غزل ۔ وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں

sfaseehrabbani نے 'شعری مجلس' میں ‏مارچ 8, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. sfaseehrabbani

    sfaseehrabbani معروف اردو شاعر

    شمولیت:
    ‏نومبر 17, 2010
    پیغامات:
    267
    شاہین فصیح ربانی
    غزل
    وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں
    نظر اٹھا کے مری سمت دیکھتے بھی نہیں

    یہ قربتیں بھی ہیں طرفہ، یہ دوریاں بھی عجب
    نہیں وہ پاس بھی میرے، کہیں گئے بھی نہیں

    کبھی تو حال سناتے ہیں بیتے لمحوں کا
    کبھی یہی در و دیوار بولتے بھی نہیں

    ابھی سے موسمِ گل رخصتی کی دھن میں ہے
    ابھی تو پھول چمن میں نئے کھلے بھی نہیں

    اجاڑ محفلوں جیسے اجاڑ ہیں دن بھی
    وصال رُت کے وہ رنگین رتجگے بھی نہیں

    کسی سے حالِ دلِ زار کس طرح کہیے
    کہ اب تو لوگ یہاں درد بانٹتے بھی نہیں

    ابھی سے آئنہ دامن جھٹک رہا ہے فصیحؔ
    ابھی تو رنگ مرے عکس میں بھرے بھی نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    بہت خوب
     
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    بہت عمدہ فصیح بھائی، زبردست۔
     
  5. sfaseehrabbani

    sfaseehrabbani معروف اردو شاعر

    شمولیت:
    ‏نومبر 17, 2010
    پیغامات:
    267
    آپ تینوں معزز احباب کی ان عنایات کے لیے
    بہت شکر گزار ہوں۔
    ہمیشہ خوش و خرم رہیے۔
     
  6. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    بہت خوب جناب!
     
  7. sfaseehrabbani

    sfaseehrabbani معروف اردو شاعر

    شمولیت:
    ‏نومبر 17, 2010
    پیغامات:
    267

    آپ کا بہت شکریہ، سدا شاد رہیے۔
     
  8. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    تلاش یار میں جب سے چلے ہیں
    نہ رات آئی نہ سائے ہی ڈھلے
     
  9. sfaseehrabbani

    sfaseehrabbani معروف اردو شاعر

    شمولیت:
    ‏نومبر 17, 2010
    پیغامات:
    267
    شاہین فصیح ربانی
    غزل
    وہ میرے دھیان سے غافل کبھی ہوئے بھی نہیں
    نظر اٹھا کے مری سمت دیکھتے بھی نہیں

    یہ قربتیں بھی ہیں طرفہ، یہ دوریاں بھی عجب
    نہیں وہ پاس بھی میرے، کہیں گئے بھی نہیں

    کبھی تو حال سناتے ہیں بیتے لمحوں کا
    کبھی یہی در و دیوار بولتے بھی نہیں

    ابھی سے موسمِ گل رخصتی کی دھن میں ہے
    ابھی تو پھول چمن میں نئے کھلے بھی نہیں

    اجاڑ محفلوں جیسے اجاڑ ہیں دن بھی
    وصال رُت کے وہ رنگین رتجگے بھی نہیں

    کسی سے حالِ دلِ زار کس طرح کہیے
    کہ اب تو لوگ یہاں درد بانٹتے بھی نہیں

    ابھی سے آئنہ دامن جھٹک رہا ہے فصیحؔ
    ابھی تو رنگ مرے عکس میں بھرے بھی نہیں
     
  10. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    کسی سے حالِ دلِ زار کس طرح کہیے
    کہ اب تو لوگ یہاں درد بانٹتے بھی نہیں


    بہت خوب
     
  11. sfaseehrabbani

    sfaseehrabbani معروف اردو شاعر

    شمولیت:
    ‏نومبر 17, 2010
    پیغامات:
    267

    اچھا شعر ہے، بہت شکریہ
     
  12. sfaseehrabbani

    sfaseehrabbani معروف اردو شاعر

    شمولیت:
    ‏نومبر 17, 2010
    پیغامات:
    267

    آپ کا بہت شکریہ اس نوازش پر، سدا شاد آباد رہے۔
     
  13. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
    فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی

    کھلےگا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب
    قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

    لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہے
    ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی

    انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
    اٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی

    ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرنا
    ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی

    چچا غالب کی شاعری سے اقتباس
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں