زبیراحمد کے پسندیدہ کالم

زبیراحمد نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏ستمبر 26, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    کمال قبیسی لندن سے
    ماضی کے دو حلیف" تُرکی اور اسرائیل" آج ایک دوسرے کے خطرناک حریف بن چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری حالیہ تناؤ تل ابیب اور انقرہ کو باضابطہ طور پر جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے۔

    دو ہفتے پیشتر ترکی نے اپنے ہاں تعینات اسرائیلی سفیر سمیت تمام سفارتی عملہ ملک سے نکال باہر کیا تو اسرائیل نے اس پر سخت ناگواری کا اظہارکیا۔ انقرہ نے تل ابیب کے غم وغصے کی پرواہ کیے بغیر اسرائیلی سیاحوں کی جامہ تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا، جسے اسرائیل نے"شرمناک تفتیش" سے تعبیر کیا۔ ترکی نے ایک قدم مزید آگے بڑھتے ہوئے اعلان کیا کہ محصورین غزہ کے لیے آنے والے کسی بھی امدادی بحری جہاز کو اس کی بحریہ تحفظ فراہم کرے گی۔ معاملہ یہیں ختم نہ ہوا بلکہ ترکی نے شمالی قبرص میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کا اعلان کرتے ہوئے اپنے بحری جنگی جہاز بحر متوسط بھجوانے کا بھی اعلان کر دیا۔

    ترکی کے دن بدن سخت ہوتے رویے پر اسرائیل نے بھی اپنے دفاع کی طرف ایک مرتبہ پھر توجہ دینا شروع کر دی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا کسی بھی جنگ کی صورت میں دونوں ملکوں میں سے کس کا پلڑا بھاری رہ سکتا ہے۔ کیا دنیا کی چھٹی فوجی طاقت کا حامل ترکی فتح مند ہو گا یا سنہ 1967ء کی جنگ میں کئی عرب ملکوں کی اجتماعی یلغار میں انہیں شکست سے دوچار کرنے والی دنیا کی دسویں فوجی طاقت 'اسرائیل" میدان مارے گی۔ تاہم اس سوال کا جواب تو وقت ہی دے سکتا ہے البتہ العربیہ ٹی وی نے دونوں ملکوں ترکی اور اسرائیل کی فوجی طاقت کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا ہے، جس سے نہ صرف دونوں حریف ملکوں کی جنگی استعداد کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ دونوں کے عزائم بھی سامنے آ رہے ہیں۔

    العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک امریکی اخبار "اسٹار گزٹ" نے ترکی کی فضائیہ کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ترکی فضائیہ نے فوجی مقاصد کے لیے الیکٹرانک آلات تیار کرنے والی کمپنی"اسلسان" کے توسط سے اپنے"ایف 16" لڑاکا طیاروں میں نصب الیکٹرانک سسٹم تبدیل کرادیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ الیکٹرانک نظام ترکی کے پاس موجود 250 ایف سولہ طیاروں میں تبدیل کیا گیا۔

    "اسٹار گزٹ" کے مطابق"IFF" کے نام سے مشہور اس خود کار الیکٹرانک سسٹم کا فائدہ یہ ہے کہ یہ رڈار کے ذریعے دشمن کے کسی بھی جنگی جہاز کو ایک خاص فاصلے کے اندر دیکھنے اور خود کار طریقے سے اس پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ٹکنالوجی اس سے قبل اسرائیل بھی حاصل کر چکا ہے تاہم فی الحال اس کے استعمال کا کوئی عملی تجربہ نہیں کیا گیا۔



    بحری قوت کا موازنہ
    ترک لڑاکا طیارے
    اسرائیل اور ترکی کے درمیان کوئی زمینی سرحد نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی جنگ میں بری افواج کا کوئی خاص کردار نہیں ہو گا۔ اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان توپ، راکٹ لانچر، ٹینکوں اور زرع بند گاڑیوں کا تذکرہ بے سود ہے، تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان موجود سمندر کی مسافت کو ایک "ایف 16" طیارہ صرف 10 منٹ کی مسافت سے طے کر سکتا ہے۔

    امریکی خفیہ ادارے"سی آئی اے" کی جانب سے جاری "World Fact Book" کی سالانہ رپورٹ، اور "گلوبل فائر پاور" کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور ترکی کے درمیان کسی بھی معرکے میں میدان جنگ ان کی سر زمین نہیں بلکہ درمیان میں موجود بحر متوسط ہو گا۔ ایسی جنگ میں کسی کو فاتح مفتوح یا دوسرے لفظوں میں کسی بھی ملک کو شکست خوردہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔

    اسرائیل کے لیے ایک اچھا پہلو یہ ہے کہ اس کے پاس دنیا کی دسویں فوجی قوت موجود ہے، لیکن اس کا مقابلہ دنیا کی چھٹی فوجی طاقت اور شمالی اوقیانوس کی تنظیم"نیٹو" میں امریکا کے بعد دوسری فضائی قوت رکھنے والے ملک ترکی سے ہو گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ترکی کے پاس اس وقت امریکا، روس، چین بھارت اور برطانیہ کے بعد سب سے طاقتور فضائیہ موجود ہے۔

    جنگی صلاحیت جانچنے سے متعلق کام کرنے والے ادارے "گلوبل فائر پاور" کے مطابق اسرائیل کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی بحریہ کے مقابلے میں ترکی کی بحریہ کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے۔ اس وقت ترکی کی بحری صلاحیت بحر متوسط کے آس پاس موجود ممالک میں فرانس کے بعد دوسری بڑی طاقت ہے۔ اسرائیلی بحریہ کا دار و مدار "السردین فش" نامی آبدوز پر ہے جس کا مقابلہ ترکی کی طاقتور آبدوز "القرش" کے ساتھ ہے۔ ترکی کی آبدوز حجم اور طاقت دونوں میں اسرائیلی آبدوزوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

    البتہ فضائی قوت کے اعتبار سے اسرائیل کو ترکی پرسبقت حاصل ہے۔اسرائیل کے پاس لڑاکا طیاروں کی تعداد، ان کی اقسام اور لڑاکا طیاروں کا آپریشنل سسٹم ترکی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق حالت جنگ میں اسرائیلی ہواباز ترک ہوابازوں کے مقابلے میں زیادہ جنگی مہارت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔


    لاجسٹک سسٹم میں ترکی کی سبقت
    ترکی بحریہ

    "العربیہ" نے اپنی مفصل رپورٹ میں ترکی اور اسرائیل کی لاجسٹک صلاحیت کا بھی جائزہ لیا ہے۔ دونوں ملکوں کی لاجسٹک پاورکے تجزیے سے ایسے لگتا ہے کہ طبل جنگ بجنے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل مدت تک اور وقفے وقفے سے جنگ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور ترکی کے مابین صرف جنگی صلاحیت ہی نہیں بلکہ، آبادی، رقبے اور محل وقوع کا بھی واضح فرق ہے اور جنگ کی حالت میں ترکی ان تمام خصوصیات سے فائدہ اٹھائے گا۔ رقبے کے اعتبار سے ترکی اسرائیل سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس کا مجموعی رقبہ سات لاکھ 83 ہزار مربع کلومیٹر ہے، جس میں کوئی صحراء نہیں بلکہ ہر طرف آبادی ہے۔ ترکی کے پاس 14 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا سمندر ہے۔ سمندری پھیلاؤ میں اسرائیل، ترکی سے آگے ہے کیونکہ صہیونی ریاست کے پاس 20 ہزار 770 مربع کلو میٹر سمندر ہے۔ اسرائیل کی مجموعی آبادی 75 لاکھ ہے جبکہ ترکی کی آبادی سات کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ ہے۔

    ترکی، اسرائیل کے کسی بھی شہر کو"ایف سولہ" طیارے کے ذریعے صرف 10 منٹ میں نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ اسرائیل کو ترکی کے دور دراز شہروں تک تیز ترین رسائی کے لیے بھی 35 منٹ درکار ہوں گے۔
    اقتصادی پہلو
    ایوی ایشن ونگ ترک بحریہ

    اقتصادی پہلو سے بھی اسرائیل کا ترکی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ گذشتہ برس ترکی کی مجموعی قومی پیدوار اسرائیل کے مقابلے میں ساڑھے چار گنا زیادہ یعنی ایک کھرب ڈالرز سے زیادہ تھیں جبکہ اسرائیل کی مجموی پیداوار 02 ارب 20 کروڑ تھی۔ کسی بھی ترک شہری کی سالانہ آمدنی اسرائیلی شہریوں سے گیارہ گنا زیادہ ہیں۔ ایک ترک شہری کی سالانہ امدن 30 ہزار ڈالرز جبکہ اس کے مقابلے میں اسرائیل میں فی کس سالانہ آمد 12300 ڈالرز سے زیادہ نہیں ہو سکی۔

    اسرائیلی محکمہ دفاع کے مطابق تل ابیب کی رواں سال میں دفاعی پیدوار 16 کروڑ ڈالرز تھیں جبکہ اس کے مقابلے میں ترکی نے 25 کروڑ ڈالرز کی دفاعی پیداوار کا ہدف حاصل کیا۔ الغرض دفاع میں مسلح افواج، بری اور فضائی ہر اعتبار سے ترکی اسرائیل پر سبقت رکھتا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں ترکی کا پلڑا بھاری رہے گا۔
    ترک بحریہ کے لڑاکا طیارے
    ترک بحریہ کی آبدوز

    ترکی میں کے پاس مستقل طور پر فوج کی تعداد 06 لاکھ 12 ہزار اور ریزرو فوج کی تعداد چار لاکھ 29 ہزار ہے، اس کے مقابلے میں اسرائیل کے پاس مستقل فوج صرف 1 لاکھ 87 ہزار اور ریزرو فوج کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار ہے۔ ترکی کے پاس 689 ہیلی کاپٹروں سمیت 1964 لڑاکا طیارے ہیں، اسکے مقابلے میں اسرائیل کے پاس مجموعی طور پر 1940 جنگی جہاز ہیں۔ ترکی کی بری افواج کے پاس 4246 ٹینک ہیں جبکہ اسرائیل کے پاس ٹینکوں کی تعداد 3230 ہے۔

    اسرائیلی بحریہ کے پاس کل 64 بحری اسلحہ بردار جہاز ہیں جبکہ ترکی کے پاس اسلحہ بردار جہازوں کی تعداد 269 ہے۔ اسرائیل کے پاس بحری جنگی جہازوں کی تعداد صرف 10 ہے اور ترکی کے پاس 645 بحری جہاز موجود ہیں۔ ترکی کے ہوائی اڈوں کی تعداد 99 جبکہ اسرائیل کے ہوائی اڈوں کی تعداد 48 ہے۔ اسرائیل کے پاس کل 24 آبدوزیں اور اس کے حریف ترکی کے پاس 110 طاقتور آبدوزیں موجود ہیں۔

    ترک بحریہ کے زیر استعمال مال بردار جہاز LCM302 مجموعی طور پر 26 کی تعداد میں ہیں جو ایک ہی وقت میں 60 ٹن وزنی سامان سمندر میں اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے علاوہ مقامی سطح پر تیار کردہ ایک بحری مال بردار جہاز 100 فوجیوں اور 05 ٹینکوں کو لےجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان بحری جہازوں کی تعداد 30 ہے۔

    اس کے علاوہ ترکی کے پاس "اوسمنگازی" نامی بحری جہاز 900 فوجیوں اور 15 ٹینکوں اور ایک ہیلی کاپٹر کو بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر جہاز "آرٹو گرول" 350 فوجیوں اور 2200 ٹن دیگر سامان لے جا سکتے ہیں۔

    ترکی کے پاس آبدوزوں کی تلاش کے لیے الگ سے فورس قائم ہے جس کے پاس چار جدید ترین آبدوزیں اور تین CN235 جنگی جہاز ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی ساختہ "بلیک ہاک" ہیلی کاپٹر بھی سمندر میں دشمن کی آبدوزوں کی تلاش کے لیے مقرر ہیں۔ تین آبدوز شکن نظام سے لیس طیارے اس کے علاوہ ہیں۔

    ترکی کے پاس موجود بحری جنگی بیڑوں میں فوج اور ساز و سامان منتقل کرنے والے طیاورں کے علاوہ 08 عدد میزائل لانچنگ پیڈ،"بلاک ون" میزائل کا لانچنگ پیڈ، F16 طیاروں کے لیے رن وے اور کئی درجن ہیلی کاپٹروں کے اترنے کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔

    ترکی کے پاس امریکی ساختہ جدید ترین جنگی صلاحیت کے حامل طیارے” ایف 35" کی تعداد اسرائیل کے مقابلے میں کم ہے تاہم امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت واشنگٹن اگلے تین سال میں نہ صرف بڑی تعداد میں یہ طیارے انقرہ کو فراہم کرے گا بلکہ بغیر پائلٹ کے اڑنے والے ڈرون طیارے بھی فراہم کیے جائیں گے۔

    امریکا کی جانب سے ترکی جو جدید ترین رڈار سسٹم X Band بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ یہ رڈار اس سے قبل امریکا، ایران کےخلاف جاسوسی کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    رئوف کلاسرہ لکھتے ہیں کہ
    شہباز شریف نے سانحہ سیالکوٹ کے پولیس افسران کو تو غفلت برتنے پر خصوصی عدالت سے سزا دلوانے میں خاصی ذاتی دلچسی دکھائی ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ جسٹس شبیر رضوی کی اس رپورٹ کو کوڑے دان میں پھینک دیا ہے جس میں ان کے بارہ چہیتے پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی کہ تین مارچ دو ہزار نو کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے وقت جس میں آٹھ لوگ مارے گئے تھے، نہ صرف بزدلی دکھائی تھی بلکہ ان کی نااہلی اور غلفت کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ کا جنازہ نکل گیا تھا۔

    سیالکوٹ کے افسوس ناک واقعہ میں دو بھائی ہلاک ہوئے تھے جس میں اب پولیس والوں کو بھی اس بات پر سزائیں دی گی ہیں کہ چاہے وہ موقع پر موجود نہ تھے تاہم پھر بھی یہ ان کی غلفت کی وجہ سے ہوا تھا۔ تاہم لاہور سری لنکن ٹیم پر حملے میں آٹھ لوگ مارے گئے تھے اور ان بارہ پولیس افسروں کو بخش دیا گیا ہے جن کی نااہلی عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں ثابت بھی ہوئی تھی اور کمیشن نے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی تھی۔ شہباز شریف نے اب وفاقی حکومت کو لکھ کر بتا دیا ہے کہ وہ ان بارہ پولیس افسروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے جن کی نااہلی کی وجہ سے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا تھا اور چند پولیس والوں کے علاوہ راہ گیر بھی مارے گئے تھے۔ سری لنکن کھلاڑی بھی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیا ب ہو گئے تھے۔

    جسٹں رضوی نے اپنی رپورٹ میں لاہور پولیس کو “بزدل” کا خطاب دیا تھا جو ان کے بقول اس موقع پر دم دبا کر بھاگ گئے تھے اور اب انہیں یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ پولیس کے محکمے میں کام کرتے رہیں کیونکہ وہ بزدل کے علاہ نااہل بھی تھے اور ان پر مسقبل میں بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈٰی آئی جی پولیس حبیب الرحمن کا نام بھی اس فہرست میں شامل تھا جن کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گی تھی۔ ٹاپ سٹوری آن لائن کے پاس دستاویزی ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ شہباز شریف نے اس بیناد پر اپنے ان چہیتے افسروں کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کیا ہے کہ ان کے خیال میں اس سارے واقعے کی ذمہ داری اس وقت کے انسپکٹر جنرل خواجہ خالد فاروق پر عائد ہوتی ہے۔

    اب شہباز شریف کے اس فیصلے کے پیچھے بڑی مزے کی بات یہ ہے کہ ایک تو خواجہ خالد فاروق ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ دوسرے خالد فاروق کو پنجاب میں گورنر راج کے بعد سلمان تاثیر کے کہنے پر آئی جی لگایا گیا تھا لہذا شہبار شریف ان سے اس بات کا بدلہ لینا چاہتے ہیں کہ وہ کیوں گورنر راج کے بعد اس پوزیشن پر فائز ہوئے تھے۔۔ یوں پنجاب حکومت کا خالد فاروق کو قربانی کا بکرا بنانا سمجھ میں آتا ہے کہ سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ تاہم ایک ذریعے کے مطابق شہباز شریف نے یہ سنہری اصول سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو سرعام ڈنڈے مار مار کر قتل کے افسوسناک واقعہ پر پنجاب کے موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اقبال پر لاگو نہیں کیا۔ جاوید اقبال کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی کہ وہ بھی ایک طرح سے سیالکوٹ واقعہ کے اس طرح بلاواسطہ ذمہ دار تھے جیسے کہ خالد فاروق خواجہ۔ تاہم شہباز شریف نے اپنے چہیتے آئی جی کے خلاف وہ کارروائی نہیں ہونے دی جو وہ خالد فاروق کے خلاف چاہتے ہیں۔

    اب پنجاب کے وزیرقانوں نے لکھ کر وفاقی حکومت کو یہ بھیجا ہے کہ ان افسروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی جن پر جسٹس رضوی کمیشن کے مطابق نااہلی اور بزدلی ثابت ہوتی تھی کیونکہ ان کے خیال میں ان افسروں کا کوئی قصور نہیں تھا جنہوں نے اس دن سری لنکن ٹیم کے ساتھ ہونا تھا لیکن وہ گھروں پر سوئے پائے گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان اور دیگر دس ایسے پولیس افسران کو اس وجہ سے تین تین سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے کہ چاہے وہ موقع پر موجود نہ تھے لیکن پھر بھی یہ ان کی ذمہ داری بنتی تھی، تو پھر آئی جی پولیس اور ڈی آئی جی کو بھی یہ سزائیں کیوں نہیں سنائی دی گیئں۔ اگرچہ پنجاب کے وزیر قانوں رانا ثناء الللا پہلے یہ اصول لکھ کر طے کرچکے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کا زمہ دار آئی جی پنجاب ہو گا اور اس لیے وہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا ذمہ دار اس وقت کے آئی جی کو سمجھتے ہیں۔ تاہم شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ موجودہ آئی جی پنجاب کو سیالکوٹ واقعہ میں بے گناہ اور ٖڈی پی او کو گناہ گار جانتے ہیں۔

    اس سے پہلے حال ہی میں سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے سپورٹس کا جسٹس رضوی کی رپورٹ پر بحث کرنے کے لیے ایک اجلاس بلایا گیا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت عبدالغفار قریشی نے کی۔ اس میٹنگ میں ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خلیق اخلاق گیلانی نے میٹنگ کے شرکاء کو سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کا بیک گراؤنڈ بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ تین مارچ دو ہزار نو کو ہوا تھا اور حکومت نے گیارہ مارچ کو عدالتی کمیشن بنایا تھا کہ وہ اس سارے معاملے کی تحقیق کرکے اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرے۔

    کمشن نے ایک درجن کے قریب لاہور پولیس کے افسراں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جو اس کے بقول نااہلی اور غلفت کے مرتکب ہوئے تھے۔ میٹنگ کو بتایا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویزن نے پنجاب حکومت کو کئی دفعہ بتایا کہ وہ ان افسروں کے خلاف چارج شیٹ تیار کرے اور ان کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کی جائے۔

    تاہم پنجاب حکومت چاہتی ہے کہ یہ ایکشن صرف اس وقت کے آئی جی خالد فاروق خواجہ کے خلاف ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے اس صورت حال میں ایک کمانڈر کی طرح کا رول ادا نہیں کیا۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویزن نے اصرار کیا کہ ایکشن سب کے خلاف ہونا چاہیے کیونکہ عدالتی کمشن نے واضح طور پر ان بارہ افسروں کے نام لکھے ہیں جو اپنے فرض سے غفلت کے مرتکب ہوئے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویزن کا خیال تھا کہ صرف ایک افسر کو قربانی کا بکرا بنا کر باقیوں کو نہیں چھوڑا جا رہا تھا جیسے کہ اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ پنجاب حکومت ان بارہ افسروں کو بچانا چاہتی ہے جن کے خلاف کارروائی کے لیے عدالتی کمیشن نے باقاعدہ سفارشات کی تھیں۔

    اس میٹنگ میں پنجاب حکومت کی نمائندگی سکندر سلطان راجہ، سیکرٹری ایس جی ڈے اے کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی کمیشن کی سفارشات کے بعد ، وزیرقانوں رانا ثناء الللا کی قیادت میں بنائی گئی ایک اور کمیٹی نے یہ سفارش کی تھی کہ عدالتی کمیشن کی سفارشات کو ایک طرف رکھ کر کارروائی صرف اس وقت کے آئی جی خالد فاروق کے خلاف کی جائے۔ یوں رانا ثناء الللہ نے جسٹس رضوی کمیشن کی سفارشات ماننے سے انکار کردیا۔

    یہ سن کر میٹنگ میں موجود ممبران جن میں کمیٹی کے چیئرمین غفار قریشی، جہانگیر بدر، سردار علی خان، نوابزادہ میر حاجی لشکری، سید طاہر حسین مشہدی، سینٹر ہارون اختر اور نعیم حسین چھٹہ نے پوچھا کہ اگر پنجاب حکومت کی اپنی کمیٹی نے جسٹس رضوی کمیشن کی سفارشات کو رد کر دیا تھا تو پھر اب اس عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا کیا سٹیٹں ہے؟ ان سینٹروں نے کہا کہ اس کا مطلب تو بڑا واضح تھا کہ پنجاب حکومت اس عدالتی کمیشن کی سفارشات کو ماننے سے انکاری ہے۔ ان ارکان کا کہنا تھا کہ یہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ اس معاملے میں نہ صرف پوری قوم بلکہ عالمی برادری کا اعتبار بھی ختم کیا جار ہا ہے جنہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اس حملے کی نہ صرف ایک جج سے انکوائری کرائی جارہی ہے بلکہ اس کمیشن کی سفارشات پر بھی من و عن عمل ہوگا۔

    کمیٹی کے ممبران کا کہنا تھا کہ اگر اس عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو پھر پاکستان میں کوئی کرکٹ ٹیم میچ کھلینے نہیں آئے گی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا پنجاب کے حکمرانوں نے پاکستان سے کرکٹ کا کھیل ختم ہونے دیا لیکن انہوں نے جسٹس رضوی کمیشن کی سفارشا ت پر عمل نہیں کیا اور اب وہ تمام افسران جنہیں نوکریوں سے نکالا جاتا یا وہ جیل میں ہوتے، انہیں اس وقت پنجاب میں شہباز شریف نے نہ صرف اعلی عہدوں پر تعنیات کیا ہوا ہے بلکہ کچھ نے تو ترقیاں بھی حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیے ہوئے ہیں۔
    بشکریہ
    ٹاپ سٹوری
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    حق حاکمیت اور ساحل و وسائل پر اختیار۔۔۔۔مجید اصغر​

    حق حاکمیت اور ساحل و وسائل پر اختیار بلوچستان کے عوام کا دیرینہ خواب ہے جس کی تعبیر انہیں طویل جدوجہد کے باوجود ابھی نہیں ملی۔ حق حاکمیت سے مراد اگر معروف معنوں میں صوبائی خودمختاری ہے تو وہ وزیر اعظم گیلانی کے دعوے کے مطابق چالیس سالہ پرانی کنکرنٹ لسٹ کے تحت بعض محکمے صوبوں کے حوالے کرکے دی جاچکی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ صوبے خصوصاً بلوچستان کی حکومت اور عوام اسے داخلی خود مختاری کے حوالے سے کافی نہیں سمجھتے کیونکہ ایک تو ان محکموں سے منسلک کئی اہم ادارے وفاق نے اپنے پاس رکھ لئے ہیں دوسرے ان محکموں کے فنڈز بھی روک لئے ہیں اور صوبوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے وسائل سے ان کے اخراجات پورے کریں لیکن یہ سب کچھ مل جاتا تو بھی حق حاکمیت کے تقاضے پورے نہ ہوتے کیونکہ بلوچستان کے لوگ اپنے صوبے پر مکمل حکمرانی اور کسی قدغن کے بغیر سیاسی و اقتصادی فیصلہ سازی کا حق چاہتے ہیں۔ بعض تو اس سے بھی آگے بڑھ کر مکمل علیحدگی اور آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں۔ وہ خود مختاری کے اس مفہوم کو تسلیم نہیں کرتے جو اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکمرانوں کے ذہنوں میں ہے۔

    صوبائی خودمختاری کا جو تصور 1940ء کی قرارداد پاکستان میں پیش کیا گیا تھا اسے عملی جامہ پہنایا جاتا یا قائد اعظم اور خان آف قلات میر احمد یار خان کے درمیان الحاق بلوچستان کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کی شرائط پر من وعن عملدرآمد ہوتا تو بلوچستان کے بلوچ و پشتون عوام اور قوم پرست قوتیں بھی شاید مطمئن ہوجاتیں مگر ان دونوں عہد ناموں کو یکسر نظر انداز کرکے حق حاکمیت کے بنیادی نظرےئے کی نفی کردی گئی جس کے نتیجے میں ایسی تلخیوں نے جنم لیا جو عشروں کے سیاسی اقدامات اور عسکری کارروائیوں کے باوجود ختم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔

    بلوچستان کے لوگ حکمرانی کا حق سیاسی اقتدار کے لئے ہی نہیں اپنے صوبے کے 770 کلومیٹر طویل دفاعی واقتصادی اہمیت کے حامل ساحل اور بیش بہا زیر زمین قدرتی وسائل پر اختیار کے لئے بھی مانگتے ہیں تاکہ انہیں بروئے کار لاکر صدیوں کی غربت اور پسماندگی کا خاتمہ کرسکیں۔ تین لاکھ 47 ہزار 914 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ صوبہ زیادہ تر بے آب و گیاہ پہاڑوں، تاحد نظر پھیلے ہوئے صحراؤں اور ریگستانوں، لق ودق میدانوں اور خشک اور بنجر علاقوں پر مشتمل ہے۔ قابل کاشت اراضی کل رقبے کا تقریباً 6 فی صد بتائی جاتی ہے جو آبپاشی کے محدود وسائل کی وجہ سے اناج کی ضروریات پوری نہیں کرتی حالانکہ آبادی بہت کم ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلوچستان ملک کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر مشتمل ہے مگر اس کی آبادی کل ملکی آبادی کا صرف ساڑھے چھ فیصد ہے۔

    ظاہری وسائل کی اس کمی کی وجہ سے بلوچ مورخین کے مطابق ایک زمانے میں ازراہ مذاق مقامی لوگوں میں یہ کہاوت مشہور تھی کہ” اللہ تعالیٰ نے تخلیق کائنات کے بعد جب اسے سجانا سنوارنا شروع کیا تو دنیا بھر کا کوڑا کرکٹ اٹھا کر بلوچستان میں پھینک دیا“ یہ اس خطے میں وسائل کی کمی کی طرف ایک اشارہ تھا۔ اسی بنا پر افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمن نے انگریزوں سے کہا تھا کہ یہ بے کار علاقہ مجھے دے دو تاکہ میں یہاں سے گزر کر گرم سمندر تک پہنچ سکوں لیکن انگریزوں نے اپنی خفیہ تحقیق سے پتہ چلا لیا تھا کہ یہ علاقہ بے کار نہیں اس کے اندر سونے چاندی تانبے تیل گیس اور دوسری معدنیات کے خزانے چھپے ہیں۔ تاہم انہوں نے مناسب وقت کے انتظار میں کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ جیالوجیکل سروے آف انڈیا میں اس حوالے سے جو معلومات درج تھیں انگریزوں نے انہیں ”ٹاپ سیکرٹ“ قرار دے کر باہر کی دنیا تک پہنچنے سے روک دیا لیکن بعد کے دور میں یہ راز، راز نہ رہا اور جلد ہی دنیا کو پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی تزئین وآرائش کے دوران بلوچستان میں ”کوڑا کرکٹ“ نہیں پھینکا تھا بلکہ اپنے فضل و کرم کے خزانے یہاں کے پہاڑوں میں چھپائے تھے تاکہ آدم کی آنے والی نسلیں انہیں استعمال میں لا سکیں۔

    بلوچستان میں اب تک تقریباً چالیس انتہائی قیمتی زیر زمین معدنیات کے وسیع ذخائر دریافت ہوچکے ہیں جو محتاط تخمینوں کے مطابق آئندہ پچاس سے سو سال تک ملکی ضروریات کیلئے کافی ہیں ان میں تیل، گیس، سونا، تانبا، کولٹن، یورینیم، خام لوہا، کوئلہ، انٹی مونی، کرومائٹ، لٹرائٹ، سنگ مر مر، سیسہ، مینگانیز، نکل، زنک، اسسبٹوس، بیرائٹ، فلورائٹ، یاقوت، گندھک، گریفائٹ، چونے کا پتھر، کھریا مٹی، میگنسائٹ، سوپ سٹون، فاسفیٹ یا تیزابی نمک، ورمیکیولائٹ، جپسم، سرمہ، المونیم، پلاٹینیم، یورینیم، سلیکاریت، سلفر، لیتھیم اور اربوں ڈالر کی کئی دوسری قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔

    تیل سب سے پہلے 1884ء میں کوہلو ایجنسی میں دریافت ہوا تھا جب سبی سے ہرنائی کے لئے ریل کی پٹڑی بچھائی جارہی تھی۔ ایوب خان کے دور میں ایرانی سرحد کے قریب تیل دریافت کیا گیا۔ اس وقت کے شہنشاہ ایران کو پتہ چلا تو اس نے فوراً اپنے دوست ایوب خان سے رابطہ کرکے تیل کے پاکستانی کنویں بند کرا دیئے۔ یہ کنویں زیریں علاقے میں تھے اور خدشہ تھا کہ ایران کے بالائی علاقے میں واقع آبادان کے چشموں کا سارا تیل بہہ کر ان کنوؤں کی طرف چلا جائے گا۔ ایوب خان نے اپنے کنویں سیمنٹ کی بوریاں ڈال کر بند کرادیئے بلکہ سرحد کے ساتھ پاکستان کا دو ہزار مربع میل تیل والا علاقہ بھی ایران کے حوالے کردیا۔1952ء سے گیس اور کوئلے کی بھاری مقدار بلوچستان سے نکالی جا رہی ہے مگر اس کا زیادہ تر فائدہ سرمایہ کار کمپنیوں یا وفاقی حکومت کو حاصل ہو رہا ہے۔

    مقامی لوگوں کا حصہ اس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضلع چاغی کے علاقے ریکوڈیک میں سونے اور تانبے کا دنیا بھر میں دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ دریافت ہوا۔ اس سے دس ارب کلو گرام تانبا اور 36کروڑ 80لاکھ گرام سونے کا حصول متوقع ہے مگر اسے نکالنے کا ٹھیکہ ایسے مشکوک انداز میں دیا گیا کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے مبینہ طور پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ ”میرے خیال میں ہم نے اپنا مستقبل فروخت کر دیا ہے“۔

    بہ شکریہ روزنامی جنگ
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاک-امریکہ تعلقات، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی۔۔۔نذیر لغاری

    پاک.امریکا تعلقات آج جس نہج پر ہیں ان میں بہتری کے امکانات بظاہر بہت محدود ہیں، کیونکہ ایشیا کے تین اہم خطوں جنوبی ایشیا، وسطیٰ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تمام تر دائروں میں پاکستان کی ریاستی مقتدرہ کے طاقتور ستونوں کو ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے اور یوں بھی یہ تعلقات کبھی دو طرفہ قومی مفادات کے تابع نہیں رہے، اگر ایک طرف امریکا کے وسیع البنیاد ہمہ گیر طویل المدتی مفادات کیلئے یہ تعلقات قائم ہوئے تھے، تو دوسری طرف بھی امریکی مفادات کی نگہداشت اور نگہبانی ان تعلقات کا سنگ میل قرار پائی تھی۔

    پاک امریکا تعلقات میں پاکستان کے معاشی، اقتصادی، جغرافیائی اور تزویری مفادات کبھی بھی پیش نظر نہیں رہے، بلکہ ان تعلقات کو ادارہ جاتی بلکہ بڑی حد تک شخصی مفادات کا قیدی بنا کر استوار کیا جاتا رہا۔ امریکی مفادات کا تعین سرد جنگ کے نظریئے میں واضح کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں کے بعد امریکا کا اولین ہدف یہ رہا کہ دنیا بھر کے تمام براعظموں بالخصوص ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ سرد جنگ کے دوران سریع الحرکت مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں سوویت یونین اور چین کے ذریعے کمیونزم کے پھیلاؤ کے آگے بند باندھنا تھا۔ پاک امریکا تعلقات اسی سریع الحرکت ٹاسک فورس کی حرکت پذیری کے دائروں میں گردش کرتے رہے۔ 1983ء میں اس فورس کو سنٹرل کمان کا نام دیا گیا اور پاکستان کو امریکی مفادات اور سنٹرل کمان کی فرنٹ لائن اسٹیٹ کا درجہ دے دیا گیا۔

    ہم امریکی مفادات کی آتش نمرود میں بے خطر کود پڑے، مگر ہمارے پیش نظر چند خود غرضانہ شخصی مفادات تھے۔ ہمارے پیش نظر ہمیشہ امریکا سے جرنیلوں کے اقتدار کی توسیع اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی داخلی من مانی کارروائی کی تصدیق اور توثیق رہی ہے۔ خارجی محاذ پر ہم امریکی مفادات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے کار خیر میں ہرکارے کا کردار ادا کرتے رہے۔ ہمارے ہاں پالیسی سازی میں دور اندیشی کا فقدان رہا۔ ہم نے بحیثیت قوم اپنے قومی مفادات کا سرے سے تعین ہی نہیں کیا۔ یہ غالباً دنیا کی واحد انوکھی ریاست ہے، جہاں اس ملک کے عوام کے ازلی اور ابدی مفادات کو کبھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔

    ہم نے کون سے قومی مفاد کی خاطر اپنے شہروں اور دیہات، جنگلوں اور پہاڑوں میں مسلح جنگجو پیدا کئے۔ ہم نے کس قومی غرض کی خاطر احزاب، عساکر، لشکر اور نجی سپاہ بنانے اور انہیں کھلی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی۔ امریکا تو ویت نام سے کوریا اور عراق سے افغانستان تک تیسری دنیا کے بیشتر ممالک میں نجی لشکروں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے، مگر ہم نجی لشکر بنانے کے عمل میں کیوں شامل ہوئے۔ کیا ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ سرکاری مسلح سروسز کے متوازی نجی لشکر بنانے کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ ہماری کوتاہ نظری اور کوتاہ بینی کا یہ عالم ہے کہ ہم اس سنگین ترین بحران میں بھی اپنے قومی مفادات اور ترجیحات کا تعین کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم نے عالمی تنہائی کو گلے سے لگا رکھا ہے اور پاک امریکا تعلقات کے ضمن میں کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ کیا امریکا نے جاپانی شہروں کو تباہی سے دوچار کرنے سے پہلے اس اقدام کے بھیانک انجام کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ کیا امریکا نے سرد جنگ کے منطقی انجام تک پہنچنے کے لئے کمیونزم کے انہدام میں کسی رحمدلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ کیا جب پانامہ کے صدر نوریگا کو ہتھکڑیاں لگا کر امریکا منتقل کیا جا رہا تھا، تو کیا امریکی مقتدرہ نے کسی رو رعایت کا مظاہرہ کیا تھا۔ کیا امریکا نے عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے جھوٹے جواز کی بنیاد پر بغداد، بصرہ، تکریت اور دیگر شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور صدام حسین کو پھانسی کے تختہ پر چڑھانے سے پہلے کسی توقف کا مظاہرہ کیا تھا۔

    کیا ہمیں واقعی معلوم نہیں ہے کہ امریکا کے تازہ اہداف کیا ہیں۔ امریکا نے سرد جنگ کے اہداف حاصل کر لئے۔ اب وہ سرد جنگ کے تزویری اثاثوں کو اپنے لئے بوجھ سمجھتا ہے اور وہ ہمارے سرد جنگ کے دور کے کردار اور قوت محرکہ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ کیا امریکا محض اعصابی جنگ کیلئے آئی ایس آئی اور پاکستان کی مسلح افواج پر الزامات لگا رہا ہے۔ میری انتہائی ناقص رائے میں امریکا حقانی نیٹ ورک، القاعدہ، لشکر طیبہ اور دیگر مسلح جنگجو تنظیموں کے پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں سے تعلق کے بارے میں جو الزامات عائد کر رہا ہے، وہ ان الزامات کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہے۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا ہے کہ ہم اپنے سروں پر رکھا ہوا بوجھ اتار پھینکیں ۔ حقانی نیٹ ورک اور دیگر مسلح جنگجو تنظیموں کے بارے میں لیون پینٹا، جنرل مائیک مولن، رابرٹ بلیک اور لنزی گراہم جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں، اس سے امریکی مقتدرہ کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔

    ہم ماضی میں امریکی دھمکیوں کے نتائج دیکھ چکے ہیں، اس لئے ہمیں صرف اور صرف پاکستان کے جغرافیے کی سلامتی کو اولین ترجیح دینی چاہئے اور دیگر تمام معاملات عوام اور ان کے منتخب اداروں کی صوابدید پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ اس نازک موڑ پر پاکستان کی پارلیمنٹ کو اپنے وجود کا اثبات کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنے شہروں اور دیہات، جنگلوں اور پہاڑوں میں غیر ریاستی مسلح جنگجو گروپوں کو ان کی سرگرمیوں سے باز رکھنے کیلئے ریاستی طاقت کا استعمال کرنا چاہئے۔ ہمیں عالمی تنہائی سے باہر آنا چاہئے۔ ہمیں عرب دنیا اور دوست ممالک کی جانب اپنے وفود بھیجنے چاہئیں، جو پاکستان کی پوزیشن کو واضح کریں۔ میرے خیال میں اس وقت ماضی اور حال کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں، مگر یہ مواقع ہر گزرتے دن کے ساتھ محدود سے محدود تر ہوتے جائیں گے۔ ہمیں پانی کے سر تک پہنچنے اور وقت کے گزر جانے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی کارروائی کرنا ہو گی۔ ورنہ خدانخواستہ خاکم بدہن ہم داستاں ہو جائیں گے۔

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
  5. aaryoob

    aaryoob -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    42
    جی ھاں پاکستان امریکا کو افغانستان میں شکست دینے اور افغانستان کو طالبان کے ذریعے فتح کرنے کا خیال دماغ سے نکال دینا چاھیں ،،،،،،،
     
  6. علی کے کے

    علی کے کے -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 29, 2010
    پیغامات:
    68
    اس طرح کے بزدلانہ مشورے دے کر یہ تجزیہ نگاران اور دانشوران کیا چاہتے ہیں۔۔۔؟
    اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والوں کی آنکھیں بند ہیں کیا۔۔۔؟
    کیا وہ افغانستان کو کفار کی طاغوتی طاقتوں کا قبرستان بنتے ہوئے نہیں دیکھ رہے ہیں کیا۔۔۔۔؟
    یاد رہے افغانستان اب ان کے لئے ایسا خوفناک دردناک کمبل بن چکا ہے کہ جسے یہ چھوڑنا چاہتے ہیں مگر یہ کمبل ایسا چمٹا ہے کہ الامان والحفیظ۔۔۔۔!!!!
     
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    بالکل اورمسلح گروپ ہمارے لیے ایسے ڈینگی بنے گے جس سے جان چھڑاناپھرہمارے لیے وبال جان بن جائے گا،،،،ایک پرتشددافغانستان امریکہ کے لیے وبال جان ہے پھرایک غریب افغانستان ہمارے لیے وبال جان بن جائے گا۔ہم نے 1977 کی بھیانک سیاست سے سبق نہیں سیکھاامریکہ سے لڑنا جہاد ہوگالیکن تہہ وبالا معیشت سے لڑناجہاداکبرہے۔
     
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    احمدی نژاد کے 9/11 سے متعلق شکوک، القاعدہ بر افروختہ

    عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے 11ستمبر 2001ء کو امریکا کے شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں ہوئے حملوں سے متعلق بیان پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایرانی صدر سازشی نظریات کو فروغ دینے سے گریز کریں۔

    ایرانی صدر نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ القاعدہ کی جانب سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ جعلی اور مضحکہ خیز ہے اور اس کا مقصد لوگوں کے جذبات سے کھیلنا تھا۔انھوں نے اس بات پر بھی زوردیا کہ امریکا نے نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی خود کی تھی اور اس کا مقصد افغانستان اورعراق پر فوجی چڑھائی کے لیے جواز تلاش کرنا تھا۔

    ایرانی صدر کی اس تقریر کے جواب میں القاعدہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ احمدی نژاد نائن الیون حملوں سے متعلق ایسے مفروضے گھڑنے سے گریز کریں جو رونما ہوئے حقائق کے منافی ہوں اوروہ القاعدہ کو نیچا دکھانے کے لیے بیانات جاری کرنے سے بھی گریز کریں۔

    اے بی سی نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے القاعدہ کے بیان کے مطابق: ''ایران اس قسم کا مضحکہ خیز یقین کیوں رکھتا ہےجو ہر طرح کی منطق اور شواہد کے منافی ہے''۔ القاعدہ کے انگریزی زبان کے میگزین میں شائع ہونے والے بیان کے مطابق احمدی نژاد القاعدہ کو ایران کا حریف سمجھتے ہیں کیونکہ اس تنظیم نے استعماریت اور امریکا کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک احترام حاصل کیا ہے۔

    بیان کے مطابق''القاعدہ وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے جو ایران حاصل نہیں کرسکا۔اس لیے ایرانی سمجھتے ہیں کہ 9/11 حملوں کو ڈس کریڈٹ کیا جائے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس حوالےسے سازشی نظریات کو فروغ دیا جائے''۔

    یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ احمدی نژاد نے گیارہ ستمبر کے حملوں میں القاعدہ کے کردار کے حوالے سے سوال اٹھائے تھے۔2009ء میں ایرانی صدرنے نائن الیون حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزادانہ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جو حقائق کا کھوج لگا کر ان حملوں میں ملوث عناصراور محرکات کو بے نقاب کرے۔اس سال لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک تقریر میں انھوں نے یہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ دُہرایا تھا۔
    سعود الزاہد،العربیہ ڈاٹ نیٹ
     
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    بلوچ ناراض کیوں ہیں؟

    مجید اصغر

    بلوچ قیام پاکستان کے وقت ناراض تھے، آج بھی ناراض ہیں، جو بہت زیادہ ناراض ہیں وہ اس وقت بھی ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔ آج بھی پہاڑوں پر، یا پہاڑی راستوں میں اپنے غم و غصے کا مختلف صورتوں میں اظہار کر رہے ہیں۔ اس مزاحمتی عمل کے نتیجے میں صرف 2010ء میں کوئی ڈیڑھ سو افراد ٹارگٹ کلنگ اور تقریباً اتنے ہی دھماکوں کی نذرہو چکے ہیں۔ مختلف علاقوں سے ملنے والی پچاس سے زائد مسخ شدہ لاشیں اسکے علاوہ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کرکے مارڈالا اور ان کی لاشیں گمنام مقامات پر پھینک دیں تاکہ دوسرے لوگ ان کے انجام سے عبرت پکڑیں۔ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے زیاد تر دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب سے آئے ہوئے آبادکار ہیں۔ مگر بہت سے بلوچ بھی مارے گئے ہیں۔ مزاحمت کار اپنی تحریک سے عملی ہمدردی نہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو معاف کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ان کے بقول آزادی کی جنگ میں جوان کے ساتھ نہیں وہ ایجنسیوں کا مخبر اور بلوچ وطن کا دشمن ہے۔ بلوچستان کے اندرونی علاقوں میں دودرجن سے زائد پنجابی ٹیچرز بھی مارے گئے ہیں جبکہ سیکڑوں مردو خواتین اساتذہ نے یا تو محفوظ شہروں میں تبادلے کرالئے ہیں یا نوکریاں چھوڑ کر اپنے آبائی علاقوں کو چلے گئے ہیں۔ اس سے اندرون بلوچستان تعلیم کا نظام ٹھپ ہو کررہ گیا ہے۔

    بہت سے ناراض بلوچ ایسے بھی ہیں جو مزاحمت کاروں کے موٴقف سے اتفاق تو رکھتے ہیں مگر ان کی طرح جانیں لینے اور جانیں دینے سے متفق نہیں۔ وہ بلوچستان سے ہونے والی زیادتیوں پر سراپا احتجاج ہیں اور ان کا ازالہ چاہتے ہیں مگر اس مقصد کیلئے جاری تحریک کو تشدد اور قتل وغارت سے پاک رکھنے کے حامی ہیں۔ وہ اپنی جدوجہد کو پرامن رکھنا چاہتے ہیں اور اس وقت کا انتظار کررہے ہیں جب تاریخ کا پہیہ گھوم کر ان کے حق میں ہوجائے اور انہیں ماضی میں ہونے والے معاہدوں کے تحت سیاسی آزادی، انتظامی خودمختاری اور مالی وسائل پر اختیار مل جائے جسکی خواہش ان کے دلوں میں تلاطم بپا کر رہی ہے۔ ان لوگوں میں کئی نواب، سردار، میر، معتبر، ٹکری، ارباب اقتدار، بیورو کریٹ، تاجر، صنعت کار، زمیندار، علما نوجوان اور اہل علم و دانش شامل ہیں۔ بعض سیاسی پارٹیاں طلباتنظیمیں اور حکومت یا حکومت سے باہر بے شمار لوگ بھی اسی نکتہ نظر کے حامی ہیں۔ لیکن یہ لوگ پاکستان سے وفاداری کو بلوچستان کے حقوق سے دستبرداری کے ساتھ مشروط نہیں کرسکتے۔ وہ بطور بلوچ اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ حتیٰ کہ وہ مذہب کو بھی بلوچیت پر فوقیت نہیں دیتے۔ مذہب کو وہ خالصتاً ایک ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سات ہزارسال سے بلوچ، چودہ سو سال سے مسلمان اور 63 سال سے پاکستانی ہیں۔ یعنی سب سے پہلے بلوچ اور سب سے آخر میں پاکستانی۔ وہ بھی مکمل صوبائی خودمختاری کے ساتھ۔ سردار عطاء اللہ مینگل، جن کی ساری زندگی بلوچوں کے حقوق کے لئے لڑتے گزری کہتے ہیں کہ مسائل کا حل بندوق کی نوک پر ممکن نہیں ”یہ لڑکے جو کچھ کرتے ہیں، آئے دن پنجابیوں کو مارتے ہیں، یہ غلط ہے، میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔

    لیکن سرکار کو بھی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے جو لوگوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کا دعویٰ کرتی ہے، جن لوگوں کا ان واقعات میں ہاتھ ہے، حکومت پکڑ کر ان کا ٹرائل کرے۔ انہیں باقاعدہ سزا دے۔ کسی بھی بے گناہ کو پکڑ کراسکی لاش سڑک پر پھینک دینا اور کہنا کہ لویہ تمہارا تحفہ ہے، کسی مہذب حکومت کا کام نہیں۔“ یہ رائے اس سردار کی ہے جسے عوام نے اپنے ووٹوں سے صوبے کا پہلا وزیراعلیٰ منتخب کیا تھا۔ اسلام آباد کی حکومت نے صرف نوماہ بعد اسے برطرف کرکے گھر بھیج دیا۔ ایک اور بڑے سردار جو اینٹی پنجاب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں، ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہتے ہیں ”ہمارے ایک طرف سمندر ہے اور دوسری طرف پنجاب، سمندر میں ڈوبنے سے بہتر ہے پنجاب کی مجبوری کو گلے سے لگا لو۔ اس سوچ کو سمجھنے اسے قومی مفاد میں ابھارنے اور ایسی سوچ رکھنے والوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی توفیق ہمارے حکمرانوں کو آج تک نہیں ہوئی۔ وہ صرف ڈنڈے کو بلوچستان کے مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ مگر ڈنڈے تو بلوچوں نے اپنی سات ہزار سالہ تاریخ میں بہت کھائے ہیں۔ کبھی عربوں سے، کبھی ایرانیوں سے، کبھی افغانوں سے اور کبھی انگریزوں سے۔ قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں پانچ زوردار آپریشن ہوچکے ہیں۔ 1973-77کا آپریشن کا تو لوگوں کو ابھی تک یاد ہے۔ بلوچوں نے ہربار تمام سختیاں برداشت کیں مگر اپنی آزادمنش زندگی اور سوچ سے دستبردار نہیں ہوئے۔

    ناراض بلوچوں کا ایک طبقہ وہ ہے جو پاکستان کو اپنا ملک لیکن بلوچستان کو اپنا وطن سمجھتا ہے۔ یہ پاکستان سے نہیں، پاکستان کے حکمرانوں سے ناراض ہے۔ اس کے نزدیک بلوچستان کی صوبائی خودمختاری ہی اسکے مسئلے کا واحد حل ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ بنگالی بھی یہی چاہتے تھے، پنجاب سندھ اور خیبرپختونخوا کے لوگ بھی یہی چاہتے ہیں، خود ہمارے آئین میں بھی اسکی ضمانت موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے اسلام آباد کے قتدار پر جو بھی براجمان ہوتا ہے وہ ملک کے تمام اختیارات پر قبضہ کرلیتا ہے کسی دوسرے کو شریک نہیں ہونے دیتا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان ایک بار دولخت ہوچکا ہے۔ اب یہ سوچ بدلنا ہوگی۔ خصوصاً بلوچستان کے معاملے میں، کیونکہ بلوچ قوم بلوچ سیاستدان اور بلوچ دانشورسب کا اصرار ہے کہ قلات ایک الگ ملک تھا۔ ہندوستان کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت بلوچستان کے مسئلے پر 4اگست 1947ء کو دہلی میں جو گول میز کانفرنس ہوئی اور جس میں وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن، قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان اور خان قلات میر احمد یار خان بھی شریک تھے، اس نے متفقہ فیصلہ دیا تھا کہ 15اگست کوریاست قلات کی وہ خودمختار حیثیت بحال ہوجائے گی جو اسے 1838ء میں انگریزوں کی دستبرد سے پہلے حاصل تھی۔ اس روز انہی لیڈروں کے دستخطوں سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں پاکستان نے قلات کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا تھا۔ یہ اسی معاہدے کا نتیجہ تھاکہ میر احمد یار خان نے 15اگست کو قلات کی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ قلات کا پرچم لہرایا گیا اور نمازجمعہ میں ان کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ پھر خان قلات نے قلات کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا تشکیل دے کر ستمبر میں ان کا پہلا اجلاس طلب کیا جس نے اعلان آزادی کی توثیق کی یہ بعد کی بات ہے کہ قائداعظم کے ذاتی اثرورسوخ، حکومت پاکستان کے دباؤ اور بعض دوسرے عوامل کی وجہ سے خان قلات نے اپنی پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان سے الحاق کا معاہدہ کر لیا جسکی رو سے قلات کو مکمل خود مختاری دی گئی تھی۔


    بلوچوں کو یہ پوزیشن بھی منظور نہ تھی چنانچہ انہوں نے خان کے بھائی کی قیادت میں
    بغاوت کردی اسے کچلنے کے لئے فوج بھیجی گئی جس میں پنجابیوں کی اکثریت تھی، اس سے بلوچوں میں پنجاب کے خلاف نفرت کو ہواملی، جو آج تک برقرار ہے۔ بغاوت تو ختم ہوگئی مگر الحاق کا معاہدہ بھی بالائے طاق رکھ دیا گیا اور قلات کو جو ابھی برٹش بلوچستان اور مستجار علاقوں کی شمولیت سے صوبہ بلوچستان نہیں بنا تھا داخلی مختاری بھی نہ دی گئی۔ بلوچ آزادی کو وقتی طورپر بھول کر خودمختاری کی جدوجہد میں مصروف ہوگئے۔ بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا تو بھی یہ جدوجہد جاری تھی، جب وہاں پہلی منتخب حکومت قائم ہوئی تو صوبائی خودمختاری کی توقع بھی بڑھ گئی مگر صرف نوماہ بعد منتخب حکومت کو چلتا کرکے لوگوں کے دلوں میں صوبائی خودمختاری کی جگہ پھر مکمل خودمختاری کی آرزو جگا دی گئی جس نے آگے چل کر آزادی کے نعروں کی شکل اختیار کرلی۔ نیب کی منتخب حکومت کے ساتھ یہ سلوک نہ ہوتا تو آج بلوچستان کی صورتحال شاید مختلف ہوتی۔

    اس وقت بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہے اور وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جو مرکز میں برسراقتدار ہے مگر صوبے کے اختیارات بدستور مرکز کے پاس ہیں۔ اسلم رئیسانی اس سے پہلے دوبار صوبے کے وزیر رہ چکے ہیں۔ اب وزیراعلیٰ ہیں اور ناراض لوگوں سے بات چیت کرکے انہیں پہاڑوں سے اترنے اور مرنے مارنے کا راستہ ترک کرنے پرآمادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وفاقی حکومت انہیں اس کا پورا اختیار دینے کو تیار نہیں۔ نواب صاحب کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے سرگرم تعاون کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کا یہ پسماندہ ترین صوبہ دوسرے صوبوں کے برابر نہ آسکے۔ مگر اسلام آباد میں ان کی بات کوئی نہیں سنتا۔ نہ کوئی ان سے مشاورت کرتا ہے۔ بلوچستان کو وفاق کے کلیدی عہدوں پر کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔ میرظفراللہ جمالی پہلے شخص تھے جنہیں نمائش کے لئے وزیراعظم بنایا گیا مگر جلد ہی چلتا کر دیا گیا۔ ان کا تجزیہ یہ ہے کہ بلوچستان کے الگ ہونے میں صرف دوقدم رہ گئے ہیں۔ علیحدگی پسندی کو اس لئے تقویت ملی کہ مجھے اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹایا گیا اور نواب اکبربگٹی کو قتل کردیا گیا۔ ناراض لوگ حکومت سے باہر ہی نہیں، اسکے اندر بھی ہیں۔ ایک صوبائی وزیر جن کا تعلق بی این پی (عوامی) سے ہے کھلے عام کہتے ہیں ”میں بلوچ مزاحمت کاروں کی حمایت کرتا ہوں، ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔ بندوق نہیں اٹھا سکتا اس لئے پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کی تعمیرو ترقی چاہتا ہوں“۔ پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ بلوچستان کو کس طرف لے جارہی ہے۔ کیا وہ صوبے میں اپنی حکومت کو بھی ناراض لوگوں کو منانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی اجازت نہیں دے گی؟

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
  10. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    شاید آپ نے اس فلم کا مشاہدہ کیا ہو، اگر نہ بھی کیا ہو تو ضرور دیکھیں۔ بہت زبردست فلم ہے 9/11 کے حوالہ سے۔ (اس ڈاکیومنٹری کے پرانے آیڈیشن بھی یوٹیوب پر دستیاب ہیں)
    اس میں امریکی شہری خود گواہی دےرہے ہیں کے یہ کام کس کا ہوسکتا ہے۔ آپ اور میں برصغیر باک و ہند کے شہری ہیں، امریکیوں کو ہم سے ذیادہ یہاں کے حالات اور اندرونی معاملات کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔
    اسی طرح ہمیں بھی دوسروں کے بارے میں‌ اتنا علم نہیں ہوسکتا جتنا انہیں خود اپنے بارے میں‌ ہے۔
     
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اونٹ ریس: 1085 پاکستانی بچوں کی قیمت گیارہ لاکھ ڈالر

    رئوف کلاسرہ لکھتے ہیں
    عربی شیخوں کی اونٹ ریس کے خونی شوق کی بھینٹ چڑھنے والے ایک ہزار پچاسی کم سن پاکستانی بچوں کے ہرجانے اور ان کی بحالی کی قیمت اب دوبئی حکومت نے کل گیارہ لاکھ ڈالر لگائی ہے جو پاکستان لوٹنے والے ان بدنصیب بچوں کے والدین میں تقسیم کی گئی ہے۔ تاہم حکومت پاکستان نے بیالیس ہزار ڈالر دوبئی حکومت کو یہ کہہ کر واپس کر دیے گئے ہیں کہ ان اکتالیس بچوں کا پتہ نہیں چل رہا جو دوبئی سے واپس تو آئے تھے لیکن اب ان کا کوئی پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں مر کھپ گئے ہیں۔

    وفاقی کابینیہ کی پچھلی میٹنگ میں وزارت اوررسیز پاکستانیز کی طرف سے پیش کی گئی دستاوزیزات سے انکشاف ہو تا ہے کہ اوسطا چودہ سو ڈالر یا سوا لاکھ روپے فی بچہ دیا گیا ہے جو دوبئی حکومت نے ادا کیا تاکہ ان بچوں کا ’بچپن‘ لوٹانے کی کوششوں میں مدد ہو سکے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ عربی شیخوں نے اونٹ ریس کے نام پر پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پندرہ سو کے قریب دو سال سے لیکر سات سال کی عمر تک کے بچے ان کے والدین سے خریدے۔ ان بچوں کو دوبئی لے جانے کے لیے ائرپورٹس پر تعنیات ایف آئی اے کے افسران نے بھی پورا تعاون کیا، حالانکہ عموما چھوٹے بچوں کو بغیر اپنے والدین کے بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    تاہم اس کا توڑ یہ ڈھونڈا گیا کہ پاسپورٹ آفس والوں کی مدد سے ان کے جعلی والدین کے پاسپورٹ بنوائے گئے اور پھر ایجنٹوں کے ذریعے انہیں بیرون ملک بھیجنے کا سلسہ جاری رہا۔

    زرائع نے بتایا کہ پاکستان سے بچے خریدنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان سے بچے کم قیمت پر میسر تھے اور سرائیکی علاقوں میں وہ بڑی آسانی سے دستیاب بھی تھے جہاں غربت کی وجہ سے بہت سارے غریب اپنے بچوں کو دوبئی بھیجنے پر تیار تھے، یہ جانے بغیر کہ ان کا وہاں کیا استمعال ہونا تھا۔ ذزرائع نے بتایا کہ پاکستانی بچوں کی اتنی بڑی تعداد میں مانگ کہ ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ جب انہیں اونٹ کی ننگی پشت پر باندھ کر ریس میں دوڑایا جاتا تھا تو وہ خوفزدہ بچے بہت اونچی آواز میں روتے تھے جس سے اونٹ اور تیزی سے بھاگتے تھے۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک اونٹ لاکھوں ڈالر کا تھا لیکن ایک بچے کی قیمت ایک ہزار ڈالر سے بھی زیادہ نہیں تھی۔ ان بچوں کو اونٹوں کے ساتھ ھی رہنا پڑتا تھا اور ان کی دیکھ بھال بھی ان کے ذمہ تھی۔ ان بچوں کو بہت ممعولی سا کھانا دیا جاتا تھا تاکہ کہیں ان کا وزن نہ بڑھ جائے اور وہ اونٹ سواری کے قابل ہی نہ رہیں۔ اس طرح اگر کوئی بچہ ریس کے دوران اونٹ سے گر بھی جاتا تو بھی اونٹ نہ روکے جاتے اور اکثر بچے دوڑتے ہوئے اونٹوں کے نیچے آکر کچلے جاتے۔ دوبئی سے واپس آنے والے ایک پاکستانی بچے نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اس نے بیس پاکستانی بچوں کو اپنی آنکھوں سے اونٹوں سے گر کر مرتے دیکھا تھا۔

    کچھ عرصہ قبل دوبئی میں بچوں کی اس طرح اس ریس میں استعمال پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا جب انسانی حقوق کی تنظیموں نے شور مچایا۔ اس پر دوبئی حکومت نے مشینی ربورٹس ان عربی شیخوں کو فراہم کرانے کا بندوبست کیا تاکہ وہ بچوں کو چھوڑ کر ان کے ذریعے کام چلائیں۔ کہا جاتا ہے کہ دوبئی میں اونٹوں کی ریس کے لیے استمعال ہونے والے کل بچوں کی تعداد تین ہزار کے قریب تھی جن کی عمریں دو سال سے لیکر سات سال تک تھیں جنہیں عربی شیخ دوبئی اونٹوں کی دوڑ میں استمعال کرنے کے لیے پاکستانی، بنگلادیش، سوڈان جیسے غریب ملکوں سے لائے تھے۔ ان میں سے پندرہ سو بچے صرف پاکستان سے خرید کے وہاں بھیجے گئے تھے۔

    ان خبروں کی اشاعت کے بعد سپریم کورٹ اف پاکستان نے سو موٹو کارروائی پر حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ دبئی کے شیخوں کے لیے منعقد کی گئی اونٹ ریس کے لے استمعال ہونے والے پاکستانی بچوں کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔ اس پر کابینیہ نے نومبر دو ہزار نو کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں یہ فیٖصلہ کیا کہ فوری طور پر یہ پتہ چلایا جائے کہ کل کتنے پاکستانی بچے اس طرح سمگل کر کے دوبئی بھیجے گئے جو وہاں اونٹ ریس میں استمعال ہوتے رہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ پتہ چلایا جائے کہ کل کتنے فنڈز ان بچوں کے لیے دیے گئے تھے۔ کتنے بچوں کو پیسے اور ہرجانہ دیا گیا ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس پریکٹس کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

    پنجاب چائلڈ بیورو کی پرفارمنس پر بھی کابینیہ نے رپورٹ مانگ لی تھی۔ دوبئی میں پاکستانی بچوں کے حوالے سے کابینیہ نے ایک بین الوزارتی اعلی سطحی کمیٹی بنائی تھی جس کے چئیرمین وزیر اورسیزر پاکستانیز تھے۔

    اب بتایا گیا ہے کہ کل 1362 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور حکومت پاکستان کی طرف سے 1304بچوں میں چار کڑور روپے تقسیم کیے گئے اور باقی کے لاکھوں روپے پڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ دوبئی حکومت نے گیارہ لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔ کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ دو ہزار نو میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس طرح کی چیزیں روکنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی اور تین سال کا عرصہ گزرنے کیبعد آج پاکستان میں کسی کو یاد نہیں رہا کہ انہوں نے دوبئی سے واپس آنے والے پاکستانی بچوں کو مسقبل میں اس طرح عربی شیخوں کی عیاشی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قانون سازی بھی کرنی تھی۔

    وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو اس کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا جس نے ان بچوں کے کیسز پر کام کرنا تھا لیکن اب تک انہیں وقت نہیں مل سکا کہ وہ اس مسلئے پر توجہ دے سکتے اور اب تک کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا گیا۔
    بشکریہ ٹاپ سٹوری
     
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکہ سے تصادم، عامر خاکوانی کا رؤف کلاسرا کے کالم پر تبصرہ

    صحافی اورروزنامہ ایکسپریس کے کالم نگارعامر خاکوانی نے رؤف کلاسرا کے کالم آخر کیوں جس کا عنوان ’جنرل کیانی کے رول ماڈل ملا عمر، صدام اور قذافی‘ پر تفصیلی تبصرہ کیا ہے کو بغیر کسی قطع و برید کے شائع کیا جا رہاہے

    ___________________________________________________

    یہ کالم پڑھنے کے بعد میں خاصی دیر سوچتا رہا کہ تبصرہ کروں یا گریز کروں۔ برادرم رئوف کا میں دل سے احترام کرتا ہوں، اسی وجہ سے پس وپیش میں تھا۔ ویسے یہ اتنا بڑا موضوع ہے کہ صرف تبصرے سے کام نہیں چل سکتا، یہ پورے کالم کا متقاضی ہے۔ میری ناچیز رائے میں معاملہ کابل فتح کرنے کا نہیں، معاملہ نسیم حجازی کے ناولوں سے متاثر نسل کا بھی نہیں، معاملہ ملا عمر، صدام یا قذافی کو رول ماڈل بنانے کا بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب کو سمجھنا چاہیے کہ بیشتر مواقع پر اصل ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے ، اصل لسٹ کچھ اور معاملات کی ہوتی ہے اور فرنٹ پر مطالبہ کچھ اور کیا جاتا ہے ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی ایسا ہی معلوم ہو رہا ہے ۔

    امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے تین برس پہلے یہ کہا کہ آپ آپریشن کریں، جب پاک فوج نے انکار کیا، تو انہیں کہا گیا کہ پھر ہمیں کرنے دیں۔ اس وقت سے ایک غیر رسمی یا ان کہے معاہدے کے تحت ہی امریکی ڈرون اٹیک کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان ہی ان کے حملوں کا ہدف بنا ہے، وہاں سینکڑوں حملے ہو چکے ہیں، امریکی عسکری ماہرین اور ان کا میڈیا دعوے کرتا رہتا ہے کہ ان حملوں میں فلاں فلاں ہلاک ہوئے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ شمالی وزیرستان کا علاقہ چوبیس گھنٹے براہ راست سیٹلائیٹ نگرانی میں ہے، پاک افغان سرحد ی علاقوں کا شائد سب سے بڑا ہیومین انٹیلی جنس نیٹ ورک شمالی وزیرستان میں کام کر رہا ہے، جن کی اطلاعات پر مسلسل ڈرون اٹیک ہوتے رہتے ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ خود لانگ وار جرنل، اور دیگر عسکریت پسندی کے حوالے سے بنائی گئ اہم ویب سائٹس کے مطابق کنٹر اور نورستان کے افغان صوبے قاری ضیا الرحمن اور دیگر طالبان کمانڈڑوں کے مکمل کنٹرول میں ہیں، یہیں سے سوات کے مولانا ریڈیو فضل اللہ کے فسادی گاہے بگاہے دیر، چترال اور باجوڑ پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں، میں نہیں سمجھ پایا کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے کیا مراد ہے ، وہاں موثر ترین کارروائی فضائی ہو سکتی ہے ،جو پہلے سے ہو رہی ہے، اگر بوٹس آن گرائونڈ موثر ہوتے تو وہ بھی امریکی کسی نہ کسی بہانے کر چکے ہوتے۔

    حقانی نیٹ ورک امریکیوں کے لئے دردسر ضرور ہے، مگر اس موقع پر یہ مطالبہ دبائو بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہے۔ اگر یہ مان لی جائے ، فرض محال اگر فوج شمالی وزیرستان مین چلی جائے ، اگلے مطالبہ کوئٹہ شوریٰ کے نام پر دبائو ڈالنے کا ہوگا، پھر لشکر طیبہ ، جیش محمد، جنوبی پنجاب کے مدارس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لمبی فہرست ہے مطالبات کی۔ اور نہیں تو بلوچستان کے حوالے سے دبائوڈالا جائے گا، مسنگ پرسنز والا ایشو آ جائے گا، کراچی کا معاملہ بھی ہے، سب سے بڑھ کر پاکستان میں موجود مذہبی مدارس تو ہیں ہی۔ صدام کی شکست امریکہ ایجنڈے کا حصہ تھی۔ کویٹ والی غلطی کو تو تیرہ برس ہو گئے تھے۔

    تباہ کن ہتھیاروں والا ڈھکوسلا تو بعد میں رچایا گیا۔ جس طرح عراق کے معاملے میں نیو کنزرویٹؤز نے میدان ہموار کیا، نائن الیون کے بعد سے جنگ کا رخ عراق کی طرف موڑا۔ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کو جس طرح استعمال کیا گیا۔ جلا وطن عراقی لیڈر احمد شیلابی کی رپورٹوں کو کس طرح استعمال کیا گیا۔ لیوس سکوٹر لبی نے کس طرح اپنے مخالفیں کو چپ کرانے کے لئے سی آئی اے کی ایجنٹ تک کو بے نقاب کیا، جس پر اسے ڈیڑھ سال سزا ہوئی جو اس کے مربی صدر بش نےمعاف کر دی، مجھے یقین ہے کہ برادرم رئوف اور بہت سے دوستوں نے نیویارک ٹائمز کی طرف سے شائع کی گئی معذرت اور کتاب ایررآف ججمنٹ دیکھی ،پڑھی یا اس کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔

    عراق کے معاملے کے بعد آخر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ امریکی اپنے مطالبے میں سچے ہوتے ہیں اور ان کا واحد مقصد صرف عراق سے تباہ کن ہتھیار ہی تلاش کرنے تھے ،جو انسانیت کے لئے خطرہ بن چکے تھے۔ میں صدام حسین کو نفرت کی حد تک ناپسند کرتا ہوں،مگر آخر اس معاملے میں وہ کیا کر سکتا تھا، جب وہ ہتھیار اس کے پاس تھے ہی نہیں، جو بعد میں بھی نہئیں مل سکے تو وہ آخر کس طرح انہیں امریکہ کے حوالے کر کے اپنی بے گناہی ثابت کرتا۔؟؟؟

    اصل میں ہم مختلف چیزوں کا مکس کر دیتے ہیں۔ روس کے خلاف افغان تحریک مزاحمت کو سپورٹ کرنا ایک الگ ایشو ہے، اس میں غلطیاں ہوئیں ، کون سی ہوئیں، وہ الگ بحث ہے، مگر اس کے بعد کشمیری جہادی تنظیموں کی تشکیل ایک اور فیصلہ تھا، جس سے احتراز بھی کیا جا سکتا تھا، آخر ایران نے بھی اپنے مسلح افغان مزاحمتی گروپوں کو بعد میں ہینڈل کر لیا۔ تاہم نوے کی دہائی میں ایک خاص سوچ کے تحت پراکسی وار لڑی گئی۔ اس کے حق میں بھی دلائل دینے والے ہیں ، مخالفت میں بھی دینے والے ہیں۔ نائن الیون کے بعد ایک الگ پالیسی بنائی گئی۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس کے حق اور مخالفت دونوں میں بات ہو سکتی ہے، ڈبل سٹینڈرڈ بھی ایک حد تک تھا اور شائد کچھ حد تک اس کا جواز بھی۔ مگر حقانی نیٹ ورک کی کامیابیوں میں امریکی کی نااہلی اور بدترین غطیوں کا حصہ ہے۔

    امریکی اپنی غلطیاں پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکی یہ چاہتے ہیں کہ پوسٹ امریکہ افغانستان میں جو منظرنامہ وہ ترتیب دینا چاہتے ہیں وہ دیا جائے ، پاکستان یا خطے کی کوئی اور قوت اس میں سے اپنا حصہ نہ لے۔ یہ بجائے خود ایک غیر فطری خواہش ہے ۔ ایسا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کے افغانستان میں کچھ انٹرسٹس ہیں، دنیا کے ہر ملک کے ہوتے ہیں۔ ہمیں امریکہ سے جنگ سے گریز کرنا چاہیے ، ٹکرائو سے بھی بچنا چاہیے۔ بہتر حکمت عملی ٹائم بائنگ کی ہے، وقت لینے سے معاملات بہتر ہوجاتے ہیں، یہ تاریخ کا ایک سبق ہے، مگر حقانی نیٹ ورک یا افغان طالبان کےخلاف آئوٹ آف دی وے جا کر اعلان جنگ کرنا اس وقت خوفناک اور تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ جو غلطیاں دو عشروں میں ہوئی ہوں، انہیں ایک دن میں ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ وقت نائن الیون کے بعد کی پالیسی کویوٹرن کرنے کا نہیں۔ ہمیں امریکی متوقع اور ممکنہ اقدامات کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ میری ذاتی رائے میں یہ ریٹ بڑھانے کی کوشش نہیں ہے۔ پاک فوج نائن الیون کے بعد پہلی بار بعض ایشوز کے حوالے سے یکسو ہوئی ہے ، اس نے ایک سٹینڈ لیا ہے ۔ اس میں دو مئی کے واقعے کا مرکزی کردار ہے۔ ممکن ہے ہمارے بعض دوست اس سٹینڈ سے اختلاف کریں، مگر میری ناچیز رائے میں یہ وقت اداروں کو سپورٹ کرنے کا ہے۔ جو اینکرز غیر ضروری جارحیت یا اینٹی امریکن سنٹی منٹس کو بڑھا رہے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ امریکہ سے معاملات جلد ٹھیک ہوجائیں گے ،پھر یہ نفرت کہاں جائے گی؟ ہمیں خاموشی ،صبر اور استقامت سے اپنے انٹرسٹس کو واچ کرنا چاہیے، اپنے مفادات کے حوالے سے سٹینڈ لیں اور حریف کی متوقع چالوں کا جائزہ لیں۔ حالات مختلف ہیں۔

    ہم نے بہت سی غلطیاں کی ہیں ،مگر بہرحال پاکستان عراق نہیںَ یہاں کوئی صدام نہیں ہے ، پھر اس خطے کے دیگر ممالک کی صؤرتحال بھی مختلف ہے ۔ ایران ہو یا چین ، ان کے لئے غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں، خود امریکی افغآنستان کے حوالے سے ایک مشتعل پاکستان کو افورڈ نہیں کر سکتے۔ یہ کوئی بڑھک نہیں، زمینی حقائق کا غیر جذباتی تجزیہ ہے، غلط بھی ہوسکتا ہے ، مگر دیانت داری سے کیا گیا تجزیہ ہے بہرحال۔
     
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    عمران کی کتاب کے بعد جمائمہ کو انتظار فلم ’کپتان‘ کا

    عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے مطابق ان کے سابقہ کرکٹر شوہر نے اپنی سرگزشت میں دونوں کی ناکام شادی پر جو ایک پورا باب لکھا ہے وہ کتاب چھپنے سے پہلے انہیں پڑھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔’میں نے جب وہ باب دیکھنے کی درخواست کی تو عمران نے کہا اب بہت دیر ہو گئی ہے ۔۔۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں ، تم ایک دن پڑھ ہی لو گی‘۔

    عمران خان اپنی سرگزشت ’پاکستان، اے پرسنل ہسٹری‘ کی تشہیر کے لیے ان دنوں برطانیہ آئے ہوئے ہیں۔ جمائمہ جو فری لانس صحافی کے طور پر یہاں کے مختلف اخبارات کے لیے لکھتی رہتی ہیں کو اخبار ’انڈیپینڈنٹ‘ نے عمران خان کا انٹرویو کرنے کے لیے کہا تھا۔
    اخبارمیں اس انٹرویو کے حوالے سے لکھے گئے ایک مضمون میں جمائمہ لکھتی ہیں کہ وہ اور عمران علیحدگی کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ اچھا تعلق رکھے ہوئے ہیں اور برطانیہ میں عمران ان کی والدہ کے ہاں ہی قیام کرتے ہیں۔’لیکن اس کے باوجود جب یہ سنا کہ کتاب میں شادی کے حوالے سے بھی ایک باب ہے تو میں فکرمند ہوئی۔ کتاب لینے کے لیے اپنے بیٹوں کے ساتھ باقاعدہ چھینا جھپٹی کرنی پڑی کہ دیکھوں شادی کے حوالے سے کیا لکھا ہے‘۔

    کتاب کے ٹائٹل پر تبصرہ کرتے ہوئے جمائمہ لکھتی ہیں ’سرورق پر عمران کی بالوں میں پیچھے کی طرف کی ہوئی کنگھی والی تصویر ہے، اور پاکستان میں بالوں کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنابہت مشکل ہے۔ بال جنہیں عورت کی خوبصورتی کی علامت سمجھتے ہوئے ڈھانپ کر رکھنے کے لیے قرآن کا حوالہ دیا جاتا ہے جبکہ مردوں کے لیے انہیں وجاہت اور طاقت کی علامت۔

    سننے میں آیا ہے کہ حال ہی میں (گنجے سروں پر) نئے بال اگانے کے ایک پاکستانی ماہر ڈاکٹر نے امریکہ سے اسلام آباد میں پریکٹس شروع کی تو موسم گرما کے وقفہ کے بعد جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو سب ارکان نئے بال لگوائے ہوئے تھے‘۔

    جمائمہ لکھتی ہیں کہ انہیں اب لالی وڈ میں عمران خان کی زندگی پر بننے والی فلم ’کپتان‘ کا بھی شدت سے انتظار ہے جس میں ان کا کردار ادا کرنے کے لیے ایک گھنے سنہرے بالوں والی ایک مقامی اداکارہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ’لیکن شکر ہے کہ شادی پر لکھے گئے باب میں اس موضوع پر صرف دو صفحات ہی ہیں.جو روایتی رمانوی داستانوں کی طرح خوشگوار طریقے سے کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ میں اس کے انداز سے بہت متاثر ہوا، لیکن اختتام ایسی داستانوں کا ناخوشگوار ہوتا ہے۔

    باقی کے باب میں کتاب اور عمران کی زندگی کی طرح صرف پاکستان اور سیاست کا ہی ذکر ہے۔ بعض اوقات تو یہ (عمران کا) سیاسی منشور لگتا ہے، جو ایک طرح سے ہے بھی‘۔

    انٹرویو کے دوران جمائمہ نے عمران سے پوچھا کہ ان کا طالبان پر مؤقف کچھ نرم ہے تو ان کا جواب تھا کہ جو کوئی بھی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کی مخالفت کرتا ہے اسے طالبان کا ہمدرد کہہ دیا جاتا ہے۔ ’پاکستان میں یہ مزاحمت کی جنگ ہے ناکہ مذہبی نظریہ کی‘ عمران نے اپنے مؤقف پر مزید زور دیتے ہوئے کہا۔

    بھارت کے ساتھ تعلقات کے سوال پر عمران نے کہا’کیونکہ ہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے لہذا ہمیں ان کے ساتھ مہذب طریقے سے رہنا چاہیے‘۔

    جمائمہ نے جب ان سے پوچھا کہ کیا انہیں اپنی زندگی کو کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ خاص طور پر ان کے بیٹے اس حوالے سے فکر مند رہتے ہیں جبکہ ایک نجومی نے بھی کہا تھا کہ اگر وہ سیاست میں گئے تو مارے جائینگے تو عمران کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا کوئی خوف نہیں۔ جمائمہ کے مطابق انہوں نے عمران سے توہین رسالت کے قانون کے بارے میں جان بوجھ کر سوال نہیں کیا کہ اس پر جواب بعض اوقات مہنگا پڑتا ہے۔

    آخر میں جمائمہ نے عمران نے پوچھا کہ کیا وہ پاکستان میں شریعہ قوانین کا نفاذ چاہینگے کیونکہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو جب وہ دو سال کا تھا اور اپنے ’ایکشن مین‘ کھلونے کا ایک بازو کھو جانے پر پریشان تھا یہ کہا تھا کہ چوری کرنے پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہے۔ حاضرین نے جمائمہ کے اس سوال پر ایک زبردست قہقہ لگایا جبکہ عمران انہیں دیکھتے رہ گئے۔
    لندن سے
    بشکریہ ٹاپ سٹوری
     
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ملائشیاکے سابق وزیراعظم مہاتیرمحمدنے بھی اسی طرح کی بات کی ہے اورخودامریکہ میں مختلف ذرائع اسپرگفت وشنیداورشبہات کااظہارکرتے ہیں۔توآپ کی بات درست ہے کہ وہاں کے لوگ ہم سے زیادہ اس بات کوسمجھتے ہیں کیوں کہ وہ وہاں رہتے ہیں میں آپ سے اس پراتفاق کرتاہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. aaryoob

    aaryoob -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    42
    پاکستان اور دہشت گردی

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا
    اور پاکستانیوں نے سب سے زیادہ دنیا کو دہشت گردی سے متاثر کیا
    افغانستان بھارت یورپ امریکہ کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ھو
    کوئی نہ کوئی پاکستانی اس میں ضرور ملوث ھوتا ھیں کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاکستان تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے: اے پی سی کا اعلامیہ

    اسلام آباد ۔ العربیہ، ایجنسیاں

    قومی سلامتی پر متفقہ موقف اختیار کرنے کیلئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سےبلائی گئی کل جماعتی کانفرنس نے قومی مفادکے تحت 13 نکاتی اعلامیہ کی متفقہ طور پر منظوری دیتے ہوئے پاکستان کیخلاف امریکا کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی سرحدوں کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا جائیگا اور قومی مفادات کا تحفظ کیا جائیگا۔

    "پوری قوم قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے مسلح افواج کیساتھ ہے۔ قبائلی علاقوں میں ڈائیلاگ شروع کیا جائیگا۔ پالیسی تبدیل کرکے امن کو موقع دینے کی حکمت عملی بنائی جائیگی۔ عالمی برادری سے امداد نہیں تجارت چاہیے۔|

    کانفرنس کے اعلامیہ کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے جمعرات کو رات گئے تفصیلی میڈیا بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی دعوت پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں قومی سلامتی کے امور پر نو گھنٹے تک بند کمرے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس کے شرکاء کو وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ملک اورخطے میں سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی، طویل غور وخوض کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر 13 نکاتی قرارداد کی منظوری دی۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور دنیاکے تمام ممالک کیساتھ مساوات، باہمی مفاد، عزت اور احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ کل جماعتی کانفرنس تسلیم کرتی ہے کہ مستقبل میں امن اور مفاہمت کیلئے پالیسی تشکیل دی جائیگی اور امن کو موقع دیا جائیگا۔ قبائلی علاقوں میں ایک مخصوص میکانزم کے تحت ڈائیلاگ شروع کیا جائیگا، مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائیگا۔ افغانستان سے بین الحکومتی، بین الادارتی اور بین العوامی برادرانہ تعلقات کو فروغ دیا جائیگا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس پاکستان کے عوام،مسلح افواج خصوصاً خیبر پختونخوا اور قبائلی عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔عالمی برادری پاکستان کی قربانیوں اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں نقصانات کو تسلیم کرے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ خودانحصاری کو فروغ دیا جائیگا، اندرونی طور پر معاشی اورٹیکس اصلاحات لانی ہونگی، کرپشن کا خاتمہ اور محصولات کو بڑھانا ہوگا۔

    کانفرنس کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی مفاد سب سے بالاتر ہیں اور کسی بھی مشکل صورتحال میں قومی مفادات کا تحفظ کیا جائیگا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی کا مرکزی نقطہ نگاہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت خطہ میں امن کا قیام ہے ،امن کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی پر پارلیمنٹ کی تمام قراردادوں اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات مسترد کرتی ہے، ایسے الزامات دو طرفہ تعلقات کی روح کے منافی ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی جواے پی سی کی موجودہ قرارداد اور اس سے قبل پارلیمنٹ کی مشترکہ قراردادوں پر عمل درآمد کا جائزہ لے گی اور پیشرفت سے عوام کو آگاہ کیا جائیگا۔
    شرکاء کانفرنس کے خطابات

    اس سے پہلے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف نے کہا کہ صدر زرداری کی جانب سے دو مئی کے واقعہ پر امریکی اخبار میں خوشامدی مضمون لکھنے اور وزیر اعظم کی جانب سے واقعہ کو اپنی بڑی فتح قرار دینے سے ہمارے لئے خطرات بڑھ گئے اور ہمارے خلاف مہم جوئی کرنیوالوں کے ارادوں کو تقویت ملی، قومی سلامتی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی دو قرار دادیں منظور کی جاچکی ہیں، کسی نئی کانفرنس کی ضرورت ہے نہ لائحہ عمل کی، حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی کے سامنے ہتھیار ڈال دے ساتھ کھڑے ہوں گے. وزیر اعظم صاحب بتائیں اگر انہیں پارلیمنٹ کی قرار دادوں سے اتفاق ہے تو ان پر عملدرآمد کیلئے کتنا وقت چاہئے؟ ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی اور گورننس پر ہمارے شدید تحفظات ہیں. اے پی سی میں ہماری شرکت قومی اتحاد کے ایک علامتی مظاہرہ کی سی ہے۔

    مسلم لیگ ق کے صدر سینیٹر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میڈیا بھی ایک اہم ستون بن چکا ہے، ان کو بھی اعتماد میں لیا جائے،اس موقع پر میڈیا کو پاکستان کو درپیش خطرات، چیلنجز اور ان کیخلاف حکمت عملی کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے اور اس مشکل مرحلے میں ان سے وابستہ اپنی توقعات کا اظہار کیا جائے۔

    سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا کہ امریکی دھمکیوں کے بعد پاک فوج کے جرأت مندانہ موقف سے ثابت ہو گیا کہ وہ ملکی سالمیت کا دفاع کرنیکی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ، عوام کی حمایت حاصل ہو تو دھمکیوں کا زیادہ بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکتاہے۔

    بی این پی (عوامی )کے سربراہ وفاقی وزیر سینیٹر میر اسرار اللہ زہری نے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دھمکیوں کا قومی اتحاد سے مقابلہ کیا جائے، بلوچستان کے مسئلے پر بھی اے پی سی بلائی جائے، سیاسی اور عسکری قیادت نے یکجہتی کا مظاہرہ کرکے پوری دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحیت کا قوم مقابلہ کریگی ۔
    امریکی موقف کا اعادہ
    امریکا نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے ٹھکانے ختم کرے، جنہیں وہ افغانستان میں حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حکام نے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے: “ہم یقینی طور پر یہ واضح کر رہے ہیں کہ ہم ٹھکانوں (انتہاپسندوں کے) اور پاکستان میں موجود دہشت گردوں کو کہیں سے بھی حاصل ہونے والی کسی بھی طرح کی معاونت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔” واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں ہلیری کلنٹن نے مزید کہا: “ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔”

    پاکستان اور امریکا کے درمیان نیا تنازعہ امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے بیانات کے بعد پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کو آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ مولن کے بیانات سے فاصلہ رکھ رہی ہے۔ تاہم مولن نے ایک تازہ ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے: “میں نے یہ بات بالکل اسی طرح کہی، جیسے میں کہنا چاہتا تھا۔”

    انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی حقانی گروپ کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستانی فوج یا آئی ایس آئی کا حقانی نیٹ ورک پر پورا کنٹرول ہے، لیکن اس نیٹ ورک سے متعلق لوگوں کو ٹھکانے حاصل ہیں۔”

    اُدھر امریکا نے حقانی نیٹ ورک کے ایک کمانڈر پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے افغانستان کے عبدالعزیز اباسین کی جائیدادیں منجمد کرنے اور ان پر ویزے کی پابندی کا اعلان کیا ہے۔ انہیں حقانی نیٹ ورک کا اہم کمانڈر قرار دیا گیا ہے۔
     
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مذہبی سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر پابندی

    عبدالرحمان الراشد

    ماضی میں مختلف سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کے خلاف شکایات دائر کی جاتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر میوزک چینلز کے بارے میں یہ شکایت کی جاتی تھی کہ یہ نوجوانوں کے ذہنوں کو غیر ضروری امور سے آلودہ کر رہے ہیں، ان کے وقت کا ضیاع کرتے ہیں اور ان کی توجہ زیادہ اہم امور سے دوسری جانب موڑ دیتے ہیں لیکن آج بعض ٹی وی چینلز کے بارے میں یہ شکایت کی جا رہی ہے کہ وہ نوجوانوں کو زیادہ زہریلی اور مہلک چیزوں سے آلودہ کر رہے ہیں۔ وہ انہیں جہاد اور خودکش مشن کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    آج اسپورٹس اور موسیقی کے پروگرام نشر کرنے والے چینلز توجہ کا مرکز نہیں رہے بلکہ مذہبی سیٹلائٹ چینلز کی جانب توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جو عرب خطے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکے ہیں۔

    کیا واقعہ رونما ہوا ہے؟ مذہبی شخصیات کے لیے اچانک جگہ کیوں پیدا ہو گئی ہے۔ مذہبی فورمز اور پلیٹ فارمز ان کے لیے کیوں مناسب نہیں رہے ہیں اور وہ اب گھروں میں بیٹھے ہزاروں، لاکھوں ناظرین تک رسائی کے خواہاں ہیں۔ مزید برآں خطے میں دو نئے ایشوز بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اول یہ کہ سستے داموں فریکوینسیز کے حصول کے خواہاں سیٹلائٹ ٹی وی اسٹیشنز کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ زکاۃ کو اسلامی میڈیا کے منصوبوں پر صرف کرنے کے لیے فتوے جاری کیے جا رہے ہیں حالانکہ زکاۃ کی رقوم غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور محتاجوں پر صرف کی جانی چاہیے۔

    یقیناً یہ مذہب کا استحصال ہے کیونکہ اس سے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے رقوم کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔''اسلامی میڈیا'' کی اصطلاح کے سیاسی مضمرات ہیں اور یہ سیٹلائٹ اسٹیشنز اس طرح جو رقوم اکٹھی کر رہے ہیں، اسے لائسنس او رغیر قانونی سیاسی گروپوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے فتاویٰ سے ان مذہبی شخصیات کو ایک خزینہ مل گیا ہے جو میڈیا پر آنے کا بڑا شوق رکھتے ہیں اور جنہوں نے اپنی اپنی پروپیگنڈا کارپوریشینیں قائم کر رکھی ہیں تاکہ وہ اپنے آئیڈیاز کو نشر کر سکیں۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ رقوم عطیہ کرنے والوں سے اس مد میں خرچ کرنے کی اجازت بھی لی گئی ہو۔

    چنانچہ اس وقت درحقیقت ہمیں دو قریبی باہم مرتبط ایشوز کا سامنا ہے۔ اول یہ کہ جو ادارے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو چلانے کے لیے اجازت نامے جاری کرتے ہیں، انہیں یہ اجازت نامے لینے والوں کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ خواہ وہ مردہ طبی اسکینڈلز کی تشہیر چاہتے ہوں یا مذہبی فرقہ واریت کی تشہیر کرنا چاہتے ہوں۔ اس کے نتیجے میں ہمارے خطے میں بڑے پیمانے پر تنازعات شروع ہو جائیں گے۔ سیٹلائٹ اسٹیشنوں کے مالکان کو صرف لیز کے عوض پانچ لاکھ ڈالرز سالانہ کی رقم سے غرض سے ہے۔ دوم، لوگ عطیات اور زکاۃ کی مد میں اکٹھی ہونے والی رقوم کو ٹیلی وژن فریکوینسی کا کرایہ ادا کرنے یا اسٹوڈیوز کی تعمیر پر صرف کر رہے ہیں۔ وہ ان رقوم کو غرباء اور یتیموں پر صرف کرنے کے بجائے ٹیلی وژن کے پیش کاروں اور مہمانوں کے میک اپ اور تنخواہوں پر صرف کر رہے ہیں۔

    ان لوگوں کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے یا جہاد کے لیے اپیلوں کو نشر کرنا ہے۔ اس کے بعد وہ ٹیلی فون کے ذریعے مزید عطیات اکٹھے کرتے ہیں اور کہتے یہ ہیں وہ ضرورت مند مسلمانوں کے لیے رقوم اکٹھی کر رہے ہیں۔

    یہ لوگ نہ صرف نوجوانوں کو ذہنی غسل (برین واش) دے رہے ہیں بلکہ انہیں جنگوں میں حصہ لینے یا بارود سے بھری گاڑی چلانےکے لیے بھی بھیج رہے ہیں۔ لیکن اب وہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب وہ زیادہ سے زیادہ رقوم جمع کرنا چاہتے ہیں۔خواہ یہ صدقات کی صورت میں ہوں یا زکاۃ کی شکل میں۔ لیکن اس دوران حکومتیں اس طرز عمل کو روکنے کے لیے بہت معمولی اقدامات کر رہی ہیں۔

    ان بہت معمولی اقدامات میں مصری حکومت کی جانب سے دو سلفی چینلوں کی نشریات پر پابندی سے متعلق فیصلہ بھی شامل ہے۔ ان ٹی وی چینلوں نے خود کو اہل تشیع کے خلاف نشریات کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ اس وقت شیعہ اور سنی انتہا پسند درجنوں چینلز چلا رہے ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز مواد نشر کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ مزید ایسے چینلز بھی موجود ہیں جو ناظرین میں مایوسی اور ناامیدی پھیلا رہے ہیں۔

    ان مذہبی ٹی وچینلوں پر اگر کوئی پابندی عاید نہ کی گئی تو یہ بہت ہی خطرناک ہو گا۔ وہ اپنی سیٹلائٹ جگہ کے علاوہ عطیات کا بھی غلط استعمال کر رہے ہیں لیکن انہیں موجودہ پیچیدہ صورت حال میں کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ میڈیا کے ارکان کی حیثیت سے ہمیں ان کے بارے میں تشویش ہے لیکن ہم ان پر پابندی کے مطالبے کی جرآت نہیں کر سکتے کیونکہ ہم اس حوالے سے بھی محتاط ہیں کہ ممکنہ پابندی کا استحصال کیا جا سکتا ہے اور اس کو جواز بنا کر دوسرے چینلوں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے کیونکہ اس کے لیے حکومتی ذمے داروں کی سیاسی اور ذاتی آراء سے عدم مناسبت کو جواز بنایا جا سکتا ہے۔

    لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم انتہا پسند گروپوں کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اس سیٹلائٹ افراتفری کا غلط استعمال کریں اور نفرت، ہلاکت آفرینی اور فرقہ وارانہ تنازعے کا پروپیگنڈا کریں۔ خواہ یہ سُنیوں کے خلاف ہو یا شیعوں یا عیسائیوں کے خلاف ہو۔

    اصولی طور پر اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے بنیادی ذمے داری پروگراموں کے مالکان یا متعلقہ وزارت اطلاعات کے سرکاری ملازمین کے بجائے ان سیٹلائٹ چینلز کے مالکان پر عاید ہوتی ہے۔

    (بہ شکریہ:الشرق الاوسط، عبد الرحمان الراشد العربیہ ٹی وی چینل کے جنرل مینجر ہیں)
     
  18. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سی آئی اے دہشت گردی اور ڈرگ کا استعمال

    پاکستانیوں سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ سی آئی اے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے تاکہ امریکہ کا خوف دنیا پر غالب رہے، اُس کی ہیبت طاری رہے اور اس کے عوام دنیا کی واحد عالمی طاقت کے خواب دیکھتے رہیں اور ڈرگ کے حوالے سے بھی پاکستانی باخبر ہیں کہ سی آئی اے نے روس کے خلاف جنگ میں فاٹا میں ہیروئن بنانے کی فیکٹریاں بنائی تھیں، اُس کے دو مقاصد تھے، ایک تو روسیوں کو اس کا عادی بنا کر معذور کرنا اور دوسرے جنگ کے لئے پیسے کا حصول۔ امریکہ دونوں میں کامیاب رہا، امریکہ کے نکل جانے کے بعد یہ فیکٹریاں پاکستان کے ہتھے چڑھ گئیں۔ میاں نواز شریف نے برملا اس کا اعتراف کیا کہ ایک چیف آف آرمی اسٹاف اُن کے پاس یہ تجویز لے کر آئے کہ وہ ہیروئن بیچ کر فوج کی ضروریات پوری کریں اور حکومت چلانے کے لئے خرچہ نکالیں۔ میاں نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ تجویز رد کردی تھی مگر پھر بعد میں پاکستان سے ہیروئن کے کنٹینرز بحراوقیانوس میں پکڑے گئے۔

    امریکیوں نے اینٹی نارکوٹکس فورس بنانے میں مدد دی۔ ہیروئن کے امریکہ جانے میں تو کمی واقع ہوگئی اور پاکستان میں اس کے چالیس لاکھ افراد عادی ہوگئے اس لئے کہ فیکٹریوں میں مال تیار ہورہا تھا اور اُس کی کھپت کہیں نہ کہیں تو ہونا تھی۔ غیرممالک جانا بند ہوگیا تو ہیروئن سازوں نے پاکستان میں استعمال کی۔ اسکول اور کالج کے بچوں میں مفت تقسیم کرکے عادی بنایا اور پھر اس کی فروخت کی۔ ایک زمانے میں کہا جانے لگا تھا کہ پاکستان ہیروئن کی سرکاری طور پر تجارت کرتا ہے۔ جنوبی امریکہ کے ایک ملک کے سربراہ جس کا نام نوریگا تھا سی آئی اے سے اختلاف پر پکڑا گیا اور اس پر ہیروئن کی اسمگلنگ کا الزام لگا اور امریکہ میں اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں امریکی اخبارات شہ سرخیوں سے یہ بات واضح کررہے ہیں کہ ہم جنوبی امریکہ کے ایک جنرل نوریگا کی بات کرتے ہیں، پاکستان کے دس جنرلرز حضرات ہیروئن کی تجارت میں ملوث ہیں۔ اعتزاز احسن اس وقت پاکستان کے وزیر داخلہ تھے، انہوں نے خود ایک تقریر میں اس کی تصدیق کی کہ امریکن یہ الزام پاکستان پر دھر رہے ہیں۔

    سی آئی اے اب بھی یہ کام افغانستان میں کررہی ہے۔ وہاں پر افغانی صدر حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی ولی کرزئی جو قندھار کے گورنر ہیں کی سرپرستی میں یہ کاروبار زور شور کے ساتھ جاری ہے۔ کام سی آئی اے والے کر رہے ہیں اور بدنامی صرف ولی کرزئی کے حصے میں آرہی ہے کیونکہ امریکی اخبارات اور حکام برملا یہ الزام ولی کرزئی پر لگا رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ولی کرزئی ہیروئن کا بے تاج بادشاہ ہے۔ سی آئی اے جہاں اپنے لڑنے کے اخراجات غیر امریکیوں میں ہیروئن بیچ کر پورا کررہے ہوں گے وہاں وہ افغانیوں کو ارادے کے ساتھ اس کا عادی بھی بنا رہے ہوں گے۔ امریکی اخبارات کی اطلاع کے مطابق دنیا بھر میں ہیروئن کی پیداوار کا 90 فیصد افغانستان میں پیدا ہورہی ہے۔

    سنہ 2010ء میں یہ 40 فیصد تھی اور اب بڑھ کر 90 فیصد پہنچ گئی ہے اور یہ سب کچھ سی آئی اے کے زیرسرپرستی ہورہا ہے۔ بعض امریکی جو صورت حال سے ناواقف ہیں وہ حکومت امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ولی کرزئی کو کیوں گورنر بنا کر رکھا ہوا ہے۔ شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ولی کرزئی سی آئی اے کا ہی تو بندہ ہے اور امریکیوں کے لئے کافی کارآمد ہے۔ اُس کی بالادستی اور اجارہ داری توڑنے کے لئے جنرل پیٹریاس نے یہ کیا ہے کہ سرکاری ٹھیکے ولی کرزئی کے ذریعے دینے کی بجائے عام افغانیوں کو دینا شروع کردیئے ہیں۔ امریکی اخبارات میں چھپی خبروں کے مطابق امریکیوں کی مقبولیت میں قدرے اضافہ ہوا ہے اور امریکی موجودگی کے فوائد خواص کی ساتھ عام افغانیوں کو بھی ملنے لگے ہیں۔ پہلے ہی وہ امریکی سپلائی لائن کو برقرار رکھنے کے لئے امریکیوں اور نیٹو ممالک سے بھتہ وصول کرتے رہے ہیں اور اب ہزاروں کی تعداد میں عام لوگوں کو ٹھیکے بھی ملنا شروع ہو گئے ہیں البتہ ہیروئن کا کاروبار ولی کرزئی کے ہاتھ میں ہے اور امریکیوں کے لئے وہ بہت کارآمد بندہ ہے، اُس سے وہ دل کھول کر کام لے رہے ہیں اور جان بوجھ کر اُسے رسوا کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکی چھوت چھات کی داستان

    ٹونی بلیئر نے ا پنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ملکہ الزبتھ نے اپنے سم پیلس میں انہیں بلاتکلف کھانے پر مدعو کیا۔ کھانا کھانے کے بعد ملکہ برطانیہ نے اپنے برتن اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج میں نے نوکروں کو چھٹی دے دی ہے اس لئے ہمیں خود برتن اٹھانے اور دھو کر رکھنے ہیں۔ ایک طرف تو ملکہ برطانیہ کی متانت کا یہ احوال ہے اور دوسری طرف امریکی صدر جب ہندوستان کے دورے پر آئے تو اپنے ساتھ اپنے باورچی بھی لے کر آئے، دو سو صحافیوں کو ساتھ لے کر آئے اور ڈھائی سو بزنس مین بھی ان کے ساتھ تھے۔

    سنا اور دیکھا ہے کہ برصغیر کے چاہے مغلائی کھانے ہوں کہ دیسی چنے بھٹورے جیسے، دنیا بھر میں گورے چٹخارے لے کر کھاتے ہیں۔ اب جبکہ پورا ہوٹل ان کیلئے ریزرو تھا تو وہاں کے باورچی اور شیف ظاہر ہے کھوکھے کی طرح ایک ہی گندے پانی میں چائے کے کپ نہیں دھو رہے ہوں گے۔ آخر کون سا خطرہ تھا اور کتنا تعصب تھا کہ وہ اپنے باورچی لے کر ہندوستان آئے۔ یوں تو دیوالی منانے کا شوق تھا مگر نہ شرلی نہ پٹاخے، ظاہری ہلکا پھلکا بچوں جیسا ڈانس، بالکل ایسے جیسے بش صاحب اسلام آباد آئے تھے تو انہوں نے بچوں کے ساتھ امریکن سفارتخانے کے اندر کرکٹ کھیل کر یہ جتایا تھا کہ وہ کتنے خوش ہیں پاکستان آ کر۔

    اوباما صاحب نے نوجوانوں سے جو بات چیت کی وہ بھی کسی آڈیٹوریم میں نہیں تھی بلکہ ایک برآمدہ سا تھا، شاید سیکورٹی کا مسئلہ تھا۔ جو شخص مہاتما گاندھی اور اہنسا کی تعریف کرتے تھکتا نہیں تھا اس شخص کے اندر اور باہر خوف کی دیواریں کھڑی تھیں۔دوسری طرف امریکہ کے نئے سفیر اپنی وسعت نظری دکھانے کیلئے علامہ اقبال کے مزار پہ جا رہے ہیں میاں میر کی درگاہ پہ حاضری دے رہے ہیں۔

    بادشاہی مسجد دیکھ رہے ہیں۔ ممکن ہے کل کو مسجد وزیر خان کے باہر چنے بھٹورے کھا رہے ہوں اور اگلے دن اینٹی بائیوٹک پہ انحصار کرنا پڑ رہا ہو۔ایسا مہنگا مہمان کہ روز کا دو بلین کا خرچ آ رہا تھا۔ ان کے تیس کتوں کو ٹھہرانے کے علاوہ ان کتوں کے سیکورٹی گارڈز بھی کتوں کو پوری آسائش فراہم کر رہے تھے۔ اتنی سیکورٹی کے باوجود خوف اتنا تھا کہ محل کی جگہ صرف ہوٹل یا پھر ہمایوں کا مقبرہ دیکھ کر اپنی تشفی کر لی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ مہاتما گاندھی کی سمادھی والوں نے کتوں کے لانے پر اعتراض کیا اور وہ نہیں آ سکے کہ بش کے زمانے میں کتے لے جائے گئے تھے تو بڑا اودھم مچا تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ امریکی بیروں نے بھی انڈین یونیفارم پہن کر اپنے باس کو کھانا جو انہوں نے اپنے باورچیوں سے بنوایا تھا وہ خود ہی پیش کیا ہو گا۔

    ہندوستانی کہتے ہیں کیا بلکہ کرتے ہیں چھوت چھات، یہ جو امریکی صدر کر رہے تھے وہ کیا تھا۔ ہمارے ہاں آتے، ہم تو وضو بھی کرواتے اور نماز بھی پڑھواتے بلکہ مسلمان ہونے کی تصدیق کیلئے کسی سیانے کو بھی بلوا لیتے۔

    اگر ہمارے ملک آتے تو ہم کہتے کہ اپنے ساتھ جو چینی لائے ہو وہ تو چھوڑتے جاؤ۔ گوشت بھی قربانی کا تحفہ سمجھ کر لے لیتے، اس میں شرم کی کون سی بات ہے، ہم ہر روز ان سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں، اب آنکھ کی شرم تو رہی نہیں۔ ویسے بھی ہم در پردہ ہندوستان سے بھی سامان کم از کم دو ارب روپے کا منگواتے رہتے ہیں۔ وہ چونکہ دوبئی سے ہو کر آتا ہے اس لئے اور مہنگا پڑتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ واہگہ کے راستے ٹماٹر، پیاز، ادرک اور لہسن ٹرک بھر بھر کر آتا رہتا ہے، وہ کسی حساب کتاب میں نہیں ہوتا ہے۔

    جب تک ہم دونوں ممالک ایمانداری سے کاروبار کرنے کی باقاعدہ نیت نہیں کریں گے جب تک ہم افغانستان، چین اور ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات باقاعدہ بحال نہیں کریں گے اور امریکہ کی جھولی میں گرتے رہیں گے۔ ہم ایف سولہ طیارے تو حاصل کر لیں گے وہ بھی پرانے والے اور کچھ بھی نہ مل سکے گا۔

    واہگہ پہ روزانہ 70 سے 80 ٹرک افغانستان کیلئے سامان لے کر آتے ہیں۔ ہم بھلے مانس بن کر اتنے ہی ٹرک اپنے ملک کیلئے سرکاری سطح پر منگوا لیں تو کم از کم پیاز 100 روپے کلو تو نہ فروخت ہو اور دالیں 180 روپے کلو تک مہنگی نہ ہو جائیں۔ جو کشمیر سے تجارت شروع ہوئی تھی وہ بھی ٹھپ ہو گئی ہے۔ لوگ سری نگر کے سیبوں کا پوچھتے تھے آخر یہ دونوں ملکوں کے دماغ میں جو خناس سمایا ہے وہ کب ختم ہو گا۔ گزشتہ 63 سالوں میں تین نسلیں نفرتوں کی آگ میں جھونک دی ہیں، کیا فائدہ ہوا اور کس کو ہوا؟ اب جبکہ اوباما بھی کہہ کر گئے ہیں کہ اے میرے بڑے سے ہندوستان! پاکستان کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ یہ ایک اہم ملک ہے۔ اب بھی ہندوستان کی حکومت مذاکرات کیلئے تیار نہ ہو۔ پہلے انڈین ایئرلائنز کے جہاز یہاں آتے تھے وہ تو دوبارہ شروع کئے جائیں، کم از کم اسلام آباد اور دہلی کے درمیان ہوائی سفر شروع ہو اور ویزا کی پابندیاں نرم ہوں۔ زبانی جمع خرچ کا کوئی انجام بھی ہونا چاہئے۔

    کیا نظریہٴ پاکستان صرف ہندوستان دشمنی پہ جم کر رہ گیا ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ویتنام اور جاپان حملے بھول گئے ہیں، امریکہ سے دوستی کر لی ہے۔ ہم تو دونوں ممالک دھوتی پہننے اور ہاتھ سے چاول اور روٹی کھانے والے ملک ہیں۔ امریکہ کی ہدایت کے مطابق ہی سہی تعلقات بہتر کریں۔ ہندوستان نے لاہور لکشمی چوک کے ٹکاٹک بنانے والے باورچی بلا کر توے پر گردے کپورے بنانے سیکھ لئے ہیں۔ ہمارے ملک میں اب تھالی عام ہو رہی ہے، ہندوستانی فلمیں لگ رہی ہیں۔ یہ تصنع کا ملمع اتار پھینکیں اور دونوں ممالک اپنے امریکی بادشاہ کا حکم مان لیں۔

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
  20. aaryoob

    aaryoob -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    42
    كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان الى الرحمن سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں