کیا قسطنطنیہ پر پہلےحملے میں یزید بن معاویہ شامل تھے؟

ابوعکاشہ نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏نومبر 29, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    مشائخ کرام سے درج ذیل دوسوالوں کا مفصل جواب درکار ہے ،

    پہلا سوال :: شیخ زبیر علی زئی حفظ اللہ کی تحقیق کے مطابق ''قسطنطنیہ پرہونے والے پہلے حملے میں یزید رحمہ اللہ شامل نہیں تھے، اوراس حوالے سے بخاری کا جو حوالہ دیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں '' تفصیل مجلہ الحدیث ، شمارہ نمبر 6
    شیخ کی یہ بات کہاں تک درست ہے ؟

    دوسرا سوال :: حجاج بن یوسف رحمہ اللہ کے حوالے سے شیخ زبیر علی زئی نے ایک حدیث ذکر کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' بنو ثقیف میں ایک کذاب اور ظالم و جابر شخص ہو گا ''
    اس حدیث کا حوالہ اور تحقیق درکار ہے !!
    جزاکم اللہ‌ خیرا۔
    http://www.youtube.com/watch?v=PFAeJ1ipHww
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    یزید بن معاویہ کا قسطنطینیہ پر حملہ آور پہلے لشکر میں شامل ہونا صراحتا کسی دلیل سے ثابت نہیں , البتہ اسکے برعکس کچھ شواہد ملتے ہیں ۔
    صحیح بخاری والی روایت کو یزید پر فٹ کرنے کا کام کچھ نواصب کی طرف سے شروع ہوا جسے اہل السنہ نے بھی سد ذرائع کے طور پر رواج دیا تاکہ روافض کی شدت میں کسی قدر کمی واقع ہو ۔
    ۲۔ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولًا لِلرَّحِمِ أَمَا وَاللَّهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لَأُمَّةٌ خَيْرٌ ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَوْلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ قَالَ فَأَبَتْ وَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي قَالَ فَقَالَ أَرُونِي سِبْتَيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ قَالَتْ رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنْ الدَّوَابِّ وَأَمَّا الْآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ قَالَ فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا
    صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب ذکر کذاب ثقیف ومبیرھا ح ۲۵۴۵
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    جزاکم اللہ خیرا۔
    1- اگران شواہد کابھی ذکر کردیا جائے تو سمجھنے میں آسانی رہے گی ۔
    2-ابونوفل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی گھاٹی پر دیکھا (یعنی مکہ کا وہ ناکہ جو مدینہ کی راہ میں ہے) کہتے ہیں کہ قریش کے لوگ ان پر سے گزرتے تھے اور دوسرے لوگ بھی (ان کو حجاج نے سولی دے کر اسی پر رہنے دیا تھا)، یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان پر سے گزرے۔ وہاں کھڑے ہوئے اور کہا کہ السلام علیکم یا ابوخبیب! (ابوخبیب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اور ابوبکر اور ابوبکیر بھی ان کی کنیت ہے) اسلام علیکم یا ابوخبیب! السلام علیک یا ابوخبیب! (اس سے معلوم ہوا کہ میت کو تین بار سلام کرنا مستحب ہے) اللہ کی قسم میں تو تمہیں اس سے منع کرتا تھا، اللہ کی قسم میں تو تمہیں اس سے منع کرتا تھا، اللہ کی قسم میں تو تمہیں اس سے منع کرتا تھا۔ (یعنی خلافت اور حکومت اختیار کرنے سے) اللہ کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں تم روزہ رکھنے والے اور رات کو عبادت کرنے والے اور ناطے کو جوڑنے والے تھے۔ اللہ کی قسم وہ گروہ جس کے تم برے ہو وہ عمدہ گروہ ہے (یہ انہوں نے برعکس کہا بطریق طنز کے یعنی برا گروہ ہے اور ایک روایت میں صاف ہے کہ وہ برا گروہ ہے) پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں سے چلے گئے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے وہاں ٹھہرنے اور بات کرنے کی خبر حجاج تک پہنچی تو اس نے ان کو سولی پر سے اتروا لیا اور یہود کے قرستان میں ڈلوا دیا۔ (اور حجاج یہ نہ سمجھا کہ اس سے کیا ہوتا ہے۔ انسان کہیں بھی گرے لیکن اس کے اعمال اچھے ہونا ضروری ہیں)۔ پھر حجاج نے ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو بلا بھیجا تو انہوں نے حجاج کے پاس آنے سے انکار کر دیا۔ حجاج نے پھر بلا بھیجا اور کہا کہ تم آتی ہو تو آؤ ورنہ میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جو تمہارا چونڈا پکڑ کر گھسیٹ کر لائے گا۔ انہوں نے پھر بھی آنے سے انکار کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں تیرے پاس نہ آؤں گی جب تک تو میرے پاس اس کو نہ بھیجے جو میرے بال کھینچتا ہوا مجھے تیرے پاس لے جائے۔ آخر حجاج نے کہا کہ میری جوتیاں لاؤ اور جوتے پہن کر اکڑتا ہوا چلا، یہاں تک کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا اور کہا کہ تم نے دیکھا کہ اللہ کی قسم میں نے اللہ تعالیٰ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟ (یہ حجاج نے اپنے اعتقاد کے موافق سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہا ورنہ وہ خود اللہ کا دشمن تھا) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ تو نے عبداللہ بن زبیر کی دنیا بگاڑ دی اور اس نے تیری آخرت بگاڑ دی۔ میں نے سنا ہے کہ تو عبداللہ بن زبیر کو کہتا تھا کہ دو کمربند والی کا بیٹا ہے؟ بیشک اللہ کی قسم میں دو کمربند والی ہوں۔ ایک کمربند میں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کھانا اٹھاتی تھی کہ جانور اس کو کھا نہ لیں اور ایک کمربند وہ تھا جو عورت کو درکار ہے (سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنے کمربند کو پھاڑ کر اس کے دو ٹکڑے کر لئے تھے ایک سے تو کمربند باندھتی تھیں اور دوسرے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے دسترخوان بنایا تھا تو یہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی فضیلت تھی جس کو حجاج عیب سمجھتا تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ذلیل کرنے کے لئے دو کمربند والی کا بیٹا کہتا تھا)۔ تو خبردار رہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا تھا کہ ثقیف میں ایک جھوٹا پیدا ہو گا اور ایک ہلاکو۔ تو جھوٹے کو تو ہم نے دیکھ لیا اور ہلاکو میں تیرے سوا کسی کو نہیں سمجھتی۔ یہ سن کر حجاج کھڑا ہوا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو کچھ جواب نہ دیا۔
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    پہلا لشکر کون سا ہے اس بارہ میں ہماری تحقیق یہ ہے کہ پہلا لشکر قسطنطنیہ کی طرف ۳۲ ہجری کو روانہ ہوا تھا جس کے بارہ میں حافظ ذہبی فرماتے ہیں :
    سنة اثنتين وثلاثين
    فيها كانت وقعة المضيق بالقرب من قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وأميرُها معاوية.
    تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام از شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) ،ت: عمر عبد السلام التدمري ، ط : دار الكتاب العربي، بيروت 1413 هـ - 1993 م ج ۳ ص ۳۷١، ط: الوقفیۃ ج ۳ ص ١١٣۔

    اسی طرح حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں :
    وَقَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ: فَتَحَ مُعَاوِيَةُ قَيْسَارِيَّةَ سَنَةَ تِسْعَ عَشْرَةَ فِي دَوْلَةِ عُمَرَ بْنِ الخطاب.
    وقال غيره: وفتح قبرص سنة خمس وقيل سَبْعٍ، وَقِيلَ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ فِي أَيَّامِ عُثْمَانَ.
    قَالُوا: وَكَانَ عَامَ غَزْوَةِ الْمَضِيقِ - يَعْنِي مَضِيقَ القسطنطينية - في سنة ثنتين وثلاثين في أيامه وكان هو الأمير على الناس عامئذ.
    البداية والنهاية از أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي البصري ثم الدمشقي (المتوفى: 774هـ) ت: علي شيري ، ط: دار إحياء التراث العربي 1408، هـ - 1988 م ج ۸ ص ١٣٥

     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    شاید اپنے اس موقف سے رجوع کرلیا ہے کہ قسطنطینہ پر حملہ آوار ہونے والے پہلے حملے میں یزید شریک نہیں تھا اوریہ کہ حافظ ابن ذہبی کا قول بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے جس میں 32 ہجری کے حملہ کا تذکرہ ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    جی ایسا ہی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں