آسکر ایوارڈ : پاکستان کے خلاف امریکی پروپیگنڈا مہم

ابوعکاشہ نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏مارچ 12, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    آسکر ایوارڈ : پاکستان کے خلاف امریکی پروپیگنڈا مہم
    ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

    شرمین عبید چنائے کی نوائے وقت نے سب سے پہلے خبر دی۔ ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ مگر یورپ اور امریکہ والے ہمارے لئے نرم گوشہ نہیں رکھتے۔ یہ اس طرح کی کوششوں اور سازشوں سے ہمارے منہ پر کالک ملتے رہتے ہیں۔ عورتوں کے چہرے پر تیزاب پھینکنا درندگی ہے۔ قوموں کا منہ کالا کرنا شرمندگی ہے مگر امریکہ کو شرم ہی نہیں آتی۔ ہم شرمین عبید کی قدر کرتے ہیں اور امریکہ کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ سوچا جائے کہ کس طرح کی دستاویزی فلم پر آسکر ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کے خلاف ایک عالمی پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے کہ پاکستان میں عورتوں پر کس قدر مظالم ہوتے ہیں؟ عورتوں کے چہروں اور آنکھوں پر تیزاب پھینکنا درندگی ہے۔ ہم زندگی تو نہیں بسر کر رہے۔ زندگی‘ درندگی اور شرمندگی کے درمیان بسر ہو رہی ہے۔ یہ درندگی یہ حیوانیت کہاں نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات بھارت میں عام بلکہ بکثرت ہیں۔ مسلمانوں اور مسلمان عورتوں کے ساتھ درندگی ہندو دھرم میں نیکی ہے۔ ان کا تو دھرم ہی ہٹ دھرمی ہے۔ دستاویزی فلم میں یہ واقعہ پاکستان میں دو شوہروں کی درندگی کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے اپنی بیویوں کے منہ پر تیزاب پھینک دیا۔ جس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ہوتی۔ وہ کبھی تہذیب یافتہ نہیں ہو سکتا۔ یورپ اور امریکہ میں لوگ اپنی بیویوں کو مارتے پیٹتے ہیں مگر دنیا پر بنیادی حقوق اور حقوق نسواں کے رعب جماتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ہمارے ملک کو اندھیر نگری بنا چکے ہیں۔ امریکہ میں کچھ منٹوں کیلئے بجلی گئی تھی تو وہاں عورتوں کی بے حرمتی اور انسانی درندگی کی انتہا کر دیگئی تھی۔ ایسے ہزاروں واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ان پر کبھی کوئی دستاویزی فلم نہیں بنی‘ نہ ان کیلئے آسکر ایوارڈ تجویز ہوا ہے۔ شرمین کو سوچنا چاہئے۔ یہ بہت بری بات ہے مگر بہت بڑی بات بھی ہے۔ وطن کی بدنامی کو کامیابی نہیں کہتے۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کی آرٹسٹ ہے۔ ہمیں اس کی صلاحیتوں پر فخر ہے مگر اس کی ہنر مندیوں کو اپنے ملک کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کیا جائے تو یہ زیادتی ہے۔ اس کیلئے ہم امریکہ اور یورپ سے کیا احتجاج کریں گے۔ ہم شرمین عبید سے اور خوشیاں منانے والی اس کی فیملی سے احتجاج کرتے ہیں۔ تعریفیں کرنے والے حکمران اور سیاستدان خود تو کسی تعریف کے قابل نہیں۔ وہ امریکہ کے ڈر سے سانس بھی تیزی سے نہیں لیتے۔ وہ شرمین کی صلاحیتوں کا ضرور اعتراف کریں مگر اس سازش کو سمجھیں جو پاکستان کے خلاف ہو رہی ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ ہیں ہم نے جانی و مالی قربانیوں کا ڈھیر لگا دیا ہے مگر اب ہمیں دنیا میں دہشت گرد مشہور کر دیا گیا ہے۔
    امریکہ میں بلوچستان کے بارے میں کیا ہو رہا ہے۔ کشمیر انہیں نظر نہیں آتا۔ براہمداغ کو تو چند مہینے ہوئے ہیں۔ پچھلے 63 برس سے کشمیر میں چلنے والی تحریک آزادی کے ایک بھی حریت پسند لیڈر کو وہ نہیں جانتے۔ کشمیر میں شہیدوں کے قبرستان پر دستاویزی فلمیں کیوں نہیں بنتیں ۔ وہاں بھارتی فوجی درندے معصوم کشمیری خواتین کے ساتھ آئے دن زبردستی زیادتی کرتے رہتے ہیں۔ عصمت دری تیزاب پھینکنے سے بھی بڑا ظلم ہے۔ شرمین ان کیلئے دستاویزی فلم بنائے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ اسے آسکر ایوارڈ ملتا ہے؟ یہ کیسا انصاف ہے۔ بلوچستان ایک غیر متنازعہ علاقہ ہے مشرقی پاکستان کی طرح۔ مگر کشمیر اقوام متحدہ کی طرف سے ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اب تھوڑے دنوں میں بلوچستان کے کسی مصنوعی علیحدگی پسند کیلئے ایوارڈ کا اعلان ہو گا۔ پاکستان میں کئی اینکرپرسن بلوچستان کے بارے میں امریکی پالیسی کی حمایت میں پروگرام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں عبرتناک سزائیں ہوتیں تو یہ حال نہ ہوتا۔ بھارت کے ساتھ دوستی کی ڈیل کر کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو شرم نہیں آئی۔ مفاہمتی حکومت کے علاوہ فرینڈلی اپوزیشن بھی بھارت کے گیت گا رہی ہے۔ نوائے وقت کے پرسوں کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ جناب شہباز شریف اس بات کو سمجھیں۔ بھارت سے دوستی، کشمیر اس کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔
    عورت کے چہرے پر تیزاب پھینکنے والے تو مجرم کو فوری طور پرپکڑ کر تیزاب سے غسل دے دیا جائے تو پھر آئندہ کوئی بھی یہ درندگی نہیں کرے گا۔ اسلام میں سخت سزاوں کی یہی مصلحت ہے۔ ایک بار مجرم کا منہ کالا کیا جائے۔ یہ کالک اس کے منہ سے ہمیشہ کیلئے چمٹ جائے۔ اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے تو پھر سزا دینے کی نوبت نہ آئے گی۔ سزا سے زیادہ سزا کا ڈر اہم ہے۔ معصوم اور خوبصورت چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ یہ تو اللہ سے بغاوت ہے کہ اس کی مخلوق کو ناقابل دید منظر میں تبدیل کر دیا جائے۔ ....ع
    کتنے بُرے دنوں میں کیسا اچھا چہرہ دیکھا ہے
    چہرے کو مسخ کرنے والے کی زندگی مسخ کر دی جائے تیزاب سے خوبصورت آنکھیں بھی کسی ڈراونی تصویر میں بدل دی جاتی ہیں جبکہ حضرت اقبال کہتے ہیں....ع
    نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
    دلبری تو اللہ کا تحفہ ہے۔ فیض احمد فیض کا خیال ہے کہ....ع
    تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
    شرمین یہ بھی تو بتائیں کہ ان دو شوہروں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا۔ امریکہ کی ہدایت پر اس دستاویزی فلم کے بعد کیا پاکستان میں یہ ظلم رک گیا۔ یہ نمائشی پروپیگنڈا مہم ہے۔ امریکہ کبھی پاکستان میں امن اور ترقی کے حق میں نہیں ہو گا۔ میں نے بڑے درد سے شہباز شریف سے عرض کیا تھا۔ معصوم بچی سے درندگی کے بعد جب آپ ان کے گھر گئے تو کیا ظالموں اور قاتلوں کے خلاف کچھ ہوا؟ کیا اس کے بعد یہ درندگی ختم ہو گئی۔ ظالم اور قاتل تو دندناتے پھرتے ہیں۔ ہم کیسے سادہ اور بے وقوف ہیں کہ شرمین عبید کو جانتے ہی نہ تھے۔ اب امریکہ میں پاکستان کیلئے ایک نئی رسوائی کو پوری دنیا میں پھیلانے کی خاطر اس ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔ تو ہم سب شرمین عبید کے مداح ہو گئے ہیں۔ وہ فخر کے قابل بیٹی ہے۔ پاکستان میں اچھے کام کرنے والے بھی ہیں۔ ان کیلئے بھی دستاویزی فلم بنائے اور پھر دیکھے کہ امریکہ اس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے اب شرمین کیلئے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اس کیلئے شرم کا مقام ہے کہ امریکہ میں ایک مصنوعی اعتراف کے بعد اسے یہ خیال آیا ہے۔
    ارفع کریم کے مرنے کے بعد سول ایوارڈ دینے کا اعلان وزیراعظم گیلانی نے کیا تھا۔ ارفع کریم پر ڈاکومنٹری بنانے کا خیال شرمین کو کیوں نہ آیا۔ سوات میں ایک جعلی وڈیو ایک خاتون کو کوڑے مارنے کے حوالے سے چلوائی گئی۔ امریکی غلام پاکستانی میڈیا نے اسے بہت اچھالا۔ فارن فنڈڈ این جی اوز کی عورتوں نے بہت شور مچایا۔ مگر انہیں ایک وڈیری وحیدہ شاہ کی طرف سے ایک اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر حبیبہ میمن کو کھلم کھلا تھپڑ مارنے پر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ مذمت کا بیان ہی دے دے۔ یہ تھپڑ اصل میں الیکشن کمشن کے منہ پر ہے۔ ایک رسمی کارروائی کرتے ہوئے منہ چھپا لیا گیا ہے۔ دستاویزی فلم Saving Face کو امریکہ پاکستان کیلئے Exploring face کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں مظلوم اور محروم لوگوں کو ایوارڈ دینے کیلئے تو کوئی بات نہیں ہوتی۔ امریکہ نوبل امن انعام بھی صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کے مفادات اور مقاصد کے مطابق کام کرتا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے غداری کا جھنڈا بلند کرنے والے کو صرف یورپ اور امریکہ میں پناہ ملتی ہے۔ بلوچستان کے بھگوڑے بھی ان کے پاس ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے شاعر علامہ اقبالؒ کو نوبل انعام نہ ملا کہ وہ پاکستان کا قومی شاعر ہے۔ وہ مسلمانوں کا شاعر ہے۔ شرمین عبید کی ڈاکومنٹری اصل میں پاکستان کے خلاف ڈاکومنٹری ہے۔!!

    حوالہ کالم ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,323
    اسطرح کی بے حیاء ، بے غیرت اور بے عزت عورت کو وہی لوگ مبارک باد دیتے ہیں جو بے غیرت، بے حیاء اور اللہ کے قوانین کے باغی ہوں۔
    ایوارڈ اسلیے دیا گیا کہ اس اسلام اور پاکستان دشمن عورت نے پاکستان کی منفی انداز میں ترجمانی کی۔ اگر اس میں غیرت نام کی چیز ہوتی تو پھر امریکہ نہ جاتی۔
    فلم بنانا تو ویسے ہی فضول کام ہے لیکن کیا یہی موضوع بچ گیا تھا ؟
    کیا افغانستان میں بے گناہ مسلمانوں کے ساتھ بدمعاش امریکہ جو کررہا ہے اس پر کچھ نہیں کیا جاسکتا؟
    کیا فلسطین میں دنیا کی سب سے بڑی جیل غزہ میں مسلمانوں کے ساتھ شیطان کے بندوں نے جو کچھ کیا اس پر کچھ نہیں کیا جاسکتا؟
    کیا کشمیر میں جو ظلم ہورہا ہے اس پر کچھ نہیں‌کیا جاسکتا؟
    کیا ڈرون حملوں‌میں جو بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے اس پر کچھ نہیں کیا جاسکتا؟
    کیا آزادی کا نعرہ لگانے والے ممالک حجاب پر جو پابندیاں لگارہےہیں کیا اس پر کچھ نہیں کیا جاسکتا؟
    یہ عورت کافروں کی آلہ کار ہیں اور ایوارڈ ملنا بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔
    اور ہاں ! اگر اتنا شوق ہے تو پھر انڈیا میں جو ذات پات کے چکر میں عورتوں کے ساتھ کچھ ہورہا ہے اس پر بھی کچھ کریں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    گزشتہ ہفتے ميں اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی ايک ميٹينگ ميں شامل تھا جہاں ايک سينير امريکی اہلکار نے ازراہ مذاق کہا کہ کم از کم اس ہفتے تو پاکستانيوں کی جانب سے امريکہ پر کی جانے والی نکتہ چينی ميں کچھ کمی آئ ہو گي۔ ان کا اشارہ لاس اينجلس کی تقريب ميں پاکستان کی پہلی خاتون فلم ميکر کو ديا جانے والا آسکر ايوارڈ تھا۔ ميں نے اس موقع پر اپنے تحفظات کا اظہار کيا کيونکہ ميں سازشی سوچ اور بغير حقائق جانے صرف تنقيد براۓ تنقید کے طرزعمل سے بخوبی واقف ہوں۔

    ليکن خود ميرے ليے بھی اردو فورمز پر پاکستان کی ايک فلم ميکر کو آسکر ايوارڈ ديے جانے کے بعد شديد ردعمل اور بے شمار پيغامات حيران کن تھے۔ کچھ راۓ دہندگان اسے مسلمانوں کو بالعموم اور پاکستانيوں کو بالخصوص بدنام کرنے کے ليے امريکی سازش اور جامع منصوبہ بندی قرار دے رہے ہيں۔ پاکستان کے مشہور کالم نگار اوريا مقبول جان کا اس حوالےسے لکھا جانے والا آرٹيکل بغير حقائق کی تحقيق کيے مقبول عام جذبات کو ايک خاص رخ پر ڈالنے کے ضمن ميں ايک واضح مثال ہے۔

    سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ جو کوئ بھی ان انتہائ پيچيدہ اور طويل مراحل سے واقف ہے جو اس ايوارڈ کے ضمن ميں وضع کيے گۓ ہيں وہ اس حقيقت سے انکار نہيں کر سکے گا کہ امريکی حکومت، ہماری خارجہ پاليسی اور يہاں تک امريکی عوام کی خواہشات اور امنگوں کا بھی حتمی نتائج پر اثرانداز ہونے کا کوئ امکان نہيں ہوتا۔ ہزاروں کی تعداد ميں فلم کے متعلقہ شعبوں سے منسلک ماہرين، اساتذہ اور تکنيکی معلومات کو سمجھنے والے اہم افراد اس سارے عمل ميں شامل ہوتے ہيں۔ ايوارڈ کی تقريب سے قبل کسی کو بھی جيتنے والوں کے ناموں کا علم نہيں ہوتا۔ يہ تاثر کہ امريکی حکومت سميت کوئ بھی ايک مخصوص لابی اپنے مخصوص سياسی ايجنڈے يا خارجہ پاليسی کے حوالے سے عوام کی راۓ کو ايک خاص رخ پر ڈالنے کے ليے اس ايوارڈ کے نتائج ميں ردوبدل کر سکتی ہے، بالکل غلط اور بے بنياد ہے۔

    ماضی ميں ايسی درجنوں مثالیں موجود ہيں جب آسکر ايوارڈ جيتنے والی فلموں کے موضوعات اور ان کو بنانے والے ماہرين نے برملا امريکی حکومت کی پاليسيوں پر شديد تنقيد کی ہے، بلکہ بعض موقعوں پر تو ايسے موضوعات بھی سامنے آۓ جو مقبول عوامی راۓ سے متصادم اور روايات کے برخلاف تھے۔

    ليکن ان فلموں اور ان کو بنانے والے ماہرين کو موضوعات کی وجہ سے نہيں بلکہ تکنيکی مہارت اور بہترين کاوش کی بدولت ايوارڈ سے نوازا گيا۔

    ايک پاکستانی فلم ميکر کا اس ايوارڈ کو جيتنا ان اصولوں سے ہٹ کر نہيں ہے۔ انھيں اپنی قابليت اور بہترين تکنيکی صلاحيتوں کو کاميابی سے بروۓ کار لانے کی بدولت ايوارڈ ديا گيا۔ امريکی حکومت کی جانب سے ان کے کام کی پشت پنائ يا حمايت کا اس سارے عمل سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    Incompatible Browser | Facebook


     
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بات يہ ہے كہ تيزاب ايك انسان دوسرے انسان پر پھينكتا ہے ليكن ڈرون كے ذريعے ايك روباٹ كئى انسانوں پر مہلك بارود پھينكتا ہے جس سے چہرہ ہى نہيں جان بھی ختم ہو جاتى ہے اور يہ روباٹ امريكا بہادر كا ہے اس ليے كوئى روشن خيال خاتون كبھی اس موضوع پر ڈاكيومنٹرى فلم كيوں بنائے گی؟ خواہ ہزاروں گل رخ اس امريكى بارود كا لقمہ بنيں؟
    كاش كہ اردو مجلس پر تصوير كى اجازت ہوتى تو ميں ان پھول جيسے معصوم بچوں كے كٹے پھٹے مردہ چہروں كى تصاوير شئير كرتى كيا صرف عورت كا چہرہ قيمتى ہوتا ہے؟ تف ہے ايسے فن پر ، ايسے بزدل فن كار پر اور ايسے فن كى ترويج پر جسے ہزاروں اہل وطن كا درد نظر نہ آئے۔
    يہ درست ہے كہ تيزاب كا مسئلہ موجود ہے ليكن يہ سوچنا كہ اس دستاويزى فلم كى وجہ سے مسئلہ حل ہو گا غلط بات ہے۔ اس مسئلے پر قانون سازى اس فلم سے بہت پہلے ہو چکی ہے اور تيزاب صرف عورتوں نہيں مردو ں پر بھی پھينكا جاتا ہے ۔ اصل بات يہی ہے كہ جس وقت ميں ڈرون حملوں ميں مرنے والے ہزاروں بے گناہ معصوم پاكستانيوں كى مسخ لاشوں كى تصاوير كى نمائش برطانيہ سميت كئى ممالك ميں ہو رہی ہے ، وہاں تيزاب والے مسئلے كے ليے ميڈيا ميں ہائپ كرى ايٹ كى جا رہی ہے ۔ يہ ايك پرانا طريقہ ہے كسى اہم مسئلے سے توجہ ہانے كا ، اور لوگ اب ان ٹيكٹكس كو خوب سمجھتے ہيں۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    امريكيوں كو كئى سال پہلے گرنے والى اپنی ايك عمارت نہيں بھولى اور ہم ہر ہفتے ہونے والے ڈرون حملے اور ان ميں اذيت بھری موت مرنے والے معصوم مسلمان بہنوں بھائيوں كو ايك پيتل كا مجسمہ ملنے پر بھول جائيں؟
    مسٹر فواد تمہارے تحفظات درست ہيں، اس اعتراف كا شكريہ كہ پاكستانى قوم سارى كى سارى بكاؤ مال نہيں۔ اگلى ميٹنگ ميں ان كو بتانا ، پاكستانى حكمران ايسے لولى پاپ سے بہل سكتے ہوں گے پاكستانى عوام نہيں۔
     
  6. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں‌رکھے اور دُشمن کی ہر چال کو مٹی میں ملا دے اور مسلمانوں کی طرف اُٹھنے والی ہر نظر شرم سے دو چار کر دے اور ان کو غرق کر دے آمین
     
  7. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    اسلام علیکم۔۔سب مل کر دعا کریں اللہ اسلام کے دشمنوں کو جلد سے جلد ذلیل و رسوا کرے آمین ۔
     
  8. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    آپ نے شائید ڈاکٹر اجمل نیازی کے مضمون کو پڑھے بغیر امریکی حمایت میں صرف تنقید برائے تنقید کرنے کی کوشش کی کیونکہ بقول آپ کے آپ اس طرز عمل سے بخوبی واقف ہیں۔

    ًمقتبس الفاظ تو ازخود ڈاکٹر اجمل صاحب کے مضمون سے مترادف ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ شرمین عبید کو اللہ نے جن صلاحیتوں سے نوازا اگر ان کا مثبت استعمال کیا ہوتا تو پوری قوم ان کے لیے اپنی پلکیں بچھا دیتی۔

    بات آسکر ایوارڈ کے اصول و ضوابط کی نہیں مقصد حصول کی ہے۔ اسکی سادہ سی مثال حصول رزق کی لے لیں جوئے سے حاصل ہونے والا روپیہ اور محنت مزدوری سے حاصل کیا جانے والا روپیہ بظاہر تو وہی کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے لیکن دونوں میں پاکیزگی اور پالیدی کا عنصر نمایاں ہے۔

    اور رہی بات اصول و ضوابط پر کاربند ہونے کی تو ہر فرد اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جب کسی خاص مقصد کے لیے ایوارڈ منتخب کرنا ہو تو اس مقصد کو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ تیارکیا جاتا ہے اسکی بڑی واضح مثال سوات میں بنائ جانے والی جعلی ویڈیو کی ہے جو نادانستہ نہیں بلکہ بڑے منظم منصوبہ سے ریکارڈ کی گئی اور جب اس جعلی ویڈیو کو بار بار میڈیا پر اچھال کر اسلام کے قوانین کو طعن و تشنیع کرنے کا یہودی عزم پورا ہوا تو اسی میڈیا کے ذریعہ اسے جعلی بھی ثابت کر دیا گیا۔

    بہرحال ہم مسلمانوں کا اللہ اور اسکے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائ گئ پیشین گوئیوں پر مکمل یقین ہے کہ عنقریب نظام خلافت لوٹ آئے گا تمام تر طاغوتی طاقتیں مسمار ہوں گی یہاں تک کہ درخت اور پتھر کی اوٹ لینے والے یہودی کی گواہی خود درخت اور پتھر دیں گے کہ اے مسلمان! اے عبداللہ! آؤ دیکھو میری اوٹ میں یہودی چھپا بیٹھا ہے۔ آؤ اس اللہ کے دشمن کو قتل کرو۔ (انشاءاللہ)
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 13, 2012
  9. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    واقعی کس قدر نپی تلی لینگویج ہے، اسی لیے کہتے ہیں۔

    "ہم آہ بھی کرتے ہیں‌تو ہوجاتے ہیں‌بدنام"، ہمارے آہ کرنے کا انداز ہی جداگانہ ہے، ہمارے قتل ہونے کے بعد بھی ہم ہمارے قتل کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں۔"وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا" اور وہ قتل بھی اسطرح کرتے ہیں‌کہ بالآخر وہی مسیحا ہی ثابت ہونے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور بھی لگادیتے ہیں۔!!! واقعی ڈپلومیسی کے یہ انداز ، مثبت انداز فکر لئے ہوئے افراد کے لئے ایک لیسن ہے۔ ، مذکورہ بالا پوسٹ پر صرف یہی تبصرہ ہوسکتا ہے، کیونکہ ہر ایک "ڈیجیٹل ٹیم ممبر۔یو ایس" کے پوسٹ سے وہ قتل کی خوشبو کے ساتھ ساتھ، ناکام مسیحائی کی بو آتی ہے بس۔۔۔۔!!!
     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اردو فورمز پر آسکر ايوارڈز کے حوالے سے جاری بحث اور اس ضمن ميں يہ غلط دعوے کہ اس پليٹ فورم کو مسلمانوں اور پاکستانيوں کی تذليل کے ليے استعمال کيا گيا، عمومی طور پر غلط معلومات، تاثرات اور مستند تاريخی حقائق کو مسخ کر کے بيان کے جانے والے تبصروں پر مبنی ہيں۔ مشہور کالم نگار اوريا مقبول جان کا اس حوالے سے لکھا جانے والا کالم جو کہ قريب تمام ہی فورمز پر پوسٹ کيا گيا ہے واضح مثال ہے کہ کيسے جذبات اور سوچ کو دانستہ ايک خاص رخ پر ڈال کر اس کہانی کو مخصوص سياسی سوچ کو ترويج دينے کے ليے استعمال کيا گيا۔

    اپنے دلائل کو تقويت دينے کے ليے اوريا مقبول جان اور ديگر تبصرہ نگاروں نے جو تاويليں پيش کی ہيں، ان کا ايک جائزہ پيش ہے۔

    اپنے کالم ميں اوريا مقبول جان ايک موقع پر بڑے جذباتی انداز ميں امريکی معاشرے ميں موجود خرابيوں کا تذکرہ کرتے ہيں اور يہ نقطہ اٹھاتے ہيں کہ ايوارڈز کی تقريبات ميں ان تمام مسائل کو دانستہ نظرانداز کیا جاتا ہے تا کہ پوری دنيا ميں امريکہ کا مثبت اميج پيش کيا جا سکے۔

    اس ضمن ميں وہ "عادی قاتلوں" يا "سيرئيل کلرز" کی مثال پيش کرتے ہيں اور امريکی معاشرے پر اس حوالے سے تنقيد کرتے ہيں کہ ان انتہائ اہم معاشرتی مسائل کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔

    يقينی طور پر اوريا مقبول جان "سائلينس آف دا ليمب" نامی فلم سے واقف نہيں ہيں جس ميں انھی عادی قاتلوں کے قبيح گناہوں کو موضوع بنايا گيا ہے۔ سال 1992 ميں اس فلم نے تمام اہم شعبوں ميں اس سال کے آسکر ايوارڈز حاصل کيے تھے جن ميں سال کی بہترين فلم، بہترين ہدايت کار، بہترين اداکار، بہترين اداکارہ، اور بہترين کہانی کے ايوارڈز شامل تھے۔ آسکر ايوارڈز کی پوری تاريخ ميں صرف3 فلميں ايسی ہيں جنھيں تمام اہم شعبوں ميں بيک وقت ايوارڈز ديے گۓ۔ "سائلينس آف دا ليمب" انھی 3 فلموں ميں سے ايک ہے۔

    اسی طرح اوريا مقبول جان اور ان کی سوچ کی تائيد کرنے والے راۓ دہندگان نے يہ نقطہ بھی اٹھايا کہ دستاويزی فلموں کے شعبے ميں ہميشہ مخصوص طرح کے موضوعات پر مبنی فلموں کو ہی اجاگر کيا جاتا ہے اور ايسی کسی فلم کو اہميت نہيں دی جاتی جس سے امريکہ کا منفی اميج دنيا کے سامنے آنے کا امکان ہو يا جن فلموں کے سامنے آنے سے ہماری خارجہ پاليسی کے حوالے سے ليے گۓ فيصلوں کو زک پہنچ سکتی ہو۔

    يہ بات سراسر غلط ہے۔

    اس ضمن ميں صرف سال 2008 ميں بہترين دستاويزی فلم کا ايوارڈ جيتنے والی فلم کا موضوع اور اسی سال نامزد ہونے والی بہترين دستاويزی فلموں کی تفصيل کچھ يوں ہے۔

    Taxi to the dark side.
    No End in Sight
    Operation Homecoming: Writing the Wartime Experience
    Sicko

    اس فہرست ميں ايک فلم ميں عراق کی جنگ پر شديد تنقيد کی گئ ہے۔ ايک اور فلم ميں عراق ميں امريکی فوجيوں کے کرب کودکھايا گيا ہے، اسی طرح ايک اور فلم ميں امريکہ ميں صحت عامہ کے شعبے کو شديد تنقيد کا نشانہ بنايا گيا۔ اس کے علاوہ ايک فلم ميں معصوم عراقيوں پر مبينہ ظلم وستم کو موضوع سخن بنايا گيا ہے۔

    آسکر ايوارڈز کی طويل تاريخ ميں موجود بے شمار فلموں ميں سے ميں نے صرف ايک مثال آپ کے سامنے پيش کی ہے۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ امريکی حکومت دنيا بھر سے ان موضوعات پر بننے والی فلموں کی تشہير کر کے اور انھيں بہترين ايوارڈز سے نواز کر اپنی خارجہ پاليسی کے حوالے سے ليے جانے والے فيصلوں کے ضمن ميں تائيد اور حمايت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟

    اسی طرح ميں نے اردو فورمز پر بار بار يہ تبصرہ ديکھا ہے جس ميں تجزيہ نگاروں اور راۓ دہندگان نے يہ الزام لگايا ہے کہ امريکی حکومت کی شہ پر آسکر ايوارڈز کی انتظاميہ کی جانب سے ايسی فلموں کو اجاگر کيا جاتا ہے جن ميں ريڈ انڈينز کی تضحيک کا پہلو نماياں ہوتا ہو۔ ان تمام دوستوں کی معلومات کے ليے سال 1991 ميں 8 آسکر ايوارڈز لينے والی فلم "ڈانسس ود دا وولوز" کا حوالہ دوں گا جس نے ديگر شعبوں کے علاوہ سال کی بہترين فلم کا ايوارڈ بھی حاصل کيا۔

    جن دوستوں کی جانب سے يہ الزام بڑے جذباتی انداز ميں سامنے آيا ہے کہ امريکہ ہميشہ اپنے جنگی معرکوں اور فوجی کاروائيوں پر پردہ ڈالنے کی پاليسی پر عمل پيرا ہوتا ہے، ان کے ليے ميرا مشورہ ہے کہ امريکہ پر محض تنقيد براۓ تنقيد کی بجاۓ اس ضمن ميں تاريخی حقائق پر ايک نظر ڈال کر اپنی راۓ قائم کريں۔

    ويت نام کی جنگ کے خاتمے کے بعد مختلف دہائيوں ميں امريکہ کی فلم انڈسٹری نے جنگ کے موضوع پر ايسی بے شمار فلميں دنيا کے سامنے پيش کيں جن ميں امريکہ کی ويت نام کی جنگ ميں شموليت پر سخت تنقيد بھی کی گئ اور امريکہ کے مبينہ جنگی جرائم کے علاوہ فوجيوں پر جنگ کے منفی اثرات کو بھی بڑی تفصيل سے اجاگر کيا گيا۔ ان فلموں ميں امريکی فلم انڈسٹری کے بہترين اداکاروں اور ہدايت کاروں نے بہترين تخليقی کاوشوں کو برؤے کار لا کر نا صرف يہ کہ بے شمار آسکر ايوارڈز حاصل کيے بلکہ ان فلموں نے باکس آفس پر بھی مقبوليت کے نۓ ريکارڈز قائم کيے۔

    ان ميں سے چيدہ چيدہ فلموں کی تفصيل پيش ہے۔

    Taxi Driver (1976) — nominated for four Academy Awards, directed by Martin Scorsese.
    Coming Home (1978) — winner of three Academy Awards, directed by Hal Ashby.
    The Deer Hunter (1978) — winner of five Academy Awards, including Academy Award for Best Picture, directed by Michael Cimino.
    Apocalypse Now (1979) — winner of two Academy Awards, directed by Francis Ford Coppola.
    Full Metal Jacket (1987) — directed by Stanley Kubrick.
    Hamburger Hill (1987) — directed by John Irvin.
    Casualties of War (1989) — directed by Brian De Palma
    .
    80 اور 90 کی دہائيوں ميں مشہور زمانہ ہدايت کار اوليور سٹون نے ويت نام کی جنگ کے حوالے سے اپنی تين مشہور فلميں پيش کيں۔

    Platoon (1986) — winner of Academy Award for Best Picture.
    Born on the Fourth of July (1989) — winner of two Academy Awards.
    Heaven & Earth (1993)

    اسی طرح ايسی بے شمار فلموں کی تفاصيل بھی موجود ہيں جن ميں ويت نام جنگ کے دوران اور اس کے بعد فوجيوں کی حالت زار کے حوالے سے ايسے واقعات فلم بند کيے گۓ جن ميں امريکی حکومت کو منفی انداز ميں پيش کيا گيا۔

    ان ميں "مسنگ ان ايکشن" (1984) اور "ريمبو: فرسٹ بلڈ پارٹ ٹو" (1985) قابل ذکر ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
    آمين ۔
    ميں سوچ رہ تھی ميرى غير حاضرى ميں نئى سسٹر آئى ہيں ، اب معلوم ہوا ام منيب سسٹر نے نام تبديل كر ليا ہے۔ سسٹر خيريت كيا منيب نے كمپوزنگ سے انكار كر ديا ہے؟ :)
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جب سٹيٹ ڈپارٹمنٹ كا نمائندہ ، اسى تنخواہ ميں آسكر ايوارڈز كى وكالت كرنے لگے تو شك تو ہوتا ہے ۔ دوسرے فورمز كے ليے گھڑے جواب اردو مجلس پر پيسٹ كرنے سے پہلے يہ ديكھ ليا ہوتا كہ يہاں اجمل نيازى كا كالم زيرتبصرہ تھا نہ كہ اوريا مقبول كا ۔ جيسى بھی نوكرى ہو ، كم از كم تنخواہ حلال كر ليا كرے بندہ۔
     
  13. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    اس موضوع کے حوالے سے ميری پوسٹنگ کا بنيادی نقطہ يہی باور کروانا تھا کہ امريکی حکومت کا آسکر ايوارڈ کی تقريب کے ساتھ نا تو کوئ تعلق ہے اور نا ہی ہمارا اس سارے عمل پر کوئ اثر يا کسی قسم کا کوئ کنٹرول ہے۔ ميں نے اپنی پوسٹنگز ميں جو مثاليں دی ہيں ان سے يہ واضح ہے کہ ہماری خارجہ پاليسی کے اہداف اور ہمارے حکومتی فيصلوں سے فلم کے شعبے سے متعلق ماہرين کا متفق ہونا ضروری نہيں اور بسا اوقات ايوارڈ حاصل کرنے والی فلموں کا موضوع اس متنوع سوچ کی حوصلہ افزائ اور آزادی اظہار کا مظہر ہوتا ہے جو ہمارے آئين کی بنيادی اساس ہے۔

    اگر ہم اپنے فلمی ماہرين اور تکنيک کاروں کو خود اپنی پاليسيوں اور طرز حکومت کے ليے حمايت اور تعاون پر مجبور نہيں کر سکتے تو پھر اطمينان رکھيں کہ ہم ان وسائل اور پليٹ فارمز کو ہزاروں ميل دور ايک بيرونی ملک کے خلاف استعمال کرنے کے ليے نا تو وسائل رکھتے ہيں اور نا ہی ہماری ايسی کوئ خواہش ہے۔

    اس کے علاوہ يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ کس فلم ميکر نے اپنے ملک ميں موجود کسی معاشرتی مسلۓ کو اجاگر کرنے کے ليے کوئ فلم تخليق کی ہے۔ دنيا بھر ميں فلمی ماہرين عمومی طور پر ايسی فلميں بناتے رہتے ہيں جن ميں معاشرتی اہميت کے حامل موضوعات، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور معاشرے ميں موجود عدم مساوات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے ليے کوشش کی جاتی ہے۔ سارا سال بے شمار بين الاقوامی فلمی ميلوں کی تقريبات اور ايوارڈز کے ذريعے ان فلمی ماہرين کو اپنی تخليقی صلاحيتوں کے صلے ميں مختلف طريقوں سے سراہا جاتا ہے۔ ايک پاکستان فلم ميکر کے ليے ايوارڈ اسی روايت اور عمل کا حصہ ہے۔ يہ کوئ امريکی سازش يا پاکستان کے خلاف پروپيگنڈہ کو جلا دينے کی کوشش نہيں ہے۔

    اگر امريکی حکومت کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہوتا، جيسا کہ کچھ راۓ دہندگان کی جانب سے غلط تاثر ديا جا رہا ہے تو پھر اس کی کيا توجيہہ پيش کی جا سکتی ہے کہ امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ اور اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے کی کاوشوں سے ايسے کئ ثقافتی، علمی اور تخليقی پروگراموں کا اجراء کيا گيا ہے جن کا مقصد پاکستان کے فنکاروں، لکھاريوں اور دانشوروں کو عالمی سطح پر ايسے مواقع اور وسائل فراہم کرنا ہے تا کہ وہ انٹرنيشنل فورمز پر اپنی بھرپور صلاحيتوں کو بروۓ کار لا کر پاکستان کے مثبت اميج کو دنيا کے سامنے پيش کر سکيں۔

    اس ضمن ميں ايک حاليہ مثال

     http://islamabad.usembassy.gov/pr-021112.html

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  14. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    :00003:
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں