صوفی: اسلام کی صحیح پہچان؟ مولانا وحیدالدین خان

ابوعکاشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏جولائی 15, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    صوفی: اسلام کی صحیح پہچان؟

    مولانا وحیدالدین خان


    ’صوفی‘ یا ’تصوف‘ کے الفاظ بھلے ہی قرآن میں شامل نہ ہوں، مگر یہ اسلام کی حقیقی روح کی نمائندگی کرتے ہیں۔ قرآن میں موجود لفظ ’الربانیہ‘، جس کا مطلب اللہ کی راہ میں بسر ہونے والی زندگی ہے، تقریباً ان اصطلاحات کا متبادل ہے۔

    اسلام کے بنیادی ذرائع میں قرآن اور حدیث شامل ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ان کی دو مختلف تشریحات سامنے آئیں۔ ایک جسے ہم ’سیاسی‘ کہہ سکتے ہیں، اور دوسری جسے ’روحانی‘ کہا جا سکتا ہے۔

    عباسی دور میں اسلام کی سیاسی تشریح مسلمان دانشوروں اور مصنفوں میں مقبول ہو گئی۔ یہی وہ تعلیم یافتہ طبقہ تھا جس نے اس زمانے میں کتابیں لکھیں۔ جس کی وجہ سے اسلام کی سیاسی تاریخ زیادہ تر کتابوں کا موضوع بنی جبکہ اسلام کے دوسرے پہلو، جیسے کہ انسانی حقوق، معاشی بہتری اور اللہ کے تئیں عقیدت کو نظر انداز کیا گیا۔

    تیونس میں ایک عرب ہسپانوی خاندان میں پیدا ہونے والے ابن خلدون نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انہوں نے ایک طویل ’مقدمہ‘ لکھا جس میں انہوں نے تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے قوائد وضح کیے۔ انہوں نے سیاست کی بجائے اخلاقی اور روحانی پہلؤں پر توجہ دینے پر زور دیا۔ مگر بد قسمتی سے اس کا کوئی مثبت اثر نہیں ہوا۔

    غیر سیاسی بنیادوں پر اسلام کی ایک تعریف صوفیوں نے پیش کی۔ اس میں محبت، بھائی چارے اور سب سے بڑھ کر امن پر زور دیا گیا۔ صوفیوں کا اثر دنیا بھر میں لوگوں نے، خاص طور پر نچلے طبقے کے لوگوں نے، محسوس کیا۔ آج کل بھی عام آدمی کافی حد تک صوفیوں سے متاثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تشدد کے باوجود لوگ اپنی زیادہ تر زندگی پر امن طریقے سے گزارنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

    مغربی دنیا میں بھی کئی صوفیوں نے اپنے مراکز قائم کیے ہیں اور امن کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ صوفی ہمیشہ محبت، روحانیت کی بات کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں ہر مرد اور عورت کی زندگی کا اصل مقصد اللہ تک پہنچنا ہے۔ ایسے لوگ اپنے روحانی ارتقاء میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ انہیں تشدد کا راستہ اپنانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور انہیں دوسروں کے ساتھ پر امن طریقے سے رہنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔

    مغربی دنیا میں مسلمانوں کے لیے جو نفرت پائی جاتی ہے، اس کا اصل ذمہ دار مسلمانوں کا دانشور طبقہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دانشور مغربی معاشرے کی ایک خاص تصویر پیش کرتے ہیں جس میں اچھائیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور خامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے مغربی دنیا میں مسلمانوں کے تئیں نفرت اور شک پیدا ہو جاتاہے۔ مغربی دنیا کے خلاف جتنی کارروائیاں ہوئی ہیں ان سب کے پیچھے ایسے ہی افراد کا ہاتھ ہے۔

    در اصل صوفی اسلام اسلام کا صحیح چہرہ ہے۔ یہی سچے اسلام کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسلام میں جنگ اور تشدد کی اجازت صرف اپنی جان بچانے کے لیے ہی ہے۔ اس بات کو واضح کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ اسلام میں صرف حکومت کو ہتھیار اٹھانے کا حق ہے۔

    تو پھر کیا وجہ ہے کہ صوفی اسلام کو مسلم معاشرے میں مرکزی جگہ حاصل نہیں؟ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ صوفی خود کو میڈیا سے بالکل علیحدہ رکھتے ہیں۔ وہ صرف نجی جان پہچان کے ذریعے ہی اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ انتہا پسند عناصر جو در اصل اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے، اخباروں ، ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ جس سے وہ کئی لوگوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

    اس کی ذمہ داری کسی حد تک میڈیا پر بھی عائد ہوتی ہے۔ میڈیا کئی بار صرف سیاسی اور سنسنی خیز خبروں پر ہی توجہ دیتا ہے، جس وجہ سے اسلام انتہا پسندوں کے ساتھ منسلک ہو گیا ہے۔

    قرآن اور حدیث ہمیں بار بار انتہا پسندی سے دور رہنے کی ہدایت دیتے ہیں کیونکہ انتہا پسندی سے صرف تباہی ہوتی ہے۔

    صرف صوفی اسلام ہی اسلامی اور مغربی دنیا کو جوڑنے کا کام کر سکتا ہے۔
    سیاست جنگ اور تباہی سے پنپتی ہے۔ تو جب بھی اسلام کو سیاسی رنگ دیا جاتا ہے ایک منفی ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ سیاسی اسلام کی بنیاد دوسروں کے ساتھ مقابلہ ہے جبکہ صوفی اسلام کی بنیاد یکجہتی ہے۔

    تاہم صوفی اسلام کو اپنا صحیح کردار ادا کرنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اس جدید دور میں صوفیوں کو اپنی بات ایک جدید طریقے سے کہنی ہوگی، دوسری یہ کہ انہیں اپنی بات لوگوں کو سمجھانے کے لیے جدید میڈیا کا پورا فائدہ اٹھانا ہوگا۔ اگر یہ دونوں کام کیے جائیں تو صوفی اسلام مغربی دنیا اور اسلام کے درمیان ایک کامیاب کڑی بن سکتا ہے۔

    بحوالہ :: بی بی سی
     
  2. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    صوفی سے مراد صرف اور صرف امن کی طرف اشارہ ہے ۔۔۔ رہا صوفیت کیا ہے ؟ اس کے عقائد سے مولانا بری ہیں ۔۔۔۔ اس سے ہرگز کوئی یہ استدلال نہیں کرسکتا اور یہ سمجھ نہیں سکتا کہ مولانا صوفیت کے جمیع نظریات سے متفق ہیں ۔۔۔ صوفیت ہی کے بارے میں مختلف جگہوں پر مولانا نے روشنی ڈالی ہے مثلا دیکھئے مجلس پر ہی یہ اقتباس شئیر کیا گیا ہے ۔۔

    حوالہ
    صوفیت بمقابلہ دہشت گردی ہے یا انتہاء پسندی ہے ۔۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔
    اگر کوئی یہ سمجھے کہ مولانا صوفیت کے نظریات سے متفق ہیں تو وہ اس کی دلیل پیش کرئے کہ کہاں مولانا نے ان کے عقائد کو صحیح مانا ہے
     
  3. محمد عرفان

    محمد عرفان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 16, 2010
    پیغامات:
    764
    مولانا صاحب کا صوفیت کے نظریات سے متفق ہونے کی سب سے بڑی دلیل مولانا کی ہی بیان کردہ اوپر مذکور بی بی سی رپورٹ ہے۔۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وحيد الدين خان نے اپنے پرانے خيالات ہی كا نئے پيرائے ميں اظہار كيا ہے ۔ دراصل يہ دين اسلام سے جہاد كو منہا كر كے عيسوى ماڈل كے انطباق کے ايك عرصے سے قائل ہيں ملاحظہ كيجيے :
    "
    اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كا اسوہ " اسوۂ حسنہ" تو ہے، "اسوۂ كاملہ" نہیں ہے ۔ اسى طرح اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كو نظرياتى طور سے فائنل پیغمبر تو مانا جائے گا ، ليكن عملى طور سے آپ كو فائنل ماڈل سمجھنا اللہ تعالى كے قائم كردہ قانونِ فطرت كى تنسيخ كے ہم معنى ہے اس ليے اب اس زمانے ميں جزوى طور سے محمدى ماڈل قابلِ انطباق ( Applicable) نہ رہے گا ، اس كے بجائے مسيحى ماڈل جزوى طور سے قابلِ انطباق ہو جائے گا
    بحوالہ : ماہ نامہ " الرسالہ" نئى دہلى ، جون 2007 ، صفحہ 2تا 6 " مسيحى ماڈل كى آمدِ ثانى"
    مولانا وحيد الدين خان كے باطل افكار كا علمى جائزہ - URDU MAJLIS FORUM

    قاديانى مذہب ، صوفى اسلام اور وحيدالدين خان و جاويد غامدى سب ايك نكتے پر آ كر متفق ہو جاتے ہيں اور وہ ہے انكار جہاد !

    اس ميں كوئى شك نہيں کہ وحيدالدين خان نے وحدت الوجود اور تصوف كو سخت تنقيد كا نشانہ بنايا ہے اور بار بار بنايا ہے ليكن جہاد كے بارے ميں وہ متصوفہ اور قاديانيہ کے ہم زبان ہيں ۔


     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    دراصل وحیدالدین خان صاحب بھی مسلمانوں کو مغرب سے جوڑنے کی فکر میں رہتے ہیں اس لیے لکھتے ہیں‌ کہ :
    مولانا لکھتے ہیں کہ بھلے صوفی کا لفظ قرآن اور حدیث میں شامل ہو نہ ہو پھر بھی حقیقی روح کی نمائندگی کرتا ہے ۔ جبکہ اسلام میں رہبانیت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ایک خطبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اقتباس ہے -
    مں تمہیں صوفی اور درویش اور راہب و تارک دنیا بننے کا حکم دینے نہیں آیا ۔
    اسی طرح مولانا فرماتے ہیں کہ :
    عباسی دور کے دانشوروں اور مصنفوں کی مقبولیت کی بات کررہے ہیں وہ دراصل علماء کرام اور محدیثین تھے ۔ اس میں امام بخاری سے لیکر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تک جلیل القدرعلماء موجود تھے ۔
    مزید لکھتے ہیں کہ :
    یعنی اس وقت سے لیکر آج تک وہی محدیثین اور علماء حق اور ان سے نسبت رکھنے والے مسلمانوں کو یہود و ںصارٰی سے جوڑنے میں‌رکاوٹ ہیں ، مغرب اور اسلام کے درمیان نفرت اور شک پیدا کرتے رہتے ہیں ۔
     
  6. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کے پاس صاحب تحریر کی سوچ سمجھ اور نیت جواب دہ ہے ۔۔۔۔ نہ کہ شارحین و قارئین کی سوچ سمجھ اور نیت ۔۔۔۔۔
    الحمدللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کہ اللہ تعالی قارئین اور شارحین کی سوچ سمجھ پر صاحب تحریر کا مواخذہ نہیں کرئےگا ۔۔۔ شارحین اور قارئین کی اپنی ان کی سوچ، سمجھ اور نیت پر خود ان کا مواخذہ ہوگا ۔۔۔
    اب جس کی جو مرضی ۔۔۔۔ جو لکھنا ہو لکھے ۔۔۔ اس کی تحریر خود اس کے اپنے حق میں ہوگی نہ کہ کسی دوسرے کے حق میں ۔۔۔ اس کی تحریر سے خود اس کا مواخذہ ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کا ۔۔۔

     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,919
    ہر چیز کونیت کے سپرد کردو ۔ اللہ ہدایت دے ۔

    اوریا مقبول جان کی طرف سے احناف اور بریلویوں کے شیخ اکبر ابن عربی صوفی کی تعریف ومداح میں ایک مکمل کالم ۔ آپ لوگ بھی پڑھیں ۔
    راہ نجات از اوریا مقبول جان ۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ناسٹر ڈیمس اور رومی و ابن عربی کا ’نور بصیرت‘ میرے لیے ایک جیسا بے کار ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں قیامت کی علامات میں وہی کافی ہیں جو ہمارے حبیب حضرت محمد ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ۔
     
  9. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    جو حضرات مولانا کے عقیدہ کو بگاڑنے اور ان کے سلسلے میں لوگوں میں غلط فہمیوں کو پھیلانے کا عزم مصمم کئے ہوئے ہیں ، انہیں جاننا چاہئیے کہ ان کا یہ کام اللہ کی نظر میں دین کی خدمت شمار ہوگا یا مسلمانوں کے مابین بدگمانیوں کو فروغ دینے میں شمار ہوگا ۔۔۔ ایک ایسی تحریر جس میں شبہ کا پہلو موجود ہو ، پھر صاحب تحریر نے اس شبہ کا ازالہ کردیا ہو ، پھر بھی لوگ اسی تحریر کو پھیلائیں جس میں شبہ کا عنصر ہے ۔۔۔۔ اور جس تحریر میں شبہ کا ازالہ کیاگیا ہو اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ لکھیں تاکہ لوگوں کے درمیان بدگمانی پھیلانے میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہوجائے ۔۔۔۔۔ تو ایسے لوگوں کو اللہ کی پکڑ کا انتظار کرنا چاہئیے ۔۔۔ آج نہیں تو کل ضرور ایسے دیندار مسلمانوں کی پکڑ ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ مولانا وحدت الوجود سے بری ہی نہیں بلکہ مولانا نے وحدت الوجود کی پوری پول کھول دی ہے ۔۔۔ اس کے غلط ہونے کو خوب واضح کیا ہے ۔۔۔۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہاں وحیدالدین خان کے عقیدہ کو کسی نے بگاڑ کر پیش نہیں کیا ہے بلکہ انہی کے الفاظ پیش کیے گئے ہیں ۔ مداحوں کو اپنے مولانا کے الفاظ سے تکلیف پہنچے تو راوی و ناقل کا کیا قصور ؟
     
  11. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    بہت خوب ۔۔۔۔۔
    لیکن اسی ایک تحریر پر تبصرہ کرنے لگ جانا ۔۔۔ اس سے جو بات سمجھ میں آئی اسی پر انحصار کرنا ۔۔۔ یہ دیکھے بغیر کہ کیا مولانا کی دوسری کتابیں اور تحریریں میرے اس تبصرہ کی دلیل ہیں یا تردید ۔۔۔۔ اس لئے جب کبھی مولانا کی کتابوں اور تحریروں پر تبصرہ کرنا ہو تو آپ سب سے میری ایک التماس ہے کہ مولانا سے متعلق کوئی بات یا رائے بنا رہے ہوں تو سب سے پہلے آپ کے لئے اس کی خوب تحقیق کرنا ضروری ہے اتنی زیادہ تحقیق کہ آپ کو یہ یقین ہونا چاہئیے کہ میں جن باتوں کولکھنے جا رہا ہوں اس کی میں نے کما حقہ تحقیق کرلی ہے ۔۔۔ یہ تحقیق چاہے براہ راست مولانا سے خط و کتابت کی شکل میں ہو یا ان کی کتابوں کا خوب خوب مطالعہ کرچکنے کی شکل میں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔

     
  12. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    اگر کسی صاحب کو میرے یہ جملے سخت لگے ہوں یا اس سے انہیں تکلیف پہونچی ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔۔ اللہ سے دعاء گو ہوں اللہ اس تکلیف کے بدلہ ان کی سوچ میں ان کی سمجھ میں ہدایت میں خوب خوب اضافہ کرئے اور ان کے گناہوں کو مٹائے ۔۔۔ مجھے اچھے اسلوب میں میٹھے انداز میں اپنی بات کو پیش کرنے کی توفیق دئے آمین
    جزاکم اللہ خیرا ۔۔۔
    میں دوبارہ بحث مباحثہ نہیں چاہتا ۔۔۔ اور میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ اس جواب در جواب کی چکر میرے ضروری کام پنڈنگ میں پڑ جاتے ہیں ۔۔۔ اور خواہ مخواہ کا ٹنشن سر پر دن بھر سوار رہتا ہے ۔۔۔۔۔ امید کہ معذرت خواہ سمجھیں گے ۔۔۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں