میرا دفاع کون کرے گا

m aslam oad نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏فروری 17, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    [​IMG]

    [​IMG]

    عبدالقادر حسن
    ایکسپریس
     
  2. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    [​IMG]
     
  3. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    [​IMG]
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ عجيب بات ہے کہ ايک طرف آپ ایک امریکی کانگریس کے رکن کے نقطہ نظر کو بڑے کھلے دل سے قبول کرتے ہیں ليکن دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ جو سرکاری طور پر وائٹ ہاوس سميت امريکی حکومت کی اجتماعی حیثیت سے نمائیند گی کرتی ہے کے بيان کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم نے يہ واضع طور پر کہا ہے کہ امريکہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔امریکی کانگریس خارجہ امور کے متعلق بہت سے موضوعات پر سماعت کرتی ہے اور ان سماعتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امريکی حکومت اس پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔ سٹيٹ ڈيپارٹمنٹ عام طور پر زیر التواء قانون سازی پر تبصرہ نہیں کرتا ليکن يہ امريکی حکومت کی پاليسی نہیں ہے کہ بلوچستان کی آزادی کی حمایت کرے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    Incompatible Browser | Facebook
     
     
  5. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    اس ضمن ميں کچھ حقائق کی وضاحت ضروری ہے۔ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی پريس بريفنگ ميں جو بات کہی گئ تھی وہ ان افراد اور گروپوں کے حوالے سے تھی جنھيں يا تو خود پاکستانی حکومت نے بين کر رکھا ہے يا پھر اقوام متحدہ نے القائدہ اور ان سے منسلک گروہوں سے روابط ثابت ہونے پر ان پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    عالمی قواعد و ضوابط کے عين مطابق امريکی حکومت کو اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ جماعت الدعوہ جيسی کالعدم تنظيموں کے قائدين کی کھلم کھلا عوامی سرگرميوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرے۔ يہ کوئ پوشيدہ امر نہيں ہے کہ لشکر طيبہ اور اس سے منسلک جماعت الدعوہ پر القا‏ئدہ سے تعلقات کی وجہ سے عالمی سطح پر پابندياں عائد کی جا چکی ہيں۔ ہم نے ماضی ميں بھی اور اب بھی پاکستانی حکومت پر زور ديا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد 1267/1989 سے متعلق اپنی ذمہ دارياں پوری کرے۔ ان قراردادوں کے مطابق تمام ممالک پر يہ لازمی ہے کہ وہ کالعدم تنظيموں کے اثاثے منجمند کريں، ان تک اسلحے کی فراہمی کی روک تھام کی جاۓ اور جن افراد پر پابندی عائد کی گئ ہے انھيں اپنے علاقوں ميں کھلم کھلا سرگرميوں کی اجازت نہ دی جاۓ۔

    اس ضمن ميں امريکی حکومت کے نقطہ نظر اور خدشات کا دفاع پاکستان يا کسی بھی اور سياسی دھڑے کے سیاسی نظريات سے کوئ واسطہ نہيں ہے۔ يہ دليل اس ليے بھی غير موثر اور ناقابل فہم ہے کيونکہ تمام تر باہمی اختلافات سے قطع نظر پاکستان کی کئ مذہبی اور سياسی جماعتوں نے بسا اوقات امريکہ مخالف نعروں کو اپنی سياسی حکمت عملی اور مہم کا حصہ بنايا ہے۔ ليکن سياسی نقطہ چينی اور سياسی تشدد کے ليے فضا بنانا اور اس کی تلقين کرنا دو مختلف چيزيں ہيں۔

    حقيقت يہی ہے عالمی قواعد کے تحت پاکستان اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اس بات کو يقینی بناۓ کہ وہ افراد جو سياسی عزائم کی آڑ ميں معصوم افراد کو قتل کرنے کی کھلم کھلا رغبت ديتے ہيں، ان کے شر انگيز پيغامات کو عوامی پليٹ فورمز اور اجتماعات پر تشہير کا موقع نہيں ملنا چاہيے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  6. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    اگر اس ضمن میں کسی بھی سنجیدہ حقیقت کی وضاحت ضروری ہے، تو وہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور حقائق دو متضاد باتیں ہیں جن کا حقیقت سے زیادہ جھوٹ، دھونس دھاندلی اور مکارانہ بیانات جاری کرنے سے گہرا تعلق ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پریس بریفنگ میں جن افراد یا گروپس کے حوالے سے جھوٹے اور شر انگیز بیانات جاری کئے گئے ہیں اور جنھیں جن پاکستانی حکام، جن پر نہتے اور بے گناہ عوام کے قتل کے سنگین الزامات ہیں نے امریکہ اور اقوامِ متحدہ کے ناجائز دباؤ کے تحت کالعدم قرار دیا تھا اور ان پر بے جا غیر قانونی پابندیان عائد کیں تھیں وہ اس وقت لندن میں روپوش ہیں۔ مزید برآں ان گروپس پر عائد القائدہ سے روابط کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ جس کا ثبوت پاکستانی عدالتوں کا مذکورہ افراد کی طویل حراست سے رہائی کے احکامات کا اجراء ہیں۔

    عالمی قواعد و ضوابط جیسی دلفریب اصطلاحات کے استعمال کا حق امریکی حکومت کو اس کے قیام سے تا حال، مسلسل جنگی جرائم کے باعث کسی طور حاصل نہیں۔ امریکی حکومت کے سفاک ہاتھ، ہیرو شیما، ناگا ساکی، کوریا، جنوبی امریکہ، فلسطین، حالیہ عراق ، افغانستان اور پاکستان (فہرست بڑی طویل ہے) کے بے گناہ عوام کے خون سے لُتھڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ایسی عالمی دہشت گرد نوعیت کی جرائم پیشہ حکومت کے دعوے، عالمی ضمیر بیک جنبشِ قلم سختی سے مسترد کرتاہے۔ امریکی حکومت کے اقوامِ متحدہ کی سیکیوریٹی کونسل کی بد دیانتی پر مبنی قراردادوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے قیام سے لیکر تاحال سینکڑوں ایسی قراردادوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جن کی مجرمانہ خلاف ورزی کی امریکی حکومت مرتکب رہی ہے۔ لہٰذا امریکہ کی جانب سے پاکستانی عوام اور ان کے ملکی دفاع کےحقوق کی نمائندہ اور علم برادر جماعتوں اور ان سے منسلک افراد پر قوامِ متحدہ کی سیکیوریٹی کونسل کی جھوٹی قراردوں پر عمل دراآمد کے مطالبے کو مسترد کرنا پاکستان کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ ایسی قررادوں کو پاکستان کے عسکری اور بدعنوان سیاسی حکام پر تو لہرایا جا سکتا جو امریکی حکومت کے ہمراہ عالمی امن اور بین الاقوامیِ انسانی حقوق کے خلاف جرائم کے ارتکاب میں برابر کے شراکت دار ہیں۔ لہٰذا یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ اس مجلس کا تو کیا با ضمیر دنیا کا بچہ بچہ اب آگاہ ہو چکا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جھوٹی اور سیاہ قراردوں کی کیا حیثیت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ان تمام قرااردادوں کی تفصیل دنیا کی نظر اور دسترس میں ہے جن پر منصفانہ عمل درآمد سے امریکہ رو گرداں رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خود امریکہ ایسی دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرے جو خود اس کی سر زمین سے اٹھی ہیں اور قتلِ انسانی میں ملوث و مصروف ہیں۔ اس ضمن میں پہلا قدم تو بلیک واٹر کا خاتمہ، اس کے افراد کی گرفتاری اور ان کے اثاثہ جات کی ضبطی اور پابندی عاید کرنے کی ذمہ داری ہے۔

    امریکی حکومت کے پاکستان کے سیاسی دھڑوں اور سیاسی نظریات سے متعلق نقطہ نظر سے واسطہ یا اس سے متعلق خدشات کے دفاع کا بیان مبہم اور غیر واضح (ناقابلِ فہم)ہے۔ کیا امریکی حکومت اور اس کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا دماغ د ن رات کی جھوٹی راگنیاں گا گا کر اور غیر ضروری لفاظی کی بھول بھلیوں میں الجھ کر چکرا گیا ہے؟ DODO سے ایسی احمقانہ آئیں بائیں شائیں کی توقع نہ کی جائے گی تو اور کس سے کی جائے؟ امریکہ ہر سطح پر پاکستان کے چھوٹے سے چھوٹے داخلی اور بڑے سے بڑے خارجی معاملات میں دخل انداز و دخیل ہے۔ کیا اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ کیا زمانہ آ گیا ہے نوکر چاکر مشاہرہ لیکر بھی کام صحیح طرح سر انجام دینے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

    باہمی اختلافات سے قطع نظرموثر اور قابل فہم دلیل تو یہ ہے کہ امریکہ اگر واقعی کوئی مخلصانہ نیت رکھتا ہے تو اپنے گریبان میں جھانکے۔ کیا امریکہ کے سیاستدان، تھنک ٹینکس اور این جی اوز، پاکستان ، اسلام ، اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف نعرے، بیان بازی کو اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور مہم جوئی کے لئے نہیں اپناتے۔ ایسا کرنا تو امریکی سیاسیات و اخلاقیات کا خاصہ ہیں۔ امریکی انتخابات کی مہم اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بنیاد اور تمام تر عمارت ہی پاکستان مخالف نعروں، سیاسی حکمتِ عملی اور پر تشدد مہمات پر استوار ہے۔ سیاسی تشدد بلکہ ننگی مسلح جارحیت برائے تشدد کے لوازمات تو تمام تر امریکہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ نہ کہ پاکستان کی مذہبی یا سیاسی جماعتوں کے ہاتھ۔ جو صرف ریلیوں اور پر امن مظاہروں اور جائز سیاسی نقطہ چینی کے ذریعے مقبول عوامی احتجاج کی رہنمائی کر رہے ہیں جو کہ ان کا بنیادی حق ہے۔ جبکہ امریکہ پاکستان کے نہتے عوام پر نہ صرف بے سرو پا ڈیجیٹل بیان بازی بلکہ ڈرونز کے ذریعے بم بازی کر رہا ہے جس میں اسے اپنی سیاسی جماعتوں اور غیر سیاسی اداروں کی مکمل حمایت و اعانت حاصل ہے۔

    اور حقیقت یہی ہے کہ عالمی قواعد کے تحت پاکستان نہیں بلکہ امریکہ پر اس بات کی ذمہ داری عاید ہوتی ہے ہے وہ حکومتی اور ریاستی سطح پر سیاسی اور توسیع پسندانہ عزائم سے دست برداری اختیار کرتے ہوئے دنیا بھر کے معصوم و بے گناہ افراد کا وسیع پیمانے پر قتلِ عام فی الفور بند کرے۔ غیر قانونی طور پر اغوا اور حراست میں لئے گئے افراد پر تشدد بند کرنے کی یقین دہانی کرائے اور ایسے جرائم کے ارتکاب کنندگان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے اور حکومتی اور ریاستی سطح پر دنیا کے نہتے، معصوم اور بے گناہ افراد ، اقوام اور ممالک کے خلاف دن رات کے شر انگیز بیانات اور پراپیگندے کے اقدامات کی تشہیر کا سلسلہ فوری طور پر موقوف کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی پائیدار امنِ عالم کے قیام کی ششوں کو تسلیم اور ان کا احترام کرے ۔
     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ بات خود امريکہ کے بہترين مفاد ميں ہے کہ پاکستان ميں ايک فعال، جمہوری اور مستحکم حکومت ہو جو پورے ملک پر اپنی رٹ قائم کر سکے۔

    خطے کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے کیا جانے والا کوئ بھی تعميری تجزيہ يہی واضح کرے گا کہ ايک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان نہ صرف خطے کی استحکام کو يقينی بناۓ گا بلکہ امريکی مفادات کو بھی يقينی بناۓ گا۔ عدم استحکام اور اتحاد کا فقدان پاکستان کو انتشار کی جانب لے جاۓ گا جو سارے خطے پر اثرانداز ہو گا اور نہ صرف امريکی اور عالمی مفادات کو نقصان پہنچاۓ گا بلکہ امريکی شہريوں کی زندگيوں کو بھی خطرے ميں ڈال دے گا۔

    امريکہ پاکستان کو ايک آزاد اور خود مختار ملک کی حيثيت سے احترام کی نگاہ سے ديکھتا ہے اور اس ضمن ميں ايسی کسی کاروائ کی حمايت نہيں کی جاۓ گی جس سے پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں۔ حقیقت يہ ہے کہ امريکہ ايک بڑی بھاری قيمت ادا کر کے اس بات کو يقينی بنا رہا ہے کہ پاکستان اقتصادی اور دفاعی اعتبار سے مستحکم ہو سکے۔

    ان دوستوں کی تسلی کے لیے يہ واضح کر دوں جو بلوچستان کے حوالے سے امريکی کی مبينہ سازشوں پر مبنی کہانيوں پر يقين رکھتے ہيں کہ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی ديواروں پر لگے ہوۓ درجنوں نقشوں ميں بلوچستان واضح طور پر پاکستان کا حصہ ہے، جو امريکہ کی سوچ اور نقطہ نظر کا آئينہ دار ہے۔ تخلياتی کہانيوں پر مبنی بے شمار نقشے جو فورم پر پيش کيے جا رہے ہيں، وہ برسوں پہلے غلط قرار ديے جا چکے ہيں۔ يہ نقشے بے سروپا کہانيوں اور بے بنياد افواہوں کو پھيلانے کے ليے "مصالحے" کا رول تو ادا کر سکتے ہيں ليکن ان کا امريکی حکومت کی پاليسی يا حکمت عملی سے کوئ واسطہ نہيں ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  8. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    یہ سارا فلسفہ ایک طرف رکھتے ہیں۔۔۔ چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔۔۔

    ١۔ عراق، ایران، اور کوریا کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی ہے مگر ایران اور کوریا کو چھوڑ کر عراق کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔۔۔
    ٢۔ گیارہ ستمبر کے واقعات پر مہرہ بنا کر جب امریکہ نے طالبان کو ختم کرنے کی ٹھانی تو آج وہ اُسی طالبان کو اپنا دوست کیوں کہتا پھر رہا ہے اور میز کے نیچے مذاکرات کا عمل جاری کیا ہوا ہے۔۔۔
    ٣۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرداد پر امریکہ کا خاموش تماشائی بننا کیا معنی رکھتا ہے۔۔۔
    ٤۔ فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم پر امریکہ لب کشائی سے کیوں کتراتا ہے۔۔۔
    ٥۔ شام مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کی داستانیں روز اخبار کی زینت بنتی ہیں اس پر امریکہ کیوں فوری ایکشن نہیں لینا چاہتا۔۔۔ حالانکہ کے قذافی کے خلاف نیٹو نے باغیوں کی کھلم کھلا مدد کی کیوں؟؟؟۔۔۔
    ٦۔ ایران ایمٹی طاقت بنتا جارہا ہے مگر امریکہ خاموش ہے کیوں؟؟؟۔۔۔

    ہم مجبور ہیں۔۔۔ وجہ آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔۔۔ مگر نامرد نہیں۔۔۔ اور یہ وجہ بھی آپ بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔۔۔ جمہوریت کی راگ امریکہ یا یورپی ممالک کیوں الاپتے ہیں۔۔۔ اس کی وجہ بھی ہمارے حکمرانوں کی اپنی مفاد پر مبنی سیاسیت ہے۔۔۔ اب وہ وجہ کیا ہے اُسے بھی پیش کردوں۔۔۔ یہود ونصارٰی جانتے ہیں کے اگر ہم نے مسلمانوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا تو وہ اُسی نظام کی طرف پلٹیں گے جس کی ہیبت اور دہشت وہ بھلا چکے ہیں مگر ہمیں یعنی یہود ونصارٰی کو وہی ہیبت اور دہشت سوتے سے چھ انچ اوپر اچھال کر جگا دیتی ہے یعنی خلافت کا نظام۔۔۔

    چلیں اب آپ کو خوش کرتا چلوں۔۔۔ مسلمان اس وقت جہاں کہیں بھی مشکلات یا مصائب کا شکار ہیں وہ اُن کے اپنے حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہیں۔۔۔ جس سے مراد دائیں بازو والے کرسی کی چاہت میں امریکہ کی چاکری کررہے ہیں اور بائیں بازو والے تخت کو تختہ نہ بنا دیا جائے اس خوف سے۔۔۔ جس کا خمیازہ پوری اُمت مسلمہ کو بھکتنا پڑرہا ہے۔۔۔ لیکن ہم مسلمان ہیں الحمداللہ ہمیں اپنے اس حال پر افسوس نہیں کیونکہ گراونڈ ریالٹی ہمارے حکمرانوں کی کوتاہیاں تو ہوسکتی ہیں مگر ساتھ میں اللہ رب العزت کی مشیت بھی یہ ہی ہے جس وجہ سے ہم آزمائش میں مبتلا ہیں۔۔۔اب یہ سوچیں کے یہود ونصارٰی جب ان پر ان کے اعمال کے بدے کھچائی ماری جائے گی تو اُن کا حشر نشر کیا ہونے والا ہے؟؟؟۔۔۔ اس کی چھوٹی سی مثال امریکہ بہادر کی افغانستان میں ناکامی اور طالبان سے مذاکرات کی خبر سے سامنے ہیں دیکھیں کڑی مل گئی نا جاکر۔۔۔

    پیارے یہ بات تو آپ بھی بہت اچھی طرح‌سمجھت ہیں‌کے ہر رات کے بعد ایک صبح بھی ہوتی ہے یہ رب العالمین کا نظام ہے۔۔۔ شام کی تحریک اور مصر میں امریکیوں کی گرفتاری کا معاملہ۔۔۔ یمن میں القاعدہ جنگجوؤں کا منظم ہونا۔۔۔ کیا الارمنگ صورتحال نہیں ہے؟؟؟۔۔۔

    چلیں اب ہم چلتے ہیں پاکستان کی طرف۔۔۔ تو وہاں پر ملک بچاؤ تحریک اپنے عروج پر ہے جس پر امریکی حکومت کا پاکستانی حکومت سے اختلاف جاری ہے۔۔۔ اُس بارے میں آپ کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اچھا وہ جو ایک گرپ آپ کی حکومت نے بنائی ہوئی تھی ملڑی انٹیلجنس اور آئی بی پر وہ لاپتہ افراد کی تحریک سے دم توڑنے کے دہانے پر ہے۔۔۔ تو الحمداللہ مثبت نتائج سامنے آرنا شروع ہوچکے ہیں۔۔۔

    افغانستان میں کل کی خبر ہے امریکی اڈوں پر حملے میں امریکی فوجی اور میجر کو مار دیا گیا۔۔۔ تو اب سوال میں آپ سے کرتا ہوں کے یہ ساری چالیں اُلٹ کیوں ہورہی ہیں؟؟؟۔۔۔

    لہذا میرا برادرانہ مشورہ یہ ہے ہی کے تبصرے کرنا چھوڑیں۔۔۔ اور حالات کو دیکھتے ہوئے اُس کی نزاکت پر نظر مرکوز رکھیں۔۔۔ پاکستان میں اب فوج اقتدار پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے چاہے اب امریکہ بہادر اُن کا بجٹ ڈبل ہی کیوں نہ کردے۔۔۔ کیونکہ میمو اسکینڈل اور بن لادن کے ایشو پر حکومت اور فوج دونوں ناکام عوام کے سامنے آچکی ہے۔۔۔ اور یہ حقائق بصیرت رکھنے والے حضرات بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔۔۔ شام کی سرحد پر اسرائیلیوں کا دیوار اٹھانے کا فیصلہ خود سوچیں کیا معنی رکھتا ہے؟؟؟۔۔۔

    تو محترم ان کھوکھلے تبصروں کا وقت اب ہاتھوں سے بجری کی طرح نکل رہا ہے۔۔۔ کیونکہ پاکستان میں ہونے والی تبدیلی کو اب ان شاء اللہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ماسوائے اللہ رب العزت کے کیونکہ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔۔۔ مگر امریکہ بہادر اس تبدیلی کو روکنے کے لئے بلوچستان کے حالات کو خراب کروا رہا ہے۔۔۔ یہ کوڑہ لگے دماغ جو بہن اور ماں کی حرمت کو نہیں‌سمجھتے عقل استعمال کریں۔۔۔ بلوچ سرداروں کی پشت پناہی اب کسی کام نہیں‌آئے گی جو کافروں کی گود میں بیٹھ کر بلوچستان کو الگ ملک بنانے کی بانگیں مارہے ہیں ہماری درخواست ہے وہ اُن سرداروں کو پاکستان بھیجیں۔۔۔ اور جو صفائی پیش کی جارہی ہے کے ڈپارٹمنٹ میں پاکستان کے نقشے میں بلوچستان موجود ہے تو ان شاء اللہ وہ تاقیامت موجود رہے گا۔۔۔ ہاں البتہ یہ نہیں پتہ کے امریکہ کا نیا نقشہ کیسا ہوگا۔۔۔کیونکہ ہمارا ایمان ہے کے اللہ کا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہی ہوتا ہے۔۔۔ :00026:

    وسلام علیکم۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 27, 2012
  9. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    امریکہ اور عالمی نقصانات کا تعلق پاکستان سے یا کسی بھی اسلامی ملک، تنظیم یا فرد سے جوڑنے کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی کوئی بنیاد۔ اس قسم کے بے سرو پا بیانات جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ امریکہ کے جنگی جنون اور دنیا کی بلا شرکت غیرے سپر پاور بننے کی لالچ بذات خود امریکی مفادات کو نقصان کی ایک ایسی نہج پر لے آئی ہے جس کا ازالہ ایک طویل عرصے تک امریکہ کے لئے ممکن نہ ہو گا۔ اس ضمن میں ہم عنقریب ایک تٍفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔ دوسرے یہ کہ امریکی شہریوں کی زندگی کو خطرے اور ہلاکت میں ڈالنے کی ذمہ داری خود امریکی حکام اور ان کی امن دشمن خارجہ پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔امریکہ اگر عراق پر جھوٹے الزامات کی آڑ میں حملہ نہ کرتاتو آج اس کے بہت سے شہری ہلاکت اور مستقل معذوری کا نشانہ نہ بنتے۔ اسی مثال کا اطلاق افغانستان پر بھی کر لیجیئے۔ لہٰذا امریکی شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری خود امریکی حکام پر عاید ہوتی ہے اور پاکستان یا کوئی اور ملک اس جھوٹے اور بیہودہ الزام سے قطعی مبرا ہں۔

    کن دوستوں کی بات ہو رہی ہے؟ کون با ضمیر شخص امریکہ کا دوست بننا یا کہلانا پسند کرے گا۔ امریکہ کی حیثیت تاریخی حوالے سے اس وقت دنیا کے بد سے بد ترین ملک کی ہے۔ اس بات کا ثبوت خود امریکی عوام کے روزمرہ احتجاج اور ان کے بیانات ہیں جن کے مطابق بیشتر امریکی اپنے امریکی شہری ہونے پر شرمندہ ہیں۔ امریکہ کے خلاف نفرت نہ صرف بیرون امریکہ بلکہ اندرون امریکہ روز بروز بڑہتی جا رہی ہے جو عنقریب امریکہ کے خاتمے کا پیش خیمہ ہے۔

    بلوچستان کے حوالے سے امریکی تسلیوں کی حقیقت ایک جھوٹی طفل تسلی سے زیادہ نہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے امریکہ کا اچانک پینترا بدلنا، آئے روز وضاحتیں اور تردیدی بیانات جاری کرنا، پاکستان کے عوام کے تیور کی بدولت اور دفاع پاکستان کی آئے دن بڑھتی مقبولیت کے پیش نظر ہے جس کا راستہ بند کرنے کی امریکی حکام درپردہ کوششوں میں مصروف ہیں۔

    چاہے Pinky and the Brain حقیقت سے جتنا بھی مونہہ چرائیں، امریکہ کا زمانہ لد گیا ہے بس صرف نوشتہ دیوار پڑھنے کی اہلیت درکار ہے۔
     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ميں نہيں سمجھ سکا کہ آپ کس بنياد پر امريکہ کی جانب سے بلوچستان کے حوالے سے موقف ميں "تبديلی" يا پسپائ کا دعوی کر رہے ہيں۔ ميں آپ سے درخواست کروں گا کہ امريکی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے حوالے سے کسی ايک بھی سرکاری بيان کا ريفرنس پيش کريں جس ميں ہماری جانب سے بلوچستان ميں آزادی کی کسی تحريک کی حمايت کی گئ ہو۔ اس کے مقابلے ميں اردو کے بے شمار فورمز پر امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی حيثيت سے ميں اپنے ايسے کئ بيانات کے حوالے پيش کر سکتا ہوں جن ميں بارہا تسلسل کے ساتھ اس موقف کا اعادہ کيا ہے امريکی حکومت پاکستان کی ايک آزاد اور خود مختار حيثيت کو تسليم بھی کرتی ہے اور اس کا احترام بھی کرتی ہے۔ ايسی کسی بھی تحريک کے پاکستان کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جو خطے ميں امريکہ سميت تمام فريقين کے ليے دوررس منفی نتائج کا موجب ثابت ہو گی۔

    ايسی ہی ميری ايک پوسٹنگ کا حوالہ جس ميں بلوچستان کے حوالے سے امريکہ کی مبينہ سازشوں کے ضمن ميں موقف کی وضاحت پيش کی گئ

    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?p=503957#post503957

    آپ ديکھ سکتے ہيں کہ امريکی حکومت کا موقف اور نقطہ نظر برسوں سے ايک ہی رہا ہے۔ آپ کو اپنی کہانی ميں ترميم کرنا پڑے گی۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall


     
     
  11. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امريکہ نے کبھی بھی 11 ستمبر 2001 کے حادثے کی ذمہ داری طالبان پر نہيں ڈالی۔ اس کا قصوروار تو ہميشہ اسامہ بن لادن اور اسکی دہشت گرد تنظيم القائدہ کو قرار ديا گيا۔ ميں آپ کو ياد دلا دوں کہ 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد طالبان حکومت سے پاکستان کے ذريعے دو ماہ تک مذاکرات کے ذريعے يہ مطالبہ کيا گيا کہ اسامہ بن لادن کو امريکی حکام کے حوالے کيا جاۓ تاکہ اس کے خلاف مقدمہ چلايا جا سکے۔ طالبان کے مسلسل انکار اور القائدہ کا ساتھ دينے کے بعد امريکہ نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کاروائ کا فيصلہ کيا۔

    مجموعی طور پر امريکہ اور طالبان کے درميان 33 مواقعوں پر رابطہ ہوا ہے جس ميں سے 30 رابطے صدر کلنٹن کے دور ميں ہوۓ اور 3 رابطے صدر بش کے ۔

    اس کے علاوہ طالبان کے ليڈر ملا عمر کی خواہش پر امريکی اہلکاروں کے ساتھ ان کا ايک براہراست رابطہ ٹيلی فون پر بھی ہوا۔ يہ ٹيلی فونک رابطہ 1998 ميں کينيا اور تنزانيہ ميں امريکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں اور اس کے بعد امريکہ کی جانب سے افغانستان ميں اسامہ بن لادن کے اڈوں پر ميزائل حملوں کے محض دو دنوں کے بعد ہوا تھا۔

    يہ تمام روابط اور وہ تمام ايشوز جن پر بات چيت ہوئ ريکارڈ پر موجود ہيں۔

    http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=1174871&da=y

    اگست 23 1998 کو امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی جانب سے ملا عمر کی اس درخواست پر يہ جواب بھيجا گيا تھا جس ميں ملا عمر نے امريکی حکومت سے اسامہ بن لادن کے خلاف ثبوت مانگا تھا۔ اس دستاويز ميں امريکی حکومت نے فوجی کاروائ کی توجيہہ، اسامہ بن لادن کے خلاف امريکی کيس اور ان وجوہات کی تفصيلات پيش کيں جس کی بنياد پر طالبان سے اسامہ بن لادن کو افغانستان سے نکالنے کا مطالبہ کيا گيا تھا۔ اس دستاويز ميں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئ کہ اسامہ بن لادن کے نيٹ ورک نے امريکی جہاز تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔


    http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=1174875&da=y

    http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=1174878&da=y

    http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=1174876&da=y

    http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=1174877&da=y

    ان دستاويزات ميں ان تضادات کا ذکر موجود ہے جو طالبان کے جانب سے امريکی اہلکاروں کے ساتھ بيانات ميں واضح ہو رہے تھے۔ طالبان کا يہ دعوی تھا کہ ان کے 80 فيصد قائدين اور افغانوں کی اکثريت افغانستان ميں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے مخالف تھی۔

    ليکن اس کے باوجود طالبان کا يہ نقطہ نظر تھا کہ افغانستان اور مسلم ممالک ميں اسامہ بن لادن کی مقبوليت کے سبب اگر انھيں ملک سے نکالا گيا تو طالبان اپنی حکومت برقرار نہيں رکھ سکيں گے۔

    ايک پاکستانی افسر نے پاکستان ميں امريکی سفير وليم ميلام کو بتايا کہ طالبان دہشت گرد اسامہ بن لادن سے جان چھڑانا چاہتے ہيں اور اس ضمن میں 3 آپشنز ان کے سامنے ہيں۔ اس افسر کا اصرار تھا کہ اس ميں آپشن نمبر 2 سب سے بہتر ہے جس کے توسط سے امريکہ اسامہ بن لادن کو طالبان سے ايک بڑی رقم کر عوض "خريد" لے۔ دستاويز کے مطابق طالبان کے مطابق اسامہ بن لادن کو نکالنے کی صورت ميں ان کی حکومت ختم ہو جاۓ گی کيونکہ پختون قبائلی روايت کے مطابق اگر کوئ پناہ مانگے تو اس کو پناہ دينا لازم ہے۔

    يہاں ميں آپ کو ايک اور دستاويز کا لنک دے رہا ہوں جو امريکی حکومت اور طالبان کے مابين اسامہ بن لادن کے حوالے سے ہونے والے روابط کو مزيد واضح کرے گا۔

    http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=1195115&da=y

    اکتوبر 1999 ميں اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کردہ قرداد نمبر 1267 ميں يہ واضح درج ہے کہ طالبان کی جانب سے اسامہ بن لادن کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن کو حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی اس قرارداد کا حصہ ہے۔

    Security Council resolutions (1267 Sanctions Committee)

    ستمبر 11 2001 کا واقعہ وہ نقطہ تھا جس پر تمام مذاکرات، مطالبات، قراردادوں اور رپورٹس کا سلسلہ منقطع ہو گيا۔ يہ واضح ہو چکا تھا کہ دہشت گردی کو روکنے، بے گناہ انسانوں کو محفوظ رکھنے اور اسامہ بن لادن کو انصاف کے کٹہرے ميں لانے کے ليے فوجی کاروائ آخری آپشن ہے۔

    جہاں تک ہماری مبينہ متوقع شکست کے تناظر میں"دہشت گردوں" کو مذاکرت کی ميز پر لانے کے لیے ہماری بے چينی اور اس ضمن ميں آپ کی راۓ ہے تو اس حوالے سے کچھ حقائق کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔

    افغانستان میں ہماری موجودگی اور جاری عالمی کاوشيں طالبان، پشتون يا حقانی سميت کسی بھی مخصوص قبيلے خلاف ہرگز مختص نہيں ہيں۔ عالمی اتحاد ان گروہوں سے منسلک ان مجرمانہ عناصر کے خلاف لڑائ کر رہا ہے جو دہشت گردی اور پرتشدد کاروائيوں کے ذريعے روزانہ بے گناہ شہريوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ افغانستان ميں ايک وسيع حکمت عملی کے تحت ہم نے يقينی طور پر افغان حکومت کی حوصلہ افزائ کی ہے کہ مختلف سياسی دھڑوں اور حامی فريقين کو سياسی دھارے ميں لانے کے ليے آمادہ کيا جاۓ اور ان کی صفوں ميں موجود ان پرتشدد عناصر کو تنہا اور عليحدہ کيا جاۓ جو اپنے مذموم مقاصد اور مخصوص ايجنڈے کے سبب پرتشدد کاروائيوں کو ترک کرنے کے ليے کسی طور بھی آمادہ نہيں ہيں۔

    اس وقت سب سے اہم ضرورت اور مقصد ايسی حکمت عملی ہے جسے افغان قيادت اور عوام ليڈ کريں۔ اس ضمن میں امريکی حکومت نے نيٹو کے تيارہ کردہ پلان کی حمايت کی ہے جس کے تحت افغان حکومت کے تعاون سے صوبہ وار مشروط بنيادوں پر سيکورٹی کی منتقلی کے عمل کو يقينی بنايا جا سکے۔ يہ پس پائ ہرگز نہيں ہے۔اس حکمت عملی کی بنياد افغان عوام کی مدد اور ان کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دينا ہے۔

    اس ضمن ميں بہت سے پروگرامز سامنے لاۓ گۓ ہيں جن کے تحت افغانستان مرحلہ وار سيکورٹی کی ذمہ دارياں، بہبود و ترقی اور حکومت سنبھالنے کے ايجنڈے کی جانب پيش رفت کر رہا ہے جو افغانستان کے مستقبل کے ليے انتہائ اہم ہے۔

    يہاں ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ يہ امريکی حکومت کی جانب سے کوئ نئ پاليسی يا حکمت عملی نہيں ہے۔ ستمبر 2002 ميں امريکی حکومت نے 3 صومالی باشندوں اور "الباراکات" کی 3 شاخوں کو دہشت گردی کی لسٹ سے ہٹا ديا تھا جن پر القائدہ سے منسلک ہونے کا الزام لگايا گيا تھا۔ ان تينوں افراد اور متعلقہ کاروباری اداروں کو امريکی ٹريجری کی لسٹ سے بھی ہٹا ديا گيا تھا اور ان کے اثاثے بھی بحال کر ديے گۓ تھے۔

    يہ نقطہ بھی قابل توجہ ہے کہ حال ہی ميں افغانستان حکومت اور اقوام متحدہ ميں افغانستان کے خصوصی ايلچی کئ ايڈ نے بھی 15 ممالک کی کونسل سے طالبان کے ان سابقہ عہديداروں پر عائد پابندياں اٹھانے کی اپيل کی ہے جو اقوام متحدہ ميں افغانستان کے سفير کے مطابق تشدد کا راستہ چھوڑ کر حصول امن کی کوششوں ميں شامل ہونے پر رضامند ہيں۔



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  12. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    بہ ہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
    من اندازِ قدت را می شناسم​


    محترم جناب آپ جتنے بھی حوالے پیش کریں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، امریکی بیانات یاتھی کے دانت کی طرح کھانے کے اور دکھانے کے اور کی مانند ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں خود امریکی مصنفین بہت سی کتب تصنیف کر چکے ہیں۔

    دیکھیں ڈانا جو ایک بے سرا گویا، اور ماضی میں ریگن کا پریس سیکریٹری اور سپیچ رائٹر بھی رہ چکا ہے نے بلوچستان کی قرارداد پیش کرنے سے دو روز قبل ڈاکٹر شکیل آفریدی کے لئے امریکی شہریت اور اعلیٰ اعزازات کی ایک قرارداد بھی پیش کی تھی۔ جسے فوراً منظور کر لیا گیا تھا۔ ڈانا نے سمجھا کہ اس کی دوسری قرارداد بھی منظور ہو جائے گی۔ لیکن والش یونیورسٹی کی پروفیسر کرسٹین فئیر کی موجودگی اور ان کے بیانات نے سارا کھیل بگاڑ دیا۔ اس پر میں زیادہ نہیں کہوں گا کہیں ’بے حس‘ بچوں کے کان میں بھنک نہ پڑ جائے دوسرے یہ کہ گزشتہ کل جب میں آپ کے لیئے ’بلوچستان اور حالیہ امریکی بیانات کی حقیقت‘ کے نام سے ایک کہانی لکھ رہا تھا تو کرسٹین فیئر کی پچاس سے زاید صفحات کی ایک دستاویز کے مطالعے کے دوران میرا سسٹم کرپٹ ہو گیا۔ اور ریکوری تک میرے تمام نوٹس معلق ہیں۔ مجھے یہ شرارت ڈانا بدمعاش کی لگتی ہے جس نے بلوچستان قرار داد پیش کرنے سے قبل لوئی گومرٹ کے ساتھ مل کر بلوچستان سے متعلق ایک اوپ ایڈ بھی لکھا تھا جس کی بین الاقوامی سطح پر تشپیر بھی کی گئی تھی۔

    مزید یہ کہ ڈانا کی قراداد کے باعث آتش بپا پاکستان کے احتجاج کے رد عمل میں امریکی انتظامیہ کو وہ بیانات جاری کرنا پڑے جو جے کارنی اور وکٹوریا نیولینڈ صاحبہ الاپتی رہیں جن کے حوالہ جات پر آپ تکیہ کر رہے ہیں۔

    ڈانا کی احمقانہ قرارداد پر نہ تو ایوان کی جانب سے کوئی نقطہ اعتراض اٹھایا گیا نہ ہی ایوان کے سربراہ نے اس جانب توجہ دلائی کہ اقوام متحدہ کا دستور اور بین الاقوامی قوانین اس موضوع پر بحث کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ یہ ایک ریاست کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت اور دخل اندازی ہے۔ یہ سبق بھی پاکستان کو ہی پڑھانا پڑا۔

    بلوچستان میں کئی برسوں سے خفیہ امریکی اور چند دیگر کھلاڑیوں کے مذموم اقدامات اور کاروائیوں کی کہانیان بھی سب کے سامنے ہی تو ہیں۔ پردہ کیسا؟ بلوچ دہشت گردوں کو 7-sa سے حال ہی میں کس نے مسلح کیا ہے؟ کیا پاکستان کی ایک آزاد، خود مختار ریاست کی حیثیت کا احترام اور اس کا تسلیم اس طرح کیا جاتا ہے؟

    کہانی کا ذکر خیر آپ نے اگر چھیڑ ہی دیا ہے تو ہم اعتراف کرتے ہیں کہ زائینو، پینٹا، ہالی اور بالی وڈ سے بہترین کہانیاں اور کون ایجاد کر سکتا ہے۔ اوہ! ٹام کلینسی کی اس کہانی کا کیا کہنا جس کا چربہ ایبٹ آباد کی کہانی کی صورت منتج ہوا۔

    کلینسی کی کہانی کا عنوان دانستہ حذف کر رہا ہوں کیونکہ:

    ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
    کہ جن کو پڑھ کے لڑکے امریکا کو خبطی سمجھتے ہیں

    :00026:​
     
  13. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آپ نے اپنے پہلے جملے ميں يہ دعوی کيا کہ ميری جانب سے پيش کيے جانے والے حوالے اور بيانات کوئ وقعت نہيں رکھتے کيونکہ وہ امريکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہيں ليکن پھر دوسرے ہی جملے ميں آپ کچھ امريکی مصنفوں کی تصنيفات اور ان کی آراء کا حوالہ دے کر اپنی دلائل کو تقويت دينے کی سعی کر رہے ہيں۔ کيا آپ نہيں سمجھتے کہ آپ خود اپنی ہی نفی کر رہے ہيں کيونکہ ايک جانب تو آپ امريکی عوام کی اکثريتی راۓ سے منتخب شدہ امريکی حکومت سے وابستہ کسی بھی معلومات کو تسليم کرنے کے ليے تيار نہيں ہيں ليکن پھر اسی ملک کے بعض افراد کی راۓ کو سامنے رکھ کر اپنی سوچ مرتب کرنے پر مصر ہيں؟

    جہاں تک جذباتيت کو بالاۓ طاق رکھ کر درست حقائق کو ملحوظ رکھنے کی بات ہے تو اس ضمن ميں زمينی حقائق کی بنياد پر آپ کو اپنی کہانيوں ميں درستگی کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر آپ اس بنياد پر امريکہ کو ہدف تنقيد بنا رہے ہيں کہ ڈاکٹر شکيل آفريدی کو امريکی شہريت دينے کی قرارداد فوری طور پر منظور کر لی گئ اور اس بات کو آپ ايک حقيقت قرار دے رہے ہيں۔

    کانگريس کی جس ميٹينگ کا آپ حوالہ دے رہے ہيں اور جس ايشو کو بنياد بنا کر آپ نے راۓ دی ہے، اسی حوالے سے سرکاری دستاويز کا ايک عکس پيش ہے۔



    H.R.3901
    Latest Title: For the relief of Dr. Shakeel Afridi.
    Sponsor: Rep Rohrabacher, Dana [CA-46] (introduced 2/3/2012)      Cosponsors (None) Private bill
    Latest Major Action: 2/3/2012 Referred to House committee. Status: Referred to the House Committee on the Judiciary.
     
    This email is UNCLASSIFIED.


    ALL ACTIONS:
    2/3/2012:
    Sponsor introductory remarks on measure. (CR E134)
    2/3/2012:
    Referred to the House Committee on the Judiciary.



    آپ ديکھ سکتے ہيں کہ يہ معاملہ محض عدليہ کے امور سے متعلق ہاؤس کميٹی کے سپرد کيا گيا ہے۔ نا تو اس معاملے پر کوئ اتفاق راۓ ہے اور نا ہی اس پر کوئ قرارداد منظور کی گئ ہے۔ يہ دعوی کرنا کہ اس معاملے ميں کوئ فيصلہ کر ليا گيا ايک بے بنياد افواہ ہے جسے دانستہ ايک مخصوص اور محدود سياسی ايجنڈے کی تکميل کے ليے جذبات کو بڑھکانے کے ليے پھيلايا جا رہا ہے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  14. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    فواد صاحب جواب کا شکریہ ۔

    دیکھیں امریکی انتظامیہ اور ان کے پیش کردہ بیانات مسترد کرنے کی وجہ کسی تعصب پر مبنی نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے کا مقصد خود کو یا کسی کو بھڑکانا ہے۔ ہم بار بار ثبوت و حوالہ کے ساتھ امریکی حکام کے جھوٹ کے پول کھول چکے ہیں۔ لیکن
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    امریکی انتظامیہ پر اعتراض و تحفظات رکھنے والے امریکی مصنفین اور ہمارے نقطہ نظر جب تک مشترک ہوں گے ہم ان کے حوالہ جات دینے کا منطقی حق رکھتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنی نہیں بلکہ فریق مخالف کی نفی کرتے ہیں۔یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ امریکا بہ حیثیت مجموعی تمام طالبان کو برا کہتا ہے لیکن ان کی اپنی ایجاد کردہ اصطلاح ، ’’اچھے طالبان‘‘ سے مذاکرات جائز سمجھتا ہے۔ بس ایسا ہی ہے۔ ہم اچھے امریکیوں کو Quote کرنا درست سمجھتے ہیں اور بُرے امریکیوں کو مُسترد۔ اس لحاظ سے آپ ایک بے معنی بات کہہ گئے ہیں۔ لیکن ہم بہتری کی امید رکھتے ہوئےصرفِ نظر کرتے ہیں۔ اور تشویش رکھتے ہیں کہ کہیں آپ ایک گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دینے کی ناکام سعی کرتے ہوئے اس کے تلے دب کر کچلے نہ جائیں۔

    بہتر ہوتا کہ آپ ڈانا/شکیل سے متعلق ای میل کے مکمل اندرجات نقل کرتے یا بہتر، اس کا سکین پیش کرتے۔ تاکہ ہم کوئی مثبت جواب دے سکیں۔ کہیں ایسا تو نہیں

    کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 11, 2012
  15. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    ہم نے کب دعوٰی کیا ہے کے طالبان پر ڈالی ہے۔۔۔ ہم تو خود کہہ رہے ہیں کے یہ ذمہ داری آپ نے القائدہ پر ڈالی ہے۔۔۔ لیکن کیا جو کمانڈرز طالبان کو کمانڈ کررہے ہیں اُن کا تعلق کس سے ہے؟؟؟۔۔۔ القائد بغل بچہ تھی طالبان کی جیسے امریکہ بغل بچہ ہے اسرائیل کا۔۔۔

    دوسری بات جو لفظ ذمہ داری آپ استعمال کررہے ہیں۔۔۔ اس کی عیاری بھی سامنے لائیں۔۔۔ یعنی گیارہ ستمبر کے واقعات کا مجرم آپ القائدہ کو سمجھتے ہیں۔۔۔ یعنی اُن پر یہ الزام تھا کے اس جرم کا ارتکاب انہوں نے کیا ہے تو سوال یہ ہے کے اُن کو مجرم آپ نے کیسے ثابت کردیا؟؟؟۔۔۔

    ’’٩/١١ کا سب سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ امریکی قوم نے اس سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ امریکہ نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ مشرق وسطیٰ کے انیس خودکش حملہ آوروں نے نیویارک اور واشنگٹن پر حملے کیوں کئے۔ حالانکہ ہائی جیکرز کے لیڈروں نے بہت پہلے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ ہم امریکہ کو سعودی سرزمین پر ڈیرے ڈالنے اور اسرائیل کو فسلطینوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی کھلی چھٹی دینے کی سزا دیں گے۔ مختصراً یہ کہ ٩\١١ کے حملوں کے مقاصد مکمل سیاسی تھے لیکن امریکہ میں بش کی حکومت اور کانگرس یہ ماننے سے انکاری رہے کہ اُن کی مشرق وسطٰی سے متعلق اپنی غلط پالیسی ہی ٩\١١ کا موجب بنی بلکہ بش نے تو مغرب کے میڈیا کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا اور کہا کہ مسلمان ہماری آزادی، مذہبی سوچ اور اقدار کے دشمن ہیں‘‘۔

    دس سال تک افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں بُری طرح پٹ جانے اور اپنی معاشی حالت کو تباہ کر لینے کے بعد بھی امریکہ نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ معاشی بدحالی اور افغانستان کے اندر بڑی واضح شکست کے بعد اب امریکی حالت بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے۔۔۔ چونکہ اب ٢٠١٢ء کے امریکی صدارتی انتخابات بھی سر پر ہیں اور افغانی کمبل اتحادی افواج کے ساتھ پگھلے ہوئے پلاسٹک کی طرح ایسے چمٹا ہوا ہے کہ جان چھوڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔۔۔ اب امریکی عوام کو دھوکہ دینے کے لئے امریکی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ افغانستان میں امریکی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا عدم تعاون اور پاک سرزمین پر موجود دشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔۔۔ امریکہ کو خود افغانستان کی طرف سے وہ تین سو دہشتگردوں کا لشکر جس نے چترال پر حملہ کر کے ہمارے پینتیس پاکستانیوں کو ہلاک کر گیا، بالکل نظر نہیں آیا، لیکن امریکہ پاکستان سے یہ توقع کیسے کر سکتا ہے کہ پاکستان کی پہاڑویوں کے اندر اگر کوئی اکیلا دہشت گرد بھی چھپا ہوا ہے تو اُس کا پاکستان کو علم ہونا چاہیے۔۔۔

    امریکی دانشور Eric S Margolis نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ چونکہ ٩/١١ کے حملوں کے محرکات سیاسی تھے اس لئے اس مسئلے کا حل بھی سیاسی ہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطٰی اور جنوبی ایشاء میں خصوصاً فلسطین اور کشمیر سے متعلق اپنی امریکی پالیسی میں تبدیلی لائے تاکہ محروم قوموں کو اُن کا حق مل سکے۔ Eric S Margolis نے کہا :

    "Poll after poll is now showing that a majority in muslim nations, even so called moderate ones, (like Egypt, Inodesia and Morroco), mistakenly believe that the US is out to destroy Islam."
    یعنی بہت سے عوامی جائزے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ مسلمان ریاستوں کی اکثریت جن میں مصر، انڈونیشا اور مراکش جیسے میانہ روی کی سوچ رکھنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ امریکہ اسلام کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔ فواد یہ لائنیں میری نہیں ہیں نہ ہی کسی مسلمان دانشور کی۔۔۔

    اب تک جو امریکہ کا مسلمانوں کے خلاف رویہ رہا ہے اس سے تو ہمیں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اگر مسلم دنیا کا دشمن نہیں تو دوست بھی نہیں۔ امریکہ کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر کوئی ملک امریکہ کو اُبلتے ہوئے تیل والی افغان کڑاہی سے نکال کر سکتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے۔ اس لئے امریکہ کو پاکستان کی وساطت سے افغان طالبان سے بات کرنی چاہیے اور پاکستان کو تمام امن مذاکرات کے لئے اعتماد میں لینا چاہیے۔۔۔

    فواد صاحب بڑی معذرت کے ساتھ یہ حقائق آپ کو کیوں نظر نہیں آتے۔۔۔

    دوسری بات وہ جو پاکستانی ڈاکٹر والا معاملہ ہے وہ بھی ڈھونگ دھتورہ ہے۔۔۔ صرف اُس فرضی واقعے کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے کے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد سے برآمد کیا گیا ہے؟؟؟۔۔۔ یہ چال اس لئے چلی گئی کے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا جواز تو چاہئے نا!!!۔۔۔ جیسے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو خود ہی گرا کر افغانستان میں مسلمانوں کے خلاف اسلام کو مغلوب کرنے کی سازش رچی گئی۔۔۔ مگر شاید امریکہ بہادر یہ بھول رہا تھا کے ہر مرض کا علاج ایک ہی دوا سے نہیں کیا جاتا۔۔۔ محترم یہ نظریاتی قوم ہے۔۔۔ اور دنیا میں دوسری ریاست جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی پہلی جانتے ہیں کونسی تھی؟؟؟۔۔۔ مدینہ المنورہ۔۔۔ یاد رکھئے گا۔۔۔ اور وہاں پر یہود ونصارٰی کے ساتھ کیا ہوا وہ بھی سامنے رکھئے گا۔۔۔

    یار تم لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہو۔۔۔ کے تم جس قوم سے بغض رکھتے ہو۔۔۔ وہ اللہ کی پسندیدہ لوگ ہیں۔۔۔ لہذا پچھلے تین دھائیوں سے جو چالیں تم ان کافروں کے ایماء‌ پر چل رہے وہ چالیں اللہ وحدہ لاشریک نے تمہارے منہ پر دے ماریں۔۔۔ اور کڑوے الفاظ مگر بیان کرنا ضروری کے ہمارا ایمان ہے ان شاء اللہ، اللہ رب العزت تمہاری چالوں کو مستقبل میں بھی تمہارے منہ پر دے مارے گا۔۔۔

    کیونکہ کافر کبھی بھی اللہ کی نعمتوں سے پھل پھول نہیں سکتا۔۔۔اگر ایسا ہوتا تو یہود ونصارٰی عرب سے نکال باہر نہ دیئے جاتے۔۔۔ یہودی اور نصرانی دراصل پیراسائٹس ہیں۔۔۔ وہ کیڑا جو دوسرے کی خوراک پر زندگی بسر کرتا ہے۔۔۔ سیدھا مشورہ، میٹھی گولی جس دین کی حفاظت کا ٹھیکہ خود اللہ نے اُٹھا لیا ہوا تو اسکو قیامت تک کوئی ختم نہیں کر پائے گا یعنی سوچو قیامت تک تم اور تمہاری آنے والی نسلیں کیا بوو رہی ہیں اور روز محشر کیا کاٹیں گی؟؟؟۔۔۔

    قرآن پڑھو اللہ سے دُعا کرو کے وہ تمہارے ساتھ رحم کا معاملہ رکھے کیونکہ اسی قرآن میں ہے کے جہنم کی آگ کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔۔۔ مسلمان سے رکھا جانے والا حسد یا بغض براہ راست مسلمان سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے یعنی اللہ سے ہے یہ بات جاہلوں کی سمجھ میں نہیں‌آئے گی۔۔۔ کیونکہ ہدایت اللہ دیتا ہے۔۔۔ اُسی طرح جس طرح عزت۔۔۔

    والسلام۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 11, 2012
  16. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اسامہ بن لادن کے 911 کے واقعات ميں ملوث ہونے کے حوالے سے يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ ابتدا ميں القائدہ کی ليڈرشپ کی جانب سے اس کی سختی سے ترديد کی گئ تھی۔ اس ضمن ميں آپ کو حامد مير کے مشہور زمانہ انٹرويو کا حوالہ دوں گا جس ميں اسامہ بن لادن نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کا 911 کے واقعات سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ ليکن جب اسامہ بن لادن کی ويڈيو ٹيپ (جس ميں وہ اس حملے کا اعتراف کر رہے ہيں) اور القائدہ کے کئ سابق ممبران کے بيانات سميت کئ ناقابل ترديد ثبوت منظرعام پر آۓ تو القائدہ کی ليڈرشپ کی جانب سے 911 کے واقعات کے ضمن ميں حکمت عملی ميں واضح تبديلی آئ۔ حاليہ برسوں ميں القائدہ کی ليڈرشپ کی جانب سے نہ صرف يہ کہ 911 کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئ ہے بلکہ اشتہاری مواد ميں اس "کاميابی" کو اجاگر کر کے مزيد دہشت گرد تيار کرنے کے ليے برملا استعمال کيا جا رہا ہے۔

    القائدہ کے نمبر 3 ليڈر شيخ سعيد کا جيو کے رپورٹر نجيب احمد کے ساتھ انٹرويو جو کہ کامران خان کے شو پر دکھايا گيا اس کی تازہ مثال ہے۔ اس انٹرويو ميں موصوف نے نہ صرف القائدہ کی جانب سے 911 کے واقعات کا اعتراف کيا بلکہ اسلام آباد ميں ڈينش ايمبسی پر خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

    http://www.geo.tv/7-22-2008/21247.htm


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    يہ دليل ناقص اور عالمی سطح پر ممالک کے مابين تعلقات کے تناظر ميں غير منطقی ہے۔ اگر آپ کی دليل درست تسليم کر لی جاۓ تو پھر اس صورت ميں امريکہ کے اندر کسی بھی نجی گروہ يا تنظيم کے لیے يہ جائز ہو گا کہ وہ امريکہ سے تمام پاکستانيوں اور مسلمانوں کے نکالنے کا مطالبہ کر دے۔ صرف يہی نہيں بلکہ آپ کی دليل کی روشنی ميں امريکی حکومت کی جانب سے اس مضحکہ خيز مطالبہ کو رد کرنے کی صورت ميں اس گروہ کے ليے يہ جائز ہو گا کہ وہ اپنے مطالبے کو منوانے کے لیے دنيا بھر ميں مسلمانوں اور پاکستانيوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ يہی کچھ اسامہ بن لادن نے کيا تھا جب ان کی تنظيم کی جانب سے امريکہ کے خلاف اعلان جنگ کر کے دنيا بھر ميں امريکی شہريوں کے ساتھ ساتھ ہر اس مسلمان کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کر ديا گيا جو ان کے اقدامات سے اختلاف رکھتا تھا۔

    آج کی حقیقی دنيا ميں ممالک کے مابين تعلقات دہشت گرد تنظيموں، غير رياستی عناصر اور باغی تنظيموں کے سياسی اور مذہبی ايجنڈوں کے نتيجے ميں نہ ہی اثر انداز ہوتے ہيں اور نہ ہی ان ميں ردوبدل کيا جاتا ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات، دو طرفہ تجارت اور خطے کے حوالے سے پاليسياں ممالک کے مابين طويل المدت تعلقات اور باہمی مفادات کی بنياد پر طے کيے جاتے ہيں۔

    ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بھی واضح کر دوں کہ سال 2003 ميں امريکی حکام نے سعودی عرب ميں مقیم قريب 5000 امريکی فوجيوں کو واپس بلوا ليا تھا جس کے بعد ايک بہت ہی قليل تعداد سعودی عرب ميں تربيتی معاملات کی ديکھ بھال اور اس ضمن میں جاری پروگرامز کو پايہ تکميل تک پہنچانے کے ليے رہ گئ ہے۔

    سال 2003 اگست 27 کو امريکی فضائيہ کے جرنل رابرٹ ايلڈر نے اس تقريب کی صدارت کی تھی جو امريکی فضائيہ کے 363 ويں ائر ايکسپی ڈیشينری ونگ کی سعودی عرب سے واپسی کے لیے پرنس سلطان ائر بيس پر منعقد کی گئ تھی جہاں پر 5000 امريکی فوجی سعودی عرب ميں مقیم رہے تھے۔

    اگر آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ اسامہ بن لادن کی جانب سے امريکہ کے خلاف اعلان جنگ کی وجہ سعودی عرب ميں امريکی افواج کی موجودگی تھی تو پھر وہاں سے امريکی افواج کی واپسی کے بعد ان کی جانب سے پاليسی میں تبديلی کا عنديہ کيوں نہيں ديا گيا؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  18. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    سب سے پہلے تو ميں واضح کر دوں کہ افغانستان ميں ہماری فوجی کاروائ اور خطے ميں ہماری موجودگی کا محرک انتقام کا جذبہ يا کسی کو سبق سکھانا ہرگز نہيں تھا۔ اگر ايسا ہوتا تو ہمیں تمام عالمی برادری اور خطے ميں پاکستان سميت اپنے تمام اتحاديوں سے مسلسل حمايت حاصل نہ ہوتی۔

    ہزاروں کی تعداد ميں اپنے فوجی ايک دور دراز ملک ميں بھيجنے اور اس کی معاشی قیمت ادا کرنے ليے ہمارا بنيادی مقصد اور اصل محرک شروع دن سے يہی رہا ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت کو يقينی بنايا جا سکے۔ صرف امريکی زندگياں ہی نہيں بلکہ افغانی اور پاکستانی جانيں بھی جو ہمارے مشترکہ دشمنوں کے ہاتھوں روزانہ کی بنياد پر نقصان اٹھا رہے ہیں۔ یقينی طور پر حاليہ خودکش حملوں کے بعد پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان عناصر کی بيخ کنی کی کاوشوں پر آپ ان پر محض اس بنياد پر تنقيد نہيں کر سکتے کہ ايسی کوئ بھی کاروائ مزيد تشدد کا سبب بن سکتی ہے۔ ايسی سوچ ان دہشت گردوں کی مزيد حوصلہ افزائ کا سبب بنے گی تا کہ وہ قتل و غارت گری کی اپنی مہم کو جاری رکھيں۔

    جنگ کے منفی اثرات سے کوئ بھی پہلو تہی نہيں کر سکتا۔ ايسی صورت حال کی روک تھام کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہيے۔ ليکن دہشت گردی تو دور جس کے نتيجے ميں بے شمار بے گناہوں کی موت واقع ہوتی ہے، کسی بھی جرم کو بغیر سزا کے درگزر نہيں کيا جا سکتا اور دہشت گردوں کو دوبارہ اپنی کاروائياں کرنے کی اجازت نہيں دی جا سکتی۔ ايسا کرنا کسی بھی ايسے انسانی معاشرے يا ملک کے بنيادی انسانی اسلوب کی نفی ہے جو اپنے شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کرنے کا خواہاں ہے۔

    ہم درپيش چيلنجز اور متوقع قربانيوں سے پوری طرح واقف ہيں۔ ليکن دہشت گردی کی قوتوں کے سامنے ہتھيار ڈالنے کا آپشن ہمارے پاس نہيں ہے۔ اس کے علاوہ ايسا کرنا دنيا بھر ميں ان لواحقين کے لیے انصاف کی دھجياں کرنے کے مترادف ہو گا جن کے چاہنے والے دہشت گردی کے اس عالمی عفريت کا شکار ہوۓ ہيں۔

    ستمبر 11 2001 کو امريکی سرزمين پر ہونے والے حملے ہماری افغانستان ميں موجودگی کا سبب بنے۔ عالمی سطح پر يہ طے پا چکا تھا کہ اسامہ بن لادن ہی 911 کے حملوں کے ذمہ دار تھے اور انھيں افغانستان ميں طالبان کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اسامہ بن لادن کو امريکہ کے حوالے کرنے کے لیے کئ ناکام مذاکرات کے بعد امريکہ نے بالآخر افغانستان ميں باقاعدہ حملے کا فيصلہ کيا۔

    اس میں کوئ شک نہيں ہے کہ افغانستان ميں ہماری موجودگی کے سبب بے گناہ انسانوں کی جانيں بھی ضائع ہوئ ہیں لیکن ہمارے اسی عمل کے سبب بے اس سے کہيں زيادہ جانيں محفوظ بھی ہوئ ہیں۔ يہ سوچنا کہ امريکہ پر حملے کے بعد ہم اگر ردعمل نہ دکھاتے تو القائدہ اور ان سے منسلک گروہ اپنے آپ ہی منظر سے ہٹ جاتے، زمينی حقائق سے انکار کے مترادف ہے۔

    صدر اوبامہ نے افغانستان ميں اپنے اہداف اور مقاصد ان الفاظ ميں واضح کيے ہیں

    "ہم افغانستان کو تمام مسائل سے پاک کامل معاشرہ بنانے کی کوشش نہيں کريں گے۔ ہم جس ہدف کو حاصل کرنا چاہتے ہيں وہ قابل عمل ہے اور اسے آسان الفاظ میں يوں بيان کيا جا سکتا ہے : القائدہ اور ان سے منسلک ساتھيوں کے ليے کوئ ايسا محفوظ ٹھکانہ نہيں ہونا چاہیے جہاں سے وہ ہماری سرزمين اور اتحاديوں کے خلاف حملے کر سکیں۔"

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    Incompatible Browser | Facebook
     
  19. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    کيا آپ يہ دليل دينا چاہ رہے ہيں کہ چونکہ کئ دہائيوں پرانے کشمیر اور فلسطين کے تنازعات ميں بے گناہ افراد ہلاک ہوۓ ہيں اس لیے ان دہشت گردوں اور خود ساختہ آزادی کے متوالوں کی کاروائياں اس بنياد پر جائز ہيں کہ ان ميں اس حوالے سے شديد غم وغصہ پايا جاتا ہے؟

    کشمير اور فلسطين سميت ديگر علاقائ اور عالمی تنازعات اور دہشت گردی کی موجودہ لہر ميں اہم ترين فرق يہ ہے کہ تمام عالمی برادری بشمول پاکستان کے اس حقيقت کا ادارک بھی رکھتی ہے اور اس کو تسليم بھی کرتی ہے کہ دہشت گردی ايک عالمی عفريت ہے جس کا خاتمہ تمام فريقین کے ليے اہم ہے۔ اس کے مقابلے ميں ديگر تنازعات میں فریقين کے مابين اختلافی موقف اور نقطہ نظر کا ٹکراؤ ہے۔

    آپ کی راۓ سے يہ تاثر ابھرتا ہے کہ چونکہ کشمير اور دنيا کے ديگر علاقوں ميں بے گناہوں کا خون بہہ رہا ہے اس لیے پاکستان اور افغانستان ميں بھی عورتوں اور بچوں کا قتل قابل فہم ہے يا اس کی توجيہہ پيش کی جا سکتی ہے۔ سياسی اختلافات کی بنياد پر دوسروں کے خلاف کھلم کھلا دہشت گردی کا لائسنس نہیں ديا جا سکتا۔

    اگر آپ کے کسی چاہنے والے کا چہرہ زخموں کے باعث سرخ ہو چکا ہو تو اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ اظہار يکجہتی کے نام پر آپ بھی دانستہ اپنا چہرہ مار پيٹ کر سرخ کر ليں۔

    اس دليل کی کمزوری اور ہر وہ شخص جو دہشت گردی کے گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہمدردی کے جذبات يا حمايت کا اظہار کرتا ہے اس بات سے عياں ہے کہ ان بے گناہ افراد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی ہمدردی يا رعايت کے اظہار سے اجتناب کيا جاتا ہے جو ان مجرموں کی کاروائيوں کا نشانہ بن رہے ہيں۔ آپ دنيا کے مختلف علاقوں ميں ہونے والے واقعات کے حوالے سے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ اسی دوران پاکستان کے گلی کوچوں ميں بے گناہ پاکستانی شہری دہشت گردی کی کاروائيوں کا شکار بن رہے ہیں۔

    اس میں کوئ شک نہیں کہ فلسطين کے مسلۓ اور اس کے نتيجے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ہلاکت امريکہ سميت تمام عالمی برادری کے ليے ايک لمحہ فکريہ ہے۔ ليکن اس مسلۓ کے حوالے سے بھی امريکی حکومت تشدد کی محرک يا وجہ نہيں بلکہ تنازعے کو حل کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ہم تمام متعلقہ فريقين کے مابين کدورتيں ختم کرا کر خطے ميں پائيدار امن کے ليے ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں۔ اس حوالے سے ہماری پوزيشن اور نقطہ نظر کو بے شمار عرب ممالک کی حمايت بھی حاصل ہے۔

    ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکی حکومت اسرائيل سميت دنيا کی کسی بھی ملک کی فوج يا اس کی جانب سے کسی قسم کی عسکری کاروائ کی ذمہ دار نہيں ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  20. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ايسی کسی تاويل کو قبول کرنے کے ليے نہ صرف يہ کہ عقل و دانش کے تمام اصولوں کو پس پشت ڈالنا پڑے گا بلکہ اس کہانی ميں موجود بے شمار جھول بھی مدنظر رکھنے ہوں گے جو کسی معمولی فہم والے شخص کے لیے بھی بالکل واضح ہيں۔ جو راۓ دہندگان اس دليل پر بضد ہیں اور ان کہانيوں کو بڑھا چڑھا کر بيان کر رہے ہیں، وہ يہ سوچ رکھتے ہیں کہ ايبٹ آباد آپريشن میں شامل ہر شخص کو ايک انتہائ منظم طريقے سے راستے سے ہٹا ديا گيا ہے۔ يہ نظريہ نہ صرف يہ کہ دور کی کوڑی لانے کے مترداف ہے بلکہ حقائق کی بھی سراسر نفی ہے۔ يہ کوئ خفيہ امر نہيں ہے کہ امريکی صدر، وزير خارجہ اور وزير دفاع سميت منصب اقتدار پر براجمان تمام اہن ترين شخصيات نہ صرف يہ کہ ايبٹ آباد آپريشن کی منصوبہ بندی کے ہر مرحلے ميں براہراست شامل تھيں بلکہ آخری لمحے تک ذاتی حيثيت ميں تمام مراحل کی نگرانی کے فرائض بھی انھوں نے خود انجام ديے تھے۔

    يہ دعوی کرنا کہ اسامہ بن لادن آپريشن سے متعلق ہر شخص اب ہلاک ہو چکا ہے ايک کھوکھلی دليل ہے جو اسی نقطے پر کمزور پڑ جاتی ہے کہ صدر اوبامہ نے خود ايبٹ آباد آپريشن کا اعلان کيا تھا اور ان تمام اہم امريکی عہديداروں سميت اس فوجی يونٹ کی کاوشوں کو سراہا تھا جو اس آپريشن کی منصوبہ بندی اور کاميابی کے ليے ذمہ دار تھے۔

    ميں يہ بھی اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اسامہ بن لادن کی دو بيوياں اور بچے اور جو اس تمام آپريشن کے چشم ديد گواہ تھے اور ايبٹ آباد کے اس گھر ميں واقعے کے دوران موجود تھے، وہ سب کے سب نا صرف يہ کہ زندہ ہیں بلکہ پاکستانی حکام کی تحويل میں رہے ہیں۔

    ايک ايسے واقعے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کا الزام لگانا بالکل بے معنی اور عقل سے عاری ہے جس کی گواہی، اعتراف اور عوامی سطح پر تفاصيل خود امريکہ اور پاکستان کی حکومتوں نے دی ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں