ائمہ اربعہ کے فقہی مناہج پر تبصرہ از ڈاکٹر ادریس زبیر حفظہ اللہ

اہل الحدیث نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اکتوبر، 14, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    ائمہ اربعہ کے فقہی مناہج پر تبصرہ

    آپ نے ہر مسلک کے طریقہ استنباط واصول کا مطالعہ کیا۔ تجزیہ یہی بتاتا ہے: کہ امام احمد رحمہ اللہ بن حنبل جو امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اور دنیائے اسلام میں ایک مسلمہ امام ہیں۔ انہوں نے اپنے شیخ محترم کے معین اصولوں کو تقریباً قبول کیا ہے اور عمل بھی کیا ہے۔ صرف اما م شافعی رحمہ اللہ کے اصولوں میں دو باتوں میں اضافہ کیا یا ترمیم کی۔
    ۱۔ ہمارے قیاس سے اقوال صحابہ بہتر ہیں۔ ۲۔ خبر واحد قابل عمل ہے۔

    ان اصولوں کی وجہ سے امام احمد رحمہ اللہ بن حنبل کا امام شافعی رحمہ اللہ کے مسلک سے اختلاف بہت کم مسائل میں نظر آتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب سے امام شافعی رحمہ اللہ نے تقریبا بیس فی صد مسائل میں اختلاف کیا ہے۔ یہ اختلافات عبادات میں کم تر اور معاملات میں نمایاں ہیں۔ حنفی مذہب سے امام شافعی رحمہ اللہ نے تقریبا ستر فی صد مسائل میں اختلاف کیا ہے۔ یہ اختلافات عبادات، معاملات غرضیکہ ہر فقہی شعبہ میں نمایاں نظر آتا ہے۔اسی طرح امام محترم چاروں مصادر سے استنباط مسائل کرتے تھے اور انہیں قابل استدلال سمجھتے تھے۔ مگر آپ احناف کے استحسان کو اور مالکیوں کے مصالح مرسلہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
    ائمہ اربعہ کے تراجم وفقہی واجتہادی سرگرمیوں کو پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ ا ن ائمہ کرام کے ا دوار میں مسلمان پوری آزادی اور حریت فکر کے ساتھ سوچتے اور کسی خاص مذہب کے پابند نہ تھے کیونکہ ان ائمہ کرام نے نہ سینئرز کی پابندی کی اور نہ ہی خود کسی کو پابند کیا۔عام مسلمان نے بھی دین میں کوئی ایسی شق نہ پائی جو ان ائمہ کرام میں سے کسی ایک کے استنباط واجتہاد کو حتمی حیثیت دیتی۔ باقی یہ سوچنا بھی محال ہے کہ ان ائمہ کرام نے اپنی ساری جدوجہد اپنے اپنے مذاہب کی ترویج کے لئے کی تھی۔ چہ جائے کہ مذہبی یا مسلکی پابندی کی بات ہو۔ نیز نقطہ نظر کے اختلاف کو جس طرح انہوں نے اپنے لئے پسند فرمایا دوسرے کے لئے بھی ضرور پسند فرمایا ہوگا۔ ان ائمہ اربعہ کے بارے میں شاہ ولی اللہ محدث رحمہ اللہ دہلوی اپنا تبصرہ یوں پیش فرماتے ہیں:[FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]
    وَکَانَ أَعْظمَہُمْ شَأنًا وَأَوْسَعَہُمْ رِوَایَۃً وَأَعْرَفَہُمْ مَرْتَبَۃً وَأَعْمَقَہُمْ فِقْہًا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَإِسْحٰقُ بْنُ رَاہُویَۃَ، وَکَانَ تَرتِیبَ الْفِقْہِ عَلَی ہٰذَا الْوَجْہِ یَتَوَقَّفُ عَلَی جَمْعِ شَیئٍ کَثِیرٍ مِنَ الأَحَادِیثِ وَالآثاَرِ۔

    محدثین میں سب سے زیادہ محترم، وسعت روایت کے حامل، مراتب حدیث کے عارف اور گہرے فقیہ امام احمد بن حنبل اور امام اسحق بن راہویہ تھے ۔ ان کے ہاںفقہ درجہ بالا کمالات پرہی موقوف تھی کہ بہت سی احادیث اور آثار کو جمع کرکے فقہ کو مرتب کیا جائے۔
    پھر امام احمد رحمہ اللہ کے بعد کے محدثین کے ذکر میں لکھا ہے۔[FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]
    وَکَانَ أَوْسَعَہُمْ عِلْمًا عِنْدِیْ وَأَنْفَعَہُمْ تَصْنِیفًا وَأَشْہَرَہُمْ ذِکْرًا رِجَالٌ أَرْبَعَۃٌ مُتَقَارِبُونَ فِی الْعَصْرِ، أَوَّلُہُم أبُو عَبدِ اللّٰہِ البُخاریُّ وَکَانَ غَرَضُہُ تَجْرِیدُ الأَحادیثِ الصِّحاحِ الْمُسْتَفِیضَۃِ الْمُتَّصِلَۃِ مِنْ غَیرِہَا، وَاسْتِنْبَاِط الْفِقْہِ وَالسِّیْرَۃِ وَالتَّفْسِیرِ مِنْہَا، فَصَنَّفَ جَامِعَہُ الصَّحِیحَ ووَفّٰی بِمَا شَرَطَ
    [/FONT]۔ان میں سب سے زیادہ علم اور مفید علمی تصانیف پیش کرنے والوں میںچار مشہور ترین اشخاص ہیں جن کا زمانہ قریب قریب کا ہے۔ ان میں اول حیثیت امام ابو عبد اللہ البخاری کی ہے ان کی تصنیف کا مقصد یہی تھا کہ احادیث صحیحہ کو الگ الگ کر دیا جائے، جس سے فقہ وسیر ت وتفسیر مستنبط کی جا سکے۔ یہی شرط انہوں نے اپنی کتاب میں پوری کر دکھائی۔
    پھر ذکر محدثین کے بعد لکھا ہے:[FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]
    وَکَانَ بِإِزَائِ ہٰؤلائِ فِی عَصْرِ مَالِکٍ وَسُفْیَانَ وَبَعْدَہُمْ قَومٌ لاَ یَکْرَہُونَ الْمَسَائِلَ، وَلاَ یَہَابُونَ الفُتْیَا، وَیَقولونَ عَلَی الْفِقْہِ بِنَائُ الدِّینِ ، فَلاَبُدَّ مِنْ إشَاعَتِہِ، وَیَہَابُونَ رِوَایۃَ حَدیثِ رَسولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم
    [/FONT]۔
    امام مالک وامام سفیان ثوری کے زمانہ میں محدثین کے مقابلہ میں ایک جماعت ایسی بھی تھی جو کثرت سوال کو برا نہیں جانتی تھی اور بے دھڑک فتوی دے دیتی اور کہتی تھی کہ دین کا دار ومدار فقہ ہی پر تو ہے۔ ضرور اس کی اشاعت ہونی چاہئے۔ مگر روایت حدیث سے وہ بھاگتے تھے۔
    پھر دوسرے مدرسہ فقہاء کا تذکرہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:[FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]
    لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُمْ مِنَ الأحَادیثِ وَالآثارِ مَا یَقْدِرُونَ بِہِ عَلَی اسْتِنْباَطِ الْفِقْہِ عَلَی الأُصُولِ الَّتِی اخْتَارَہَا أَہْلُ الْحَدیثِ وَلَمْ تَنْشَرِحْ صُدُورُہُم لِتَنْظُرَ فِی أَقوالِ عُلَمائِ الْبُلدانِ، وَجَمْعِہَا، وَالْبَحْثِ عَنْہَا۔ وَاتَّہَمُوا أَنْفُسَہُم فِی ذٰلِکَ، وَکَانُوا اعْتَقَدُوا فِی أَئِمَّتِہِم أَنَّہُمْ فِی الدَّرَجَۃِ الْعُلْیاَ مِنَ التَّحْقِیقِ، وَکَانَ قُلُوبُہُمْ أَمْیَلُ شَیئٍ إِلٰی أَصْحَابِہِمْ کمَا قَالَ عَلْقَمَۃُ: ہَلْ أَحَدٌ مِنْہُمْ أَثْبَتُ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ، وَقَالَ أَبو حَنیفۃَ: إبْرَاہیمُ أَفْقَہُ مَنٰ سَالِمٍ ولَو لاَ فَضْلُ الصُّحْبَۃِ لَقُلتُ: عَلْقَمَۃُ أَفْقَہُ مِنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ ۔
    [/FONT]
    ان لوگوں کے پاس احادیث وآثار ایسے نہ تھے جس سے وہ محدثین کی طرح مسائل استنباط کر سکتے۔ ان کے سینے اس بات کے لئے بھی نہ کھل سکے کہ دوسرے علاقوں کے علماء کے اقوال پربھی غور وفکر کیا جائے۔ یا انہیں جمع کیا جائے اور اس میں صحیح کو تلاش کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے خود کو متہم بھی کیا تھا۔ اپنے ائمہ کرام کے بارے میں ان کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ بحث وتحقیق کی بلندیوں کو چھوتے ہیں۔ ان کا میلان بھی حد درجہ اپنے اساتذہ کرام کی طرف تھا۔ جیسے علقمہ نے کہا: کہ عبد اللہ بن مسعود سے بڑھ کر بھی کوئی ثقہ ہے؟ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: ابراہیم نخعی، سالم سے بڑھ کر فقیہ ہیں۔ اگر صحابی کے فضل کی بات نہ ہوتی تو میں کہتا کہ علقمہ ، عبد اللہ بن عمر سے زیادہ بڑے فقیہ ہیں۔
    مذاہب اربعہ میں قیاس اور رائے کاسب سے زیادہ استعمال احناف نے کیا اور سب سے کم اہل ظاہرنے۔ اور نصوص یا صحیح احادیث سے استدلال سب سے زیاد شوافع اور حنابلہ نے کیا اور سب سے کم احناف اور موالک نے کیا ہے۔امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ائمہ اربعہ کا اپنا دور زمانہ اخیر کا ہے۔ اپنے مشایخ اور اساتذہ کے علم سے یہ بھی منور ہوئے۔ اللہ کا دین ان کے قلوب ونگاہ میں اس بات سے بلند تھا کہ وہ رائے ، عقل یا قیاس کو اس پر ترجیح دیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو مقبولیت بخشی اور ان کا شہرہ چاردانگ عالم میں پھیل گیا۔ ان کا ذکر جمیل جاری ہوگیا۔ ان کے بعد ان کے عقیدت مند دو اعتبار سے سامنے آئے:
    ایک جماعت تو ان کے اتباع میں انہی کے مطابق رہی۔ اللہ نے انہیں توفیق دی کہ انہوں نے وہی طریقہ جاری رکھا جس پر ان بزرگوں کو پایا تھا کسی کی جانب داری ان میں نام کو نہ تھی۔ وہ اپنے بزرگوں کی طرح حجت ودلیل کا ساتھ دیا کرتے تھے۔ حق کا رخ جدھر پاتے اپنا منہ فورا اسی طرف پھیر لیا کرتے تھے۔ حق کا دامن تھامتے رہے اور اسی کے گرد گھومتے رہے۔ صحیح دلیل ثابت ہوتے ہی اکیلے یا باجماعت اس کی طرف لپک جاتے۔ حدیث رسول سنتے ہی پروانہ وار جھومتے جھومتے آتے اور اسے قولاً وعملاً اپناتے۔ یہی ان کا عقیدہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قرآن وحدیث کے مقابلے میں کسی انسان کا قول وحجت کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ قرآن وحدیث کا مقابلہ رائے یا قیاس سے کرنا گویاان کی توہین وحقارت کے مترادف ہے۔
    دوسری جماعت نے تقلید پر ہی قناعت کرلی جس نے تعصب کو جنم دیا۔ اس سے پھوٹ اور تفریق پیدا ہوگئی۔ جدا جدا گروہ بندیاں ہو گئیں اور اپنے اپنے جداگانہ اصول وفروع ایجاد کر لئے گئے۔ ہر کوئی ان پر بخوشی جم گیا۔ ان میں سب سے بڑا دین دار اسے سمجھا جانے لگا جو سب سے زیادہ اپنے امام کی تقلید میں متعصب ثابت ہوا اور یوں ان لوگوں نے یہ نعرہ لگایا: [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]{وجدنا علیہ آبائنا وإنا علی آثارہم لمقتدون}۔[/FONT] ( اعلام الموقعین: ۱؍۲۶)

    ائمہ اربعہ کے نکتہ ہائے نظر کو سمجھنے کے بعد ہمارے لئے یہ فرق کرنا غالباً مشکل نہیں ہوگا کہ کسی مسئلہ میں احناف کیا کہتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ شوافع کا کیا نکتہ نظر ہے اور امام شافعی کا کیا؟ امام مالک رحمہ اللہ یا امام احمد رحمہ اللہ کس نکتہ نظر کے حامی ہیں اور موالک وحنابلہ کس کے؟ اس لئے کہ ان ائمہ کرام کے علمی مقام ومرتبے کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کی انتھک کاوشوں کو بے قیمت سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنی ساری عمریں شریعت اور اس کے علوم کی خدمت ونگرانی میں گذار دیں یہاں تک کہ یہ علوم ہم تک پہنچے۔اور ہم ان سے استفادہ کے لائق ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان علماء کو ہماری طرف سے اور شریعت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔مگر بعد کی کاوشوں کو یا تخریجات کو ان کی فقہ کہنا نامناسب لگتا ہے۔
    ٭٭٭٭٭
    [/FONT]


    ماخوذ فقہ اسلامی از ڈاکٹر ادریس زبیر حفظہ اللہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں