سانحہ قندھارکے قتلِ عام کی وجہ" پاگل پن" نہیں

الطائر نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏مارچ 19, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    نقطہ نظر/تجزیہ

    سانحہ قندھارکے قتلِ عام کی وجہ" پاگل پن" نہیں

    ہفتہ، 17 مارچ 2011

    مجھے ''مخبوط الحواس، پاگل، جنونی فوجی ''کی کہانی شدید بیزاری میں مبتلا کیے دے رہی ہے۔ بلا شبہ پنجوائی کے قتلِ عام کا وقوع پذیر ہونا پہلے ہی سےصاف ظاہر تھا۔38 سالہ سٹاف سارجنٹ 16 بے گناہ افغان شہریوں جن میں 9بچے بھی شامل تھے کے ظالمانہ قتلِ عام کے بعد جیسے ہی اپنے فوجی اڈے پر واپس پہنچا، دفاعی ماہرین اور تھنک ٹینک سے وابستہ نوجوان مرد و خواتین نے اس کے مخبوط الحواس ہونے کے اعلانات کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا۔ نہ کہ شیطان صفت، لاپرواہ دہشت گرد ۔ اس کے بر عکس اگر وہ کوئی افغان، بالخصوص طالبان ہوتا تو اس پر ہر طرح کے الزمات بلا سوچے سمجھے درست تسلیم کر لئے جاتے۔ لیکن جہاں تک امریکی فوجی کا تعلق ہے تو وہ صرف ایک ایسا شخص بتایا گیا ہے جو اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔


    یہ بالکل وہی لغو بیانی ہے جو عراقی شہر حدیثہ میں قاتلانہ بربریت کا ارتکاب کرنے والے امریکی فوجیوں کی مجرمانہ واردات کو بیان کرنے کے لیے گھڑی گئی تھی۔ بالکل یہی الفاظ اسرائیلی فوجی باروخ گولڈ سٹائن کے لیے استعمال کیے گئے تھے جس نے ہیبرون میں 25 فلسطینیوں کو بے دردی سے خون میں نہلا دیا تھا جس کی جانب میں نے اپنے اخبار(انڈی پینڈنٹ) میں سٹاف سارجنٹ کے صوبہ قندھار میں اچانک "پاگل" قرار دیے جانے سے چند گھنٹوں قبل واضح توجہ دلائی تھی۔

    صحافیوں نے ''ظاہری طور پر پاگل" "امکانی طور پر پاگلً کے اعلانات شروع کردیے، اور روزنامہ گارجین کے مطابق ایک فوجی، "جو اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہو"، فائنانشل ٹائمز کے الفاظ میں ، ایک ، "مخبوط الحواس امریکی فوجی"، جس نے "دیوانگی کی حالت میں " نیو یارک ٹائمز کے الفاظ، "بغیر کسی شک کے" فرانسیسی اخبار لی فگاروکے الفاظ میں" دماغی توازن کھو دینے کے بعد اس پاگل پن کا ارتکاب کیا"۔ کیا واقعی؟ کیا ہم مفروضہ طور پر ان فضولیات پر یقین کر لیں؟ اگر وہ واقعی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا تو یہ سٹاف سارجنٹ اپنے 16 امریکی ساتھیوں کو قتل کر چکا ہوتا۔اور وہ اپنے ہی ساتھیوں کو ہلاک کرنے بعد ان کی لاشوں کو جلا چکا ہوتا۔ لیکن نہیں، اس نے امریکیوں کا قتلِ عام نہیں کیا۔ اس نے خصوصیت سے چن کر افغانوں کا قتلِ عام کیا۔ اس کے عمل میں انتخاب کا عنصر ملوث تھا۔ پس اس نے اٖفغانوں کا قتلِ عام کیوں کیا؟ ہمارے علم میں گزشتہ روز آیا کہ اس نے اپنے دو ساتھیوں کو دھماکے میں ٹانگوں سے محروم ہوتے دیکھاتھا؟ تو کیا؟

    قندھار میں ہونے والے قابلِ مذمت سنگین قتلِ عام کی وضاحت پیش کرنے والوں نے افغان بیانیے کو پراسرار انداز میں نہ صرف تحلیل کر کے غیر موثر بنا دیا بلکہ اس پر سنسر شپ تک عائد کر دی۔ انھوں نے بگرام میں قرآن جلائے جانے سے لیکر اور اس کے رد عمل میں چھ نیٹو فوجیوں کی ہلاکت جس میں سے دو امریکی تھے کے ساتھ ساتھ حالیہ قتلِ عام کے حوالے سےہر ایک بات کا تذکرہ کیا جس کا اطلاق ان تمام اخباری اطلاعات پر ہوتا ہے جو اب تک سامنے آئی ہیں۔ ماسوائے ایک غیر معمولی اہمیت کے حامل ایک بیان کے۔ اور میں وثوق سے کہتا ہوں اور میرے اس دعوے پر بے شک آپ مجھے اڑا کر رکھ دیں کہ غیر معمولی اہمیت کا یہ بیان جو آج سے ٹھیک بائیس روز قبل جاری کیا گیا تھا کسی اور کا نہیں بلکہ امریکا کے افغانستان میں متعین چوٹی کے جرنیل ، جرنل جون ایلن کا ہے۔ بلا شبہ یہ بیان اتنا غیر معمولی نوعیت کا تھا کہ میں نے اپنے صبح کے اخبار سے اس کا تراشہ کاٹ کر مستقبل کے حوالے کے لیے اپنے بریف کیس میں رکھ لیا۔

    جرنل ایلن نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ، "یہ وقت ابھی جمعرات کے مظاہروں میں مارے جانے والے دو امریکیوں کا انتقام لینے کے لیے مناسب نہیں ہے"۔ ایک افغان فوجی کے ہاتھوں دو امریکی فوجیوں کے قتل کے بعد انھوں نے امریکی فوجیوں سے کہا کہ، "انہیں چاہیئے کہ وہ بدلہ لینے اور جوابی طور پر انتقامی حملے کی ہر خواش پر قاپو پائیں"۔ "آپ پر ایسے لمحات آئیں گے جب آپ اس نقصان کی وجوحات تلاش کرنا چاہیں گے"۔ جنرل ایلن نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایسے لمحات کا سامنا کرنا پڑے گا جب آپ کے جذبات غصے کے زیرِ اثر جوابی کاروائی کرنے کی خواہش کریں گے۔ یہ وقت انتقامی بدلہ لینے کا نہیں ، یہ وقت اپنے نفس کی گہرائی میں جا کر تجزیہ کرنے کا ہے۔ اپنے مشن کو یاد رکھیں، اپنے نظم و ضبط کو یاد رکھیں، یہ یاد رکھیں کہ آپ کون ہیں"۔

    یہ غیر معمولی درخواست افغانستان میں ایک امریکی جرنیل کی جانب سے کی گئی تھی۔ اس درخواست میں ایک امریکی جرنیل کو اپنی مفروضہ اعلیٰ نظم و ضبط اور بہترین پیشہ ورانہ اقدار کی حامل افواج کو بتانا پڑا کہ وہ ان افغانوں سے بدلہ لینے سے اجتناب برتیں جن کی نگہداشت، حفاظت، امداد اور تربیت کی ذمہ داری، وغیرہ وغیرہ ان پر عائد ہوتی ہے۔ انھیں اپنے فوجیوںکو تلقین کرنی پڑی کہ وہ ارتکاب قتل سے گریز کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ جرنیل اس قسم کی باتیں ویت نام میں بھی کہا کرتے تھے۔ لیکن اب افغانستان۔ کیا نوبت اب یہاں تک آ گئی ہے؟ اور مجھے خدشہ ہے کہ حقیقت بھی یہی ہے۔ کیوں کہ فوجی جرنیلوں کو میں چاہے جتنا بھی نا پسند کروں اور بہتیروں کو مل بھی چکا ہوں ، بڑی حد تک اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ان کی افواج کی صفوں میں کیا ہو رہا ہے۔ مجھے شک ہے کہ جنرل ایلن کو ان کے جونیئر فوجی افسران نے متنبہ کر دیا ہو گا کہ قرآن جلائے جانے کے واقعات کے بعد امریکی فوجیوں کی اموات کا بدلہ لینے اور انتقامی کاروائی کے جذبات نچلی سطح کے مشتعل اور غضبناک فوجیوں میں اُبل رہے ہیں جس کے باعث وہ قتلِ عام کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ انھی خدشات نے جنرل ایلن ایک چونکا دینے اور درپردہ حقائق کو منکشف کرنے والے بیان پر مجبور کیا جو ایک پیشگی منصوبے کے تحت گزشتہ اتوار کو ایک قتلِ عام کی صورت میں نمو درا ہوا۔ افسوسناک امرِ واقعہ یہ ہے کہ اس غیرمعمولی بیان کو ، "ماہرین" کی یاداشت سے بالکل محو کر دیا گیا جن کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس قتلِ عام کے تناظر میں ہم کو اس سے آگاہ کرتے۔ اس بات کا ان ماہرین اور خبروں میں کوئی حوالہ تو درکنار ایک خفیف سا اشارہ بھی دینے کی اجازت نہیں دی گئی کہ جنرل ایلن نے اپنے بیان میں مذکورہ بالا الفاظ کہے ہیں۔ کیوں کہ اگر جنرل ایلن کا یہ بیان پہلے ہی سامنے لایا جا چکا ہوتا تو سٹاف سارجنٹ کے پاگل پن کی مفروضہ کہانی دم توڑ دیتی۔ حسبِ معمول صحافی برادری نے فوج کے ساتھ مل کر ساز باز کے نتیجے میں بجائے ایک "قاتل فوجی" کے، ایک" پاگل فوجی " تخلیق کر ڈالا۔ "بے چارہ"۔ "عقل سے ماؤف"۔ "جسے کوئی احساس نہیں کہ وہ کیا کر رہا تھا"۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس کو اچانک، آناً فاناً افغانستان سے باہر لے جایا گیا۔

    ہم سب اپنے اپنے قتلِ عام کی تاریخ رکھے ہیں۔ مائ لائی کا واقعہ ہوا تھا ۔ ہمارا اپنا بھی ایک چھوٹے پیمانے کا مائی لائی ہے جب ہمارے سکاٹس گارڈز نے 1948 میں (برطانوی) حکومت کے خلاف ظالم کمیونسٹ باغیوں کے نام پرملایا کے بٹانگ کالی نامی دیہات میں ربر کے باغات میں کام کرنے والے 24 غیر مسلح افراد کا قتلِ عام کیا تھا۔ یقیناً فرانسیسیوں کو الجزائر میں امریکیوں کی افغانستان میں موجودگی کے بر عکس زیادہ بد تر قرار دیا جا سکتا ہے۔ جب ایک فرانسیسی توپ خانے نے ، چھ ماہ کے عرصے میں 2000 ہزار سے زیادہ الجزائیری باشندوں کو صفحہ ہستی سے غائب کر دیا تھا۔لیکن یہ کہنا ایسا ہی ہے کہ ہم صدام حسین سے بہتر ہیں۔ ہر چند کہ یہ کسی حد تک درست ہو لیکن یہ اصولِ اخلاقیات کی کونسی حدِ فاصل ہے؟ اور اس سب کا تعلق ، نظم و ضبط، اخلاقیات اور شجاعت سے ہے۔ وہ شجاعت و دلیری، جو انتقام کے طور پر قتل سے روکتی ہے۔ لیکن جب آپ ایک ایسی جنگ جو درحقیقت آپ ہار رہے ہوں اور جھوٹے طور پر ظاہر کر رہے ہوں کہ آپ جیت رہے ہیں۔ میں در حقیقت افغانستان کی بات کر رہا ہوں ، تو میرے خیال میں ایسی جیت کی کوئی بھی امید لاحاصل ہے۔ جنرل ایلن اپنا وقت ضائع کرتے نظر آرہے ہیں۔


    حوالہ
     
  2. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
  3. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    دائرے کا سفر

    پیش کردہ ویڈیو کے بارے میں:

    Excerpted with slight changes, In Lighter Vein
    The Deficit Dog Chasing Its Tail


    When a dog is chasing its tail, it might amuse the dog and it certainly amuses spectators but one can be pretty certain that the animal isn't likely to accomplish anything. Right now the Democrats seem to be chasing their own tails and they do not seem to be amusing themselves even if it gives me a laugh.
    From Philip Rucker at the Washington Post:
    Democrats have failed to articulate a coherent message and, worse, have allowed themselves to become "human pinatas." Ouch!

    As for the first paragraph, this is one of the most familiar conceits of politicians. If only we had done a better job of articulating a coherent message, the voters would approve. If ever that is plausible, it fades into self-deception when the President has given scores of speeches over more than a year and the President's myriad allies in the Press have worn out laptop keyboards trying to articulate that message.
    The Democratic dog is chasing its tail
    .
    From:
    South Dakota Politics Blog

    Excerpt (verbatim) without any change;

    "Reports that say that something hasn't happened are always interesting to me, because as we know, there are known knowns; there are things we know we know. We also know there are known unknowns; that is to say we know there are some things we do not know. But there are also unknown unknowns -- the ones we don't know we don't know."
    From:
    The Don, Rumsfeld on February 12, 2002 at a press briefing


    It’s my favourite. I don’t hold Donald responsible for his words – a great master at playing with words. A lame duck tends to swim in circles anyway. But, Secretary Rumsfeld will forever, be held responsible, for his ill intent behind his words
    .​

    پیہم، بے مصرف و لاحاصل کوششوں کے ضمن میں حاصلِ مطالعہ و مشاہدہ

    Excerpted with a ‘slight’ change;

    But when you are losing a war that you are pretending to win – I am, of course, talking about Afghanistan – I guess that's too much to hope. General Allen seems to have been wasting his time; ‘as is Fawad’.
    From:
    Do we really, Need To Know?
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں