مراکش کی خواتین مرد بھی ان سے ڈرتے ہیں

ابن قاسم نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏فروری 15, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    مراکش کی خواتین

    مرد بھی ان سے ڈرتے ہیں

    بیویوں کے تشدد کا شکار مرد شرمندگی سے بچنے کے لئے قانونی کاروائی نہیں کرتے۔
    مردوں کے حقوق کے لئے مراکشی نیٹ برائے حقوق مرداں سرگرم ہوگئی۔

    "آج کل کی بیویاں شوہروں سے لڑائی جھگڑا کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتیں۔ اپنی شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی میں نے اپنی بیوی کو یہ سوچ کو تھپڑ دے مارا کہ وہ مجھے کچھ نہیں کہے گی۔
    لیکن اس نے میرے تھپڑ کے جواب میں مجھے اس سے بھی کڑاکے دار نمانچہ رسید کردیا۔ بیوی کے اس رد عمل پر مجھے یوں لگا کہ جیسے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو۔
    اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتیں مردوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتی تھیں اور نہ میں نے کسی خاتون کو پہلے کبھی کسی مرد کی پٹائی کرتے دیکھا تھا۔
    اپنی بیوی کے آگ بگولہ ہونے پر میں بھی طیش میں آگیا اور جب میں نے اس کو دوبارہ مارنے کی کوشش کی تو اس نے مزاحمت شروع کردی۔
    میں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن میں اپنی بیوی سے جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ بلکہ وہ مسلسل میری پٹائی کئے جارہی تھی جس کی وجہ سے میں شدید زخمی ہوکر زمین پر گر پڑا۔
    جب ہوش آیا تو میں اسپتال کے بستر پر تھا۔اس واقعے نے میرے دل میں ایک خوف سا پیدا کردیا ہے۔
    جب بھی ہم دونوں کے درمیان کسی بات پر تکرار ہوتی ہے تو میں گھر سے باہر چلا جاتا ہوں کہ کہیں وہ مجھ پر حملہ نہ کردے۔"

    مراکش کا ہٹا کٹا نوجوان علی مردوں کے حقوق کے حوالے سے چلائے جانے والی میڈیا مہم میں ایک مقامی اخبار ، Le Aujourd hul میں اپنی رواداد بیان کررہا تھا۔ خواتین کے تشدد کا شکار
    اور ان کی جانب سے ہراساںکئے جانے والے اکثر مرد معاشرے میں اپنی تذلیل کے خوف سے اس کرب کا اظہار کرنے سے شرماتے ہیں۔ مراکش میں ایسے متاثرہ مردوں کے حقوق کے لئے
    ریٹائرڈ ملازمین اور سماجی ورکرز نے ایک تنظیم بنائی ہے جو ملک میں مردوں پر ہونے والے خواتین کی جانب سے کئے جانے والے تشدد کے خلاف آواز بلند کررہی ہے۔
    مراکش میں مردوں کے حقوق مرداں" کے صدر عبدالفتاح بہجاجی کا کہنا ہے:
    "ملک میں خواتین کے ساتھ ساتھ اب مردوں کی عزت بھی محفوظ نہیں رہی ۔ عورتوں کی طرح مردوں کو بھی جنسی طور پر ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
    اگرچہ مراکش میں عورتوں کی جانب سے مردوں کو ہراساں کرنے کے واقعات، خواتین کو پریشان کرنے کے واقعات کی نسبت فی الحال کم ہیں، لیکن ان واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو انتہائی تشویش ناک بات ہے۔"


    گھر آنگن ۱۵فروی/ جاری۔۔​

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    اللہ تعالیٰ ہمارے بھائیوں‌ کو اِن جلاد خواتین سے اپنی حفظ واَمان میں‌رکھے۔آمین
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    چلو كہيں تو ان كو سكھ كا سانس نصيب ہوا ۔
     
  5. المدنی

    المدنی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2010
    پیغامات:
    315
    ہاہاہاہاہاہاہاہاہہاہاہاہاہہاہاہاہاہ
    اس پر ھنسیں یا روئیں
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    فرصت ہو تو دونوں کام کر لیں ۔۔۔ ابتسامہ ۔
     
  7. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    اللہ خیرا ہی کرے۔۔ :00006:
     
  8. Innocent Panther

    Innocent Panther محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2011
    پیغامات:
    600
    ٹائم اچھا نہ ہو تو اونٹ پہ بیٹھے انسان کو بھی کتا کاٹ لے :00003:
     
  9. المدنی

    المدنی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2010
    پیغامات:
    315
    زبردست تو مراکشی مردوں کا ٹائم اچھا نہیں اور وہ اونٹ پر بیٹھا ہوا ھے
     
  10. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578

    ہاہاہاہاہا :00005:
     
  11. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    یہ تو فقط مراکش کے احوال سامنے آئے، دیگر علاقوں میں بھی ایسی عورتیں اکثر ہوتی ہیں جن سے بے چارے مرد بھی خوف کھاتے ہیں
    گھر کے قریب ہی میں ایک خاتون پائی جاتی ہیں انکا رعب اتنا ہے کہ لوگ محمد پہلوان کے نام سے یاد کرتے ہیں
     
  12. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی سکھی ہو گئی
    ماشاء اللہ کیا کہنے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں