دور ابراہیمی کے نمرود اور آج کے نمرود

وردۃ الاسلام نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏جولائی 8, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. وردۃ الاسلام

    وردۃ الاسلام -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2009
    پیغامات:
    522
    تاریخ کا سبق
    دور ابراہیمی کے نمرود اور آج کے نمرود

    تالیف: شیخ سرور زین العابدین ترجمہ: محمد خالد سیف

    (یہ مضمون عالم اسلام کی معروف تحریکی شخصیت شیخ سرورزین العابدین کی کتاب ’’منہج الانبیاء فی الدعوۃ الی اللّٰہ ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ ’’سیرت ابراہیم سے اسباق‘‘ کے عنوان سے شیخ نے نہایت قیمتی نکات بیان کیے ہیں جنہیں ہم ترتیب واراپنے شماروں میں جگہ دیں گے۔ اس مضمون میں شیخ نے عرب ممالک پر مسلط طواغیت کے اہل اسلام کے ساتھ اس سلوک کو بیان کیا ہے جس کا اب ہمیں یہاں بھی واسطہ پڑ رہا ہے جو اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ جس طرح مسلمان جہاں کہیں بھی ہو اس کی فطرت ایک ہی ہوتی ہے ،وہ خدا خوفی اور مسلمانوں کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔ اسی طرح طواغیت جہاں کہیں بھی ہوں ان کی فطرت بھی ایک سی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے دین اور اہل ایمان سے دشمنی کا بدترین نمونہ ہوتے ہیں۔
    سیرت ابراہیم سے پہلا سبق :
    ہمارے دور کے سرکش حکمران قوم ابراہیم کے حکمرانوں سے بھی زیادہ ظالم ہیں۔
    سیدنا ابراہیم عليہ السلام کے دور کے طاغوتوں نے آپ کو اجازت دے رکھی تھی کہ آپ جو بات کہنا چاہیں بلا جھجک ،بلا تامل ،بغیر کسی کمی بیشی اور زبردستی کے برملا کہہ سکتے ہیں۔ بات کہنے کے جرم کی پاداش میں نہ تو آپ کو پیٹا گیا ، نہ آپ کا بائیکاٹ کیا گیا اور نہ آپ کو پابند سلاسل کر کے طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں۔
    جب عدالت میں آپ کے خلاف کیس چل رہا تھا تو اس وقت بوڑھے عورتیں ،جوان اور بچے سبھی عدالت کی کاروائی دیکھتے اور بتوں کو تہس نہس کرنے والے ابراہیم کی بات کو بھی خوب کان لگا کر سنتے اور پھر دونوں کے مابین تقابل و تجزیہ کرتے۔
    ابراہیم خلیل اللہ عليہ السلام نے بڑی ہمت و جرأت کے ساتھ عدالت میں اپنے آراء و افکار اور عقائد پیش کیے اور اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کی کہ یہ ظالم و سرکش لوگ آپ کے سا تھ کیا سلوک کریں گے ،حالانکہ آپ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ،مجنون اور پاگل کہا اور ان کے جھوٹے خدائوں کی خدائی کا انکار کیا۔ قاضیوں اور ججوں نے بھی آپ کے موقف اور آپ کی ان تمام باتوں کو سنا اور یہ کہہ کر خاموش نہ کرایا کہ آپ اپنے حق دفاع سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اس قسم کی کئی ایک وجوہات کی بنا پر ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ابراہیم عليہ السلام کے دور کے ظالم اور سرکش حکمران داعیان دین کے بارے میں عصر حاضر کے حکمرانوں سے مختلف تھے۔ موجودہ دور کے یہ ظالم حکمران تو معمولی سی آزادی دینے کے لیے بھی تیار نہیں جبکہ گزشتہ ادوار کے حکمران بہرحال اظہار رائے کی آزادی دیا کرتے تھے۔ البتہ قدیم و جدید ہر دور میں ان ظالم و سرکش حکمرانوں کی ذہنیت اور اغراض و مقاصد ایک ہی جیسے رہے ہیں۔
    تاریخ کے اوراق سے اس حقیقت کو جانا جا سکتا ہے کہ دور ِموسی کے فراعنہ داعی حق موسیٰ عليہ السلام سے کیا رویہ اپناتے ہیں اور اسی مصر کے قریبی زمانے کے فرعون ایک داعی حق سید قطب رحمہ اللہ کے ساتھ کیا ظلم ڈھاتے ہیں۔ ظالموں نے مفکر اسلام سید قطب رحمہ اللہ کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ دشمنوں نے آپ پر ہر طرح کی الزام تراشی کی ،آپ کو خوفناک مجرم قرار دیا۔ استعماری طاقتوں کا ایجنٹ بتایا۔ الغرض وہ کون سی تہمت اور الزام تھا جو آپ پر نہ لگا یا گیا اور پھر ستم یہ کہ آپ کو ان بیہودہ الزامات کے جواب کا حق بھی نہ دیا ،اتنی اجازت بھی نہ دی کہ آپ اپنے موقف کی وضاحت کے لیے کوئی بیان ہی جاری کر سکیں۔ اطراف و اکنافِ عالم اسلام کے وکلا نے پیشکش کی کہ وہ آپ کے مقدمہ کے لیے بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ لیکن جمال عبدالناصر کی حکومت نے کسی بھی وکیل کو مصر میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہ دی۔ آخر کار اس بلند پایہ مفکر اسلام اور بے مثل داعی دین کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ وقت کی ظالم حکومت نے اپنی راگنی ہی گائی اور اس بات کی اجازت نہ دی کہ لوگ آپ کے موقف کو بھی سن سکتے۔
    اسی طرح بغداد میں بعث پارٹی کی حکومت نے داعی اسلام شیخ عبدالعزیز بدری کو شہید کر دیا ،آپ بیوی بچوں کے ساتھ گھر میں مقیم تھے کہ ظالموں نے آپ کو آپ کے گھر سے گرفتار کیا ،حالانکہ آپ نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا اور پھر چند دن بعد ان ظالم حکمرانوں نے آپ کے اہل و عیال کو یہ روح فرسا خبر سنائی کہ حرکت قلب بند ہو جانے سے آپ کا انتقال ہو گیا ہے اور اور پھر انہوں نے خود ہی آپ کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا اور آپ کے شاگردوں،اہل و عیال اور عقیدت مندوں میں سے کسی کو آپکے جنازے میں شرکت کی اجازت نہ دی۔صرف آپ کے ایک بھائی کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ وہ فوج اور پولیس کا حصار توڑ کر میت تک پہنچ گیااور جب اس نے اپنے مرحوم بھائی کے چہرے سے کپڑا ہٹاکر دیدار کیا تو وہ یہ ہولناک منظر دیکھ کر لرز اٹھا کہ کس طرح آپ کو آلام و مصائب کا تختہ مشق بنایا گیا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعونان مجرم حکمرانوں نے عراق کے ایک نہایت ممتاز اور بلند پایہ عالم دین اور داعی و مفکر شخصیت کو شہید کر دیا۔ اور لوگوں کو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کس جرم کی بنا پر آپ کو گرفتار کر کے شہید کیاگیا،بلکہ ستم بالائے ستم یہ کہ حکومت نے اپنے موقف کی بابت بھی آج تک کچھ نہیں کہا کہ اس نے انسانی جانوں سے ہولی کھیلتے ہوئے یہ ہتک آمیز رویہ کیوں اختیار کیاتھا؟
    اسی طرح بلا د شام جس کا تن ہمہ داغ داغ شد کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہاں کی ’’تدمر‘‘نامی ایک جیل میں صرف چند گھنٹوں کے اندر اندر نصیری پارٹی کے ظالم حکمرانوں نے سینکڑو ں نوجوان ،داعیان دین کو موت کے گھاٹ اتار دیا ،جن میں ڈاکٹر ،انجینئیر ،پروفیسر اور خطیب و واعظ ہر قسم کے قیمتی لوگ تھے، شہید کرنے کے بعد ظالموں نے ان سب کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا جبکہ ان میں سے کچھ لوگ ابھی تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے اور پوری طرح فوت بھی نہ ہوئے تھے۔
    ان ظالم حکمرانوں نے شام کے شہر ’’حماۃ‘‘ کی اکثر آبادی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس مقتل میں قربان ہونے والوں کی تعداد تیس ہزار سے زائد تھی۔ ان سفاک لوگوں نے خواتین کی عزتوں اور عصمتوں کو پامال کیا۔ نو خیز بچوں اور بوڑھوں کے مقدس خون سے اپنے ناپاک ہاتھوں کو رنگا ،بلکہ اس سے بڑھ کران خبیثوں نے شہر کی بڑی بڑی مسجدوں کو پیوندِخاک کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہ کی۔ نصیری پارٹی کی چیرہ دستیاں ’’تدمر‘‘ اور ’’حماۃ‘‘تک ہی محدود نہ تھیں ،بلکہ انہوں نے پورے ملک شام کوہی جیل بنا دیا تھا ،قتل و غارت ،گرفتاریاں اور پھانسیاں اب اہل شام کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ صورت ِ حال یہ تھی کہ جب کسی کا کوئی بیٹا یا بھائی بچھڑجاتا تو اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ فوت ہوچکا ہے یا ابھی تک بقید حیات ہے۔ ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ ماضی کے ان بے شمار ہولناک واقعات میں سے یہ چند ایک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،جن سے اس وقت بھی عالم اسلام دو چار ہے۔ اس سلسلہ میں ظالم اور سفاک حکمران سب ایک جیسے ہیں خواہ وہ فوجی ہوں یا ڈیموکریٹ ،ماڈرن ذہن کے ہوں یا رجعت پسند !۔ موجودہ دور کے سرکش و ظالم حکمرانوں کے عقائد و افکار کی صحیح تصویر ایک شاعر نے پیش کی ہے۔ یہ اشعار درحقیقت کرنل حمزہ بسیونی (ڈائریکڑ جیل خانہ جات قاہرہ) کی اس بات کی ترجمانی ہے جو وہ جیل میں موجود علماء اور دعاۃ سے مخاطب ہو کر کہا کرتا تھا۔
    اِنِّي أنَا القَانُوْنُ أعْلیٰ سُلْطَنَۃً مَنْ ذَا یُحَاسِبُ سُلْطَۃَ الْقَانُونِ
    میں قانون ہوں جس کی حکومت بڑی اعلیٰ ہے اور پھر قانون کی حکومت کا کون محاسبہ کر سکتا ہے ؟
    مَنْ مِنْکُمْ أحْیَیتُہُ فَبِرَحْمَتِي وَاِذَا أمِتُّ فَذَاکَ مِلْکُ یَمِینِي
    تم میں سے میں جس کو زندگی بخشوں تو یہ میری رحمت ہے اور اگر کسی کو موت کے گھاٹ اتار دوں تو یہ میرے غلام ہیں۔
    کس قدر قابل تعجب بات ہے کہ مصنّفین و واعظین ہزاروں سال پہلے نوح اور ابراہیم عليہ السلام کے زمانے کے طواغیت نمرود وں اور فرعونوں کے تعارف اور تردید میں تو لکھتے بولتے نظر آتے ہیں مگر یہ لوگ عصرِ حاضر کے طاغوتوں کے لیے اپنی زبان سے ایک بات بھی نہیں نکالتے بلکہ ان کی شان میں گستاخی کو جرم عظیم سمجھتے ہیں ،ہاں اگر ان کے ملکوں کے طواغیت کا کسی اور طاغوت کے ساتھ کوئی معرکہ برپا ہو تو پھر اور بات ہے۔ ۱؎

    …………………………………………………
    ۱؎۔منہج الانبیاء فی الدعوۃ الی اللّٰہ ۱۸۲تا ۱۸۵مع تصرف یسیر۔
     
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    ماشاء اللہ۔ ہم سے اچھی تو ہماری یہ سسٹر ہے جس نے کم از کم ’’قلم تو کھولی‘‘۔ اور ہم میں سے اکثر تو ایسے ہی ہیں کہ سسٹر کے اس تھریڈ میں کچھ لکھنا ’’پسند‘‘ ہی نہیں کرتے۔ زیادہ سے زیادہ ’’جزاک اللہ خیرا‘‘ یا ’’شکریہ‘‘ لکھ کر ہی ’’حق‘‘ ادا کر دیتے ہیں۔
    ان شاء اللہ جلد ہی ’’امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ‘‘ کا ایک خط لے کر حاضر خدمت ہوں گا، اگر اُس وقت تک یہ تھریڈ ’’مقفل ‘‘ نہ کر دیا گیا۔ کیونکہ اس میں تو پھر بھی ’’حکمرانوں سے متصادم پالیسی‘‘ کی جھلک نظر آتی ہے جبکہ راقم نے تو شروع شروع کے دو تھریڈز میں ایسی کوئی ’’غلطی‘‘ بھی نہیں کی تھی۔ بلکہ ایک تھریڈ میں ’’اہل الحدیث مارکیٹ‘‘ کی بات کی اور دوسرے میں ’’سلفیت و بریلویت‘‘ کی بات کی۔ لہٰذا دونوں تھریڈز کو ’’مقفل‘‘ کر دیا گیا۔
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزا۔
     
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    شکریہ اور جزاک اللہ خیرا کا حق اس وقت اداہوگا ،جب مضمون میں کچھ دم خم ہو گا ، مصنف کی طرف نظر گئی تو مجہول ، مترجم مجہول ، مضمون کو پڑھنے کی کوشش کی وہی گھسا پٹا موقف ۔ وہی اپنے آپ کو فقیہہ ثابت کرنے کی کوشش ، کیا یہ مضمون تبصرے کے قابل ہے ، کسی کے پاس اتنا فضول وقت تو نہیں‌۔
    محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے تمام خط ہمارے پاس موجود ہیں اور وہ سب کس تناظر میں لکھے گئے اور اس پر علمائے عرب کیا موقف رکھتے ہیں ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے ۔ رہی بات تھریڈ مقفل کرنے کی تو کیا '' اہل الحدیث مارکیٹ '' جیسے عناوین مناسب ہوتے ہیں ۔ اگر یہ عمر کا تقاضا ہے تو میں کیا کہ سکتا ہوں ۔اللہ ہدایت دے ۔ آمین باقی ہم وہی کہیں گئے کہ :نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے :: یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
     
  5. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    موضوع سے ہٹ کر مجھے ابن انشاء کی ایک بات یاد آتی ہے ریاضی کے متعلق پرمزاح طور پر لکھتے ہیں کہ " ایک دائرہ اسلام کا دائرہ کہلاتا ہے، پہلے اس میں لوگوں‌ کو داخل کیا جاتا تھا اب اس سے لوگوں کو خارج کیا جاتا ہے"۔
     
  6. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    شکریہ عکاشہ بھائی!
    آپ اگر ذاتیات پر آتے ہیں تو ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے۔ ہمارے لئے تو آپ سب محترم ہیں۔ اگر وجہ پسند و ناپسند کی ہے تو بھی آپ کو اختیار ہے۔ ہم آپ پر داروغہ تو نہیں ہیں۔ اگر وجہ ’’عمل‘‘ ہے تو ہم سب نے اکیلے اکیلے ہی اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ میں نے کسی پر کوئی فتویٰ نہیں دیا اور نہ ہی آئندہ کوئی ارادہ ہے۔ ہاں اگر میری تحریر میں موجود آیات و احادیث کا آپ کے پاس جواب ہے تو ہم اُس پر بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ سب کے لئے کھلے ہیں غریبوں کے دروازے۔ جو بھی آئے ویلکم۔ خوش آمدید۔ ہم کسی کو دین اسلام سے خارج کرنے والے نہیں ہیں۔ نہ ہی ایسی سوچ رکھتے ہیں۔ حکام کے متعلق بات سننا بھی ناگوار ہو تو اس سے بڑی اطاعت و اتباع کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 12, 2012
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    میں نے ذاتیات پربات کی ۔ مگر کیسے ۔ کچھ وضاحت فرمائیں ۔ حکام میں میرا کوئی رشتہ دار ، دوست ، نہیں اور نہ ہی میرا کوئی عزیز ہے اور نہ ہی مجھے ان سے وظیفہ ملتا ہے جو میں ان پرسننا گوارا نہ کروں ۔ میرا سوال ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ حکام پر بات کرکے ان کی تکفیر کرکے آپ ان کا کیا بگاڑ لیں گئے ۔ کیا اس سے تبدیلی ممکن ہے ؟ آپ نے پاکستان میں عقیدہ توحید کے لیے کیا کیا ؟
     
  8. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    ان کا کچھ نہیں بگاڑیں گے بلکہ اپنا ہی بھلا کریں گے اور یہی مقصود ہے!!
    فمن یکفر بالطاغوت ویومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ماشاء اللہ يہ فورم تو تكفيريہ نے فتح كر ليا . يہی فرق ہ تكفيريہ اور مستند علماء ميں ، تكفيريہ صرف خود كو مسلمان سمجھتے ہيں اور مستند علماء حكمرانوں سميت ہر مسلمان كى اصلاح چاہتے ہيں ۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    حكام كو كافر قرار دينے كى بجائے ان كى اصلاح كى كوشش كيوں نہ كى جائے ؟ يہی ذہنيت ہے جو سركارى گاڑيوں اور عمارتوں ميں دھماكے كروا رہی ہے ۔
    جو لوگ دو آيتيں سيدھی نہيں لكھ سكتے وہ علما پر تنقيد كر رہے ہيں تف ہے ايسى جہالت پر ، خدا برباد كرے تمام تكفيريہ كو ،يہ اپنى اولادوں كو پاكستان سے باہر سيٹل كر كے يہاں فتووں سے آگ لگاتے ہيں ۔ ان كے اپنے گھروں ميں خود كش دھماكے ہوں ان كے بچے ان كے سامنے معذور ہو كر سسك سسك كر زندگی گزاريں تو انہيں پتہ چلے آگ سے کھيلنا كيا ہوتا ہے ؟ خدا كے دين ميں بلا دليل بات كرنے كا انجام كيا ہوتا ہے ۔ يہ خود امريكى ايجنٹ ہيں اسى ليے ان كى ويب سائٹس بڑی آسانى اور شان سے بنا روك ٹوک چل رہی ہيں ۔
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    وہ کیسے ، کچھ وضاحت فرمائیں ؟ اور اگر ہو سکے تو اس کی تفسیر ابن عباس اور مستند اور جید علماء کرام سے نقل کردیں تاکہ سب کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔
    جزاک اللہ خیرا۔ درست ۔ ہم دین کو قرآن وحدیث علی فہم سلف صالحین سمجھتے ہیں اور ان سے نسبت کرنے والے مستند علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ اگر یہ تقلید ہے تو ہم مقلد ہی صحیح ۔ لیکن ہمارے نزدیک کسی کی ذاتی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ۔
     
  12. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    شاید! ممکن ہے یہ ذاتیات کی ہی بات ہو؟؟؟ اگر میں غلط نہیں کہہ رہا تو……
     
  13. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    بات اپنے موضوع سے ہٹ کیوں جاتی ہے؟
    موضوع کچھ ہے اور بحث کچھ.......
     
  14. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    سبحان اللہ! الحمد للہ! سسٹر آپ نے بحکم الٰہی ’’طاغوت‘‘ سے ’’کفر‘‘ کر کے ’’ایمان‘‘ اختیار کیا ہے تو میں اپنے رب سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! تیرے مذکورہ حکم کے تحت جب ہم ’’طاغوت سے کفر کر کے ایمان لا چکے تو تو ہمیں اس پر استقامت عطا فرما دے۔ اور وہ چیز بھی ہمیں عطا فرما جس کا تو نے اسی آیت کے دوسرے حصے میں وعدہ فرمایا ہے:
    فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى۝۰ۤ لَاانْفِصَامَ لَہَا۝۰ۭ
    اے اللہ! کوئی جانے یا نہ جانے، تو تو جانتا ہے کہ کسی کو اس آیت کی روشنی میں سمجھانا، کسی پر کفر کا فتوی لگانا نہیں ہے۔ ہم نے کسی کو نہیںکہا کہ فلاںکافر، فلاں فاسق، فلاں مشرک۔ہاں جو کوئی کفر کرے، علی الاعلان کفر کی حمایت کرے، شرک کرے یا کھلے بندوں شرک کا ساتھ دے، اگر وہ توبہ نہ کرے اور اسی حالت میں رہے اور سمجھانے پر بھی رجوع نہ کرے تو اس ظاہری حالت کے بعد ہم اُسے کیا کہہ سکتے ہیں، تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔
     
  15. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    بہت بہت شکریہ چھوٹی آپی!آپ خود ہی غور فرما لیں۔ ہم عرض کریں گے تو …………
     
  16. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    پاکستان میں تکفیری علماء کون کون سے ہیں؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے؟ تاکہ ان سے بچ کر رہا جائے. جزاک اللہ خیرا.
     
  17. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    جو بھی طاغوت کا انکار کرے طاغوت کو طاغوت کہے اور طاغوت سے بچنے کی لوگوں کو دعوت دے وہ تکفیری عالم ہے ان کے نزدیک!!
     
  18. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    جب لال مسجد کا آپریشن ہوا اس کے فوری بعد جو جمعہ ہوا میں اس میں جمعہ پڑھنے طالب الرحمٰن شاہ صاحب کی مسجد میں آیا کہ دیکھوں کیا وہ تکفیر کرتے ہیں فوجیوں کی یا مشرف کی ؟؟؟؟؟

    لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ


    انہوں نے ذکر کیا حضرت عثمان کے دور کا جب امیر معاویہ لوگوں کو سمجھاتے تھے کہ سدھر جاو کہ آج تم پر ایک نرم خو حکمران ہے اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو تم پر ایسے حکمران آئیں گے جو تم کو اپنی تلوار سے سیدھا کریں گے اور پھر ایسا ہی ہوا کہ لوگوں پر حجاج بن یوسف مسلط ہوا

    اس کے بعد انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور حجاج کے درمیان مکہ میں ہونے والا واقعہ سنایا اور اس واقعے کو محض ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ اپنایا پھر اس کے چند ماہ بعد عید الفطر ہوئی تو انہوں نے نام لئے بغیر مشرف کے لئے بد دعا کی کہ اے اللہ اس حکمران کو پھانسی پر لٹکا دے جو مسجدوں پر فاسفورس بم پھینکتے ہیں

    لال مسجد والے، اخوان المسلمون والے، حزب التحریر والے، القاعدہ والے اور پاکستان کے سرحدی صوبے کے چند گروہ

    سورہ المائدہ کی آیت اور وہ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ دیں ایسے ہی لوگ کافر ہیں

    اس پر تکفیر کی جاتی ہے مسلم ممالک کے عوام کی اور بطور خاص حکمرانوں کی

    میں نے طالب الرحمٰن شاہ صاحب سے ایک سوال کچھ یوں لکھ کر پوچھا تھا

    سوال:
    اور وہ لوگ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ دیں ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔۔۔ ۔۔ ۔
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی تفسیر کفر دون کفر سے کیا مراد ہے

    جواب: ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔اگر امریکہ کا خوف بھی ہو تو ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔ یہ دون کفر ہے ۔۔۔۔۔

    افسوس کے مجھے سوال اور جواب دونوں یاد نہیں رہے مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے اثبات کیا تھا کہ اگر حکمران کسی ڈر کی وجہ سے خواہ وہ امریکہ کا ڈر ہی کیوں نہ ہو شریعت نافز نہیں کرتے تو یہ کفر سے کم تر کفر یعنی دون کفر ہے (حضرت ابن عباس کے الفاظ میں) ہو گا۔
     
  19. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    جذبات کی شدت مستحسن ہے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا دعوت کے میدان میں سب سے زیادہ مستحسن ہے۔
     
  20. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    محترم بھائی! اچھی طرح حافظے پر زور دے کر الفاظ یاد کر کے تحریر فرمائیں۔ بہت بہت شکریہ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں