خلیفہ ھارون الرشید کا ایمان افروز واقعہ

ابوعکاشہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏نومبر 29, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    خلیفہ ہارون الرشید کا ایمان افروز واقعہ / تحریر ـ عطا اللہ سلفی ـ ​

    امام یعقوب بن سفیان الفارسی رحمہ اللہ (متوفی 277 ھجری) فرماتےہیں کہ :

    میں نے علی بن المدینی رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : محمد بن خازم (ابومعاویہ الضریز) نے فرمایا: میں امیرالمؤمنین ھارون رشید کے پاس (سلیمان بن مہران ) الاعمش کی ابوصالح (عن ابی ہریرہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند) سے بیان کردہ احادیث پڑھ رہا تھا ، میں جب کہتا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو امیر المؤمنین کہتے : صلی اللہ علی سیدی ومولای حتی کہ میں نے آدام وموسی (علیہما السلام ) کی ملاقات والی حدیث بیان کی (جس میں تقدیر کا مسئلہ ثابت ہے تو ہاروں رشید کے (کسی )چچا نے کہا : ائے محمد (بن خازم ) ان (آدم و موسی ) کی ملاقات کہاں ہوئی تھی ؟

    یہ سن کر ہارون الرشید (سخت ) ناراض ہوئے اور کہا : یہ بات کس نے تجھے بنائی ہے ؟ اور اس (چچا) کے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ، بعد میں اس (چچا) نے مجھے جیل میں بلایا اور کہا : اللہ کی قسم ، مجھے کسی نے نہیں بتایا ، ویسے ہی میری زبان سے یہ کلمات نکل گئے تھے ، میں نے واپس جا کر امیرالمؤمنین (ہارون رشید) کو بتا کہ اس نے خود ہی (حماقت سے ) یہ کلمات کہ دئے تھے ، کسی نے اسے بتایا نہیں ہے ، تو انہوں نے اس (چچا) کی رہائی کا حکم دیا اور فرمایا '' میں یہ سمجھتا تھا کہ بعض ملحدین (بے دین اور زندیق لوگوں ) نے یہ کلام اسے سکھایا ہے ، مجھے اگر معلوم ہو جائے کہ یہ ملحدین کون ہیں تو میں انہیں قتل کردوں ، ویسے میرا یہ یقین ہے کہ (میرا رشتہ دار ) قریشی زندیق نہیں ہو سکتا ''(کتاب المعرفہ والتاریخ : 2/181،182 وسندہ صحیح ، وتاریخ بغداد :5/243 ت 2735)

    معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین ہارون رشید رحمہ اللہ کے نزدیک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنے والا ملحد اور زندیق ہے ، آج کل بعض کلمہ گو لوگ کتاب و سنت کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس بات سے غافل ہیں کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب ہر انسان اپنے رب کے ساتھ پیش ہو گا ، جس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث رد کی ہوں گی وہ اللہ تعالٰی کو کیا جواب دے گا ؟
    ارشاد باری تعالٰی ہے کہ :[qh] قل أطيعوا الله والرسول , فإن تولوا فإن الله لا يحب الكافرين ..آل عمران 32
    [/qh]'' کہ دو ، اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، پس اگرتم (اس سے ) منہ پھیرو گے تو (جان لوکہ) بے شک اللہ تعالٰی کافروں کو پسند نہیں کرتا ''

    کمپوزنگ :: عُکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    جزآک اللہ خیرا
     
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جزاکم اللہ خیرا
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    واقعی غور کرنے والی بات ہے۔ :00002:
    جزاکم اللہ خیرا۔ بہت عمدہ اقتباس عکاشہ بھائی۔
     
  6. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    جزاک اللہ خیرا.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں