یومِ آزادی :خالص اور ناقص تصورِآزادی - ڈاکٹر سلیم خان

ابومصعب نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏اگست 25, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    یومِ آزادی :خالص اور ناقص تصورِآزادی
    ڈاکٹر سلیم خان

    نوٹ: (یہ آرٹیکل ہندوستان کے پس منظر میں‌ہے، لیکن بیٹوین دی لائنس میسیج سبھی کےلئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔)

    ہندوستان میں اس سال آزادی کا ۶۶واں جشن منایا جارہا ہے ۔ ہم اس لئے بھی خوش ہیں کہ گزشتہ اولمپک کی بنسبت ہمارے تمغوں کی تعداد ۳ سے بڑھکر ۶ یعنی دوگنی ہوگئی ہے گویا سکسر کی ہٹ ٹرک ہوگئی اور ایسا ہمارے ملک میں نافذ جمہوری نظام کے باعث ہوا ہے ۔لیکن کیا یہ بات باعثِ شرم نہیں ہے کہ ۱۲۰ کروڈ کی آبادی والا یہ عظیم ملک ایک بھی سونے کا تمغہ حاصل نہ کر سکا جبکہ براعظم افریقہ کا ایک پسماندہ ملک ایتھوپیاجس کی فی فرد اوسط آمدنی ہندوستان کے ۱۳۰۰ کے مقابلہ ۳۰۰ ڈالرہے اور آبادی ہندوستان سے پندرہ گنا کم یعنی صرف آٹھ کروڈ ہے ۷ تمغے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ان سات میں سے تین طلائی تمغے بھی ہیں ۔ اگر کسی کامیابی کا کریڈٹ اس ملک میں رائج نظام حکومت کو دیا جاسکتا ہے تو اس کی ناکامی کا ذمہ دار بھی وہی نظامِ سلطنت ہوگا ورنہ تو یہ کوئی انصاف نہ ہوا کہ ہم صرف اپنی فتوحات پر بغلیں بجائیں اور شکست سے آنکھیں چرائیں ۔
    دل کے بہلانے کو ہم ہندوستانی یہ ضرور کہتے ہیں کہ دنیا کا سب سے زیادہ سونا زیورات کی شکل میں ہمارے ہی ملک کے اندرموجود ہے اس لئے ہمیں سونے کے تمغوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے لیکن یہ بات اس لئے بھی غلط ہے کہ اگر سونے میں دلچسپی نہیں ہے تو اس قدر سونا جمع کرکے رکھنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے ؟ حقیقت تویہ ہے کہ سونے کے زیور اورطلائی تمغوں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ زیور بازار سے خریدے جاتےہیں اور تمغوں کو میدان میں جیتنا پڑتا ہے ۔ یہی فرق ناقص و خالص آزادی میں ہے کہ ایک بازار میں نیلام ہوتی ہے دوسری کو بڑے جتن حاصل کیا جاتا ہے ۔

    آزادی کوئی ایسی شہ نہیں ہے جسے ناپا یا تولہ جاسکے اس لئے اسے سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان غلامی کا مفہوم سمجھ جائے آزادی کا مطلب ازخود اس کی سمجھ میں آجائیگا ۔قرآن مجید میں حضرت موسیٰ ؑکا قصہ بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے ۔اس جلیل القدر نبی کی بعثت اس وقت ہوئی جبکہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا ۔سورۂ شعراء میں اس واقعہ کا بیان کچھ یوں ہے ’’اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی (علیہ السلام) کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤ، (یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے‘‘۔ یہ حکم حضرت موسیٰ ؑ کو ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب وہ ایک طویل جلا وطنی کی زندگی گزار کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ بے یارو مدد گار مدین سے واپس لوٹ رہے تھے ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بارگاہِ خدا وندی میں اپنی مجبوری وناسپاسی کا اظہار اس طرح کیا کہ ’’ اے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے، اور (ایسے ناسازگار ماحول میں) میرا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور میری زبان (روانی سے) نہیں چلتی سو ہارون (علیہ السلام) کی طرف (بھی جبرائیل علیہ السلام کو وحی کے ساتھ) بھیج دے (تاکہ وہ میرا معاون بن جائے)، اور ان کا میرے اوپر (قبطی کو مار ڈالنے کا) ایک الزام بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے‘‘۔
    موسی ٰکلیم اللہؑ کی دلگدازعرضداشت کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں، پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں، (ہمارا مدعا یہ ہے) کہ تو بنی اسرائیل کو (آزادی دے کر) ہمارے ساتھ بھیج دے‘‘ ۔ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لیجانے کا مطالبہ دراصل ان کی آزادی کا تازیانہ تھا ۔اس کے جواب میں فرعون نے ایک تو یہ کیا کہ پہلے اپنے احسان گنائے اور پھر احساسِ جرم کا شکار کر کے ڈرانے دھمکانے کو کوشش کی ۔ آج بھی عوام کو اپنا غلام بنانے کیلئے یہی دو حربے آزمائے جاتے ہیں۔

    انتخابات کے دوران کیا ہوتا ہے؟عوام کو احسانات یاد دلائے جاتے ہیں۔ان سے کہا جاتا ہے کہ ہم انگریزی سامراج سے جنگ کی ۔ ہم نے تمہیں آزادی دلائی ۔ہم نے تمہیں تحفظ فراہم کیا ۔ ہمارے دم سے تم امن و سلامتی کی زندگی گزار رہے ہو۔تمہاری ساری خوشحالی کا سبب ہماری عنایات ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن محض ان غیر حقیقی احسانات کے اعادہ پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ اسی کے ساتھ کبھی اپنے آپ سے تو کبھی مخالفین سے بلواسطہ اور بلا واسطہ خوفزدہ بھی کیا جاتا ہے ۔ پسِ پردہ سازش کرکے فرقہ وارانہ فسادات کروائے جاتے ہیں اور پھر مظلوموں کے آنسو پونچھے جانے کا ناٹک کیا جاتا ہے ۔ صدر مملکت اقلیتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وزیر اعظم وجوہات کا پتہ لگانے کی یقین دہانی کراتے ہیں ۔اس قدر عظیم سانحہ جس میں ۷۷ لوگ جان بحق ہوگئے اور ۴ لاکھ بے گھر کی وجوہات کا تک اگر وزیر اعظم کو ایک ماہ بعد تک پتہ نہ ہو توانہیں لال قلعہ پر یوم آزادی کے پرچم کشائی اور بلندباگ دعووں کا کوئی حق نہیں ہے ۔حکومت کے ذریعہ ایک طرف کسانوں کو خودکشی پر مجبور کرنے والے سودی نظام کو فروغ دیا جاتا ہے اور پھر ان کی بازآبادکاری کیلئے سرکاری خزانہ سے امداد کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اس منافقت کے علاوہ وعدوں کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی ہماری انتخابی سیاست کی اہم ترین شناخت ہے جنہیں اب کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا اس لئے کہ وعدہ کرنے والے سیاسی رہنما اوررائے دہندگان دونوں جانتے ہیں کہ ان کو شاذو نادر ہی پورا کیا جائیگا ۔

    فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کو مخاطب کرکے جوکہا تھا وہ یوں تھا:’’ کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے، اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)‘‘۔اس طرح کی صورتحال میں ایک حریت پسند رہنما کوکیا موقف اختیار کرنا چاہئے اور کس جرأتمندی کے ساتھ اس کا اظہار کرنا چاہئے اس کی مثال حضرتِ موسٰی علیہ السلام کے جواب میں ہے انہوں نے فرمایا: ’’جب میں نے وہ کام کیا میں بے خبر تھا (کہ کیا ایک گھونسے سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے)، پھر میں (اس وقت) تمہارے (دائرہ اختیار) سے نکل گیا جب میں تمہارے (ارادوں) سے خوفزدہ ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکمِ (نبوت) بخشا اور (بالآخر) مجھے رسولوں میں شامل فرما دیا، اور کیا وہ (کوئی) بھلائی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (اس کا سبب بھی یہ تھا) کہ تو نے (میری پوری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا‘‘۔

    حضرت موسیٰ ؑ نے بات کا رخ پھر آزادی و غلامی کی جانب موڑ دیا اور ببانگِ دہل فرعون کے سامنے اعلان کیا کہ تمہارے دربار میں میری پرورش یہ کوئی پسندیدہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ مجبوری تھی۔ اگر بنی اسرائیل کو غلام نہ بنایا گیا ہوتا اور ان کے لڑکوں کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری نہ ہوتا تو کیوں میری ماں مجھے ایک ٹوکری میں رکھ کر دریائے نیل میں بہاتی؟گویا اس پرورش کیلئے فرعون کا جبر اور بنی اسرائیل کی غلامی سزاوار ہے نیز قبطی کت قتل کیلئے موسی ؑ کو ذمہ دارٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسے تقسیم ہند کیلئے مسلمانوں کو قصور وار کہنا۔ کوئی ان وجوہات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتا جن میں جناح جیسے سیکولر رہنما نے الگ ہونے کا فیصلہ اور ان لوگوں کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا جنہوں وہ صورتحال پیدا کی اگر جسونت سنگھ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ت وان کے اپنے پرائے سب دشمن بن جاتے ہیں ۔ قبطی کا قتل اس لئےہوا وہ کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک شخص پروہ ظلم وزیادتی کررہا تھا جن کو زمین میں فرعون کے حکم سے غلام بنا کر رکھا گیا تھا ۔ان کو مساوات و عدل جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا تھا ۔ان کے اوپر مظالم کرنے والے قبطیوں کی کوئی سرزنش حکومت یا عدالت کی جانب سے نہیں ہوتی تھی۔ قرآنِ عظیم میں اس کی تصدیق اس انداز میں کی گئی ہے کہ ’’بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا ان میں ایک گروہ کو کمزور دیکھتا ، ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا بیشک وہ فسادی تھا ‘‘۔

    اہل ایمان کے ساتھ دنیا کی مختلف نام نہاد جمہوریتوں مثلاً امریکہ، فرانس،اسرائیل ،ہندوستان اور برما میں یہ سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے ۔غلامی کا کوئی لیبل نہیں ہوتا کہ غلام قوم پر چسپاں کر دیا جائے بلکہ حکمرانوں کا کسی ایک طبقہ کے تئیں اختیار کیا جانے والا ایک خاص رویہ مثلاً بنیادی حقوق سے محرومی یا امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ جس سے تمام لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ کون غلام ہے اور کون آقا ؟ انگریز اپنے سامراج کے اندر رہنے بسنے والے آزاد لوگوں کو برطانوی شہری اور غلام قوم کے باشندوں کو سبجیکٹ بائی برتھ یعنی پیدائشی ماتحت یا غلام لکھتے تھے جس سے اسے پتہ چل جاتا تھا کہ وہ کون ہیں اور ان کی حیثیت کیا ہے ؟وہ اپنے خاص باغوں بلکہ ریل گاڑی کے فرسٹ کلاس میں تختی لگا دیتے تھے کہ ہندوستانیوں اور کتوں کاداخلہ ممنوع ہے۔

    آج کل کسی کے پاسپورٹ پر لکھا تو نہیں جاتا لیکن غلامانہ سلوک بہر حال کیا جاتا ہے اسی لئے جیل کی چہار دیواری کے قتیل صدیقی کو جو دہشت گرد ہلاک کر دیتے ہیں ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ اسی شہر پونے میں ہونے والے دھماکوں کیلئےقتیل کے قاتلوں کے بجائے قتیل کے رشتہ داروں پر شک کیا جاتا ہے ۔دیانند پاٹل جس کے ہاتھوں میں بم پھٹ گیا اس کے سیکڑوں ہندو دوستوں کو چھوڑ کر دو مسلم دوستوں کی تلاش میں پولس سیکڑوں میل کاسفر کر کے اس کے آبائی وطن پہنچ جاتی ہے ۔ممبئی میں مسلمانوں کے جلوس پر گولی چلانے کے بعدپولس مرنے والوں کے قتل کا لزام مظاہرین پر جڑ دیتی ہے۔تیسری دنیا کے ملک ہندوستان ہی میں سب ہوتا ہے ایسا نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کا سرخیل کہنے امریکہ میں ایک ایرانی خاتون شہر زاد کو محض اس لئے گرفتار کر لیا جاتا ہے کہ اس کے سابق شوہر محمد سیف نے اندھیرے میں استعمال کئے جانے والی عینک آسٹریا سے ایران برآمد کئے تھے ۔ جڑواں بچوں کی یہ ماں پانچ سال جیل میں گزارنے کے بعد ابھی حال میں رہا ہوتی ہے ۔ اسے کہتے ہیں غلامی کا سلوک جو دنیا کی سب بڑی جمہوریت میں روا رکھا جاتا ۔مگر ظلم کی یہ چکی ہمیشہ نہیں چلتی جب مشیت کا فیصلہ نافذہوتا ہے تو بازی الٹ جاتی ہے اور جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا کر رکھا گیا تھا انہیں رہنمائی کے منصب پر فائز کر دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی بابت ارشادربانی ہے ‘‘اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوروں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کے ملک و مال کا انہیں کو وارث بنائیں’’

    حقیقی اسلامی آزادی کا اگرمصنوعی جمہوری آزادی سے موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مؤخر الذکر عوام کو بولنے کا حق تودیتی ہے لیکن حکمران کیلئے ان کی بات ان سنی کردینے کا حق بھی بحال رکھتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فصیح محمود کے اہل خانہ در بدر ٹھوکریں کھاتے تھک جاتے ہیں مگر نہ حکومت کی کان پر جوں رینگتی ہے اور نہ عدالت فریادرسی کرتی ہے۔ انا ٹیم چیختے چیختے تھک ہار کر بیٹھ جاتی ہے لیکن کوئی اس کے مطالبے پر کان نہیں دھرتا بابا رام دیوکوایک حد تک چیخنےچلاّنے کی اجازت دی جاتی ہے اور پھر انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔اس کے برعکس اسلام کی آزادی میں خلیفۂ وقت عمر بن خطاب ؓ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر میں غلطی کروں تو تم کیا کروگے ۔ ایک بدو بھرے مجمع میں جواب دیتا ہے کہ ہم تمہیں اس تلوار سے درست کردیں گے اس پر وہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں جب تک اس جیسے لوگ ہمارے بیچ ہوں گے ہم راہِ راست پر رہیں گے اور یہ صرف کہنے سننےکی بات نہیں ہوتی بلکہ جب ایک بڑھیا مہر کی تحدید کے مسئلہ میں علی الاعلان یہ اعتراض کرتی ہے کہ اے عمرؓ جس چیز کو اللہ نے حرام نہیں کیا اس پر پابندی لگانے والے تم کون ہوتے ہو؟ تو حضرت عمر ؓ اپنی رائے سے سب کے سامنے رجوع فرماتے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ اس بڑھیا نے سچ کہا اور عمر نے غلطی کی ۔

    حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کاخلافت کےمنصب کو سنبھالتے ہی اعلان فرما نا کہ اگر تم مجھے کسی معاملے میں خلاف ِ شریعت پاؤ تو میری اطاعت نہ کرنا ۔اسی حقیقی آزادی کا مظہر ہے جس میں صاحب ِ اقتدار عوام کو اپنی اتباع کا پابند نہیں بناتا بلکہ اس کے برخلاف اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرنے کی تلقین کرتا ۔ اسلامی تصور آزادی میں معیارِ حق حکمران کی مرضی نہیں بلکہ کتاب و سنت ہے اور عام آدمی کی طرح صاحبِ اقتدار بھی اس کا پابند ہوتا ہے ۔ غیر اسلامی نظامہائے سیاست میں حکمراں مختلف قسم کا جواز فراہم کرکے اپنی مرضی کو معیارِ حق بنا کر عوام پر اسے چلانے لگتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے ایسا کرنے کا مجھے موروثی حق ہے، کوئی اپنی نسلی برتری کو قائم رکھنے کیلئے اسے جائز قرار دیتا ہے ، کسی کے نزدیک ایسا کرنا قومی و ملکی مفاد میں ہوتا ہے تو کوئی اپنے آپ کو جمہور کا نمائندہ بناکر اس حق کو حاصل کر لیتا ہے اور اپنی من مانی کرتا ہے لیکن صرف اور صرف اسلامی نظام ایسے ہر جواز سے مبراّ ہے جس سے حکمرانوں کی مرضی معیار حق بن جائے اور یہی حقیقی آزادی کی سب سے بڑی ضمانت ہے ۔

    یہی وہ جذبۂ حریت ہے جو محمد مورسی سے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد یہ اعلان کرواتا ہے کہ ویسے تو سبھی کے حقوق برابر ہیں لیکن مجھ پر تو ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں یعنی تم تو میری بات سے صرف ِ نظر کرنے کا حق رکھتے ہو لیکن میں سربراہ کی حیثیت سے ایسا نہیں کرسکتا ہے اس لئے کہ اسلام کی نظر میں حکمران قوم کا خادم ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے بلکہ اپنی رعایا کیلئے جوابدہ ہوتا ہے اوریہی حقیقی آزادی کا وہ سرچشمہ ہے جس سے مصنوعی آزادی کے سارے نظریات یکسر محروم ہیں ۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دیگرنظامہائے سیاست میں حکمراں طاقتور اور رعایا کو کمزور بنا دیا گیا اس کے برعکس اسلام میں قائد کو کمزور کردیا گیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ اسلام میں چونکہ الوہیت اور ملوکیت اللہ رب العزت کیلئے ہے اس لئے اس کے آگے سب کے سب بے بس ہیں لیکن آپس میں وہ ایک دوسرے کے برابر ہیں ۔ سب مل کر اسی ایک خالق و مالک کی طاعت کرتے ہیں اسی کی بندگی بجالاتے ہیں اسی کی خوشنودی چاہتے ہیں اور باہم ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں ۔

    اس نظامِ فکر کے ثمرات کو مصر کے اندر رونما ہونے والے حالیہ واقعات میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ اللہ کی رضاجوئی کی خاطر کام کرنے والا صاحبِ اقتدار صدر اپنے انجام سے بے پرواہ ہوکر عوام کے مفاد میں بے دھڑک انقلابی فیصلے کرتا چلا جاتا ہے ۔دستور کی ان ترمیمات کو جنہیں آخری وقت میں عوام کے نمائندے کے پر کترنے کیلئے منظور کیا گیا تھا بیک جنبش مسترد کردیتا ہے ۔ اسی کے ساتھ فوجیوں کی ایک ایک کر کے بڑی حکمت کے ساتھ چھٹی کر دیتا ہے ۔ اس فوجی کونسل کا عملاً خاتمہ کردیاجاتا ہے جو ایک کٹھ پتلی صدر بنا کر بلاواسطہ حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہی تھی ۔اگر ڈاکٹر محمد مورسی کو اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کی فکر ہوتی تو وہ ایسے جرأتمندانہ اقدامات کرنے کا خطرہ وہ کبھی بھی مول نہیں لیتے دنیا پرستوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ یاتو وہ اپنے جیسے انسانوں کو ڈراتے ہیں یا ان سے ڈرے سہمے رہتے ہیں لیکن جنھیں کرسی سے زیادہ مقصد عزیز ہوتا ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اوروہی اس طرح کے دلیرا نہ اقدامات کرنے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔

    مملکت خدادا د پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں سیکولر نظریات کے حامل عوامی رہنما گزشتہ بارہا کوشش کے باوجود فوجی تسلط کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرنے میں ناکام رہےہیں حالانکہ انہیں بارہا اس کا موقع ملا لیکن فوج کے خلاف بلند بانگ دعویٰ کر کے اقتدار میں آنے والے جمہوری نمائندوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنی کرسی کی خاطر فوج سے مصالحت کر لی اورگزشتہ ساٹھ سالوں میں جس فوجی بالا دستی کا خاتمہ پاکستان میں نہیں ہوسکا اسے ایک اسلام پسند رہنما نے مصر کے اندر ساٹھ دن سے کم کے عرصے میں کر دیا حالانکہ مصر کی فوجی حکومت پاکستان سے زیادہ طویل اور مضبوط تھی ۔سچ تو یہ ہے کہ اگر رہنما خودنفس کا بندہ اور کرسی کا غلام ہوتو وہ بھلا اپنی عوام کو حقیقی آزادی سے کیونکر روشناس کر سکتا ہے ؟ عوام تو صحیح معنوں میں آزادی سے اسی وقت سرفراز ہوتے ہیں جب ان کا حکمراں ہر طرح کی غلامی سے آزاد اور صرف رب کائنات کا بندہ اور غلام ہو ۔ایسا باطل ادیان کی ناقص آزادی میں نہیں بلکہ صرف اورصرف اسلام کی خالص آزادی میں ممکن ہے ۔


    اس سال یوم آزادی کا جشن ماہِ قرآن یعنی رمضان کے دوران منایا گیا اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فرقانِ عظیم سےالہامی آزادی کے حقیقی تصور کی معرفت حاصل کی جائے لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر رمضان اور آزادی کے درمیان مشترک کیاہے ؟ ماہِ رمضان کے اندر پیش آنے والےاہم واقعات پر اگرغور کیا جائے تو ان کا باہم تعلق بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے ۔رمضان کے تین اہم ترین واقعات مثلاًآغازِ وحی،یوم الفرقان اورفتح مبین کا براہِ راست تعلق آزادی سے ہے ۔ آزادی کی ہئیت اور استحکام کا دارومدار اس فکری بنیادوں پر ہوتاہے ۔قرآن عظیم نے انسانی آزادی کی نہایت پائیداربنیادیں فراہم کی ہیں ۔ انسانی حقوق کو بے مثال اندازمیں بیان کرنےکے بعد ان کے پاس و لحاظ کی خاطر ترغیب و ترہیب کا لاثانی اسلوب اختیار کیا ہے ۔اسی کےساتھ انسانی حقوق کی پامالی کے دنیوی و اخروی انجام سےنہایت منفرد اور دلپزیر انداز میں ٖخبردار بھی کیا ہے ۔

    آزادی کا تصور انسان کی سرشت میں شامل ہے ۔ بنی نوعِ انسانی پر اللہ رب العزت کی یہ سب سے بڑی عنایت ہے۔ اسی کے باعث انسان کو دیگر تمام مخلوقات میں عزت و تکریم حاصل ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اس کا ذکر کچھ اس طرح ہے کہ ’’یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی ‘‘ ۔یہی وہ فوقیت ہے جس پر ابلیس چراغ پا ہو گیا اور اس نے اعلان بغاوت کرتے ہوئے کہا ’’ دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے" ۔
    آزادی کے اس شرف کا تعلق چونکہ انسان کے مقصد وجود سے ہے اس لئےربِ کائنات ارشاد فرماتا ہے’’ اس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی ‘‘انسانوں کی آزمائش کے اس مقصدِ جلیل کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ اسے اختیار و عمل کی آزادی سے ہمکنار کیا جائے تاکہ اخروی فلاح و خسران کی مکمل ذمہ داری خود اس پرہو ۔ سچ تو یہ ہےکہ تکمیل بندگی کی اولین شرط یہ ہے کہ انسان سارے باطل خداؤں کی غلامی سے مکمل طور پر آزاد ہو ۔اللہ رب العزت خود انسانی آزادی کی ضمانت دیتے ہوئے فرماتا ہے ’’ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اِس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا‘‘ اس کے فوراً بعد آزادی کے مضمرات سے بھی آگاہ فرمادیا جاتا ہے’’ کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے ۔ نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی ‘‘

    آیت الکرسی قرآن ِمجید کی سب سے طویل آیت ہے ۔ اس میں اللہ رب العزت کی ذات و صفات اور جلال و جبروت کا بیان ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ مالک الملک کے ہمہ گیر اقتدار کا بھی ذکر موجود ہے مذکورہ تفصیل بیان کرنے کے فوراً بعد والی آیت میں ارشاد قرآنی ہے ’’ دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط خیالات سے ا لگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے‘‘ اس یقین دہانی کا سیاق و سباق اسکی اہمیت کا غماز ہے۔اب اگر اللہ تعالیٰ اپنے دین حنیف کے معاملے میں انسانوں کو مکمل آزادی دیتا ہے تو کسی انسانی نظریہ کی کیا بساط کہ وہ انسانوں پر زور زبردستی کرے ۔ سچ تو یہ ہے کہ جس آزادی سےدین اسلام انسانوں روشناس کرتا ہے کوئی اور دین یا نظریہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا اسلئے کہ ہراقتدار کو اپنی بساط کےالٹ جانے کا خطرہ بدستورلگا رہتاہے سوائےخدائے واحدالقہارکے کہ کوئی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا ۔

    انسان اپنی فطرت میں ودیعت کردہ الہامی جذبۂ حریت کے باعث کبھی بھی دیگرانسانوں کی غلامی برداشت نہیں کرتا اور غلامی کی ہر زنجیر کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کا ازلی دشمن شیطان بھی کبھی مایوس نہیں ہوتا وہ نت نئی خوشنما زنجیریں گھڑتا رہتا ہے ۔ یہی وہ سراب ہے جسے انسان آب ِ حیات سمجھ کر اس کے پیچھے سرپٹ بھاگتا رہتا ہے ۔طویل جدوجہد اور عظیم قربانیوں کے بعد جب اسے رسائی حاصل ہوتی ہےتوپتہ چلتا ہے کہ یہ اسی سورج کا عکس تھا جس سے بھاگ کر اپنی پیاس بجھانے کی خاطر وہ سرگرداں کار رہا تھا ۔ ایسے میں خوابِِ غفلت سے جب کوئی محکوم بیدار ہوتا تو اسے حکمراں کی سامری پھر سے سلا دیتی ہے ۔ابلیس لعین ناکام و نامرادانسانیت کو ایک نئے سراب کا خواب دکھلاکر اس کے پیچھے دوڑا دیتا ہے ۔ علامہ اقبال کی مشہور نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ اس حقیقت کی بہترین ترجمان ہے ۔ ابلیس کے فریب سے تو وہی بچ سکتا ہے کہ جس کا دل گواہی دیتا ہو’’بادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں‘‘۔اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اگر زمین اللہ کی ملکیت ہے تواس پر قانون بھی اسی کا چلنا چاہئے ۔کسی انسان کو(وہ جمہور ہو یا ان کا نمائندہ ) دیگر انسانوں پراپنی مرضی مسلط کرنے کا حق نہیں ہے ۔ فکرو عمل کا یہ انقلاب انسانی جبر واستبداد کے سارے جواز مسترد کردیتاہے۔ یہی وہ الہامی تعلیم ہے کہ جس کے باعث نہ کوئی کسی کا آقا بن سکتا ہے اور نہ کسی کو غلام بنا سکتا ہے ۔

    سورۂ اعراف میں ارشادِ ربانی ہے ’’ (پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے‘‘۔اس کے بعد اللہ رب العزت نے نبی کریم ؐ کا مشن بیان فرمایا ہے:
    • وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے،
    • ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے،
    • اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے
    • اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے
    • لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں
    • اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے،
    • وہی فلاح پانے والے ہیں
    نبیٔ آخرالزماںؐ کی بعثت کے بعد اب تا قیامت امت محمدی کا بھی مقصدِ وجود یہی امر بالمعروف اور نہی ان المنکر ہے جس کا بیان قرآن عظیم میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے ۔ لیکن یہاں اضافی طور بوجھ اتارنے کااور بندشیں کھولنے کابھی ذکر ہے ۔یہ کوئی اور نہیں بلکہ رسوم و رواج کابوجھ اور مختلف غلامی کی بندشیں ہیں ۔امت مسلمہ کی ذمہ داری نہ صرف اپنے آپ کو ان جکڑ بندیوں سے آزاد کرنا ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی نصرت و حمایت کرنا بھی اس کا فرض منصبی ہے جو آزادی کے حصول کی خاطرجدوجہد کر رہے ہوں ۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری کشمکش طاغوتی طریقۂ کار سے علی الرغم قرآن کی روشنی میں ہونی چاہئے اور اس جدو جہد کا بدلہ فلاحِ دارین ہے ۔اس پر نہ صرف امت کی دنیوی بلکہ اخروی کامیابی کا بھی دارومدار ہے ۔اہل ایمان نے اپنی اس ذمہ داری کو کس شان کے ساتھ ادا کیا اس کی ایک نادر مثال رستم کے دربار میں حضرت ربعی بن عامرؒ نے پیش کی جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے آنے کی غرض و غایت کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا ؟ ’’ ہم کو اللہ نے اِسی لیے بھیجا ہے کہ جس کی مرضی ہو اس کو بندوں کی بندگی سے نجات دلا کر اللہ کی بندگی میں داخل کر دیں اور دُنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعتوں میں پہنچا دیں نیز مذاہب کی زیادتیوں سے چھٹکارا دلا کر اسلامی عدل کے سایہ تلے لے آئیں‘‘۔
    سیرۃ النبی ؐ میں عام الحزن یعنی غم کا سال خود حضوراکرمﷺاور مسلمانوں کیلئے آزمائش کا سب سے سنگین دور تھا جبکہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے انتقال نے آپ ؐ کو ایک دیرینہ ہمدردو غمگسار سے محروم کردیا اور حضرت ابوطالب کے وفات نے سب سے بڑےدشمنِ حق کوبنو ہاشم کا سردار بنا دیا ۔اس طرح اندرونِ خانہ اور باہر کی دنیا دونوں مقامات پر آپ ؐ کی ذاتِ شریفہ تنہا و غیر محفوظ ہو گئی۔باطل کے حوصلےبلند ہو گئے اور وہ اپنے خطرناک ارادوں کو عملی جامہ پہنانے پر غور کرنے لگے ۔ اس صورتحال کا بیان قرآنِ عظیم میں اس طرح ہوا ہے کہ’’اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں‘‘ اللہ رب العزت نے اس موقع پر ڈھارس کچھ اس طرح بندھائی کہ‘‘ لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے۔یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے’’اسی کے ساتھ نبی کریم ؐ کو یہ دعا سکھلائی گئی ’’اور دعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اوراپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے‘‘

    قبل از ہجرت نازک ترین حالات میں مومنین کویہ نصیحت کی گئی کہ تمہارے لئے اہم یہ نہیں ہے کہ تم کس مقام پر رہتے ہو؟ بلکہ اہم یہ ہے کہ تم کیسے رہتے ہو؟اسی لئے فرمایا کہ سچائی کا ساتھ اہم ترین ہے ۔مومن جہاں سے بھی نکلے اور جہاں بھی جائے سچ کا ساتھ لازمی ہےاور اگر ایسا ہوتا ہے تو کسی اور اقتدارکا مددگار ہوناتو درکنارخود اسےاقتدارحاصل ہوجائیگا ۔اسی لئے ان نامسائدحالات میں حکم دیا گیا ’’اور اعلان کر دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے‘‘ اس وقت جن لوگوں نے اس اعلان کو سنا ہوگا ان کیلئے اس کی حقیقت تک رسائی خاصی مشکل رہی ہوگی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آٹھ سال بعدجب مکہ فتح ہوا تو حضور اکرم ؐ خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرتے جاتے تھے اور یہی آیت پڑھتے جاتے تھے کہ ’’حق آیا اور باطل مٹ گیا تو اور باطل کو تو مٹناہی ہے‘‘۔ فتح مبین نےاس آیت کی معنویت ساری دنیا کے سامنےکھول کر رکھ دی اورتاریخ انسانی گویا تفسیر قرآنی بن گئی ۔ مظلومیت ایک تاریک ترین رات میں ہجرت کےسفر کا آغازہوا اور اسی کے ساتھ آزادی کی نئی صبح نمودار ہوگئی ۔
    مدینہ میں قائم ہونے والی آزاد اسلامی ریاست کا قیام باطل کیلئے سوہانِ جان بن گیا اور طاغوت نے اس چراغ کو بجھانے کیلئے ریشہ دوانیوں شروع کر دیں ۔ابوسفیان کی قیادت میں ایک تجارتی قافلہ شام کی جانب اس مقصد کے تحت روانہ کیا گیا کہ اس سے حاصل ہونے والی ساری آمدنی کا استعمال مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں کیا جائیگا ۔اس قافلہ کو روکنے کا منصوبہ مسلمانوں نے بنایا اور اور اسکے تحفظ کی خاطر کافروں کا لشکر جرار نفرت وعناد کے جذبات سے سرشار مکہ سے نکل کھڑا ہوا ۔مسلمانوں کو قافلہ یا فوج ان دونوں میں سے کسی ایک پرغلبہ کی یقین دہانی اللہ العزت کی جانب سے حاصل ہوگئی تھی ایسے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا عرب روایت کے مطابق مسلمان کفار مکہ سے بدلہ کو ترجیح دیتے لیکن جب حضور اکرمؐ نے صحابہ سے مشورہ کیا تو ابتدائی رحجان قافلہ کی جانب سامنے آیا۔ایسا اسلئے ہوا تھا کہ گوں نا گوں وجوہات کے باعث مسلمانوں کے ہاتھ تیرہ سال تک باندھ دئیے گئے تھے اور انہیں اینٹ کاجواب پتھر سےدینے کی اجازت نہیں تھی ۔اس رویہ کا اثر اہل ایمان کی نفسیات پر یہ مرتب ہوا کہ انہوں نے مشکل کے باالمقابل آسانی کا انتخاب کیا ۔
    رہبر عالم ﷺ جانتے تھے کہ اب حالات بدل گئے ہیں اس لئے حکمت عملی بھی بدلنی چاہئے نیز نئی حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے طرزفکرمیں تبدیلی ناگزیر ہے ۔اس لئے آپ نے بار بار استفسار فرمایا صحابۂ کرام آپؐ کا اشارہ سمجھ گئے ۔ پہلے مہاجرین اور پھر اس کے بعد انصار نے لائحۂ عمل کےانتخاب کی ذمہ داری حضور اکرمؐ پرچھوڑ کر ہردوصورت میں مکمل حمایت کا یقین دلایا ۔ نبی کریم ؐ نے قافلہ پر فوج کو ترجیح دی اور اپنی تمام تر بے سروسامانی کے باوجود بدر کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا ۔ اس لئے کہ نوزائیدہ اسلامی ریاست کی آزادی کا دفاع اسی طرح ممکن تھا اور ایسے میں جب کہ کامیابی کی بشارت موجود تھی اپنی مدافعت کا اس سے بہتر موقع کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا ۔ آپ ؐ کے اس جرأتمندانہ فیصلے نے کفار کو مدینہ سے بہت دور میدانِ بدر میں پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کردیا ۔ کفار ِمکہ نے اپنی طاقت کے نشہ میں اس معرکہ کو ازخود الفرقان قرار دے دیا اور اعلان کیا کہ حق و باطل کا فیصلہ اس جنگ کے انجام پر ہوگا؟ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کر کے انہیں فرقانِ عظیم کا نظارہ کروا دیا کہ ’’دیکھو اگرچہ دیدۂ عبرت نگاہ ہو‘‘۔ غزوۂ بدر امت مسلمہ کی آزادی کااولین دفاع تھا اور یہ واقعہ بھی ماہِ رمضان کی ۱۷ ویں تاریخ کو پیش آیا ۔ کفار کے سارے بڑے سردار مارے گئےاور مسلمان کامیاب و کامران ہو کر واپس لوٹے گویا وحی الٰہی میں آزادی کی جو بشارت تھی اس کی مدافعت کا آغازاسی ماہِ مبارک میں ہوا اور اس سے فتح وکامرانی کی بشارتوں کا دروازہ کھل گیا ۔
    میدانِ بدر سے واپسی کے بعد اہلِ ایمان کا قافلۂ سخت جان احد و خندق کے مختلف معرکوں سے گزرتا ہوا صلح حدیبیہ تک پہنچا لیکن ابھی وہ فیصلہ کن کامیابی جس کی بشارت فتح مبین کے طور پر دی گئی تھی ہنوز دور تھی۔ غزوۂ احزاب میں کافروں کے ناکام و نامراد لوٹ جانے کے بعد یہ خوشخبری تو ہادی ٔ برحق ؐ نے سنا دی تھی کہ اب وہ نہیں آئیں گے بلکہ تم جاؤگے لیکن وہ مبارک ساعت کب آئیگی یہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔یہ دورِ مدافعت کب اقدام کے مرحلے میں قدم رکھے گا اس کا علم، عالم الغیب والشہادۃذاتِ باری تعالیٰ کے علاوہ کسی فردِ بشر کونہیں تھا لیکن اس کی آمد کا یقین اور انتظار سارے اہل ایمان کر رہے تھے ۔مکہ کی جانب کوچ عالمِ عرب کو غلامی کی زنجیروں سے چھڑانے والا ایک انقلابی اقدام تھا ۔ اس نے باطل خداؤں سے نجات دلا کرتوحید کی بنیاد پرساری انسانیت کورہتی دنیا تک کیلئے امن و آزادی کے عالمی مرکز سے سرفرازکردیا ۔ مشیت ایزدی نے اس مبارک ساعت کو بھی ماہِ رمضان کےصدف میں لعل و گہر کی مانند محفوظ کردیا تھا ۔گویاوحی الٰہی سے جو آزادی کا چراغ غار حرا میں روشن ہوا تھا اس کو ماہِ تمام بن کر سارے عالم پر چمکنے کا موقع بھی مالکِ کائنات نے اسی ماہِ مبارک میں فتح مبین کے ذریعہ عطا فرمایا ۔

    فتح مکہ کے بعد جب باطل سرنگوں ہو گیا اورحق غالب آ گیاتو کہیں سے آواز آئی آج بدلے کادن ہے کفارِ قریش بھی یہی توقع کررہے تھے اس لئے کہ انہیں وہ سارے مظالم یاد تھے جو مہاجرین پر توڑے گئے تھے لیکن اس کے برعکس رحمت اللعالمین ؐ نے منادی فر مادی کہ آج بدلہ کا نہیں بلکہ رحم کا دن ہے اورعام معافی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایاآج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا جاؤ تم سب آزاد ہو ۔ اپنی آزادی کیلئے ہر کوئی لڑتا ہے اور اپنوں کو آزادی سے نوازنے کی فکر ہر رہنماکو ہوتی ہےلیکن ان دشمنوں کو جو کبھی خون کے پیاسے تھے مکمل اختیارکے باوجود آزادی کی بیش بہا دولت سے مالا مال کر دینا حقیقی آزادی کی وہ معراج ہے جو صرف اور صرف اسلام کا طرۂ امتیاز ہے ۔ انسانی تاریخ کوئی ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جس میں آزادی کے ثمرات محض آزادی کیلئے عظیم قربانیاں دینے والے متوالوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے فیوض و برکات سے دشمنان حق تک کو نواز دیا گیا ۔

    یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ حق کے آنے اورباطل کے مٹ جانے کی پیشن گوئی کسی زمان و مکان تک محدود نہیں بلکہ دور حاضر میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب حق کا چراغ ایران میں روشن ہوا تو اس انقلاب کے خوف سے شاہِ ایران اپنے سارے جاہ و جلال کے باوجود بھاگ کھڑا ہوا ، باطل کوتو بہر حال جانا ہی تھا ۔ سر زمینِ افغانستان پر اپنے وقت کی سپر پاور سوویت یونین نے نگاہ غلط ڈالی اور اس کے مقابلے میں جب حق کے علمبردار اٹھے تو اسے نہ صرف افغانستان سے نکل جانا پڑا بلکہ صٖفحۂ ہستی سے سوویت یونین نامی باطل طاقت ہمیشہ کیلئے مٹ گئی اور اس کے بعد امریکی طاغوت حق کے آگے سینہ سپر ہوا تو اب اس کے بھی چل چلاؤ کا وقت آگیا ۔ امریکی انتظامیہ ایک طویل کشمکش میں ناکامی کے بعد از خود افغانستان سے بے آبرو ہو کر نکل بھاگنے کی تاریخ طہ کرنے پر مجبور ہے اور خراماں خراماں اسی راہ پر گامزن ہے جن پر چل کر سوویت یونین بے نام و نشان ہو گیا تھا ۔عالم ِ اسلام نہ صرف عالمی استعمار سے بلکہ اس کے باجگزاروں سے رفتہ رفتہ آزاد ہوتا جارہا ہے تیونس سے لے کر مصر تک برپا ہونے والی تبدیلیاں اور شام میں برپا کشمکش اسی حقیقت کی غماز ہے ۔

    حق و باطل کی یہ کشمکش ہر دور میں جاری و ساری رہتی ہے اور ہر بار فیصلہ کن فتح اہلِ حق کے حصہ میں آتی ہے اس لئے کہ ارشادِ ربانی ہے اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا ’’جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور انہی کو زمین میں خلافت (یعنی امانتِ اقتدار کا حق) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو (حقِ) حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے (غلبہ و اقتدار کے ذریعہ) مضبوط و مستحکم فرما دے گا اوروہ ضرور (اس تمکّن کے باعث) ان کے پچھلے خوف کو(جو ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے تھا) ان کے لئے امن و حفاظت کی حالت سے بدل دے گا، وہ (بے خوف ہو کر) میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے (یعنی صرف میرے حکم اور نظام کے تابع رہیں گے)، اور جس نے اس کے بعد ناشکری (یعنی میرے احکام سے انحراف و انکار) کو اختیار کیا تو وہی لوگ فاسق (و نافرمان) ہوں گے‘‘۔مسلم سربراہانِ مملکت کا ایک اہم اجلاس اس سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مکہ المکرمہ کی پاک سر زمین میں منعقد ہورہا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اسلامی اتحاد کے اس عظیم مظاہرے کو استحکام عطا فرمائے اور غلبۂ دین اور تکمیلِ آزادی کا اپنا وعدہ ہمارے حق میں پھر ایک بارپورا فرمائے ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 25, 2012
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    زبردست۔

    اللہ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں