کبیرہ گناہ کا اصول

followsalaf نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏دسمبر 8, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    السلام علیکم،

    کیا یہ اصول صحیح ہے کہ جس گناہ پر عذاب مذکور ہے صرف وہی گناہ کبائر ہیں؟؟؟

    جزاک اللہ خیرا
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    ایسا گناہ بھی کبیرہ گناہ ہے اور اسکے علاوہ اور بھی کبیرہ گناہ ہوتے ہیں مثلا فرائض کا ترک بھی کبیرہ گناہ ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    جزاک اللہ خیرا!

    دراصل اسی اصول کو لیکر پچھلے دنوں کچھ بحث ہوی تھی

    اگر اس اصول کو حرف آخر سمجھا جاے کبائر کی پہچان کا تو پھر نماز میں سورہ الفاتحہ، شرعی پردہ وغیرہ وغیرہ بھی اجاتے ہیں جو کہ فرض تو ہیں مگر نہ کرنے پر وعید مذکور نہیں ہے

    کبیرہ گناہوں کی پہچان سے متعلق کچھ مدلل ذک کردیں تاکہ ہم جیسے طالب علموں کیلیے اسانی ہو۔

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    فرض وواجب کا ترک اور حرام کا ارتکاب کبیرہ گناہ میں شامل ہے خواہ اس پر وعید ہو یا نہ ہو ۔
    اکثر گناہ کبیرہ ہی ہیں ۔ ہاں جن گناہوں کا صغیرہ کہہ دیا جائے وہ صغیرہ ہوتے ہیں مثلا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " البصاق فی المسجد خطیئۃ وکفارتہا دفنہا" یعنی مسجد میں تھوکنا چھوٹا گناہ ہے اور اسکا کفارہ اسے دفن کرنا ہے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں