رجال الغیب

islamdefender نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اگست 17, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. islamdefender

    islamdefender -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 7, 2012
    پیغامات:
    265
    ملا علی قاری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے کہا

    المراد بهم الملىكة او المسلمون من الجن او رجال الغيب المسمون بابدال
    الحرز الثمين للحصن الحصين ص 378

    1۔ کیا یہ کتاب ملا علی قاری سے ثابت ہے؟ کیونکہ اپنی عقیدہ کی کتاب میں انہوں نے شرح عقیدہ الطحاوی سے نقل کیا ہے جس میں رجال الغیب کا عقیدہ رکھنے والوں کو اولیاء الشیطان کہا ہے

    عبارت یہ ہے

    ونوع منهم [ يتكلم ] بالأحوال الشيطانية ، والكشوف ومخاطبة رجال الغيب ، وأن لهم خوارق تقتضي أنهم أولياء الله ! وكان من هؤلاء من يعين المشركين على المسلمين ! ويقول : إن الرسول أمره بقتال المسلمين مع المشركين ، لكون المسلمين قد عصوا ! ! وهؤلاء في الحقيقة إخوان المشركين .

    والناس من أهل العلم فيهم [ على ] ثلاثة أحزاب :

    حزب يكذبون بوجود رجال الغيب ، ولكن قد عاينهم الناس ، وثبت عمن عاينهم أو حدثه الثقات بما رأوه ، وهؤلاء إذا رأوهم وتيقنوا وجودهم خضعوا لهم .

    [ ص: 767 ] وحزب عرفوهم ، ورجعوا إلى القدر ، واعتقدوا أن ثم في الباطن طريقا إلى الله غير طريقة الأنبياء !

    وحزب ما أمكنهم أن يجعلوا وليا خارجا عن دائرة الرسول ، فقالوا : يكون الرسول هو ممدا للطائفتين . فهؤلاء معظمون للرسول جاهلون بدينه وشرعه .

    والحق : أن هؤلاء من أتباع الشياطين ، وأن رجال الغيب هم الجن ، ويسمون رجالا ، كما قال تعالى : وأنه كان رجال من الإنس يعوذون برجال من الجن فزادوهم رهقا [ الجن : 6 ] . وإلا فالإنس يؤنسون ، أي يشهدون ويرون ، وإنما يحتجب الإنسي أحيانا ، لا يكون دائما محتجبا عن أبصار الإنس ، ومن ظن أنهم من الإنس فمن غلطه وجهله . وسبب الضلال فيهم ، وافتراق هذه الأحزاب الثلاثة - عدم الفرقان بين أولياء الشيطان وأولياء الرحمن .
    شرح عقیدہ الطحاویہ ص 272

    اور ملا علی قاری نے شرح فقہ الاکبر ص 253 دار الکتب العلمیہ میں نقل کر کے کوئی نکیر نہیں کی بلکہ ساتھ ہی کہا علم غیب اللہ کا خاصہ ہے۔

    پھر کہا

    إن الأنبياء لم يعلموا المغيبات من الأشياء إلا ما أعلمهم الله أحيانا ، وذكر الحنفية تصريحا بالتكفير باعتقاد أن النبي صلى الله عليه وسلم يعلم الغيب لمعارضة قوله تعالى 27 65 65 قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله كذا في المسايرة .

    صفحہ کا عکس http://islaahh.files.wordpress.com/2012/10/4.jpg

    یہ صاف متعارض عبارات ہیں۔ اگر شرح حصن الحصین واقعی ثابت ہے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلی عبارت میں صرف "عباد اللہ" کے مختلف مشہور مطلب ذکر کیے جو لوگوں میں رائج ہیں، اس سے ملا علی قاری کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔ جیسا کہ لفظ "او" سے ظاھر ہے اور نہ یہ عقیدہ کی کتاب ہے

    جبکہ دوسرا قول عقیدہ کی کتاب میں ہے اور جامع ہے، جو پہلے قول پر مقدم ہے۔

    یا پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پہلے قول سے عقیدہ کی کتاب میں رجوع کر لیا ہو۔

    روشنی فرمائیں
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    سب سے پہلے بات تو یہ کہ رجال غیب سے متعلق روایت ہی ضعیف ہے جیسا کہ یہاں وضاحت کی جا چکی ہے :
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - وسیلے کے متعلق سوالات ؟
    ثانیا : یہ اقوال متعارض نہیں , کیونکہ پہلے قول میں مختلف اقوال ذکر کیے گئے ہیں , ترجیح کسی کو بھی نہیں دی گئی , جبکہ دوسرے قول میں بھی ایسے ہی اقوال ذکرکرکے حق بات کو واضح کر دیا گیا ہے ۔
     
  3. islamdefender

    islamdefender -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 7, 2012
    پیغامات:
    265
    جزاک اللہ خیرا

    اور کچھ فتاوی ہیں اس بارے میں؟ کیونکہ ابن ابی العز کی شرح کو یہ لوگ "بریلوی" نہیں مانتے اور ابن ابی العز کا ثقہ ہونا ثابت کر دیں تو بھی کام چل جائے گا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں