یومِ عرفہ کا روزہ - 9۔ذی الحجہ کو یا وقوفِ عرفات پر ؟

باذوق نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏دسمبر 17, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    یومِ عرفہ کا روزہ
    9۔ذی الحجہ کو یا وقوفِ عرفات پر ؟

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    دنیا بھر کے مسلمان ، یومِ عرفہ کا روزہ کس دن رکھیں ؟
    اپنے ملک کے کیلنڈر (اسلامی/قمری) کے حساب سے 9۔ذی الحجہ کو یا حج کے دوران حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے دن؟

    اس اختلاف کا سبب دراصل رویت ہلال کی رو سے اختلافِ مطالع اور مختلف ممالک میں قمری تاریخ کے مختلف ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس اختلاف کا کوئی واضح ثبوت کم و بیش نصف قرن پہلے تک نہیں ملتا البتہ اب کچھ سالوں سے یہ اختلاف ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔

    اختلافِ مطالع کو جو لوگ معتبر مانتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ :
    جس ملک میں جب 9۔ذی الحجہ ہوگی ، وہ یومِ عرفہ ہوگا اور وہاں کے لوگوں کو اسی دن یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا ہوگا۔
    اس کی دلیل میں ان لوگوں کے پاس صحیح بخاری کی درج ذیل حدیث ہے :
    چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو۔
    اس حدیث سے چاند دیکھنے کی اور قمری تاریخ کی اہمیت کی دلیل لی جاتی ہے۔
    اگر برصغیر ، جاپان و کوریا کے مسلمان ، بغیر چاند دیکھے ، سعودی عرب کے مطابق رمضان کے روزے شروع کر دیں اور عید بھی منا لیں تو کیا یہ صحیح ہوگا؟

    دوسری طرف جو لوگ اختلافِ مطالع کو معتبر نہیں مانتے ، ان کے پاس دلیل یہ ہے کہ ۔۔۔
    موجودہ تیز تر وسائلِ نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ کے پیشِ نظر ، حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہے ، لہذا یومِ عرفہ کا روزہ بھی اسی دن رکھا جائے جب حجاج کرام ، عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔
    اس عقلی دلیل پر چند اشکالات وارد ہوتے ہیں :
    بعض ممالک مثلاً : لیبیا ، تیونس اور مراکش ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔

    دوسری اہم بات یہ کہ :
    اختلافِ مطالع اگر معتبر نہیں ہے تو ہر چیز میں نہیں ہونا چاہئے۔
    مثلاً ، افطار و سحری کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کے اوقات ہوں۔
    نمازوں کے اوقات بھی وہی ہونا چاہئے جو مکہ مدینہ کی نمازوں کے اوقات ہوں۔
    اگر یہ ممکن نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ : اختلاف مطالع نمازوں اور افطار و سحر کے معاملے میں تو معتبر ہے لیکن رمضان کے روزوں اور یومِ عرفہ کے روزے میں معتبر نہیں ؟؟
    کیا یہ عجیب بات نہیں ؟؟

    صحیح مسلم میں ایک حدیث یوں ہے کہ ۔۔۔۔
    ملک شام میں لوگوں نے روزہ رکھا اور مدینہ منورہ کے لوگوں نے اس کے اگلے دن روزہ رکھنا شروع کیا۔
    فقہائے مدینہ نے اہلِ شام کے ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی خبر کو بنیاد بنا کر اہلِ مدینہ کو یہ فتویٰ نہیں دیا کہ : تم ایک روز قضا کرو کیونکہ شام میں چاند ہو چکا تھا۔ بلکہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ان کی رویت ان کے لیے اور ہماری رویت ہمارے لیے ہے اور (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے)۔


    علاوہ ازیں ، جو لوگ نعرہ لگاتے ہیں کہ : پوری مسلم امت کیوں ایک دن اپنی عید نہیں مناتی ؟
    تو دراصل یہ لوگ گریگورین کلینڈر (عیسائی تقویم) کی برتری کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ عیسوی تقویم کی رو سے بعض جگہ یکم ڈسمبر تو کسی جگہ تین ڈسمبر کو عید ہوتی ہے۔
    حالانکہ اگر غور کیا جائے تو حقیقی ، فطری اور الٰہی یعنی ہجری و قمری تقویم کے مطابق ہر جگہ عید الفطر ، یکم شوال کو اور عید الاضحیٰ 10۔ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے۔ ایک مستند فطری اور الٰہی تقویم کو انسانوں کے خودساختہ اصولوں پر مبنی تقویم (گریگورین کلینڈر) پر پرکھنا ، بھلا کہاں کا انصاف ہے ؟

    روزہ و عیدین وغیرہ کے سلسلہ میں بعض حضرات ترمذی شریف کی ایک حدیث سے دلیل دیتے ہیں :
    روزہ اس دن رکھا جائے جس دن لوگ روزہ رکھتے ہیں ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ بھی اسی دن منائی جائے جب لوگ مناتے ہیں۔

    یہ حدیث واضح تو ہے لیکن اس کے مفہوم کو اپنی مرضی کے مطابق کر لیا جاتا ہے۔
    اس کے حقیقی معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :
    "روزہ اور عید ، جماعت اور لوگوں کی اکثریت کے ساتھ معتبر ہے"۔

    اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اسی مفہوم کی تائید علامہ البانی رحمۃ اللہ نے " تمام المنۃ " میں یوں کی ہے :
    جب تک تمام ممالکِ اسلامیہ کسی نقطۂ اتحادِ رویت پر متفق نہ ہو جائیں ، تب تک ہر ملک کے باشندوں کو ، میری رائے کے مطابق ، اپنے ملک اور اپنی حکومت کے ساتھ رہنا چاہئے ، الگ نہیں ہو جانا چاہئے کہ کوئی اپنے ملک کی رویت پر عمل کرنے لگے اور دوسرا کسی دوسرے ملک کی رویت پر ، کیونکہ ایسا کرنے سے ایک ہی ملک والوں کے مابین اختلاف و انتشار کے مزید وسیع ہو جانے کا خطرہ ہے۔

    آخری بات ۔۔۔۔
    یومِ عرفہ کے روزہ کا معاملہ ، علماء کرام کے درمیان کا اجتہادی معاملہ ہے۔ اس معاملے میں کوئی حتمی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
    جسے اختلافِ مطالع پر اعتبار و اطمینان ہو ، وہ اپنے ملک کی تقویم کے حساب سے 9۔ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" کا روزہ رکھیں۔
    اور جو موجودہ تیز ترین ذرائع ابلاغ کا اعتبار کرتے ہوئے اختلافِ مطالع کو معتبر نہیں مانتا ، وہ حجاج کو میدانِ عرفات میں دیکھ کر روزہ رکھ لے۔

    بحوالہ :
    روزنامہ "اردو نیوز" ، روشنی سپلیمنٹ ، مورخہ 14۔ڈسمبر 2007ء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    شکریہ بھائی، آپ نے وعدے کے مطابق پوسٹ کر دی۔ اے کاش اللہ ہمیں بھی عرفات کا دن میدان عرفات میں گزارنا نصیب فرمائے، آمین!
     
  3. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    جزاک اللہ خیرا .
    اے اللہ ہم کو اس دن کے روزے کی توفیق عطاء فرما . آمین ثم آمین.
     
  4. سارا

    سارا -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2007
    پیغامات:
    101
    اگر 2 ہی روزے رکھ لیں تو یہ زیادہ اچھا ہے۔۔۔اللہ ہمیں ان دنوں روزے رکھنے کی توفیق دے امین۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. گل خان

    گل خان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 5, 2007
    پیغامات:
    515
    جزاک اللہ
     
  6. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
  7. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,354
  8. ڈان

    ڈان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 28, 2007
    پیغامات:
    11,680
    [QH]جزاك الله خيراً[/QH]
     
  9. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    جزاک اللہ
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت اہم موضوع پر بہت اچھی تحریر ۔۔۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  11. لالکائی

    لالکائی -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 15, 2008
    پیغامات:
    175
    جزاک اللہ بھائی ! میری ایک الجھن تھی سو دور ہوئی۔
     
  12. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    عین اپی نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا تھا کہ "تم ریاض میں ہو اس لیے تم 9 کو روزہ رہنا" لیکن میں اپنے گھر کے لوگوں کو دو دن رکھنے کہتا ہوں ایک سعودی کا 9 دوسرا مقامی 9 تاریخ۔ اس طرح عرفہ کے دن والی بھی بات ہو جاتی ہے اور 9 ذی الحجہ والی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن جیسا کہ باذوق بھائی نے بتایا کہ لیبیا وغیرہ کے لوگوں کی عید ایک دن پہلے ہوتی ہے تومیں سچ مچ سوچ میں پڑ گیا کہ وہ لوگ روزہ عرفہ کے دن کیسے رکھ پائیں گے۔انہیں تو 9 ذی الحجہ ہی کو رکھنا ہوگا۔
    باذوق بھائی! اس مفید پوسٹ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شکریہ شکریہ شکریہ
     
  13. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    اگر 9 ہی روزے رکھ لیں تو یہ زیادہ اچھا ہے۔۔۔اللہ ہمیں ان دنوں روزے رکھنے کی توفیق دے امین۔۔

    ( أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم ) رواه مسلم ( 3 / 169 ) وكذا أبو داود ( 2429 ) والترمذي ( 1 / 143 ) والدارمي ( 2 / 21 ) وابن ماجه ( 1742 ) والطحاوي في ( المشكل ) ( 2 / 100 ) وابن خزيمة ( 2076 ) والبيهقي ( 4 / 291 ) واحمد ( 2 / 303 و 329 و 342 و 344 و 535 )

    ( ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الايام العشر ) . أخرجه البخاري ( 1 / 246 طبع أوربا - ليدن ) وأبو داود ( 2438 ) والترمذي ( 1 / 145 ) والدارمي ( 2 / 25 ) وابن ماجه ( 1727 ) والبيهقي ( 4 / 284 ) والطيالسي ( رقم 2631 ) وأحمد ( 1 / 346 )
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    الحمد للہ کہ آپ کو سمجھ آ گئی ، میں نے مختصر بات اسی لیے کی تھی کہ پہلے مجھ سے بڑے اس موضوع پر لکھ چکے تھے ۔

    بھائی اس طرح عبادات میں تشکیک کا دروازہ کھل جاتا ہے ، آپ کو سجدہ سہو والی احادیث تو پتہ ہوں گی ؟ کہ پڑھی ہوئی رکعتوں کی تعداد پر شک ہو تو جس تعداد کا زیادہ یقین ہے اسے معیار مان کر باقی پڑھ دو ۔اسی طرح وضو نہ رہنے والی احادیث وغیرہ ۔ اس میں ایک عمومی سبق بھی ہے کہ جہاں شک ہو وہاں پوری جستجو کے بعد ایک چیز پر جم جاؤ۔ نہ کنفیوز بنو، نہ کنفیوژن پھیلاؤ ۔
    جو عمل کرے گا با اعتماد ہو گا ، ورنہ ہم رمضان میں ایک گنتی سعودی کیا کریں گے ایک مسجد قاسم خانی ، اور ایک پاکستانی ! پھر ہم میں اور جمعے کی نماز کے بعد احتیاطی پڑھنے والوں میں کیا فرق رہ گیا ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. محمد اکبر فیض

    محمد اکبر فیض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2007
    پیغامات:
    1,393
    جزاک اللہ بہت ہی عمدہ تحریر ہے اللہ تعالٰٰی ہم سب کو دین کے سمجنھے کی توفیق عطاء فرمائے اور سب مسلمانوں کو حج کی سعادت نصیب فرمائے ۔ آمین
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    للرفع
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں