سن تو سہی ــــــ اقتباس

عفراء نے 'نقد و نظر' میں ‏اگست 14, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    شرک کی بد ترین مثال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    ہر چیز ہی بد ترین ہے۔۔۔ نجانے کیسا دور آگیا ہے۔۔
    : ( : ( : (
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    میرا دماغ ایک ہی بات پر اٹکا ہوا ہے پوچھ ہی لوں کہ خامہ بگوش تو ان کا قلمی نام تھا کالم کا عنوان کچھ اور ہوتا تھا ۔ شاید سخن در سخن ہے نا؟
    انہوں نے ایک شاعر یگانہ چنگیزی پر تحقیق کی تھی کسی نے ان کی وفات پر لکھ ا تھا کہ وہ خود اپنے عہد کے یگانہ تھے ۔
     
  4. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    جی خامہ بگوش قلمی نام تھا۔ اور کالم کا نام "سخن در سخن" جو کہ ہفت روزہ تکبیر اور روزنامہ جسارت میں چھپتے تھے۔ ان کالمز کے مجموعے ڈاکٹر انور سدید اور خواجہ عبدالرحمن طارق نے مختلف ناموں سے مرتب کیے ہیں جن میں "سخن ہائے گسترانہ"، "خامہ بگوشیاں"، "مزید خامہ بگوشیاں" اور "سن تو سہی" شامل ہیں۔

    یگانہ چنگیزی پر تحقیق کا مجھے علم نہیں لیکن چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ مشفق خواجہ نے یگانہ چنگیزی کی کلیات مرتب کی ہے اور اس کا مقدمہ وغیرہ لکھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    ھاھاھا بہت ستھری کی ہے اشفاق احمد کے ساتھ
     
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    ہم بھی انہی قارئیین میں سے ایک ہیں
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے تصوف کے بارے میں ڈاکٹرانورسدید نےبھی بہت اچھا لکھا ہے ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اس لحاظ سے پاکستان میں موسم خزاں ختم ہو جانا چاہیے تھا ۔
     
  9. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    بہت خوب ۔ میں نے اپنے اردو کے اساتذہ ، دوست احباب وغیرہ سے اشفاق احمد ، بانو قدسیہ ، قدرت اللہ شہاب وغیرہ کی اتنی تعریف سن رکھی تھی کہ شوق بہت تھا کہ ان کی کتابیں بھی پڑھوں۔ پھر ایک دن شہاب نامہ خرید ہی لیا ۔ آج تک افسوس ہے کہ کہاں پیسے خرچ کر دیے۔ شروع میں تو کافی دلچسپ لگی لیکن اس کے بعد انہوں نے بہت ہی لمبی گپیں لگانا شروع کر دیں ۔ مثال کے طور پر وہ جس گھر میں رہتے تھے وہاں آدھی رات کو چیزیں اڑ اڑ کر گرتی تھیں اور ایک مرتبہ تو پاؤں کے انگوٹھے پر اڑتی ہوئی چیز آ گری آج تک نشان باقی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال یہ واقعہ پڑھ کر ہمت جواب دے گئی۔ اس کے بعد باقی کی کتاب پڑھے بغیر شیلف میں رکھ دی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اچھا کیا باقی نہیں پڑھی۔ کتاب کے آخر میں 90 سالہ ینگ فقیر کا قصہ میں کبھی کبھی ہنسنے کے لیے نکال کر پڑھتی ہوں۔ انتہائی گمراہ کن ملغوبہ ہے جہالت، مبالغہ آرائی اور تصوف کا جو یہ لوگ لکھتے رہے اور بکتا رہا۔
    ممتاز مفتی اور اشفاق احمد پھر بھی درمیان میں کہیں کام کی باتیں کر جاتے ہیں، بانو قدسیہ کی تحریروں کو دیکھتے ہوئے کبھی آخر تک نہیں دیکھا، عجیب اکتاہٹ ہوتی ہے۔
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں