فوت شدگان کا خواب میں انا

followsalaf نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏مارچ 27, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    السلام علیکم،

    فوت شدگان کا خواب میں اکر کوئی بات کرنا، کسی چیز کی خبر دینا اسکی کیا حقیقت ہے اور شریعت میں کیا حکم ہے؟

    مثال: والد کا خواب میں اکر گھر کی طرف اشارہ کرنا - کیا اس سے یہ مراد ہیکہ گھر کا خیال رکھو
    یا پھر موت کی حالت کا بیان کرنا وغیرہ وغیرہ

    امید ہے اس ضمن میں کتاب و سنت علی فہم السلف پر مدلل روشنی ڈالئنگے۔

    جزاک اللہ خیرا
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    خواب میں کوئی زندہ نظر آئے یا فوت شدہ , بہر حال خواب تین طرح کے ہوتے ہیں :

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنْ اللَّهِ وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنْ الشَّيْطَانِ وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ
    صحیح مسلم :2263
    جب زمانہ قریب ہو جائے گا تو مؤمن کا خواب جھوٹا ہونے والا نہیں ہوگا , اور تم میں سے سب سے زیادہ سچے خواب اسکے ہونگے جو باتوں میں سب سے زیادہ سچا ہوگا ۔ اور مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیسویں حصہ میں سے ہے ۔ اور خواب تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوشخبری ہے , اور ایک خواب شیطان کی طرف سے غمزدہ کرنے کے لیے ہوتا ہے , اور ایک خواب آدمی کی سوچ کے مطابق ہوتا ہے ۔ لہذا جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو وہ کھڑا ہو کرنماز ادا کرے اور لوگوں کو بیان نہ کرے ۔

    اور خواب کی تعبیر کا تعین , خواب دیکھنے والے , جس کے لیے دیکھا گیا ہے اسکے حالات کے مطابق ہوتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    جزاک اللہ خیرا

    فوت شدہ شخص اگر بیٹے یا بیٹی کے خواب میں اکر کسی چیز کے کرنے کا حکم دیرہا ہو یا کسی کا خیال رکھنے کے تعلق سے نصیحت کرہا ہو اور وہ حکم یا نصیحت شریعت سے نہیں ٹکراتا تو کیا اس حکم پر عمل کرنا چاہئے؟

    اگر فوت شدہ شخص خواب میں کسی واقعہ کی خبر دیتا ہے یا اپنے مرنے کے متعلق کہتاہے تو کیا یہ خبر پر یقین کیا جا سکتا ہے یا صحیح مانا جا سکتا ہے؟

    کیا فوت شدہ اپنے رشتہ داروں کو کسی چیز کی خبر دے سکتاہے؟
     
  4. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    شیخ آپکے جواب کا انتظار ہو رہا ہے
     
  5. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    شیخ آپکے جواب کا انتظار ہو رہا ہے
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ایسے حکم پر عمل کرنے سے پہلے استخارہ کر لیں۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اس کا جواب وہ پوسٹ نمبر ۲ میں دے چکے ہیں ۔
     
  8. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    السلام علیکم

    مہر بانی فرماکر اسکی کوئی دلیل مہیا کردیں- جزاک اللہ خیرا
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    دلیل :
    جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کی سورتوں کی طرح ہر معاملے میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیا کرتے تھے،آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نماز پڑھے پھر یہ دعا پڑھے۔ اے اللہ ! بے شک میں تیرے علم کے ذریعے سے تجھ سے طاقت مانگتاہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا سوال کرتاہوں، اس لئے کہ تو قدرت رکھنے والا ہے، میں قدرت سے محروم ہوں، تو علم والاہے، میں بے علم ہوں اور تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والاہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتاہے کہ یہ کام میرے حق میں ، میرے دین، گذران اور انجام کے اعتبار سے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میرے کام کے دیر یا سویر ہونے کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کام کو میرے مقدر میں فرمادے اور اس کو میرے لئے آسان کردے۔ پھر میرے لئے اس میں برکت نازل فرما اور اگر تو جانتاہے کہ یہ کام میرے حق میں ،میرے دین،گذران اور انجام کے لحاظ سے میرے لئے برا ہے تو، اس کو مجھ سے پھیر دے (دور کردے)اور میرے لئے بھلائی کو مقدر فرما دے وہ جہاں بھی ہے، پھر مجھ کو اس پر راضی بھی کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اپنی حاجت کا نام لے۔(بخاری)
    اس کے متعلق مزید :
    URDU MAJLIS FORUM - Threads Tagged with استخارہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں