انور سادات کا قتل غلطی تھی، خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں: جماعت اسلامی مصر

زبیراحمد نے 'متفرقات' میں ‏اکتوبر، 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مصر میں سخت گیر خیالات کی حامل تنظیم" جماعتِ اسلامی" کے ایک مرکزی رہ نما ڈاکٹر ناجح ابراہیم نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ سابق صدر انور سادات پر سنہ 1981ء میں قاتلانہ حملہ بہت بڑی غلطی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں انور سادات کا قتل غلط اقدام تھا اور آج تک وہ اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    دوسری جانب سابق صدر انور سادات کی صاحبزادی کامیلیا سادات نے اپنے والد کے انتقال کے تیس سال بعد ان کی خدمات کو ایک مرتبہ پھر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ کامیلیا کا کہنا ہے کہ یہ انور سادات ہی تھے جنہوں نے اخوان المسلمون کو جمال عبدالناصر کی پابندیوں سے آزاد کیا تھا۔

    العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعتِ اسلامی کے رہ نما ڈاکٹر ناجح ابراہیم اور انور سادات کی صاحبزادی کامیلیا سادات نے ان خیالات کا اظہار مصر کے ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویوز میں کیا۔

    انٹرویو کے دوران جماعت اسلامی کے رہ نما ڈاکٹر ناجح نےانور سادات کی خوبیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ صدر سادات اپنے ہم عصر دیگر سیاست دانوں بالخصوص اپنے پیش رو صدر جمال عبدالناصر اور جانشین حسنی مبارک سے بہتر تھے۔ جمال عبدالناصر اور حسنی مبارک میں اتنی خوبیاں نہیں تھیں جتنی کہ انور سادات کی شخصیت کا خاصہ تھیں۔

    ڈاکٹر ناجح کا کہنا تھا کہ صدر انور سادات مرحوم تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کر چکے تھے لیکن ان کی جماعت اور کچھ دیگر لوگوں نے اس وقت جلد بازی کامظاہرہ کرتے ہوئے ان پر قاتلانہ حملہ کر دیا جس کے بعد سیاسی قیدیوں کی رہائی نا ممکن ہو گئی۔ یہ ان لوگوں کی بہت بڑی غلطی تھی جس کا خمیازہ آج بھی مصری عوام بھگت رہے ہیں۔

    اس موقع پر انور سادات کی صاحبزادی کامیلیا نے کہا کہ "یہ ان کے والد ہی تھے جنہوں نے اخوان المسلمون کو جمال عبدالناصر کے مظالم اور آزمائشوں سے نجات دلائی تھی لیکن ان لوگوں نے میرے والد کے ساتھ وفا نہیں کی"۔

    ایک سوال کے جواب میں کامیلیا کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے رہ نما ڈاکٹر ناجح ابراہیم کے ان کے والد کے بارے میں خیالات ان کے لیے حیران کن ہیں۔ میں نے اپنے والد کی جو خوبیاں ڈاکٹر ناجح کی زبانی سُنی ہیں وہ اس سے قبل میں نے کسی اور سے نہیں سنیں۔
    انور، جمال ناصر اور حسنی مبارک سے بہتر

    العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مصر کی ایک جہادی تنظیم کے سابق رہ نماء اور جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے رکن عبود الزمر نے" العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر مجھے یہ کہا جائے کہ آپ جمال عبد الناصر، انور سادات اور حسنی مبارک میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں تو میں انور سادات کا انتخاب کروں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوبیوں اور صلاحیتوں میں انور سادات اپنے پیش رو جمال عبدالناصر سے بہتر اور اپنے جانشین حسنی مبارک سے زیادہ رحم دل تھے"۔

    ایک سوال کے جواب میں الزمر نے اس تاثر کی نفی کی کہ انور سادات کے قتل پر انہوں نے مصری قوم سے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں اس فعل کی معافی کیوں کر مانگوں جو میں نے کیا ہی نہیں۔ جن لوگوں نے مجھ پر انور سادات کے قتل کا الزام عائد کیا تھا، وہ آج تک اس الزام کو ثابت کیوں نہیں کر سکے۔ صاف بات ہے اگر میں نے جو جرم کیا ہی نہیں تو وہ ثابت کیسے ہو گا"۔

    جماعت اسلامی کے رہ نما نے اخبار "الشروق" میں شائع ہونے والے اپنے ایک سابقہ انٹرویو سے متعلق کہا کہ "الشروق" کے انٹرویو میں میرہ بات کو غلط طور پر پیش کیا گیا۔ میں نے اس کی تصحیح کرتے ہوئے کہا تھا کہ"میں نہ تو انور سادات کے قاتلوں میں شامل ہوں اور نہ ہی اور اس کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ میں مصری قوم سے ایک ناکردہ جرم پر معافی کیوں مانگوں گا"۔
    "قاتلوں کو معافی مانگنی چاہیے"

    العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الشیخ الزمر نے کہا کہ "میں نے کسی انٹرویو میں یہ نہیں کہا تھا کہ میں انور سادات کے قاتلوں میں ہوں اور مجھے معافی مانگنی چاہیے بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ ان کے قتل میں جو بھی ملوث ہو اسے مصری قوم سے معافی مانگنی چاہیے"۔

    انہوں نے کہا کہ یہ میں اس لیے بھی کہہ رہاں ہوں کیونکہ انور سادات کو قتل کر کے حسنی مبارک جیسے بے رحم انسان کے لیے صدارت کی راہ ہموار کی گئی۔ اگر انہیں قتل نہ کیا جاتا تو حسنی مبارک صدر نہ بنتے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب انور سادات کو قتل کیا گیا تو میں ایک جہادی تنظیم کا رہ نما تھا۔ قتل کے بعد یہ الزام مجھ سمیت ایک دوسرے جہادی رہ نما خالد اسلامبولی پر عائد ہوا۔ میں آج بھی کہتا ہوں کہ انور سادات کا قتل ایک بڑی غلطی تھی۔ اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ انور سادات کے قتل کے بعد حسنی مبارک جیسا شخص حکمران بنے گا تو میں انہیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا۔

    ایک اور سوال کے جواب میں سابق جہادی رہ نما نے کہا کہ انہوں نے سنہ 1984ء میں ملک میں انقلاب لانے کی کوشش کی تھی۔ یہ انقلاب اس سال 25 جنوری کو برپا ہونے والے انقلاب ہی کی طرح ایک پرامن انقلاب تھا۔ تاہم اس میں فرق صرف اتنا تھا کہ ہمارے پاس ایک نیم سرکاری عسکری گروپ تھا، جس کے ذریعے سے ہم انقلاب کی صورت میں اہم تنصیبات کا کنٹرول حاصل کر سکتے تھے، تاہم یہ بات ہمارے وہم وگمان بھی نہیں تھی کہ ہم انور سادات کا تختہ الٹ کر انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔

    الزمرنے کہا کہ سابق صدر انور سادات کے خلاف ان کی تحریک ایسے وقت میں اٹھی تھی جب پوری قوم میں انور سادات کی بعض پالیسیوں کےخلاف شدید اشتعال پایا جاتا تھا۔ ہم نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ تشدد کے جو واقعات پیش آئے تھے وہ سرکاری فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل تھے۔

    خیال رہے کہ ستمبر 1981ء میں سادات نے دانشوروں اور تمام نظریاتی تنظیموں کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور کمیونسٹوں، اسلام پسندوں، جامعہ کے معلمین، صحافیوں اور طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔

    ملک میں ہونے والی اندھا دھند گرفتاریوں کے رد عمل میں ملک گیر ہنگامے شروع ہو گئے جو بالآخر چھے اکتوبر کو انور سادات کے ایک فوجی پریڈ کے دوران اپنے ہی ایک محافظ خالد اسلامبولی کے فائرنگ سے قتل کا موجب بنے۔ قتل کے اس مقدمے میں کوئی تین سو افراد کو ماخوذ کیا گیا، جن میں مصر کی ایک جہادی تنظیم کے ارکان خالد اسلامبولی، ایمن الظواہری اور عبود الزمر بھی شامل تھے۔

    فیلڈ مارشل انور سادات ایک فوجی سیاست دان تھے۔ وہ جمال عبدالناصر کے قتل کے بعد 15 اکتوبر 1971ء سے اپنے قتل 6 اکتوبر 1981ء تک مصر کے صدر رہے تھے۔
    العربیہ نیٹ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں