تلقین میت کے بارے میں طاھرالقادری کے فتوٰی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

اھل حدیث نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏نومبر 11, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اھل حدیث

    اھل حدیث -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 6, 2008
    پیغامات:
    370
    برادن اکرام ! ذیل میں دیئے گئے فتوی میں جوابی دلائل کی کیا حیثیت ہے جو کہ قادری صاحب کی طرف سے جاری کیا گیا ہے؟

    تلقین میت کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

    موضوع: روحانیات | ایمان بعث بعد الموت | نماز جنازہ | قبر پر اذان برائے تلقین
    سوال پوچھنے والے کا نام: عطاء الرحمن مقام: سعودی عرب
    سوال نمبر 1041:
    براہِ مہربانی ہماری رہنمائی کیجیے کہ اِنٹرنیٹ پر ایک ویڈیو کلپ میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب اپنے ایک کارکن کو دفنانے کے بعد اس کی قبر پر کھڑے ہو کر کلمہ طیبہ اور قبر میں ہونے والے سوالات کے جوابات کی تلقین کر رہے ہیں۔ کیا یہ عمل شریعت کی رُو سے جائز ہے؟
    جواب:
    تلقینِ میت سے مراد ہے کہ :
    مسلمان کو مرنے سے قبل حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ / کلمہ شہادت کی تلقین کرنا
    مسلمان کی تدفین کے بعد اس کی قبر پر کھڑے ہوکر کلمہ طیبہ / کلمہ شہادت اور قبر میں پوچھے جانے والے سوالات کی تلقین کرنا
    دونوں طرح کی تلقین کے بارے میں اَحادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ و تابعین میں واضح نظائر ملتی ہیں اور یہ اُمور شرعاً ثابت شدہ اور باعثِ فضیلت ہیں۔ ذیل میں اِس بابت وارِد ہونے والی چند روایات بطور نمونہ پیش کریں گے:
    حالتِ نزع میں تلقین کے بارے میں فرامینِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

    (1) صحیح مسلم:

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰه إِلَّا اﷲُ.
    (صحيح مسلم، کتاب الجنائز، باب تلقين الموتی لا إله إلا اﷲ، 2 : 631، الرقم : 916)
    ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰه إِلَّا اﷲُ کہنے کی تلقین کرو۔‘‘
    (2) جامع ترمذی:

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰه إِلَّا اﷲُ.
    (جامع الترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی تلقين المريض عن الموت والدعاء له عنده، 3 : 306، الرقم : 976)
    ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰه إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو۔‘‘
    امام ترمذی یہ حدیث روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس باب میں حضرت ابوہریرہ، اُم سلمہ، عائشہ صدیقہ، جابر اور سعدی مریہ زوجۂ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں
    (3) سنن نسائی :

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰه إِلَّا اﷲُ.
    (سنن النسائی، کتاب الجنائز، باب تلقين الميت، 4 : 5، الرقم : 1826)
    ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو۔‘‘
    (4) سنن نسائی بشرح السیوطی و حاشیۃ السندی :

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.
    (سنن النسائی بشرح السيوطی وحاشية السندی، 4 : 302)
    ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲ کی تلقین کرو۔‘‘
    (5) سنن ابن ماجہ :

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.
    (سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء في تلقين الميت لا إله إلا اﷲ، 1 : 464، الرقم : 1444)
    ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کیا کرو۔‘‘
    (6) سنن ابی داؤد :

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.
    (سنن أبی داود، کتاب الجنائز، باب فی التلقين، 3 : 190، الرقم : 3117)
    ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کیا کرو۔‘‘
    (7) السنن الکبری للنسائی :

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.
    (السنن الکبری للنسائی، کتاب الجنائز وتمني الموت، باب تلقين الميت، 1 : 601، الرقم : 1953)
    ’’اپنے مرنے والوں کو اس بات کی تلقین کیا کرو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘
    (8) السنن الکبری للبیہقی :

    عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِیِّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ
    أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ.
    (السنن الکبری للبيهقی، کتاب الجنائز، باب ما يستحب من تلقين الميت إذا حضر، 3 : 383، الرقم : 6390)
    ’’یحییٰ بن عمارہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کیا کرو
    ’’اسے امام مسلم نے الصحیح میں خالد بن مخلد کے طریق سے سلیمان سے روایت کیا ہے اور ابو حازم کے طریق سے ابو ہریرہ سے بھی مروی ہے۔‘‘
    امام بیہقی یہ نے حدیث اگلے نمبر 6391 پر بھی روایت کی ہے اور اس کے بعد لکھا ہے : ’’امام مسلم نے یہ حدیث الصحیح میں ابو بکر اور عثمان بن ابی شیبہ سے بھی روایت کی ہے۔‘‘
    (9) مصنف ابن ابی شیبہ :

    عَنْ أَبِی حَازِمٍ، عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ.
    (مصنف ابن أبی شيبة، کتاب الجنائز، باب فی تلقين الميت، 2 : 446، الرقم : 10857)
    ’’ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کیا کرو۔‘‘
    (10) ریاض الصالحین للنووی :

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.
    (رياض الصالحين، کتاب عيادة المريض، باب تلقين المختصر لا إله إلا اﷲ، 1 : 184، الرقم : 918)
    ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو۔‘‘
    (11) سنن ابن ماجہ :

    امام ابن ماجہ نے السنن کی کتاب الجنائز کے باب ما جاء فيما يقال عند المريض إذا حضر میں درج ذیل روایت بیان کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حالت نزع میں میت کو درود شریف پڑھنے کی تلقین کی جائے تاکہ اس کے لیے جاں کنی کا مرحلہ سہل ہوجائے :
    قال : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ : دَخَلْتُ عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ وَهُوَ يَمُوتُ، فَقُلْتُ : اقْرَأ عَلَی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم السَّلَامَ.
    ’’محمد بن المنکدر کہتے ہیں : میں جابر بن عبد اللہ کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا تو میں نے عرض کیا : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجو۔‘‘
    بعد اَز تدفین تلقین کے بارے میں فرامینِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

    اوپر ہم نے میں حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ تلقین کرنے کے حوالے سے چند روایات پیش کی ہیں اگر ان روایات کے الفاظ کو حقیقی معنی پر محمول کیا جائے تو ان سے بعد اَز تدفین تلقین کرنا ثابت ہوتا ہے لیکن چونکہ ائمہ کرام نے ان روایات کو قبل اَز مرگ تلقین پر محمول کیا ہے اس لیے ہم نے ان روایات کو حالت نزع مین تلقین کرنے کے ذیل میں ہی درج کیا ہے۔
    امام ابن عابدین شامی نے اس پر نہایت جامع تبصرہ کیا ہے:
    أما عند أهل السنة فالحديث أی : لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ محمول علی حقيقته، لأن اﷲ تعالی يحييه علی ما جاء ت به الآثار.
    (رد المختار، 2 : 191)
    ’’اہل سنت و جماعت کے نزدیک حدیث مبارکہ ’’اپنے مرنے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو‘‘ کو اس کے حقیقی معنیٰ پر محمول کیا جائے گا کیوں کہ اﷲ تعالیٰ تدفین کے بعد مردے میں زندگی لوٹا دیتا ہے اور اس پر واضح آثار موجود ہیں۔‘‘
    یعنی لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تعمیل میں حالت نزع میں تلقین کی گئی تو یہ مجازی معنیٰ میں ہوگی اور مرنے کے بعد تلقین کی گئی تو یہ اِس حدیث کے حقیقی معنی پر عمل ہوگا۔ لہٰذا مجازی اور حقیقی دونوں معانی پر عمل کیا جائے گا کیوں کہ اِسی میں میت کا فائدہ ہے۔
    ذیل میں ہم تلقین بعد اَز تدفین پر چند واضح روایات پیش کریں گے جس سے نفس مسئلہ کے بارے میں پیدا شدہ اِشکال دور ہوجائے گا اور امام ابن عابدین شامی کے بیان کی تائید و مزید وضاحت بھی ہوجائے گی:
    (1) سنن ابن ماجہ:

    عبداﷲ بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيمُ الْکَرِيمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ.
    ’’اپنے مردوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيمُ الْکَرِيمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ کی تلقین کیا کرو۔‘‘
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! کَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ (اِسے زندہ لوگوں کے واسطے پڑھنا کیسا ہے)؟
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ.
    (سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی تلقين الميت لا إله إلا اﷲ، 1 : 465، الرقم : 1446)
    ’’بہت ہی اچھا ہے، بہت ہی اچھا ہے۔‘‘
    اِس روایت کے الفاظ کَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ سے ثابت ہورہا ہے کہ لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ سے مراد فوت شدگان ہیں یعنی حدیث مبارکہ میں بعد اَز وصال / تدفین تلقین کرنے کی ترغیب ہے۔ اگر روایت کو اِس معنی پر محمول نہیں کیا جائے گا تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف سے اِس وضاحتی سوال کی کیا توجیہ ہوگی؟ چوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد اَز وصال تلقین کرنے کا حکم فرما رہے تھے، اِسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا تھا کہ کَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ یعنی اِسے زندہ لوگوں کے لیے پڑھنا کیسا ہوگا!
    (2) سنن نسائی :

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    لَقِّنُوا هَلْکَاکُمْ قَوْلَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ.
    (سنن النسائی، کتاب الجنائز، باب تلقين الميت، 4 : 5، الرقم : 1827)
    ’’اپنے ہلاک ہوجانے والوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کی تلقین کرو۔‘‘
    (3) المعجم الکبیر للطبرانی :

    امام طبرانی المعجم الکبیر میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
    إذا مات أحد من إخوانکم، فنثرتم عليه التراب، فليقم رجل منکم عند رأسه، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يسمع، ولکن لا يجيبثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يستوی جالسا، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يقول : أرشدنا رحمک اﷲ، ولکن لا تشعرونثم ليقل : أذکر ما خرجت عليه من الدنيا، شهادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدا عبده ورسوله، وأنک رضيت باﷲ ربا، وبمحمد نبيا، وبالإسلام دينا، وبالقرآن إمامافإنه إذا فعل ذلک، أخذ منکر ونکير أحدهما بيد صاحبه، ثم يقول له : أخرج بنا من عند هذا ما نصنع به، فقد لقن حجته، ولکن اﷲ لقنه حجته دونهمقال رجل : يا رسول اﷲ! فإن لم أعرف أمه، قال: انسبه إلی حواء.
    المعجم الکبير للطبرانی، 8 : 249، الرقم : 7979.
    مجمع الزوائد للهيثمی، 2 : 324؛ 3 : 45.
    کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال، 15 : 256257، الرقم : 42406
    ’’جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی فوت ہوجائے اور اسے قبر میں دفن کرچکو تو تم میں سے ایک آدمی اُس کے سرہانے کھڑا ہوجائے اور اسے مخاطب کرکے کہے : اے فلاں ابن فلانہ! بے شک وہ مدفون سنتا ہے لیکن جواب نہیں دیتا۔ پھر دوبارہ مردے کو مخاطب کرتے ہوئے کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس آواز پر وہ بیٹھ جاتا ہے۔ پھر کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس پر وہ مردہ کہتا ہے : اﷲ تم پر رحم فرمائے، ہماری رہنمائی کرو۔ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔ پھر وہ کہے : اُس اَمر کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے رُخصت ہوتے ہوئے تھے اور وہ یہ کہ اِس اَمر کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں؛ اور یہ کہ تو اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغمبر ہونے، اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ جب یہ سارا عمل کیا جاتا ہے تو منکر نکیر میں سے کوئی ایک دوسرے فرشتے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور کہتا ہے : مجھے اِس کے پاس سے لے چلو، ہم اس کے ساتھ کوئی عمل نہیں کریں گے کیونکہ اس کو اِس کی حجت تلقین کر دی گئی ہے۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے اُس کو اُس کی حجت تلقین کی نہ کہ ان لوگوں نے۔ پھر ایک آدمی نے کہا : یا رسول اﷲ! اگر میں اس کی ماں کو نہ جانتا ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر اُسے اماں حواء کی طرف منسوب کرو۔‘‘
    حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کو ’تلخیص الحبیر (2 : 3536)‘ میں بیان کیا ہے اور اس کے بعد لکھا ہے کہ اس کی اسناد صالح ہیں، جب کہ ضیاء مقدسی نے اسے احکام میں قوی قرار دیا ہے اور اس روایت کے دیگر شواہد بھی موجود ہیں
    ابن ملقن انصاری نے ’خلاصۃ البدر المنیر (1 : 274275)‘ میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس کے صرف ایک راوی سعید بن عبد اﷲ کو میں نہیں جانتا، لیکن اس روایت کے کثیر شواہد ہیں جو اسے تقویت بہم پہنچاتے ہیں
    (4) امام سیوطی :

    امام جلال الدین سیوطی الدر المنثور فی التفسیر بالماثور میں سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 27: يُثَبِّتُ اﷲُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَيٰوة الدُّنْيَا وَفِی الْاٰخِرَة ﴿اللہ ایمان والوں کو (اس) مضبوط بات (کی برکت) سے دنیوی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھی)﴾ کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
    وأخرج سعيد بن منصور عن راشد بن سعد وضمرة بن حبيب وحکيم بن عمير قالوا : إذا سوی علی الميت قبره وانصرف الناس عنه، کان يستحب أن يقال للميت عند قبره : يا فلان! قل لا إله إلا اﷲ، ثلاث مرات، يا فلان! قل : ربی اﷲ ودينی الإسلام ونبيی محمد، ثم ينصرف.
    ’’سعید بن منصور نے راشد بن سعد، ضمرہ بن حبیب اور حکیم بن عمیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جائے اور لوگ واپس جانے لگیں تو مستحب ہے کہ ان میں سے ایک شخص میت کی قبر پر کھڑا ہوکر کہے : اے فلاں! کہہ دو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ تین بار کہے۔ پھر کہے : اے فلاں! کہہ دو کہ میرا رب اﷲ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص بھی واپس چلا جائے۔‘‘
    امام جلال الدین سیوطی کا سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 27 کے تفسیر میں اس روایت کو بیان کرنا ہی اس اَمر کی دلیل ہے کہ قبر پر کھڑے ہوکر تلقین کرنے سے مومنین کو منکر نکیر کے سوالات کے جواب دینے میں ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے اور یہ مستحب عمل ہے اور یہی اِس آیت مبارکہ میں بیان کیے گئے الفاظ کا مفہوم ہے
    اس کے ساتھ امام سیوطی نے درج ذیل ایک اور روایت بھی بیان کی ہے:
    وأخرج ابن منده عن أبی أمامة رضی الله عنه قال : إذا مت فدفنتمونی، فليقم إنسان عند رأسی، فليقل : ياصدی بن عجلان! اذکر ما کنت عليه فی الدنيا شهادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدا رسول اﷲ.
    ’’ابن مندہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : میرے مرنے کے بعد جب مجھے دفنا چکو تو ایک انسان میری قبر کے سرہانے کھڑا ہوکر کہے : اے صدی بن عجلان! یاد کرو اُس عقیدے کو جس پر تم دنیا میں تھے یعنی اس بات کی گواہی پر کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔‘‘
    یہی روایت امام علاؤ الدین ہندی کنز العمال میں ذرا تفصیل کے ساتھ لائے ہیں۔
    (5) کنز العمال للہندی :

    عن سعيد الأموی، قال : شهدت أبا أمامةوهو فی النزاع، فقال لی : يا سعيد! إذا أنا مت فافعلوا بی کما أمرنا رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم. قال لنا رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : إذا مات أحد من إخوانکم فسويتم عليه التراب فليقم رجل منکم عند رأسه، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يسمع ولکنه لا يجيب، ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة! فإنه يستوی جالسا، ثم ليقل يا فلان ابن فلانة! فإنه يقول : أرشدنارحمک اﷲ. ثم ليقل : اذکر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدا عبده ورسوله وأنک رضيت باﷲ ربا وبمحمد نبيا وبالإسلام دينا وبالقرآن إماما، فإنه إذا فعل ذلک أخذ منکر ونکير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له : أخرج بنا من عند هذا ما نصنع به قد لقن حجته فيکون اﷲ حجيجه دونهما. فقال له رجل : يا رسول اﷲ! فإن لم أعرف أمه، قال : انسبه إلی حواء.
    (کنز العمال، 15 : 311312، الرقم : 42934)
    ’’سعید اُموی روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ کے پاس حاضر ہوا درآں حالیکہ وہ حالتِ نزع میں تھےانہوں نے مجھے فرمایا : اے سعید! جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے ساتھ وہی کچھ کرنا جس کا حکم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا ہے۔ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی فوت ہوجائے اور اسے قبر میں دفن کرچکو تو تم میں سے ایک آدمی اُس کے سرہانے کھڑا ہوجائے اور اسے مخاطب کرکے کہے : اے فلاں ابن فلانہ! (فلانہ مؤنث کا صیغہ ہے جس سے مراد ہے کہ اسے اُس کی ماں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا۔) بے شک وہ مدفون سنتا ہے لیکن جواب نہیں دیتا۔ پھر دوبارہ مردے کو مخاطب کرتے ہوئے کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس آواز پر وہ بیٹھ جاتا ہے۔ پھر کہو : اے فلاں ابن فلانہ! اس پر وہ مردہ کہتا ہے : اﷲ تم پر رحم فرمائے، ہماری رہنمائی کرو۔ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔ پھر وہ کہے : اُس اَمر کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے رُخصت ہوتے ہوئے تھے اور وہ یہ کہ اِس اَمر کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں؛ اور یہ کہ تو اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغمبر ہونے، اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ جب یہ سارا عمل کیا جاتا ہے تو منکر نکیر میں سے کوئی ایک دوسرے فرشتے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور کہتا ہے : مجھے اِس کے پاس سے لے چلو، ہم اس کے ساتھ کوئی عمل نہیں کریں گے کیونکہ اس کو اِس کی حجت تلقین کر دی گئی ہے۔ سو اﷲ تعالیٰ اس کی حجت بیان کرنے والا ہوگا منکر نکیر کے علاوہ۔ پھر ایک آدمی نے کہا : یا رسول اﷲ! اگر میں اس کی ماں کو نہ جانتا ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر اُسے اماں حواء کی طرف منسوب کرو۔‘‘
    اِمام ہندی کہتے ہیں کہ اِس روایت کو ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
    (6) ابن رجب الحنبلی :

    حافظ ابن رجب الحنبلی أهوال القبور وأحوال أهلها إلی النشور میں لکھتے ہیں :
    حدثنی بعض إخوانی أن غانما جاء المعافی بن عمران بعد ما دفن، فسمعه وهو يلقن فی قبره، وهو يقول : لا إله إلا اﷲ. فيقول المعافی : لا إله إلا اﷲ.
    ’’ہمارے بھائیوں میں سے ایک نے روایت کیا ہے کہ غانم، معافی بن عمران کے پاس اُس وقت آئے جب انہیں دفن کیا جا چکا تھا۔ پس اُسے سنا گیا جب کہ اُسے قبر میں تلقین کی جارہی تھی۔ تلقین کرنے والا کہ رہا تھا : لا إله إلا اﷲاور معافی بن عمران بھی جواباً کہ رہے تھے : لا إله إلا اﷲ۔‘‘
    علاوہ ازیں ابن رجب الحنبلی نے کئی اور روایات بھی بیان کی ہیں جن سے مردے کو دفن کرنے کے بعد تلقین کیا جانا ثابت ہوتا ہے۔ نیز امام ابن ابی الدنیا اور امام سیوطی نے اِس موضوع پر متعدد روایات اپنی کتب میں ذکر کی ہیں۔
    (7) ابن عابدین شامی :

    امام شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    قد روی عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم أنه أمر بالتلقين بعد الدفن، فيقول : يا فلان بن فلان! اذکر دينک الذی کنت عليه من شهادة أن لا إله اللہ وأن محمد رسول اللہ، وأن الجنة حق والنار حق، وأن البعث حق وأن الساعة آتية لا ريب فيها، وأن اللہ يبعث من فی القبور وأنک رضيت باللہ ربا وبالاسلام دينا، وبحمد صلی الله عليه وآله وسلم نبيا وبالقرآن إماما وبالکعبة قبلة، وبالمؤمنين إخوانا.
    (ابن عابدين شامی، رد المحتار، 2 : 191)
    ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تدفین کے بعد مردے کو تلقین کرو، تلقین کرنے والا میت کو یہ کہے : اے فلاں کے بیٹے! یاد کرو وہ دین جس پر تم دنیا میں تھے یعنی اِس اَمر کی گواہی کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جنت اور دوزخ کے ہونے اور قیامت کے قائم ہونے پر جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل قبور کو اٹھائے گا اور تم اللہ کو رب مانتے تھے، اسلام کو دین مانتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے تھے، کعبہ کو قبلہ اور تمام مسلمانوں کو بھائی مانتے تھے۔‘‘
    پھر فرماتے ہیں:
    لا نهی عن التلقين بعد الدفن لأنه لا ضرر فيه، بل فيه نفع، فإن الميت يستأنس بالذکر علی ما ورد فيه الآثار.
    ’’تدفین کے بعد تلقین سے منع نہیں کیا جائے گا اِس لیے کہ اِس میں (یعنی مردے کو تلقین کرنے میں) کوئی حرج نہیں بلکہ سراسر فائدہ ہے کیوں کہ میت ذِکر اِلٰہی سے مانوس ہوتی ہے جیسا کہ آثارِ صحابہ سے واضح ہے۔‘‘
    (8) امام ابو داؤد :

    امام ابو داؤد السنن کی کتاب الجنائز میں ایک اور حدیث بھی روایت کرتے ہیں :
    عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيتِ، وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيکُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ.
    ’’حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب میت کو دفن کر کے فارغ ہوجاتے تو وہاں کھڑے ہوکر فرماتے : اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا مانگو، کیونکہ اب اِس سے سوالات ہوں گے۔‘‘
    (9) ملا علی قاری :

    ملا علی قاری اپنی کتاب مرقاۃ المفاتیح میں اِس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
    ’’حافظ ابن حجر عسقلانی کا کہنا ہے کہ اِس روایت میں میت کو دفن کرچکنے کے بعد تلقین کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور ہمارے مذہب کے مطابق یہ معتمد سنت ہے بخلاف اِس قول کے کہ یہ بدعت (سیئہ) ہے، اور اس ضمن میں واضح حدیث بھی موجود ہے جس پر فضائل کے باب میں نہ صرف عمل کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے اتنے شواہد و توابع ہیں جو اسے درجہ حسن تک پہنچا دیتے ہیں۔‘‘
    خلاصہ کلام

    دنیاوی زندگی ختم ہونے پر اِنسان کے لیے دو وقت بڑے خطرناک ہیں : ایک حالتِ نزع کا؛ دوسرا تدفین کے بعد قبر میں ہونے والے سوالات کا۔ اگر مرتے وقت خاتمہ بالخیر نصیب نہ ہوا تو عمر بھر کا کیا دھرا سب برباد گیا اور اگر قبر کے امتحان میں ناکامی ہوئی تو اُخروی زندگی برباد ہوگئی۔ اِس لیے زندہ لوگوں کو چاہیے کہ ان کٹھن مراحل میں اپنے پیاروں کی بھرپور مدد کریں کہ مرتے وقت اس کے پاس کلمہ پڑھتے رہیں اور بعد اَز دفن بھی کلمہ پڑھتے رہیں تاکہ وہ اِس امتحان میں بھی کام یاب ہوجائے۔
    حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا :
    مرنے والے مرتے ہیں، لیکن فنا ہوتے نہیں
    یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں
    مرنے والوں کی جبیں روشن ہے اُس ظلمات میں
    جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں
    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
    مفتی: محمد فاروق رانا
    تاریخ اشاعت: 2011-06-18


    فتویٰ آن لائن
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    مفتی فاروق رانا صاحب نے لکھا ہے کہ
    اور پہلے دس دلائل اسی موضوع سے متعلق ہیں جن پر امت میں سے کسی کو اختلاف نہیں کہ مسلمان کو مرنے سے قبل حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ / کلمہ شہادت کی تلقین کی جائے ۔
    گیارہوں دلیل سنن ابن ماجہ کے حوالے نقل فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں :
    اس کی سند سے صرف نظر کر لیتے ہیں تو پھر بھی یہ دلیل بننے کے قابل نہیں کیونکہ یہ محمد بن المنکدر رحمہ اللہ کا عمل ہے اور باتفاق امت اقوال تابعین حجت و دلیل نہیں !
    اسکے بعد موصوف نے لکھا ہے :
    اور پھر اسکے بعد سنن ابن ماجہ کی یہ روایت پیش فرمائی ہے :
    امام ابن ماجہ(المتوفى 273) نے کہا:'
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟ قَالَ: «أَجْوَدُ، وَأَجْوَدُ»[سنن ابن ماجه 1/ 465 رقم 1446]۔

    یہ روایت ضعیف ہے اس میں دو علتیں ہیں۔
    اول:
    ’’إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ‘‘ مجہول ہے کسی ایک بھی امام نے اس کی توثیق نہیں کی ہے۔
    دوم:
    ’’كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ‘‘ بھی ضعیف ہے۔

    امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى:234)نے کہا:
    صَالح وَلَيْسَ بِالْقَوِيّ[سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني: ص: 95]۔

    امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى:264)نے کہا:
    هو صدوق فيه لين [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 150وسندہ صحیح]۔

    أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي، (المتوفى277):
    صالح ليس بالقوى [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 151]۔

    امام نسائي رحمه الله (المتوفى303) نے کہا:
    كثير بن زيد ضَعِيف[الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 89]۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
    ليس بذاك القوى[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 151 وسندہ صحیح]۔
    نیز کہا:
    ليس بشيء[تاريخ ابن أبي خيثمة 4/ 336 وسندہ صحیح]۔

    امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے ضعفاء میں نقل کیا:
    كثير بن زيد أبو محمد المدني [الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي: 3/ 22]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    كُثَيْرُ بْنُ زَيْدٍ صُوَيْلِحُ فِيهِ لِينٌ[معجم الشيوخ الكبير للذهبي 1/ 300]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    وَكثير بن زيد مُخْتَلف فِيهِ[تغليق التعليق لابن حجر: 3/ 249]۔

    دوسری دلیل کے طور پر رقمطراز ہیں :
    جبکہ یہ روایت بھی پہلی قسم کی تلقین کے متعلق ہے صرف لفظ " مرنے والوں" کی جگہ " ہلاک ہو جانے والوں" استعمال ہوا ہے ۔ معنى ایک ہی ہے ۔
    پھر تیسری دلیل کے طور پر انہوں نے یہ روایت نقل فرمائی ہے :
    امام طبراني رحمه الله (المتوفى321)نے کہا:
    حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ، فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ، فَسَوَّيْتُمِ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ، فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللهُ، وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ. فَلْيَقُلْ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ وَاحِدٌ مِنْهُمْا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ: انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ قَدْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ؟ قَالَ: «فَيَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ، يَا فُلَانَ بْنَ حَوَّاءَ»[المعجم الكبير للطبراني: 8/ 249]۔


    یہ روایت سخت ضعیف ہے کیونکہ مسلسل بالعلل ہے اورسند کے ہر طبقہ میں کوئی نہ کوئی علت موجودہے:

    پہلی علت:
    ’’سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ‘‘ مجہول ہے۔

    دوسری علت:
    ’’يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ‘‘ نے عن روایت کیا ہے اور یہ مدلس ہیں۔
    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385):
    ويحيى بن أبي كثير معروف بالتدليس[علل الدارقطني: 11/ 124]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے نکت میں انہیں طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے،[النكت على ابن الصلاح 2/ 643]۔
    اورایک حدیث پران کے عنعنہ کی وجہ سے نقد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
    وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ: حَدِيثُ جَابِرٍ صَحيِحٌ؛ لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثِقَةٌ، وَقَدْ صَحَّ سَمَاعُهُ مِنْ جَابِرٍ.قُلْتُ: إِلا أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ مُدَلِّسٌ،[إتحاف المهرة لابن حجر: 3/ 325]۔

    تیسری علت :

    ’’عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ‘‘ مجہول ہے اس کی توثیق کہیں دستیاب نہیں۔

    چوتھی علت:
    ’’إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ‘‘ جب اپنے علاقہ کے علاوہ دیگر علاقے والوں سے روایت کرتے ہیں تو ضعیف ہوتے ہیں۔
    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    صدوق في روايته عن أهل بلده مخلط في غيرهم[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 33]۔
    اورزیرنظر روایت میں ان کا استاذ مجہول ہے لہذا معلوم نہیں وہ کہاں کا ہے۔

    پانچویں علت:
    ’’مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ‘‘ ضعیف ہے۔
    محمد بن عوف نے کہا:
    كَانَ يسرق الأحاديث [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 547]
    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365) نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے:
    مُحَمد بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ بْن زريق الحمصي[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 547]۔

    چھٹی علت:
    ’’أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ‘‘ مجہول ہے۔


    موصوف کی پیش کردہ دلیل نمبر ۴ ۔:

    وأخرج سعيد بن منصور عن راشد بن سعد وضمرة بن حبيب وحكيم بن عمير قالوا : إذا سوي على الميت قبره وانصرف الناس عنه كان يستحب أن يقال للميت عند قبره : يا فلان قل لا إله إلا الله ثلاث مرات يا فلان قل ربي الله وديني الإسلام ونبيي محمد صلى الله عليه و سلم ثم ينصرف [الدر المنثور 5/ 39]۔

    اول:
    تو اس روایت کی صحت کا ثبوت ہی نہیں کیونکہ اس کی سند نا معلوم ہے۔
    دوم :
    یہ روایت مقطوع ہے یعنی بعض تابعین کی طرف منسوب ہے اورتابعین کے اقوال بالاتفاق دین میں حجت نہیں۔


    اور اسی چوتھی دلیل کے ضمن میں یہ روایت بھی نقل کی ہے :
    وأخرج ابن منده عن أبي أمامة رضي الله عنه قال : إذا مت فدفنتموني فليقم إنسان عند رأسي فليقل : ياصدي بن عجلان اذكر ما كنت عليه في الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله [الدر المنثور 5/ 39، شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور ص: 110]


    یہ روایت بھی مجہول السند ہے امام سیوطی نے اس کی سند ذکر نہیں کی لہذا اس کی صحت ثابت نہیں اور امام طبرانی نے ابوامامہ کی جس روایت کو سند سے ذکر کیا ہے اس حقیقت بیان کی جاچکی ہے۔

    موصوف کی پانچویں دلیل :
    عن سعيد الأموي قال : شهدت أبا أمامة وهو في النزاع فقال لي : ياسعيد إذا أنا مت فافعلوا بي كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مات أحد من إخوانكم فسويتم عليه التراب فليقم رجل منكم عند رأسه ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة فإنه يسمع ولكنه لا يجيب ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة فإنه يستوي جالسا ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة فإنه يقول : أرشدنا رحمك الله ثم ليقل : اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وأنك رضيت بالله ربا وبمحمد نبيا وبالإسلام دينا وبالقرآن إماما فإنه إذا فعل ذلك أخذ منكر ونكير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له : اخرج بنا من عند هذا : ما نصنع به قد لقن حجته فيكون الله حجيجه دونهما . فقال له رجل : يا رسول الله فإن لم أعرف أمه ؟ قال : انسبه إلى حواء [كنز العمال 15/ 1140]۔

    کنز العمال کے مصنف نے اس روایت کے لئے ( کر ) یعنی ابن عساکرکا حوالہ دیا ہے ، ابن عساکر سے یہ روایت مع سند ومتن ملاحظہ ہو:

    امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
    أخبرنا أبو الحسن علي بن المسلم أنا علي بن محمد بن أبي العلاء أنا أبو علي أحمد بن عبد الرحمن بن أبي نصر أنبأ أبو سليمان محمد بن عبد الله بن زبر أنبأ أبي أبو محمد نا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة نا أبي نا إسماعيل بن عياش نا عبد الله بن محمد عن يحيى بن أبي كثير عن سعيد الأزدي قال
    شهدت أبا أمامة وهو في النزع فقال لي يا سعيد إذا أنا مت فافعلوا بي كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا مات أحد من إخوانكم فنثرتم عليه التراب فليقم رجل منكم عند رأسه ثم ليقل يا فلان بن فلان فإنه يستوي جالسا ثم ليقل يا فلان بن فلانة فإنه يقول أرشدنا رحمك الله ثم ليقل اذكر ما خرجت عليه من دار الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإنك رضيت بالله عز وجل ربا وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبيا وبالإسلام دينا وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبيا فإنه إذا فعل ذلك أخذ منكر ونكير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له أخرج بنا من عند هذا ما نصنع به وقد لقن حجته ولكن الله عز وجل حجته دونهم فقال له رجل يا رسول الله فإن لم أعرف أمه قال انسبه إلى حواء

    [تاريخ مدينة دمشق 24/ 73]۔

    ابن عساکر نے طبرانی ہی کے طریق سے روایت کیا ہے جس کی حالت بیان کی جاچکی ہے۔

    اسکے بعد موصوف چھٹی دلیل کے طور پر لکھتے ہیں :



    ابن رجب رحمہ اللہ کی اس کتاب میں صرف یہ بات مل سکی :
    وروينا من طريق مزداد بن جميل قال قال أبو المغيرة ما رأيت مثل المعافري بن عمران بعدما دفن فسمعته وهو يلقن في قبره وهو يقول لا إله إلا الله فيقول المعافى: لا إله إلا الله.[أهوال القبور وأحوال أهلها إلى النشور ص: 17]۔

    امام سیوطی نے کہا:
    وقال إبن رجب روينا من طريق مراد بن جميل قال قال أبو المغيرة ما رأيت مثل المعافى بن عمران وذكر من فضله قال حدثني بعض إخواني أن غانما جاء المعافى بن عمران بعد ما دفن فسمعه وهو يلقن في قبره وهو يقول لا إله إلا الله فيقول المعافى لا إله إلا الله [شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور ص: 204]۔

    مگر ابن رجب کی کتاب میں یہ پوری بات نہیں‌ ملی البتہ
    مؤمل بن أحمد بن محمد الشيباني(المتوفی 391 ) نے کہا:
    قال محمد بن عوف: ما رأيت مثل المعافى بن عمران، وما أدركت مثله في عقله وورعه وفضله، ولقد حدثني جنادة بن مروان، أنه كان يخرج في يوم الجمعة بالغداة فيحتطب على ظهره،فيجيء بالكارة الحطب على ظهره حتى يبيعها عند باب المسجد، ثم يحل (زناره؟) ثم - يعني يدخل المسجد فيصلي الجمعة. قال: وحدثني بعض إخواني أن (غانما؟) جاء المعافى / بعدما دفن فسمعه وهو يلقن في قبره وهو يَقُولُ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فيقول المعافى: لا إله إلا الله. [مجموع فيه عشرة أجزاء حديثية (ص: 345)]۔


    اولا :
    یہ روایت بھی غیرثابت شدہ ہے ۔

    1: حدثني بعض إخواني میں ’’بعض ‘‘ مجہول ہے۔

    2: مؤمل بن أحمد بن محمد الشيباني(المتوفی 391 ) کی تاریخ پیدائش 297 ہجری ہے :
    خطيب بغدادي رحمه الله (المتوفى:463) نے کہا:
    وكان مولده في سنة سبع وتسعين ومائتين[تاريخ بغداد للخطيب البغدادي: 15/ 238]۔

    اور ’’ محمد بن عوف بن سفيان الطائى 272 ہی میں‌ وفات پاگئے۔
    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748) نے کہا:
    قَالَ ابْنُ المُنَادِي: مَاتَ ابْنُ عَوْف فِي وَسط، سَنَة اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ وَمائَتَيْنِ -رَحِمَهُ اللهُ- [سير أعلام النبلاء للذهبي: 12/ 615]۔

    لہذا یہاں بھی انقظاع ہے۔


    ثانیا:
    یہ غانم معلوم نہیں کون ہے یعنی ایک مجہول شخص کا عمل ہے۔

    ثالثا:
    ’’ المعافى بن عمران الأزدى الفهمى (المتوفی 185) ‘‘ صغار تابعین میں‌ سے ہیں‌ اور تابعین کے ساتھ کیاگیا عمل یا تابعین کا اپنا عمل بالاتفاق حجت نہیں ۔


    ساتویں دلیل کے طور پر موصوف نے حاشیہ ابن عابدین المعروف فتاوى شامی سے ایک عبارت نقل فرمائی ہے کہ :
    ابن عابدین کا یہ کہنا :
    وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «أَنَّهُ أَمَرَ بِالتَّلْقِينِ بَعْدَ الدَّفْنِ فَيَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ اُذْكُرْ دِينَك الَّذِي كُنْت عَلَيْهِ مِنْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ وَأَنَّك رَضِيت بِاَللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيًّا وَبِالْقُرْآنِ إمَامًا وَبِالْكَعْبَةِ قِبْلَةً وَبِالْمُؤْمِنِينَ إخْوَانًا» [الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 191)]
    بے بنیاد ہے کیونکہ ان الفاظ کے ساتھ کوئی روایت ہمین نہیں مل سکی ، البتہ طبرانی کی مذکورہ روایت میں اس سے ملتی جلتی بات ہے جس کا ضعف واضح کیا جاچکاہے۔
    اور باقی الفاظ تو ابن عابدین کے فتوى کے ہیں جنکی کوئی شرعی حیثیت نہیں !
    آٹھویں دلیل سنن أبی داود سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
    اس دلیل کے بارہ میں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ " کلمۃ حق أرید بہا الباطل " یعنی بات تو صحیح ہے لیکن مقصد باطل ہے ۔
    میت کے لیے استغفار کرنا اور اسکے لیے ثابت قدمی کی دعاء کرنا اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور باتفاق امت یہ کام جائز ہے ۔
    لیکن جس مقصد کے لیے یہ روایت پیش کی گئی ہے کہ میت کو دفنانے کے بعد اسکی قبر پر اسے تلقین کرنا اسکا شائبہ تک اس روایت میں موجود نہیں ہے
    آخر میں موصوف نے ملا علی قاری کا قول پیش کیا ہے کہ یہ کام یعنی میت کے لیے استغفار اور ثابت قدمی کی دعاء کرنی چاہیے تو ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں
    ساری بحث کا نتیجہ اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ

    قریب المرگ مسلمان کو کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلى اللہ علیہ وسلم ) کی تلقین کرنی چاہیے ۔
    مرنے کے بعد میت کو (طاہر القادری کی طرح) تلقین کرنا یعنی ایکی قبر پر کھڑے ہوکر منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دھرانا وغیرہ کسی بھی دلیل سے ثابت نہیں ۔

    تحریر وتخریج احادیث ::کفایت اللہ السنابلی-
    ترتیب واضافہ :: رفیق طاھر -


     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں