رسول اللہ کے نواسے کون؟

ناظم شہزاد2010 نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏اگست 9, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ناظم شہزاد2010

    ناظم شہزاد2010 -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2009
    پیغامات:
    44
    اگرآپ کسی سے سوال کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں اور نواسیوں کی تعداد کتنی ہے تو اس جواب یہ ہوگا۔
    حضرت حسین رضی اللہ عنہ
    حضرت حسن رضی اللہ
    جبکہ ہمیں‌آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے نواسوں اور نواسیوں کے نام معلوم نہیں ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
    چار نواسے اور تين نواسياں تھيں۔
    نواسے:

    1
    . علي بن زينبؓ

    آپ ﷺ كےسب سے بڑے نواسے تھے۔اپني والده كي نسبت سے علي زينبي كهلائے۔آپ كے والد ابي العاص بن ربيعه بن عبدشمس اموي تھے۔ حضرت علي نے رومن ايمپائر كو زوال سے همكنار كرنے كے ليے ايك عظيم جنگ ميں شركت كي ۔جو تاريخ ميں جنگِ يرموك كے نام سے مشهور هے۔يه جنگ حضرت عمرؓ كے زمانے (١٥ھ)ميں هوئي۔حضرت عليؓ اس جنگ ميں شهيد هوئے۔اس وقت آپ كي عمر بائيس سال تھي۔آپﷺ كے نواسوں ميں سب سے پهلے شهيد حضرت عليؓ هي تھے۔
    اقبال نے اپني كتاب بانگِ درا ميں ‘‘جنگ يرموك كا ايك واقعه’’ كے عنوان سے انهي كو خراج عقيدت پيش كيا ۔
    2. عبدالله بن رقيهؓ

    جب ان كي عمر ٧٠ سال كي هوئي تو ان كي آنكھوں كے پپوٹے لٹك آئے تو ايك پرندے نے ان كي آنكھ ميں چونچ ماري اور بڑھاپے كي وجه سے كوئي علاج كار گر نه هوا اسي تكليف ميں انتقال كر گئے۔همارے زمانے(يعني چوتھي صدي هجري) ميں ان كي اولاد سے مكه ميں ايك محله آباد هے۔اسي طرح ايك محله قرطبه ميں سے اور اشبيليه ميں بھي ان كي اولاد پائي جاتي هے۔(مسعود )
    3. حسن بن فاطمهؓ

    پيدائش:٧ھ وفات٤٩ھ(عمر مبارك:٤٢سال)
    حضرت حسن كب بارے آپﷺكي پيشن گوئي:
    @
    ( بخاري:فضائل الصحابه62باب22،حديث٣٧٤٦)
    حضرت حسن ؓكي آپﷺسے مشابهت:

    عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ - رضى الله عنه - وَحَمَلَ الْحَسَنَ وَهْوَ يَقُولُ بِأَبِى شَبِيهٌ بِالنَّبِىِّ ، لَيْسَ شَبِيهٌ بِعَلِىٍّ . وَعَلِىٌّ يَضْحَكُ .
    ( بخاري:فضائل الصحابه62باب22،حديث٣٧٥٠)
    4
    . حسين بن فاطمهؓ
    5. محسن بن فاطمه ؓ(پيدائش:٦ھ)

    نواسياں:

    1. امامه بنت زينبؓ
    حضرت ابوقتاده انصاريؓ كا بيان هے كه رسول اكرم نماز كے دوران بھي انهيں اپني گردن پر بٹھا ئے هوئے هوتے۔جب آپ سجدے ميں جانے كا اراده فرماتے تو انهيں كاندھے سے اتار كر نيچے بٹھا ديتے اور جب كھڑے هوتے تو انهيں گردن پر بٹھا ليتے۔(بخاري ومسلم)
    ايك دفعه آپﷺ كے پاس ايك هار تحفتاََ آيا ۔آپﷺ نے فرمايا يه هار ميں اپني سب سے محبوب هستي كو پهناؤ ں گا۔لوگوں كا خيال تھا كه شايد آپﷺ يه هار حضرت عائشهؓ كو پهنائيں گے۔ آپﷺ نے اپني پياري نواسي حضرت امامه بنت ابي العاص ؓ كو بلوايا اور ان كے گلے ميں وه هار پهنايا۔
    حضرت فاطمهؓ كے انتقال كے بعد حضرت علي ؓنے حضرت فاطمه كي وصيت كے مطابق سيده امامه بنت زينب سے نكاح كر ليا۔
    حضرت علي ؓ كي شهادت كے بعد محمد بن جعفر بن ابي طالب كے نكاح ميں آئيں۔جب ان كا انتقال هو گيا تو كچھ دن بعد ٦١ھ كو حضرت حسينؓ نے كوفه جانے كا اراده كيا۔حضرت حسين كي بهن زينب،حضرت عبد الله بن جعفرؓ (حضرت علي ؓ كے سگے بھتيجے)كے نكاح ميں تھيں۔عبدالله بن جعفرؓ نے زينب بنت عليؓ كو بھائي (حسين)كے ساتھ جانے سے روكا ليكن زينب ؓنے شوهر كا حكم نه مانا، اس پر حضرت عبدالله بن جعفرؓ نے زينب بنت علي ؓكو طلاق دے دي۔اور امامه بنت زينب سے نكاح كر ليا۔
    2. ام كلثوم بنت فاطمهؓ
    3. زينب بنتِ فاطمهؓ

     
  2. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    جزاک اللہ شئیرنگ کا شکریہ
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    شیئرنگ کا شکریہ
     
  4. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    جزاک اللہ خیرا بہت اچھی شئیرنگ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں