بنیادی عقائد( مقدمۃ فی العقیدۃ للقیروانی کی شرح کا اردو ترجمہ)

ابوبکرالسلفی نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏فروری 13, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


    نام کتاب : بنیادی عقائد( [font="al_mushaf"]مقدمۃ فی العقیدۃ للقیروانی​
    کی شرح کا اردو ترجمہ)
    مولف : فضیلۃ الشیخ عبد المحسن حمد العباد(حفظہ اللہ)
    صفحات : 336
    مترجم : فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی(حفظہ اللہ)
    ناشر : مکتبہ عبد اللہ بن سلام لترجمۃ کتب الاسلام
    کمپوزنگ : أبوبکرالسلفی

    فہرست

    [table="head"]نمبر شمار|عنوان|ربط برائے مطالعہ
    01|مقدمہ از مترجم|ربط
    02|مقدمہ از شارح| ربط
    03|مؤلف ابن ابی زید القیروانی کے مختصر حالاتِ زندگی| ربط
    04|شرح سے قبل چند اہم فوائد کا ذکر، پہلا فائدہ:| ربط
    05|دوسرا فائدہ: أھل السنۃ والجماعۃ کا دیگر گمراہ فرقوں کے مابین وسطیت واعتدال پر قائم رہنا| ربط
    06|تیسرا فائدہ: تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ فطرت کے مطابق ہے۔| ربط
    07|چوتھا فائدہ: صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو ذاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو کی فرع ہے، اور بعض صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو دیگر صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو کی طرح ہے| ربط
    08|پانچواں فائدۃ:سلفِ صالحین اسماء وصفات میں نہ تو تاویل کے قائل تھے اور نہ ان کے معنی میں تفویض کے قائل تھے|ربط
    09|چھٹا فائدہ: مشبہ اور معطلہ دونوں نے اپنے اپنے عقیدے میں تمثیل و تعطیل کو جمع کردیا ہے۔|ربط
    10|ساتواں فائدہ: بعض متکلمین کا علم ِ کلام کی مذمت کرنا اور علمِ کلام کے ساتھ تعلق کی وجہ سے حیرت وندامت کا اظہار کرنا۔|ربط
    11|آٹھواں فائدہ: کیا یہ بات درست ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اشعری مذہب پر قائم ہے؟|ربط
    12|نواں فائدۃ: [FONT="Al_Mushaf"]أئمہ اربعہ[/FONT] اور ان کے مذاہب کے فقہاء کا عقیدہ|ربط
    13|دسواں فائدۃ:عقیدے کے موضو ع پر سلفی منہج کے مطابق تصنیف کردہ کتب کا بیان |ربط
    14|[FONT="Al_Mushaf"]نص مقدمۃ رسالۃ أبن أبی زید القیروانی[/FONT]، متن کا ترجمہ |ربط
    15|[FONT="Al_Mushaf"]آغاز شرح: اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ سے سات چیزوں کی نفی[/FONT] |ربط
    16|توحید کی تین اقسام اور ان کی تعریفات|ربط
    17|سورۃ الفاتحہ اورسورۃ الناس توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہیں|ربط
    19|توحید کی ان اقسام میں باہل نسبت |ربط
    20|[FONT="Al_Mushaf"]قبولیتِ اعمال کی دو شرطیں: اخلاص اور اتباعِ سنت[/FONT]|ربط
    21|اللہ تعالیٰ کے ناموں میں "الاوّل" اور " الآخِر" بھی ہیں|ربط
    22|اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرنےوالے اس کی کسی صفت کی ماہیت و کیفیت تک نہیں پہنچ سکتے کی شرح |ربط
    23| تفکر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے کسی امر کا احاطہ نہیں کر سکتے|ربط
    24|تفکر کرنے والے اللہ تعالیٰ کی آیات سے نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہیں|ربط
    25|غور وفکر کرنے والے اللہ تعالیٰ کی ذات کی کیفیت و ماہیت میں تفکر نہیں کرتے|ربط
    26|علم الغیب اللہ تعالیٰ کیلئے خاص ہے|ربط
    27| العلو، القدرۃ ، السمع اور البصیر اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہیں ان صفات کا مفہوم مختصراً درج کیا جاتا ہے۔|ربط
    28|اللہ تعالیٰ کے بذاتہ اپنے عرش پر ہونے کا اثبات|ربط
    29|اللہ تعالیٰ کیلئے صفت "العلم" کا اثبات۔۔۔۔|ربط
    30| اللہ تعالیٰ کی صفت" استواء علی العرش" کا اثبات۔۔۔|ربط
    31| اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا تعلق اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے ہے۔۔۔ |ربط
    32| اللہ تعالیٰ کے تمام نام حسنیٰ ہیں |ربط
    33|اللہ تعالیٰ کے نام مشتق ہیں |ربط
    34|اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) ناموں کا بیان|ربط
    35|اللہ تعالیٰ کے بعض ناموں کا اطلاق غیر اللہ پر جائز ہے اور بعض کا نہیں |ربط
    36|اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء صفات ازلی وابدی ہیں |ربط
    37|اللہ تعالیٰ کیلئے صفتِ "الکلام" کا اثبات۔۔۔/صفتِ کلام، صفتِ ذاتیہ بھی ہے اور صفتِ فعلیہ بھی۔ |ربط
    38|ایمان بالقدر اور اس کے کتاب و سنت سے دلائل کا بیان |ربط
    39|مراتبِ قدر: علم، کتابت، ارادہ اور خلق ایجاد |ربط
    40|ایمان بالقدر کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے۔۔۔ |ربط
    41|اس عالم ہستی میں جو بھی خیرو شر ہے سب اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر سے ہے |ربط
    42|لفظِ ارادہ معنئ کونی وقدری کے ساتھ ساتھ معنئ دینی وشرعی دونوں کیلئے مستعمل ہے |ربط
    43|آیتِ کریمہ([FONT="Al_Mushaf"]یَمُحُوا اللہ ُ مَا یَشَاءُ وَیُثبِتُ۔۔۔ ) کا معنی [/FONT] |ربط
    44| حدیث شریف "[FONT="Al_Mushaf"]لایرد القضاء الا الدعاء" کا معنی [/FONT] |ربط
    45|حدیث احتجاجِ آدم علی موسیٰ کا مفہوم |ربط
    46|افعالِ عباد اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور یہ بندوں کی مشیئت سےو اقع ہوتے ہیں۔۔۔|ربط
    47|ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کی مشیئت وارادہ سے حاصل ہوتی ہے |ربط
    48|ہدایتِ ارشاد اور ہدایتِ توفیق میں فرق |ربط
    49|اللہ تعالیٰ کی بندوں پر سب سےبڑی نعمت|ربط
    50|تمام رسولوں پر ایمان لانا واجب ہے خواہ ان کا تذکرہ قرآن مجید میں ہو یا نہ ہو۔ |ربط
    51|نبی اور رسول میں فرق |ربط
    52|ہمارے نبی محمدﷺ کی رسالت کا بیان |ربط
    53|امتِ محمدیہ کی دو قسمیں ہیں: اُمتِ دعوت، اُمتِ اجابت|ربط
    54|قیامت کے سلسلہ میں چند قواعد کی معرفت ضروری ہے|ربط
    55| صغیرہ اور کبیرہ گناہ، وسائلِ بخشش |ربط
    56|نافرمان مسلمانوں کا انجام |ربط
    57|جنت اور جہنم |ربط
    58|جنت اور جہنم کے اس وقت موجود ہونے کو تسلیم نہ کرنے والو ں پر رد |ربط
    59|آدم علیہ السلام کس جنت سے نکالے گئے تھے؟ |ربط
    60|ایک اشکال اور اس کا جواب |ربط
    61|میدانِ محشر کے حالات |ربط
    62| پُلِ صِراط |ربط
    63|حوضِ کوثر- ہمارے نبیﷺ کے حوض کا بیان |ربط
    64|اس دور کے ایک گمراہ شخص کے صحابہ کرام کے متعلق باطل نظریہ کا رد |ربط
    65|ایمان کی تعریف اور حقیقت- اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ایمان کی تعریف |ربط
    66|برزخی حیات - شہداء کی برزخی زندگی اور اس کی نعمتوں کا بیان|ربط
    67| قبر میں مؤمنوں کو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور کافروں کو عذاب |ربط
    68|قبر کا فتنہ اور امتحان |ربط
    69|فرشتوں پر ایمان کی حقیقت |ربط
    70|صحابہ کرام کا بیان |ربط
    71|فضائل ِ صحابہ کتاب و سنت سے |ربط
    72|صحابہ کرام کے متعلق اُمت پر کیا واجب ہے |ربط
    73|مسلمانوں کے حکام اور علماء کی اطاعت بھی ضروری ہے |ربط
    74|حکام کے ساتھ خیر خواہی |ربط
    75|حکام کی اطاعت معروف میں ہے معصیت میں نہیں |ربط
    76|حکام کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا |ربط
    77|سلف صالحین کے نقشِ قدم کی پیروی کا بیان |ربط
    78|دین میں جھگڑے سے یکسر گریز کیا جائے |ربط
    79|بدعات کو کلی طور پر ترک کرنے کا بیان |ربط
    80|اختتام |ربط
    [/table]


    [/font]




     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    مقدمہ از مترجم


    مقدمہ از مترجم​


    [font="al_mushaf"]الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین امام المتقین وقدوۃ الکاملین وعلی آلہ وصحبہ وأھل طاعتہ أجمعین
    ، [font="al_mushaf"]وبعد[/font]:

    زیرِ نظر کتاب ہمارے ادارہ"[font="al_mushaf"]مکتبۃ عبد اللہ بن سلام لترجمۃ کتب الاسلام[/font]" کی ایک تنہائی فخریہ پیشکش ہے، اس انتہائی اہم اور نافع کتاب کو پی کرتے ہوئے ہم اپنے خالق و مالک کے سامنے اظہارِ شکر کیلئے سربسجود ہیں۔ [font="al_mushaf"]فنحمداللہ تعالیٰ ونشکرہ فبنعمتہ وفضلہ سبحانہ وتعالیٰ تتم الصالحات[/font]۔

    یہ کتاب اصول و فروع کا ایک حسین امتزاج ہونے کے ساتھ ساتھ ، تمام مسائل کو کتاب و سنت و اقوالِ سلف صالحین کی روشنی میں پیش کرنے کا گر انقدر مجموعہ ہے۔

    امام عبد اللہ ابو محمد بن ابی زید القیروانی، جن کا چوتھی صدی ہجری کے محدثین و فقہاء میں شمار ہوتا ہے نے" الرسالۃ" کے نام سے ایک مبسوط کتاب تألیف فرمائی، اس کتاب پر ایک نہایت مختصر مگر جامع مقدمہ تحریر فرمایا ، جو اگرچہ چند سطور پر مشتمل ہے، مگر اس پر علوم و معارف اور معانی و مطالب کا ایک بحرِ زخار موجزن ہے۔

    یہ بات بالکل درست اور مبنی برحقیقت ہے کہ ابن ابی زید نے اصول و فروع کے حوالے سے ان چند سطور کے کوزے میں دریا بند کر دیا ہے۔ اس مختصر مقدمہ کو وقت کے عظیم محدث ، سابق وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی کتبِ کثیرہ و نافعہ کے مؤلف ، فضیلۃ الشیخ عبد المحسن بن حمد العباد حفظہ اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت نفیس اور لطیف شرح کے ساتھ مزین ، منور اور معطر فرمادیا ۔

    شیخ موصوف و محترم نے ہر مسئلہ پر قرآن و حدیث کے دلائل کا انبار لگادیا ہے، نیز جابجا اقوالِ أئمہ سلف کے ذکر سے کتاب کی اہمیت وافادیت کو مزید بڑھا کر اس کے حسن میں چار چاند لگادیئے ۔

    شیخ عبد المحسن بن حمد العباد جو عصرِ حاضر میں منہجِ سلف صالحین اھل الحدیث کے امین و محافظ تصور کیئے جاتے ہیں، تحریر و تقریر میں بڑے نمایاں اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ہمارے اس مؤقف کی پوری پوری تائید کرے گی۔ ہمارا یہ متواضع سا ادارہ جو اپنی تأسیس کا ایک سال مکمل کرچکا ہے، اس لحاظ سے انتہائی منفرد و متمیز ہے کہ اس کے اہداف ومقاصد میں سرِ فہرست موضوع" [font="al_mushaf"]اہتمام بالعقیدۃ السلفیۃ[/font]" ہے ، ہماری اب تک نشر ہونے والی تمام کتب کا بنیادی موضوع عقیدہ ہی ہے، بالخصوص"[font="al_mushaf"] توحید اسماء وصفات[/font]" کے حوالہ سے ہمارے ادارہ کی جہود انتہائی قابلِ قدر اور لائق تحسین وستائش ہیں۔ "[font="al_mushaf"] وذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء[/font]"

    قارئین کرام! اس قدر اہتمامِ عقیدہ سے ہمارا مقصود ، لوگوں کو اس اہم موضوع سے روشناس کرانا ہے، کیونکہ عقیدہ ، دینِ اسلام کی اساس ہے، قبولِ اعمال کا انحصار ، اصلاحِ عقیدہ پر ہے (دیگر شرائط و قیود کی پابندی کے ساتھ ساتھ ) بالخصوص آج کے پرفتن دور میں تو عقیدہ کی معرفت نہایت ہی مؤکدومھم ہے، رسول اللہﷺ نے پر فتن دور میں ان لوگوں کو کامیاب اور فائز المرام قرار دیا ہے جو اس صافی منہج کو سینے سے لگائے بیٹھیں گے جسے اصحابِ رسول اللہ نے پوری زندگی تھامے رکھا"المتمسک یومئذ بما أنتم علیہ لہ أجر خمسین رجلا" گویا یہ کام ، مٹھی میں آگ کا انگارہ دبانے کے مترادف ہے ، لہذا علم و عمل اور بالخصوص عقیدے کی معرفت نہایت ہی اہم اور ضروری امر ہے، ورنہ بمصداقِ حدیث رسول اللہﷺ "[[font="al_mushaf"]یصبح الرجل فیھا مؤمنا ویمسی کافرا ویمسی مؤمنا ویصبح کافرا، یبیع دینہ بعرض من الدنیا[/font]] نہایت ہی خطرناک تلوار ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے ، یعنی پرفتن دو میں انسان صبح کو مؤمن، شام کو کافر، اور شام کو مؤمن اور صبح کو کافر بن جائے گا، دنیا کے معمولی مال، اور گھٹیا عہدوں کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔

    مخرج یہی ہے کہ بندہ علم ، عمل، عقیدہ اور خُلق میں پہاڑ جیسی صلابت و استقامت پر قائم ہو جائے اور کتاب وسنت اور منہج أصحابِ رسول ﷺ و سلفِ صالحین کو سینے سے چمٹا رکھے "[font="al_mushaf"]وماأنا علیہ الیوم وأصحابی[/font]"
    [[font="al_mushaf"]ترکت فیکم ماان اعتصمتم بہ لن تضلوا أبدا کتاب اللہ وسنۃ رسولہ[/font]]
    [font="al_mushaf"]والتوفیق بیداللہ تعالیٰ [/font]۔

    کتابِ ھذا عقیدہ کے اہم مسائل پر مستمل ہے ، اس کی تیاری میں جن احباب نے حصہ لیا سب کا تہہ دل سے ممنون ہوں نیز اضافہ علم و عمل کیلئے دعا گو ہوں۔

    اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو اپنی رضاء کیلئے خاص بنادے، اس کتاب کا نفع عام بنادے، میرے والدین اور جملہ اساتذہ کرام کی مغفرت فرمادے۔

    اس متواضع سی نیکی کو میرے لئے ذخیرہ آخرت بنادے، انہ سمیع قریب مجیب الدعوات ،[font="al_mushaf"] وصلی اللہ علی نبیہ محمد و علی آلہ وصحبہ وأھل طاعتہ أجمعین[/font]۔

    وکتب ذلک/عبد اللہ ناصر الرحمانی
    مدیر:مکتبہ عبد اللہ بن سلام لترجمۃ کتب الاسلام
    [/font]
     
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    مقدمہ از شارح


    مقدمہ از شارح

    [font="al_mushaf"]الحمدللہ رب العالمین، الرحمٰن الرحیم، مالک یوم الدین
    ،[font="al_mushaf"] وأشھد أن لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ[/font]،[font="al_mushaf"] الہ الأولین والآ خرین، وقیوم السموات والأرضین[/font]،[font="al_mushaf"] وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ[/font]،[font="al_mushaf"] سید المرسلین[/font]،[font="al_mushaf"] وامام المتقین[/font]، [font="al_mushaf"]وقائد الغرالمحجلین[/font]، [font="al_mushaf"]المبعوث رحمۃ للعالمین[/font] ، [font="al_mushaf"]صلی اللہ وسلم [/font][font="al_mushaf"]وبارک علیہ[/font]،[font="al_mushaf"] وعلی آلہ الطیبین الطاھرین وعلی من اتبعھم باحسان وسار علی نھجھم الی یوم الدین[/font]۔

    [font="al_mushaf"]أما بعد[/font]:

    تمام تعریفیں، اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، بڑا مہربانی، نہایت رحم کرنے والا ہے، روزِ جزاء کا مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ،، تمام اولین و آخرین کا وہی معبود ہے ، اور آسمانوں اور زمینوں کے نظام کو سہی سنبھالنے والا ہے۔
    اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اسی کے بندے اور رسول ہیں، تمام رسولوں کے سردار ہیں، تمام متقین کے امام ہیں، اس اُمت کے رہبر و رہنما ہیں، جن کے اعضاء و ضوء قیامت کے دن چمک رہے ہونگے، جو تمام جہانوں کیلئے رحمتبنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کیپاکیزہ آل پر ، اور صحابہ کرام جیسی مثالی اور مبارک جماعت پر ، اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے، اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کرام کے ذریعے اپنے دین کو حفاظت اور ظہو ر وغلبہ عطا فرمایا۔
    اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر بھی اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے جو اچھے طریقے سے صحابہ کرام کی اتباع کرتے رہیں اور ان کے منہج کی پیروی کرتے رہیں، قیامت کے قائم ہونے تک۔

    امابعد:

    اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ کی (کئی اعتبار سے) ایک ممتاز اور نرالی شان ہے۔

    1. یہ نہایت صاف ستھرا اور بالکل واضح عقیدہ ہے۔
    2. اس میں ابہام یا پیچیدگی کا کوئی شائبہ تک نہیں۔
    3. یہ مبارک عقیدہ، نصوصِ وحی یعنی قرآن وحدیث سے مستمدومأخوذہے۔
    4. سلف صالحین اسی عقیدہ پر قائم تھے۔
    5. یہ عقیدہ، فطرت کے عین مطابق ہے۔
    6. عقلِ سلیم جو شبہات کے امراض سے پاک ہو، بھی اسی عقیدہ کو قبول کرتی ہے۔

    دوسرے تمام عقائد، شخصیات کی آراء اور متکلمین کے اقوال سے مأخوذ ہونے کی بناء پر ، اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ سے یکسر مختلف ہیں۔ ان میں بُری طرح سے ابہام ، پیچیدگی، خبط اور خلط ہے۔ بھلا یہ فرق کیوں نہ ہو؟ اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جبریل امین کے واسطہ سے، رسولِ اکرمﷺ پر اترا، اور دیگر تمام عقائد ان مبتدعین کی اختراع ہیں جو زمین سے نکلے اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر پانی کے قطرہ سے پیدا کیا۔

    اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ نبیﷺ کی بعثت اور نزولِ وحی کے ساتھ ہی شروع اور ظاہر ہوا جس پر نبیﷺ اور آپ کے اصحابِ کرام قائم رہے ، نیز وہ سب لوگ قائم ہیں جو منہجِ اصحاب رسول ﷺ کے پیروکار ہیں۔

    دوسرے تمام عقائد کا ، زمانہ نبوت میں کوئی وجود نہیں تھا، صحابہ کرام میں سے بھی کسی نے انہیں اختیار نہ کیا، بلکہ ان عقائد کے حاملین میں سے کچھ لوگ ، دورِ صحابہ میں پیدا ہوئے تھے، مگر اکثر ان کے مبارک دور کے ختم ہونے کےب عد پیدا ہوئے ، لہذا یہ سارے عقائد، محدثاتِ امور میں سے ہیں،(جنہیں رسول اللہﷺ نے بدعت کہا،) اور ان سے پوری زندگی ڈراتے رہے۔

    آپﷺ فرمایا کرتے تھے:"[font="al_mushaf"]وایاکم ومحدثات الامور ؛ فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ[/font]"یعنی:"تم نئے نئے امور سے بچو؛ کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے"

    (متکلمین کے عقائداگر حق ہیں تو) یہ بات نہ تو معقول ہے، اور نہ کسی صورت قابلِ قبول کہ حق ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جیسی پاکیزہ جماعت سے مخفی اور اوجھل ہو اور ان لوگوں کو حاصل ہوجائے جو صحابہ کرام کے مبارک زمانہ کے بعد آئے۔

    لہذا ان عقائد میں اگر کوئی بھی خیر کا پہلو ہوتا تو سب سے پہلے یہ صحابہ کرام کو نصیب ہوتے ، لیکن چونکہ یہ عقائد سراسر شر ہیں لہذا اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو ان سے محفوظ رکھا اور بعد میں آنے والوں کو مبتلا فرما دیا۔

    یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ جو نوروحی سے مأخوذ ہے، اور متکلمین کے عقائد جن کا مبنی ٰ لوگوں کی آراء وعقول ہیں، کے درمیان وہی فرق ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوقات کے بیچ ۔
    یہ بالکل وہی بات ہے جو شریعت کے حوالہ سے کی جاتی ہے، یعنی شریعت ِ اسلامی جو انتہائی رفیع القدر اور منزل من اللہ ہے، اور ان گھٹیا وضعی قوانین و دساتیر کہ جنہیں انسانوں نے بنایا، کے مابین وہی فرق ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان۔

    ([font="al_mushaf"]اَأَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ[/font])
    ترجمہ:" کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں، یقین رکھنے والے لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟" (المائدۃ:50)​

    اکثر لوگوں کی عقلوں کو کیا ہو گیا کہ عقیدہ اور شریعت کے تعلق سے اس انتہائی واضح اور روشن حقیقت سے غافل ہیں، وہ انتہائی بہتر چزی کے بدلے ، انتہائی ردی اور گھٹیا چیز خریدے بیٹھے ہیں۔ اے اللہ! جو مسلمان راہِ راست سے گمراہ ہوگئے انہیں سلامتی کے راستے پر چلا دے، انہیں ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف پھیر دے ، بلاشبہ تو سننے والا اور قبول فرماتے والا ہے۔

    علماء سنت نے قدیم و جدید، ہر دور مین ایسی کتب تألیف فرمائی ہیں، جو اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ کی بہترین توضیح شمار ہوتی ہیں، کچھ مختصر ، کچھ مطول۔
    مختصر کتب میں ، امام ابنِ ابی زید القیر وانی المالکی رحمہ اللہ کا اپنے رسالہ پر لگایا ہوا ایک مقدمہ ہے جو سلف صالحین کے منہج کے عین مطابق ، مختصر اور مفید ہے، یہ مقدمہ اصول و فروع کا ایک حسین مرقع ہے، جبکہ اصول و فروع کا ایک ہی کتاب میں جمع ہونا تالیفی دنیا میں ایکن ادر چیز ہے، اس لحاظ سے یہ مقدمہ ایک بہترین تحفہ ہے جو اس شخص کو کہ جو عبادات و معاملات کی فقہ میں مشغول ہے ، فقہ اکبر یعنی عقائد سلف صالحین سے روشناس کراتا ہے۔

    یہ مقدمہ اپنے اختصار اور قلتِ الفاظ کے باوجود عقیدہ سلف صالحین جو عین مطابقِ فطرت ہے اور کتاب وسنت کے نصوص پر مبنی ہے ، کو بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے۔

    یہ مختصر رسالہ اس مشہور مقولہ کی عکاسی اور ترجمانی کرتا ہے:" سلف صالحین کا کلام لفظوں میں کم لیکن برکت میں بہت زیادہ ہوتا ہے، جبکہ متکلمین کا کلام لفظوں میں بہت زیادہ مگر برکت میں میں بہت تھوڑا ہوتا ہے۔"

    مثال کے طور پر اس مقدمہ کا آغاز اللہ تعالیٰ سے چند امور کی نفی جو در حقیقت اللہ تعالیٰ کیلئے اثباتِ کمال کو متضمن ہے، کے ساتھ ہوتا ہے، چنانچہ ابنِ ابی زید اپنے مقدمہ کے آغاز میں فرماتے ہیں:"[font="al_mushaf"]ان اللہ الٰہ واحد لاالٰہ غیرہ، ولا سبیہ لہ، ولا نظیر لہ، ولا ولدلہ،ولاوالدلہ، ولاصاحبۃ لہ، ولا شریک لہ[/font]"

    یعنی:" اللہ تعالیٰ معبودِ حق ہے ، اکیلا ہے، اس کےسوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شبیہ اور نظیر نہیں ہے، نہ ہی اس کی اولاد ہے نہ والد ، نہ اس کی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی شریک"

    اس عبارت میں اللہ تعالیٰ سے جن امور کی نفی مذکور ہے، وہ سب کے سب کتاب وسنت کے نصوص سے مستمد ومأخوذ ہیں۔

    اب ذرا متکلمین کا کلام ملاحظہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کس کس چیز کی نفی کرتے ہیں، آپ کو دکھائی دے گا کہ ان کا کلام تکلف پرمبنی اور ابہام وغموض کے ساتھ متصف ہے، چنانچہ" [font="al_mushaf"]عقائدِ نسفیہ[/font]" کا مؤلف ، اللہ تعالیٰ سے بعض امور کی نفی کرتے ہوئے کہتا ہے:"[font="al_mushaf"]لیس بعرض ، ولا جسم، ولا جوھر، ولا مصور، ولا محدود، ولا معدود، ولا متبعض ولا متجز، ولا مترکب، ولا متناہ[/font]"

    اللہ تعالیٰ سے ان منفی امور کی کتاب وسنت میں کوئی نص وارد نہیں، اور یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں جس صفت کی وحی سے دلیل موجود نہ ہو، اس میں سکوت اختیار کیا جائے، اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر کمال کے ساتھ متصف ہے اور ہر نقص و عیب سے منزہ ہے۔

    پھر ان سلبی اور منفی صفات کو عوام الناس بالکل نہیں سمجھ پاتے، نہ ہی یہ باتیں ان کی سادہ فطرت سے مطابقت رکھتی ہیں، یہ تو متکلمین کا تکلف ہے، جس میں ابہام و غموض کے ساتھ ساتھ حق وباطل کا اختلاط بھی ہے، ہم بطورِ اشارہ ایک ہی نکتہ سے اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہیں:

    مذکورہ عبارت میں اللہ تعالیٰ کے جسم کی نفی ہے، جس کے معنی دو احتمال ہیں:
    چنانچہ اگر جسم سے ایسی ذات مراد ہو جو مخلوقات کے مشابہ ہو تو یہ احتمال لفظاً و معنی باطل اور مردود ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں"[font="al_mushaf"]لَيْسَ كَمِثْلِه شَيْءٌوَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ[/font]"(الشوریٰ:11) اور اگر جسم سےوہ ذات مراد ہے جو قائم بنفسھا ہے، جو تمام مخلوقات سے مباین یعنی جدا ہے اور جو تمام صفاتِ کمال کے ساتھ متصف ہے، تو یہ معنی حق ہے جس کی اللہ تعالیی سے نفی کرنا جائز نہیں ہے، لیکن"جسم" کے لفظ کی اللہ تعالیٰ سے نفی کرنا ضروری ہے؛ کیونکہ یہ لفظ ، معنی حق اور معنی باطل دونوں پر مشتمل ہے۔(لہذا ایسا لفظ جس میں معنی حق کے ساتھ ساتھ معنی باطل کے پائے جانے کا احتمال ہو، اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہوسکتا، البتہ اس لفظ میں پایا جانے والا معنی حق، اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہوگا اور معنی باطل مثفی و مردود ہوگا)

    آپ عنقریب امام مقریزی کا کلام ملاحظہ فرمائیں گے، جس میں وہ صحابہ کرام کے بارہ میں فرماتے ہیں:

    اسی طرح صحابہ کرام نے ان تمام الفاظ وصفات کو جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات ِ کریمہ کیلئے ثابت کیئے ، ثابت وبرقرار رکھے۔ مثلاً: الوجہ(چہرہ) اور الید(ہاتھ) وغیرہ

    اور ان صفات کا اثبات کرتے ہوئے انہوں نے خالق کی مخلوق سے مشابہت و مماثلت کی مکمل نفی کی۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کیلئے صفاتِ ثبوتیہ کا اس طرح اثبات کیا کہ وہ اثبات ہر طرح کی تشبیہ سے پاک تھا، اور صفاتِ نقص کی اس رح نفی و تنزیہ کی وہ تنزیہ تعطیل سے پاک تھی۔

    صحابہ کرام میں سے کسی ایک شخص نے بھی صفاتِ باری تعالیٰ میں سے کسی ایک صفت کی تاویل کرنے کا تعرض وتکلف نہیں کیا ، بلکہ وہ تمام اس عقیدہ پر متفق و مجتمع تھے کہ ان صفات کو جس طرح وارد ہوئی ہیں، اسی طرح ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمدﷺ کی نبوت کے اثبات کیلئے ان کا مستدل کتاب اللہ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔۔۔۔۔ وہ علمِ کلام کی الجھنوں اور فلسفہ کی موشگافیوں سے قطعی ناواقف تھے۔"

    اسی طرح آپ آئندہ صفحات میں ابو مظفر السمعانی کا کلام بھی ملاحظہ فرمائیں گے ، وہ منہجِ متکلمین کا ابطال و افساد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    "اللہ تعالیٰ نے اپنےر سول ﷺ کو تبلیغِ دین کے مشن پر مأمور کیا ہے، اور سب سے مؤکد و محکم چیز جسے پہنچا دینے کا حکم ہے وہ عقیدہ توحید ہے، بلکہ توحید تو اصلِ دین اور اساسِ دین ہے، اور رسول اللہﷺ نے امورِ دین کے تمام اصول ، قواعد اور شرائع ایک نکتہ چھپائے بغیر بیان فرمادیئے، پورے دین میں یہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا کہ رسول اللہﷺ نے متکلمین کے نظریات یعنی جوہر وعرض سے استدلال کی دعوت دی ہو، بلکہ آپﷺ سے اور آپ کے صحابہ سے اس بارہ میں ایک حرف بھی ثابت نہیں۔۔۔۔۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ متکلمین ایک ایسی راہ پر چل نکلے ہیں کہ جو نبی ﷺ اور صحابہ کرام کی راہ سے یکسر مخالف ہے ، اور اس مخالف راہ پر چلنے کیلئے انہوں نے جن اسول و قواعد کا سہارا لیا ہے وہ بالکل نئے اور انکے اپنے اختراع کردہ ہیں۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپنی اس باطل راہ پر چل نکلنے کے بعد انہوں نے سلفِ کو اپنی قدح وطعن کا نشانہ بنالیا، انہیں قلتِ علم و معرفت کا الزام دیا اور ان کے طرق کو مشتبہ قرار دے دیا۔

    ہم تمام لوگوں کو متکلمین کے کلام و مقالات سے بچنے اور دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں ان کی تمام گفتگو کا مبنیٰ ریت کی دیوار کے سوا کچھ بھی نہیں ، جبکہ انکے مقالات آپس میں ہی متضادات و متناقض ہیں۔"

    ابو مظفر السمعانی کا یہ کلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے صحیح بخاری کی شرح، فتح الباری میں" باب قول اللہ تعالیٰ:"[font="al_mushaf"]یَاأَیُّھَا الرَّسُولُ بَلِّغ مَا اّنزِلَ اِلَیکَ مِن رَّبِّکَ[/font]" کے تحت نقل فرمایا ہے ، اس کے بعد حسن بصری کا یہ قو بھی ذکر فرمایا :" لوکان مایقول الجعد حقا لبلغہ النبیﷺا" یعنی:" عقائد میں جو باتیں جعد (بن درھم) کرتا ہے، اگر وہ حق ہوتیں تو نبی ﷺیقینا بیان فرماتے "(فتح الباری:13/504)

    واضح ہو کہ فرقہ جہمیہ اگرچہ جہم بن صفوان کی طرف منسوب ہے ، لیکن اس کا اصل بانی اور مؤسس جعد بن درھم ہی ہے؛ کیونکہ سب سے پہلے اس باطل مذہب کا نشرو اظہار اسی نے کیا ۔ اور میں حسن بصری رحمہ اللہ کے مذکور ہ قول کی بنیاد پر یہ کہتا ہوں : آج اشاعرہ اور دیگر متکلمین صفاتِ باری تعالیٰ کے بارہ میں جو کلام کرتے ہیں اگر وہ حق ہے تو نبیﷺ بھی یقیناً وہ باتیں اپنی امت کو بتاتے۔
    میں نے ابی زید کے اس مقدمہ کی ایسی شرح لکھنے کا فیصلہ کرلیا جو اس کی چمل دمک میں مزید اضافہ کردے اور اس کے مضامین و مشمولات کی مزید تفصیل کردے۔ شرح سے قبل میں نے بطورِ تمہید ، عقیدہ سلف کے حوالے سے دس فوائد ذکر کیئے ہیں۔

    اس مقدمہ کو شیخ احمد بن مشرف الاحسائی المالکی المتوفی ؁ 1285 نے بڑے عمدہ اسلوب سے نظم کردیا تھا، میں نے شرح سے قبل، مقدمہ کی مکمل عبارت، مذکورہ نظم کے ساتھ شاملِ اشاعت کردی ہے۔ میں نے اس شرح کا نام" [font="al_mushaf"]قطف الجنی الدانی شرح مقدمۃ رسالۃ ابن ابی زید القیروانی[/font]" رکھا ہے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ میری اس شرح کو اصل رسالہ کی طرح نافع اور فائدہ مند بنادے، تمام مسلمانوں کو دین میں تفقہ کی توفیق عطا فرماد ے، نیز عقیدہ وعمل میں انہیں سلف صالحین کے منہج پر قائم و دائم رکھے۔ مجھے ہر قسم کی لغزش سے سلامتی عطافرمادے، گفتگو میں صدق اور عمل میں اخلاص جیسی نعمتوں سے مالامال فرمادے، بے شک وہ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔

    [font="al_mushaf"]وصلی اللہ وسلم وبارک علی عبدہ ورسولہ نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔[/font]​
    [/font]
     
  4. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    مؤلف ابن ابی زید القیروانی کے مختصر حالاتِ زندگی


    مؤلف ابن ابی زید القیروانی کے مختصر حالاتِ زندگی

    آپ کا نام عبد اللہ، اور کنیت ابو محمد ہے، ابو زید ان کے والد کی کنیت ہے، جن کا اصل نام عبد الرحمٰن تھا، قیروان ان کا مولد مسکن تھا، اپنے وقت میں ، مالکی مذہب کے اما اور قدوۃ شمارب ہوتے تھے ، انہوں نے امام مالک ی فقہ کو نہ صرف جمع کیا بلکہ بڑے عمدہ پیرائے میں اس کی تشریح بھی کی، ان کا علم انتہائی وسیع اور حفظ و روایت میں کثرت مثالی تھی، ان کی تصنیفات اس ر شاہد ِ عدل ہیں، تحریر وتقریر میں فصاحت نمایاں تھی، جب گفتگو فرماتے تو علم و معرفت کے خزانے لتادیتے، اہل ِ بدعت کا رد کرنا بخوبی جانتے تھے۔ عمدہ قسم کے اشعار بھی کہا کرتےتھے۔

    ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ استقامت ، ورع ، عفت اور تقویٰ کے بڑے أعلیٰ مقام پر فائز تھے، گویا دین و دنیا کی سعادت ورأست کو سمیٹ رکھا تھا۔

    علم و عرفان کے پیاسے، مختلف شہروں اور بستیوں سے دور دراز کا سفر کرکے آپ تک پہنچتے ، آپ کے شاگردوں کی بڑی لمبی فہرست ہے، جو سب کے سب آپ سے خوب محبت رکھتےتھے، آپ کے دور کے اکابر علماء آپ کی قدرومنزلت پہنچانتے تھے، آپ" مالک الصغیر" یعنی" چھوٹے مالک" کے لقب سے معروف تھے۔

    امام قابسی آپ کے بارہ میں فرماتے ہیں:
    وہ امام تھے ، اور دین اور روایتِ حدیث میں انتہائی ثقہ تھے۔ علم ، ورع ، فضل اور عقلِ راسخ، یہ تمام خوبیاں آپ کی ذات میں مجمتع تھیں ، آپ کی شخصیت ان تمام امور میں شہرت کی بناء پر کسی تعارف کی محتاج نہیں۔

    آپ رجوع الی الحق اور انقیاد للحق کیلئے ہمیشہ مستعد اور تیار رہتے ، اپنے شہر کے فقہاء ومشائخ سے تفقہ اور سماعِ حدیث سے فیضیاب ہوتے ، طلبِ علم میں زیادہ تر انحصار و اعتماد ابوبکر بن اللباد اور ابو الفضل القیسی پر فرمایا۔

    جبکہ ایک خلقِ کثیر نے آپ سے فقہ و حدیث میں استفادہ کیا۔ آپ کا سنِ وفات؁ ۳۸۶ھ ہے۔ آپ کی مشہور مؤلفات میں " [font="al_mushaf"]کتاب النوادر
    " اور"[font="al_mushaf"] الزیادات علی المدنۃ[/font]" ہیں، یہ کتاب ایک سو اجزاء سے زائد ہے، اس کے علاوہ" [font="al_mushaf"]مختصر المدونۃ[/font]" بھی آپ کی مشہور کتاب ہے، آخر الزکر دونوں کتابیں فقہ مالکی میں معتمدبہ شمار ہوتی ہیں۔ آپ کی کتب کی مکمل فہرست" الدیباج المذھب لابن فحون المالکی" (ص 136 تا138) میں ملاحظہ فرمایئے، یہ مختصر حالات بھی اسی کتاب سے لئے گئے ہیں۔

    امام ذھبی نے" [font="al_mushaf"]سیر أعلام النبلاء[/font]"(17/10) میں آپ کے ترجمہ کے آغاز میں آپ کے متعلق فرمایا ہے:" [font="al_mushaf"]الامام العلامۃ، القدوۃ الفقیہ عالم أھل العرب[/font]"
    جبکہ آپ نے ترجمہ کے آخر میں فرمایا ہے" اللہ تعالیٰ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے ، آپ عقیدہ میں سلف صالحین کے منہج پر قائم تھے، علمِ کلام کو کچھ نہ جانتے ، نہ ہی تأویل کی باطل روش اپناتے ۔

    ہم اللہ تعالیٰ سے توفیق و ہدایت کا سوال کرتے ہیں۔
    [/font]
     
  5. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    فوائد بین یدی الشرح(شرح سے قبل چند اہم فوائد کا ذکر)

    [font="al_mushaf"]فوائد بین یدی الشرح

    شرح سے قبل چند اہم فوائد کا ذکر

    پہلا فائدہ:
    عقیدہ کے باب میں أھل السنۃ والجماعۃ کا منہج یہ ہے کہ سلفِ صالحین کے فہم کے مطابق کتاب وسنت کی اتباع کی جائے، واضح ہو کہ أھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ کی دلیل پر مبنی ہے، جبکہ اس دلیل کا فہم أصحابِ رسول اللہﷺ کے فہم کے مطابق ہو۔

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    ([font="al_mushaf"]اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ[/font]) (الاعراف:3)
    ترجمہ:" تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو"​

    اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    ([font="al_mushaf"] وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ[/font])
    (الانعام:153)
    ترجمہ:" اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سواس راہ پہ چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہ ہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیز گاری اختیار کرو۔"​

    اور فرمایا:
    ([font="al_mushaf"]فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ[/font])
    (البقرۃ:38)
    ترجمہ:" تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف وغم نہیں"​

    اور فرمایا :
    ([font="al_mushaf"]فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي[/font])
    (طحہ:123)
    ترجمہ:" جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وہ بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا"​

    اور فرمایا:
    ([font="al_mushaf"]وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُه اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا[/font])
    (الاحزاب:36)
    ترجمہ:" اور (دیکھو) کسی مومن مرد عورت کو اللہ اور اسکے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، یاد(رکھو) اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں پڑے گا"​

    نیز فرمایا:
    [font="al_mushaf"](وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا)[/font]
    (الحشر:7)
    ترجمہ:" تمہیں جو کچھ رسول دے، لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ"​

    نیز فرمایا:
    ([font="al_mushaf"]فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِه اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ[/font])
    (النور:63)
    ترجمہ:" جو لوگ حکمِ رسول کی مخالف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب (نہ) پہنچے"​

    حدیثِ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ میں رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    "[font="al_mushaf"]فانہ من یعش منکم بعد فسیری اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء المھد یین الراشدین تمسکوا بھا، وعضوا علیھا بالنواجذ، وایا کم ومحد ثات الامور، فانء کل محدثۃ بدعۃ ، وکل بدعۃ ضلالۃ[/font]"
    ترجمہ: " میرے بعد زندہ رہنے والا شخص بہت اختلافات دیکھے گا، تو اس وقت تم لوگ میری سنت اور خلفاء ِ راشدین کی سنت کے ساتھ چمٹ جانا، اسے مضبوطی سے تھام لینا اور داڑھوں میں دبالینا، اور نئے نئے امور سے بچنا ، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے" (اسے ابوداؤد(4607) اور ترمذی(2676) نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے)

    صحیح بخاری(7280) میں ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:

    "[font="al_mushaf"]کل أمتی ید خلون الجنۃ الامن أبی، قالوا ؛ یا رسول اللہ! ومن یأبی قال؛ من أطاعنی دخل الجنۃ ، ومن عصانی فقد أبی[/font]"
    ترجمہ:"میری پوری امت جنت میں داخل ہوگی علاوہ اس شخص کے جس نے جنت میں داخل ہونے سے خود انکار کردیا ہو، صحابہ نے کہا: یا رسول اللہﷺ جنت میں داخل ہونے سے کون انکار کرسکتا ہے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: " جس نے میری اطاعت کی وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کردیا"

    صحیح مسلم(767) میں جابر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے:
    "[font="al_mushaf"]أما بعد، فان خیرا الحدیث کتاب اللہ، وخیرا الھدی ھدی محمد، وشرالأ مور محدثا تھا، وکل بدعۃ ضلالۃ[/font]"
    ترجمہ:"بے شک سب سے بہترین حدیث کتاب اللہ ہے، اور سب سے بہترین ہدایت اور طیقہ محمد رسول اللہﷺ کا ہے، اور سب سے بد ترین امروہ ہے جو نیا ہو، اور ہر بدعت گمراہی ہے"

    صحیح بخاری (1597) اور صحیح مسلم(1270) میں عابس بن ربیعۃ سے مروی ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ حجرِ اسو د کے پاس آئے اسے بوسہ دیا اور فرمایا: " میں جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو کسی نقصان یا نافع کا اختیار نہیں رکھتے ، اگر میں نے رسول اللہﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔"

    صحیح بخاری (2697) اور صحیح مسلم(1718) میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:"[font="al_mushaf"]من أحدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھورد[/font]"
    ترجمہ: " جو بھی شخص ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز شامل کرے گا جو دین میں نہ ہو تو وہ مردود ہے"
    صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی منقول ہیں:
    "[font="al_mushaf"]من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھورد[/font]"
    ترجمہ: "جس کسی نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا أمر (موافقت ) نہ ہو تو وہ مردود ہے"

    صحیح مسلم کی اس روایت میں زیادہ عموم ہے، کیونکہ پہلی روایت محدِث یعنی بدعت ایجاد کرنے والے کے ساتھ مخصوص ہے، جبکہ دوسری حدیث عام ہے، اس کا اطلاق اس شخص پر بھی ہورہا ہے جو خود کوئی نیا عمل ایجاد کرے اور اس شخص پر بھی جو نیا عمل ایجاد کرنے والے کی تابعداری کرے۔

    مسند احمد(16937) اور سنن ابی داؤد(4597) میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(اور یہ الفاظ مسند احمد کے ہیں) رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    "[font="al_mushaf"]ان أھل الکتابین افترقوا فی دینھم علی ثنتین وسبعین ملۃ، وان ھذہ الأمۃ ستفترق علی ثلاث وسبعین ملۃ یعنی الأھواء، کلھا فی النار الاواحدۃ، وھی الجماعۃ[/font]"
    ترجمہ:"یہود ونصاریٰ اپنے دین کے اندر بہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر فرقوں میں بٹے گی("[font="al_mushaf"]الأھوا[/font]" یعنی خواہشِ نفس کا شکار ہوگی) سب فرقے جہنم میں جائیں گے، ایک کے سوا، اور وہ " الجماعۃ" ہے" (اس حدیث کی تخریج اور شواہد الا رنؤط کے مسند احمد کے حاشیہ میں اس حدیث کے تحت انکی تعلیق پر ملاحظہ کیجئے۔)

    صحیح بخاری(5063) اور صحیح مسلم (1401) میں جنابِ انس رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث کے آخر میں رسول اللہﷺ کا یہ فرمان منقول ہے:
    "[font="al_mushaf"]فمن رغب عن سنتی فلیس منی[/font]"
    ترجمہ:"جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں"

    واضح ہوکہ أھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ کتاب وسنت کی دلیل پر مبنی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معتقدات کا تعلق علمِ غیب سے ہے، اور علمِ غیب کی معرفت وحی یعنی قرآن وحدیث کے بغیر ممکن نہیں، اور کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ میں جو کچھ وارد اور ثابت ہے، عقل ِ سلیم اس کی پوری طرح موافقت کرتی ہے، اور کسی طرح کی کوئی مخالفت نہیں کرتی ، اس موضوع پر شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ کی بڑی جامع کتاب جس کا نام"[font="al_mushaf"] درء تعارض العقل والنقل[/font]" کا مطالعہ کیجئے۔ کتاب وسنت کے نصوص کوسمجھنے کیلٕئے معتمد علیہ، صحابہ کرام ہیں، نیز ان کی طرف سے ملنے والا فہم صائب ، فکر سدید اور علم نافع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں ان تک اللہ تعالیٰ کا جو خطاب پہنچا ان کے معانی ومطالب وہ خوب سمجھ چکے تھے، کیونکہ قرآن حدیث انہی کی زبان میں اترے تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ ان صفات کی کیفیت کا علم بھی اللہ کے سپرد کرنا ضروری تھا، کیونکہ صفات کی کیفیات کا تعلق بھی علمِ غیب سے ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی نہیں جان سکتا ۔ امام مالک رحمہ اللہ کا ایک قول صفات کی کیفیات سے تعلق سے اس منہج ِ صحیحہ کی خوب عکاسی کرتا ہے، چنانچہ ایک مجلس میں ان سے اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کی کیفیت کی بابت پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:

    " اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے، لیکن مستوی ہونے کی کیفیت مجہول ہے، استواء پر ایمان لانا واجب ہے، اور کیفیت کا سوال بدعت ہے"

    شیخ ابو العباس احمد بن علی المقریزی (المتوفی ؁ ۸۴۵ھ) نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے حوالے سے صحابہ کرام کے منہج کی وضاحت فرمائی ہے، چنانچہ اپنی کتاب" [font="al_mushaf"]المواعظ والااعتبار بذکر الخطط والآثار[/font]"(2/356) میں فرماتے ہیں: ( عقائد ِ اہلِ اسلام کی حالت کا ذکر ، ملتِ اسلام کی ابتداء سے لیکر مذہب اشاعرہ کے پھیلنے تک )
    "اللہ تعالیٰ نے جب اہلِ عرب میں سے اپنے نبیﷺ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا بھیجا، تو انہوں نے رب سبحانہ وتعالیٰ کی صفات ، جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں کہ جسے روح الامین آپ کےقلب پر لیکر نازل ہوا تھا، بیان فرمائی تھیں لوگوں کو بتلائیں ، نیز وہ صفات بھی لوگوں کو بتلائیں جو بذریعہ (وحی خفی) اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی تھیں۔ تمام اہلِ عرب کواہ وہ شہری ہوں یا دیہاتی ، نے ان صفات کو سنا لیکن کسی صفت کے معنی کا نبی ﷺ سے سوال نہیں کیا، جیسا کہ ان کا دیگر مسائل مثلا: نماز، زکوٰۃ اور حج وغیرہ میں جو اللہ تعالیٰ کے اوامر ونوا ہی ہیں، کی بابت نبی ﷺ سے سوال کرنا واردو منقول ہے، اور جیسا کہ انہوں نے احوالِ قیامت اور جنت و جہنم کے بارہ میں سوالت کیئے۔۔۔۔ چنانچہ اگر کسی صحابی نے نبیﷺ سے صفاتِ الٰہیہ کے معنی کے متعلق سوال کیئے ہوتے تو وہ یقیناً منقول ہوتے اور نبیﷺ کے جوابات بھی ثابت ہوتے ، جیسا کہ احکامِ حلال و حرام ، ترغیب و ترھیب، احوالِ قیامت اور فتن و ملاحم وغیرہ کے سلسلہ میں ان کے سوالات و استفسارات اور نبیﷺ کے جوابات کے تعلق سے بہت سی احادیث وارد ہیں ، جو کتبِ حدیث : معاجم، مسانید، اور جوامع کے اند ر موجود محفوظ ہیں۔
    احادیث رسول پر مشتمل دفاتر ، اور سلفِ صالحین سے منقول آثار پر گہری نگاہ رکھنےو الا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ کسی صحیح یا ضعیف سند سے، کسی ایک صحابی سے یہ بات ثابت نہیں کہ اس نے نبی ﷺ سے ، رب تعالیٰ کی ذات کے بارہ میں قرآن وحدیث میں وارد صفات میں سے کسی صفت کے معنی کا سوال کیا ہو، حالانکہ صحابہ کرام کے طبقات بھی متنوع تھے اور تعداد بھی کثیر تھی۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ان صفات کا ظاہری معنی سمجھا اور ان پر کلام سے گریز کیا، اور سکوت اختیار کیا۔ بلکہ صحابہ کرام نے تو صفاتِ باری تعالیٰ میں صفاتِ ذات اور صفاتِ فعل کی تقسیم و تفریق بھی نہیں کی، انہوں نے تو تما صفات کو صفات ازلیہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت رکھا ۔ مثلا: صفتِ علم، قدر، حیاۃ، ارادہ ، سمع، بصر، کلام، الجلال، الاکرم،الجود(سخاوت)، انعام، العزۃ اور العظمۃ وغیرہ ان تمام صفات کے بارہ میں ان کا ایک ہی سیاق ِ کلام تھا۔

    اسی طرح صحابہ کرام نے ان تما م الفاظ وصفات کو جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتِ کریمہ کیلئے ثابت کیئے، ثابت وبرقرار رکھے۔ مثلاً: الوجہ(چہر) اور الید(ہاتھ) وغیرہ

    اور ان صفات کا اثبات کرتے ہوئے انہوں نے خالق کی مخلوق سے مشابہت و مماثلت کی مکمل نفی کی۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کیلئے صفاتِ ثبوتیہ کا اس طرح اثبات کیا کہ وہ اثبات ہر طرح کی تشبیہ سے پاک تھا، اور صفاتِ نقص کی اس طرح نفی و تنزیہ کی وہ تنزیہ تعطیل سے پاک تھی۔

    صحابہ کرام میں سے کسی ایک شخص نے بھی صفاتِ باری تعالیٰ میں سے کسی ایک صفت کی تاویل کرنے کا تعرض و تکلف نہیں کیا، بلکہ وہ تمام اس عقدہ پر متفق و مجتمع تھے کہ ان صفات کو جس طرح وارد ہوئی ہیں، اسی طرح ان کے ظاہر پر معمول کیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمدﷺ کی نبوت کے اثبات کیلئے ان کا مستدل کتاب اللہ کے سوی اور کچھ نہ تھا۔۔۔ وہ علمِ کلام کی الجھنوں اور فلسفہ کی موشگافیوں سے قطعی ناواقف تھے۔

    صحابہ کرام کا دور اس پاکیزہ منہج پر گزرا ، حتیٰ کہ انکے آخری دور میں فرقہ قدریہ ظہور میں آیا، جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کی کوئی تقدیر نہیں بنائی ، بلکہ سارا معاملہ "اُنف" (نیا) ہے۔"

    مقریزی نے جو کچھ بتایا واقعۃً مختلف فرقوں کے ظہور سے قبل صحابہ کرام کا یہی منہج صافی تھا، اور حدیث عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ جو قریب ہی گزری ہے میں رسول اللہﷺ نے اسی اختلاف کے ظاہر ہونے کی خبردی اور اس حوالے سے رہنمائی بھی فرمادی ۔ حدیث کا ترجمہ دوبارہ ملاحظہ ہو:

    "میرے بعد زندہ رہے والا شخص بہت اختلافات دیکھے گا ، تو اس وقت تم لوگ میری سنت اور خلفاء ِ راشدین کی سنت کے ساتھ چمٹ جانا ، اسے مضبوطی سے تھام لینا اور داڑھوں میں دبا لینا، اور نئے نئے امور سے بچنا ، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت گمراہی ہے"

    صحابہ کرام کے دور کے بعد ، یا ان کے آخری دور میں عقیدہ کے تعلق سے جو مختلف گروہ اور فرقے ظاہر ہوئے مثلاً: قدریہ، مرجئہ ، یا اشاعرہ ان میں سے کسی کو حق اور صواب کہنا ہر گز معقول نہ ہوگا، بلکہ یقینی اور قطعی طور پر حق تو صرف وہ ہے جس پر اصحاب رسول قائم تھے اور یہ بات کہنے میں ہمیں ادنیٰ سا بھی شک یا تأمل نہیں ہے، ان مذاہب میں اگر کچھ بھی حق ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اسے پہلےہی اختیار کر چکے ہوتے۔ یہ بات عقل میں سماہی نہیں سکتی کہ صحابہ کرام (جن کا ایمان امت کیلئے مثالی قرار دیا گیا ہے) سے حق چھپا لیا جائے اور بعد کے ادوار میں پیدا ہونے والے لوگوں کیلئے وہ خزانہ کھول دیا جائے۔

    حافظ ابن عبد البر نے [font="al_mushaf"]جامع بیان العلم وفضلہ[/font](1/97) میں مشہور تابعی ابراھیم النخعی کا قول نقل کیا ہے، فرماتے ہیں:" تمہارے لیئے (حق کا ) ایسا کوئی ذخیرہ یا خزانہ نہیں ہے جو اس عظیم قوم(صحابہ کرام ) سے تمہاری کسی فضیلت کی بنا پر مخفی رکھا گیا ہو"

    حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں باب قول اللہ تعالیٰ: "[font="al_mushaf"]یَاأَیُّھَا الرَّسُولُ بَلِّغ مَا اّنزِلَ اِلَیکَ مِن رَّبِّکَ[/font]" کی شرح کرتے ہوئے ابو المظفر السمعانی کا بڑا عمدہ اور نفیس کلام نقل کیا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں(13/507)

    "المظفر السمعانی نے اس باب کی آیات واحادیث سے مذہب متکلمین کے فاسد ہونے پر استدلال کیا ہے، چنانچہ متکلمین اشیاء کو جسم، جو ہر اور عرض کی طرف تقسیم کرتے ہیں، ان کے نزدیک جسم سے مراد ہر وہ چیزجو مختلف اجزاء سے مل کر بنے اور جو ہر وہ چیز ہے جو عرض کو اٹھاتا ہے۔ اور عرض وہ چیز ہے جو اپنی ذات پر قائم نہیں ہوسکتی (بلکہ قائم ہونے کیلئے جوہر کی محتاج ہوتی ہے)۔

    اسکے بعد انہوں نے روح کو عرض قرار دیا ہے، اور نتیجۃً ان تمام احادیث کو رد کردیا ہے جن میں روح کے جسم سے قبل پیدا ہونے کا ذکر ہے، نیز ان احادیث کو بھی جن میں عقل کا مخلوقات سے قبل پیدا ہو نا مذکور ہے۔ اور اس سلسلہ میں انہوں نے سارا اعتماد اپنے ظن وتخمین پر اور اپنے افکار و نظریات کے نتائج پر کیا۔۔۔۔ اب وہ نصوصِ شرعی اپنے خود ساختہ نظریات پر پیش کرتے ہیں، جو نصِ شرعی ان نظریات کے موافق ہواسے قبول کرلیتے ہیں اور جو مخالف ہو اسے رد کردیتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو تبلٰغِ دین کے مشن پر مأمور کیا ہے، اور سب سے مؤکدومحکم چیز جسے پہنچادینے کا حکم ہے وہ عقیدہ توحید ہے، بلکہ توحید تو اصلِ دین اور اساسِ دین ہے، اور رسول اللہﷺ نے امورِدین کے تمام اصول ، قواعد اور شرائع ایک نکتہ چھپائے بغیر بیان فرمادیئے ، پورے دین میں یہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا کہ رسول اللہﷺ نے متکلمین کے نظریات یعنی جوہر عرض سے استدلال کی دعوت دی ہو، بلکہ آپﷺ سے اور آپ کے صحابہ سے اس بارہ میں ایک حرف بھی ثابت نہیں۔۔۔۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ متکلمین ایک ایسی راہ پر چل نکلے ہیں کہ جو نبی ﷺ اور صحابہ کرام کی راہ سے یکسر مخالف ہے، اور اس مخالف راہ پر چلنے کیلئے انہوں نے جن اول و قواعد کا سہارا لیا ہے وہ بالکل نئے اور انکے اپنے اختراع کردہ ہیں۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپنی اس باطل راہ پر چل نکلنے کے بعد انہوں نے سلفِ کو اپنی قدح وطعن کا نشانہ بنالیا، انہیں قلتِ علم و معرفت کا الزام دیا اور ان کے طریق کو مشتبہ قرار دے دیا۔

    ہم تمام لوگوں کو متکلمین کے کلام و مقالات سے بچنے اور دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں ان کی تمام گفتگو کا مبنیٰ ریت کی دیوار کے سوا کچھ بھی نہیں ، جبکہ انکے مقالات آپس میں ہی متضادات و متناقض ہیں، ان کے کسی گروہ کا کوئی کلام آپ سنیں تو معاً کوئی دوسرا گروہ اس کی مخالفت کرتا ہوا دکھائی دے گا، تو ان کے سارے مذہب کی حقیقت یہی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مقابل، معارض اور مخاصم ہیں۔

    ان کے مذہب کے قبیح اور فاسد ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ اگر ہم ان کی راہ پر چلتے ہوئے عامۃ الناس کو ان کا مذہب اختیار کرنے کی دعوت دینگے، تو شاید ان سب کا کافر ہونا لازم آجائے، کیونکہ عامۃ الناس تو سیدھی سادھی اتباع کو پہنچانتے ہیں، اور متکلمین کا راستہا ور اسلوب اتنا گنجلگ ہے کہ عامۃ الناس اسے سمجھ ہی نہیں سکتے، صاحبِ نظر ہونا تو بہت دور کی بات ہے، عامۃ الناس کی اختیارِ توحید کی حد اور غایت اسی قدر ہے کہ انہوں نے عقائد دین میں أئمہ سلف کو جس راہ پر چلتے ہوئے پایا اس کو سینے سے چمٹالیا اور دانتوں تلے دبالیا، بڑی سادہ ولی کے ساتھ عبادات واذکار کی مسلسل آدائیگی میں مصروف ہیں اور ان کا منہج شکوک و شبہات سے قطعی پاک ہے، وہ اپنے معتقدات سے دستبردار ہونے کیلئے قطعاً تیار نہیں خواہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائی۔ انہیں یقین کی پختگی اور عقیدہ کی سلامتی مبارک ہو، یہ لوگ سوادِ اعظم اور جمہورِ امت ہیں، اگر انہیں کافر قرار دیا جائے تو پھر اسلام کی بساط کے سمیٹ دیئے جانے اور اس کی بنیادوں کو ڈھادینے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔" واللہ اعلم

    واضح ہو کہ ابو لمظفر کے کلام میں خلقِ عقل کا جو ذکر ہے وہ محلِ نظر ہے، حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے" المنار المنیف" (50) میں خلقِ عقل والی تمام روایات کو موضوع اور مکذوب قرار دیا ہے۔

    ابو الفتح الازدی فرماتے ہیں کہ خلقِ عقل کے بارہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابو جعفر العقیلی اور ابو حاتم ابن حبان نے بھی یہی فرمایا ہے۔ واللہ اعلم

    حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں علماءِ سلف کے ایک بڑی جماعت کے اقوال جمع کیئے ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا بلا تشبیہ ، بلا تحریف اور بلا تعطیل اثبات کیا جائے، پھر اس بات کو ایک عمدہ اور نفیس کلام سے ختم کیا : فرماتے ہیں: (ج13/408،407)

    "بہیقی نے ابو داؤد الطیالسی کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ سفیان ثوری ، شعبہ، حماد بن زید ماد بن سلمۃ، شریک اور ابو عوانۃ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارہ میں تحدید کے قائل تھے نہ تشبیہ کے، وہ صفاتِ باری تعالیٰ پر مشتمل احادیث روایت کرتے لیکن صفات کی کیفیت کے تعلق سے کبھی ایک حرف بھی نہ کہا۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں ہمارا مسلک بھی یہی ہے، اور امام بہیقی فرماتے ہیں : ہمارے اکابرین اسی منہج پر قائم و مستمر ر ہے"

    امام لالکائی نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن الحسن الشیبانی کا یہ قول نقل کیا ہے:
    "مشرق سے لیکر مغرب تک کے تمام فقہاء قرآن پاک اور احادیث صحیحہ میں وارد اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر بلا تشبیہ اور بلا تفسیر ایمان لانے پر متفق ہیں۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کی جہم بن صفوان کے قول سے تفسیر کرنے کی کوشش کرے وہ نبیﷺ اور اصحابِ کرام کے منہج سے خارج ہوگیا اور جماعتِ ھقہ سے علیحدگی اختیار کرلی، کیونکہ وہ شخص رب سبحانہ وتعالیٰ کو معدوم ہونے کے ساتھ متصف قرار دے رہا ہے۔"

    ولید بن مسلم فرماتے ہیں:" میں نے اوزاعی ، مالک ، سفیان ثوری اور لیث بن سعد سے ان احادیث کی بابت پوچھا جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات مذکور ہیں تو ان سب نے جواب دیا: ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات جس طرح وارد ہوئی ہیں اسی طرح بلا کیفیت قبول کرلو۔"

    ابنِ ابی حاتم نے" [font="al_mushaf"]مناقب الشافعی[/font]" میں یونس بن عبد الاعلیٰ سے روایت کی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:" اللہ تعالیٰ کے کچھ اسماء صفات ہیں کسی کے پاس اس کے رد کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور جس شخص نے ثبو تِ حجت کے بعد کسی صفت کا انکار کی وہ کافر ہو گیا، البتہ اقامتِ حجت سے قبل وہ جہل کی بناء پر معذور قرار دیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم عقل ، رؤیت یا تفکیر سے حاصل نہیں ہوتا، لہذا ہم ان صفات کو اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت کریں گے اور تشبیہ کی نفی کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود تشبیہ کی نفی کردی ہے ، فرمایا: ([font="al_mushaf"]لَیسَ کَمثلِہ شَیء[/font]) ترجمہ: " اس کے مثل کوئی چیز نہیں"

    بہیقی نے صحیح سند کے ساتھ احمد بن ابی الحوری کے واسطے سے سفیان بن عینیہ کا یہ قول نقل کیا ہے:

    " اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے اندر جو اپنی صفات بیان کی ہیں، ان کی تفسیر یہ ہے کہ ان کی تلاوت کرو اور پھر خاموش ہو جاؤ"

    اور ابوبکر الضبعی کے طریق سے سفیان بن عینیہ کا یہ قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

    "قولہ تعالیٰ: ([font="al_mushaf"]اَلرَّحمٰنُ عَلَی العَرشِ الستَویٰ[/font])میں اھل السنۃ کا مذہب یہ ہے کہ اسے بلاکیفیت قبول کیا جائے"
    سلفِ صالحین سے اس بارہ میں بے شمار آثار ملتے ہیں اور یہی امام شافع اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا منہج ہے۔

    امام ترمذی رحمہ اللہ اپنی جامع میں نزولِ باری تعالیٰ کے بارے میں حدیث ِ ابی ھریرۃ کے تحت فرماتے ہیں:" اور اللہ سبحانہ وتعالیی اپنے عرش پر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں اپنا یہ وصف بیان فرمایا ہے، بہت سے اہلِ علم نے اس حدیث اور اس جیسی دیگر صفات کے متعلق یہی کہا ہے۔"

    اسی طرح" [font="al_mushaf"]فضل الصدقۃ[/font]" کے باب میں امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    "یہ تمام روایات ثابت ہیں، لہذا ہم ان پر ایمان لاتے ہیں، اور کسی وہم کا شکار نہیں ہوتے، اور نہ ہی اس صفت کی کیفیت کا سوال کرتے ہیں۔ امام مالک، سفیان بن عینیہ اور عبد اللہ بن مبارک سے یہی منقول ہے کہ وہ ان صفات کو بلا کیفیت قبول کرتے تھے، اور اہل السنۃ والجماعۃ کے اہل علم کا بھی یہی قول ہے، البتہ جہمیہ ان صفات کو تشبیہ قرار دیکر انکار کرتے ہیں، اسحٰق بن راھویہ فرماتے ہیں: تشبیہ تو تب ہو جب یوں کہا جائے کہ اس کا ہاتھ ہمارے ہاتھ جیسا اور اس کا سننا ہمارےسننے جیسا ہے"

    سورہ المائدہ کی تفسیر میں امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    "أئمہ کرام فرماتے ہیں: ہم ان احادیث(صفات) پر بلا تاویل ایمان لاتے ہیں۔ ان أئمہ میں سفیان چوری، مالک، ابن عینیہ اور ابن المبارک کے نام قابلِ ذکر ہیں۔"

    حافظ ابن عبد البر فرماتے ہیں:" اہل السنۃ اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات کہ جو کتاب وسنت میں وارد ہیں کے بلا کیف اقرار پر متفق ہیں، البتہ گمراہ فرق جہمیہ ، معتزلہ اور خوارج کا کہنا ہے کہ ان صفات کو ماننے والا مشبہ ہے" ([font="al_mushaf"]فسماھم من أقربھا معطلۃ[/font])

    امام الحرمین"[font="al_mushaf"] الرسالۃ النظامیہ[/font]" میں فرماتے ہیں:

    " صفاتِ باری تعالیٰ کے ظواہر کے بارہ میں علماءِ کرام کے مختلف مسالک ہیں، بعض تو آیات قرآنی اور صحیح احادیث میں وارد شدہ صفات میں تاویل کے قائل ہیں، بلکہ وہ بالا التزام تاویلیں کرتے ہیں۔ جبکہ أئمہ سلف تاویل سے یکسر گریز کرتے ہیں، ان کا منہج یہ ہے کہ ان ظواہر کو ان کے اصلی موارد پر محمول کریں اور معانی (حقیقت و کیفیت) کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں۔ ہمارے نزدیک پسندیدہ رائے اور بہترین عقیدہ و منہج ، أئمہ سلف کی اتباع ہے،کیونکہ اجماع امت کے حجت ہونے پر قطعی دلیلیں موجود ہیں۔ اگر ان طواہر کی تاویل ہی ضروری ہوتی تو أئمہ سلف فروع شریعت سے کہیں بڑھ کر اس کا اہتمام کرتے، لیکن اس کے برعکس صحابہ کرام اور تابعین عظام کا پورا زمانہ صفاتِ باری تعالیٰ میں تاویل کرنے سے گریز کرتے ہوئے گزرگیا تو پھر یہی منہج قابلِ اتباع ہے۔"

    اور تیسرے دور کے مختلف علاقوں کے علماء و فقہاء مثلاً: سفیان ثوری، اوزاعی ، مالک، لیث بن سعد اور ان کے ہم عصر علماء اور ان سے روایت لینے والے بہت سے أئمہ کرام کےا قوال گزر چکے ہیں(ان سب کا منہج صفاتِ باری تعالیٰ کو بلا تشبیہ وتکییف وتاویل قبول کرنے کا تھا)۔

    تو پھر اس منہج پر کیوں نہ اعتماد ویقین کیا جائے جس پر قرونِ ثلاثہ کے علماء متفق تھے، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ صاحبِ، شریعت محمد رسول اللہﷺ نے ان قرونِ ثلاثہ کے متعلق سب سے بہترین قرون ہونے کی شھادت دی ہے۔

    امام الحرمین جوینی کے کلام میں جو یہ بات آئی ہے کہ أئمہ سلف صفات کے معانی کی تفویض کے قائل تھے، درست نہیں۔ أئمہ سلف معانی کی تفویض کے نہیں بلکہ صفات کی کیفیت کی تفویض کے قائل تھے۔ جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ ، جب ان سے استواء علی العرش کی کیفیت کی بابت سوال کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا :" اللہ تعالیٰ کا استواء علی العرش معلوم ہے لیکن کیفیت مجہول ہے ، استواء پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کی کیفیت کا سوال بدعت ہے۔

    [/font]
     
  6. ’’عبدل‘‘

    ’’عبدل‘‘ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2012
    پیغامات:
    118
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    دوسرا فائدہ: وسطیۃ أھل السنۃ والجماعۃ فی العقیدۃ بین فرق الضلال۔

    [font="al_mushaf"]
    الفائدۃ الثانیہ
    وسطیۃ أھل السنۃ والجماعۃ فی العقیدۃ بین فرق الضلال۔

    دوسرا فائدہ:
    أھل السنۃ والجماعۃ کا دیگر گمراہ فرقوں کے مابین وسطیت واعتدال پر قائم رہنا ہمارے نبی محمدﷺ کی امت دیگر امتوں کے مقابلے می وسطیت اور اعتدال پر قائم ہے، چنانچہ یہود ونصاریٰ میں افراط وتفریط کے اعتبار سے بڑا تضاد ہے، یہودیوں نے انبیاء کرام کے حق میں اس قدر ظلم و شیادتی کا مظاہرہ کیا کہ بعض انبیاء کو قتل تک کردیا جبکہ عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم کے تعلق سے ایسا غلوا اختیار کیا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود ٹھہرا دیا، یہ عقیدہ کے اندر ان کے تضاد کی مثال ہے۔ احکام کے اندر افراط وتفریط کے لحاظ سے تضاد کی دلیل یہ ہے کہ یہود اپنی حائضہ عورتوں کے ساتھ کھانا پینا بلکہ قریب بیٹھنا تک بند کردیتے ہیں، جبکہ نصاریٰ نے اس کے برعکس تفریط کا راستہ اختیار کیا ایسی عورتوں کے ساتھ جماع تک کرلیتے تھے۔

    جس طرح امتِ محمدیہ دیگر امتوں کےا فراط وتفریط کے مقابلے میں وسطیت و اعتدال پر قائم ہے، اسی طرح اہلِ السنۃ والجماعۃ اس امت میں بنے ہوئے دیگر فرقوں کے افراط وتفریط کے مقابلے میں وسطیت واعتدال پر قائم ہیں۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

    1- اہل السنۃ والجماعۃ صفاتِ باری تعالیٰ کے مسئلہ میں معطلہ اور مشبہ کی افراط و تفریط کے مقابلے میں طریق وسط پر قائم ہیں، چنانچہ مشبہ نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو قبول تو کیا لیکن اتنی بڑی کوتاہی کے مرتکب ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مخلوق کے ساتھ تشبیہ وتمثیل کے عقیدہ باطلہ کو اپنا بیٹھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور وہ ہمارے ہاتھوں جیسا ہے، اور اس کا چہرہ ہے اور وہ ہمارے چہروں جیسا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدہ سے بہت بلند اور منزہ ہے۔

    اس کے مقابلے میں معطلہ نے خود ہی یہ مفروضہ گھڑ لیا کہ اثباتِ صفات ، تشبیہ کو مسلتزم ہے،لہذا انہوں نے صفات کی تعطیل و انکار کا عقیدہ اپنا لیا، اس طرح وہ بزعم ِ خویش اللہ تعالیٰ کی مشابہت ِ مخلوق سے تنزیہ کررہے ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ اس سے بھی بدترین تشبیہ میں داخل ہوچکے ہیں، اور وہ ہے خالق کی معدومات سے تشبیہ۔۔۔۔ کیونکہ ایسی کسی ذات کا تصور موجود نہیں ہے جو صفات سے خالی ہو۔

    أھل السنۃ والجماعۃ اس افراط وتفریط کے مقابلے میں ایک درمیانی راہ پر قائم ہیں، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا اس طرح اثبات ہو کہ وہ ہر قسم کی تشبیہ و تمثیل سے پاک ہو۔۔۔۔ اور صفاتِ نقص سے اس طرح تنزیہ کی جائے کہ وہ ہر قسم کی تعطیل سے پاک ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ([font="al_mushaf"]لَیسَ کَمِثلِہ شَی ء وَھُوَ السَّمِیعُ البَصِیرُ[/font]) أھل السنۃ والجماعۃ اللہ تعالیٰ کیلئے سمع وبصر کی صفات ثابت کرتے ہیں کیونکہ ان دونوں صفات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیئے ثابت کیا ہے، اس طرح وہ تعطیل وانکار سے بچ گئے، پھر أھل السنۃ والجماعۃ اثباتِ صفات کے ساتھ ستھ تنزیہ کے بھی قائل ہیں اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ، مخلوق کی صفات سے قطعی مماثل و مشابہ نہیں ہیں، چنانچہ مشبہ کے پاس اثبات ہے لیکن تشبیہ کے ساتھ، اور معطلہ کے پاس تنزیہ ہے لیکن تعطیل کے ساتھ، یعنی أھل السنۃ والجماعۃ نے اس تعلق سے ہر دو گروہوں کی خوبی لے لی اور وہ اثبات اور تنزیہ ہے اور ہر دو گروہوں کی برائی سے اپنے آپ کو بچالیا اور وہ تشبیہ اور تعطیل ہے۔

    معطلہ أھل السنۃ والجماعۃ کو مشبہ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں جو جھوٹ پر مبنی ہے؛ کیونکہ ان کے ہاں اثبات کا تشبیہ کے بغیر کوئی تصور نہیں ہے، جبکہ أھل السنۃ والجماعۃ کا کہنا ہے کہ معطلہ کا عقیدہ معبود کی نفی وانکار پر قائم ہے۔

    حافظ ابن ِ عبد البر" [font="al_mushaf"]التمھید[/font]" (7/145) میں فرماتے ہیں:

    "اہل بدعت، جہمیہ، معتزلہ اور خوارج صفاتِ باری تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں اور کسی صفت کو اس کی اصل حقیقت پر محمول نہیں کرتے ، اور وہ اپنے زعم میں صفات کا اقرار کرنے والوں کو مشبہ سمجھتے ہیں، حالانکہ صفاتِ باری تعالیٰ کا اقرار کرنے والے" [font="al_mushaf"]أھل السنۃ والجماعۃ[/font]" انہیں معبود کی نفی وانکار کرنے والا قرار دیتے ہیں"

    امام ذھبی نے ابنِ عبد البر کا یہ قول" [font="al_mushaf"]کتاب العلو[/font]" (6213) میں نقل کرکے اس پر درج ذیل تعلیق لگائی ہے:

    اللہ کی قسم ابنِ عبد البر نے بالکل سچ کہا ہے کیونکہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی صفات میں تاویلیں کرتے ہیں اور انہیں مجاز پر محمول کرتے ہیں وہ رب تعالیٰ کی ذات کی نفی وتعطیل اور اس کے معدوم کے مشابہ ہوے کے عقیدہ باطلہ میں مبتلا ہوگئے، جیسا کہ حماد بن زید کا قول ہے ، فرماتے ہیں: جہمیہ کی مثال اس قوم جیسی ہے جو کہے ہمارے گھر میں کھجور کا درخت ہے، ان سے پوچھا گیا:

    اس کی شاخیں ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔

    اس کی ٹہنیاں ہیں؟ انہوں نے کہا : نہیں۔

    اس میں تازہ پھل اور خوشے ہیں؟ جواب دیا نہیں۔

    اس کا تنا ہے؟ جواب دیا نہیں۔

    تو اس قوم سے یہی کہا جائے گا: تمہارے گھر میں کھجور کا کوئی درخت نہیں۔"

    مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے صفات کی نفی کررہا ہے وہ درحقیقت معبود کی نفی کررہا ہے، اس لئے کہ ایسی کسی ذات کا وجود نہیں جو صفات سے خالی ہو۔ اس لیئے حافظ ابن القیم اپنے قصیدہ نونیہ کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:

    "مشبہ صنم کا پجاری ہے، جبکہ معطل عدم کا ، اور موحد اس الہٰ کی عبادت کرتا ہے، جو واحد و صمد ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے او وہ ذات سمیع و بصیر ہے۔"

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

    "معطل کا دل عدم کے ساتھ معلق ہے، اور وہ احقر الحقیر چیز ہے، جبکہ مشبہ کا دل صنم کے ساتھ معلق ہے جو تصویروں اور اندازوں سے گھڑا اور تراشا جاتا ہے، جبکہ موحد کا دل اس ذات کی پرستش کررہا ہے، جس جیسی کوئی چیز نہیں ہے، اور وہ خوب سننےو الا اور دیکھنے والا ہے"

    2- أھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ افعال ِ عباد کے تعلق سے جبریہ اور قدریہ کے افراط وتفریط کے درمیان واقع ہے۔

    جبریہ ، بندوں سے ہر قسم کے اختیار کی نفی کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بندوں سے جو اعمال وافعال سرزد ہورہے ہیں وہ بلا قصدواختیار سرزد ہورہے ہیں، جس طرح کے درختوں کی شاخوں اور پتوں کی حرکت غیر اختیاری ہے۔ جبکہ قدریہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا انکار کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بندہ اپنے ہر طرح کے افعال کا خود ہی خالق ہے۔ جبکہ أھل السنۃ والجماعۃ، بندے کیلئے اس حدتک مشیئت واختیار ثابت کرتے ہیں جیسے بروئے کار لاکر وہ اجر ثواب یا عذاب وعقاب کا مستحق بنتا ہے، لیکن وہ بندے کو اس مشیئت واختیار میں مستقل نہیں سمجھتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشئیت وارادہ کے تابع قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    ([font="al_mushaf"]لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَــقِيْمَ ، وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ[/font])
    (التکویر:28-29)
    ترجمہ:" (یہ قرآن نصیحت ہے بالخصوص ) اس کیلئے جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے"​

    اور یہ عقیدہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام بندوں اور ان کے تمام افعال کا خالق ہے، جیسا کہ فرمایا:

    ([font="al_mushaf"]وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ[/font])
    (الصافات:96)
    ترجمہ:" حالانکہ تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو، کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے"​

    3- أھل السنۃ والجماعۃ ، وعدووعید کے باب میں مرجئہ اور خوارج و معتزلہ کی افراط وتفریط کے مابین اعتدال کی راہ پر قائم ہیں۔

    مرجئہ کا عقیدہ ہے کہ جس طرح کفر کی حالت میں کی گئی نیکی فائدہ نہیں دیتی ، اسی طرح ایمان کی حالت میں کیئے گئے گناہ کا کوئی نقصان نہیں۔ اس سلسلہ میں ان کا اعتماد صرف نصوص ِوعد پر ہے جبکہ نصوصِ شرعیہ کو انہوں نے مہمل و معطل قرار دے دیا ہے۔ نصوصِ وعد سے مراد ثواب وبشارت پر مشتمل آیات و احادیث ہیں، جبکہ نصوصِ وعید سے مراد وہ آیات و احادیث

    جن میں سزا اور عذاب و عقاب کا ذکر ہے ۔ گویا مرجئہ اس قدر تفریط کا شکار ہیں کہ ان کے نزدیک گناہ کا کوئی نقصان نہیں۔۔۔۔ اس کے برخلاف خوارج و معتزلہ کا افراط ہے، جنہوں نے ایک کبیرہ گناہ کے مرتکب کو دنیا میں ایمان سے خارج قرار دےد یا اور آخرت میں اس کے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنمی ہونے کا عقیدہ اپنا لیا۔ خوارج و معتزلہ نے یہ عقیدہ اختیار کرنے کیلئے نصوصِ وعید پر اکتفاء کرلیا اور نصوصِ وعد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ جبکہ أھل السنۃ والجماعۃ نے نصوص ِ وعد اور نصوص وعید دونوں کو ساتھ ساتھ لیا، ان کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ تو ایمان سے خارج ہے اور نہ آخرت میں مخلد فی النار ہے، بلکہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہوگا چاہے عذاب دے دے اور چاہے معاف فرما دے، اگر عذاب دے گا تو ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھے گا جس طرح کہ کفار کیلئے جہنم کی ہمیشگی ہے، بلکہ اسے جہنم سے بالآ خر نکال کر جنت میں داخل فرمادے گا۔

    4- أھل السنۃ والجماعۃ ، ایمان کے باب میں مرجئہ اور خوارج ومعتزلہ کہ افراط و تفریط کے مابین اعتدال کی راہ پر قائم ہیں۔

    اس سلسلہ میں مرجئہ کی تفریط یہ ہے کہ وہ نافرمان مؤمن کو کامل ایمان تصور کرتے ہیں۔ اور خوارج و معتزلہ کی تفریط یہ ہے کہ وہ نافرمان مؤمن کو ایمان سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اس کےبعد خوارج تو اس کے کافر ہونے کا حکم لگاتے ہیں، لیکن معتزلہ کے نزدیک وہ ایمان سے خارج تو ہے لیکن کفر میں داخل نہیں، بلکہ ایمان و کفر کے درمیان ایک تھکانے پر کھڑا ہے۔

    أھل السنۃ والجماعۃ ، نافرمان مؤمن کو ناقص الایمان تصور کرتے ہیں، اسے نہ تو مرجئہ کی طرح کامل ایمان تصور کرتے ہیں کہ یہ تفریط کا راستہ ہے، اور یہ ہی خوارج و معتزلہ کی طرح ایمان سے خارج قرار دیتے ہیں کہ یہ افراط کا راستہ ہے۔ بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہنے کی بناء مؤمن ہے، اور کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے فاسق ہے، نہ تو اسے ایمانِ مطلق کا پروانہ دیتے ہیں اور نہ ہی اس سے مطلق ایمان کا حکم سلب کرتے ہیں۔

    أھل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ایک بندے کے اندر ایمان اور معصیت اور محبت و بغض کا جمع ہونا ممکن ہے، چنانچہ اس کے اندر موجود ایمان کی بناء پر اس سے محبت کی جائے ، اور اس سے فسق و فجور کے ارتکاب کی بناء پر بغض رکھا جائے۔ محبت وبغض کے اس اجتماع کو بڑھاپے کی مثال سے سمجھ جاسکتا ہے، بڑھاپا انتہائی پسندیدہ بھی ہے اور انتہائی نا پسندیدہ بھی ، پسندیدہ اس وقت جب اس کے مابعد یعنی موت کو دیکھا جائے، اور ناپسندیدہ

    اس وقت جب اس کے ماقبل یعنی جوانی کو دیکھا جائے، جیسا کہ کسی شاعر کا قول ہے:

    [font="al_mushaf"]الشیب کرۃ واکرۃ ان نفارقَہ
    فاعُجب لشی ء علی البغضاءِ محبوب[/font]​

    بڑھاپا نا پسندیدہ ہے لیکن اس سے مفارقت اور بھی ناپسندیدہ ہے(کیونکہ مفارقت کا مطلب موت ہے) لہذا ناپسندیدگی کے باوجود اسے پسند کیئے رہو۔

    5- أھل السنۃ والجماعۃ ، خوارج وروافض کے اندر موجود افراط وتفریط کے مابین مذہبِ اعتدال پر قائم ہیں۔

    چنانچہ افراط یہ ہے کہ انہوں نے علی اور معاویہ رضی اللہ عنھما اور ان کے ساتھ موجود صحابہ کرام کو کافر کہا ، ان سے قتال کیا اور ان کے اموال کو حلال سمھجا۔ دوسری طرف روافض کی تفریط ملاحظہ کیجئے کہ انہوں نے علی، فاطمہ اور انکی اولاد رضی اللہ عنھم کے بارہ میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ انہیں معصوم قرار دینے لگے، اور دوسری طرف تمام صحابہ کو اپنے بغض اور سب و شتم کا نشانہ بنایا۔

    أھل السنۃ والجماعۃ تمام صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں، ان کے ساتھ دوستی اور ولاء قائم کرتے ہیں، اور انہیں انکے اصل مقام و مرتبہ پر فائز سمجھتے ہیں، اور کسی صحابی کے معصوم ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ اس سلسلہ میں امام طحاوی أھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    "ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور کسی کی محبت میں نہ تو افراط و غلو کے قائل ہیں اور نہ ہی کسی صحابی سے بغض وبراء کا نظریہ رکھتے ہیں۔ اور صحابہ کرام کا بغض رکھنے والا اور انہیں کلمہ خیر سے یاد نہ کرنے والا ہمارے نزدیک نفرت و بغض کا مستحق ہے۔ ہم ہمیشہ خیر کے ساتھ صحابہ کا ذکر کرتے ہیں، انکی محبت دین، ایمان اور احسان ہے، جبکہ ان کے ساتھ بغض وعداوت رکھنا کفر ، نفاق اور سرکشی ہے۔"

    امام طحاوی کا یہ فرمان:" ہم رسول اللہﷺ کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں" کا مطلب یہ ہوا کہ أھل السنۃ أصحابِ رسول کے بارہ میں اس جفاء سے پاک صاف اور بری ہیں جس میں روافض و خوارج مبتلا تھے۔ اور ان کا یہ فرمانا: " ہم کسی کی محبت میں افراط و غلو کے قائل نہیں" کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ان سے محبت کے تعلق سے ہر قسم کے غلو سے پاک ہیں۔ چنانچہ ہم ان سے محبت

    کرتے ہیں اس طرح ہم جفاء میں مبتلا نہیں اور اس محبت میں کسی قسم کا غلو روا نہیں رکھتے اس طرح ہم مبتلا ئے غلو بھی نہیں ہیں۔

    واضح ہوکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان امور کو کہ جن میں أھل السنۃ والجماعۃ ، بقیہ فِرَق کے درمیان راہِ اعتدال پر قائم ہیں کو" العقیدۃ الواسطیۃ" میں اجمالاً بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

    "أھل السنۃ والجماعۃ صفاتِ باری تعالیٰ کے بارہ میں أھل تعطیل جہمیہ اور اہل تمثیل مشبھہ کی افراط و تفریط اور افعالِ عباد میں جبریہ اور قدریہ کی افراط و تفریط ، اور وعدووعید کے باب میں مرجئہ اور خوارج کی افراط اور تفریط کے مابین راہِ اعتدال پر قائم ہیں۔"[/font]
     
  8. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    تیسرا فائدہ: عقیدۃ أھل السنۃ والجماعۃ مطابقۃ للفطرۃ۔


    [font="al_mushaf"]الفائدۃ الثالثۃ
    عقیدۃ أھل السنۃ والجماعۃ مطابقۃ للفطرۃ۔

    تیسرا فائدہ:
    تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ فطرت کے مطابق ہے۔

    صحیح بخاری (1385) اور صحیح مسلم(2658) میں (اور یہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں) ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبیﷺ نے فرمایا:"ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔۔۔۔"

    صحیح مسلم (2865) میں عیاض بن حمارالمجاشی ؓ سے مروی ہے،(حدیثِ قدسی) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    "۔۔۔۔۔۔ اور میں نے تو اپنے تمام بندوں کو حنفاء پیدا کیا ہے مگر شیاطین نے ان کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے برگشتہ کردیا ، اور میری حلال کردہ أشیاء کو حرا م کردیا، اور انہیں میرے ساتھ شرک کرنے کا حکم دے دیا، حالانکہ شرک ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے"

    یہ دونوں حدیثیں اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ دینِ اسلام ، دین ِ فطرت ہے، اور أھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ فطرت کے مطابق ہے، یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم(537) میں معاویہ بن الحکم السلمی کی روایت کہ جس میں لونڈی کا قصہ مذکور ہے، چنانچہ معاویہ بن الحکم نے نبی ﷺ سے پوچھا:[کیا میں اسے آزاد کردوں؟ تو نبی علیہ السلام نے (یہ جاننے کیلئے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں) فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ چنانچہ معاویہ فرماتے ہیں: میں لے آیا ، تو آپ ﷺ نے پوچھا: اللہ کہا ں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر ، آپ ﷺ نے پوچھا : میں کون

    ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : اسے آزاد کردو بے شک یہ مؤمنہ ہے۔۔۔۔] اس لونڈی نے اپنی فطرتِ سلیمہ سے یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ آسمان پرہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    ([font="al_mushaf"]ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ ،اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ )[/font]
    (الملک:16-17)
    ترجمہ: " کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں والا تمہیں زمین میں دھنسادے ار اچانک زمین لرزنے لگے۔ یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسادے؟ پھر تو تمہیں معلوم ہوہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا"​

    ان دونوں آیتوں سے بصراحت اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ " [font="al_mushaf"]السماء[/font]" سے مراد یا تو علو یعنی بلندی ہے اور یا " [font="al_mushaf"]فی[/font]" بمعنی" [font="al_mushaf"]علی[/font]" ہے، جیسا کہ قولہ تعالیٰ: ([font="al_mushaf"]وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ[/font]) میں "[font="al_mushaf"]فی[/font]" "[font="al_mushaf"]علی[/font]" کے معنی میں ہے۔ جو لوگ مبتلائے مرض علمِ کلام ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے علو کو علوِ قدرو مرتبہ اور علوِ قہر پر محمول کرتے ہیں(علو ذات نہیں مانتے ) جبکہ أھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علو سے علوِ قدر ، علوِ قہر اور علوذات سب مراد ہیں۔ بعض متکلمین سے ایسی عبارات منقول ہوئی ہیں جن میں وہ یہ اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ" نجات وسلامتی کا راستہ ہماری فلسفیانہ موشگافیاں نہیں، بلکہ ہماری بوڑھی بزرگ خواتین کا عقیدہ ہے جو انتہائی سادہ اور فطرت کے عین مطابق ہے۔"

    شارح الطحاویۃ نے ابو المعالی الجوینی کا ایک کلام نقل کیا ہے جس میں وہ علم کلام کی مذمت کرتے ہوئے : ( اپنی عمر کا ایک طویل حصہ علمِ کلام کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے گزارنے والا یہ شخص بالآ خر) اپنی موت کے وقت کہہ گیا :

    "میں اپنی والدہ کے عقیدہ پر مرتا ہوں"

    یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ:" میں نیشا پور کے بوڑھے بزرگوں کے عقیدہ پر مرتا ہوں" امام رازی جو متلکمین کے سرخیل شمار ہوتے ہیں،" [font="al_mushaf"]لسان المیزان[/font]" (4/427) میں ان کے ترجمہ میں ہے:

    "وہ اصول کلام میں تجرِ علمی کے باوجود کہا کرتے تھے کہ کامیاب تو وہی ہوگا جو عاجائز یعنی بوڑھی خواتین کے سادہ اور مطابقِ فطرت عقیدے کو اپنالے"

    ابو محمد الجوینی جو امام الحرمین کے والد ہیں اپنے اشعری مشائخ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    "جو شخص اتنا کچھ پڑھ لینے کے باوجود اب تک اپنے معبود کی جہت کو نہیں پہنچان پایا، اور ایک بکریاں چرانے والی لونڈی(جس نے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ اللہ آسمان میں ہے) اس سے زیادہ اللہ کو جانتی ہے، تو پھر اس پڑھے لکھے شخص کا دل ہمیشہ اندھیروں اور تاریکیوں میں بھٹکتا رہے گا جو ایمان و معرفت کے انوار سے کبھی منور نہیں ہوسکے گا۔"

    ([font="al_mushaf"]مجموعۃ الرسائل المنیریۃ[/font]"(1/185)"[font="al_mushaf"]طبقات ابن سعد[/font]"(5/374) میں ، صحیح مسلم کی شرط پر جعفر بن برقان سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ایک شخص عمر بن عبد العزیز کے پاس آیا، اور بدعات واھواء کے تعلق سے کچھ باتیں پوچھیں، تو آپ نے فرمایا:

    "ان بڑے بڑے لکھاریوں کے بیچ (خالص الفطرت) بچے اور اعرابی کے عقیدے کو تھام لو، اور اس کے سوا ہر چیز بھول جاؤ"

    امام نووی نے بھی" [font="al_mushaf"]تھذیب الأسماء واللغات[/font]" (2/22) میں یہ قول ان کی طرف منسوب فرمایا ہے۔[/font]
     
  9. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    چوتھا فائدہ:الکلام فی الصفات فرع عن الکلام فی الذات ۔۔۔۔


    [font="al_mushaf"]الفائدۃ الرابعۃ
    الکلام فی الصفات فرع عن الکلام فی الذات والقول فی بعض الصفات کالقول فی البعض الآخر۔

    چوتھا فائدہ:
    صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو ذاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو کی فرع ہے، اور بعض صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو دیگر صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو کی طرح ہے

    أھل السنۃ والجماعۃ اللہ تعالیٰ کیلئے تمام اسماء وصفات جو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول اللہﷺ نے بیان فرمادیئے ، ثابت کرتے ہیں، اور اس طرح ثابت کرتے ہیں جس طرح اس ذات کے جمال وکمال کے لائق ہے۔ اور اثباتِ میں کسی قسم کی تکییف یا تمثیل یا تأویل کا نہ تو ارتکاب کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں روا سمجھتے ہیں۔

    جہمیہ اور معتزلہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تو ثابت کرتے ہیں لیکن صفات کا انکار کرتے ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی فات میں کلام ، اس کی ذات

    میں کلام کی فرع ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات کو بایں طور مانتے ہوکہ وہ ذات مخلوقات کی ذات کے مشابہ نہیں ہے، ویسی ہی اس کی وہ صفات جو کتاب وسنت سے ثابت ہیں انہین اسی طرح مان لینا چاہیئے کہ وہ مخلوقات کی صفات کے مماثل و مشابہ نہیں۔ یعنی ذات کی طرح صفات کو مان لینے میں کیا مانع ہے؟

    اسی طرح اشاعرہ جو اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بلا تاویل مانتے ہیں، لیکن بقیہ صفات میں تأویل کرتے ہیں، ان سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات میں کلام ، دیگر صفات میں کلام ہی کی طرح ہے، جب تم بعض صفات کے بارہ میں یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ انہیں بلا تاویل مان لینا چاہیئے جیسا کہ اس ذات کے لائق ہے، تو بقیہ صفات کے بارہ میں یہ عقیدہ کیوں نہیں رکھتے کہ انہیں بھی بلا تاویل، جیسا اس ذات کے لائق ہے مان لیا جائے؟ ان دونوں قواعد کی مکمل توضیح کیلئے شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کے رسالہ"[font="al_mushaf"]التدمریۃ[/font]" (46،31) کی طرف مراجعت کی جائے۔[/font]
     
  10. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    پانچواں فائدۃ:السلف لیسوا مؤولۃ ولا مفوضۃ


    [font="al_mushaf"]الفائدۃ الخامسۃ
    السلف لیسوا مؤولۃ ولا مفوضۃ​


    پانچواں فائدۃ:
    سلفِ صالحین اسماء وصفات میں نہ تو تاویل کے قائل تھے اور نہ ان کے معنی میں تفویض کے قائل تھے

    یہ بات معلوم ہے کہ سلفِ صالحین ، صحابہ وتابعین ، قرآن و حدیث سے ثابت اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات کو اس طرح مانتے تھے جیسے اس ذات کے جمال و کمال کے لائق ہے، اور اس بارہ میں تشبیہ، تعطیل یا تکبیف کے روا ہونے کے قطعاً قائل نہیں تھے۔۔۔۔ لیکن خلف یعنی بعد میں آنے والوں کا عقیدہ اس کے برخلاف ہے۔ کیونکہ وہ صفاتِ باری تعالیٰ میں تاویلیں کرتے ہیں اور انہیں معنی باطل کی طرف پھیردیتے ہیں۔ اسی طرح مفوضہ کا طریقہ بھی ، سلفِ صالحین کے طریقہ کے خلاف ہے۔

    مفوضہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے معانی کو بھی اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کے قائل ہیں ، یعنی ان کا کہنا ہے کہ ان صفات کا معنی بھی اللہ جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ مؤولہ یعنی تاویل کرنے والا گروہ، مفوضہ کے اس عمل کو سلفِ صالحین کا طریقہ قرار دیتا ہے۔ حالانکہ یہ باطل ہے، سلفِ صالحین صفات کے

    معانی کی تفیویض نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت کی تفویض کرتے تھے۔ جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے، جب ان سے اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کی کیفیت کے بارہ میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:"الاستواء معلوم، والکیف مجھول والایمان بہ واجب، والسؤال عنہ بدعۃ" یعنی اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کا معنی معلوم ہے ، لیکن استواء کی کیفیت مجہول ہے ، لہذا استواء پر ایمان لانا واجب ہے اور کیفیت کا سوال بدعت ہے۔

    ثابت ہوا کہ سلفِ صالحین صفات کے معنی کی تفویض نہیں کرتے تھے ، بلکہ صفات کی کیفیت کی تفویض کرتے تھے ۔ اب جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام کا طریقہ معانی صفات میں تفویض کرنا تھا، وہ تین انتہائی خوفناک گناہوں کا مرتکب بن جاتا ہے:

    1. ایک اس کا سلفِ صالحین کے مذہب سے جاہل ہونا۔

    2. دوسرا اس کا سلفِ صالحین کو جاہل قرار دینا۔

    3. تیسرا اس کا سلفِ صالحین پر جھوٹ باندھنا ۔

    جہاں تک اس کے سلفِ صالحین کے مذہب سے جاہل ہونے کا تعلق ہے، تو اس کی وجہ واضح ہے، امام مالک رحمہ اللہ کا قول جو ابھی گزرا اس سے منہجِ سلف کا صاف پتا چل رہا ہے لیکن یہ شخص سلفِ صالحین کا مذہب جانتا ہی نہیں۔

    جہاں تک اس کا سلفِ صالحین کو جاہل قرار دینے کا تعلق ہے، تو یہ بھی واضح ہے، کیونکہ اس کا یہ کہنا کہ سلفِ صالحین صفات کے معانی کی تفویض کرتے تھے، تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ انہیں صفات کے معانی کا فہم حاصل نہیں تھا، لہذا وہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت پر یہی بات کہنے پر اکتفاء کرلیتے تھے کہ اس کا معنی اللہ ہی جانتا ہے،(اور یہ باطل ہے)

    جہاں تک اس کے سلفِ صالحین پر جھوٹ باندھنے کا تعلق ہے تو یہ بھی واضح ہے کیونکہ اس نے ایک باطل مذہب کو سلفِ صالحین کی طرف منسوب کیا ہے، جس سے وہ بالکل بری تھے۔[/font]
     
  11. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672

    [font="al_mushaf"]الفائدۃ السادسۃ
    کل من المشبھۃ والمعطلۃ جمعوابین التمثیل والتعطیل۔


    چھٹا فائدہ:​
    مشبہ اور معطلہ دونوں نے اپنے اپنے عقیدے میں تمثیل و تعطیل کو جمع کردیا ہے۔

    معطلہ اللہ تعالیٰ صفات کو نہیں مانتے، بلکہ ان کی نفی اور تعطیل کے قائل ہیں۔ ان کا شبہ یہ ہے کہ صفات کے اثبات سے تشبیہ لاذم آتی ہے۔ یہ شبہ اس لیئے پیدا ہوا کہ وہ صفاتِ باری تعالیی کا تصور ، مخلوقات کی صفات کے مشاہدہ کی روشنی میں کر بیٹھے، چنانچہ اس غلط تصور نے انہیں نفیِ صفات اور تعطیل ِ صفات کی وادی میں دھکیل دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک چیز سے بچنے کی کوشش میں اس سے بھی زیادہ بدترین چیز میں پھنس کر رہ گئے، کیونکہ انکے اس باطل عقیدہ کا ماحصل یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ معدومات(جن اشیاء کا وجود نہ ہو) کے مشابہ ہے، کیونکہ ایسی کسی ذات کا تصور ممکن نہیں جو صفات سے خالی ہو۔

    ہم ایک مثال سے وضاحت کرتے ہیں، کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام ثابت ہے جس کا ظاہری معنی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ الفاظ و اصوات کے ساتھ کلام فرماتا ہے(جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے ) اب جہمیہ اور معتزلہ نے بزعمِ خویش اللہ تعالیٰ کے کلام فرمانے کا وہ تصور ذہن میں بٹھالیا جو مخلوق کے طریقہ کلام کے مشابہ ہوگا، پھر اس پر یہ لازم آئے گا کہ جس طرح مخلوق کلام کرنے کیلئے زبان، حلق اور ہونٹوں کی مھتاج ہے اللہ تعالیٰ کیلئے بھی یہ سب ضروری ہوگا۔ اب چونکہ ان کے نزدیک یہ تمام چیزیں مخلوقات ہی میں متصور ہیں ، تو اگر یہ مان لیں کہ اللہ تعالیٰ بھی کلام فرماتا ہے، تو اس کا مخلوقات کے مشابہ ہونا لازم آجائے گا، لہذا انہوں نے صفتِ کلام ہی کا انکار کردیا۔

    جہمیہ نے جو خود ساختہ تصورات کی عمارت تعمیر کی ہے وہ کئی وجوہ سےباطل اور مردود ہے:

    1. اثباتِ صفات اور تشبیہ میں کوئی تلازم نہیں ہے، کیونکہ اثبات یا تو تشبیہ کے ساتھ ہوگا، یا تنزیہ کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کیلئے صفت کے اثبات کا تشبیہ کے ساتھ ہونا باطل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (لَیسَ کَمِثلِہ شَی ء وَھُوَ السَّمِیعُ البَصِیرُ) اب یہاں اللہ تعالیٰ کیلئے صفتِ سمع و بصرثابت ہیں، اور ساتھ ساتھ مشابہت اور مماثلت کی نفی بھی ہے ، اور یہی اللہ تعالیٰ کے جلال و کمال کے

    لائق ہے، اور یہی حق ہے،(لہذا اثباتِ صفت کیلئے لازما تشبیہ کا تصور جہمیہ و معتزلہ کا اپنا پیدا کردہ ہے، جو مردود ہے۔)

    2. دوسری وجہ یہ ہے کہ اثباتِ صفات سے تشبیہ لازم آنے کا ان کا جوزعم ہے، جس کی بناء پر یہ صفات کا انکار کردیتے ہیں، بذاتِ خود ایک بہت بڑے اور بدترین محذور کے پیدا ہونے کا باعث بنتا ہے اور وہ ہے خالق کا معدومات کے مشابہ ہونا ۔ اس کے بارہ میں اہلِ علم کا کچھ تبصرہ گزرچکا ہے، حصوصاً امام ذھبی نے حما د بن زید کے حوالے سے جو کھجور کی مثال بیان کی ہے جس میں کھجور والوں نے اپنے گھر کھجور کا درخت ہونے کا دعویٰ کیا لیکن جب ان سے کھجور کے درخت کی تمام صفات کا پوچھا گیا تو ہر صفت کی نفی کی، جس پر ان سے کہا گیا کہ تمہارے گھر میں کھجور کا درخت نہیں ہے۔ چنانچہ فائدہ نمبر(3) میں اس کی تفصیل موجود ہے(خلاصہ یہ ہے کہ معطلہ نے تشبیہ کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا نکار کیا، تو اس ذات کو صفات سے معطل کرکے معدوم جیسا بنادیا جو ان کے پیدا کیئے ہوئے محذور سے زیادہ محذور ہے)

    3. تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض مخلوقات کا کلام کرنا ثابت ہے اور وہ مخلوقات کے طریقہ کلام سے یکسر مخالف ہے، چنانچہ بکری کی دستی جس میں نبی ﷺ کیلئے زہر ملادیا گیا تھا نے نبی ﷺ سے بات کی اور آپﷺ کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبردی۔(ابوداؤد،1245،1045)

    صحیح مسلم(7722) میں جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: [میں مکہ میں ایک پتھر کو جانتا ہو جو میری بعثت سے قبل مجھے سلام کیا کرتا تھا، میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں]

    یہ دنیا کے اندر بعض مخلوقات کے کلام کرنے کی مثالیں ہیں، آخرت میں بعض مخلوقات کے کلام کی اللہ تعالیٰ نے خبردی ہے، چنانچہ فرمایا:

    ([font="al_mushaf"]الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ[/font] )
    (یس:65)
    ترجمہ:" ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دینگے ان کاموں کی جووہ کرتے تھے"​

    اور فرمایا:

    ([font="al_mushaf"]حَتّىٰٓ اِذَا مَا جَاۗءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ،وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا ۭ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ[/font])
    (فصلت:21،20)
    ترجمہ:" یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کے پاس آجائیں گے ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے قوتِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے، اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاو گے"​

    کیا یہاں یہی کہو گے کہ دستی ، پتھر، ہاتھوں اور پاؤں کا زبان ، حلق اور ہونٹوں کے بغیر کلام ممکن نہیں ہے۔ جب ان مخلوقات کا کلام کرنا ثابت ہے اور وہ بھی اس طرح جو عام مخلوقات کے طریقہ کلام سے مختلف ہے ، تو پھر اللہ تعالیٰ جس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں اس کی صفتِ کلام کو مخلوق کے مشابہ قرار دینے کی کیا ضرورت اور مجبوری ہے؟

    یہاں امر واجب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام برحق ہے، اس کا اثبات واجب ہے، بالکل اسی طرح جس طرح اس کی شانِ کمال وجلال کے لائق ہے۔

    اس تقریر سے ثابت ہوا کہ معطلہ نے تعطیل کے ساتھ ساتھ تشبیہ کا بھی ارتکاب کیا ہے۔

    (یعنی اللہ تعالیٰ کو معدومات تشبیہ دیتے ہیں)

    جس طرح معطلہ نے تشبیہ کا ارتکاب کیا ہے، اسی طرح مشبہ نے تعطیل کا ارتکاب کیا ہے۔ چنانچہ اگر چہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اثبات کیا ہے لیکن اسے مخلوقات کے مشابہ قرار دے دیا ہے۔۔۔۔۔ چنانچہ وہ معطلہ بھی ہوگئے کیونکہ انہوں نے صفات کو اس طرح نہیں مانا جس طرح اللہ تعالیٰ کے لائق ِ شان ہے۔ تو کیوں کہ یہ ماننا خلافِ شریعت ہے لہذا وہ ماننے کے باوجود منکر اور معطل قرار پائے۔[/font]
     
  12. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    ساتواں فائدہ:متکلمون یذ مون علم الکلام ویظھرون الحیرۃ والندم


    [font="al_mushaf"]الفائدۃ السابعۃ
    متکلمون یذ مون علم الکلام ویظھرون الحیرۃ والندم

    ساتواں فائدہ:
    بعض متکلمین کا علم ِ کلام کی مذمت کرنا اور علمِ کلام کے ساتھ تعلق کی وجہ سے حیرت وندامت کا اظہار کرنا۔

    أگک السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہﷺ کی دلیل ، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وارضاھم کے فہم پر مبنی ہے۔ یہ بہت ہی ستھرا، روشن ، واضح اور بین عقیدہ ہے جس میں ابہام یا پیچیدگی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان لوگوں کے برخلاف ، جنہوں نے عقیدہ کے سلسلہ میں عقول پر اعتماد کیا، نقول (یعنی قرآن وحدیث) میں من مانی کی تاویلیں کیں اور مذموم قسم کے علمِ کلام پر اپنے معتقدات کی بناء قائم کردی۔ جبکہ علمِ کلام کے نقصانات سے تو ان لوگوں نے بھی آگاہ کیا جو ایک عرصہ اس علم کے ساتھ منسلک و مبتلیٰ رہے، بلکہ ایک فضول اور بے مقصد کام میں تضییعِ اوقات پر نیز حق تک رسائی حاصل نہ ہونے پر ندامت و خجالت کا اظہار کرتے رہے۔ ان کا انجام کارتحیر ، سر گردانی اور ندامت کے سوا کچھ نہ ہوتا، البتہ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے علمِ کلام کے ترک اور طریقہ سلف کی اتباع کی توفیق دے دی۔ انہوں نے پھر علمِ کلام کی خوب مذمت وشناعت بیان کی۔

    ابو حامد الغزالی رحمہ اللہ جو علمِ کلام میں تمکن و رسوخ میں خوب شہرہ رکھتے تھے، لیکن پھر بالآ خر انہوں نے علمِ کلام کی مذمت کی اور بہت ڈٹ کر مذمت کی، اور گھر کے بھیدی سے بہتر خبر کون دے سکتا ہے؟ وہ اپنی کتاب" [font="al_mushaf"]احیاء علوم الدین[/font]" (92۔91) میں علم کلام کے نقصانات وخطورات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    "جہاں تک علمِ کلام کے نقصانات کا تعلق ہے تو اس کا کام شکوک و شبہات ابھارنا عقائد میں ضعف وضمحلال پیدا کرنا اور وہ جزم و قطعیت جو عقیدہ کا اصل لازمہ ہے کو یکسر زائل کردینا ہے۔ یہ مرض ابتداء ہی سے لاحق ہوجاتا ہے، پھر اتنی پختگی آجاتی ہے کہ رجوع الی الحق کے سلسلہ میں ٹھوس اور قطعی دلیل کا معاملہ بھی مشکوک ہوجاتا ہے، اس حوالے سے لوگوں کے مختلف ذہنی مستوی دیکھنے میں آتے ہیں۔ علمِ کلام کا ایک نقصان تو یہ ٹھہرا کہ یہ اعتقادِ حق میں ضعف اور شکوک پیدا کرتا ہے، دوسری طرف یہ نقصان بھی ہے کہ یہ مبتدعین کے باطل عقائد کے سینوں میں مضبوطی وپختگی کا باعث بنتا ہے، اس طرح کی اولاً ان کے دواعی و محرکات ابھرتے ہیں، پھر رفتہ رفتہ ان عقائدِ باطلہ پر مصرر رہنے کی شدید حرص پیدا ہوجاتی ہے، یہ صرف اس تعصب کی پیداوار ہے جو علمِ کلام کے اصل محور یعنی جدل اور لاحاصل قیل و قال سے جنم لیتا ہے"

    امام غزالی مزید فرماتے ہیں:

    "جہاں تک علمِ کلام کے فوائد کا تعلق ہے تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حقائق کے منکشف ہونے اور ان کی حقیقی معرفت حاصل ہونے کا فائدہ دیتا ہے، لیکن یہ بات انتہائی بعید اور ناممکن ہے ، علمِ کلام اس پاکیزہ مقصد میں ہر گز وفا نہیں کرتا، بلکہ غور کریں تو یہ حقائق کے کشف و معرفت سے زیادہ خبط وضلالت پیدا کرنے کے کردار پر قائم ہے، یہ بات اگر تم کسی محدث سے یا ایسے شخص سے سنو گے جسے تم حشوی کہتے ہو تو شاید تم ان کی مذمت اس گمان پر کرو کہ چونکہ ایک محدث علم ِ کلام سے واقف نہیں ہے اور لوگ جس چیز سے واقف نہ ہوں اس کے دشمن ہوتے ہیں، لیکن تم یہ بات اس شخص سے سنو جو علمِ کلام کو جانتا ہے، اور اس کی اصلیت کو پہچان لینے اور درجہ متکلمین کے انتہائی اور آخری مقام پر ٹکریں مارنے کے بعد اس سے ناراضگی اختیار کرکے اسے ٹھکرادینے کی ٹھان لیتا ہے اور پوری بصیرت کے ساتھ یہ باور کرلیتا ہے کہ علمِ کلام کے ذریعہ معرفت کے حقائق کا راستہ بالکل بند اور مسدود ہے۔ ہاں علمِ کلام بعض امور کے کشف ، ایضاح اور تعریف کا باعث ضرور بنتا ہے، لیکن انتہائی نادر، اور وہ بھی ایسے امور کی جنہیں علمِ کلام میں تعمق کے بغیر بھی سمجھا جاسکتا ہے"

    عقیدہ طحاویہ کے شارح نے غزالی کے علم ِ کلام کی مذمت پر مشتمل اس تبصرے اور دیگر تبصروں کو نقرل کرکے فرمایا ہے(ص:238)

    "امام غزالی جیسی شخصیت کا علمِ کلام کے بارہ میں یہ تبصرہ انتہائی مکمل اور قاطع حجت ہے"

    پھر شارحِ طحاویہ نے بتلایا کہ سلف ِ صالحین علمِ کلام کو ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت سمجھتے تھے جس کی وجہ یہ ہے کہ علمِ کلام ایسے امور پر مشتمل ہے جو جھوٹ اور مخالفت ِ حق پر مبنی ہیں، ان کے یہ امور کتاب و سنت اور ان کے اندر موجود علومِ صحیحہ کے مخالف ہیں۔ اہلِ کلام ان امور کے حصول کیلئے انتہائی سخت اور دشوار گزار راستوں پر چلتے رہے پھر ان امور ، جن کا نفع انتہائی کم ہے کے اثبات کیلئے طویل اور بے مقصد گفتگو کرتے اور لکھتے رہے۔ اب ان کا فلسفہ دبلے پتلے اونٹ کے اس گوشت کی مانند ہے جو پہاڑ کی ایسی چوٹی پر پڑا ہوا ہے جس کا راستہ انتہائی مشکل اور دشوار ہے،

    نہ تو راستہ آسان ہے کہ چوٹی تک بآسانی پہنچا جاسکے نہ اونٹ اتنا فر بہ ہے کہ اس کے گوشت کے لانے کا کوئی فائدہ ہو۔

    اہلِ کلام کے پاس جو چیز سب سے اچھی قرار دی جاسکتی ہ، وہی چیز قرآن پاک میں اس سے کہیں بہتر اور خوبصورت تقریر و تفسیر کے ساتھ موجود ہے۔

    شارحِ طحاویہ مزید فرماتے ہیں: یہ بات ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولﷺ کے بابرکت کلام سے تو شفاء ، ہدایت اور علم و یقین حاصل نہ ہو، مگر ان لوگوں کی تحریروں سے حاصل ہو جائے جو خود بھی حیران و پریشانی کے اتھاہ سمندر میں ہچکولے کھارہے ہیں۔ سنو! ہمارا سب کا فرضِ منصبی یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کے فرامین کو اصل قرار دے دیں، ان کے معانی پر تدبر و تعقل کریں، ہر شرعی مسئلے کی برہان اور دلیل خواہ عقلِ سلیم سے حاصل ہو یا ایسی نقل سے جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول اللہﷺ کی خبر سے ہوا چھی طرح پہچان لیں، پھر اس دلیل کی صحیح دلالت جان لینے کے بعد لوگوں کے اقوال ، جو اس دلیل کے موافق بھی ہوسکتے ہیں اور مخالف بھی، کو اس دلیل پر پیش کیا جائے، اگر ان کی بات رسول اللہﷺ کی بیان کردہ خبر کے موافق ہوتو قبول کرلی جائے، مخالف ہے تو رد کردی جائے۔

    شارح طحاویہ (ص242) میں مزید فرماتے ہیں: ابن رشدا الحفید جو کہ فلاسفہ کے مذہب و مقالات کو سب سے بڑھکر جاننے والا تھا اپنی کتاب" تھافت التھافت" میں لکھتا ہے: (فلاسفہ و متکلمین میں سے ) کسی نے الہٰیات (عقائد) کے بارہ میں کوئی قابلِ اعتبار بات لکھی ہے؟ اسی طرح آمدی جو اپنے دور کی بڑی شخصیت شمار ہوتا تھا بڑے بڑے مسائل میں مجنمہ حیرت بنے کھڑا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ، ساری عمر فلسفہ و کلام میں منسلک رہنے کے بعد آخری عمر میں بہت سے مسائل ِ کلامیہ میں توقف و تحریرکی تصویر بنے دکھائی دیتے اور بالآ خران طریق سے تائب ہو کر رسول اللہﷺ کی احادیث پر ہمہ تن متوجہ ہوگئے اور پھر اسی سلسلہ مبارکہ میں تاحیات مشتغل رہے حتیٰ کہ انتقال کے وقت بھی صحیح بخاری ان کے سینے پر تھی۔

    اسی طرح امام عبد اللہ محمد بنع مر الرازی اپنی[font="al_mushaf"] اقسام اللذات[/font] کے موضو ع پر تحریر کردہ کتاب میں یہ اشعار لکھنے پر مجبور ہوئے:

    ترجمہ: (1) عقلوں کے ہرا اقدام کی انتہاء حیرت اور بندش ہے جبکہ عقلوں کی بنیاد پر دنیاوالوں کی ہر کوشش ناکام و نامراد اور گمراہی ہے۔

    (2) ہماری روحیں ہماری جسموں سے متوحش ونامانوس ہیں، اور ہماری دنیا کاحاصل محض اذیت و وبال ہے۔

    (3) پوری عمر لمبی لمبی بحثوں سے ہمیں سوائے قیل و قال جمع کرنے کے اور کچھ حاصل نہ ہوا۔

    (4) ہم نے کتنی سلطنتیں اور انکے سربراہ دیکھے مگر سب بڑی تیزی سے ہلاکت کا شکار ہو کر گزر گئے۔

    (5) کتنے ہی پہاڑ دیکھے جن کی چوٹیوں کو لوگوں نے سرکیا اب ان میں سے کوئی نہیں بچا جبکہ پہاڑ اپنی جگہ اسی طرح قائم ہیں۔

    امام رازی مزید فرماتے ہیں: میں نےعلم کلام کے طرق اور فلسفی منہج پر بڑا غور وخوض کیا ہوا ہے، لیکن ان میں کسی بیمار کے علاج یا کسی پیاسے کی سیرابی کی کوئی صلاحیت نہیں ہے، مکمل طو ر پر درست راستہ وہی ہے جو قرآنِ مجید ے پیش کردیا ہے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے اثبات میں اللہ تعالیٰ کے یہ فرامین پڑھو!:

    [font="al_mushaf"](اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى)[/font]
    (طحہ:5)
    ترجمہ:" جورحمٰن ہے عرش پر قائم ہے"

    [font="al_mushaf"](اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ)[/font]
    (فاطر:10)
    ترجمہ:" تمام تر ستھرے کلمات اسکی طرف چڑھتے ہیں"​

    جبکہ نفی(صفاتِ نقص) کیلئے ان فرامین کو پڑھو!

    [font="al_mushaf"](لَيْسَ كَمِثْلِه شَيْءٌ)[/font]
    (الشوریٰ:11)
    ترجمہ:" اس کے مثل کوئی چیز نہیں"


    [font="al_mushaf"](وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِه عِلْمًا)[/font]
    (طحہ:110)
    ترجمہ:" مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہوسکتا "​

    آخر میں فرماتے ہیں : میری طرح کا تجربہ جو شخص بھی کرے ا وہ بالآ خر اس نتیجہ پر پہنچے گا جس پر میں پہنچا ہوں(لہذا ان تخرصات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے براہ راست کتاب وسنت کو دل و جان کی بہارو قرار بنا لو)

    شیخ ابو عبد اللہ محمد بن عبد الکریم الشھر ستانی فرماتے ہیں کہ انہوں نے فلاسفہ و متکلمین کے پاس حیرت و ندامت کے سوا کچھ نہیں دیکھا ۔ ان کے دو شعر ملاحظہ کیجئے:

    [font="al_mushaf"]لعمری لقدطفت المعاھد کلھا وسیرت طرفی بین تلک المعالم
    فلم أر الاواضعا کف حائر علی ذقن أو قار عاسن نادم[/font]​

    ترجمہ: قسم سے! میں فلسفہ و کلام کے تما مدارس کی خاک چھان چکا ہوں، مجھے یہاں پر ہر شخص حیرت و ندامت کے بوجھ تلے دبے اپنی ٹھوڑی یہ ہاتھ رکھا دکھائی دیا۔

    ابو المعالی الجوینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    دوستو! علمِ کلام سے کسی قسم کا تعلق جوڑنے کی کوشش نہ کرنا، اس علم کلام نے مجھے جس مقام پر لاکھڑا کیا ہے اگر مجھے پہلے سے اندازہ ہوتا تو میں ہر گز اس کے ساتھ منسلک نہ ہوتا۔

    موت کے وقت فرمایا: میں بڑے تاریک و عمیق سمندر میں داخل ہوگیا اور مسلمانوں اور ان کے پاکیزہ کلام سے پہلو تہی برتتے ہوئے ایک ایسی وادی میں داخل ہوگیا جس سے مجھے وہ روکتے رہے اور اب اگر جوینی کے بیٹے کو پروردگار کی رحمت حاصل نہ ہوئی تو لمبی بربادی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔ اور اب میں اپنی موت کے وقت یہہ اعلان کر رہا ہوں کہ میں اپنی والدہ کے عقیدے پر ہوں، یا یوں کہا: میں نیسا پور کی بوڑھیوں کے سیدھے سادھے عقیدے پر ہوں۔

    شمس الدین خسروشاہی جن کا فخر الدین رازی کے انتہائی خاص شاگردوں میں شمار ہوتا ہے، اپنے ایک دوست سے ملاقات کیلئے گئے، ان سے پوچھا : تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: جو تمام مسلمانوں کا ہے، پوچھا : تمہیں اس عقیدے پر دل کا پورا انشراح اور یقین حاصل ہے؟ دوست نے کہا: بالکل۔ کہا: اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ، اللہ کی قسم! میرا حال یہ ہو چکا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا عقیدہ اپناؤں! اللہ کی قسم مجھے سمجھ نہیں آرہی کیا عقیدہ اپناؤں، اللہ کی قسم مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا عقیدہ اپناؤں! پھر اس قدر روئے کہ پوری داڑھی آنسؤوں سے بھیگ گئی۔

    ابن ابی حدید الفاضل ، جو عراق میں اس مکتب سے تعلق کی شہرت رکھتے ہیں فرماتے ہیں:

    [font="al_mushaf"]فیک یا أغلو طۃ الفکر ھار أمری وانقضی عمری

    سافرت فیک العقول فما ربحت الا أذی السفر

    فلحی اللہ الألی زعموا انک المعروف بالنظر

    کذبوا ان الذی ذکروا خارج عن قوۃ البشر[/font]​

    ترجمہ: (1) اے کج فکری (فلسفہ وکلام) تجھ سے تعلق میں پوری عمر کٹ گئی اور حیرت کے سوا کچھ نہ پایا۔

    (2) تیرے حصول کے خاطر عقلوں نے لمبے لمبے سفر کیئے لیکن سفر کی تھکان واذیت کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔

    (3) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کردے جن کا خیال ہے کہ تو نظر واستدلال کا حق سکھاتی ہے۔

    (4) جنہوں نے یہ کہا جھوٹ کہا، یہ معاملہ تو انسانی طاقت سے باہر ہے(یہاں تو محض اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کے اخبار و فرامین کو قبول کرنا ہی موجبِ عافیت ہے)

    خونجی نے اپنی موت کے وقت کہا: جو کچھ میں نے پڑھا اس کا ماحصل یہ ہے کہ ہر ممکن ، مرجح کی محتاج ہے۔۔۔۔ پھر کہا: محتاج ہونا ایک سلبی و صف ہے۔۔۔ گویا اب جبکہ میں موت کے منہ میں ہوں، علم و معرفت سے بالکل کورا ہوں۔

    علمِ کلام کا ایک اور راہی کہتا ہے: میں اپنے بستر پر لیٹتا ہوں اور لحاف اپنے منہ پر رکھ لیتا ہوں اور مختلف متکلمین کے دلائل میں مقارنہ و مقابلہ شروع کرتا ہوں، فجر طلوع ہوجاتا ہے اور میں کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پاتا۔

    (شارحِ طحاویہ مزید فرماتے ہیں) اب فلاسفہ و متکلمین کو دیکھو کہ اس قوم کا ایک شخص اپنی موت کے وقت نیسا پور کے بوڑھیوں کے مذہب اور عقیدے کو اپنانے کا اعلان کر رہا ہے، گویا وہ موشگافیاں جنہیں"دقائقِ علم" کا نام دیا جاتا تھا، جو بوڑھیوں کے عقیدے کے سراسر خلاف تھیں اور بحث و تمحیص کے بعد جنکی صحت کا قطعی فیصلہ کرلیا جاتا لیکن پھر ان کا فاسد ہونا ثابت ہوجاتا ، یا ان کا صحیح ہونا کبھی ثابت نہ ہوپاتا، آج ان سب کو ٹھکرا چکے ہیں، اور اس عذاب سے بچ نکل کر کس مقام پر کھڑے ہیں؟ ایسے مقام پر جہاں سچے اہل علم کے پیرو کار چھوٹے چھوٹے بچے ، عورتیں اور اعرابی پہلے سے موجود ہیں۔( گویا فلسفہ و کلام کی انتہاء جس مقام پر ہو رہی ہے وہاں سے خالص عقیدہ شرعیہ کی ابتداء ہو رہی ہے)

    امام الحرمین کے والد، ابو محمد الجوینی(علمِ کلام سے اشتغال کی بناء پر) اللہ عزوجل کی صفات کے بارہ میں ایک عرصہ حیرت و اضطراب کا شکار رہے پھر بالآ خر سلفِ صالحین کا مذہب اپنا لیا اور اس تعلق سے اپنے اشعری اساتذہ کو خیر خواہی کا خط بھی لکھا جو" [font="al_mushaf"]مجموعۃ الرسائل المنیریۃ[/font]" (1/187،174) میں شائع ہو چکا ہے۔[/font]
     
  13. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    آٹھواں فائدہ: ھل صحیح أن أکثر المسلمین فی ھذا العصر أشاعرۃ؟


    [font="al_mushaf"]الفائدۃ الثامنۃ
    ھل صحیح أن أکثر المسلمین فی ھذا العصر أشاعرۃ؟​

    آٹھواں فائدہ:
    کیا یہ بات درست ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اشعری مذہب پر قائم ہے؟

    واضح ہو کہ اشعری مذہب کے حاملین، ابو الحسن اشعری کی طرف منسوب ہیں، جن کا نام علی بن اسماعیل تھا، جن کا؁ ۳۳۰ھ میں انتقال ہوا۔ رحمۃ اللہ علیہ

    عقیدہ کے سلسلہ میں ان پر تین دور آئے۔

    پہلا دور و ہ جس میں وہ عقیدہ معتزلہ کے مزہب پر تھے۔ دوسرا دور وہ شمار ہوتا ہے جس میں وہ معتزلہ اور اھل السنۃ کے مذہب کے بین بین عقیدہ رکھتے تھے ۔ تیسرا اور آخری دور وہ شمار ہوتا ہے جس میں وہ اہل السنۃ سلفِ صالحین کے عقیدہ صافیہ کو اختیار کرلتے ہیں ۔چنانچہ انہوں نے اپنی کتاب" الابانۃ" جو ان کی آخری کتاب شمار ہوتی ہے اور اگر بالکل آخری نہیں تو کم از کم آخری کتابوں کی فہرست میں جرور ہے، میں صراحت سے لکھا ہے کہ وہ عقیدہ میں امام اھل السنۃ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مذہب پر ہیں، جو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کیلئے نیز رسول اللہﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے جو اسماء وصفات ثابت کی ہیں ان تمام کو اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے بالکل ویسے ثابت کیا جائے جیسے اس ذات کے لائق ہیں۔۔۔۔ بغیر کسی تکبیف یا تمثیل کے اور بغیر کسی تحریف و تاویل کے۔۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    ([font="al_mushaf"] لَيْسَ كَمِثْلِه شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ[/font])
    (الشوریٰ:11)
    ترجمہ: " اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے"​

    اب امام ابو الحسن الاشعری تو اپنے سابقہ عقیدے سے رجوع کر کے عقیدہ اھل السنۃ والجماعۃ اختیار کرچکے، مگر اشاعرہ ان کے اسی سابقہ عقیدے کو تھامے ہوئے ہیں۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تمام جماعتوں میں اشاعرہ کی تعداد 95% ہے۔۔۔۔ لیکن یہ بات درست نہیں، اور اس کی کوئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔

    1. ایک تو یہ کہ اس طرح کے اعداد وشمار کا تعین ایک انتہائی دقیق قسم کے احصائیہ کی متقاضی ہے، اور ایسا بالکل نہیں ہوسکا، اور معاملہ کالی دعویٰ کی حد تک ہے۔

    2. 95% فیصد تعداد کی اس نسبت کو اگر تسلیم بھی کر لیں تو یہ مذہب اشاعرہ کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہوگی؛ کیونکہ عقیدہ کی صحت وسلامتی کی دلیل کثرتِ تعداد نہیں ہوتی، بلکہ صحت و سلامتی عقیدہ کی دلیل تو اس امت کے سلفِ صالحین یعنی صحابہ کرام اور ان کے پاکیزہ و مبارک منہج کی اتباع ہے۔ پھر سوچنے کی بات ہے کہ چوتھی صدی ہجری میں فوت ہونے والے شخص کا عقیدہ ، جس سے وہ رجوع بھی کرچکا ہے کیسے قابلِ اتباع ہوسکتا ہے؟ اور عقیدے کا معاملہ تو دین میں سب سے اہم ہے، پھر اس انتہائی اہم معاملہ میں حق صحابہ کرام ، تابعین ِ عظام وتبع تابعین سے کیسے مخفی ومحجوب رہا اور ایسی شخصیت پر ظاہر ہوگیا جس کی ولادت بھی خیر القرون کے گزرنے کے لمبے لمبے عرصے بعد ہوئی! اس بات میں کوئی معقولیت ہے!

    3. تیسری بات یہ ہے کہ اشاعرہ کا مذہب تو وہ لوگ اختیار کیئے ہوئے ہیں جنہوں نے یہ عقیدہ اشاعرہ کےعلمی مراکز میں یا پھر اشعری مذہب کے حامل مشائخ سے سیکھا ، جبکہ عوام الناس اور جن کی تعداد بہتر زیادہ ہے، اشعری مذہب کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے ، بلکہ وہ تو اس فطرت پر قائم ہیں جس پر اس لونڈی کا عقیدہ تھا، جو صحیح مسلم کی روایت میں ذکر ہوچکا اور الحمداللہ اھل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ فطرت کے عین مطابق ہے، اس کی کچھ وضاحت فائدہ نمبر 3 میں ہوچکی ہے۔

    [/font]
     
  14. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    نواں فائدۃ: عقیدۃ الأئمۃ الأربعۃ ومن تفقہ بمذاھبھم۔


    [font="al_mushaf"]
    الفائدۃ التاسعۃ
    عقیدۃ الأئمۃ الأربعۃ ومن تفقہ بمذاھبھم۔​


    نواں فائدۃ:
    أئمہ اربعہ اور ان کے مذاہب کے فقہاء کا عقیدہ

    اھل السنۃ کے ائمہ میں سے امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ کے(اسماءِ گرامی بطورِ خاص زکر کیئے جاتے ہیں) ان تمام أئمہ کرام کا عقیدہ وہی تھا جوصحابہ کرام کا اور ان کے منہج پر چلنے والے ان کے اتباع کا تھا۔

    ان أئمہ کے بعد فقہ کی باگ دوڑ سنبھالنے والے علماء فقہاء کے مختلف ذہن سامنے آتے ہیں، کچھ وہ علماء ہیں جو فروعی مسائل میں ان أئمہ کے علم سے استفادہ تو کرتے ہیں لیکن ان کا اصل اعتماد دلیل پر ہوتا ہے، چنانچہ ان کے امام کا جو قول کتاب وسنت کے مطابق ہوتا ہے اسے لے لیتے اور جو قول کتاب وسنت کی دلیل کے خلاف ہوتا ہے اسے چھوڑ دینے کے منہج پر قائم ہیں، ان کا مستند یہ ہے کہ ہمارے اماموں نے یہی وصیت کی ہے(یعنی ہم کو ئی بات کہیں اور کتاب وسنت کی دلیل اس کے خلاف ہو تو ہمارے قول کو دیوار سے دے مارو) ان فقہاءِ کرام نے عقیدہ کے مسائل میں بھی اپنے اپنے ائمہ کے منہج سے پوری پوری موافقت کی۔۔۔ کچھ ایسے حضرات بھی آئے جنہوں نے فروعی مسائل میں اپنے اماموں کی پوری طرح تقلید کی اور ان مسائل کے سلسلہ میں قولِ راجح اور ان کی دلیل معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

    اس طبقہ کے علماء فقہاء میں سے گو بعض علماء نے عقیدہ کے مسائل میںبھی اپنے اماموں کی اتباع کی لیکن بہت سے علماء نے ان مسائل میں اشعری مذہب کی اتباع کرلی(یعنی فروعی مسائل میں اپنے امام کی تقلید میں اتنی شدت کی گویا وہ معصوم ہیں، بلکہ بعض اوقات انکے قول کو قبول کرلیا اور اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کی پروانہ کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیا اور پسِ پشت ڈال دیا، لیکن جب اعتقادی مسائل کا معاملہ آیا جو فروعی مسائل سے کہیں اہم ہیں تو ان میں اپنے اس امام کو بھی چھوڑ دیا اور اشاعرہ کے مذہب سے منسلک ہوگئے۔)

    پہلی قسم میں ہم مثال کے طور پر امام ابو جعفر الطحاوی کا نام پیش کرتے ہیں، جن کا تفقہ تو مذہبِ حنفی پر ہے لیکن عقیدہ کے اعتبار سے سلفِ صالحین صحابہ کرام کے منہج پر قائم ہیں، چنانچہ انہو نے " العقیدۃ الطحاویۃ" کے نام سے اھل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ پر مشتمل کتاب بھی لکھی ہے، اسی طرح اس کتاب کے شارح علی بن ابی العزالحنفی کا نام بھی بطورِ مثال پیش کیا جا سکتا ہے، جو فقہی اعتبار سے تو حنفی تھے لیکن عقیدۃً سلفی تھے۔

    مزہبِ شافعی میں عبد الرحمٰن بن اسماعیل الصابونی صاحبِ کتاب" عقیدۃ السلف والصحاب الحدیث" ، امام ذہبی صاحبِ کتاب" العلو" اور ابن کثیر صاحبِ تفسیر کا نام بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔

    مذہبِ مالکی میں ابن ابی زید القیروانی ، ابو عمر الطلمنکی اور ابو عمر بن عبد البر کے نام ، جبکہ مذہب حنبلی میں امام ابن تیمہ، امام ابن القیم اور امام محمد بن عبد الوہاب رحمہم اللہ کے نام پیش کیئے جا سکتے ہیں۔

    حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب" [font="al_mushaf"]الصواعق المرسلۃ علی الجھمیۃ المعطلۃ
    " میں ان لوگوں کے رد میں جو اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کے عقیدہ میں استواء کا معنی استیلاء کرتے ہیں(42) وجوہات ذکر فرمائی ہیں(" [font="al_mushaf"]مختصر الصواعق المرسلۃ[/font]" لابن الموصلی بھی ملاحظہ کرلیجئے)

    حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ بہت سے مالکی علماء عقیدہ میں مذہبِ سلف پر قائم تھے، چنانچہ کتابِ مذکور میں ان 42 وجوہات کے ذکر کے ضمن میں فرماتے ہیں(2/136،132)

    بارھویں وجہ: سلفِ امت کا اس بات پر اجماع قائم ہے کہ اللہ رب العزت اپنے عرش پر حقیقۃ مستوی ہے نہ کہ مجازاً۔ امام ابو عمر الطلمنکی جو مالکی مذہب کے أئمہ میں سے ہیں اور حافظ ابو عمر ابن عبد البر کے شیخ ہیں اپنی عظٰم الشان کتاب" [font="al_mushaf"]الوصول الی معرفۃ الأصول[/font]" میں فرماتے ہیں : اھل السنۃ کا اس عقیدہ پر اجماع قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مجازاً نہیں بلکہ حقیقۃً مستوی ہے۔۔۔ اس بات پر انہوں نے اپنی کتاب میں صحابہ کرام ، تابعینِ عظام اور تبع تابعین اور پھر امام مالک اور ان کے بہت سےا صحاب و تلامذہ کے اقوال پیش کیئے ہیں، جو شخص بھی ان اقوال کو پڑھے گا وہ مذہب سلف کی حقیقت پالے گا۔

    تیرھویں وجہ: امام ابو عمر ابن عبد البر اپنی کتاب" [font="al_mushaf"]التمھید[/font]" میں حدیثِ نزول کی شرح میں فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان کے اوپر انے عرش پر مستوی ہے" الجماعۃ" کا یہی قول اور تقریر ہے۔۔۔ مزید فرماتے ہیں: اھل السنۃ، قرآن و حدیث میں وارد اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے اقرار پر متفق ہیں نیز ان صفات پر ایمان لانے ، اور انہیں ان کی حقیقت پر محمول کرنے( نہ کہ مجاز پر) پر متفق ہیں، البتہ وہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کی تکییف یا تحدید کے قائل نہیں ہیں۔ جبکہ بدعتی گروہ مثلاً: جہمیہ، معتزلہ اور خوارج سب کے سب صفاتِ باری تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو حقیقت پر محمول نہیں کرتے، بلکہ ان صفات کا اقرار کرنے والے کو مشبہ ہونے کا الزام دیتے ہیں، حالانکہ یہ لوگ خود صفات باری تعالیٰ کا اقرار کرنے والے اھل السنۃ کے نزدیک معبود حق کی نفی و انکار کرنے والے قرار پاتے ہیں۔

    ابو عبد اللہ القرطبی اپنی معرکۃ الآرا ء تفسیر میں قولہ تعالیٰ: ([font="al_mushaf"]اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰی[/font]) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس مسئلہ میں فقہاء نے کلام کیا ہے۔ اس کے بعد متکلمین کے اقوال نقل فرماتے ہیں ۔ پھر فرمایا: سلفِ امت کی پہلی جماعت (صحابہ کرام) اللہ تعالیٰ کی جہت کی نفی کے قائل نہیں تھے(جہتِ علو مراد ہے) نہ ہی انہوں نے کبھی نفی جہت کی بات کی بلکہ ان تمام نے اللہ تعالیٰ کیلئے جہت کے ثابت ہونے کی بات کی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ، اور جس کی اللہ تعالیٰ کے رسل نے بھی خبر دی ۔ اورسلفِ صالحین میں بھی اس با کا کوئی منکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ علی سبیل الحقیقۃ اپنے عرش پر مستوی ہے۔۔۔ بس وہ جس چیز سے نا آشنا تھے وہ استواء علی العرش کی کیفیت ہے، جیسا کہا مام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے، لیکن مستوی ہونے کی کیفیت نا معلوم ہے۔

    چودھویں وجہ: جب جہمیہ نے اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کو مجاز پر محمول کیا ، تو اھل السنۃ نے ببانگِ دہل اس حقیقت کا اعلان و اظہار کیا کہ اللہ رب العزت اپنی ذات کے ساتھ اپنی عرش پر مستوی ہے، اور سب سے زیادہ شدومد کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کرنے والے علماءِ مالکیہ تھے، چنانچہ علماءِ مالکیہ میں سے ابو محم دبن ابی زید نے اپنی تین کتابوں میں اس مسئلہ کی صراحت کی ۔ سب سے مشہور کتاب"[font="al_mushaf"] الرسالۃ[/font]" ہے پھر ان کی کتاب" [font="al_mushaf"]جامع النوادر[/font]" اور" [font="al_mushaf"]الآداب[/font]" ہیں ، اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ان کی یہ کتب موجود ہیں۔ نیز قاضی عبد الوہاب نے بھی اس حقیقتِ باصواب کی وضاحت کی ، وہ فرماتے ہیں۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ بذاتہ اپنے عرش پر مستوی ہے ۔۔۔ نیز قاضی ابو بکر الباقلانی جو مالکی المذہب تھے نے بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا ، ان کا قول قاضی عبد الوہاب نے نصاً نقل فرمایا ہے، نیز مالکی مذہب کے بہت بڑے امام ابو عبد اللہ القرطبی اپنی کتاب " شرح اسماء اللہ الحسنی" میں اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ابوبکر الحضر می نے محمد بن جریر الطبری ، ابو محمد بن ابی زید اور فقہ و حدیث کے بہت سے شیوخ کا یہی قول نقل فرمایا ہے، جبکہ قاضی عبد الوہاب نے قاضی ابو بکر اور ابو الحسن الأشعری سے جو کچھ بھی نقل فرمایا اس کا ظاہر بھی یہی ہے، بلکہ قاضی عبد الوہاب نے قاضی ابوبکر کا یہ قول نصاً ذکر کیا ہے کہ" اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ اپنے عرش پر مستوی ہے" اور بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے: کہ" وہ ذاتِ حق اپنی پوری حلق کے اوپر ہے۔"

    پھر فرمایا: یہ قول قاضی ابوبکر کا" [font="al_mushaf"]تمھیدالأوائل[/font]" میں ہے اور یہی قول ابو عمر بن عبد البر اور اور الطلمنکی و دیگر الندلسی(مالکی) علماء کا ہے اور یہی خطابی کا قول ہے۔

    ابوبکر محمد بن موھب المالکی رسالہ ابن ابی زید کی شرح میں فرماتے ہیں: مؤلف(یعنی ابن ابی زید) کا یہ فرمانا کہ" [font="al_mushaf"]انہ فوق عرشہ المجید[/font]" یعنی" اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ اپنے عرش عظیم پر ہے"، تو واضح ہو کہ "فوق" اور "علی" کا تمام عرب کے نزدیک ایک ہی معنی ہے، اور کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ میں بھی اس معنی کی تصدیق موجود ہے، پھر بطورِ تمثیل کتاب

    وسنت کے بعض نصوص کا حوالہ دیا، نیز لونڈی کی حدیث سے بھی استدلال کیا جس سے نبیﷺ نے پوچا تھا]این اللہ؟] اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا :[فی السماء] آسمان پر ہے، اس بات پر نبیﷺ نے اس لونڈی کے مؤمنہ ہونے کی گواہی دی۔ اس کے بعد انہوں نے نبیﷺ کے معراج پر جانے کی حدیث سےبھی استدلال کیا۔ پھر فرمایا : یہی قول امام مالک کا ہے جسے انہوں نے تابعین کی ایک جماعت سے سمجھا ، جسے تابعین نے صحابہ کرام سے سمجھا، اور جسے صحابہ کرام نے اپنے نبیﷺ سے سمجھا، یعنی اللہ تعالیٰ کے "[font="al_mushaf"] فی السماء[/font]" آسمانوں میں ہونے کا معنی آسمان کے اوپر ہونا ے۔۔۔۔ شیخ ابو محمد فرماتے ہیں:" اللہ تعالیٰ بذاتہ اپنے عرش پر ہے" اس قول سے واضح ہوا کہ اللہ رب العزت کا عرش کے اوپر ہونے کا معنی یہی ہے کہ وہ بذاتہ عرش پر ہے البتہ وہ اپنی خلق سے بالکل بائن(جدا) ہے جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔ اور ان کا کائنات میں ہر مقام پر ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے ساتھ پر مقام پر ہے نہ کہ اپنی ذات کے ساتھ، پھر یہ جگہیں اور مقامات اسے گھیر بھی نہیں سکتیں کیونکہ وہ سب سے بڑا ہے۔

    ابوبکر محمد بن موھب المالکی مزید فرماتے ہیں : مؤلف رحمہ اللہ کا فرمانا" عل العرش استوی" یعنی" وہ عرش پر مستوی ہے" کا معنی اھل السنۃ کے نزدیک محض استیلاء یعنی غلبہ پانا یا قاہر و مالک ہونا نہیں ہے ، یہ تو معتزلہ اور ان کے ہمنواؤں کی تفسیر ہے، اور بعض لوگ استواء مانتے ہیں لیکن علی اسبہل المجاز نہ کہ علی اسبیل الحقیقۃ۔ پھر فرماتے ہیں : تھوڑی سی عقل و بصیر ت رکھنےو الا شخص بھی ان کے استواء علی العرش ا استیلاء و غلبہ کے معنی کے فساد کو سمجھ سکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اپنی پوری مخلوق پر غالب و مستوی ہے، پھر خاص طور پر عرش پر غالب ہونے کا کیا معنی؟ اگر استواء علی العرش کا معنی صرف غلبہ اور استیلاء ہے تو پھر عرش وغیرہ عرش برابر ہوں گے۔ چنانچہ استواء علی العرش جو ان کی تاویلِ فاسد میں استیلاء ، ملک، غلبہ اور قہر کے معنی میں ہے کے ذکر کا کوئی معنی نہیں بنتا (کیونکہ استیلاء، غلبہ ، قہر اور ملک تو اس ذاتِ بر حق کو اپنی پوری مخلوقات پر حاصل ہے) اللہ تعالیٰ کے فرمان : ( [font="al_mushaf"]وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا[/font] ) ترجمہ: (بات میں اللہ تعالیی سےسچا کون ہوسکتا ہے؟) پر بھی اگر غور کریں تو یہ بات آشکار ا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا برسبیلِ حقیقت ہے، مجاز نہیں۔ چنانچہ بنظرِ انصاف دیکھنے والے سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نےا ٓسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ وہ عرش پر

    مستوی ہوگیا، تو اگر مستوی ہونے کا معنی غلبہ حاصل کرنا ہے تو کیا اسے آسمانوں اور زمینوں کا غلبہ حاصل نہیں ہے! پھر استواء علی العرش کی تخصیص چہ معنی دارد؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان سب سے سچا ہے، لہذا ہم اس کے مستوی علی العرش ہونے کو مجاز پر نہیں بلکہ حقیقت پر محمول کرتے ہیں، البتہ استوا کی تکییف اور تمثیل سے توقف اختیار کرتے ہیں ، یعنی نہ تو اس ذاتِ حق کے استواء کی کیفیت بیان کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ نے بیان ہی نہیں فرمائی، اور نہ ہی حق تعالیٰ کے استواء کو کسی مخلوق کے استواء سے تشبیہ دیتے ہیں کیونکہ اس کا فرمان ہے:" اس جیسی کوئی چیز نہیں"

    پندرہویں وجہ: ابو الحسن الأشعری نے خود استواء کے بمعنی استیلا ء ہونے کے باطل ہونے پر اھل لسنۃ کا اجماع نقل کیا ہے، ہم بعینہ انہی کی عبارت تحریر کیئے دیتے ہیں جسے ابو القاسم بن عسا کرنے اپنی کتاب" تبیین کذب المفتری" میں ان کے حوالے سے بیان کیا ہے، بلکہ ان سے قبل ابوبکر بن فورک بھی ان سے اسی عبارت کو نقل کرچکے ہیں جو کہ ان کی کتب میں موجود ہے، فرماتے ہین کہ ابو الحسن الأشعری اپنی کتاب" الابانۃ" جو کہ ان کی آخری کتاب ہے میں فرماتے ہیں :" باب ذکر الاستواء" یعنی اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کابیان (اس باب کے تحت لکھتے ہیں) اگر کوئی شخص پوچھے کہ اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کے باب میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ ہم کہیں گے: بالکل وہی جو قرآن مجید نے بیان کردیا : ([font="al_mushaf"]اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰی[/font]) کہ" وہ رحمٰن اپنے عرش رپر مستوی ہے"(اس کےب عد استواء علی العرش کے مزدی ادلہ بیان کیں)

    پھر فرمایا: معتزلہ ، جہمیہ اور خوارج کہتے ہیں کہ استواء سے مراد استیلاء یعنی غلبہ پانا اور مالک ہونا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کو تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ اھلِ حق تسلیم کرتے ہیں، لہذا استواء علی لعرش کا معنی عرش پر قدرت پانا کرتے ہیں۔ اگر یہ بات درست مان لیں تو پھر عرش اور سب سے نچلی ساتویں زمیں میں کیا فرق ہے؟ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے اور آسمان زمین اور ہر چیز اس عالمَ کا حصہ ہیں۔ تو اگر اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستویہونے کا معنی غلبہ اور قدرت پانے کا ہے، تو پھر اسے زمین اور زمین پر موجود ہر گندگی کے ڈھیر پر بھی مستوی مان لو، کیونکہ قدرت تو اسے ہر چیز پر حاصل ہے، کیا کسی مسلمان کو کسی نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ حشوش وأخلیہ(یعنی بیت الخلاء اور گندگی کے ڈھیروں) پر مستوی ہے ؟ تو پھر استواء علی العرش جو کہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے اسے ایک

    ایسے معنی پر کیسے محمول کیا جا سکتا ہے جو معنی ہر چیز میں عمومیت کے ساتھ موجود ہے؟

    لہذا یہ بات حتمیت کے ساتھ متعین ہوگئی کہ اس ذاتِ حق کے عرش پر مستوی ہونے کا ایک خاص معنی ہے و دیگر کسی شئ میں نہیں پایا جاتا ۔
    [/font]
    [/font]
     
  15. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    دسواں فائدۃ: التأ لیف فی العقیدۃ علی منھج السلف۔


    [font="al_mushaf"]الفائدۃ العاشرۃ
    التأ لیف فی العقیدۃ علی منھج السلف۔

    دسواں فائدۃ:
    عقیدے کے موضو ع پر سلفی منہج کے مطابق تصنیف کردہ کتب کا بیان

    عقیدہ کے موضوع پر سلفی منہج کی حامل بے شمار کتب ہین کچھ مؤلفات تو مستقل ہیں جو بطور ِ خاص عقیدے کے موضوع پر لکھی گئیں، جبکہ کچھ کتب ایسی ہیں جو عقائد کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل پر بھی مشتمل ہیں، جو کتب عقائد کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل پر بھی مشتمل ہیں ان میں ہم بطورِ مثال: صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ ذکر کرتے ہیں۔

    صحح بخاری کا پہلا عنوان کتاب الایمان ہے اور آخری کتاب التوحید ہے، اثناءِ کتاب میں عقیدے کے تعلق سے اور عنوانات بھی ہیں مثلاً: کتاب القدر، کتاب الانبیاء اور کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ وغیرہ۔

    صحیح مسلم کا بھی پہلا عنوان کتاب الایمان ہے نیز کتاب القدر کا عنوان بھی موجود ہے ، اسی طرح سننِ اربعہ میں بھی عقیدہ کے تعلق سے کتاب الایمان کے نام سے عنوانات موجود ہیں، جبکہ سنن ابو داؤد میں اس حوالہ سے کتاب السنۃ کے نام سے عنوان قائم کیا گیا ہے۔۔۔۔

    جو کتب کا ملا و مستقلا عقیدہ کے موضوع پر تالیف کی گئیں ان کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ کتب جو متقدمین کے طریقہ پر ہیں اور دوسری وہ کتب جو متأخرین کے طرزِ تألیف پر مشتمل ہیں۔

    متقدمین کے طرز پر لکھی گئی کتب سے مراد وہ کتب ہیں جو موضوع سے متعلق احادیث وآثار سند کے ساتھ پیش کردیتی ہیں، متقدمین میں عقیدے سے متعلق لکھی گئی کتب کئی ناموں سے سامنے آتی ہیں، مثلا: " [font="al_mushaf"]کتاب الایمان[/font]" ، " [font="al_mushaf"]کتاب السنۃ[/font]"[font="al_mushaf"] کتاب الرد علی الجھمیۃ[/font]" وغیرہ۔

    کتاب " [font="al_mushaf"]الایمان[/font]" کے نام سے لکھی گئی کتب میں "[font="al_mushaf"] الایمان لأبی بکر ابن أبی شیبۃ[/font]" ، اور " [font="al_mushaf"]الایمان لا بی عبدی القاسم بن سلام[/font]" اور " [font="al_mushaf"]الایمان لابن ابی عمر العدنی[/font]" اور " [font="al_mushaf"]الایمان لابن مندہ[/font]" وغیرہ معروف نام ہیں۔

    جبکہ "[font="al_mushaf"] السنۃ[/font]" کے نام سے عقیدہ کے موضوع پر لکھنے والوں میں محمد بن نصر المروزی، ابی عاصم عبد اللہ بن امام احمد، لالکائی، خلال اور ابن شاہین وغیرہ معروف ہیں، اس کے علاوہ ابن ابی زمینین نے " [font="al_mushaf"]اصو ل السنۃ[/font]" لکھی ، مزنی اور بربہاری نے" [font="al_mushaf"]شرح السن[/font]ۃ" جبکہ ابن البنا نے " [font="al_mushaf"]المختار فی اصول السنۃ[/font]" کے نام سے کتاب لکھی۔

    " [font="al_mushaf"]الرد علی الجھمیۃ[/font]" کے نام سے امام احمد، عثمان بن سعید الدارمی اور ابن مندہ کی کتب موجود ہیں۔

    عقیدے کے موضوع پر علماءِ متقدمین کی دیگر ناموں سے بہت سی کتب موجود ہیں، مثلاً : حافظ ابنِ خزیمہ کی " [font="al_mushaf"]کتاب التوحید[/font]" ، اور ابنِ مندہ کی " [font="al_mushaf"]کتاب التوحید[/font]"، آجری کی کتاب " [font="al_mushaf"]الشریعۃ[/font]" اسماعیل الاصبھانی کی" [font="al_mushaf"]الحجۃ فی بیان المحجۃ[/font]"، صابونی کی " [font="al_mushaf"]عقیدہ السلف واصحاب الحدیث[/font]" امام بخاری کی" [font="al_mushaf"]خلق افعال العباد[/font]" ، ابن ابی شیبہ کی کتاب" [font="al_mushaf"]العرش[/font]" ، فریابی کی کتاب" [font="al_mushaf"]القدر[/font]" ، ابو الشیخ کی کتاب" [font="al_mushaf"]العظمۃ[/font]" ، امام دار قطنی کی کتاب" [font="al_mushaf"]الرؤیۃ[/font]"،" [font="al_mushaf"]النزول[/font]" اور " [font="al_mushaf"]الصفات[/font]" ، محمد بن نصر المروزی کی" [font="al_mushaf"]تعظیم قدر الصلاۃ[/font]، ابو داؤد کی " [font="al_mushaf"]البعث والنشور[/font]" ، ابو نعیم کی" [font="al_mushaf"]صفۃ الجنۃ والنار[/font]" اور " [font="al_mushaf"]الرد علی الرافضۃ[/font]" ، ھروی کی" [font="al_mushaf"]ذم الکلام وأھلہ[/font]" اور ابنِ بطۃ کی" [font="al_mushaf"]الابانۃ الکبری[/font]" وغیرہ۔

    متقدمین و متأخرین کی کچھ کتب ایسی بھی ہیں جو اسانید کو ذکر کیئے بغیر انتہائی اختصار کے ساتھ عقیدہ کے مسائل بیان کرنے پر اکتفاء کرتی ہیں، ان میں امام احمد بن حنبل کی کتاب"[font="al_mushaf"] السنۃ[/font]" ، امام طحاوی کی"[font="al_mushaf"] عقیدۃ أھل السنۃ والجماعۃُ[/font]" ، ابنِ ابی زید کا مقدمہ ، ابنِ جریر الطبری کی " [font="al_mushaf"]صریح السنۃ[/font]" ابوبکر اسماعیلی کی" [font="al_mushaf"]اعتقاد أھل السنۃ[/font]" ابنِ بطۃ کی" [font="al_mushaf"]الابانۃ الصغری[/font]"، ابو الحسن الأشعری کی" [font="al_mushaf"]الابانۃ[/font]" ، عبد الغنی کی " [font="al_mushaf"]عقیدۃ الحافظ[/font]" ابن قدامۃ المقدسی کی" [font="al_mushaf"]لمعۃ الاعتقاد[/font]" اور" [font="al_mushaf"]العلو[/font]" شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی" [font="al_mushaf"]عقیدۃ الواسطیۃ[/font]" ، " [font="al_mushaf"]التدمریۃ[/font]" اور " [font="al_mushaf"]الحمویۃ[/font]" معرو ف ہیں۔

    متأخرین کے طریقہ پر تألیف سے مراد یہ ہے کہ پر موضوع الگ سے قائم کر کے اس سے متعلق آیات ، احادیث اور آثار ذکر کیئے جائیں اور ساتھ ساتھ مخالفین کے عقیدہ پر رد بھی کردیا جائے، جب وہ احادیث و آثار

    کاذکر کرتے ہیں تو انہیں متقدمین کی کتب کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ہر حدیث کو اس کی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں مثلاً: یوں کہتے ہیں: رواہ البخاری، ومسلم ، وابوداؤد اور حدیث کی سند ذکر نہیں کرتے (کیونکہ وہ اصل کتاب میں موجود ہوتی ہے)

    مثال کے طور پر یحیٰ عمرانی کی کتاب"[font="al_mushaf"] الانتصار فی الرد علی المعتزلۃ القدریۃ الأشرار[/font]" ابن ابی العزالحنفی کی کتاب" [font="al_mushaf"]شرح العقیدہ الطحاویہ[/font]"، شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب " [font="al_mushaf"]منھاج السنۃ[/font]" انہی کی " درء تعارض العقل والنقل" اور " [font="al_mushaf"]کتاب الایمان[/font]"، امام ذہبی کی کتاب " [font="al_mushaf"]العلو[/font]" ، حافظ ابن القیم کی کتاب"[font="al_mushaf"] اجتماع الجیوش الاسلامیۃ[/font]" اور " [font="al_mushaf"]الصواعق المرسلۃ علی الجھمیۃ والمعطلۃ[/font] " اور محمد بن الموصلی کی کتاب" [font="al_mushaf"]مختصر الصواعق المرسلۃ[/font]" اور شیخ الاسلام محمدبن عبد الوہاب کی"[font="al_mushaf"] کتاب التوحید[/font]" ان کے پوتے شیخ اسلیمان بن عبد اللہ کی کتاب" [font="al_mushaf"]تیسیر العزیز الحمید شرح کتاب التوحید[/font]" اور ان کے دوسرے پوتے شیخ عبد الرحمٰن بن حسن کی تکاب " [font="al_mushaf"]فتح المجید[/font]" وغیرہ۔ یہ شند کتابوں کے نام ہم نے محض تمثیلا نقل کیئے ہیں، تمام کتب کا اس مختصر میں احاطہ ممکن نہیں ہے۔

    واضح ہو کہ بعض مبتدعین نے کتبِ سنت پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ ان کتابوں میں ضعیف بلکہ موضوع احادیث بھی ذکر کی گئی ہیں۔

    یہ اعتراض مردود ہے، کیونکہ ان محدثین نے تمام احادیث ان کی اسانید کے ساتھ ذکر کی ہیں اسانید ذکر کے وہ بری الذمہ ہوگئے، اب اس حدیث پر نظر و استدلال کی ذمہ داری پڑھنے پڑھانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔

    شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے " [font="al_mushaf"]منھاج السنۃ[/font]" (4/15) میں فرمایا ہے کہ محدثین کی یہ عادت ہے کہ وہ ہر باب میں وہ تمام احادیث ذکر کردیتے ہیں جو ان کے پا س موجود ہوتی ہیں تاکہ ان تمام احادیث (اور ان کی اسانید) کی پڑھنے والوں کو معرفت حاصل ہو جائے ، اور یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ان کے نزدیک کچھ احادیث ہی قابلِ استدلال واحتجاج ہوں۔

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ایک محدث کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ اپنے مشائخ سے جس حدیث کو سنتا ہے اسےاسی طرح بکمالِ امانت روایت کر دے ، اب تحقیق، نظر اور استدلال کی ذمہ داری تو پڑھنےو الوں پر عائد ہوتی ہے۔۔۔۔ اور اہل علم فعلا تمام احادیث کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں اور حدیث کی سند کے ایک ایک راوی پر پوری بحث کرتے ہیں۔

    حافظ ابن حجر" [font="al_mushaf"]لسان المیزان[/font]" (3/15) میں فرماتے ہیں: گزشتہ ادوار میں سے 200ھجری اور اسکے بعد کے بیشتر محدثین کا طریقہ یہی ہے کہ جب وہ حدیث کو اس کی سند کے ساتھ ذکر کردیں تو اپنے خیال میں وہ پوری امانت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داری کا حق ادا کرکے بری الذمہ ہوچکے ۔
    (واللہ اعلم)[/font]
     
  16. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    نص مقدمۃ رسالۃ أبن أبی زید القیروانی

    [font="al_mushaf"]
    نص مقدمۃ رسالۃ أبن أبی زید القیروانی

    باب ماتنطق بہ الألسنۃ وتعتقدہ الأفئدۃ من واجب أمور الدینات

    من ذلک الایمان بالقلب والنطق باللسان أن اللہ الہ واحد لاالہ غیرہ ولا شبیہ لہ، ولا نظیرلہ، ولا ولدلہ، ولا والدلہ، ولاصاحبۃ لہ، ولا شریک لہ۔

    لیس لأولیۃ ابتداء ، ولا لآ خریتہ انقضاء ، لا یبلغ کنہ صفتہ الواضفوان، ولا یحیط بأمرہ المتفکرون، یعتبرا المتفکرون بآ یاتہ، ولا یتفکرون فی ماھیۃ ذاتہ،وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِه اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُه حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ ۔

    العالم لاخبیر، المدبر القدیر، السمیع البصیر، العلی الکبیر، وأنہ فوق عرشہ المجید بذاتہ وھو فی کل مکان بعلمہ۔

    خلق الانسان ویعلم ماتوسوس بہپ نفسہ، وھو ۰قرب الیہ من حبل الورید، وما تسقط من ورقۃ الایعلمھا، ولا حبۃ فی ظلمات الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین۔

    علی العرش استوی، وعلی الملک احتوی ، ولہ الأسماء الحسنی والصفات العلی، لم یزل بجمیع صفاتہ وأسمائہ ، تعالیٰ ان تکون صفاتہ مخلوقۃ وأسمائہ محدثۃ۔

    کلم موسی بکلامہ الذی ھو صفۃ ذاتہ لا خلق من خلقہ، وتجلی للجبل فصار دکا من جلالہ وان لاقرآن کلام اللہ لیس بمخلوق فیبید ولا صفۃ لمخلوق فیفند۔

    والا ایمان بالقدر خیرہ وشرہ حلوہ ومرہ، وکل ذلک قدر قدر اللہ ربنا، ومقادیر الامور بیدہ ومصدر ھا عن قضائہ۔

    علم کل شئ قبل کونہ، فجری علی قدرہ لایکون من عبادہ قول ولا عمل الاوقد قضاہ وسبق علمہ بہ(ألایعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر) ۔

    یضل من یشاء، فیخذلہ بعدلہ ، ویھدی من یشاء فیو فقہ بفضلہ ، فکل میسر بتسیرہ الی ماسبق من علمہ وقدرہ ، من شقی او سعید۔

    تعالیٰ ان یکون فی ملکہ مالایرید، أو یکون لاحد عنہ غنی، خالقا لکل شئ،ألا ھورب العباد ورب اعمالھم ، والمقدر لحر کاتھم وآجالھم۔

    الباعث الرسل الیھم الاقامۃ الحجۃ علیھم۔

    ظم ختم الرسالۃ والنذارۃ والنبوۃ بمحمد تنبیہ وجعلہ آخر المرسلین، بشیرا ونذیرا، وداعیا الی اللہ باذنہ وسرا جامنیرا، وأنزل علیہ کتابہ الحکیم، وشرح بہ دینہ القویم، وھدی بہ الصراط المستقیم۔

    وان الساعۃ اتیۃ لاریب فیھا وان اللہ یبعث من یموت کما بدأھم یعودون ، وان اللہ سبحانہ وتعالیٰ ضاعف لعبادہ المؤمنین الحسنات، وصفح لھم بالتوبۃ عن کبائر السیئات ، وغفرلھم الصغائر باجتناب الکبائر، وجعل من لم یتب من الکبائر صائرا الی مشیئتہ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهوَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ )۔

    ومن عاقبہ اللہ بنارہ أخرجہ منھا بایمانہ فأدخلہ بہ جنتہ(فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ) ویخرج منھا بشفاعۃ النبیﷺ من شفع لہ من ھل الکبائر من امتہ۔

    وأن اللہ سبحانہ قد خلق الجنۃ فأعد ھا دار خلود لاولیائہ وأکع مھم فیھا بالنطر الی وجھہ الکریم، وھی التی أھبط منھا آدم نبیہ وخلیفتہ الی أرضہ بما سبق فی سابق علمہ۔

    وخلق النار فأعدھا دار خلود لمن کفر بہ وألحد فی آیاتہ وکتبہ ورسلہ وجعلھم محجوبین عن رؤیتہ۔

    وأن اللہ تبارک وتعالیٰ یجیء یوم القیامۃ والملک صفا صفاً ، لعرض الأمم وحسابھم وعقوبتھا وثوابھا، وتوضع الموازین لوزن أعمال العباد، فمن ثقلت موازینہ فأولئک ھم المفلحون، ویؤتون صحائفھم بأعمالھم، فمن أوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا، ومن أوتی کتابہ وراء ظھرہ فأولئک یصلون سعیرا۔

    وأن الصراط حق، یجوزہ العباد بقدر أعمالھم، فناجون متفاوتون فی سرعۃ النجاۃ علیہ من نار جھنم، وقوم أوبقتھم فیھا أعمالھم۔

    وأن الایمان قول باللسان ، واخلاص بالقلب وعمل بالجوارح، یزید بزیادۃ الأعمال، وینقص بنقصھا ، فیکون فیھا النقص وبھا الزیادۃ، ولا یکمل قول الایمان الا بالعمل، ولا قول وعمل الابنیۃ ، ولا قول وعمل ونیۃ الا بموافقۃ السنۃ۔

    وأنہ لایکفر أحد بذنب من أھل القبلۃ۔

    وأن الشھداء أحیاء عند ربھم یرزقون ، وأرواح أھل السعادۃ باقیۃ ناعمۃ الی یوم یبعثون، وأرواح أھل الشقاوۃ معذبۃ الی یوم الدین۔

    وأن المأمنین یفتنون فی قبورھم ویسألون (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ )

    وأن علی العباد حفظۃ یکتبون أعمالھم، ولا یسقط شیء من ذلک عن علم ربھم ، وأن ملک الموت یقبض الأرواح باذن ربہ۔

    وأن خیر القرون القرن الذی رأوارسول اللہﷺ وآمنوا بہ، ثم الذٰن یلونھم ثم الذین یلونھم۔

    وأفضل الصحابۃ الخلفاء الراشدون المھدیون ؛ أبوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی اللہ عنہم أجمعین۔

    وأن لا یذکر أحد من صحابۃ الرسول ﷺ الا بأحسن ذکر، والا مساک عما شجر بینھم، و۰أنھم أحق الناس أن یلتمس لھم أحسن المخارج، ویظن بھم احسن المذاھب۔

    والطاعۃ الأئمۃ المسلمین من ولاۃ أمور ھم وعلمائھم ، واتباع السلف الصالح واقتفاء آثارھم، والا استغفار لھم، وترک لمراء والجدال فی الدین وترک مااحدثہ المحدثون۔

    وصلی اللہ علی سیدنا محمدنبیہ، وعلی آلہ أزواجہ وذریتہ ، وسلم تسلیما کثیراً۔
    [/font]


    متن کا ترجمہ

    یہ باب دین کے امور کے بیان میں ہے جن کا اقرار تمام زبانوں پر، اور اعتقاد تمام دلوں پر فرض ہے۔

    ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ دل کے ساتھ ایمان ، اور زبان کے ساتھ اقرار کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ: معبود ِ حق ہے، اکیلا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شبیہ اور نظیر نہیں ہے، نہ ہی اس کی اولاد ہے نہ والد، نہ اس کی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی شریک۔

    اس کی اولیت کی کوئی ابتدا ء نہیں ، اور اس کی آخریت کی کوئی انتہاء نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرنے والے اس کی کسی صفت کی ماہیت و کیفیت تک نہیں پہنچ سکتے اور تفکر کرنے والے اس کے کسی امر کا احاطہ نہیں کر سکتے، تفکر کرنے والے اس کی آیات سے نصیحت و عبر ت اخذ کرتے ہیں لیکن اس کی ذات کی حقیقت و کیفیت پر غور وخوض اور

    بحث و تمحیص نہیں کرتے۔ وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگر جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتا تا ہے، وہ بہت بلدن اور بہت بڑا ہے۔

    وہ عالم ، خبیر، مدبر ، قدیر، سمیع ، بصیر ، بلند اور بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ بزاتہ اپنے عرشِ عظیم پر ہے، جبکہ بعلمہ ہر جگہ موجود ہے۔

    اس نے انسان کو پیدا کیا اور وہ انسان کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں انہیں بھی جانتا ہے اور وہ اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے، اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصے میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے ، مگر یہ سب کتابِ مبین میں ہے۔

    وہ عرش پر مستوی ہے اور پوری کائنات پر اسکی حکمرانی، بادشاہت اور قبضہ ہے۔ اس کیلئے انتہائی پیارے پیارے نام اور بہت ہی اعلیٰ صفات ہیں۔ وہ اپنی تمام صفات اور ناموں کے ساتھ ہمیشہ سے ہے، وہ اس بات سے انتہائی بلند اور پاک ہے کہ اس کی کوئی صفت مخلوق ہو یا کوئی نام نیا ہو۔

    اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا، اور یہ کلام اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں بلکہ صفتِ ذاتیہ ہے، اللہ تعالیٰ نے پہاڑ (کوہِ طور) پر اپنی تجلی ڈالی تو وہ اللہ تعالیٰ کے جلال سے ریزہ ریزہ ہوگیا، قرآن ِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے کہ فنا کا شکار ہو جائے، نہ ہی کسی مخلوق کی صفت ہے کہ ختم ہو جائے۔

    اچھی اور بری ، میٹھی اور کڑوی ہر قسم کی تقدیر پر ایمان لانا (فرض ہے) ۔ ان تمام چیزوں کو ہمارے پروردگار اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمایا، تمام امور کی مقادیر اس کے ہاتھ میں ہے ، جن کا صادر ہونا اس کے فیصلے سے ہے۔

    وہ ہر شئ کو وجود میں آنے سے پہلے ہی جانتا ہوتا ہے، اور وہ شئ جب وجود میں آتی ہے تو اس کی تقدیر کے مطابق ہی آتی ہے، بندوں کا ہر قول اور فعل اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر اور اس کے علمِ سابق کے مطابق ہوتا ہے۔(کیا وہ ذات علم نہیں رکھتی جس نے پیدا کیا؟ وہ تو باریک بین اور باخبر ہے)۔

    جسے چاہتا ہے گمراہ کرکے ذلتوں کی پستیوں میں دھکیل دیتا ہے، جو کہ عینِ عدل ہے، اور جسے چاہتا ہے توفیقِ ہدایت سے مشرف فرمادیتا ہے، جو

    عینِ فضل ہے۔ ہر بدبخت یا نیک بخت اللہ تعالیٰ کے علمِ سابق اور تقدیر کے مطابق اپنی اپنی راہ پر بآ سانی چلایا جا رہا ہے۔

    اللہ تعالیٰ اس بات سےبہت بلند ہے کہ اسکی بادشاہت میں کوئی چیز آسکے ارادے کے بغیر یا برخلاف ہو ، یا کوئی مخلوق اس سے مستغنی ہو، ہر شئ کا صرف وہی خالق ہے، تمام بندوں اور انکے تنان اعمال کا وہی رب ہے، اور انکی تمام حرکات و آجال کی تقدیر بنانے والا بھی وہی ہے۔

    لوگوں پر حجت قائم کرنے کیلئے، ان کی طرف رسول مبعوث فرمانے والا ۔

    پھر اللہ تعالیٰ نے سلسلہ رسالت کا اپنے آخری نبی محمدﷺ پر اختتام فرمادیا ، اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو تمام انبیاء و مرسلین میں سے سب سے آخر میں مبعوث فرمایا، آپﷺ کو بشیر و نذیر بنایا ، اپنے اذن سے اپنا داعی ا سراجِ منیر بناکر بھیجا، آپﷺ پر اپنی کتابِ حکیم (قرآن مجید) نازل فرمائی ، اور آپ ﷺ کے ذریعہ دینِ متین کی شرح و تفصیل، فرمادی، نیز آپﷺ کے ذریعے لوگوں کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرما دی۔

    اور ابے شک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور بے شک اللہ تعالیٰ تمام مُردوں کو اٹھائے گا ، جیسے انہیں پیدا کیا تھا، ویسے ہی دوبارہ بن جائیں گے۔

    اور بے شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے مؤمن اور موحد بندوں کو خوب بڑھا دیتا ہے، اور ان کی توبہ کے بسبب ان کے بڑ ے بڑے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، اور بڑے گناہوں سے اجتناب کی برکت سے ان کے چھوٹے گناہوں سے درگز فرمادیتا ہے، اور اگر کوئی موحد بندہ اپنے کبیرہ گناہوں سے توبہ نہ کر پایا ہو تو اس کا معاملہ اپنی مشیت کے تحت فرما لیتا ہے۔( [font="al_mushaf"]اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ
    ) ( النساء:48)

    ترجمہ:" اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا اور شرک کے علاو ہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دے"۔

    اور جس (مسلمان) کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کی سا دے گا اسے جہنم سے بوجہ اس کے ایمان کے نکال دے گا، پھر ایمان کی برکت سے جنت میں داخل کر دے گا:" پس جس نے ایک ذرہ کے بقدر نیکی کی وہ اسے ضرور دیکھے گا" اللہ تعالیٰ جہنم سے نبیﷺ کی شفاعت کی وجہ سے آپﷺ کی امت کے بہت سے اہلِ کبائر کو ، جس جس کی آپﷺ شفاعت کریں گے ، نکال دے گا۔

    اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمادیا ہے، اور اسے اپنے دوستوں کے رہنے کیلئے ہمیشہ کا گھر قرار دے دیا ہے، اس گھر میں اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو اپنے بابرکت چہرے کے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔ یہ جنت وہی گھر ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور خلیفہ آدم علیہ السلام کو اتار کر زمین پر بھیج دیا تھا، اللہ تعالیٰ کے علمِ سابق میں یہ بات موجود تھی۔

    اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی پیدا فرما چکا ہے ، اور اسے کفر کرنے والوں اور اپنی آیتوں ، کتابوں اور رسولوں میں الحاد پیدا کرنے والوں کو ہمیشہ کا ٹھکانہ قرار دے چکا ہے، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے دیدار سے محروم رکھے گا۔

    اور بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن آئے گا، اور فرشتے بھی قطاروں میں(آئیں گے) تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر پیش کریں ، ار اللہ تعالیٰ ان سے سارا حساب لے، اور انہیں عذاب میں جھونکے یا ثواب عطا فرمانے کے فیصلے فرمائے ۔ بندوں کے اعمال کے وزن کیلئے تراز بھی قائم کردیئے جائیں گے پس جن کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا، وہ کامیاب قرار پائیں گے۔ اسی طرح لوگوں کو ان کے اعمال کے صحیفے بھی دیئے جائیں گے ، پس جسے دائیں ہاتھ میں اس کا صحیفہ دیا گیا ، ان کا حسا ب بہت آسان کردیا جائےگا اور جنہیں ان کا صحیفہ پشت کے پیچھے سے دیا گیا، وہ لوگ جلتی آگ کا لقمہ بن جائیں گے۔

    (قیامت کے دن) پلِ صراط برحق ہے، جسے بندے اپنے اپنے اعمال کے بقدر عبور کریں گے، کچھ تو نجات پاجائیں گے جو جہنم سے نجات میں تیزی کےاعتبار سے متفاوت ہونگے۔ اور بہت سے لوگوں کو ان کے اعمال ہلاکت کے گڑھے(جنہم) میں پھینک دیں گے۔

    رسول اللہﷺ کےحوض پر ایمان لانا(فرض ہے) آپﷺ کے حوض پر آپ ﷺ کی امت وارد ہوگی، جس نے اس حوض سے پانی پی لیا اسے( جنت میں داخلے تک) پیاس نہیں لگے گی،حوضِ کوثر سے اس بدعتی کو در کر دیا جائے گا جس نے دین میں تبدیل و تغیر کاارتکاب کیا۔

    اور بے شک ایمان زبان کے اقرار، دل کے اخلاص، اور اعضاء کے عمل کا نام ہے ، نیکیوں کی نیکیوں کی زیادتی سے بڑھتا ہے اور کمی سے گھٹتا ہے، ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، ایمان کا قوم ، عمل کے بغیر پورا نہیں ہوتا، اور قول و عمل دونوں نیت کی درستگی کے بغیر نامکمل ہیں، اور

    قول، عمل اور نیت تینوں رسول اللہﷺ کی سنت کی مطابقت کے بغیر ناقابلِ قبول ہیں۔

    اور اہلِ قبلہ میں سے کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب سے کافر نہیں ہو جاتا۔

    شہداء زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں، نیک لوگوں کی روحیں قیامت قائم ہونے تک نعمتوں سے متمتع ہوتی رہیں گی، جبکہ بُرے لوگوں کی روحیں قیامت تک مبتلائے عذاب رہیں گی۔

    مؤمنین کو ان کی قبروں میں آزمائش اور امتحان کے مرحلے سے گزارا جائے گا۔" اللہ تعالیٰ اہل ِ ایمان کو قولِ ثابت کے ساتھ دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدمی عطافرماتا ہے"۔

    بندوں پر نگران فرشتے مقرر ہیں، جو ان کے اعمال لکھتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کے علم سے بھی کوئی عمل ساقط نہیں ہوتا(خواہ فرشتے لکھیں یا نہ) اور ملک الموت فرشتہ اللہ کے اذن سے روحیں قبض کرتا ہے۔

    اور بے شک سب سے بہترین زمانہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے بحالتِ ایمان رسول اللہﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا، پھر ان لوگوں کا جو صحابہ کے بعد آئے ، پھر ان کے بعد آنے والوں کا۔

    صحابہ کرام میں سے سب سے افضل خلفاءِ راشدین ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں وہ ابوبکر صدیق پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ عنھم واجمعین ہیں۔

    ضروری ہے کہ رسول اللۃﷺ کے ہر صحابی کو اچھے ذکر سے یاد کیاجائے، ان کے آپس کے مشاجرات و اختلافات کے متعلق خاموشی اختیار کی جائے ، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ(ان کے مشاجرات میں) ان کیلئے بہتر مخرج تلاش کیا جائے، اور ان کے بارہ میں سب سے اچھا گمان قائم کیا جائے ۔

    اور (اہل السنۃ) مسلمانوں کے حکام اور علماءِ کرام کی اطاعت بھی (ضروری قرار دیتے ہیں)۔ سلف صالحین کی اتباع، ان کے نقشِ قدم کی پیروی اور ان کیلئے استغفار کرتے رہنا(اہل السنۃ کے معتقدات میں شامل ہے)۔ (اہل السنۃ کے منہج میں یہ بات بھی شامل ہے کہ) دین میں جھگڑنے سے یکسر گریز کیا جائے۔ اہلِبعت نے، دین میں جو اضافے کیئے ہیں، انہیں کلی طور پر ترک کردینا (بھی اہل السنۃ والجماعۃ کے منہج میں شامل ہے)۔

    اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار، نبی پاک محمدﷺپرآپکی آل، ازواجِ مطہرات اور ذریات پر رحمتیں اور بہت زیادہ سلامتیاں نازل فرمائے۔(آمین)​
    [/font]
     
  17. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ سے سات چیزوں کی نفی


    آغاز شرح

    [font="al_mushaf"]أول شرح​

    [1][font="al_mushaf"] قولہ: [/font]" [font="al_mushaf"]باب ما تنطق بہ الأ السنۃ وتعتقدہ الأفئدٰۃ من واجب أمور الدیانات، من ذلک الایمان بالقلب والنطق باللسان أن اللہ الہ واحد لاالہ غیرہ ولا شبیہ لہ، ولا نظیرلہ، ولا ولدلہ، ولا والدلہ، ولاصاحبۃ لہ، ولا شریک لہ۔[/font]"

    ترجمہ: "یہ باب دین کے امور کے بیان میں ہے جن کا اقرار تمام زبانوں پر، اور اعتقاد تمام دلوں پر فرض ہے۔ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ دل کے ساتھ ایمان ، اور زبان کے ساتھ اقرار کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ: معبود ِ حق ہے، اکیلا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شبیہ اور نظیر نہیں ہے، نہ ہی اس کی اولاد ہے نہ والد، نہ اس کی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی شریک۔"

    شرح:

    یہ کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے، حقیقت میں صرف ایک باب ہے، جسے ابن ابی زید القیروانی رحمہ اللہ نے فقہی مسائل پر لکھے گئے اپنے" [font="al_mushaf"]الرسالۃ[/font]" کے مقدمہ کے طور پر تحریر فرمایا ہے، گویا یہ انکی عقیدہ کے موضوع پر کوئی مستقل تالیف نہیں ہے، بلکہ مستقل تصنیف کا بطورمقدمہ ایک باب ہے، اس طرح انکی یہ تحریر دونوں فقہوں کو جمع کیئے ہوئے ہے، ایک وہ فقہ جس کا تعلق عقیدہ سے ہے، جس میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اس فقہ کو اصطلاحا فقہ اکبر کہا جاتا ہے، دوسری و فقہ جس کا تعلق فروع دین کے احکام سے ہے اس میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے۔

    مؤلف رحمہ اللہ نے مذکورہ عقیدہ کیلئے دو چیزوں کو واجب ہونے کا ذکر کیا ہے، ایک زبان کا اقرار، دوسرا قلبی اعتقاد ۔۔۔ عمل کا ذکر نہیں کیا؟ جو کہ ارجاء ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ عقیدہ کیلئے صرف زبان کا اقرار ار دل کی تصدیق مطلوب ہے، عمل مطلوب نہیں، عمل کی شرط ایمان کی تعریف کے ساتھ ہے، اور اس مقدمہ میں مؤلف رحمہ اللہ نے جب ایمان کی تعریف کی

    تو ان تین شرائط کے ساتھ کی ہے یعنی: زبان کا اقرار دل کی تصدیق اور جوارح کا عمل۔

    اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ سے سات چیزوں کی نفی

    ابن ابی زید کا مذکورہ کلام ایک تو اس بات پر مشتمل ہے کہ الوہیت یعنی مستحقِ عبادت ہونا صرف اللہ رب العزت کیلئے ثابت ہے اور کسی کیلئے نہیں۔

    اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے سات چیزوں کی نفی کی ہے:

    1. ہر غیر اللہ کے معبود ہونے کی کی نفی۔

    2. کسی کے اللہ تعالیٰ کے شبیہ ہونے کی نفی۔

    3. کسی بھی شئ سے اللہ تعالیٰ کے نظیر ہونے کی نفی۔

    4. اللہ تعالیٰ کی اولاد کی نفی۔

    5. اللہ تعالیٰ کا با پ ہونے کی نفی۔

    6. اللہ تعالیٰ کی بیوی ہونےکی نفی۔

    7. اللہ تعالیٰ کے شریک ہونے کی نفی۔

    اب تمام امور کی تفصیل پیشِ خدمت ہے:

    مؤلف رحمہ اللہ کا فرمانا: " [font="al_mushaf"]أن اللہ الہ واحد لاالہ غیرہ[/font]"یعنی (اللہ تعالیٰ اکیلا الہٰ(معبود) ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں )

    اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مأخوذ ہے:

    ([font="al_mushaf"]وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ[/font])
    (البقرہ:163)
    ترجمہ:" تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کےسوا کوئی معبود برحق نہیں وہ بہت رحم کرنے والا ور بڑا مہربان ہے"​

    اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا معبودِ حق ہے، اور ضروری ہے کہ ہر قسم کی عبادت اسی اکیلے معبود کیلئے بجا لائی جائے، اور کسی بھی عبادت میں غیر اللہ کا کسی قسم کا کوئی حصہ نہ ہو۔ اس عظیم الشان عقیدے کو سمجھانے کیلئے اللہ تعالیٰ انبیاء ورسل کو مبعوث فرمایا اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں۔

    جیسا کہ الہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    ([font="al_mushaf"]وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّه لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ[/font])
    (الانبیاء:25)
    ترجمہ:" اور آپ سے قبل ہمنے جس رسول کو مبعوث کیا اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے پس صرف اور صرف میری ہی عبادت کرو ۔"​

    ایک اور مقام پر فرمایا:

    ([font="al_mushaf"]وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ[/font])
    (النحل:36)
    ترجمہ:" اور اہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور ہر طاغو ت کا انکار کرو۔"​

    نیز فرمایا:
    [font="al_mushaf"](وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ)[/font]
    (الذاریات:56)
    ترجمہ:" اور میں نے نہیں پیدا کیا جنہوں اور انسانوں کو ، مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں"​
    [/font]
     
  18. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    توحید کی تین اقسام اور ان کی تعریفات


    توحید کی تین اقسام اور ان کی تعریفات

    چنانچہ تمام مخلوقات، اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائیں ، تمام رسولوں کو اسی نے مبعوث فرمایا، اور تمام کتابیں اسی نے نازل فرمائیں۔۔۔ تاکہ ان رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی خلق تک اللہ تعالیٰ کا امر اور آرڈر پہنچ جائے کہ صرف وہ ذاتِ واحد ہی ہر قسم کی عبادت کی مستحق ہے اور اس ذاتِ برحق کےسوا کوئی بھی ، کسی بھی قسم کی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ توحید کی یہ

    قسم توحیدِ الوہیت کہلاتی ہے، جو توحید کی تین اقسام میں سے ایک ہے، باقی دو قسمیں توحید ربوبیت اور توحید اسماء وصفات ہیں۔

    توحٰد الوہیت یہ ہے کہ عبادت کےت علق سے بندوں کے تمام افعال مثلاً: دعاء، استغاثہ، استعاذہ، ذبح اور نذر و غیرہ کا اکیلا اللہ تعالیٰ ہی حقدار ہے۔ تمام بندوں پر یہ بات حتمی اور قطعی طور پر فرض ہے کہ وہ تمام عبادات کو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے خاص کردیں، اور کسی بھی عبادت میں، کسی کو بھی ا س کا شریک نہ ٹھہرائیں۔۔۔ گویا توحیدِ الوہیت کا تعلق بندوں کے افعا ل سے ہے۔

    جبکہ توحیدِ ربوبیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے افعال سےہے مطب یہ کہ جو افعال اللہ تعالیٰ کیلئے مخصوص و مذکور ہیں ان تمام افعال کا صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی مستحق قرار دیا جائے۔۔۔

    مثلا: پیدا کرنا، روزی دینا، زندہ کرنا، مارنا اور کائنات میں تصرف کرنا، یہ سب وہ افعال ہیں جو اللہ تعالیٰ کیلئے مختص ہیں، اور ان افعال میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے۔

    توحید ِ اسماء وصفات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اس ذاتِ حق کیلئے جن اسماء وصفات کا اثبات فرمایاہے، انہیں اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت کیا جائے ، اور اسی طرح ثابت کیا جائے جیسا کہ اس کے کمال و جلال کے لائق ہے ،اس میں نہ تو کسی صفت میں کسی سےتشبیہ ہو، نہ کسی صفت کی کیفیت کا بیان ہو، نہ کسی صفت میں لفظی یا معنوی تحریف ہو اور نہ ہی کسی صفت کا انکار و تعطیل ہو۔


     
  19. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    سورۃ الفاتحہ اورسورۃ الناس توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہیں


    سورۃ الفاتحہ اورسورۃ الناس توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہیں

    توحید کی یہ تقسیم قرآن و حدیث کے نصوص سے استقراء معلو م و مفہوم ہوتی ہے، اور اگر آپ قرآنِ مجیدکی پہلی اور آخری دونوں سورتیں پڑھیں تو یہ نکتہ آپ پر عیاں ہو جائیگا، کیونکہ یہ دونوں سورتیں توحید کی مذکورہ تینوں اقسام پر مشتمل ہیں، چنانچہ ہم وضاحت کیلئے ان دونوں سورتوں کے مضمون پر غور کرتے ہیں:

    سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت (الحمد اللہ رب العالمین) ہے، "[font="al_mushaf"]الحمد
    " کا جملہ ، توحید ِ الوہیت پر مشتمل ہے کیونکہ بندوں کا ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ کی طرف منسوب کرنا عبادت ہے، اور توحید ِ الوہیت بھی اسی چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے پر قسم کی عبادت بجا لائی جائے، اللہ تعالیٰ کے فرمان: (رب العالمین)

    میں توحید ربوبیت کا اثبات ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام عالمین کے رب ہونے کا اقرار و اعتراف ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز عالمین میں داخل و شامل ہے، چنانچہ اس کائنات میں یا تو خالق ہے یا مخلوق ، تیسری کوئی چیز نہیں ، رب العالمین میں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے اور باقی تمام عالمین کے مخلوق و مربوب ہونے کا اعتراف ہے، پھر یہ بات معلوم ہے کہ" رب " اللہ تعالیٰ کے اسماء مین سے ، اور یہ توحیدِ اسماء وصفات ہے، گویا سورۃ الفاتحۃ کی پہلی آیت ہی توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہے۔

    اس کےبعد قولہ تعالیٰ( [font="al_mushaf"]الرحمٰن الرحیم[/font]) میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات مذکور ہیں ۔ اس طرح یہ آیت بھی توحید اسماء وصفات پر مشتمل ہے( [font="al_mushaf"]الرحمٰن الرحیم[/font]) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سےد و نام ہیں ، یہ دونوں نام اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یعنی رحمت پر دلالت کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء مشتق ہیں اور کسی نہ کسی صفت پردلالت کررہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام اسم جامد نہیں ہے۔

    قولہ تعالیٰ( [font="al_mushaf"]مالک یوم الدین[/font]) میں توحیدِ ربوبیت کا اثبات ہے، کیونکہ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے الکِ دنیا و آخرت ہونے کا عقیدہ پنہاں ہے، یہاں صرف آخرت کے مالک ہونے کا بطورِ خاص اس لیئے ذکر کیا کہ قیامت کے دن سب کے سب اللہ رب العالمین کیلئے پوری طرح جھک جائیں گے، برخلاف دنیا کے ، کہ یہاں لوگوں میں طرح طرح کی سرکشی، عناد اور تکبر و نافرمانی پائی جاتی ہے، جیسا کہ فرعون نے([font="al_mushaf"]انا ربکم الاعلیٰ[/font]) کہا تھا۔

    قولہ تعالیٰ: (ایاک نعبد وایاک نستعین) میں توحیدِ الوہیت کا اثبات ہے، کیونکہ اس آیت ِ کریمہ میں بندے بڑے حصر کے ساتھ اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ اے اللہ! ہم ہمہ نوع عبادت واستعانت کے ساتھ تجھے ہی خاص کرتے ہیں اور تیرےساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتے۔

    [font="al_mushaf"]قولہ تعالیٰ: اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ، صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ۔ [/font]میں توحید الوہیت کا اثبات ہے ، کیونکہ یہ آیات ِ مبارکہ اللہ تعالیٰ سے طلب ِ ہدایت کی دعا پر مشتمل ہیں ، اور یہ بات معلوم ہے کہ دعا ایک اہم ترین عبادت ہے ۔ رسول اللہﷺ کا فرمان :"[font="al_mushaf"]الدعا ء ھو العبادۃ[/font]" دعا عبادت ہے۔

    ان آیاتِ کریمہ میں بندہ اپنے پروردگار سے صراطِ مستقیم کی ہدایت کی دعاء مانگتا ہے، وہ صراطِ مستقیم پر جس پر انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین چلتے رہے، اور یہ سب کےسب اہلِ توحید ہیں۔

    اسی طرح ان آیاتِ مبارکہ میں بندہ اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہاہ ے کہ مجھے ان لوگوں کے راستے سے بچائے رکھنا جو مستحقینِ غضب وضلالت کا راستہ تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو توحید سےباغی تھے، ان سے انواع و اقسام کے شرک صادر ہوتے رہے اور وہغیر اللہ کی عبادت کی روش پر قائم رہے۔ (ہماری اس تقریرسے واضح ہوا کہ سورۃ الفاتحہ جوام الکتاب ہے کا مکمل موضوع توحیدِ باری تعالیٰ ہے اور یہ سورہ مبارکہ توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہے)

    اب قرآنِ کریم کی آخری سورت، سورۃ الناس پر غور کیجئے:

    اس کی پہلی آیت: ([font="al_mushaf"]قل أعوذبرب الناس[/font]) توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہے، چنانچہ "[font="al_mushaf"]استعاذہ[/font]" یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا عبادت ہے، اور یہ توحید ِ الوہیت ہے، اور "[font="al_mushaf"]ر ب الناس[/font]" قولہ تعالیٰ: ([font="al_mushaf"]رب العٰالمین[/font] ) کی طرح توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ اسماءِ وصفات دونوں پر مشتمل ہے۔

    قولہ تعالیٰ : ([font="al_mushaf"]مَلِکِ النَّاس[/font]) بھی توحید ِ ربوبیت اور توحیدِ اسماء وصفات دونوں پر مشتمل ہے

    قولہ تعالیٰ: ([font="al_mushaf"]اِلٰہِ النَّاس[/font]) میں توحیدِ الوہیت اور توحیدِ اسماء وصفات دونوں اقسام موجود ہیں۔[/font]
     
  20. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    توحید کی ان اقسام میں باہل نسبت


    توحید کی ان اقسام میں باہل نسبت

    واضح ہوکہ توحید کی ان تینوں اقسا م میں جو نسبت پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ اسماء وصفات کا اقرار و اعتراف توحیدِ الوہیت کو ستلزم ہے، جبکہ توحیدِ الوہیت کا اقرار و اعتراف توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ اسماء وصفات دونوں کو متضمن ہے۔

    اس اجمال کی تفصیل اس طرح ہے کہ جس شخص نے توحیدِ الوہیت کا اقرار کرلیا وہ لازماً توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ اسماء وصفات کا بھی اقرار کرے گا، کیونکہ جب اس نے اللہ وحدہ لاشیک لہ کو اپنا معبود مان لیا اسے ہر قسم کی عبادت کے مستحق ہونے کے ساتھ خاص کرلیا، اور کسی بھی قسم کی عبادت میں ہر قسم کے شری کا انکار کر لیا، تو پھرو ہ اللہ تعالیٰ کے خالق، رازق ، محیی اور ممیت ہونے کا انکار نہیں کرسکے گا(اور یہ سب توحیدِ ربوبیت پر مشتمل صفات ہیں) اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ اور صفاتِ علیٰ میں کسی نام یا صفت کا انکار نہیں کر سکے گا۔

    اسی طرح شخص نے توحید ِ ربوبیت اور توحیدِ اسماء وصفات کا اقرار کرلیا تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ توحیدِ الوہیت کا بھی اقرار کرلے، اسے یہ با ت معلوم ہونی چاہئے کہ کفارِ مکہ جن کی طرف رسول اللہﷺ کی بعثت عمل میں آئی عمل میں آئی تھی، توحیدِ ربوبیت کا اقرار کرتے تھے، توحید کی اس قسم کے اقرار کرنے انہیں داخلِ اسلام نہیں کیا ، اور رسول اللہﷺ نے ان سے اس وقت تک قتال حلال قرار دے دیا جب تک وہ خالص اللہ وحدہ لاشریک لہ کہ عبادت نہیں کرتے (یعنی توحیدِ الوہیت کو نہیں مان لیتے) یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں بہت سے مقامات میں توحیدِ ربوبیت، جس کا کفار اقرار کرتے تھے کا اثبات و تقریر مذکور ہے، تاکہ انہیں توحیدِ الوہیت کے اقرار و اعتراف پر آمادہ کیا جائے( کیونکہ توحیدِ ربوبیت کا اقرار ، توحیدِ الوہیت کے اقرار کو ستلزم ہے) بطورِ مثال قرآن مجید کی ان آیات کو پڑھیئے:

    ([font="al_mushaf"]اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِه حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ ،اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِه حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ ،اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ ۭءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ، اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِه ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ،اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُه وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ​
    )
    (النمل:61تا64)
    ترجمہ: " بھلا بتاؤ تو؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ کس نے آسمان سےبارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگادیے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے، کیا اللہ تعالیٰ کےساتھ اور کوئ ی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں( سیدھی راہ سے)۔ کیا جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور ا سکے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کیلئے پہاڑ بنائے اور دوسمندروں کے درمیان روک بنادی کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ نہیں جانتے۔ بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور و عبرت حاصل کرتے ہو۔ کیا وہ جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والے ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں، ان سب سے اللہ بلند و بالا تر ہے۔ کیا وہ جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے پھر اسے لوتائے گااور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزیاں دے رہا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔"​

    ان پانچوں آیاتِ مبارکہ میں توحیدِ ربوبیت کی تقریر و اثبات ہے، جسے کفار بھی تسلیم کرتے تھے، تاکہ انہیں توحیدِالوہیت قبول کرنے کی دعوت دی جائے، یہی وجہ ہے کہ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے توحیدِ ربوبیت کے اثبات کے بعد فرمایا:

    ([font="al_mushaf"]ءَاِلہ مَعَ اللہِ[/font]) کیا اللہ تعالیٰ کےساتھ کوئی اور معبود ہے؟

    مطلب بالکل واضح ہے کہ جو ذات ان افعال کی انجام دہی میں اکیلا وتنہا ہے(جن افعال کا مذکورہ آیات میں ذکر ہوا) تو ضروری ہے کہ اس ذات کو معبود بھی مانا جائے اور ہر نوع کی عبادت اس کے ساتھ مختص کی جائے؛ کیونکہ جو ذات خلق وایجاد جیسے افعال کے ساتھ مختص ہے اس ذات کا معبود ہونا امرِ متعین وواجب ہے۔

    اس بات مین کیا معقولیت ہے کہ یہ مخلوقات جو پہلے معدوم تھیں، اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے وجود میں آئیں انہیں پیدا ہونے کے بعد معبود مان لیا جائے، یا ان مخلوقات کو خالق کا شریک ٹھہرالیا جائے؟ یہ بات کسی طرح بھی معقول ہے؟[/font]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں