تحفہ مرنے کے بعد کیا واپس لیا جا سکتا ہے؟؟؟

followsalaf نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏فروری 10, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    السلام علیکم،

    زید نے اپنے والد/ والدہ کو تحفہ کے طور پر پیسے یا سونا بھیجتا ہے اب چونکہ اسکے والد/ والدہ کی وفات ہو چکی ہے تو اس صورت میں کیا زید اپنا وہ تحفہ واپس لے سکتاہے؟

    یا اسے اپنا تحفہ واپس لینے کیلئے اپنے دوسرے بھائیوں/ بہنوں کی اجازت لینی ہوگی؟

    مہربانی فرماکر کتاب و سنت کے دلائل کی روشنی میں جوا ب دیں۔

    جزاک اللہ خیرا!
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    کسی بھی صورت میں کوئی بھی تحفہ واپس نہیں لیا جاسکتا ۔ ہاں والد اپنی اولاد کو دیا گیا تحفہ واپس لے سکتا ہے ۔
    عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
    سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا تحفہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور پھر اس قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے ۔ (صحیح بخاری : 2589)
    عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ
    عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی عطیہ یا تحفہ دے اور پھر اسے واپس لے لے , ہاں والد جو کچھ اپنی اولاد کو دیتا ہے وہ اسے واپس لے سکتا ہے اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہتا ہے حتى کہ سیراب ہو جائے اور پھر پیٹ بھرنے کے بعد قے (الٹی) کر دیتا ہے اور پھر اس قے کو دوبارہ کھانے لگ جاتا ہے ۔ (سنن أبی داود : 3539)


    پہلے دور جاہلیت میں کچھ لوگ اس شرط پر ہبہ کرتے تھے کہ جبتک وہ شخص زندہ ہے جسے تحفہ دیا گیا وہ اس سے فائدہ اٹھائے لیکن جب وہ فوت ہو جائے گا تو وہ تحفہ دینے والے کے پاس واپس آجائے گا ۔ لیکن شریعت اسلامیہ نے اس قسم کے ہبہ اور تحفہ کے بارہ میں بھی یہی فیصلہ کیا کہ وہ اسی کا ہے جسے دیا گیا , زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی , یعنی مرنے کے بعد اس شخص کے ورثاء کا حق ہے تحفہ دینے والے کو واپس نہیں ملے گا ۔ (صحیح مسلم : ۱۶۲۵)
     
  3. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    جزاک اللہ خیرا!

    چونکہ زید بھی ایک وارث ہے اور اگر دوسرے وارثین اگر راضی ہو جایں(دوسرے وارثین جانتے ہیں کہ یہ چیز دراصل زید نے ہی دی تھی( تو زید وہ چیز لے سکتا ہے؟
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    نہیں !
    زید اس وجہ سے وہ چیز نہیں لے سکتا کہ یہ اس نے ہی دی تھی ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں