تفسیر سورۃ اخلاص - 2 آگ کس مادے سے بنتی ہے

ابو عبیدہ نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مارچ 22, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    چقماق کی آگ کس مادے سے بنتی ہے ؟​

    اس مقام پر یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ تولد کے لئے دو اصلوں کا ہونا ضروری ہے ۔یہ خیال بھی غلط ہے کہ دو چقماقوں کی درمیان جو ہو اہوتی ہے اسی کی حالت گرمی کے باعث بدل جاتی ہے اور وہ آگ کی صورت اختیار کرلیتی ہے ،چقماقوں سے کوئی مادہ خارج نہیں ہوتا جو آگ میں منقلب ہوجاتا ہو۔ کیونکہ اگر رگڑ کے باعث چقماقوں سے کوئی مادہ خارج نہ ہو تو آگ نہیں نکلتی اور مجرد رگڑ سے آگ نہیں نکلتی ۔بلکہ دو چقماقوں میں سے نیچے کی چیز مثلاً صوفان اور حراق پر چنگاری پیدا کی جاتی ہے ۔اور اس پر آگ گرتی ہے ۔اور یہ ظاہر ہے کہ گرتی وہی چیز ہے جو بوجھل ہو ۔اگر چقماق کے لوہے اور پتھر کا کوئی ثقیل حصہ خارج نہ ہو تو آگ نیچے نہیں گرسکتی اگر صرف ہوا منقلب ہو کر آگ بن جاتی تو وہ نیچے نہ اترتی۔کیونکہ ہوا کا خاصہ صعو (اوپر کو جانا ) ہے ۔ نہ کہ ہبوط (نیچے اترنا ) لیکن جب چقماق سے نکلنے والا مادہ آگ میں تبدیل ہو چکتا ہے تو پاس کی ہوا بھی آگ میں تبدیل ہو جاتی ہے ،اور یہ آگ یا تو ھوئیں کی صورت میں ہوتی ہے یا شعلے کی صورت میں۔

    جمیع متولدات (پیداہونے والی چیزیں ) دواصلوںسے پیدا کی گئی ہیں ۔جس طرح آدم علیہ السلام مٹی اور پانی سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ورنہ صرف مٹی سے جس کے ساتھ پانی ملا ہوا نہ ہو ،کوئی جاندار چیزیا سبزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔سبزی بھی ساری کی ساری دو اصلوں سے پیدا ہوتی ہے ۔مسیح علیہ السلام بھی مریم علیہ السلام اور جبریل علیہ السلام کی پھونک سے پیدا ہوئے ہیں ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

    وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا۔(پارہ:28۔ع:20)
    اور مریم بنت عمران جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی اور ہم نے اس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے ایک روح پھونک دی ۔

    نیز فرمایا:

    وَالَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْہَا مِنْ رُّوْحِنَا ۔(پارہ:17۔ع:6)
    جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پس ہم نے اس میں اپنی قدرت کی ایک روح پھونک دی ۔

    پھر فرمایا:

    فَاَرْسَلْنَااِلَیْہَارُوْحَنَا نَتَمَثَّلَ لَہَاَ بَشَرًاسَوِیًّا،قَالَتْدانِّیْ اَعُوْذُبِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ لَّقِیًّا۔قَالَ اِنَّمَااَنَارَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھضبَ لَکِ غُلَامًارَکِیًَّا۔(پارہ:12۔ع:5)
    تو ہم نے مریم علیہما السلام کی طرف جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور وہ ایک پورے آدمی کی شکل میں ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ،آپ کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو اللہ ترس ہے تو میرے سامنے سے ہٹ جا جبریل علیہ السلام نے کہا میں صرف تیرے رب کا بھیجا ہو آیا ہوں،اس لیے کہ تجھے ایک پاکیزہ بچہ دوں۔

    مفسرین کا بیان ہے کہ جبریل علیہ لسلام نے مریم علیہ السلام کی قمیض کے گریبان میں پھونک ماری جومقام ولادت تک پہنچ گئی ۔
     
  2. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    تولد مسیح کے دو اصل ​

    اس مقام پر یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ مسیح علیہ السلام و اصلوں سے پیدا ہوئے ہیں،ایک نفخ جبریل سے اور دوسرے اپنی ماں مریم علیہا السلام سے ۔اور یہ وہ نفخ (پھونک) نہیں ہے جو چار مہینے گزرنے کے بعد ہوتا ہے جبکہ بچہ لوتھڑے کی صورت میں ہوتا ہے ،کیونکہ یہ نفخ ایسے بدن میں واقع ہوتاہے جو پیدا ہو چکا ہو۔ جبریل علیہ السلام نے جب نفخ کیا تھا تو مسیح بالکل پیدا نہیں ہوئے تھے اور نہ مریم علیہ السلام حاملہ تھیں، بلکہ وہ نفخ کے بعد حاملہ ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کا قول اس دعویٰ کی دلیل ہے:

    قَالَاِنَّمَا اَنَارَیُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلًامًازَکیًّا(الیٰ قولہ) فَحَمَلَتْہُ فَاْنَّتَزَتْ بِہٖ مَکانًا قِصِیًّا۔(پارہ:6)
    جبریل نے کہا کہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں ،تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ بچہ دوں چنانچہ وہ حاملہ ہو گئیں اور اس حمل کو لیکر وہ کسی دور مقام پر چلی گئیں۔

    جب جبریل علیہ السلام نے پھونکا تو مریم علیہ السلام کو حمل ہو گیا ،اسی لئے مسیح علیہ السلام کو اس نفخ کے اعتبار سے ’’رُوْحٌ مِّنْہُ‘‘ کا خطاب ملا ہے۔

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ قاصد جو اس کی روح ہے یعنی جبریل علیہ السلام ہی وہ روح ہیں جس نے مریم علیہ السلام سے خطاب کیا ،اور کہا تھا

    ’’اِنَّمَااَنَارَسَوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا۔

    پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    وَنَفَخْنَا فِیْھَا مِنْ رُّوْحِنَا۔(پارہ:17۔ع:6)
    ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی ۔

    اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں ۔اور عیسیٰ علیہ السلام اسی روح میں سے ایک ہیں ۔اس لئے وہ اس اعتبار سے ’’رُوْحٌ مِّنَ اﷲِ‘‘ ہوئے اور مِنْ رُّوْحِنَا میں من ابتدائے غایت کے لئے ہے جب دو اصل باہم ملتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان ایک ہوتا ہے جو منقلب ہو جاتا ہے اور یہ انقلاب اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ان دو اصلوں میں سے ایک دوسرے سے رگڑا جاتا ہے۔ اندریں حالت یہ ضروری ہے کہ اس مادے کے اجزامیں کمی واقع ہو۔
     
  3. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    تولد نار کے دواصل

    جب چقماق کا لوہا چقماق کے پتھر پر رگڑا جاتاہے یا درخت درخت سے رگڑ کھاتا ہے تو اس رگڑ سے ایک حرکت پیدا ہوتی ہے ،جس کے باعث ان دونوں کے بعض اجزاء کی حالت متغیر ہو جاتی ہے اور ان دونوں کے درمیان جو ہوا ہوتی ہے ۔وہ گرم ہو کر آگ بن جاتی ہے اور جب ایک چقماق دوسرے پر رگڑا جاتا ہی تو ان میں سے ایک کی قوت رگڑ کے باعث کم ہو جاتی ہے ۔اور آگ ان دواصلوں سے مستحیل ہوکر پیدا ہوتی ہے ،ایک ہو اسے اور دوسرے ان اجزاء سے جو دو چقماقوں کی باہم رگڑ سے خارج ہوتے ہیں سورج اور آگ وغیرہ روشنی بخش چیز کی شعاع اپنی مقابل کی کسی چیز پر منعکس ہیں ہے تو روشنی حاصل ہوتی ہے ۔

    لفظ’’نور‘‘(روشنی) اور ’’ضوء‘‘(روشنی ) کا اطلاق بعض اوقات ایک جسم قائم بنفسہٖ پر ہوتا ہے ۔مثلاً وہ آگ جو سر چراغ پر ہوتی ہے ۔اور یہ اس مادے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی جو منقلب ہو کر آگ بنتا ہے ،مثلاً لکڑی اور تیل ۔

    ہوا بھی آگ میں مستحیل ہو جاتی ہے اور یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے کہ جس مادے سے آگ کا شعلہ پیدا ہو، اس میں یا چقماقوں میں کمی واقع ہو ۔کبھی نور ضیاء ،شعاع سے وہ شعاع مرا لی جاتی ہے جو آفتاب یا آگ سے زمین اور دیواروں پر پڑتی ہے ۔یہ روشنی عرض ہے قائم بنفسہ نہیں ہے ۔ اس کے لئے ایک محل کی ضرورت ہے جس کے ساتھ وہ قائم ہو اورجو اس کے قابل ہو۔ شعاع کی لئے محل کی ضرورت ہی جس کے ساتھ وہ قائم ہواور جو اس کے قابل ہو ۔شعاع کے لئے ایک روشنی بخش جسم کا وجود لابدی ہے اور ایک ایسی چیز کا ہونا بھی ضروری ہے جو اس روشنی بخش چیز کے مقابل ہو،تاکہ اس پر شعاع منعکس ہوسکے ۔چراغ سے حاصل ہونے والی آگ کی بھی یہی صورت ہوتی ہے ۔جب وہ آگ میں رکھی جاتی ہے یا اس میں آگ رکھی جاتی ہے تو اول اولا آگ ،مادے یعنی تیل یا لکڑی کو حل کرتی ہے پھر محیط کی ہوا گرم ہو کر مبدل بآتش ہو جاتی ہے اور یہ تبدیلی مادے کے نقصان کے بعد واقع ہوتی ہے اور یہی صورت اس ہواکی ہے جو آگ میں حرکت پیدا کرتی ہے ۔مثلاً ہو چلتی ہے تو لکڑی میں شعلے پیدا ہوتے ہیں ۔لوہا رکی پھکنی کا عمل بھی یہی ہوتا ہے ۔محل آتش یعنی لکڑی کوئلہ وغیرہ میں آگ بننے کی اور تیز ہوا میں آگ کو جنبش دے کر اس کے مناسب مقام پر پہنچانے کی استعداد ہوتی ہے ۔اس لئے پھکنی وغیرہ کی ہوا آگ کو بھڑکاتی رہتی ہے ۔بعض اوقات آگ کے پاس کی ہوا کی حالت بھی بدل جاتی ہے ۔لہیب(شعلہ) دراصل ہوا ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کا جب آگ بجھ جاتی ہے تو دھواں پیدا ہوجاتا ہے ۔جو آگ سے ملی ہوئی ہوا ہوتی ہے ۔جس طرح بھاپ پانی سے ملی ہوئی ہوا ہوتی ہے اور غار مٹی سے ملی ہوئی ہوا ہوتی ہے ۔کبھی بھاپ کوبھی دھوئیں سے موسوم کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

    ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَائِ وَھِیَ دُخَانٌ۔(پارہ:24۔ع:12)
    پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا ۔

    مفسرین نے ’’دخان‘‘ کی تفسیر پانی کے بخارات کی ہے ۔آثارِ مرویہ سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کے بخارات سے آسمان بنائے ہیں اور وہ ’’دخان‘‘(دھواں) ہوتاہے ۔اور ’’دخان‘‘ اس ہو ا کو کہتے ہیں جس سے کوئی گرم چیز ملی ہو ۔اگر اس میں پانی نہ ہوتو یہ صرف دھواں کہلاتا ہے اور کبھی اس میں پانی ہوتا ہے ۔اس صورت میں اسے دخان بمعنی (دھواں) بھی ’’بخار‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ ہنڈیا کے بخار کی طرح ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ دخان (دھواں) بھی ’’بخار‘‘ کہلاتا ہے جس میں پانی نہیں ہوتا۔ مثلاً جو شخص خوشبو کے لئے کوئی چیز سلگائے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’’اس نے تبخر‘‘ کیا یعنی خوشبودار پیدا کیا ۔

    جوہری کا قول ہے کہ پانی کا بخاروہ ہوتاہے جواس سے دھوئیں کی صورت میں بلند ہوتاہے ۔اور ’’بخور‘‘اس چیز کو کہتے ہیں ،جس کو سلگانے سے خوشبودار دھواں پیدا کیا جاتاہے ۔لیکن ہوا،آگ اسی وقت بنتی ہے جس وقت لکڑی اور تیل وغیرہ مادہ جس سے آگ بنتی ہے ختم ہوجاتاہے ۔اس لئے معلوم ہو ا کہ حیوان کی طرح آگ بھی مادے کے سوا پیدا نہیں ہوتی۔
     
  4. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    واحدالاصل مخلوق پر تولد کا اطلاق نہیں ہو سکتا​

    بتانا یہ مقصود ہے کہ قائم وجودوں میں سے جس چیز کے متعلق بھی ’’تولد‘‘کا لفظ استعمال کیا جائے گا ۔یہ ضروری ہے کہ وہ اصلوں سے بنی ہواور دونوں میں سے ایک ایک حصہ جدا ہو کر بنی ہو ۔جب کھانے اور پینے سے سیر ہونے یا روح نکلنے وغیرہ اعراض کے متعلق کہا جائے کہ وہ متولد ہیں تو جن امور کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا جائے گا،وہ سب دو اصلوں سے ہوںگے ۔لیکن عرض محل کا محتاج ہوتا ہے ،اس مادے کا محتاج نہیں ہوتا جو عرض میں منقلب ہو۔اس کے خلاف اجسام مواد سے پیدا ہوتے ہیں ،جو دوسری نوع میں منقلب ہو جاتے ہیں ۔مثلاً پانی سے خون بستہ ،پھر لوتھڑا اور پھر جاندار چیز پیدا ہوتی ہے ۔نباتات بھی اسی طرح بدلتی ہیں ۔اور مخلوق ایک اصل سے ہو ،وہ اگر چہ مادے سے پیدا ہوتی ہے ۔نباتات بھی اسی طرح حالت بدلتی ہیں ،لیکن متولد نہیں کہلاتی ۔مثلاً حوا علیہما السلام آدم علیہ السلام نے حوا کو جنا،یا وہ حوا کے باپ ہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم سے پیدا کیا ۔جس طرح آدم علیہ السلام کوکیچڑ سے پیدا کیا ۔مسیح علیہ السلام کی متعلق البتہ کہا جاتا ہے کہ مریم علیہما السلام نے انھیں جنا اور مسیح علیہ السلام مریم علیہما السلام کے بیٹے ہیں ،کیونکہ مسیح علیہ السلام مریم علیہما السلام کے جزو تھے۔اور وہ مریم کے پیٹ میں روح پھونکنے کے بعد پیدا کئے گئے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    وَمَرْیَمَ ابْنَۃَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتُ فَوْجُھَا لَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَاوَصَدَّقَتْ بِکَلِمَاتِ رَیِّھَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ ۔(پارہ:28۔ع:20)
    اور مریم بنت عمران جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی تو ہم نے اس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے روح پھونک دی اور وہ اپنے رب کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کرتی رہیں اور وہ فرمانبردار بندوں میں سے تھیں ۔

    دوسری آیت یوں ہے :

    فَنَفَخْنَافِیْھَا مِنْ رَّوْحِنَانَ جَعَلْنَا ھَاوَابنَھَا اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔(پارہ:17۔ع:6)
    تو ہم نے ان میں پنی قدرت سے روح پھونکی اور انھیں اور ان کے بیٹے کو دنیا جہان کے لوگوں میں سے ایک نشان بنادیا ۔

    اور حوا علیہا السلام کو تو اللہ تعالیٰنے آدم علیہ السلام کے مادہ سے اسی طرح پیدا کیا ،جس طرح آدم علیہ السلام کو مادہ ارضی سے پیدا کیا ،پانی اور مٹی سے صورت بنائی گئی اور ہوا نے اسے خشک کرکے بجتی ہوئی مٹی بنا دیا ۔اس لئے یہ نہیں کہا جاتا ،کہ ’’آدم علیہ السلام نے حوا کو جنا‘‘ اور نہ آدم کو مٹی نے جنا اور مسیح کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں مریم نے جنا ،یہ تولد دواصلوں سے تھا ،ایک اصل مریم اور دوسری نفخ جبریل ۔
     
  5. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَارُوْحَنَافَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا ،قَالَتْ اِنِّ اَعَوْذُبِالَّرحْمٰنِ مِنْکَ اِنْکُنْتَ لَّقِیًّا ۔قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکَ لِاَ ھَبَ لَکِ غُلَامٌ زِکِیًُّاقَالَتْ اَنٰی یََکُوْنُ لِیْ غُلاَمًاوَّلَمْ لِمْسَسْنِیْ بَشَرٌوَّلَمْ اَکُ بَغِیًّا ۔قَالَ کَذَالِکِ قَالَ رَبُّکِ ھُوَ عَلٰی ھَیِّنٌ وَّلِنَجْعَلَہُ اٰیَۃً لِلّنَّاسِ مَّمِّضْیًّا۔نَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِسًّا۔ (پارہ:16۔ع:5)
    تو ہم نے انکی طرف جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور وہ انکے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں آکھڑے ہوئے اور (مریم)کہنے لگیں اگر تم پرہیز گاری ہو تو میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ میرے سامنے سے ہٹ جاؤ ۔جبریل علیہ السلام نے کہا میں تمہارے رب کا بھیجا ہواآیا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ بچہ دوں وہ بولیں میرے ہاں لڑکاکیونکر ہو سکتا ہے مجھے تو کسی بشر نے چھوا بھی نہیں اور میں بدکار بھی کبھی نہیں رہی جبریل نے کہا جیسا میں کہتا ہوں ویسا ہی ہوگا تمہارا رب کہتا ہے کہ تمہارے ہاں بے باپ کے لڑکا پیدا کرنا ہم پر آسان ہے اور اس کے لئے ایک نشان بنائیں اور دنیا میں اپنی رحمت کا ذریعہ قرار دیں اور یہ بات فیصل ہو چکی ہے اس پر مریم کو حمل ہو گیا اور وہ اسے دور کے مکان میں لے جا کر علیٰحدہ بیٹھ گئیں ۔

    نفخ کے بعد حضرت مریم علیہا السلام کوحمل ہوا،مدت تک نفخ کے بغیر حمل نہ ہوا تھا۔پھر اس حمل میں روح حیات پھونکی گئی ،حمل کے لئے نفخ اور روح حیات کے لئے نفخ میں فرق ہے تو معلو م ہواکہ قائم بنفسہٖ وجودوں میں سے کسی وجود سے جب کوئی چیز پیدا ہوگی اور وہ متولد کہلائے گی او لابدی ہے کہ والدسے کچھ مادہ خارج ہواور دواصلوں سے تولد ہواہو،اللہ تعالیٰ صمد ہے اس لئے یہ امر محال ہے کہ اس سے کوئی چیز خارج ہو اور اس کی کوئی بیوی نہیں ،اس کا بچہ پیدا ہونا محال ہے ۔

    شعاع کا تولد ،سوچنے سے علم کا تولد ،کھانے سے سیری کا تولد اور حرکت سے حرارت کا تولد وغیرہ وجودوں کے تولد نہیں ہیں۔اعراض کے تولد ہیں،لیکن اس کے باوجود ان کے لئے محل کی اور دو اصلوں کی ضرورت ہے ،اس لئے نصارٰی کے اس قول سے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے ،یہ لازم آتا ہے کہ وہ مریم کو اللہ کی بیوی قرار دیں اور وہ جس طرح اللہ کے لئے ایک بیٹے کا وجود قرار دیتے ہیں ،اسی طرح اس کی بیوی بناتے ہیں ،وہ جس معنی میں اللہ کے لئے بیٹا موجود ہونے کے قول کی تفسیر کریں ،اسی معنی میں بیوی کا موجود ہونا بھی لازم ہو جاتا ہے اور دلائل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بیوی سے منزہ ہی ۔انہی دلائل سے لازمی طور پر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے بھی منزہ ہے تو جب وہ اللہ کے لئے ایسے اوصاف بیان کرتے ہیں جن سے متصف ہونا اس کی شان سے بعید تر ہے ۔تو ان کی قول کے مطابق اللہ کا ان اوصاف سے متصف ہونا لازم آئے گا ۔جن سے متصف ہونا اس کی شان سے کمتر بعید ہے ۔اور یہ بحث شرح وبسط کے ساتھ ’’الرد علی النصٰریٰ‘‘ میں آچکی ہے ۔
     
  6. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    اس سے کسی قدرواضح ہو جاتا ہے کہ :

    لَمْیَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ۔
    نہ اس نے کوئی بیٹا جنا اور نہ اسے کسی نے جنا۔

    اور:

    اَلَا اِنَّھُمْ مِّںْ اِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ وَلَدَ اﷲُ وَاِنَّھُمْ لَکَاذِبُوْنَ۔ (پارہ:23۔ع:9)
    خبردار وہ جھوٹ کہتے ہیں،کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا جنا ہے ۔اور وہ بالکل جھوٹے ہیں ۔

    اور:

    وَجََلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَائَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَخَرَقُوْالَہٗ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عَلْمٍ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّایَصِفُوْنَ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَلٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ وَّخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ وَّھثوَبِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔
    اور جنون میں سے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی نے انہیں پیدا کیا ہے اور جہالت سے اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراشتے ہیں،وہ آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنیوالا ہے اس کا بچہ کیونکر ہو سکتا ہے اسکی تو بیوی ہی کوئی نہیں اسی نے ہر چیز پیدا کی ہے اور وہ ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے ۔

    ان آیات بینات میں اللہ تعالیٰ نے جن اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ قرار دیا اور اپنے متعلق جن امور کی نفی فرمائی ہے وہ ان تمام انواع پر حاوی ہے ،جو اس باب میں بعض قوموں سے مذکور ہیں۔ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ ’’اتخاذِولد‘‘ (بیٹا بنانا) کی نفی سے تمام قسم کے اتخاذات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    وَقَالَتِ الْیَہُوْدُوَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنَائُ ﷲِ وَاَحِبَّائُ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَائُ وَلِلّٰہِ مُلْکُ الیَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَابَیْنَھُمَا وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ۔(پارہ:6۔ع:7)
    اور یہودونصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور دوست ہیں ۔اے رسول ﷺ ان سے کہہ دو کہ پھر اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے دراصل تم بھی دیگر مخلوق کی طرح بشر ہو (اللہ ) جسے چاہتا ہے بخشتا ہے ،اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں اور انکے مابین ساری چیزوں کی ملکیت اسی کیلئے ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔
     
  7. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    یہودونصاریٰ کا یہ قول بیان کرتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ تیری اولاد میری اورلین اولاد ہے ۔میں اسے آگ میں داخل کروں گا اور وہ چالیس دن تک اس میں رہے گی ۔حتیٰ کہ آگ اس کا دامن اعمال پاک کردے گی اوراس کے گناہوں اور خطاؤں کو نگل جائے گی ۔پھر ندادی جائے گی کہ بنی اسرائیل میں سے ہر ایک مختون کو (آگ سے ) نکال دو۔اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

    مَااَخَذَاﷲُ مِنْ وَّلَدٍوَمَاکَانْ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ۔(پارہ:18۔ع:5)
    اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ،اور اس کے ساتھ کوئی اور معبود شریک نہیں۔

    نیز ارشاد ہوتا ہے :

    وَقُدِ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذُ وَلَدًاوَّلَمْ یَکُنُ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلُکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الدُّلِّ۔(پارہ:15۔ع:12)
    اور کہہ دو اے رسول ﷺ :کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو اولاد سے بے نیاز ہے اور مملکت ِدارین کا بلا شرکت غیرے بادشاہ ہے،اور وہ کمزور نہیں کہ اس کا کوئی مددگار ہو۔

    پھر فرمایا:

    تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا۔ اَلَّذِیْ لَہٗ مُلُکُ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ یَتَّخِذُ وَلَدًاوَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا۔(پارہ:18۔ع:16)
    بابرکت ہے وہ جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا،تاکہ وہ تمام جہان کے لوگوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ آسمانوں اور زمینوں کی سلطنت کا وہی مالک ہے ۔اس کی کوئی اولاد نہیں۔ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں اس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ،اور اس کے لیے ایک اندازہ ٹھہرادیا ۔

    فرمایاگیا:
    وَقَالُوااتَخَذَاﷲُ وَلَدًاسُبْحَانَہٗ بَدْعِبَادٌ مُکُرَمَوْنَ لاَ یَسْبِقْوْنَہٗ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ۔ یَعْلَمْ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَاخَلْفَہُمْ وَلاَ یَشُفَعُوْنَ اِلاَّ لِمَنْ اُرتَضٰی وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ۔وَمَنْ یَّقُلُ مِنْہُمْ اِنِّیْ اِلٰہٌ مِنْ دُوْنِہٖفَذَالِکَ نَجْذِی الطَّالِمِیْنَ۔(پارہ:17۔ع:2)
    اور کہتے ہیں کہ رحمٰن کی اولاد بھی ہے حالانکہ وہ پاک ہے،اس کا فرزند کوئی نہیں،البتہ فرشتے اس کے معزز بند ے ہیں۔کسی بات میں وہ اس سے پیش دستی نہیں کرتے اور ان کا ہر فعل اس کے حکم کے تابع ہے اللہ تعالیٰ ان کے اگلے پچھلے سارے حالات جانتا ہے ۔وہ پسندیدہ لوگوں کے سوا کسی کی سفارش نہیں کرتے اور اس کے رعب وجلال سے خائف رہتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی یہ کہے کہ اللہ نہیں بلکہ میں مبعود ہوں تو ہم اسکو جہنم کی سزادینگے اور ہم ظالموں کو اسی طرح ہدایت دیتے ہیں۔
     
  8. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    اور فرمایا:

    وَقَالَ اﷲُ لَاتَتَّخِذُوْا اِلٰھَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّمَا ھُوْ اِلٰہُ وَّاحِدٌ فَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ۔وَلَہٰ مَافِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَلَہُ الدِّیْنُ وَامِبًا۔(پارہ:14۔ع:13)
    اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دو معبود نہ بناؤ معبود ایک ہی ہے ،اس لیے مجھ ہی سے ڈرو ۔آسمانوں اور زمینوں کے مابین جوگچھ ہے سب اسی کے لیے ہے۔اسی کو فرماں برداری لازم ہے ۔

    وَیَجْعَلُوْنَ لِمَالَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا۔(پارہ:14۔ع:13) وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَہٗ وَلَھُمْ مَّایَشْتَھُوْنَ۔ن

    اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال سے وہ بتوں کا حصہ نکالتے ہیں،حالانکہ وہ ان کی اصل حقیقت سے بھی واقف نہیں ہیں۔اللہ سبحانہ ٗوتعالیٰ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں اور اپنے لیے من مانی چیز (یعنی بیٹے) ۔

    نیز فرمایا:

    وَلَا نَجْھَدُ مَعَ اﷲِ اِلٰھًا اٰخَرَفَتْلْقٰی فِیْ جَھَنَمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔ اَقَاَصْفَاکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَدَمِنَ الْملٰئِکَۃِ اِنَاثًااِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۔وَلَقَدْ صَوَّنَنَافِیْ ھٰذَا الْقُرَاٰنِ لِیَذَّکَرَوْاْوَمَایَزِیُدُھَمْ اِلَّانُفُوْرًا قُدْلُو کَانَ مَعَہٗ اٰلِہَۃٌ کَمَا یَقُوَلُوْنَ اِذًالَّابْتَغَوْااِلٰے ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا۔(پارہ:15۔ع:4)
    اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا ،ورنہ تم قابل ملامت اور راندۂ درگاہ ہو کر جہنم میں پھینک دیے جاؤگے ۔کیا تمہارے رب نے تمہیں بیٹوں کے لئے خاص کیا اور خود بیٹیاں لیں۔ (یعنی فرشتے)یہ تو تم سخت بری بات کہتے ہو ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کے طرزبیان استعمال کیے ہیں تاکہ وہ سمجھیں مگر اس سے ان کی نفرت بڑھتی ہی گئی ۔اے رسول ﷺ کہدے کہ اگر ان کے قول کے مطابق اللہ کے ساتھ اور معبود بھی شریک ہوتے تو انھوں نے صاحب عرش تک پہنچنے کا راستہ کبھی کا ڈھونڈ نکالا ہوتا۔

    اور فرمایا:

    فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَھُمْ الْبَنُوْنَ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰئِکَۃَ اِنَاشًا وَّہُمْ شٰھِدُوْنَ اَلَا اِنَّھُمْ مِّنْ اِفْکِھِمْ لَیَقُوْلُوْنَ وَلَدَاﷲُ وَاِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ۔اَصْطَعَی الْبَنَاتِ عَلَے انْبَنِیْنَ مَالَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ افَلَاتَذَکَّرُوْنَ ۔اَمْ لَکُمْ سُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ فَاْتُوْابِکِتَابِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ وَجَعَلُوابَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃنَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ۔سُبْحَانَ اﷲِ الْمُخْلَصِیْنَ،فَاِنَّکُمْ وَمَاتَعْبُدُوُنَ مَااَنْتُمْ عَلَیْہِ بِفَانِنِیْنَ۔اِلَّامَنْ ھُوَصَالِ الْجَحِیْمِ۔(پارہ:23۔ع:9)
    اے رسول ﷺ!ان کفار مکہ سے پوچھو کہ کیا اللہ کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ؟یا ہم نے فرشتوں کو عورت ذاب بنایا اور یہ دیکھ رہے تھے اپنے دل سے تہمتیں تراشتے ہیں کہ اللہ صاحب اولاد ہے یقینًا وہ جھوٹے ہیں ۔کیا بیٹوں کے مقابلہ میں اللہ نے بیٹیاں پسند کیں؟تم کو کیاہوگیا کہ ایسے بیہودہ حکم لگاتے ہو ۔کیا تمہارے دماغ میں عقل نہیں ہے ؟ کیا تمہارے پاس کوئی کھلی سند ہے ؟ تم سچے ہو تو اپنی سند پیش کرو اور ان لوگوں نے اللہ میں اور جنات میں ناطہ ٹھہرایا ہے حالانکہ جنات کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ بھی حاضر کئے جائیں گے ۔اللہ کی نسبت جیسی باتیں یہ بناتے ہیںاللہ ان سے بالکل پاک ہے ۔البتہ اللہ کے خاص بندے نہ لغوعقیدہ رکھتے ہیں اور نہ ان کو عذاب ہو گا ۔سو تم اور وہ جنات جن کی تم پرستش کرتے ہو (اللہ سے ضد باندھ کر) محض اسی کو بہکا سکتے ہو جو جہنم میں جانے والا ہے ۔
     
  9. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    اور فرمایا:

    اَفَرَاَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُذّیٰ وَمَنَاتَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی اَلَکُمُ الذَّکَرُوَلَہُ الْاُنْثٰی تِلْکَ اِذًا قِسْمَۃٌصِیْریٰ اِنْ ہِیَ اِلَّا اَسْمَآئٌ سَمَّبُنْمُوْھَااَنْتُمْ وَاٰبَائُ کُمْ اِنَّااَنْزَلَ اﷲُ بِھَامِنْ سُلْطَانٍ اِنْ بَتَّعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہُویَ اِلْا نَفَسُ وَلَقَدْجَائَ ھُمْ مِّنْ رَّبِھِمُ الْھُدَی۔
    کیا تم نے لات وعزٰے اور ایک اور تیسرے بت منات پر کبھی غور بھی کیا ہے کہ ان میں کیا قدرت ہے ؟ کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اس کے لیے بیٹیاں ؟اگر ایسا ہو تو یہ بڑی ہی نامنصفانہ تقسیم ہے ۔یہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے گھڑ لیے ہیں اللہ نے تو ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں فرمائی یہ لوگ صرف اٹکل اور نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں اور طرۃ یہ ہے کہ انکے پروردگار کی طرف سے انکے پاس ہدایت آ چکی ہے ۔

    اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بَالْاٰخِرَۃِ لَیُسَتُمُونَ الْمَلَئِکَۃَ تَیْمِیَۃَ الْاُنْثٰی ۔(پارہ:27۔ع:6)
    جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ،وہی تو فرشتوں کو نام دھرتے یں کہ وہ عورتیں ہیں۔

    اللہ تعالیٰ فرمایا:

    وَجَعَلُوْالَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْأً۔(پارہ:25۔ع:7)
    انھوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جزو (یعنی اولاد) قرار دے رکھا ہے ۔

    بعض نے لکھا ہے ’’جَعَلُوْالِلّّٰہِ نَصِیْبًا مِّنَ اْلوُلْدِ‘‘(انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا ایک حصہ قرار دیا )۔
    قتادہ ومقاتل سے مروی ہے کہ ’’جُزْأً‘‘ کے معنی ’’عدلا‘‘ (برابری کرنے والا)ہیں۔اور دونوں قول صحیح ہیں ۔سووہ اس کے لیے اولاد قرار دیتے ہیں اور اولاد اپنے باپ کے مشابہ ہوتی ہے ۔

    اسی لیے فرمایا:

    وَاِذَابُشِّرَاَحَدُھُمْ بَمَاضَرَب لِلرَّحْمٰنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّاوَّھُوَکَظِیْمٌ۔(پارہ:25۔ع:8)
    جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کی تہمت وہ خدائے رحمٰن پر رکھتا ہے تو مارے رنج کے اس کے چہرے پر سیاہی دوڑ جاتی ہے ۔

    اس مقام پر بھی لڑکیوں کی بشارت مراد ہے ۔چنانچہ دوسری آیت میں ہے وَاِذَابُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی(پارہ:14۔ع:8)آیا ہے ۔سوانھوں نے عورت کو رحمٰن کی شکل قرار دیا ۔اور اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزو ٹھہرایا ۔کیونکہ بچہ اپنے والد کا جزو ہوتا ہے ۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔

    رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

    اِنَّمَافَاطِمَۃُ بِضْعَۃٌ مِّنِّیْ۔
    (فاطمہ میری لخت جگر ہے)

    اور اللہ تعالیٰ فرماتاہے :

    وَجَعَلُوا ِﷲِ شُرَکَائَ الْجِنَّ وَخَلَتَہُمْ وَخَرَقُوْالَہٗ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ۔ (پارہ:7۔ع:18)
    مشرکوں نے جنات اللہ کے شریک بنا ڈالے حالانکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے اور انھوں نے بے جانے بوجھے اللہ کے بیٹے بیٹیاں تراش لیں۔

    کلبی کا قول ہے کہ یہ آیت زناوقہ کے حق میں نازل ہوئی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور ابلیس باہم شریک ہیں ۔اللہ تعالیٰ آدمیوں ،جانوروں ،مواشی اور نور کا خالق ہے اور ابلیس درندوں، سانپوں، بچھوؤں اور ظلمت کا خالق ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ ’’انھوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ قائم کر رکھا ہے ۔ انہی کے متعلق ہے ۔بعض مفسرین کا قول ہے کہ ’’ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں ‘‘وہی کہتے ہیں۔

    اور ملائکہ کا نام جن بھی ہے ۔کیونکہ وہ نظر سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔یہ مجاہد وقتادہ کا قول ہے کہ ’’زنادقہ کے نزدیک ملائکہ کے ایک قبیلے کا نام جن ہے ۔ابلیس اسی قبیلے میں سے ہے ۔اور یہ قبیلہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیوں پر مشتمل ہے ۔

    کلبی کا قول ہے کہ ’’یہ مردودوملعون لوگ یہ بھی کہتے ہیں۔کہ ملائکہ بیج سے پیدا ہوتے ہیں ۔

    بعض مفسرین کہتے ہیں کہ

    ’’وَخَرَقُوْالَہٗ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلَمٍ۔
    کی آیت کفارِ عرب کے متعلق ہے ،جو کہتے تھے ،کہ ملائکہ اور اصنام اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں،اور یہود کہتے تھے ،کہ عزیر علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔
     
  10. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    769
    جزاک اللہ خیرا
     
  11. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں