یزید بن معاویہ کے بارے میں ہمارا موقف

ابن عمر نے 'ماہِ محرم الحرام' میں ‏جنوری 8, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,354
    یزید بن معاویہ کے بارے میں ہمارا موقف

    سوال :
    میں نے یزيد بن معاویہ کے بارے میں سنا ہے کہ وہ کسی زمانے میں مسلمانوں کا خلیفہ رہا ہے ، اوروہ بہت نشئی‏ اور بے کار شخص اورحقیقی مسلمان نہیں تھا ، توکیا یہ صحیح ہے ؟
    آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے تاریخی حوالہ سے بتائيں ۔

    جواب:
    الحمد للہ
    نام ونسب :
    اس کا نام یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بن حرب بن امیہ الاموی الدمشقی تھا ۔

    امام ذھبی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ :

    یزید قسطنطنیہ پرحملہ کرنے والے لشکر کا امیر تھا جس میں ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ جیسے صحابی شامل تھے ، اس کے والد امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے ولی عھد بنایا اور اپنے والد کی وفات کے بعد تیس برس کی عمر کے میں رجب ساٹھ ھجری 60 ھ میں زمام اقدار ہاتھ میں لی اورتقریباً چالیس برس سے کم حکومت کی ۔

    اوریزید ایسے لوگوں میں سے ہے جنہیں نہ توہم برا کہتے اورنہ ہی اس سے محبت کرتےہیں ، اس طرح کے کئی ایک خلیفہ اموی اورعباسی دورحکومت میں پائے گئے ہيں ، اور اسی طرح ارد گرد کے بادشاہ بھی بلکہ کچھ تو ایسے بھی تھے جو يزید سے بد تر تھے ۔

    اس کی شان و شوکت عظیم اس لیے ہوگئی کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے انچاس 49 برس بعد حکمران بنا جو کہ عھد قریب ہے اورصحابہ کرام موجود تھے مثلا عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہ جو کہ اس سے اوراس کے باب دادا سے بھی زیادہ اس معاملہ کے مستحق تھے ۔

    اس کی حکومت کا آغاز حسین رضي اللہ تعالی عنہ کی شھادت سے اوراس کی حکومت کا اختتام واقعہ حرہ سے ہوا ، تولوگ اسے ناپسند کرنے لگے اس کی عمرمیں برکت نہیں پڑی ، اورحسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد کئی ایک لوگوں نے اس کے خلاف اللہ تعالی کے لیے خروج کیا مثلا اہلِ مدینہ اور ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ۔ دیکھیں : سیراعلام النبلاء ( 4 / 38 ) ۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یزيد بن معاویہ کے بارے میں موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے :

    یزيد بن معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں لوگوں کے تین گروہ ہيں : ایک توحد سے بڑھا ہوا اوردوسرے بالکل ہی نیچے گرا ہوا اورایک گروہ درمیان میں ہے ۔

    جولوگ تو افراط اورتفریط سے کام لینے والے دو گروہ ہیں ان میں سے ایک تو کہتا ہے کہ یزید بن معاویہ کافر اورمنافق ہے ، اس نے نواسہ رسول حسین رضي اللہ تعالی عنہ کو قتل کرکے اپنے بڑوں عتبہ اورشیبہ اور ولید بن عتبہ وغیرہ جنہیں جنگ بدر میں علی بن ابی طالب اور دوسرے صحابہ نے قتل کیا تھا ان کا انتقام اور بدلہ لیا ہے ۔

    تواس طرح کی باتیں اوریہ قول رافضیوں اورشیعہ کی ہیں جو ابوبکر و عمر اور عثمان رضي اللہ تعالی عنہم کو کافر کہتے ہیں توان کے ہاں یزید کو کافرقرار دینا تواس سے بھی زيادہ آسان کام ہے ۔

    اور اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ایک نیک اورصالح شخص اورعادل حکمران تھا ، اور وہ ان صحابہ کرام میں سے تھا جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پیدا ہوئے اوراسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کےلیے برکت کی دعا فرمائی ، اوربعض اوقات تووہ اسے ابوبکر ، عمر رضي اللہ تعالی عنہما سے سے افضل قرار دیتے ہیں ، اور ہو سکتا کہ بعض تو اسے نبی ہی بنا ڈاليں ۔

    تو یہ دونوں گروہ اور ان کےقول صحیح نہیں اورہراس شخص کے لیے اس کا باطل ہونا نظرآتا ہے جسے تھوڑی سی بھی عقل ہے اور وہ تھوڑا بہت تاريخ کو جانتا ہے وہ اسے باطل ہی کہے گا ، تواسی لیے معروف اہل علم جو کہ سنت پرعمل کرنے والے ہیں کسی سے بھی یہ قول مروی نہیں اور نہ ہی کسی کی طرف منسوب ہی کیا جاتا ہے ، اوراسی طرح عقل وشعور رکھنے والوں کی طرف بھی یہ قول منسوب نہیں ۔

    اورتیسرا قول یا گروہ یہ ہے کہ :

    یزید مسلمان حکمرانوں میں سے ایک حکمران تھا اس کی برائیاں اور اچھایاں دونوں ہيں ، اور اس کی ولادت بھی عثمان رضي اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں ہوئی ہے ، اور وہ کافر نہیں ، لیکن اسباب کی بنا پر حسین رضي اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جوکچھ ہوا اوروہ شھید ہوئے ، اس نے اہلِ حرہ کے ساتھ جو کیا سو کیا ، اور وہ نہ توصحابی تھا اور نہ ہی اللہ تعالی کا ولی ، یہ قول ہی عام اہلِ علم و عقل اوراھلِ سنت والجماعت کا ہے ۔

    لوگ تین فرقوں میں بٹے گئے ہیں ایک گروہ تواس پرسب وشتم اور لعنت کرتا اور دوسرا اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے اورتیسرا نہ تواس سے محبت اورنہ ہی اس پر سب وشتم کرتا ہے ، امام احمد رحمہ اللہ تعالی اوراس کے اصحاب وغیرہ سے یہی منقول ہے ۔

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کے بیٹے صالح بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ : کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم یزید سے محبت کرتے ہیں ، توانہوں نے جواب دیا کہ اے بیٹے کیا یزید کسی سے بھی جو اللہ تعالی اوریوم آخرت پرایمان لایا ہو سے محبت کرتا ہے !!

    تو میں نے کہا تو پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے ؟ توانہوں نےجواب دیا بیٹے تونےاپنے باپ کو کب دیکھا کہ وہ کسی پرلعنت کرتا ہو ۔

    اور ابومحمد المقدسی سے جب یزيد کے متعلق پوچھا گیا توکچھ مجھ تک پہنچا ہے کہ نہ تواسے سب وشتم کیا جائے اور نہ ہی اس سے محبت کی جائے ، اورکہنے لگے : مجھے یہ بھی پہنچا ہے کہ کہ ہمارے دادا ابوعبداللہ بن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی سے یزيد کےبارے میں سوال کیا گیا توانہوں نے جواب دیا :

    ہم نہ تواس میں کچھ کمی کرتےہیں اورنہ ہی زيادتی ۔

    اقوال میں سب سے زيادہ عدل والا اوراچھا و بہتر قول یہی ہے ۔ ا ھـ

    مجموع الفتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ ( 4 / 481 - 484 ) ۔

    واللہ تعالی اعلم .

    الشیخ محمد صالح المنجد
    ماخوذ مِن الاسلام سوال وجواب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    یعنی کے درمیانی راہ اپنائی جائے...........
    شکریہ .....
     
  3. زاہد محمود

    زاہد محمود -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 5, 2007
    پیغامات:
    179
    اسلامُ علیکم! میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ یزید مسلمان تھا۔باقی کمزوریاں تو ہوتی ہی ہیں۔
     
  4. نیا آدمی

    نیا آدمی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 11, 2007
    پیغامات:
    18
    یزید نہ صرف مسلمان تھے بلکہ امیر المومنین بھی تھے
    یزید قسطنطنیہ پرحملہ کرنے والے لشکر کے امیر بھی تھے جس میں حضرت ابو ایوب انصاری جیسے بزرگ صحابی او حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت بھی ان کی کمان داری میں شامل تھے

    اس جہاد میں شامل ہونے والوں کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا امتیاز و بلا شرط جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی

    اس کی روشنی میں تو یزید کے خلاف کیا گیا سارا پروپیگنڈہ باطل ٹھہرتا ہے

    اللہ تعالی ان لوگوں پر رحم فرمائے اور انہیں بصیرت بالغہ عطا فرمائے جو یزید کو برے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔
     
  5. راشد احمد

    راشد احمد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 5, 2009
    پیغامات:
    108
    اس میں کوئی شک نہیں کہ یزید مسلمان تھا۔ لیکن اقتدار کا نشہ بہت برا ہے۔
     
  6. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261

    آپ زرا حدیث شر یف پر غور کرلیں شکریہ
     
  7. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت ایک اونی منقش چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے تو آپ کے پاس حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل کر لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور وہ بھی ان کے ہمراہ چادر میں داخل ہو گئے، پھر سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں بھی اس چادر میں داخل کر لیا، پھر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی : ’’اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔‘‘

    أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل أهل بيت النّبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1883، 2424، والحاکم في المستدرک، 3 / 159، الرقم : 4707. 4709، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 149، الرقم : 2680، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 370، الرقم : 32102.
     
  8. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568
    :00039::00039::00039::00039::NoTaLlOw::NoTaLlOw:
     
  9. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568
    یزید کے متعلق افراط وتفریط سے بالا اور مدلل موقف جاننے کیلئے شیخ زبیرعلی زئی کے رسالہ الحدیث شمارہ 6 اورانکے مقالات کا مطالعہ بہت مفید رہے گا اور مفصل تفصیل کیلئے ایک مستندومحقق سلفی عالم کی کتاب کا انتظار کریں جو کہ ان شاء اللہ عنقریب منظرعام پرآنے والی ہے
     
  10. ابوسفیان

    ابوسفیان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2007
    پیغامات:
    623
    السلام علیکم
    bheram صاحب
    آپ کے باقی مراسلے تھریڈ کے موضوع سے غیر متعلق ہونے کے سبب ایک الگ تھریڈ کے طور پر منتقل کئے گئے ہیں :
    احادیث : فضائل اہل البیت

    براہ مہربانی مجلس کے قوانین کا خیال رکھیں
     
  11. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    ok
     
  12. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    جناب شداد صاحب
    اسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
    میں د ین کا ایک ادنیٰٰ طالب علم ھوں میں آپ سے یہ معلوم کرنا چاھتا ھوں کہ حضرت امام حسین رضی الّلہ عنہ کے قاتلوں کو یزید نے سزا دی تھی یا انعام و اکرام؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    امید وسق ھے کے آپ جلد ھی کرم فرمائے گے والسلام
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    وعلیکم السلام ورحًمتہ اللہ وبرکاتہ
    جناب بہرام صاحب گذارش ہے کہ ایک ہی پوسٹ کو مختلف تھریڈز میں پوسٹ کرنے سے گریز کریں ۔
     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    ایک سوال تو میرا بھی ہے ، وہ یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو سزا دی تھی یا انعام و اکرام ؟
     
  15. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    مجھے کوئی بھی سوال نہیں پوچھنا کسی سے بھلے مجھے اختلاف بھی ہو کیونکہ جو موضوع پر خلاصہ بیان کیا گیا ھے وہ بڑی تفصیلی اور اچھے انداز میں بیان کیا گیا ھے،
    3 حالتیں بیان کی گئی ہیں جس میں سب ہی آ گئے ہیں، اس لئے مزید کچھ لکھنے یا پوچھنے کی گنجائش ہی نہیں، اچھا ھے کہ پرہیز کیا جائے۔

    والسلام
     
  16. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    جناب نیا آدمی صاحب

    آپ سے گذارش ھے کہ آپ نے جیس حدیث شریف کا ذکر کیا ھے وہ حدیث شریف مجھے شیئر کریں شکریہ
     
  17. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    جناب عکاشہ
    قاتلین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خوارج تھے اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جنگ کی تھی میرے ناقص علم کے مطابق
    ’’حضرت طارق بن زیاد نے بیان کیا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج کی طرف (ان سے جنگ کے لیے) نکلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کیا پھر فرمایا : دیکھو بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب ایسے لوگ نکلیں گے کہ حق کی بات کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ حق سے یوں نکل جائیں گے جیسے کہ تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔‘‘
    أخرجه النسائي في السنن الکبري، 5 / 161، الرقم : 8566، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 107، الرقم : 848، وفي فضائل الصحابة، 2 / 714، الرقم : 1224، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 14 / 362، الرقم : 7689، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة، 1 / 256، الرقم : 247، والمزي في تهذيب الکمال، 13 / 338، الرقم : 2948.
     
  18. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568

    اس کے جواب میں اگر کوئی یہ ثابت کردے کے یزید نے قاتلیں کو انعامات سے نوازا تو اس کے ذمے یہ واجب ہے کہ وہ اپنی پیش کردہ ان روایات کو سندا صحیح ثابت کرے
    اور جو کہتا ہے یزید نے قاتلیں ‌کو سزا دی تھی تو اس کے ذمے یہ واجب ہے کہ وہ اپنی پیش کردہ روایات کو سندا صحیح ثابت کرے
    اگر کسی فریق کے پاس جواب میں تاریخ کی جھوٹی روایات ہوں اورمستند روایات نہ ہو تو اس جواب کو منتظمین حذف کردیں
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 24, 2009
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعلیکم السلام بھائی ۔
    اگر آپ واقعی دین کے ادنی طالب علم ہیں، تو گزارش ہے کہ تاریخی معاملات پر بحث و مباحثے سے پیشتر اپنی کردار سازی اور علم کے حصول پر توجہ دیجیے ۔ کیا اسلام صرف انہی مسائل کا مجموعہ ہے ؟ خوف خدا ؟ روز محشر ؟ تزکیہ نفس ؟ سب موضوعات دین فراموش ؟ صرف اختلافی مسائل پر بحث و مباحثے ہی دین کے ادنی طالب علم کے موضوعات کیوں ہیں ؟
     
  20. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    وعلیکم السلام !
    پہلی بات ! عربی عبارت ضرور دیا کریں ۔۔ کیونکہ اکثر ترجمےمیں ‌ہیرپھیر ہو جاتی ہے ۔ آجکل تو نیٹ نے ترقی کر لی ہے تھوڑی سی کوشش سے نیٹ سے ہی حوالہ دے دیں ۔
    دوسری بات ! یہ کہ میں نے تو آج تک کہیں نہیں پڑھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خوارج نے شہید کیا تھا ۔۔۔ جب کے مورخین اور علماء نے ان کا ایک اور نام لکھا ہے ۔
    تیسری بات ! یہ کہ جہاں تک میرے علم میں ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر ''خوارج '' کا ظہور ہوا ۔ اب سوال باقی رہا کہ جن لوگون نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سزا دی یا انعام و اکرام ؟؟
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں