پاکستانی طالبان حکومت اور فوج سے مشروط طور پر مذاکرات پر آمادہ

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏فروری 5, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشروط طور پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔

    طالبان ترجمان نے مذاکرات کے لیے دو شرائط عاید کی ہیں۔ایک یہ کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ میاں نواز شریف، جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن حکومت اور فوج کے ساتھ ان مذاکرات میں ضامن بنیں۔

    احسان اللہ احسان اتوار کو ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔اس میں انھوں نے طالبان کی حکومت اور سکیورٹی فورسز (پاک فوج) سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہےاور اس کے لیے دوسری شرط یہ عاید کی ہے کہ حکومتی تحویل میں قید کالعدم تحریک طالبان سوات کے کمانڈر مسلم خان، تنظیم کے سابق ترجمان مولوی عمر، ایک اور طالبان کمانڈر محمود خان اور بعض دوسرے لیڈروں رہا کیا جائے۔

    انھوں نے بتایا کہ مولوی عمر اور مسلم خان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں طالبان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ احسان اللہ احسان نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو علماء کے قتل کا ذمے دار قرار دیا اور کہا کہ قاتلوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے کچھ عرصہ قبل قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز سے بر سر پیکار طالبان جنگجوؤں کو ہتھیار پھینکنے کی صورت میں مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔ طالبان جنگجوؤں کے امیر حکیم اللہ محسود نے تب حکومت سے مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ہتھیار نہیں پھینکیں گے۔ اب کے طالبان نے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو ضامن بنانے کی شرط عاید کی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ طے پائے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی تھی۔

    مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ملک میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ماضی میں طالبان جنگجوؤں اور حکومت کے درمیان مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں اور ان کے افغانستان کے سابق حکمراں طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے۔

    مولانا فضل الرحمان اور سید منور حسن نظریاتی طور پر طالبان کے قریب خیال کیے جاتے ہیں۔ تاہم وہ طالبان جنگجوؤں کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی ہر گز بھی حمایت نہیں کرتے۔البتہ وہ خود بھی حکومت یا فوج کے ساتھ طالبان کے مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔
    العربیہ ڈاٹ نیٹ
    اشاعت: پیر 23 ربيع الأول 1434هـ - 04 فروری 2013م
     
  2. iqbal jehangir

    iqbal jehangir رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 31, 2012
    پیغامات:
    375
    اس مرحلہ پر طالبان سے مذاکرات کر کے پاکستان ،طالبان کی طاقت کو قانونی ہونے کا جواز فراہم کر دے گاکوئ غیرت مند ریاست مسلح عسکریت پسندوں کی شناخت تسلیم نہیں کرسکتی۔اور یہ حکومت اور فوج پر ایک بے جا دباو ہو گا کہ وہ طالبان کے خلاف کوئی آپریشن نہ کریں۔ لہذا طالبان کی شرائط والی پیشکش،جو کہ طالبان کی طرف سے اپنے طاقتور ہونے کا اظہار ہے، کو نظر انداز کر دینا چاہئیے۔ طالبانی دہشت گردوں نے اسلام اور پاکستان کا امیج اپنی دہشت گرد اور غیر انسانی کاروائیوں سے خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ ماضی میں طالبان نے معاہدوں کو اپنی طاقت بڑہانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہ ہیں ،ان کو بزور طاقت ہی کچلنا ،پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے حق میں بہتر ہو گا۔ آزمائے ہوئے کو آزمانہ بیوقوفی ہے۔
    ویسے بھی شرائط والی طالبانی پیشکش ایک مذاق ہے اور طالبان کی اپنے آدمیوں کو رہا کرانے کا ایک حربہ ہے۔ طالبان کا پیش کردہ حل ،موجودہ سیاسی سیٹ اپ سے مطابقت نہ رکھتا ہے۔ ریاست کسی گروہ کو یہ اجازت نہ دے سکتی ہے کہ وہ دہشت گرد گروہ کو جو کہ آئین پاکستان کو نہ مانتا ہو، ریاست اور حکومت کو شرائط تسلیم کرنے کے لئے ڈکٹیٹ کرے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال جہانگیر کا تازہ بلاگ : طالبان مذاکرات کیلئے آمادہ
    آواز پاكستان | پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں