صوفیاء کے نظریات و عقائد

منہج سلف نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏فروری 8, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    صوفیاء کے نظریات و عقائد



    ہم چند ایسے نطریات کا ذکرکریں کے جن کا تعلق اسلام سے ہے- دوسرے مذاھب اس میں شامل نہیں۔
    ان نظریات کی تفصیل پیش کرنے سےپہلے ضروری ہے کہ صوفیاء کا مختصر تعارف پیش کیا جائے۔

    زہاد اور صلحاء


    پہلی اور دوسری صدی ہجری میں ان "بزرگوں" کو زہاد،عباد اور صلحاء کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا- عبداللہ ابن سبا کی حلولی پیروکاروں کو تو علی الاعلان خارج از اسلام قرار دیا جاچکا تھا۔ عام مسلمانوں میں یا مشرکانہ عقائد ابھی در نہیں آئے تھے- تاریخ اسلام میں ہمیں سب سے پہلے زاہد و عابد اویس قرنی رح ملتے ہین جنہوں نے پوری کی پوری زندگی زہد و عبادت میں صرف کی-

    ان کے بعد ہمیں مندرجہ ذیل مشہور زاہدین کے نام ملتے ہیں:

    1- حسن بصری رح (م 110ھ)
    2- حبیب عجمی رح (م 137ھ)
    3- ابراہیم بن ادھم رح (م 162ھ)
    4- فضیل بن عیاض رح (م 187ھ)
    5- معروف کرخی رح (م 206ھ)
    6- بشر حافی الذاہد رح (ط 217ھ)

    لیکن فن تصوّف پر بعد میں کتابیں لکھنے والوں میں سے ایک صوفی مصنّف حافظ عبدالنعیم الاصبہانی (م 430ھ) نے اپنی تصنیف "حلیۃ الاولیاء" میں متصوفین کی برتری جتلانے کی خاطر اس فہریست میں خلفائے اربعہ اور بہت سے دوسرے بزرگ صحابہ رض اور تابعین کو بھی شامل کردیا-

    غیر اسلامی نطریات کی درآمد



    پہلا شخص جس نے فقر و فاقہ اور نفلی عبادت میں غلو سے کام لیا اور تصوف کو ایک عملی شکل عطا کی وہ حارث بن اسدمجاسی تھا- مالداروں سے سخت نفرت کرتے اور حصول مال میں حد سے زیادہ احتیاط کرتے تھے۔ مجاسی (م 243ھ) نے سب سے پہلے تصوف پر ایک رسالہ "الرعایۃ" لکھا تھا جس میں محاسبہ نفس پر زیادہ زوردیا گیا تھا اسی وجہ سے انہیں مجاسی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ یونانی فلسفہ کا اسلمای نظریات پر اثر پڑنا شروع ہوگیا تھا- حارث بن اسد کے علم کلام کے بعض مسائل پر گفتگو کرنے کی وجہ سے امام احمد بن حنبل رح نے ان سے ملاقات ترک کردی تھی-
    تیسری صدی میں ہمیں ایسے بزرگ بھی ملتے ہیں جنہوں نے معرفت نفس، فقروفاقہ، توکل صبر و رضا پر بہت زیادہ زور دیا- ان کے یہی ملفوظات آگے چل کر تصوف کی بنیاد قرار پائے- گویا زندگی کے جس ایک پہلو (دنیا سے بے رغبتی یا زہد) پر انہوں نے زور دیا تھا، وہی دین تصوف میں اصل بنیاد قرار پائی-

    ان بزرگوں کے نام یہ ہیں:

    1- ذالنون مصری رح (م 245ھ)
    2- با یزید بسطامی رح (م 261ھ)
    3- سری سقطی رح (م 259ھ)
    4- سہل بن عبداللہ رح (م 283ھ)
    5- حکیم ترمذی رح (م 285ھ)
    6- عبداللہ وقاق رح (م 290ھ9
    7- جنید بغدادی رح (م 298ھ)
    8- ابوالحسن نوری رح (م 295ھ)
    9- عمرو بن عثمان مکی رح (م 297ھ)
    10- حسین بن منصور حلاج (م 309ھ)
    11- ابو علی ثقفی رح (م 328ھ)
    12- ابوبکر شبلی رح (م 334ھ)

    ان بزرگوں میں بعض حضرات کے ملفوظات یا تذکرے ہمیں آج بھی ملتے ہیں- ان میں رطب ویابس بہت کچھ شامل ہے اور ان کے حالات میں عجیب وغریب باتیں پائی جاتی ہیں۔ جن کی وجہ ہم پہلے ہی بیان کرآئے ہین مگر حقیقتن ان میں اکثر لوگ صالح، کتاب وسنت کے پابند، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھنے والے، وجدوسماع کی محفلوں سے پرہیز کرنے والے تھے- ان کی اصلاح نفس اور تربیت کا ایک خاص طریقہ تھا جس سے علماء شریعت کو بھی کچھ اختلاف نہیں تھا- پھر ان میں سے بعض حضرات ایسے بھی نکلے بو نوافل میں غلو سے کام لینے کے علاوہ یونانی فلسفہ اور مشرکانہ نظریات کے قائل، ترغیب و ترہیب کے لیے لوگوں میں احادیث وضع کرکے پھیلانے والے اور جھوٹ سے کام چلانے والے تھے- جن کی فہرست ہم پہلے دے چکے ہیں- (امام ابن تیمیہ رح از کوکن عمری ص: 268)

    پہلا صوفی



    صوفی کی اصطلاح بھی دوسری صدی کی ایجاد ہے- سب سے پہلا شخص جو صوفی کے نام سے مشھور ہوا "ابو ہاشم محمد بن احمد الصوفی" تھا- صوفی کے لفظ کی توجیہات تو کافی بیان کی جاتی ہیں- تاہم زیادا رائج یہی معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ چونکہ اون کا موٹا کپڑا پہنتے تھے اور خرقہ یا گڈری ان کا شعار یا علامت بن چکی تھی، لہذا یہ صوفی کہلائے- صوفیاء کے نظریات و عقائد بھی اسی دور کی پیداوار ہیں-

    (شریعت و طریقت، باب 2، ص: 115 تا 117)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں