوسرے لوگوں کو بھی ضرور پڑھیے ان شاءاللہ بات واضح ہو جائے گی ۔
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہ لیجیے اس تاریخی جھوٹ کا مدلل جواب حضرت علیم الدین علیم ناصری رحمہ اللہ کے قلم سے ۔
    فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک - URDU MAJLIS FORUM
    خود اقبال کی ۱۹۱۶ء کی تحریر سے ختم نبوت پر ان کا ایمان اور اس کے لیے ان کی غیرت ظاہر ہے، وہ صاف لکھتے ہیں کہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والا کافر ہے ۔ ایسے میں مصنف نے یہ دعوی کیسے کر دیا کہ : وہ پہلے مرزائیت کی طرف راغب تھے ؟ اور 1925ء میں انہوں نے احمدیت سے قطع تعلق کرلیا تھا۔
    حقیقت میں مرزا قادیانی پہلے اسلام کے دفاع میں مناظروں کی وجہ سے مشہور تھا اس لیے بہت سے لوگ اس کو دین دار آدمی سمجھتے تھے ، جب اس نے نبوت کا دعوی کیا تو جوں جوں حقیقت کھلتی گئی لوگ ہوشیار ہو گئے ۔ یہی اقبال کے ساتھ ہوا۔ اس میں برائی کیا ہے ؟ اس مضمون کے علاوہ آپ جاوید اقبال کی زندہ رود کے ان مقامات کو ضرور دیکھیں جس میں تفصیلا اس سارے قضیے کا ذکر ہے۔اور مقالات اقبا ل میں سے اسلام اور احمدیت کو ضرور پڑھیں جس میں انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی جانب سے قادیانیت کی وکالت پرامت مسلمہ کی جانب سے شافی جوابات دئیے ہیں ۔
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    لیجیے ان تینوں غلط فہمیوں کا جواب سید نذیر نیازی کے الفاظ میں
    http://www.urdumajlis.net/threads/اقبال-اور-فلسفہ-وحدت-الوجود.35935/#post-478871
    دانائے راز کو مکمل پڑھ کر بہت کچھ واضح ہو گا ان شاء اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں