میرا دفاع کون کرے گا

m aslam oad نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏فروری 17, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    دہشت گردوں کی جانب سے بارہا عوامی سطح پر اپنے واضح پيغام اور غير متزلزل عزم ميں اس بات کا اظہار کيا گيا ہے کہ پاکستان کی رياست، فوج اور حکومت پر تواتر کے ساتھ حملے کيے جائيں گے۔ اس کے باوجود حيران کن طور پر کچھ راۓ دہندگان انھی پرانی گھسی پٹی کہانيوں کو دہراتے رہتے ہيں جن کے مطابق امريکہ مبينہ طور پر پاکستان کے ايٹمی اثاثوں پر قبضے کا خواہش مند ہے۔

    پاکستان حاليہ برسوں ميں ايٹمی قوت نہيں بنا ہے۔ سال 1998 میں پاکستان کی جانب سے ايٹمی دھماکے کے بعد امريکہ حکومت نے خطے میں استحکام اور پاکستان کی ايجينسيوں کی اپنے ايٹمی ہتھياروں سميت اہم قومی اثاثوں کی حفاظت کے ضمن میں صلاحيتوں ميں اضافے کے ليے کئ بلين ڈالرز فراہم کيے ہیں۔ اس کے برعکس اسی ٹائم فريم کے دوران ملک کے طول وعرض میں دہشت گرد تنظيموں کی خونی کاروائياں سے ايک تنقیدی موازنہ يہ حقيقت واضح کر ديتا ہے کہ پاکستان کے عوام کا اصل دشمن کون ہے۔

    امريکی حکومت پاکستان سميت دنيا کے کسی بھی ملک کے ايٹمی ہتھياروں پر قبضہ کرنے کا کوئ ارادہ نہيں رکھتی۔ اس الزام کا کوئ ثبوت موجود نہیں ہے۔ يہ کوئ خفيہ بات نہيں ہے کہ امريکی حکومت نے بشمول عالمی برادری کے عوامی سطح پر اس حوالے سے تحفظات اور خدشات کا اظہار کيا ہے کہ ايٹمی ثيکنالوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں ميں نہ چلی جاۓ۔ ان خدشات کی بنياد القائدہ کی قيادت کی جانب سے يہ واضح ارادہ اور کوشش ہے کہ وسيع بنيادوں پر تباہی کرنے والے ہتھياروں تک رسائ حاصل کی جاۓ۔ ايسی صورت حال کے وقوع پذير ہونے کی صورت ميں پاکستان سميت تمام دنيا کے ممالک کے ليے خوفناک نتائج سامنے آئيں گے۔

    عوامی سطح پر ان خدشات کا اظہار اور اپنے اتحاديوں کے ساتھ سفارتی سطح پر اس ضمن ميں خيالات اور حکمت عملی کے تبادلے کے عمل کو کسی بھی صورت ميں پاکستان کے ايٹمی ہتھياروں پر امريکی قبضے کی دھمکيوں سے تعبير نہيں کيا جا سکتا ہے۔ صدر اوبامہ نے بذات خود اس بات کو واضح کيا ہے کہ حکومت پاکستان ہی پاکستان کے ايٹمی ہتھياروں کی حفاظت کے ليے ذمہ دار ہے۔

    ميں يہ بھی اضافہ کرنا چاہوں گا کہ امريکی حکومت پاکستان کی حکومت اور عسکری قيادت کے ساتھ مل کر باہم اہميت کے بہت سے معاملات پر کام کر رہی ہے جن ميں جديد ہتھياروں کی فراہمی، اسلحہ اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحيتوں ميں اضافے کے لیے تکنيکی مہارت کی دستيابی بھی شامل ہے۔ اگر امریکی حکومت کا مقصد اور ارادہ پاکستان کے دفاع کو کمزور کرنا ہوتا تو وسائل کی يہ شراکت ممکن نہ ہوتی۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  2. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    گیارہ ستمبر سے متعلق کئے گئے تبادلہ خیال سے متعلق سوئٹزر لینڈ کے تاریخ کے پرفیسر ڈینئیل گینزر کا لیکچر غیر جانبداری کے تقاضے پورے کرنے، بش اور اوباما انتظامیہ کی بد عنوانی اور دانستہ جھوٹ، مکر و فریب کو چاک کرنے میں اہم نکات پیش کرتا ہوئے فواد صاحب کے پیش کردہ بیشتر نکات کی نفی کرتا ہے۔ لیکچر کا بنیادی نکتہ LIHOP اور MIHOP نظریے پر مبنی ہے۔ جس کا مطلب 'نو دو گیارہ حملے' سے متعلق Bush Let it Happen on Purpose یا Bush Made it Happen on Purpose ہے۔

    قابلِ تحقیق اور معلوم امر یہ ہے کہ ستبمر گیارہ کے حملے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق رو بہ عمل لائے گئے۔ ہنری کسنجر کے بیانات، بش کی انتخابی مہم سے متعلق ' نیو امیریکن سینچری' نامی دستاویز اور اس میں ایک اور پرل ہاربر جیسے حملے کی ضرورت کے بیانات اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ نیو کانز امریکا میں ایک حملے کا ناٹک خود رچا کر اور اس کا الزام False Flag Operation کے تحت اسامہ یا القاعدہ پر لگا کر افغانستان اور پھر عراق کے بعد اس کا سلسلہ دیگر عالمِ اسلام پر دراز کریں۔ یہ الگ بات ہے کہ مجاہدین کی ایک نہایت قلیل تعداد نے جہاد کے ذریعے امریکا اور اس کے صیہونی اور صلیبی حواریوں کی بساط پلٹ دی اور دنیا پر امریکی حکومت کا سہانا خواب ایک ڈراؤنے خواب Nightmare میں بدل کر رکھ دیا۔ شیخ اسامہ بن لادن یا القاعدہ ایسے کسی حملے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی شیخ اسامہ نے ایسے کسی حملے کی ذمہ داری حامد میر کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری انٹرویو میں قبول کی۔شیخ سے منسوب اس کے بعد کے تمام آڈیو اور ویڈیو بیانات Morghing Technology کا شاہکار ہیں اور خود امریکی ماہرین شیخ سے منسوب بیانات کے اسناد کی تنقیص کر چکے ہیں۔

    نو گیارہ کے حملوں سے متعلق بش انتظامیہ کی ترتیب دی گئی وضاحتیں اور انکوائری کمیشن سے نہ صرف متاثرہ خاندان اور لواحقین، بلکہ فزکس، کیمسٹری، کے ہزاروں سائنسدان، پروفیسرز، فوجی اور سول پائلٹ، صحافی اور مصنفین نہ صرف عدم اطمینان بلکہ شدید شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں بلکہ یہ سلسلہ جاری ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ سی آئی اے کی اہلکار سوزن لینڈور کا بیان بھی قابلِ غور ہے جو ستمبر حملوں سے متعلق بش انتظامیہ کے ملوث ہونے اور ان کے مجرمانہ اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ لیکن سوزن لینڈور اور امریکی مذہبیات و اخلاق کے پروفیسر ڈیوڈ رے گرفن جو ستمبر گیارہ حملوں سے متعلق امریکی حملوں سے متعلق شک مند ہیں اور کئی کتابیں تصنیف کر چکے ہیں، مثال کے طور پر ان کی ایک کتاب، دی نیو پرل ہاربر، پروفیسر گینزر کی اصطلاح LIHOP نظریے پر پورا اترتی ہے۔ ڈاکٹر گرفن کی کتابیں تو میرے علم میں کسی اضافے کی بجائے سراسر مالی تخفیف کا باعث بنیں۔مذہبیات اور اخلاقیات کے استاد کو ستمبر گیارہ میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع پر پیسہ بناتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ یہ کام لیری سلور سٹائن وغیرہ کو ہی زیب دیتا ہے۔ میں آگاہ کر رہا ہوں کہ اگر یہ بڈھا میرے سامنے آیا تو میں اس کی تمام کتابیں بقول انگریزی محاورہ، To throw the book at کے مطابق اس کے سر دے ماروں گا۔ ابتسامہ۔

    شیخ اسامہ سے متعلق جعلی آڈیو اور وڈیو سے متعلق مواد وقت ملنے پر کسی اور وقت پیش کروں گا سرِ دست پروفیسر گینزر اور سوزی لینڈور کے بیانات ملاحظہ فرمائیے :



     
  3. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    جس کہانی کا ذکر میں نے دانستہ گول کر دیا تھا اس کی چند وجوہات تھیں۔پہلے تو اس کہانی کا مصنف ٹام کلینسی نہیں فریڈرک فورسائتھ ہے۔ اور کہانی کا عنوان، The Afghan ہے۔

    ایبٹ آباد کا واقعہ ہوتے ہی توجہ اس کہانی کی جانب گئی۔ اور میں امریکہ اور پاکستان کے آئندہ آنے والے بیانات کا انتظار کرتا رہا اور تقریباً میرے تمام اندازے درست ثابت ہوئے۔

    مصنف کا نام دانستہ غلط دے کر میں فواد کا ریسرچ لیول اور اس کا ری ایکشن دیکھنا چاہتا تھا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں