اے پی سی کا پاکستانی طالبان سے فوری امن مذاکرات کا مطالبہ

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏مارچ 5, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاکستان کی بیشتر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان جنگجوؤں سے امن مذاکرات کے آغاز کے لیے فوری اقدامات کرے اور اس مقصد کے لیے گرینڈ قبائلی جرگہ کو بروئے کار لایا جائے۔

    یہ مطالبہ مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیراہتمام اسلام آباد میں جمعرات کو منعقدہ کل جماعتی کانفرنس( اے پی سی) کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا ہے۔اے پی سی میں ملک کی تمام بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور قبائلی زعماء نے شرکت کی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستانی طالبان جنگجوؤں سے بات چیت کے لیے قبائلی گرینڈ جرگے کو بروئے کار لائے اور اس جرگے میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے متعلقہ لوگوں کو شامل کیا جائے۔

    اعلامیے میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ امن کے لیے اقدامات کرتے وقت قانون اور حکومت کی عمل داری کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔کانفرنس میں شریک حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی قیادت نے ملک میں امن کے قیام کے لیے اپنی ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔

    پی ایم ایل (این) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر زوردیا کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ آج نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ ہی دہشت گردی کا شکار ہے۔انھوں نے جے یو آئی کو اے پی سی بلانے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ''ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک میں امن وامان کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے''۔

    اس سے پہلے مولانا فضل الرحمان نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہاکہ اس کانفرنس سے امن کے عظیم مقصد کے لیے رہنمائی ملے گی۔امن کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہوسکا ، امن وامان کی صورتحال مایوس کن ہے، لیکن اس سے گھبرا کر ہمیں گھر نہیں بیٹھ جانا چاہیے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اعتماد میں لیے بغیر طالبان جنگجوؤں کے ساتھ امن عمل کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔

    حکمراں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینزکے صدر مخدوم امین فہیم نے کہاکہ ہم امن کے لیے ہر کوشش کی حمایت کرتے ہیں لیکن آئین، قانون اور حکومتی رٹ کے دائرے میں رہ کر امن کے لیے فیصلے کیے جائیں۔ان کے بہ قول پیپلز پارٹی خود دہشت گردی کا شکار رہی ہے۔

    جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ طالبان کی مذاکرات کی پیش کش کا مثبت جواب دیا جانا چاہیے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔سابق وزیرداخلہ آفتاب شیر پاؤنے کہاکہ طالبان ہتھیار ڈال دیں تو پھر مذاکرات کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔جب تک خیبر پختونخوا کی تمام قیادت کسی ایک بات پر متفق نہیں ہوگی، امن قائم نہیں ہوسکتا۔

    آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر نیوزکانفرنس میں میزبان مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ کل جمعہ کو شام چار بجے پشاور میں قبائلی جرگہ ہو گا اوراے پی سی کی طالبان سے مذاکرات کے لیے تجاویز کا جائزہ لے گا۔ جرگہ کے ارکان گورنرصوبہ خیبرپختونخوا سے بھی ملاقات کریں گے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت، نگراں حکومت اور آیندہ حکومت تجاویز پر عملدرآمد کی پابند ہوں گی۔

    مولانافضل الرحمان نے کل جماعتی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ بھی پڑھ کر سنایا۔ اس موقع پر جمعیت العلماء پاکستان کے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، جماعت اہل سنت کے علامہ محمد احمد لدھیانوی اورسابق وزیرداخلہ آفتاب احمد خاں شیرپاؤ بھی موجود تھے۔

    واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے 3 فروری کو ایک ویڈیو بیان میں حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشروط طور پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی ۔طالبان ترجمان نے مذاکرات کے لیے یہ شرط عاید کی تھی کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ میاں نواز شریف ،جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن حکومت اور فوج کے ساتھ ان کے مذاکرات میں ضامن بنیں۔

    پاکستان کی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان کی مذاکرات کی پیش کش پر ابھی تک کوئی ٹھوس ردعمل ظاہر نہیں کیا البتہ طالبان سے کہا گیا ہے کہ وہ امن مذاکرات سے قبل تیس دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کریں۔وزیرداخلہ عبدالرحمان ملک نے اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''سب سے پہلے جنگ بندی ہونی چاہیے،امن مذاکرات اس کے بعد ہی ہوسکتے ہیں''۔

    اے پی سی کا پاکستانی طالبان سے فوری امن مذاکرات کا مطالبہ
     
  2. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,480
    والصلح خیر،
    مذاکرات کرکے اگر ملک و قوم کو سلامتی اور امن مل سکتا ہے تو اس میں حکومت کو عار محسوس نہیں کرنی چاہیئے۔
    فوراً مذاکرات کی راہ ہموار کرکے وطن کوامن و امان کا گہوارہ بنا دیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں