زبیراحمد کے پسندیدہ کالم

زبیراحمد نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏ستمبر 26, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکہ کو افغانستان میں شکست نظر آ رہی ہے، جنرل کیانی

    رئوف کلاسرہ لکھتے ہیں کہ
    پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جمعرات کو ملک کے سیاستدانوں کو دی جانی والی اہم بریفنگ میں یہ ڈرامائی انکشاف کیا کہ امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست نظر آ رہی ہے اور اب وہ جیت کا نعرہ مار کر وہاں سے نکلنا چاہتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی باتیں ہوتی رہتی ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں شکست ہو رہی ہے ۔ تاہم یہ پہلی دفعہ تھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ نے بھی وہی بات کی ہے جو عموما ریٹائڑڈ جنرل، دفاعی مبصرین اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھنے والے کالم نگا اور صحافی ٹی وی چینلز پر کہتے یا اخبارات میں لکتھے رہتے ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی کے منہ سے کہے گئے یہ الفاظ ہر حوالے سے اہم ہیں کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان آرمی کی قیادت کیا سوچ رہی ہے اور ان کے ذہن میں مستقبل کا کیا منصوبہ ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد وہاں کا کیا نقشہ بن سکتا ہے اور وہاں کیا ایک دفعہ پھر پاکستان کو طالبان کی مدد سے کابل پر اپنا کنٹرول کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم زرائع نے ایک سوال پر بتایا کہ کانفرنس کے شرکاء کو یہ بات کسی نے نہیں بتائی کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے بعد بھی اپنی چالیس ہزار فوج وہاں تعنیات رکھے گا اور باقی لڑاکا جہاز، گولہ بارود اور دوسرا جنگی سازوسامان اس تین لاکھ افغان آرمی کے حوالے کرے گا جس کی اس وقت امریکی ترییت کر رہے ہیں تاکہ ان کی فوجوں کے انخلاء کے بعد وہ اپنے ملک کے دفاع کا کنٹرول سنبھال سکیں جبکہ چالیس ہزار امریکی فوجی ان کا ساتھ دینے کے لیے افغانستان میں رہیں گے۔

    ٹاپ سٹوری آن لائن کو قابل اعتماد ذزائع سے پتہ چلا ہے کہ جنرل کیانی نے دو مواقعوں پر سیاستدانوں کو بریفنگ دی اور ان ذرائع کے بقول ان کے اعتماد نے شرکاء کو متاثر بھی کیا۔ اگرچہ جنرل کیانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت کم گو ہیں تاہم انہوں نے جمرات کے روز کئی گھنٹوں پر محیط کانفرنس میں دو دفعہ ملک کے نامور سیاستدانوں کو بریف کیا۔ جنرل کیانی کا اس وقت بولنا اس لے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے اس وقت ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا جب دو مئی کے امریکہ کے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارنے کے آپریشن کے بعد پارلیمنٹ کو مشترکہ بریفنگ دی گئی تھی۔ وہ بریفنگ اکیلے ڈی جی آئی آیس آئی جنرل شجاع پاشا نے دی تھی اور ممبران کے تند و تلخ تقریروں کے جوابات انہوں نے کئی گھنٹے تک اکیلے دیے تھے۔ جبکہ جنرل کیانی جو چین سموکر کے طور پر مشہور ہیں، ہال سے ہر پندرہ منٹ بعد سگریٹ پینے کے لیے باہر جاتے دیکھے جاتے تھے۔

    تاہم جنرل کیانی نے جعمرات کے روز نا صرف کانفرس کے شرکاء سے براہ راست گفتگو کی بلکہ انہوں نے دو دفعہ خود بریفنگ دی اور پاکستان آرمی کا موقف سب کے سامنے پیش کیا جو بقول ذرائع کے وہاں موجود اکثریتی شرکاء نے پسند کیا۔ یہ آل پارٹیز کانفرس وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے اس وقت بلائی تھی جب امریکی فوج کے سربراہ جنرل مائیک ملن نے سینٹ کی کمیٹی کے سامنے آئی ایس آئی پر حقانی گروپ کے ساتھ مل کر کابل میں حملوں کے الزامات لگائے۔ پورے ملک میں وار ہسٹریا اس طرح پیدا کر دیا گیا جیسے امریکہ ابھی پاکستان پر حملہ کرنے والا تھا۔

    اس کانفرنس میں دوسروں کے علاوہ جن اہم سیاسی شخصیات نے شرکت کی ان میں نواز شریف، محمود خان اچکزائی، عمران خان، رسول بخش پلیجو کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ تاہم بلوچ قوم پرستوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا گیا۔
    ذرائع کے بقول سب سے زیادہ توجہ سے جنرل کیانی کو سنا گیا جنہوں نے اپنا موقف پیش کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی نے کہا کہ دراصل امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست نظر آرہی تھی۔ جنرل کیانی کے بقول امریکہ اب وہاں سے جیت کا نعرہ مار کر نکلنا چاہتا ہے۔ جنرل کیانی نے کہا کہ ہم پہلے ہی یہ کہتے آئے ہیں کہ افغانستان کو آج تک کوئی فتح نہیں کر سکا اور ہم فتح بھی نہیں کرنا چاہتے۔ جنرل کیانی نے بتایا کہ انہوں نے امریکیوں پر واضح کیا تھا کہ افغانی پاکستان کے مستقل ہمسائے ہیں اور انہیں بدلہ نہیں جا سکتا اور وہ امریکہ کے چلے جانے کے بعد بھی ہمسائے ہی رہیں گئے۔

    ذرائع نے کہا کہ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ امریکہ کے چلے جانے کے بعد ہمارے لیے مسائل پیدا ہوں۔ جنرل کیانی نے امریکہ کی اس کوشش پر بھی تبصرہ کیا جو وہ اپنے جانے کے بعد تین لاکھ اس افغان آرمی بنانے پر کر رہے ہیں جو ملک کے دفاع کا کنٹرول سنھبالے گی۔ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اس فوج کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ہر ماہ کڑروں ڈالر چاہیے ہیں۔ کیا امریکہ ہر ماہ یہ رقم دے سکے گا یا پھر کسی مرحلے پر یہ رقم دینا بند کر دے گا اور پھر اصل مسائل شروع ہوں گے۔ جنرل کیانی نے کہا پاکستان افغان مسئلے کا لانگ ٹرم حل چاہتا ہے۔

    جنرل کیانی نے یہ بھی بتایا کہ امریکیوں نے ایک طالبان کے لیڈر کو کوئٹہ سے اٹھایا اور اس کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے جس پر پاکستان نے کہا کہ یہ صیح طریقہ نہیں ہے کیونکہ اس معاملے پر پاکستان کو بھی ساتھ رکھا جائے تاکہ مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی آیس آئی جنرل پاشا نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ صرف پاکستان کا حقانی گروپ سے رابطہ رہا ہے۔ جنرل پاشاکا کہنا تھا کہ جب افغانستان میں سوویت یونین کو شکست ہوئی تھی تو اس وقت کے امریکی صدر ریگن نے حقانی کو وائٹ ہاوس کھانے کے دعوت دی تھی اور اسے وار ہیرو کا سا استقبال دیا گیا تھا۔

    جنرل پاشا نے کہا کہ اس وقت حقانی خود بیمار اور چارپائی پر پڑا ہے۔ اس کا گروپ اب اس کے بیٹے چلا رہے ہیں لہذا حقانی کے بارے میں کہنا کہ وہ یہ سب کچھ کر رہا ہے، درست نہیں۔ جنرل پاشا نے یہ بھی کہا کہ حقانی کا سارا گروپ بھی افغانستا ن جنگ میں ملوث نہیں ہے کیونکہ ایک سو بیانوے کے قریب اس کے ممبران دینا بھر میں سفر کرتے ہیں اور اس بات کا امریکہ کے علاوہ یورپ کو بھی علم ہے۔ لہذا اکیلے پاکستان پر نزلہ گرانا درست نہیں ہے۔ جنرل پاشا نے کہا کہ حقانی گروپ اس وقت ملا عمر کے ساتھ ہے اور ان کی سیاسی فلاسفی کا قائل ہے۔

    جنرل پاشا نے کہا کہ اب کوئی بات چھپی ہوئی نہیں تھی اور امریکیوں کو بھی علم تھا کہ ہمارا حقانی گروپ سے کتنا رابطہ یا تعلق ہے۔ زرائع نے بتایا کہ اس سے پہلے نواز شریف نے خلاف توقع آرمی کمانڈ کے خلاف اس طرح کھل کر بات نہیں کی جو وہ عموما کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ کے ماضی میں نواز شریف اس طرح کے بریفنگ میں سخت تنقید کرنے کے لیے مہشور ہیں۔ میاں نواز شریف کے باتوں سے لگ رہا تھا کہ وہ پاکستان آرمی کے جرنیلوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید خراب نہیں کرنا چاہتے تھے جو حال ہی میں سفما کی کانفرنس میں ان کے کیے گئے خطاب سے بگڑے تھے۔ نواز شریف نے اپنی اس تقریر میں پاکستان آرمی کی قیادت پر ڈٹ کر تنقید کی تھی جس سے فوج میں ان کے بارے میں اچھا تاثر نہیں پایا جاتا۔

    ذرائع نے کہا یہ تجویز نواز شریف نے دی کہ ہمیں صرف امریکہ کو اپنے اعلامیہ میں نام لے کر سنگل آوٹ نہیں کرنا چاہیے جو سب نے مان لی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں بھیک مانگنے کی عادت کو ترک کرنا ہوگا۔ نواز شریف نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر وہ آرمی کمانڈ پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا مقصد اس ادارے کی بھلائی ہوتا ہے اور اسے اس تناظر میں ہی لیا جانا چاہیے۔ ذرائع نے بتایا کہ عمران خان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ امریکی یہ جنگ ہار چکے ہیں اور وہ گھبرا گئے ہیں۔ عمران نے کہا کہ پورے ملک کو امریکیوں کے خلاف متحد ہونا چاہیے ۔ انہوں نے تجویز دی کہ سترہ سال سے جنگ چل رہی ہے لہذا اب امن کو موقع دینا چاہیے۔

    اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار نے اپنی حسب عادت لمبی تقریر میں تنقید کی اور کہا کہ اس کانفرنس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس سے پہلے جو پارلیمنٹ میں قرادادیں پاس کی گئی تھیں وہ جامع تھیں اور ان میں ہر اہم نکتے پر بات کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا کہ ہم ان قرادادوں پر انحصار کرتے اور جو فیصلے کے گئے تھے ان پر عمل کرتے۔
    بشکریہ ٹاپ سٹوری
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    آل پارٹیز کانفرنس، جنرل کیانی اور فاٹا سینیٹر کی تکرار

    آل پارٹیز کانفرنس میں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینٹر منیر اورکزائی کے درمیان بحث ہو گئی جب سینٹر نے پاکستان آرمی کے اپنے علاقے میں آپریشن پر تنقید شروع کی اور پاکستان فوج کے سربراہ نے نہ صرف آپریشن کا دفاع کیا بلکہ خاصا سخت بھی جواب دیا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی عموما سخت بات نہیں کرتے اور چپ رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ متوازن رویوں کے مالک شخص ہیں۔

    تاہم جب جمعرات کو پرائم منسٹر ہاؤس میں ہونے والی کانفرنس میں فاٹا کے سینیٹر نے پاکستان فوج کے آپریشن کے حوالے سے کچھ نکات اٹھائے اور تنقید شروع کی تو جنرل کیانی سے نہ رہا گیا اور انہوں نے اس کا جواب دینا مناسب سمجھا۔ ذرائع نے بتایا کہ جنرل کیانی نے منیر اورکزائی کو کہا کہ یہ بات کہنا بہت آسان ہے کہ آرمی وہاں معاملات کو بہتر انداز میں ٖٖڈیل نہیں کر رہی۔ جنرل کیانی نے کہا حالانکہ پاکستان آرمی نے وہاں کے لوگوں کی حفاظت اور سکون کے لیے اپنے کئی سو جوانوں کی شہادتیں دی تھیں جو وہاں شرپسندوں سے لڑنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔

    ذرائع نے بتایا کہ جنرل کیانی نے منیر اورکزائی کو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ تو اپنے علاقے میں جاتے بھی نہیں ہیں اور پچھلے کئی عرصے سے اسلام آباد میں رہتے ہیں کیونکہ ان کے علاقے کے حالات اتنے خراب تھے کہ وہ بھی وہاں جانے کو تیار نہیں تھے۔ جنرل کیانی نے کہا کہ اگر سینٹر اورکزائی انہیں یہ گارنٹی دینے کو تیار ہیں کہ وہ وہاں امن کرادیں گے تو وہ آج ہی پاکستانی فوج کے دستوں کو واپس بلانے کے لیے تیار ہیں۔
    ٹاپ سٹوری آن لائن خاص
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سندھی رہنماء رسول بخش پلیجو جنرل کیانی سے متاثر

    آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء اس وقت حیران رہ گئے جب سندھ کے نامور قوم پرست راہنما رسول بخش پلیجو نے کھل کر وہاں موجود جنرل اشفاق پرویز کیانی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ان کی قیادت اور موجودہ رول سے بہت متاثر ہوے ہیں۔

    پلیجو سندھ کے قوم پرست حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور وہ اکثر پاکستان آرمی کو پنجابی فوج کہہ کر ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔۔۔ زرائع کا کہنا ہے کہ ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ اس موقع پر پاکستان کے حکمرانوں پر یہ کہہ کر تنقید کریں گے کہ انہوں نے اس وقت یہ سب کچھ کرنے کا اہتمام کیا تھا جب پورا سندھ سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا اور ایک کڑور سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے تھے اور اس طرح کی کانفرنس کرا کر پورے ملک کی عوام اور میٖڈیا کی توجہ سیلاب سے ہٹا کر ایک ایسے ایشو کی طرف کر دی گئی تھی جو نہ تو نیا تھا اور نہ ہی امریکہ نے حملے کی دھمکی دی تھی۔ اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے یہ ٹینشن دور ہو چکی تھی۔

    تاہم پلیجونے اس موقع پر سندھیوں کی بات کرنے کی بجائے کہ وہ امداد کے منتظر تھے اپنا سارا وقت اس بات پر لگایا کہ انہیں جنرل کیانی کی قیادت نے کتنا متاثر کیا تھا۔ زرائع کا کہنا تھا کہ جنرل کیانی کے لے سندھی قوم پرست کے منہ سے اس طرح کے تعریفی الفاط توقع نہیں کیے جارہے تھے کیونکہ سندھ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اچھے جذبات اس لے بھی نہیں رکھے جاتے کیونکہ بہت سارے سندھی آج بھی بھٹو کی پھانسی کا زمہ دار اس وقت کی فوجی قیادت کو سجھتے ہیں اور رہی سہی کسر بے نظیر بھٹو کے قتل نے پوری کر دی تھی جو اس وقت مار دی گئیں جب ملک پر ایک جنرل کی حکومت تھی اور جنرل مشرف ان کے قتل کے حوالے سے چلنے والے مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔

    زرائع نے بتایا کہ رسول بخش پلیجو کی جنرل کیانی کی شان میں کی گئی تقریر ان لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث نہ تھی جنہوں نے پچھلے سال فرروی میں ان کی تقریر سنی تھی جو انہوں نے ایکس سروس مین سوسائٹی کے ایک سیمنار میں کی تھی۔ انہوں نے وہاں موجود پاکستان آرمی کے ریٹائرٖ سربراہ جنرل اسلم بیگ کی شان میں اتنی زرو سے قیصدہ پڑھا کہ خود جنرل اسلم بیگ شرما گئے تھے جب کہ وہاں موجود دوسرے شرکاء حیران رہ گئے تھے کہ بھلا ایک بڑے سندھی قوم پرست کو اپنی عمر کے آخری حصے میں کیا ہو گیا تھا کہ وہ اب پاکستان ارمی کے سابق سربراہوں کی بھی خوشنودی کے لیے اس طرح کھلے عام کوششیں کر رہا تھا۔

    تاہم رسول بخش پلیجو کو اب کی دفعہ ایک سرونگ جنرل جو پاکستان آرمی کی کمانڈ کر رہے ہیں سے دوبدو ملاقات کا موقع مل گیا جو انہوں نے ضائع نہیں جانے دیا اور انہوں نے دبا کر جنرل کیانی کی تعریف کی۔

    اس موقع پر رسول بخش پلیجو نے ایک لمبی تقریر کی۔ انہوں نے وہاں موجود مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کو دیکھ کر کہا کہ بہتر ہو گا کہ یہ” جنتی لوگ” اب بس کر دیں کہ انہوں نے پہلے ہی بہت کارنامے سرانجام دیے تھے۔ پلیجو نے کہا اب یہ جنتی لوگ ان جیسے گناہگار اور” جہنمی” لوگوں کو اپنا رول ادا کرنے دیں کہ شاید اس سے بہتر ی کی کوئی شکل نکل آئے۔

    اس پر وہاں موجود تمال شرکاء نے بے ساختہ قہقہ لگایا۔

    زرائع نے بتایا کہ رسول بخش پلیجو نے پاکستان کی نئی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اس چھوٹی سے لڑکی نے انہیں اپنے ٹیلنٹ سے بہت متاثر کیا تھا۔

    زرائع نے بتایا ہے کہ اس موقع پر مولانا طاہر اشرفی نے بھی حسب روایت بڑی جذباتی تقریر پاکستان آرمی کے حق میں کی۔ انہوں نے الزا م لگایا کہ امریکی اب بہت سارے مدرسوں میں جا کر مولیوں میں براہ راست پیسے تقیسم کر رہے تھے۔ مولانا طاہر اشرفی جو اپنی رنگیلی اور شوخ طیبعت اور شغل کی وجہ سے مہشور ہیں نے یہاں تک مطالبہ کر دیا کہ وہ مدرسے جو امریکہ پیسے لے رہے تھے ان کے سربراہوں کو پھانسی دے دی جائے۔
    ٹاپ سٹوری آن لائن خاص
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    زندوں اور مُردوں کی ارواح خواب میں ملاقات کرتی ہیں: ماہرین

    عرب علماء اور ماہرین نفسیات نے خوابوں کی تعبیر میں نجومیوں اور غیر متعلقہ لوگوں کے بڑھتے عمل دخل پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجومی خواب کی غلط تعبیر پیش کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مُردہ لوگوں کی ارواح زندہ لوگوں سے خواب میں ملاقات کرتی ہیں۔ نیز خوابوں کی تعبیر کے بارے میں جان کاری کی سب سے زیادہ خواہش مند خواتین ہوتی ہیں جو اطمینان قلب کے لیے خواب کی تعبیر تلاش کرتی ہیں۔
    ماہرین نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام "فیس دی پریس" میں صحافی داؤد الشریان سے"خواب اور اس کی تعبیر" کے موضوع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں معروف سعودی عالم دین اور خوابوں کی تعبیر کے ماہر الشیخ عائض العصیمی، اسلامک ریسرچ کونسل کے رکن ڈاکٹر یوسف الحارثی، خوابوں کے ماہر یوسف منصور اور شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں نفسیات کے استاد پروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق الحمد شریک گفتگو ہوں گے۔
    پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماہرین نے خواب اور اس کی تعبیر اور معاشرے میں مُروجہ مختلف نظریات پر کھل کر گفتگو کی۔ علماء نے اس بات پراتفاق کیا کہ زندہ لوگوں اور مردوں کی روحیں ایک دوسرے سے حالت خواب میں ملاقات کرتی ہیں۔ نیز بعض اصحاب کے ساتھ خواب دیکھنے والے کی کیفیت جاننے کے لیے ایک ہمزاد بھی ہوتا ہے جو انہیں خواب کی حقیقت بتاتا ہے۔

    ماہرین کے درمیان سچے اور جھوٹے خوابوں کے بارے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جھوٹے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور سچے خواب خدا کی طرف سے۔ نیک خواب اعمال صالحہ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ علماء نے وضاحت کی کہ خوابوں کی روشنی میں مرحومین کی وصیتوں پر عمل کرنے کے لیے کوئی شرعی ہدایت موجود ہیں۔ ان باتوں کا تعلق لوگوں کے اپنے خود ساختہ نظریات سے ہے۔
    خوابوں کی تعبیر میں ہمزاد سے مدد کا حصول
    پروگرام"فیس دی پریس" میں بات کرتے ہوئے ممتاز عالم دین ڈاکٹر عائض العصیمی نے کہا کہ "نیند کی حالت میں انسان دو طرح کے خواب دیکھتا ہے۔ ایک وہ خواب جو دیکھنے والے کو بیداری کے بعد بھی شروع سے آخر تک مکمل یاد رہتے ہیں۔ وہ سچے خواب ہوتے ہیں جو اعمالِ صالحہ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ خواب جن کا بیشتر حصہ بھول جائے وہ جھوٹے خواب اور شیطانی خیالات کا نتیجہ ہوتے ہیں، ان کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی"۔

    اسی سوال پر بات کرتے ہوئے ماہر نفسیات ڈاکٹر الحارثی نے کہا کہ"نیند میں پیش آنے والے واقعات انسان کی بیداری کی حالت کے عکاس ہوتے ہیں۔ انسان جو کچھ بیداری کی حالت میں کرتا ہے وہی کچھ خواب میں دیکھتا ہے"۔ علامہ یوسف منصور نے کہا کہ نیک خواب صرف نیک لوگ دیکھتے ہیں تاہم سچے اور نیک خواب میں فرق ہے کیونکہ سچا خواب کوئی بھی دیکھ سکتا ہے البتہ نیک خواب صرف نیک لوگ ہی دیکھتے ہیں۔

    ڈاکٹر عبدالرزاق الحمد نے دیگر علماء کے اس خیال کو رد کیا کہ خواب خدا یا شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے بچپن کے حالات بڑے ہونے کے بعد مختلف شکلوں میں خواب کی شکل میں اس کے سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا نیک خواب صرف انبیاء دیکھ سکتے ہیں، کیونکہ نبی کا خواب جھوٹا اور برائی کا مظہر نہیں ہو سکتا۔

    ایک دوسرے سوال کے جواب میں عالم دین شیخ العصیمی نے کہا کہ خوابوں کی تعبیر کا تعلق ماضی، حال اور مستقبل میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت نہیں۔ عموما خواب کی تعبیر کو پیشہ ور حضرات اور ماہرین نفسیات مستقبل کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواب اورا س کی تعبیر ایک شرعی مسئلہ ہے جس کا علم النجوم سے کوئی تعلق نہیں۔

    اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرزاق نے کہا کہ معاشرے میں خوابوں کے بارے میں پھیلتے غلط عقائد کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ خوابوں کی تعبیر کو پیشہ بنانے والے نو سر بازوں سے نجات دلائی جائے۔ اس سلسلے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    اس موقع پر الشیخ یوسف منصور نے کہا کہ خواب کی تعبیر پیش کرنے والے بعض حضرات تعبیر کے حصول کے لیے اپنے ہمزاد سے بھی مدد لیتے ہیں جو ان کے پاس صاحب خواب کی اصل کیفیتِ خواب پیش کرتا ہے۔
    زندوں اور مُردوں کی ارواح کی ملاقات
    العربیہ کے پروگرام میں ماہرین نے خواب کی تعبیر اور اس کی حقیقت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ زندہ اور مردہ لوگوں کی ارواح نیند کی حالت میں ملاقات کرتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ العصیمی نے کہا کہ "خواب قدرت خداوندی کا ایک کرشمہ ہوتا ہے جس پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا"۔

    نابینا کے خواب کے بارے میں بھی مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض علماء کا کہنا تھا کہ پیدائیشی نابینا چونکہ "رویت" کی صلاحیت نہیں رکھتا لہذا اس کے خواب کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہو گی البتہ کوئی شخص پہلے بصارت رکھتا ہو لیکن کسی وجہ سے اس کی بینائی چلی جائے تو اس کا خواب عام بینائی رکھنے والے لوگوں کے خوابوں ہی کی طرح ہو گا۔ ڈاکٹرالحمد نے اسی بارے میں کہا کہ چونکہ نابینا شخص کے سامنے کسی چیز کی اصل تصویر نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ اس کی خواب کو حقیقت نہیں قرار دیا جا سکتا۔

    اس سوال پر کہ اسلاف کی کتب میں یہ بات مذکور ہے کہ زندہ اور مردہ لوگوں کی ارواح باہم ملاقات کرتی ہیں بیشتر ماہرین نے اس پر اتفاق کیا۔ تاہم ڈاکٹر العصیمی کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس کے بارے میں بعض روایات بھی بیان کی جاتی ہیں تاہم اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی جا سکتی۔

    ڈاکٹر الحارثی نے اسی بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا جس میں زندوں اور مردوں کی ارواح کی بحالت نیند ملاقات ثابت کی گئی تھی۔ تاہم ڈاکٹر الحمد نے کہا کہ کسی زندہ شخص کا فوت شدہ شخص کو دیکھنا اور اس کی حالت کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا پیش گوئی کے زمرے میں آتا ہے۔

    ماہرین نے عوام بالخصوص خواتین پر زور دیا کہ وہ ہر قسم کے خوابوں کی تعبیر کے لیے بے تاب نہ ہوں۔ اگر کسی خواب کی تعبیر مقصود بھی ہو تو اس بارے میں نجومیوں کے بجائے علماء سے رجوع کریں۔
    بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
    لنک:زندوں اور مُردوں کی ارواح خواب میں ملاقات کرتی ہیں: ماہرین
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    نوٹ:پیش کارکااس سے متفق ہونالازمی نہین ہے۔
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    کینیڈا اور سویڈن دنیا کے بہترین جبکہ عراق، ایران اور پاکستان بدترین ممالک قرار

    سعود الزاہد

    امریکا میں حال ہی میں ہونے والے ایک عوامی سروے میں یورپی ممالک کینیڈا، سویڈن اور آسٹریلیا کو دنیا کے بہترین مُمالک جبکہ عراق، ایران اور پاکستان کو بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

    العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں قائم ریسرچ سے متعلق ادارے"ریپوٹیشن انسٹیٹیوٹ" میں دنیا کے 50 ممالک کے بارے میں ایک عوامی سروے کیا گیا۔ سروے میں مجموعی طور پر 42 ہزار افراد نے اپنی رائے دی۔

    اس موقع پر شرکاء سے مختلف ممالک کے بارے میں مجموعی طور پر ایک ہی طرح کے سوالات پوچھے گئے تھے۔ ان میں جمہوریت کی بالادستی، سیاسی حکومتوں کی کارکردگی، امن وامان کی صورت حال، انسانی حقوق کی صورت حال، شہریوں کا معیار زندگی اور معاشی ترقی و فی کس آمدنی وغیرہ اہم ترین سوالات تھے۔

    کینیڈا بہترین ملک قرار

    سروے جائزے کے مطابق مختلف ملکوں کی داخلی صورت حال، وہاں کی سیاست اور عوام کے بنیادی حقوق کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے بعد بیشتر لوگوں نے کینیڈا کو دنیا کا بہترین ملک قرار دیا۔

    دنیا میں جاری سیاسی بھونچال کے جلو میں سویڈن بہترین ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر اور آسٹریلیا تیسرے نمبر رہا۔ دیگر بہترین ممالک میں بھی یورپی مالک سوئٹرز لینڈ اور نیوزی لینڈ وغیرہ آگے رہے۔ بہترین ممالک کی فہرست میں جاپان کا بارہواں، فرانس کا اٹھارہواں، امریکا کا پچیسواں اور چین کا تیسواں نمبر ہے۔
    بدترین ممالک عراق، ایران اور پاکستان

    "ریپوٹیشن انسٹیٹیوٹ" کی سروے رپورٹ کے مطابق داخلی بحرانوں، سیاسی خلفشار، بدامنی، انسانی حقوق کی پامالیوں، غیر جمہوری رویوں، معیار زندگی اور فی کس آمدن کے اعتبار سے بدترین ملکوں میں مسلمان ممالک درجہ اول پر رہے۔ اس اعتبار سے عراق کو پہلا، ایران کو دوسرا اور پاکستان کو تیسرا درجہ حاصل ہے۔

    سروے رپورٹ میں عراق کے موجودہ حالات اور سابق صدر صدام حسین کے دور کا باہمی تقابل بھی کیا گیا ہے۔ رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ سنہ 2003ء کو امریکی یلغار سے قبل کے عراق اور آج کے عراق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عراقی عوام کو انسانی حقوق اور جمہوری آزادیاں دلانے کے نام پر مسلط کی گئی اس جنگ میں آج کے دور میں انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کی سنگین پامالیاں کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں عراقی حکومت کی دیگر خامیوں کے ساتھ اس کی معاشی کمزوری کو کلیدی مسئلہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ مسلسل جنگوں کے باعث عراق کی نصف سے زیادہ آبادی اس وقت بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔

    امریکی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں ایران اور پاکستان کو عراق سے نسبتا بہتر لیکن عالمی مقابلے میں بدترین ممالک قرار دیا گیا ہے ۔ ایران اور پاکستان میں بھی شہریوں کے معیار زندگی کی دگرگوں حالت کی بنیادی وجہ وہاں کی خستہ حال معیشت کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جمہوری آزادیوں پر قدغنیں اورانسانی حقوق کی پامالیاں بھی ایران کو بری ممالک کی فہرست میں لے جا رہی ہیں۔
    لنک:کینیڈا اور سویڈن دنیا کے بہترین جبکہ عراق، ایران اور پاکستان بدترین ممالک قرار
     
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    بلوچستان: سال میں تیزاب سے مسخ شدہ102 لاشیں برآمد

    سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے سامنے ایک دلدوز انکشاف کیا گیا ہے کہ پچھلے ایک سال میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ایک سو دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں جن میں سے بیشتر تیزاب سے جلائے جانے کی وجہ سے ناقابل شناخت تھیں اور ایسے مقتولین میں اکثریت بلوچوں کی تھی۔ ایک سال میں ایک سو دو مسخ شدہ لاشیں ملنے کا اعتراف ایڈیشنل ہوم سیکرٹری بلوچستان نے انسانی حقوق کمیٹی کے ارکان کے سامنے کیا جنہوں نے بلوچستا ن میں غائب ہونے والے افراد کے حوالے سے پچھلے دنوں ایک میٹنگ پارلیمنٹ ہاوس میں بلائی ہوئی تھی۔

    اس میٹنگ کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین افراسیاب خٹک نے کی جب کہ سینٹر مسز ثریا امیرالدین، سردار علی خان، حافظ رشید احمد، مسز فرحت عباس اور عبدالغفور حیدری نے شرکت کی۔
    ٹاپ سٹوری آن لائن کو اس میٹنگ سے متلعقہ ملنے والی دستاویزات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس میٹنگ میں وزارت داخلہ کے ڈی جی نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل بریگیڈیر جاوید اقبال نے بتایا کہ غائب ہونے والے لوگوں کا معاملہ پہلی دفعہ دو ہزار سات میں سامنے آیا تھا جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے سو موٹو لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شروع میں یہ بتایا گیا تھا کہ کل 48 لوگ غائب ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے غائب ہونے والے افراد کے لیے ایک عدالتی کمیشن بھی بنایا اور پریس کے ذریعے ان کے خاندانوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے لوگوں کے کوائف اس کمیشن کو جمع کرائیں۔

    اس کے بعد تقریبا 500 ایسے کیسز سامنے آئے جن میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ وہ لوگ اپنے گھروں سے غائب ہیں۔ پہلا عدالتی کمیشن جس نے اپنا کام دسمبر دو ہزار دس میں مکمل کر لیا تھا، نے بہت سارے لوگ برامد بھی کرائے اور صرف 47 کیسز اب ایسے ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت نے ایک اور کمیشن تشکیل دیا ہے جس کی صدارت ایک ریٹائرڈ جج کررہے ہیں اور یہ کمیشن آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہاہے۔ ذرائع کے مطابق جب یہ بریفنگ ختم ہوئی تو سینٹر افراسیاب خٹک نے پوچھا کہ یہ لوگ جو غائب ہو گئے تھے وہ کیسے برآمد ہوئے۔ اس پر جاوید اقبال نے جواب دیا کہ وہ اپنے گھروں سے ہی برامد ہوئے تھے۔ اس پر سینٹر ثریا امیرالدین نے پوچھا کہ آیا ان خاندانوں کے ساتھ بھی کوئی رابطہ کیا گیا ہے جو اس وقت کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مستقل ڈیرے ڈال کر بیٹھے تھے تاکہ اپنے پیاروں کو برامد کر ا سکیں۔

    ایڈیشنل سیکرٹری ہوم بلوچستان ثاقب جاوید نے میٹنگ کو بتایا کہ اس وقت 52 کے قریب لوگ غائب ہیں جن کا حکومت پتہ چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ان خاندانوں کے مقدمات اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں چل رہے ہیں۔ ثاقب نے یہاں تک بھی کہا کہ بہت سارے لوگ جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ غائب ہیں اب ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ کابل میں رہ رہے ہیں۔

    افراسیاب خٹک کے ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری ہوم ثاقب نے انکشاف کیا کہ پچھلے ایک سال میں اب تک صوبے کے مختلف علاقوں اور اضلاع سے ایک سو دو لاشیں ملی تھیں۔ سیکرٹری نے مزید بتایا کہ ان میں سے اکثر لاشیں کوئٹہ سے ملی تھیں اور ان میں سے اکثر بلوچ تھے۔ سینٹر سردار علی خان کے پوچھنے پر، ایڈیشنل سیکرٹری ہوم بلوچستان نے بتایا کہ جن لوگوں کی لاشیں ملیں تھیں انہیں ایک ہی طرح قتل کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ان تمام لاشوں کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور متلعقہ تھانے ان کی تفتیش کر رہے ہیں۔

    تاہم کمیٹی کے تمام ارکان یہ جواب سن کر ہرگز مطمئن نہیں ہوئے اور وہ اب تک ان کیسز پر ہونے والے تفتیش سے مطمئن بھی نہیں تھے۔

    سینٹڑ عبدالغفور حیدری نے میٹنگ میں کہا کہ بلوچستان کو نظرانداز کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صوبے میں مخلتف قسم کے فوجی آپریشن کیے گئے ہیں اور اس کی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں میں بے چینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا مسئلہ قانونی اور آئینی طور پر حل کیا جاسکتا تھا۔ تاہم میٹنگ میں اس وقت سناٹا چھا گیا جب سینٹر عبدالغفور حیدری نے یہ انکشاف کیا کہ مارنے کے بعد لاشوں کو بلوچستان میں تیزاب کے ذریعے جلایا جار رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا لاشوں کو تیزاب سے جلانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف وزری تھی اور اس سے بلوچستان کے لوگوں میں حکومتی ایجنیسوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ مولانا حیدری کا کہنا تھا کہ کسی بھی گرفتار شخص کو عدالت میں پیش کرنا چاہیے نہ کہ اسے قتل کر کے اس کی لاش کو تیزاب سے جلا دیں۔

    جب مولانا عبدالغفور حیدری نے لاشوں کو تیزاب سے جلائے جانے کا انکشاف کیا تو وہاں موجود وفاقی وزارت داخلہ اور بلوچستان وزارت داخلہ کے متلعقہ افسران موجود تھے اور کسی نے اس بات کو مسترد نہیں کیا کہ لاشوں کو نہیں جلایا جار رہا۔
    ازقلم:رئوف کلاسرہ
     
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    عمران خان کی فتح

    ایاز امیر

    میں اپنے تئیں خود کو بہت کمتر اور چھوٹا محسوس کر رہا ہوں بلکہ صیحح پوچھیں تو خود کو احمق سمجھ رہا ہوں۔ عمران خاں ہمیشہ سے ہی ایک غیر معمولی انسان رہا ہے، ایک ایسا انسان جس کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا لیکن خان صاحب بطو ر سیاست دان اور وہ بھی قوم کے نجات دھندہ! یہ بات نا قابلِ یقین لگتی تھی۔ وہ باتیں درست کہہ رہے تھے مگر وہ لوگوں کے دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو پارہے تھے۔ وہ شعلہ جو دلوں کو گرما دیتا ہے سے اُن کا تور خالی دکھائی دیتا تھا، وہ ولولہ جو دلوں کو توانائی سے بھر دیتا ہے اُن کے لہجے سے مشتق نہ تھا اور وہ ایک عمل سے خالی ناقد کے طور پر جانے جاتے تھے جو عوام کے جذبات کو مہمیز دینے کے قابل نہیں تھے جبکہ خان صاحب معجزہ دکھانے کی بات کر رہے تھے اور ہم جانتے ہیں کہ معجزات کی دنیا مدت ہوئی تمام ہو چکی ہے۔

    یہ سب کچھ ایسے ہی تھا جب تک30 اکتوبر کا سورج طلوع نہیں ہوا تھا اور پھر دن ڈھلنے تک مایوسی کی سیاہ رات تمام ہو گئی۔ میں نہیں سمجھتا کہ میں اس تمام صورتحال کا تصور کر سکتا تھا ، یا ہو سکتا ہے کہ یکایک ستاروں نے مہربان ہو کر اُن پر اپنی تاباں کرنیں بکھیر دی ہوں۔ ہجوم مینار ِ پاکستان کے وسیع و عریض میدان، جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ تحریک ِ انصاف کبھی بھی نہیں بھر سکے گی، میں جمع ہونا شروع ہو گیا اور لوگوں میں وہ ولولہ اور جو ش تھا جو میں نے گزشتہ تیس برسوں میں نہیں دیکھا ۔ میں نے اُن میں سے بہت سے آدمیوں، عورتوں، جوانوں اور بوڑھوں سے سوالات کیے اور اُن سب کا کم وبیش ایک ہی جواب تھا کہ وہ پرانی سیاست اورگھسے پٹے میرو سلطان سے بیزار ہیں۔ وہ تبدیلی چاہتے تھے ، طے شدہ چیزوں کو بدلنے کے لیے بے تاب تھے اور یہ اُن کا یقین تھا ۔۔۔شعلہ ٴ جوالہ جیسا یقین ۔۔۔کہ صرف عمران خاں ہی یہ تبدیلی لا سکتا ہے۔ اگر اس جلسے سے کوئی پیغام ملتا ہے تو وہ یہی ہے۔ ستر کی دھائی میں بہت سے سیاسی پنڈت بھٹو صاحب کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہی غلطی اب بھی دھرائی جارہی ہے۔

    بھٹو صاحب پاکستانی سیاسی افق پر ایک دھماکے سے داخل ہو ئے ، 1967 میں پی پی پی کی بنیاد ڈالی اور تین سال کی قلیل مدت میں جب فوج کو مشرقی محاذ پر شکست ہو گئی، اقتدار پر فائز ہو گئے۔ تاہم بھٹو صاحب کی منزل آسان نہیں تھی اور نہ ہی اُن کو جمہوریت کے موزوں حالات ملے بلکہ شیطانی طاقتیں اُن کے لیے گڑھے کھود رہی تھیں اور پانچ برس کے عرصے میں ضیا ئی ظلمت کی فصل تیار ہو چکی تھی ۔ جس طرح بھٹو آج ہماری سیاسی تاریخ کا ایک تابناک باب ہیں اور اُن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، ضیا کے نقوش بھی انمٹ ہیں ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کی حقیقی سیاسی وراثت ہمارے معاشرے میں توانا ہو یا نہ ہو، ضیا کی باقیات کو دوام حاصل ہے۔ جہاں تک شریف برادران کی تعلق ہے تو وہ روزِ اوّل سے ہی خوش قسمت تھے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے چہیتے تھے اور بھٹو کی باقیات کے مقابلے میں ایک جمہوری قوت کے طور پر ابھر رہے تھے۔ اُن کو اقتدار تک آنے کے لیے کوئی زیادہ مشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔حتی کہ1999 میں مشرف کا شب خون بھی ایک طرح کی نعمت غیر مترکبہ ثابت ہوا کیونکہ اس نے ان کی بہت سے خامیوں اور فاش غلطیوں پر پردہ ڈال دیا اور جمہوریت کے چمپئن بن کر ایک مرتبہ پھر ابھرنے کا موقع دیا۔

    اس کے برعکس، عمران خان صاحب کا جادہٴ زیست بالکل مختلف ہے کیونکہ وہ پندرہ سال سے سیاست کے خارزار میں سرگرداں تھے اور وہ مسافت جس میں امید کا کوئی شائبہ تک ہویدا نہ ہو، جس میں کامیابی کا کوئی نخلستان چشم وا نہ ہو، بہت کٹھن ہوتی ہے۔ ایک عام آدمی ، بلکہ بہت سے آدمی جو بہت سخت جان ہوتے ہیں بھی ہمت ہار دیتے اور کسی وادی میں ہوا کے جھونکوں یا ساحل سمندر سے ٹکراتی لہروں کے زیر و بم سے سیاسی فال نکالنے کا فریضہ سرانجام د ینے لگتے ہیں اور یہ ہمارے ہاں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن عمران نے ایسا نہ کیا۔ کس چیز نے اُنھیں آمادہ ٴ عمل رکھا؟ بلا شبہ اُنھوں نے غلطیاں کیں جن میں سے سنگین ترین غلطی مشرف کے پرچم تلے آنے کی تھی لیکن اُن میں اتنی اخلاقی جرات تھی کہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس پر عوام سے معافی مانگ لیں ۔ ان میں بنیادی خوبیاں کردار کی مضبوطی اور ثابت قدمی ہیں ، چناچہ شہرت نصیب ہوئی۔ اُنھوں نے اپنی ان خوبیوں سے اس قوم کو جو استقلال سے تہی داماں ہے ایک اچھا سبق دیا۔ قیاس اغلب ہے کہ عمران خاں صاحب کی ثابت قدمی اُن کے اثر کو بھٹو سے بھی ممتاز کردے گی۔ اس کے علاوہ تو کوئی اور شخصیت لائق موازنہ نہیں ہے۔

    آج موجودہ دو بڑی جماعتیں اپنے حجم کے علاوہ روایات اور خاندانی تسلسل کے جال میں بھی گرفتار ہیں۔ اب تحریک ِ انصاف نے اس خاندانی اثر، جو بہرحال ہماری موجودہ طرز سیاست اور عوام کے طرز ِ فکر میں ایک فیصلہ کن عامل ہے ، کو بے اثر کرنے کے لیے کچھ اقدامات اٹھانے ہیں کیونکہ اس خاندانی روایات کے سوا ان جماعتوں کے پاس کچھ نہیں ہے۔
    مسٹر بھٹو کے عروج و زوال کے دنوں میں کون تصور کر سکتا تھا کہ ایک دن وہ بھی آئے گا جب پی پی پی اسٹبلشمنٹ کی چھتری تلے سانس لے گی۔ لیکن زرداری صاحب کی نادر
    روزگار مہارت نے یہ معجزہ کر دکھایا ہے ۔

    اگر یہ بات عجیب دکھائی دیتی ہے لیکن نواز لیگ بہرحال زرداری صاحب اور اسٹبلشمنٹ کے سامنے سینہ سپر ہونے کے لیے کمربستہ ہورہی تھی اور کچھ انقلابی نعرے بھی ہونٹوں پر مچل رہے تھے مگر قبل اس کے کہ کوئی ”ہم دیکھیں گے “ کا کوئی میدان سجتا، چرخ ِ نیلی فام نے ایک اور دن ہی دکھا دیا۔ اس دن لوح ازل پہ کچھ اور لکھا گیا جس نے ”باری والی سیاست “ کا بخار توڑ دیا ۔ محترم جالب اور فیض صاحب ابھی شریک ِ معرکہ ہوا ہی چاہتے تھے کہ کوئی اور ”ساحر“ میدان مار گیا۔ نواز لیگ کو چاہیے تھا کہ2008 کے انتخابات کے بعد فیصلہ کر لیتی کہ اس نے کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا ہے لیکن اس نے تو ترازو کے ساتھ بھی انصاف نہ کیا اور دونوں پلڑوں میں باٹ رکھ دیے۔ اس نے پی پی پی کے خلاف مرکز میں محاذ آرائی کی پالیسی اپنائی جبکہ پنجاب میں محض حکومت سازی کے لیے اس سے وابستگی اختیار کی اور اس دوطرفہ تماشے میں چکی کی مشقت تو ہونی ہی تھی۔

    یہ معاملہ شاید کچھ دیر اور چل جاتا مگر پھر عمران کے محفل میں دھم سے کودنے نے نواز لیگ کو سپنے سے ڈراونے خواب میں دھکیل دیا۔ عمران صاحب کے لاہور کے جلسے نے سب کچھ بدل دیا اور اب وہ صرف ایک تیسرے آپشن کے طور پر ہی نہیں بلکہ پی پی پی اور نواز لیگ سے اکتائے ہوئے لوگوں۔۔۔ ان کی تعداد ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ کے لیے موجودہ دقیانوسی نظام میں تبدیلی لانے والا ایک استعارہ بن چکے ہیں۔ پنجاب کے لوگ اب جوق در جوق ان کے گرد جمع ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ تھمتا نظر نہیں آتا۔ اس تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال میں ”گو زرداری گو “ کا نعرہ اپنا اثر کھو چکا ہے۔ مینار ِ پاکستان کی گراونڈ میں جمع ہجوم زرداری اور نواز لیگ میں کوئی فرق روا نہیں رکھا رہا تھا۔ان کا غصہ ان دونوں کے لیے یکساں تھا اور شاید نواز لیگ کے لیے کچھ زیادہ ہی تھا کیونکہ زرداری صاحب سے تو شروع دن سے ہی کسی کو کوئی توقع تھی ہی نہیں۔ تاہم ان بھرے ہوئے جذبات کو دیکھنے کے لیے خود وہاں موجود ہونا ضروری تھا ۔عمران خان کے پاس متفرق حمایت موجود ہے اور یہی معاشرے کی درست عکاسی کرتی ہے۔ ان کے گرد زیادہ تر جذبات اور ولولے سے لبریز تعلیم یافتہ نوجوان ۔۔۔ اردو اور انگلش میڈیم سے۔۔۔ ہیں۔ کام کرنے والی عورتیں، امیر گھرانوں کی نوجوان لڑکیاں، مزدور اور حتی کہ مذہبی گھرانوں کی خواتین بھی اس شام مینار ِ پاکستان کے سائے میں دیکھی گئیں اور کچھ باریش افراد بھی سنجیدگی کا مظہر بنے ایک نئے پاکستان کی تخلیق دیکھ رہے تھے (اُن میں سے کچھ شاید دوسری مرتبہ)۔

    سیاسی دانشور جو اکثر معاملات خراب کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالتے یا کون سے افراد منتخب ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ سیاسی بقراط عملی طور پر پختہ ہیں مگر ان کی نگاہ انتخاب ہمیشہ دقیانوسی رویوں کو تلاش کرتی ہے اور انہی کے پلڑے میں اپنا سارا وزن ڈال دیتی ہے۔ پندرہ سال پہلے ان کی فطانت عمران خان کو بنظر ِ غائر بھی کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہ تھی مگر راتوں رات، بلکہ چشم زدن میں، کپتان اب ان کے اندازوں کی ناؤ کھیل رہا ہے۔ اب ان کی عملیت خان صاحب کے لیے ایک مختلف بلکہ متضاد رائے رکھتی ہے۔چناچہ بڑی سیاسی جماعتوں کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں خطرناک ہوائیں چلنا شروع ہو گئی ہیں اور ان کی لہر نواز لیگ کے گڑھ : فیصل آباد ، گوجرانوالہ اور لاہور میں زیادہ محسوس کی جارہی ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے جب ان کا رخ شمال میں پوٹھوہار کی سرزمین کی طرف ہو جائے گا اور پھر عظیم الشان دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقے بھی ان کا ارتعاش محسوس کریں گے۔

    پندرہ سال سے عمران خاں پاکستان کی مرکزی روایتی سیاست کی راہ سے دور دکھائی دیتے تھے اور لگتا تھا کہ اُن کی باتیں اس قوم کے مزاج سے لگا نہیں کھاتی ہیں۔ تاہم وہ آواز جو صدا بہ صحرا تھی اب وقت کے دل کی دھڑکن بن چکی ہے اور اکثر مرد وزن، اس بات پر متفق ہیں کہ عمران ہی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ لیکن ہر بات کا ایک وقت مقرر ہے۔ تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ تحریک موجود ہو۔ اس کے بعد حالات و واقعات اپنا رخ خود متعین کر لیتے ہیں۔ لاہور کے جلسے نے اس تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ کیا انقلابی شعروں کو گنگنانے سے اس تبدیلی کا طوفان رک جائے گا ؟ کیا ستم ظریفی نہیں کہ اہل ثروت عوام کو جوش دلانے کے لیے جالب کے شعر سنائیں ؟ کیا ارب پتی افراد کوئی تبدیلی چاہتے ہیں؟ کیا وڈیرے ہاریوں کے غم میں نڈھال رہتے ہیں ؟ یا مظہر العجائب!

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں