امریکی ڈالروں پر ’’ بابوں ‘‘ کی پروجیکشن

عائشہ نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏اگست 7, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    امریکی ڈالروں پر ’’ بابوں ‘‘ کی پروجیکشن

    جب سے امریکی تھنک ٹینک نے جہادی اسلام کا تریاق ’’صوفی اسلام ‘‘ تجویز کیا ہے ’’ بابے ‘‘ دریافت کرنے والے پاکستانی صحافیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔۔۔ آئے دن کسی نہ کسی کالم میں کسی نو دریافت ولی یا قطب کا تذکرہ ہوتا ہے عموما ان بابوں کی صفات عالیہ میں بے ریش ، سگریٹ نوش ، سوٹد بوٹڈ وغیرہ ہونا مشترک ہوتا ہے ، یہ اور ان کے مرید اپنی پسندیدہ فلموں ، گانوں اور اداکاراؤں کا تذکرہ پوری ڈھٹائی سے کرتے ہیں ۔ اسی سے مرشدان با صفا اور ان کے مریدین کی روحانی بلندی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ مزید یہ کمال کہ یہ آپ کا نام اور ماں کا نام پوچھ کر آپ کے ماضی ، حال اور مستقبل کا حال بتا دیتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر علم نجوم، ہپناٹزم،کالا جادو وغیرہ سے اپنے شغف کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔ واصف علی واصف، بلال قطب ، پروفیسر رفیق اختر، سید سرفراز شاہ ، یاسین وٹو۔۔۔ اور ایک طویل فہرست ۔۔۔ ہر تیسرے چینل کا اینکر یا اینکری کسی نہ کسی بابے کو متعارف کروی کر روحانی کمالات کی ’’لائیو دیمانسٹریشن ‘‘ میں مصروف ہے اور ہر چوتھا کالم نگار اپنے کالم میں ان کے روحانی فیضانات کا تذکرہ رقم کر رہا ہے ۔ کسی کو بھولے سے یاد نہیں آتا قرآن مجید علم غیب کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ خدا معلوم ماضی ، حال ، مستقبل بتانے والے ان ’’بابوں‘‘ کو اپنے جنازے کا وقت معلوم ہوتا ہے یا نہیں لیکن قوم کے ایمان کا جنازہ یہ بڑی دھوم سے نکال رہے ہیں ۔۔۔
    بھنگ کے نشے میں دھت سائیں کوڈے شاہ کی بزرگی کا انکار کرنے والے عطاءالحق قاسمی کا تازہ مضمون پڑھ کر ’’ڈالروں کی روحانی تاثیر‘‘ کا اندازہ کریں اور پھر اظہار الحق صاحب کا شکوہ ملاحظہ کیجیے :
    از جنگ

    از نوائے وقت
     
  2. ماہا

    ماہا ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏نومبر 27, 2010
    پیغامات:
    351
    اس سب کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں روز بروز مزاروں کی تعداد بڑھا نے کے لئے ان کی تعمیر کی مد میں آنے والے اخراجات بھی یہ ہمارے ہمدرد ہی اٹھا رہے ہیں
     
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یعنی ’’عالم آن لائن ‘‘ کی میزبانی تاریخی جاہلوں کے سپرد رہی ہے۔
     
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اس صوفی ڈرامے سید بلال قطب نے شادی کے لیے ایک کالر کا مذہب تبدیل کرایا تھا جیو والے لائیو قبول اسلام کو بار بار دکھاتے تھے ۔

    http://www.youtube.com/watch?v=1Sa43XRiaZ8

    گزشتہ دنوں جیو ٹی وی کے مشہور پروگرام عالم "آن لائن" میں قبول اسلام کا جاہلانہ ڈرامہ رچا دیا گیا۔ پروگرام کے ہوسٹ سید بلال قطب نامی شخص نے پروگرام میں کہا کہ انہیں ایک کال آ رہی ہے، اس کے ساتھ ہی سکرین پر نام ظاہر ہوا۔ ڈاکٹر عائشہ (ٹورنٹو) اس طرح کا نام اچانک ظاہر ہونے اور پھر عائشہ جو خالص مسلمانوں کا نام ہے، سے ہی بخوبی ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ سارا کچھ ڈرامہ ہی ہے۔ کال ملتے ہی وہ خاتون بتانے لگی کہ اسے ایک شخص سے عشق ہے لیکن وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ تو میں کیا کروں؟ اس پر سید بلال قطب نے کہا کہ ارے ، ارے، ارے، آپ کلمہ پڑھ لو اور مسلمان ہو جاﺅاور شادی کر لو۔ اس پر خاتون بولی کہ کیا یہ اتنا آسان ہے؟ اس پر بلال قطب نے کہا کہ یہ بہت آسان ہے، کلمہ پڑھ لو اور بس.... ساتھ ہی کہا کہ میں آپ کو بڑا بھائی ہونے کے ناطے یہیں کلمہ پڑھاتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی بلال قطب نے کلمہ پڑھانا شروع کر دیا لیکن موصوف اس بات تک سے بھی ناواقف نکلے کہ نومسلم کو کونسا کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی جو معروف کلمہ پڑھایا وہ کچھ یوں تھا:للہ کی لام کے نیچے زیر اور رسول کی لام پر زبر لیکن دوسری طرف حیران کن طور پر "نو مسلم" خاتون نے جو کلمہ پڑھا وہ زیادہ درست تھا۔ سید بلال قطب نے اس موقع پر اس خاتون کو کلمہ کا ترجمہ بھی بتایا اور الہ کا معنی خدا کر کے سب کو حیران کردیا اور کلمے کے بھی دوسرے مرحلے میں اپنی طرف سے "اور" کا اضافہ بھی کردیا۔ اس کے ساتھ خاتون اور بلال دونوں آبدیدہ ہو گئے جس کے ساتھ ایک بار پھر کھلے بندوں اندازہ ہوا کہ یہ سارا کچھ محض ڈرامہ تھا۔ "نو مسلمہ " خاتون نے جس انداز اور طرز پر انگریزی اور اپنی ہی تخلیق کردہ اردو میں گفتگو کی وہ بھ اس ڈرامے کی کھلی چغلی کھا رہی تھی۔ یوںاپنے آپ کو علم کا قطب سمجھنے والے سید بلال قطب کی بھی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے بڑے کھلے ڈرامے اور جہالت کی تمام حدیں پار کرنے کے باوجود جیوٹی وی کے ارباب اختیار اس کو اپنے بہت بڑے کارنامے کے طور پر دکھا رہے ہیں کہ ان کی کاوش سے فون ملاتے ہی ڈاکٹر عائشہ "مسلمان" ہو گئی۔ اس صورتحال پر ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ عوام الناس کو اس طرح کی جہالتوں کا تعاقب کر کے گمراہی سے بچایا جائے تاکہ جاہل لوگ سادہ لوح عوام کو اسلام کے نام پر گمراہ نہ کر سکیں جس کا سلسلہ آج کل تقریبا تمام ٹی وی چینلز نے شروع کر رکھا ہے کہ جن لوگوں کا ظاہر شکل و لباس تک مسلمانوں والا نہیں ،وہ کیسے لوگوں کو اسلام کی تعلیم دینے آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ جہالت کے اس سلسلے کو روکنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عوام تک یہ پیغام پھیلایا جائے ورنہ عام لوگ اصل دین کے بجائے ان جاہل ماڈرن جبری مولویوں سے مسئلے پوچھ پوچھ کرگمراہ ہوں گے اور اصل اسلام سے ہی نابلد ہو کر رہ جائیں گے۔شکریہ


    Credit:
    Ali Imran Shaheen


    http://i.imgur.com/3ke83.jpg

    [​IMG]
     
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    امريکی حکومت کی جانب سے صوفياء کرام کے مزاروں کی تعمير اور مرمت کے ضمن ميں دی جانے والی امداد کے حوالے سے خبر کو توڑ مروڑ کر اس انداز سے پيش کرنا کہ جس سے يہ غلط تاثر ابھرے کہ امريکہ کسی خاص مذہبی فرقے يا مذہبی سوچ کو پروموٹ کر رہا ہے، سراسر ناانصافی ہے۔

    امريکی حکومت کی جانب سے ان مزارعوں کی تزين اور مرمت کے لیے امداد کی فراہمی محض ان عمارات کی تاريخی اور تعميری حيثيت کے تناظر میں ہے۔ ہمارے نقطہ نظر سے يہ مزار فن تعمير کا نادر نمونہ ہيں اور ہر سال لاکھوں افراد ان کی زيارت کے لیے آتے ہیں۔ يہ جگہيں صرف پاکستان ہی کا ورثہ نہيں بلکہ عالمی ميراث بھی ہیں۔ يہ منصوبے مشترکہ ميراث کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کی غرض سے ہماری مشترکہ کوششوں کی ايک عمدہ مثال ہيں۔

    فنڈ براۓ ثقافتی تحفظ کے تحت پنجاب ميں تين صوفياۓ کرام کے مزاروں کے تحفظ اور بحالی کے لیے 50۔12 ملين روپے (000۔149 ڈالر) کی امداد کے علاوہ امريکی سفارت خانہ پاکستان ميں ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے متعدد منصوبوں کے ليے اعانت فراہم کر چکا ہے، جن ميں شاہی قلعہ لاہور کا عالمگيری دروازہ، ٹيکسلا ميں سرکپ کا مقام اور جناں والی ڈھيری، پشاور میں مسجد مہابت خان اور گورتھری، قلعہ روہتاس ميں مان سنگھ کی حويلی اور لاہور میں مسجد وزير خان کا بازار شامل ہيں۔ صوبہ پنجاب ميں بحالی کے جن تين منصوبوں پر اس وقت کام جاری ہے ان ميں مزار شاہ شمس تبريز ملتان، گجرات ميں حافظ حيات کمپليکس اور ڈيرہ غازی خان ميں مزار حضرت سخی سرور شامل ہیں۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    جزاک اللہ، اچھا ہوا کہ آپ نے تصدیق فرما دی ورنہ قبر پرستوں کو یہ بات ہضم نہ ہوتی۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    امریکی تصوف کونسل کا ذکر کس خوبی سے گول کر گئے امریکی ترجمان صاحب۔ تاریخی ورثے میں مساجد کیوں نہیں آتیں؟ صرف مزار کیوں؟
     
  9. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    جنان والی ڈھیری کے سپورٹر فواد انکل :00003:
    عاصم بھائی نے اپنے کالم میں امریکی امداد کا سارا پول کھولا تھا۔امریکہ پاکستان میں مزارات کی تعمیر کے لیے فنڈز دے گا - URDU MAJLIS FORUM


     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    صرف ايک يا دو تعميراتی منصوبوں کا ذکر کر کے صرف اسی پر توجہ مرکوز کرنا اور اس محدود معلومات اور اعداد وشمار کی بنياد پر حتمی راۓ قائم کر لينا سراسر ناانصافی ہے۔

    حقيقت يہ ہے کہ مزاروں کی تزئين اور تعمير کے ضمن ميں جس خبر کا حوالہ ديا گيا ہے وہ دراصل ايک وسيع بين الاقوامی پروگرام کا چھوٹا سے حصہ ہے جسے "ايمبيسٹرز فنڈ فار کلچرل پريزرويشن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس پروگرام کے تحت يہ رقم مزاروں کی تعمير کے ليے مختص کی گئ ہے اس کا واحد مقصد امريکہ کی جانب سے مختلف ثقافتی اثاثوں کی حفاظت کے ضمن میں کی جانے والی کوششوں کو سپورٹ کرنا ہے۔

    ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ کوئ بھی امدادی پيکج يا وسائل اس وقت تک منظور نہيں کيے جا سکتے جب تک کہ مقامی حکومتی ادارے، تنظيميں اور متعلقہ عمارات سے متعلق ماہرين اپنی جانب سے درخواست اور بھرپور تعاون کا يقين نہ دلا ديں۔ اس تناظر ميں يہ دعوی بالکل بے معنی ہے کہ اس طرح کے فنڈز امريکہ مخصوص علاقوں اور ممالک ميں اپنے اثر ورسوخ کو بڑھانے کے ليے استعمال کرتا ہے۔

    سال 2001 میں کانگريس سے منظوری کے بعد سے "ايمبيسڈرز فنڈز" کے توسط سے براہراست 100 سے زائد ممالک ميں 550 ثقافتی اثاثوں کی حفاظت کے منصوبے پايہ تکميل تک پہنچاۓ جا چکے ہيں۔ قريب 10 برس سے جاری اس منصوبے کے تحت اب تک دنيا بھر ميں امريکی حکومت کی جانب سے 20 ملين ڈالرز کی رقم فراہم کی جا چکی ہے۔

    اس پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی لسٹ پر محض ايک سرسری نظر ڈالنے سے بھی يہ واضح ہو جا تا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد کسی خاص مذہبی فرقے، ثقافت يا نظریے کی ترويج يا سپورٹ کرنا نہيں ہے۔

    http://www.freeimagehosting.net/uploads/7e55dfbd78.jpg

    اسی لسٹ ميں آپ کابل ميں ايک مسجد کی تعمير کا منصوبہ بھی ديکھ سکتے ہیں۔ ايسے کئ منصوبے اس لسٹ میں شامل ہيں۔

    سال 2009 میں 90 سے زائد ممالک کے امريکی سفارت کاروں نے مقامی اداروں اور تنظيموں کی جانب سے اس ضمن ميں کی جانے والی درخواستوں کے جواب ميں اس پروگرام سے استفادہ کيا تا کہ ايسے ثقافتی اثاثوں کی حفاظت کے ليے فوری مدد فراہم کی جا سکے جو شکست وريخ کا شکار ہيں۔

    يہاں ميں ايک رپورٹ کا لنک دے رہا ہوں جس ميں دنيا بھر ميں اس پروگرام کے تحت فنڈز کی تقسيم کی مکمل تفصيل درج ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس پروگرام کے مقاصد کسی ايک ملک يا خطے ميں کسی مخصوص مذہبی سوچ يا فرقے کی پشت پناہی يا حمايت تک محدود نہيں ہيں۔

    http://exchanges.state.gov/media/pdfs/office-of-policy-and-evaluations/ambassadors-fund/afcp2011list.pdf

    جہاں تک مساجد کی تعمير کے حوالے سے آپ کا سوال ہے تو اس ضمن ميں تفصيلات اس لنک پر موجود ہيں۔

    U.S. Ambassador's Fund to Support Restoration of Historic Mosques Worldwide | IslamToday - English

    اس کے علاوہ سال 2001 سے لے کر اب تک اس پروگرام کے تحت کس ملک ميں کس منصوبے کے ليے کتنی امداد مختص کی گئ ہے، اس کی تمام تر تفصيلات آپ اس لنک پر ديکھ سکتے ہيں۔

    Bureau of Educational and Cultural Affairs-Exchanges

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    امریکی صوفی کونسل کا ذکر پھر گول اور کئی سال پرانی پوسٹس پیسٹ کر گئے حضرت ۔
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ایک اور سید زادے کالم نگار سید عبدالقادر حسن کا کالم ملاحظہ فرمائیں جس میں پاکستانی سیاست کے متعلق نام نہاد’’روحانی سکالر‘‘ ’’کہے فقیر‘‘ اور ’’رنگ فقیر‘‘ کے مصنف سید سرفراز اے شاہ کے ’’ کشف ‘‘ کی پبلسٹی کی گئی ہے۔ بے چارہ سابق سرکاری افسر سرفراز شاہ قوم کے غم میں اتنا مرا جا رہا ہے کہ اس نے مردوں اور عورتوں کے لیے دعا کرنے کا باقاعدہ ٹھکانا بنا رکھا ہے جہاں خواتین و حضرات کے لیے الگ الگ دن مخصوص ہیں۔(ظاہر ہے یہ ٹھکانا مسجد نہیں، امریکی سرپرستی میں چلتے تصوف کا بھلا مسجد سے کیا تعلق؟ یہ مزاروں، بنگلوں اور فائیو سٹار ہوٹلوں کی ماڈرن’’روح پرور فضا ‘‘ میں پایا جاتا ہے ) ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں منافق آتے تو ان کو تب تک خبر نہ ہوتی جب تک وحی سے ان کو خبردار نہ کر دیا جاتا۔ سید عبدالقادر حسن کے مطابق سرفراز شاہ اتنا پہنچا ہوا ہے کہ غلط بیانی کرنے والوں کو پکڑ لیتا ہے!
    ابھی سید سرفراز شاہ اور سید عبدالقادر حسن کی رسی اللہ تعالی نے دراز کر رکھی ہے ایک روز ان کی غلط بیانیاں اور دجل و فریب پکڑے جائیں گے وہ دن جب انسان اپنے باپ، بیٹے سے بھی بھاگے گا۔
    عبدالقادر حسن نے سرفراز شاہ کی تعریفوں کے طویل پل باندھنے کے بعد قارئین کو جتایا ہے کہ یہ تو ’’صاحب کشف‘‘ کی مہربانی ہے کہ اس نے یہ کشف عام لوگوں کو بتا دیا!

    Syed Sarfraz Shah Sahab Kay Inkashafaat by Abdul Qadir Hassan, سید سرفراز شاہ صاحب کے انکشافات، عبدالقادر حسن

    اس کالم میں کشف مذکور ہے کہ نیک لوگوں کی حکومت آئے گی لیکن اپنے جیسے صوفیوں کی ایک محفل میں ’’روحانی سکالر‘‘ نے کھل کر ان نیک لوگوں کی صفات ذکر کی ہیں:
    تصوف ہی تمام مسائل کا حل ہے: سید سرفراز اے شاہ | روزنامہ پاکستان

     
  13. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    وڈا فراڈیا ہے سرفراز شاہ بے نماز صوفی
     
  14. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    fawad صاحب اور " صوفیوں" کی خدمت میں
    گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے ہاں صوفی کلچر کی دھومیں تھیں۔ اس کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ یہ عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ عالمی ایجنڈا تو میں تکلفاً کہہ رہا ہوں، یہ اصل میں امریکی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے تحقیق کرائی، اپنے ایک بڑے تحقیقی ادارے سے یہ نتیجہ نکالا کہ مسلمانوں میں جو صوفی ہوتے ہیں، وہ بڑے مرنج و مرنجاں ہوتے ہیں، وہ امن کے پر چارک بھی ہوتے ہیں۔ انہیں دہشت گردی کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے دھڑا دھڑ فنڈز جاری کر دیئے۔ جو بات وہ سمجھ نہیں سکے وہ یہ تھی کہ صوفی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی گلوکارہ رنگ و نور کی چکا چوند میں حسن کی نمائش کرتے ہوئے اللہ ہو کی تانیں لگاتی پھرے۔ عجیب عجیب کھیل کھیلے۔ ہمارے سیاستدانوں کو صوفی ڈیکلئیر کرکے ان پر صوفیانہ اصطلاحات کا بے دریغانہ استعمال شروع کر دیا۔ کوئی قطب الاقطاب ہے تو کوئی ابدال زمانہ۔ انہیں کسی نے یہ نہیں سمجھایا کہ مغرب کے کلچر پر تصوف کا پیوند لگا کر آپ لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ میں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ یہ ایک طبقہ ہے، وہ جو کام بھی کرے گا، وہ ایک خاص کلچر اور مزاج میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ آپ ان سے کوئی دن یا تقریب منا لیں، وہ اس کا اسی طرح ستیاناس کر دےں گے۔ اب میں حوالے نہیں دوں گا۔ انہیں ناچ، گانے اور پینے پلانے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے۔ انہوں نے تصوف میں سے بھی ایسا کلچر نکالنے کی کوشش کی۔ مزے کی بات ہے سارا لبرل طبقہ اس چسکے میں لگ گیا، اس یقین کے ساتھ کہ خوب چاندی ہوگی اور بقول ان کے ملّا سے نجات بھی ملے گی۔
    اب اسے انٹرنیشنل ایجنڈا نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ لوگ اس کے جھانسے میں آ رہے ہیں یا اس کا نادانستگی اور نالائقی سے حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں طالبان پیدا نہیں ہوں گے تو کیا چی گویرا جنم لیں گے۔ شاید اس کے علاوہ ان کا علاج ہے بھی نہیں کہ ان سے سختی سے نپٹا جائے ۔اپنے ہاں اس طرح کی بے ہودگی نہیں چل سکتی۔ ہم ان بےہودہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کی نیتوں اور ایجنڈے سے واقف ہیں۔
    بے ہودگی نہیں چلے گی | Nai Baat News Portal | Latest Urdu News | Politics World Pakistan
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت خوب ۔ خود صحافی نے گواہی دے دی کہ کئی چینلز پر ماہرین روحانیات و عملیات کی فصل کہاں سے اگی ہے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں