باب التخلی عند قضاء الحاجۃ :: قضائے حاجت کی وقت تنہائی اختیار کرنا

رفیق طاھر نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏اکتوبر، 31, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    بَابُ التَّخَلِّي عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ
    1 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ»

    ترجمہ :
    قضائے حاجت کے وقت تنہائی اختیار کرنے کا بیان​


    امام ابو داود فرماتے ہیں : ہمیں عبد اللہ بن مسلمہ بن قعنب العقنبی نےحدیث بیان کی ‘ وہ کہتے ہیں کہ عبد العزیز یعنی ابن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی‘ وہ محمد یعنی ابن عمرو سے روایت کرتے ہیں ‘ اور وہ ابو سلمہ سے اور وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ یقینا نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور نکل جاتے ۔

    تحقیق :
    یہ حدیث حسن لذاتہ ہے ۔

    تخریج :
    جامع الترمذی:۲۰ ‘ سنن نسائی: ۱۷ ‘ ابن ماجہ : ۳۳۱ .

    شرح :
    اس حدیث میں قضائے حاجت کے وقت لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جانے کا ثبوت ہے ۔
    گوکہ حدیث میں لوگوں سے دور چلے جانے کا ذکر ہے ۔ لیکن بہر حال مقصود لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہونا ہی ہے ۔ لہذا مراحیض (بیت الخلاء) میں داخل ہونے سے یہ مقصود حاصل ہو جاتا ہے ۔ اور اگر ایسی سہولت نہ ہو تو انسان کو کم ازکم اتنا دور نکلنا چاہیے کہ کوئی دوسرا انسان اسے نہ دیکھ سکے ۔

     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 31, 2012
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    2 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ، حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ»

    ترجمہ :
    امام ابو داود فرماتے ہیں : ہمیں مسدد بن مسرہد نے حدیث بیان کی ‘ وہ کہتے ہیں : ہمیں عیسى بن یونس نے حدیث بیان کی ‘ وہ کہتے ہیں : ہمیں اسماعیل بن عبد الملک نے حدیث بیان کی ‘ وہ ابو الزبیر سے روایت کرتے ہیں ‘ اور وہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ‘ کہ یقینا نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو (اتنا دور) چلے جاتے کہ انہیں کوئی نہ دیکھ سکتا تھا ۔

    تحقیق :
    یہ حدیث "انہیں کوئی نہ دیکھ سکتا تھا" کے الفاظ کے علاوہ صحیح ہے ۔ البتہ یہ الفاظ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہیں ‘ گوکہ مقصود یہی ہے ۔ اس سند میں اسماعیل بن عبد الملک ضعیف ہے ‘ اور ابو الزبیر مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے ۔ لہذا یہ سند ضعیف ہے ۔ اس حدیث کے کچھ حصہ کا شاہد سابقہ حدیث بھی ہے ۔

    تخریج :
    سنن ابن ماجہ : ۳۳۵

    شرح :
    سابقہ حدیث دیکھیں ۔
     
  3. رضا حسن

    رضا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2011
    پیغامات:
    111
    اگر اس دوران متن یا سند کے بارے میں‌سوال ذہن میں آ جائے تو کیا کریں؟
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    آپکے سوال ہمارے جواب والے سیکشن میں حوالہ دے کر سوال کر لیں ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 29, 2012
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں