قتلِ عمار اورباغی گروہ (الفئة الباغیة)

ابوعکاشہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اگست 20, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    قتلِ عمار اورباغی گروہ (الفئة الباغیة)

    تحریر/محمود احمد عباسی

    قتلِ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ
    حضرت عمار کے مقتول ہونے کے بارے میں وضعی روایتوں پر جو مودودی صاحب کی کتب مآخذ میں ہیں واقعات کی روشنی میں نظز ڈالنے اور درائتاً غور کرنے سے یہ حقیقت منکشف ہوجاتی ہے کہ ان کی ہلاکت کی ذمہ دار بھی وہی باغی ٹولی سبائیوں کی تھی۔ جس نے حضرت عثمان غنی کے مظلومانہ قتل کا ارتکاب کیا تھا۔ ان ہی سبائی باغیوں کے نرغے میں آکر جنہیں ملعونون علی لسان محمد(طبری ج5 ص107) ایک ارشاد نبوی میں ملعون فرمایا گیا تھا۔ حضرت عمار جنگ صفین سے دو سال قبل اورحضرت عثمان کی شہادت سے چند ماہ پہلے 35ھ میں ہی جب وہ تحقیقی حال کے مصر بھیجے گئے تھے ہلاک ہوگئے تھے۔ جنگ جمل و صفین میں ان کی موجودگی کی روایتیں تو صرف اس غرض سے وضع کی گئیں کہ آنحضرت نے حضرت عمار سے جو یہ ارشادفرمایا تھا کہ تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ تقتلک الفئة الباغیة وہ حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر چسپاں کر کے انہیں باغی جماعت قرار دیا جائے

    دلائل ملاحظہ ہوں۔

    (1)۔۳۵ھ میں امیرالمومنین عثمان اور ان کے عمال پر مختلف شہروں میں طعن و تشنیع کا شیوع جب زیادہ ہونے لگا۔ اس کی خبریں اہل مدینہ کو پہنچیں بقول مورخین (طبری ج ۵ وابن خلدون کتاب ثانی ج ۴) صحابہ کی ایک جماعت نے امیر المومنین کے پاس آکر ان حالات سےمطلع کیا اورطلب مشورہ پر۔
    قالو انشیر علیک ان تبعث رجالا ممن تثق بھم الی الامصارحتی یرجعو الیک باخبارھم (طبری ابن خلدون)ان حضرات نے کہا کہ مشورہ ہمارا یہ ہے کہ معتبر و معتمد آدمیوں کو مختلف شہروں میں بھیجئے تاکہ وہاں کے حالات کی خبریں آپ کو لا کر دیں۔
    (2)۔ امیر المومنین نے اکابر صحابہ میں سے مندرجہ ذیل حضرات کو جو ان کے معتمد علیہ تھے مختلف مقامات کے حالت معلوم کرنے کے لئے روانہ کیا۔
    (الف) حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کو کوفہ بھیجا گیا، یہ بدری صحابی تھے خیبر کا مرحب یہودی ان ہی کے ہاتھ سے قتل ہوا تھا فضلاء صحابہ میں سے تھے تبوک کے غزوہ کے وقت آنحضرت نے مدینہ پر نائب مقرر کیاتھا ۔حضرت عثمان کے شہادت کے بعد کی خانہ جنگیوں سے علیحدہ رہے، حضرت علی سے بیعت نہیں کی۔
    (ب) حضرت اسامہ بن زید بصرہ کے حالات معلوم کرنے بھیجے گئے وہ حب رسول الله کہلاتے تھے اور رسول الله نے اپنی رحلت سے قبل ان ہی کو جیش کا سردار مقرر کیا تھا جس میں اکابر و اجلہ صحابہ شامل تھے یہ بھی ایام فتنہ سے علیحدہ رہے حضرت علی سے بیعت نہیں کی۔
    (ج) حضرت عبدالله بن عمر یہ ملک شام بھیجے گئے، بدر و احد کے علاوہ سب غزوات میں شریک ہوکر بیعت الرضوان میں سے سب سے پہلے انہوں نے ہی بیعت کی تھی خانہ جنگیوں سے قطعاً علیحدہ رہے حضرت علی کی بیعت نہیں کی رسول الله نے زبان مبارک سے انہیں اجل صالح۔ فرمایا تھا نہایت درجہ نیک و عابد وزاہد تھے۔
    (د) حضرت عمار بن یاسر سابقون الاولون میں سے تھے۔ انہوں نے اور ان کی والدہ ماجدہ نے جو بنو مخزوم میں سے ابو حذیفہ بن مغیرہ کی لونڈی تھیں اسلام کی خاطربڑے عذاب سہے تھے۔ حضرت عمر نے اپنے زمانے خلافت میں ان کو کوفہ پر عامل مقرر کیا تھا۔ مگر جلد ہی معزول کردیا تھا کیونکہ بروایت طبری (ج ۴ ص ۲۶۱) اہل کوفہ نے حضرت عمار کے بارے میں یہ شکایت کی کہ جس منصب پروہ ہیں اس کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے اہل کوفہ ان پر جھپٹ پڑے ہیں حضرت عمر نے ان کو واپس بلا بھیجا تو وہ کوفہ سے ایک وفد کے ساتھ لے کر چلے اور ایسے لوگوں کو ساتھ لیں جن کو وہ اپنا موافق سمجھتے تھے لیکن وہ ثابت ہوئے ان سے بھی سخت جن کو وہ چھوڑ کر آئے تھے۔ عمار ان پر جزع و فزع کرنے لگے کسی نے پوچھا کیوں جزع و فزع کرتے ہو، کہا میں اپنی ذات کو ممدوح نہیں سمجھتا ہوں مگر اس واقعہ کے ذریعہ آزمائش میں ڈال دیا گیا ہوں مختار ثقفی کا چچا سعد بن مسعود ثقفی اور جریر بن عبدالله جو ان کے ساتھ آئے تھے انہوں نے ان کے متعلق کچھ لگایا بجھایا اور حضرت عمر کو ان کی بعض ناپسندیدہ باتوں کی خبر دی تو حضرت عمر نے ان کو معزول کردیا۔ اور پھر کوئی منصب ان کو نہ دیا۔ حضرت عمار جب ۳۵ھ میں مصر بھیجے گئے اس وقت ان کی عمر نوے برس کے لگ بھگ تھی ان حضرات کے علاوہ بعض اوراصحاب بھی دوسرے مقامات کو روانہ کئےگئے تھے۔
    (3) یہ سب اکابر صحابہ جو حالات کی تحقیق و تفتیش پر متعین ہوئے تھے ظاہر ہے کہ امیر المومنین کے معتمد علیہ تھے ان میں سے کسی کونہ پہلے سے امیر المومنین کی ذات سے کوئی شکایت تھی اورنہ بعد میں شکایت و ناراضی کی کوئی وجہ پیدا ہوئی۔ حضرت عمار کے سوائے سب حضرات نے واپس لوٹ کر بیان کیا کہ ہم نے نہ تو عمال اور والیان صوبہ کی کوئی برائی دیکھی اور نہ عوام و خواص کو ان کی شکایت کرتے ہوئے پایا(طبری ج۵ ص ۹۹ و ابن خلدون کتاب ثانی)
    (4) حضرت عمار کے مصر بھیجے جانے سے پہلے امیر المومنین کو ان پر بھی ویسا ہی اعتماد و اعتبار تھا جیسے اپنے دوسرے نمائیدہ حضرات پر تھا وہ جس وقت مدینہ سے بھیجے جارہے تھے اگر حضرت عثمان سے ان کو پہلے سے خود اپنے متعلق یا امیر المومنین کی سیاست کے متعلق کچھ شکایتیں ہوتیں یا امیر المومنین کو ان سے ہوتیں تونہ امیر المومنین ان کو بھیجتے اورنہ وہ اپنا بھیجا جانا پسند کرتے امیرالمومنین کا ان کو تحقیق حالات کے لئے مصر بھیجنا اور ان کا اس خدمت کی انجام دہی قبول کر کے مصر جانا دلیل اس امر کی ہے مصر جانے سے پہلے نہ امیر المومنین کو ان سے کوئی شکایت تھی اور نہ انہیں امیر المومنین سے کوئی گلاشکوہ تھا۔
    اب دیکھئے مودودی صاحب کے مآخذ (الامامتہ السیاستہ ج۱ ص ۳۲ والا استیعاب ج۲ ص ۴۲۲) وغیرہ میں جو یہ رواتیں کہ ''امیر المومنین حضرت عثمان کے خلاف ایسی شکایتوں کا ایک بڑا طومار لکھ کر کہ سنت رسول الله و سنت شیخین کے خلاف تم نے عمل کیا۔ حق الله و رسولہ اور ذو القربیٰ و یتامیٰ و مساکین کے حقوق تلف کر کے خمس افریقہ مروان کو بخش دیا اور اپنے عزیز و رشتہ داروں کو بے تحاشہ روپیہ دیدیا اپنی زوجہ سیدہ نائلہ اور اپنی دختر عائشہ اور اپنے بیٹوں کے لئے محلات بنوادئے۔ نیز ان تمام اتہامات کا ذکر تھا جو مودودی صاحب کی حضرت عثمان پر عاید کرہ فرد جرم میں شامل ہیں حضرت عمار مع دس آدمیوں کے جن میں حضرت مقداء بن الاسود بھی شامل بتائے گئے ہیں یہ تحریر حضرت عثمان کے ہاتھ میں دینے کے لئے گئے۔ راستہ میں ایک ایک کر کے سب ساتھی انکے مع مقداد کے کھسک گئے تو یہ تنہا رہ گئے جس وقت مکان میں اجازت لے کر داخل ہوئے روایت میں بیان ہے کہ مروان اوربنی امیہ کے لوگ حضرت عثمان کے پاس بیٹھے تھے حضرت عمار نے وہ تحریر پیش کی پوچھنے پر اقرار کیا کہ یہ تحریر میں نے لکھی ہے لیکن اپنے ساتھیوں کے نام بتانے سے انکار کیا۔ اس پر حضرت عثمان نے انہیں خوب پٹوایا اور خود بھی زود کوب کیا ''وضرب عثمان معھم حتی قتقوا بطنه (الامامه ج۱ص ۳۲ والاستیعاب)( اور عثمان نے اوروں کے ساتھ انہیں مارا یہاں تک کہ ان کا پیٹ پھٹ گیا)'' بیہوشی کے عالم میں عمار کو دروازہ کے باہر حضرت عثمان نے پھنکوادیا یہ سارا واقعہ ہے اورپچھلے صفحات میں جس ذکر کا ذکر آچکا ہے غرض کہ اسی قسم کے اوربھی قصے گھڑے گئے ہیں ان میں سے بعض کو ڈاکٹر طہ حسین نے اپنی کتاب عثمان میں بھی لکھ مارا ہے اور کہا ہے کہ حضرت عثمان ہی نے حضرت عمار کو لونڈی بچہ کہہ کر خود اس قدر مارا تھا کہ بیہوش ہوگئے تھے اور ام سلمہ اور عائشہ نے آنحضرتﷺکے کچھ بال، کپڑے اور جوتہ نکالا، اورفرمایا یہ الله کے رسولﷺ کے بال مبارک، ان کا کپڑا، اور جوتہ ہے ابھی یہ پرانا نہیں ہوا اور تم ان کی سنت چھوڑ رہے ہو لوگ چلا اٹھے اور حضرت عثمان آپے سے باہر ہوگئے ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہیں"۔(ص۲۴۵)
    کچھ بھی حقیقت ان رواتیوں کے وضعی قصوں کی ہوتی تو جس وقت حضرت عثمان نے ان سےاہل مصر کی شکایتوں کی تحقیق کے لئے کہا تھا تو حضرت عمار صاف کہتے کہ ہم دوسروں کی شکایتوں کی تحقیق کرنے کیا جائیں ہمیں تو خود ہی تم سے بہت سی شکایتیں ہیں اور اگر ان شکایتوں کا اظہار نہ کیا تھا تو کیوں دل میں کینہ و بغض ایسی حالت میں لئے رہے جن کہ حضرت عثمان نے ان کو مخلص سمجھ کر شکایت کی تحقیقات کے لئے بھیجا۔ حضرت عثمان کو اس کا علم ہوتا کہ ان کو مجھ سے شکایتیں ہیں اور ان کادل میری طرف سے صاف نہیں ہے تو وہ ان کو مصر کیوں بھیجتے کسی اور کو بھیجتے یقیناً حضرت عثمان کو ان پر پورا اعتماد تھا اور ان کو مدینہ سے مصر جانے سے قبل تک حضرت عثمان سے کوئی شکایت کسی قسم کی نہ تھی کچھ بھی شکایت ہوتی تو یہ نہ خود جاتے او ر نہ حضرت عثمان ان کو بھیجتے اور حضرت عثمان کےمخلص و مشیر دوسرے صحابہ بھی ایسی صورت میں حضرت عمار کا مصر یا کسی جگہ بھی تحقیقات کے لئے بھیجا جانا مناسب نہ سمجھتے -اس لئے ماننا پڑے گا کہ مصر جانے سے پہلے عمار کا دل حضرت عثمان کی طرف سے بالکل صاف تھا وہ دیگر صحابہ کی طرح امیر المومنین عثمان کے مخلص تھے اور بطیب خاطر ان کی بیعت میں داخل ہوٍئے تھے وہ کم و بیش چالیس سال سے حضرت عثمان کے حالات و خصائل سے ذاتی واقفیت رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ حضرت عثمان کیسے منکسر المزاج حلیم الطبع اور سخی شخص آنحضرتﷺ کے کتنے چہیتے ہیں کہ یکے بعد دیگرے دوصاحبزادیاں ان کی زوجیت میں دیں اور جب دوسری صاحبزادی کا بھی ان کی زوجیت میں انتقال ہوگیا تو فرمایا ہمارے پاس کوئی اور لڑکی ہوتی تو ہم عثمان ہی سے اس کا عقدکردیتے، حضرت عمارکے تو یہ آنکھوں دیکھے یہ واقعات تھے کہ آنحضرتﷺ اپنے صحابہ سے بے تکلف ملتے تھے جب آپﷺ کو یہ معلوم ہوجاتا کہ عثمان آرہے ہیں تو پھر اہتمام فرماتے اور ارشادفرماتے ایسے شخص سے ہم کیوں نہ شرم کریں جس سے خود ملائکہ شرماتے ہیں۔ عثمان کی وہ خوش بختانہ فضیلت دیکھی تھی جو کسی صحابی کو حاصل نہ ہوئی، یعنی آنحضورﷺ نے اپنے ایک دست مبارک کو حضرت عثمان کا ہاتھ قرار دیکر ان کی جانب سے بھی بیعت کی تھی اور جیش العسرت کے لئے جو گراں بہا مال اور سامان کی امداد سے حضرت عثمان نے پیش کی تھی اور ایسے متعدد مالی جہاد پر آنحضورﷺ کی زبان مبارک سے بار بار جنتی ہونے کی بشارتیں حضرت عمار نے اپنے کانوں سے سنی تھیں اور غزوہ تبوک میں ان ہی کی امداد سے حضرت عمار کو شریک ہونا نصیب ہوا تو ان جیسے بہت سے حالات و واقعات کے شاہد عینی ہونے کے باوجود حضرت عمار کو حضرت عثمان سے کیوں ایسی کوئی شکایت ہوتی جو سبائی راویوں نے وضع کی ہیں وہ دیگر صحابہ کی طرح حضرت عثمان کے مخلص تھے اور معتمد نمائندہ کی حیثیت سے مصر گئے تھے
    (5) حضرت عمار جو امیر المومنین کے معتمد علیہ نمایندے تھے ان کو دوران قیام مصر اگر کوئی شکایت پیدا بھی ہوئی ہوگی تو وہاں کے عمال حکومت سے ہوسکتی تھی نہ کہ امیر المومنین سے اوریہ توبالکل عیاں ہے کہ مصر جانے سے پہلے نہ انہیں امیر المومنین سے کوئی شکایت تھی اور نہ امیر المومنین کو ان سے ورنہ بصورت دیگر نہ انہیں مصر بھیجا جاتا اور نہ وہ اپنا بھیجا جانا پسند کرتے پھر آخر کیا وجہ تھی جیسا کہ مورخین کا بیان ہے کہ عمار وہاں جاکر بیٹھ رہے اور مدینہ آکر اپنی تحقیقاتی رپورٹ بھی امیر المومنین کو پیش نہ کی۔
    (6) جو دوسرے صحابہ عمار کی طرح دوسرے علاقوں کو بھیجے گئے تھے انہوں نے تو واپسی پر نتائج تحقیقات سے امیر المومنین اور اہل مدینہ کو مطلع کردیا تھا پس اگر عمار مصر سے مدینہ واپس آئے ہوتے تو وہ بھی اسی طرح اپنے نتائج تحقیقات سے مطلع کرتے امیر المومنین کی خدمت میں حاضری کا موقع کسی وجہ سے نہ مل سکا تھا تو دوسروں کو تو حالات سے آگاہ کرتے بطور خودنہ بیان کرتے تو ان کے دوست احباب خصوصاً حضرت محمد بن مسلمہ انصاری و اسامہ بن زید و عبدالله بن عمر توضرور پوچھتے اور کہتے کہ ہم نے اپنے علاقوں میں عمال حکومت و خلیفہ وقت کے خلاف کوئی شکایت نہیں سنی تم تو بتاؤ تم نے مصر میں کیا حال دیکھا مگر کسی مورخ نہ یہ نہیں بتایا کہ عمار نے مدینہ آکر اپنے نتائج تحقیقات سے امیر امومنین یا کسی دوسرے شخص کو مطلع کیا وہ اگر مدینہ واپس آئے تو آخر کیوں چپ سادھ گئے اور خاموشی سے گھر میں بیٹھ رہے۔
    (7) کوئی عقل سلیم اس کو تسلیم نہ کرسکتی کہ خلیفہ وقت کے معتمد و مخلص نمائندے کی حیثیت میں حضرت عمار مصر ایک معینہ عرصہ کے لئے بغرض تحقیقات جائیں اور جیسا طبری کی روایت میں ہے وہاں جاکر رک جائیں یاروک لئے جائیں خلیفہ وقت کے حکم کی تعمیل میں تو جائیں مگر اپنے رک جانے کے اسباب سے یہ جانتے ہوئے بھی خلیفہ کو مطلع نہ کریں کہ وہ اور سب صحابہ میرے منتظر ہوں گے اور معینہ وقت سے زیادہ رک جانے سے مضطر و پریشان رہیں گے۔
    (8) طبری کی روایت میں حضرت عمار کے مصر میں رک جانے کی وجہ سیف بن عمر الاسدی الکونی مصنف کتاب الفتوح والرذة کے حوالہ سے یہ بتائی گئی ہے اور طبری ہی سے دوسروں نے نقل کر کے مشتہر کی ہے (طبری ج۵ ص ۶۹ و ترجمہ ابن خلدون جزو ثانی ص ۲۱۹)"مصر میں ایک گروہ نے جن میں عبدالله بن السوداء (جو ابن سبا کہلاتا تھا)(خالد بن بلجم و سودان بن حمران و کنانہ بن بشر شامل تھے عمارکو جب اپنی جانب مائل کر کے روک لیا اور اپنا ہمنوا و ہمصفیر بنا لیا)"
    ابن خلدون مزید لکھتے ہیں کہ ''ابن سباءامیر المومنین عثمان پر اکثر طعن و تشنیع کرتا اور خفیہ اہل بیت کی دعوت دیتا اور کہتا کہ محمد(ﷺ) پھر واپس آئیں گے، جیسے عیسیٰ واپس آئیں گے، علی بن ابی طالب وصی رسول الله ہیں۔ عثمان اور ان کے پیشروابوبکر و عمر نے جبراً و غصباً بغیر کسی استحقاق کے خلافت لے لی، غرض لوگوں کو اس قسم کی تعلیم دیتا اورامیر المومنین عثمان اور ان کے عمال کے خلاف برانگیختہ کرتا اور ان کو طعن و تشنیع سے یاد کرتا تا آنکہ بعض بعض شہروں میں عوام الناس ان باتوں کی طرف مائل ہوگئے اور ایک دوسرے سے خط و کتابت کرنے لگے اسی گروہ کے ساتھ خالد بن بلجم، سودان بن حمران اور کنانہ بن بشر وغیرہم تھے پس ان لوگوں نے عمار کو مدینہ جانے سے روک لیا (ترجمہ ابن خلدون ج۲ صفحہ ۱۸)
    حضرت عمار کے متعلق یہ تصور کس قدر باطل ہے کہ ابن سباء اور اس کے چیلوں چانٹوں کے بہکائے میں آکر وہ ان کے ہمنوا ہم صفیر بن گئے، مصر جانے تک تو امیر المومنین کے مخلص و معتمد علیہ تھے برسوں سے ان کی بیعت اطاعت میں داخل تھے ایک یہودی کے کہنے سے جو منافقانہ اسلام میں داخل ہوا تھا سابقون الاولون کے زمرے کے ان صحابی نے خلیفہ وقت کی بیعت اطاعت کا جو ایکایک اپنے گلے سے اتار پھینکا اور ان کے جانی دشمن بن گئے حالانکہ تقریباً چالیس برس سے حضرت عثمان کے خصائل حمیدہ شاندار اسلامی خدمات اور رسول اللهﷺ سے ان کی دوہری قرابت کے حالات سے کماحقہ واقف تھے۔
    (9) طبری میں مندرجہ بالا روایت نیز اسی قماش کی معتدد رواتیں سیف بن عمر الاسدی الکونی کے حولے سے ہیں اس راوی کا زمانہ بھی اس عہد سے جس کے واقعات بیان کررہا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو برس بعد کا ہے امیر المومنین ہارون الرشید رحمتہ الله علیہ کے زمانہ خلافت میں فوت ہوا تھا ائمہ رجال نے اس کو صنعف و متروک و غیر ثقہ وزندیق کہا ہے اور لکھا ہے کہ حدیثیں وضع کیا کرتا تھا اور زندیقیت سے بھی مہتم تھا ''کان سیف یضع الحدیث واتھم بالزندقة (میزان الاعتدال ج۱ ص ۴۳۸)''پھر جعفر الجفعی جیسے غالی رافضی و دیگر مجہولین سے روایت کرتا ہے اس اعتبار سے بھی حضرت عمار کی سبائیت زدگی کی روایت وضعی و باطل سے خصوصاً ان کی صحابیت و سابقیت کے لحاظ سے کیونکر ممکن تھا کہ وہ حضرت علی کو وصی رسول الله اور حضرات ابوبکر و عمر و عثمان کو غاصب خلافت جان کر سبائیوں کی اس باغی جماعت میں شامل ہوجاتے جنہوں نے بعد میں حضرت عثمان کو قتل کیا۔ انہیں اگر مصر میں اپنی تحقیقات کے سلسلہ میں سبائیوں کے عزائم کا سراغ چل گیا تھا اسی لئے ان سے رابطہ پیدا کر کے ان کے راز معلوم کرنے کی غرض سے انہیں رکنا پڑ ا تھا۔ تو سبائیوں کی اسی باغی ٹولی نے اپنے راز کے افشا ہوجانے کے خوف سے جیسا کہ اسی راوی کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے حضرت عمار کو مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک کردیاراوی کے الفاظ ہیں (طبری ج۵ ص ۹۹)''واستبطاء الناس عمار احتی ظنوا انه قد اغتیل''اور عمار کو لوگوں نےروک لیا حتیٰ کہ لوگوں نے گمان کرلیا کہ وہ دھوکہ سے ماڈالے گئے''

    مندرجہ بالا واقعات کی روشنی میں حضرت عمار والی حدیث تقلک الفئة الباغیة میں الفئة الباغیة سے مراد اسی باغی گروہ جسے آنحضورﷺ کی زبان مبارک سے بھی ملعون فرمایا گیا تھا۔ حضرت علی نے اس گروہ کو جب وہ نواح مدینہ کے میں آکر ٹھہرے معلون فرمایا تھا ''لقد علم الصامحرن ان جیش ذی المروة و ذی خشب ذی المروة و ذی خثب ملعونون رلی لسان محمّد صلی الله علیہ وسلم (طبری ج۵ ص ۱۰۴)'' اسی ملعون باغی گروہ نے امیر المومنین عثمان کے مخلص و معتمد علیہ نمائندے حضرت عمار کو افشائے راز کے خوف سے مصر سے مدینہ آتے ہوئے دھوکہ سے ہلاک کردیا پھر امیر المومنین کو محصور کر کے بحالت تلاوت قرآن مجید شہید کیا۔
    10۔ اسی حدیث کو حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر چسپان کرنے کی غرض سے حضرت عمار کے مدینہ میں بوقت شہادت عثمان غنی موجود ہونے اور اس کے بعد جنگ جمل و صفین میں ان کی شرک کے قصے اسی طرح گھڑ لئے گئے جس طرح بے شمار رواتیں بنی امیہ اور حضرت معاویہ کی منقصت میں وضع کی گئیں روایت پرستی کے سبب مورخین و مصنفین نے روایتاً غور کئے بغیر اپنا تالیفات میں درج کیا۔مدینہ میں حضرت عمار کی موجودگی کی روایتوں میں کہا گیا ہے کہ مصری سبائی حضرت علی و طلحہ و عمارسے سلسلہ مراسلت رکھتے تھے۔ مدینہ پہنچکر اپنا پیغامبر بھی رات کے وقت ان تینوں حضرات کے پاس بھیجا تھا۔ حضرت عثمان کو جب اطلاع ہوئی دوڑے دوڑے حضرت علی کے گھر گئے اور کہا یہ بلوائی تمہاری بات سنتے ہیں تم ان کے پاس جاؤ کہہ سنکر لوٹا دو پھر عمار کے پاس بھیجا کہ علی کے ساتھ جانے پر آمادہ کریں۔ سعد بن ابی وقاص کو بلوا کر عمار کے پاس بھیجا کہ علی کے ساتھ جانے پر آمادہ کریں۔
    سعد تو ادھر عمار کے پاس یہ کہنے پہنچے ''ھٰذا علیٌ بخرح فاخرج معه واردھاولاء القوم عن امامک (طبری ج۵ ص ۱۱۰) کہ علی تو جارہے ہیں تم بھی ان کے ساتھ جاکر اپنے امام (یعنی امیر المومنین عثمان) کا پیچھا ان لوگوں سے چھڑاؤ ''
    راوی کی یہ لغو بیانی ملاحظہ ہو کہتا ہے کہ سعد کے پیچھے پیچھے ہی حضرت عثمان نے کثیر بن الصلب ایک اور شخص کو بھی یہ کہہ کر دوڑا دیا جاؤ سن کر آؤ سعد عمار سے کیا کہتے ہیں۔ کثیر نے جاکر جیسے ہی دروازے کے سوراخ سے ایک آنکھ لگا کر جھانکنا چاہا عمار کی نظر پڑگئی وہ چاقو اٹھا اس کی آنکھ پھوڑنے کو دوڑ پڑے کثیر الٹے پاؤں بھاگ آیا سعد نے ہر چند عمار سے کہا جاؤ علی کے ساتھ چلے جاؤ اور بلوائیوں کو دفع کرو مگر وہ کسی طرح نہ مانے صاف کہہ دیا کہ میں قیامت تک بھی عثمان کو ان لوگوں سے نہ بچاؤں گا سعد ناکام لوٹ آئے اور یہ سب ماجرا کہہ سنایا حضرت عثمان ان ہی کی کوتاہی بتاتے رہے کہ عمار سے بات ٹھیک طور سے نہ کی ہوگی۔
    ''


    جاری ہے ۔ ۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,921
    غرض یہ ہے وہ وضع داستان جس سے بوقت یورش بلوائیاں حضرت عمار کے مدینہ میں موجود ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے داستان کے گھڑنے والے نے جہاں اسوقت دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور حکمراں امیر المومنین عثمان غنی صلواة الله علیہ کی عاجزی و بیچارگی و بے بسی کا جن کا حکم افریقہ سے ترکستان و خراسان تک اور شام سے یمن تک چلتا تھا یوں مضحکہ اڑایا ہے وہیں صحابہ کرام کی خلیفہ وقت سے بیعت سمع و طاعت کا بھی کیسا بھونڈا نقشہ کھینچا ہے۔
    شیعہ مورخ ابن جریر طبری کی رواتیوں میں جیسا آپ ملاحظ کر چکے ہیں بتایا گیا ہے کہ حضرت عمار کا دوران قیام مصر میں سبائی بلوائیوں سے رابطہ قائم ہوگیا تھا اور وہ ان کے ہمنوا بن گئے تھے سنی مورخ ابن کثیر نے ایک صحابی کا سبائیوں کاہمنوا ہوجانا لغو باطل جانا اس لئے انہوں نے ان کے مصر بھیجے جانے کا ذکر ہی سر سے حذف کردیا اور حضرت عثمان سے ان کی دشمنی و عناد کا سبب یہ بتایا کہ عباس و عتبہ بن ابو لہب کو عمار کسی وقت گالی دے بیٹھے تھے جس پر امیر المومنین نے تادیباً زجرو توبیخ اور ملامت کی تھی اس لئے انہوں نے بلوائیوں کے معاملے میں حضرت علی اور دوسرے صحابہ کا ساتھ دینا پسند نہ کیا حالانکہ اہل مدینہ صحابہ وغیر صحابہ سب ہی شریعت مطہرہ کے واضح احکام کی متابعت میں اپنے امام اور امیرالمومنین کی تعمیل حکم اپنے اورپر لازم سمجھے ہوئے تھے۔
    ابن کثیر ہی نے بلوائیوں کے قرب مدینہ میں پہنچنے کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ :
    فلما اتترابوامن المدینة امر عثمان علی بن ابی طالب ان یخرج الیھم لیردھم الیٰ بلادھم قبل ان یدخلواالمدینة (البدایه ج ۷ ص ۱۷۰)
    بلوائی جب مدینہ کے قریب پہنچے (حضرت) عثمان نے (حضرت) علی کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جائیں اور قبل اس کے کہ وہ شہر مدینہ میں داخل ہوں انہیں ان ہی کے شہروں کی جانب واپس لوٹا دیں۔

    پھر طبری کی روایت سے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ عمار کو ساتھ لیجانے کی بھی ہدایت کردی گئی تھی وامرہ ان یاخذ معه عمار بن یاسر (البدایہ ج۷ ص ۱۷۱) نیز لکھا ہے کہ حضرت عمار نے حضرت علی کے ساتھ جانے سے قطعی انکار کیا اور سختی کے ساتھ منع کردیاہے۔ فابی عمار کل الاباء وامتنع امثل الامتناع (ایضاً) اب یہاں پھر وہی سوال حل طلب رہتا ہے کہ حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ کے ہوتے ہوئے جو حضرت عمار سے ہر حیثیت میں بمراتب بلند تر صاحب اثر رسوخ تھے راوی نے ایسی اہمیت اور خصوصیت اس معاملہ میں حضرت عمار کی کیوں اور کس مقصد سے بیان کی ہے کہ بغیر ان کے جائے بلوائی نہ ہٹتے حالانکہ بلوائیوں سے افہام تفہیم کا کام حضرت علی اور دوسرے صحابہ عمار کی بہ نسبت کہیں زیادہ خوبی و خوش اسلوبی سے انجام دے سکتے تھے اور انہوں نے انجام بھی دیا تھا خود مودودی صاحب فرماتے ہیں (شمارہ جولائی ۲۵۵) کہ بلوائیوں کے جتھے:۔"جب مدینہ کے باہر پہنچے تو حضرت علی حضرت طلحہ حضرت زبیر کو انہوں نے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر تینوں بزرگوں نے جھڑک دیااور حضرت علی نے ان کے ایک ایک الزام کا جواب دیکر حضر ت عثمان کی پوزیشن صاف کی۔ مدینہ کے مہاجرین اور انصار بھی جو دراصل اس وقت مملکت اسلامیہ میں اہل و حل و عقد کی حیثیت رکھتے تھے ان کے ہمنوا بننے کے لئے تیار نہ ہوئے"
    حضرت علی نے جب بقول مودودی صاحب بلوائیوں کے الزامات کی تردید کر کے حضرت عثمان کی پوزیشن صاف کردی تھی تو حضرت عمار کی نظروں میں بھی جنہیں حضرت علی کا بڑا وفادار و عقیدت مند بتایا جاتا ہے وہ بدرجہ اولیٰ حضرت عثمان کی پوزیشن صاف کر کے خلیفہ وقت کی اطاعت کے لئے انہیں ہموار کرسکتے تھے خصوصاً جب کہ بقول مودودی صاحب مدینہ کے سب مہاجرین و انصار بلوائیوں سے الگ تہلگ رہے ان ہی مورخین نے صراحتاً بیان کی ہے کہ مدنی صحابہ کی جماعت جن کی تعداد تیس نفوس تھی، بلوائیوں کو دور کرنے اور ہٹا دینے میں حضرت علی کے ساتھ تھی ان میں ایسے ایسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے جو سابقیت و علوئے منزلت اور اسلامی خدمات اوراثر و رسوخ کے اعتبار سے کہیں بلند و مرتبہ و برتر تھے مثلاً حضرت سعید بن زید جو عشرہ مبشرہ کے بزرگ تھے۔ حضرت زید بن ثابت جو کاتبان وحی میں سے تھے۔ حضرت کعب بن مالک جو بیعت عقبہ ثانیہ اور تمام غزوات کے شریک تھے حضرت حسان بن ثابت مشہور شاعر و مداح رسول، حضرت جبیر بن معطم جنہوں نے آنحضرتﷺ کی بوقت واپسی سفر طائف کفار قریش کے علی الرغم اپنے جوار میں لیاتھا ۔حضرت حکیم بن حزام جو حضرت خدیجہ کے بھانجے تھے اور زمانہ نبوت کے قبل سے آنحضرتﷺ سے تعلق خلوص و محبت کا رکھتے تھے دولت مند تھے۔ حضرت زید بن حارثہ ان ہی کے ذریعہ خدمت میں پہنچے تھے اسی طرح دیگر صحابہ تو پھر ایسے ممتاز و بااثر اصحاب کی موجودگی میں حضرت عمار کو بلانے کے لئے جو ان حضرات سے کم حیثیت کے تھے بار بار لوگوں کو دوڑانے کی کیا وجہ ہوسکتی تھی صاف ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں راویوں نے اسی مقصد سے تراشی ہیں کہ حضرت عمارکو اس زمانہ میں مدینہ میں موجود بتائیں تاکہ بعد میں اولاً جنگ جمل پھر صفین میں ان کے موجود اور شامیوں کے ہاتھ سے مقتول ہوجانے سے حضرت معاویہ و اہل شام کو باغی ٹولی (الفنة الباغیة) کہنے کی دلیل مل سکے ورنہ جو حقیقت ہے وہ خودطبری کی روایت سے منکشف ہوجاتی ہے کہ حضرت عمر کو بلوائیوں کی ٹولی نے اپنا راز فاش ہوجانے کے خوف سے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی دھوکہ سے ہلاک کردیا۔ ووقد اغتیل۔
    11۔ پچھلے اوراق میں ذکر اس وضعی روایت کا آچکا ہے کہ حضرت عمار کو علوی لشکر میں دیکھ کر حضرت زبیر لڑائی سے کنارہ کش ہوگئے تھے ۔گویا راوی یہ بتانا چاہتا ہے کہ الفئة الباغیة والی حدیث کو ذہن میں رکھ کر ہی تو علیحدہ ہوگئے تھے اگر یہ بات ہوتی تو جیسا ہم پہلے کہہ چکے ہیں وہ اکیلے اکیلے کیوں الگ ہوجاتے ہیں انہیں لازم تھا اپنے ساتھیوں میں خصوصاً حضرت ام المومنین کو متوجہ کر کے لڑائی بند کرادیتے کم از کم اپنے لخت جگر حضرت عبدالله کو سختی سے ہدایت کرتے روایت گھڑنے والے نے ان باتوں کا لحاظ نہ کیا۔
    جنگ جمل ہی کے سلسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوفہ سے فوجی امداد حاصل کرنے کی غرض سے جو وفود بھیجے گئے تھے ایک کے ساتھ حضرت عمار کو بھی بھیجا گیا تھا حالانکہ روایت میں یہ صراحت بھی ہے کہ ان سے پہلے حضرت عبدالله بن عباس اور الاشتر اسی غرض سے بھیجے گئے تھے۔ والی کوفہ اس وقت حضرت ابوموسیٰ الاشعری تھے جنہوں نے بالاعلان کہہ دیا تھاکہ خلیفہ شہید عثمان کی بیعت میری گردن میں بھی ہے اور علی کی گردن میں بھی ہے پہلے تو قاتلوں سے قصاص لیا جائے گا اور بعد میں اور امورطے ہوں گے وہ رشتہ میں حضرت عبدالله بن عباس کے بھتیجے داماد تھے اور الاشتر کا وطن کوفہ تھا جہاں اس کا قبیلہ آباد تھا ان دونوں کا کوفہ بھیجا جانا تو مفید طلب ہوسکتا تھا مگر عمار سے تو کوفہ کے لوگ جیسا کہ طبری ہی کی روایت سے پہلے بیان کیا جاچکا ہے اسوقت سے ناراض تھے جب کوفہ کے والی مقرر ہوکر گئے تھے اور اہل کوفہ ہی کی شکایتوں پر انہیں برطرف کردیا گیا تھا اس کے بعدانہیں کوئی منصب نہ دیا گیا ایسے شخص کا فوجی امداد حاصل کرنے کے لئے جانا الٹا موجب ناکامی کا ہوتا صاف ظاہر ہے کہ یہ روایت محض وضعی ہے۔
    12۔ جنگ صفین میں حضرت عماء کی نبرد آزمائی اور مقتول ہونے کی داستان جس طرح بیان کی گئی ہے اس کا لہجہ اور عبارت کے فقرات ہی ساختگی کی غمازی کرتے ہیں ابن جریر طبری نے قال ابو مخنف کی تکرار کے ساتھ یہ روایتیں درج کی ہی ابو مخنف کے آباؤ اجداد عراقی لشکر میں اپنے قبیلہ و خاندان کے ساتھ موجود تھے اس کی رواتیں عراقیوں کی طرفداری اور شامیوں کی مذمت کا رنگ لئے ہوئے ہیں ابو مخنف ہی تو مقتل حسین کا مؤلف بھی ہے کربلا میں اس نے عراق کے ممتاز لوگوں میں سے شمر بن ذی الجوشن کو جو حضرت علی کے رشتے میں سالے ہوتے تھے نیز شبث بن ربعی کو ایسا قسی القلب ظاہر کیا ہے کہ حضرت حسین کے سینے پر چڑھ جر ذبح کرنے اور سراتارنے کے فعل شعیہ کا ارتکاب کیا تھا -جنگ صفین جنگ صفین میں اسی راوی ابو مخنف نے ان دونوں کو حضرت علی کا ایسا پرجوش حامی ظاہر کیا کہ دوران جنگ معاویہ سے مثلاً شبث بن ربعی کی یہ گفتگو ہونا بیان کی ہے۔
    شبث بن ربعی ''معاویہ خدا تجھے ہدایت دے کیا تو عمار کو قتل کردے گا۔
    معاویہ:۔ مجھ کو کون چیز اس کے قتل سے مانع ہوگی والله اگر مجھے موقع ملا تو میں عثمان کے غلاموں کے بدلے اس کو مارڈالوں گا۔

    ابومخنف اس گفتگو سے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ صفین کے معرکے میں حضرت عمار نہ صرف بذاتہ شریک تھے بلکہ علوی لشکر میں ان کی موجودگی عام لشکریوں یا کم ازکم سرداران لشکر کے نزدیک دلیل اس بات کی تھی اگر عمار شامی لشکر کے ہاتھ سے قتل ہوں تو وہ الفئة الباغیة قرار پائے گا۔ عمر بھی ان کی بانوے ترانوے برس بیان کی گئی ہے لکھا ہے کہ جسمانی طور سے وہ اس قدر کمزور تھے کہ ہتھیار اٹھاتے ہاتھ لرزنے لگے تھے۔ لیکن گھمسان کی لڑائی کے وقت اسی مشہور کذاب راوی کے بیان کے مطابق وہ یہ کہتے ہوئے نبردآزمائی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے (طبری ج۲ ص ۲۱)
    "اے الله تو خوب جانتا ہے کہ اگر مجھ کو یہ معلوم ہوتا کہ تیری مرضی اسی میں ہے کہ میں اپنے کو اس دریا میں پھینک دوں تو میں بیشک ایسا ہی کرتا اور اگر تیری خوشنودی اس میں جانتا کہ تلوار کی نوک اپنے پیٹ پر رکھ لوں اور اس کو زور سے دباؤں کہ پشت سے نکل جائے تو میں بلاشبہ ایسا ہی کرتا، اے الله! آج کے دن میں ایسا کام کیا چاہتا ہوں کہ تو ان فاسقین سے جہاد کرنے سے زیادہ اس سے راضی ہوگا۔ ''وانی لاعاعلم الیوم عملاً ھوارضی لک من الجھاد ھولاء الفاسقین"
    اس عراقی شعیہ اخباری ابو مخنف نے حضرت عمار کی زبان سے شامی فاسقین سے جہاد کرنے سے زیادہ جس کام کو رضائے الٰہی کا مستوجب بتایا ہے وہ شامیوں کے ہاتھ سے ان کا مقتول ہوجانا کہہ کر الفئة الباغیة کا لیبل اہل شام پر لگاتا ہے۔ چناچہ عمارکا لوگوں کو اپنے ساتھ آنے کی دعوت دیتے اور یہ کہتے ہوئے لشکر شام کی طرف چلنے کی داستان گھڑی ہے۔ ''وقد فتحت ابواب الجنة بتزنیت الحورالعین لودروازے جنت کے کھل گئے سیہ چشم حوریں بناؤ سنگھار سے ہیں''۔ پھر کہتا ہےکہ صفین کی وادیوں میں سے کسی وادی پر سے وہ نہ گزرتے مگر صحابہ رسول الله ان کے ساتھ ہوتے جاتے حتیٰ کہ حضرت ہاشم بن عتبہ ابی وقاص تک پہنچ گئے جو علوی لشکر کے علم بردار تھے ان کو بھی ساتھ لیا، حضرت عمرو بن العاص کا مقابلہ ہوا تو عمار کے منہ سے صریحاً غلط بات کہلوائی کہ تو آج ہی اس لشکر کے علمبردار سے نہیں لڑتا تین بار آنحضرتﷺ کے ساتھ اس علم بردار سے لڑ چکا ہے او رآج یہ چوتھی مرتبہ ہے کیا تجھے یاد نہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے "عمار کو گروہ باغی مارے گا"۔(ترجمہ ابن خلدون کتاب ثانی جلد ۴ ص ۳۲۴ نیز طبری ۶ ص ۲۲)
    ابو مخنف کو جسے سب ہی ائمہ رجال نے کذاب کہا ہے صحابہ کے حالات سے صحیح واقفیت نہ تھی ذرا دیکھئے یہاں کیسی غلط بات کہہ گیا، حضرت ہاشم بن عتبہ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے تھے اور حضرت عمرو بن العاص فتح مکہ سے قبل مشرف بہ اسلام ہوئے تھے حضرت ہاشم سے عہد رسالت میں ان کے نبردآزمائی لغو و باطل ہے۔ پھر ان کی ہی منہ سے ان کے مقتول ہوجانے اور فئة باغیة کا لیبل ان پر اور ان کے ساتھیوں پر چسپاں کرنا بیان کیا ہے گویا وہ فاسقین کا مقابلہ کرنے اسی لئے چلے تھے اور دوسرے صحابہ بھی اپنی جانیں ان کے ساتھ دینے پراسی لئے مستعد ہوئے تھے کہ یہ لیبل حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر چسپاں کرسکیں غرض کہ اس قماش کی وضعی اور بے پایہ روایتوں سے حضرت عمار کا صفین کے معرکہ میں شریک ہوکر مقتول ہوجانا تو اہل شام کو باغی گروہ قرار دینے ہی کے لئے گھڑا ہے۔ کوفہ کی تک سالوں میں صدہا روایتیں گھڑی گئیں حتیٰ کہ حضرت عمرو بن العاص کے صاحبزادے حضرت عبدالله کی اپنے والد سےگفتگو بھی وضع کی گئی اور حضرت معاویہ کی طرف سےبھی جواب تصنیف کیا گیا جو لوگ عمار کو ہماری تلوار کے نیچے ڈال گئے وہی ان کے قاتل اور وہی فئة باغیة ہیں پھر کسی نے اپنی ذہانت سے یہ تاویل بھی کرڈالی کہ باغیہ سے مراد بغاوت ہی نہیں بلکہ باغیہ بمعنی طالبہ ہے اور ہم لوگ قصاص عثمان کے طالب ہیں اس لئے فئة باغیتہ نہیں، یہ سب سوال و جواب واقعہ سے تقریباً دوصدی بعد خود ہی تصنیف کر کے مشتہر کردیئے گئے جو روایت پرستی کی وجہ سے کتب تاریخ کے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی مندرج ہیں ان سب موضوعات کی تردید و تکذیب ایک ایسی تاریخی دستاویز سے ہوجاتی ہے جو اسی زمانےیعنی ۳۷ھ ہی میں قلم بند کی گئی تھی یعنی خود حضرت علی کا گشتی مراسلہ جو اس درجہ مستند ہے کہ کتب تاریخ و تذکرہ کے علاوہ نہج البلاغتہ کے مصنفین نے بھی اسے درج کیا ہے اسی سے یہاں نقل کیا جاتا ہے:۔
    ''من کتاب علیه اسلام الی الامصار یقنص فیه ماجری بینه وبین اھل الشام''
    یہ گشتی مراسلہ ہے جناب (علی) علیہ السلام کا جو تمام شہروں (کے لوگوں کو) بھیجا گیا جس میں اس واقعہ کوبیان کیا ہے جو ان کے اور اہل شام کے درمیان پیش آیا۔ ''وکان بداء امرنا التقینا والقوم من اھل الشام و ظاہر ان ربنا واحد و نبینا واحد و دعوتنا فی الاسلام ولم یتھلا نسترید ھم ولا تیزید رننا الامر واحد الّا ما اختلفنا فیه من دم عثمان و نحن منه براء'' (نہج البلاغتہ جزو ثانی ص ۱۵۹)
    ]''جنگ صفین تو جیسا خود حضرت علی کا قول نقل ہوچکا ہے قصاص خون عثمان کے نزاعی معاملہ کی وجہ سے ہوئی تھی دونوں فریق کی دعوت ایک ہی تھی بغاوت کا اس سے کیا تعلق حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ابن کثیر ہی نے یہ حدیث نقل کی ہے۔
    انه قال لاتقوم الساعة حتی تقتل فئتان عظیمتان یقتل بینھما مقتلة عظیمة ودعواھما واحدة (البدایه ج ۷ ص ۲۷۴)
    ''رسول اللهﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہ آئے یہاں تک کہ دو عظیم گروہ آپس میں بڑی خونریزی کریں گے اور دعوت ان دونوں کی ایک ہی ہوگی''

    ''فئتان عظیمتان سے صاف ظاہر ہے کہ عراقی و شامی افواج ہی مراد ہوسکتی ہیں جن میں مقتلة عظیمة واقع ہوا اگر حضرت عمار قتل ہوئے ہوتے تو ضرورت اشارہ ان کا اس میں ہوتا حضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن العاص کا صحابی ہونا قطعی طور سے مسلم ہے علامہ سمہودی کی کتاب وفاء الوفاء میں جو حدیث ان الفاظ میں ہے یا عمار! لایقتلک اصحابی تقتلک الفئة الباغیة (اے عمار! تجھے میرے صحابی نہیں قتل کریں بلکہ باغی گروہ تجھے قتل کرے گا) قاتلان عثمان کا باغی گروہ ہونا مسلم ہے اسی باغی گروہ نے حضرت عمار کوجیسا تفصیلاً بیان ہوا قتل کیا تھا قاتلان عثمان میں کوئی صحابی شامل نہ تھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں