حضرت زینب بنتِ ابی سلمہ رضی اللہ عنہا

mahajawad1 نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏اگست 25, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    حضرت زینب بنتِ ابی سلمہ رضی اللہ عنہا



    امُ المؤمنین حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی تھیں جو ان کے پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بن عبد الاسد مخزومی کی صلب سے تھیں۔
    سلسلہ نسب یہ ہے:
    زینب بنتِ ابو سلمہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم القرشی۔

    حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور رضاعی بھائی بھی، اس لحاظ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بھتیجی ہوتی تھیں۔ (برّہ بنتِ عبدالمطّلب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی دادی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی)۔
    ان کی ولادت کے بارے میں روایتوں میں خاصا تضاد ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ وہ حبشہ میں پیدا ہوئیں جہاں سنہ 5 بعدِ بعثت میں ان کے والدین مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد قیام پذیر تھے۔ حضرت ابو سلمہرضی اللہ اور حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا حبشہ میں چند سال گزارنے کے بعد مکہ واپس آگئے اور پھر وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ (حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے سنہ 12 بعد بعثت میں مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے سنہ 13 بعد بعثت میں)۔

    مولانا سعید انصاری مرحوم نے "سیرت الصحابیات" میں لکھا ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی، اگر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی ولادت حبشہ میں تسلیم کی جائے تو پھر انہوں نے ّوالدین" کے ساتھ نہیں بلکہ والدہ کے ساتھ ہجرت کی ہوگی۔ (دونوں میاں بیوی کے زمانہ ہجرت میں ایک سال کا تفاوت ہے) اس وقت انکی عمر کم از کم تین چار سال کی ضرور ہوگی لیکن بعض ارباب سیئر نے لکھا ہے کہ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے سنہ 4 ہجری میں وفات پائی تو اس وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہا شیر خوار تھیں۔ حافظ ابنِ حجر نے تو "الاصابہ" میں یہاں تک لکھا ہے کہ ان کو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنتِ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دودھ پلایا۔ عدّت گزارنے کے بعد حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں تو ننھی زینب رضی اللہ عنہا بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش تربیت میں آ گئیں۔ان کا اصل نام برّہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر زینب رکھا۔

    بعض روایتوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سنہ 3 ہجری میں والد (حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ) کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں۔ ہماری تحقیق کے مطابق جن روایتوں میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی ولادت حبشہ میں بتائی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہیں کیونکہ ابن ہشام نے محمد بن اسحٰق کے حوالے سے خود حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جس وقت میں نے ہجرت کی (سنہ 13 ہجری بعد بعثت میں) میری گود میں ایک ہی بچہ تھا۔(سلمہ بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ)۔ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ میں ہجرت نبوی کے بعد پیدا ہوئیں۔ سنہ 4 ہجری میں حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کو امّ المؤمنین بننے کا شرف حاصل ہوا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا شیر خوار تھیں۔ اس لحاظ سے ان کا سال ولادت سنہ 3 ہجری کے لگ بھگ ٹہرتا ہے۔ حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی شیر خوارگی کی تصدیق مسند احمد بن حنبل اور طبقات ابن سعد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا نہایت حیادار تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد کچھ عرصہ تک ان کی یہ کیفیت رہی کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ فرطِ حیا سے اپنی شیرخوار بچی زینب رضی اللہ عنہا کو گود میں لے کر دودھ پلانے لگتیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر واپس ہو جاتے۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جو حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے، معلوم ہوا تو وہ ناراض ہوئے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے گھر لے گئے (عارضی طور پر)۔

    رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ننھی زینب رضی اللہ عنہا سے بیحد محبت تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ بھی تھیں اور بھتیجی بھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غسل فرما رہے ہوتے اور ننھی زینب رضی اللہ عنہا آہستہ آہستہ چلتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب چلی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیار سے ان پر پانی چھڑکتے تھے۔ اہل سیئر نے تواتر کے ساتھ لکھا ہے کہ اس پانی کی برکت سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے چہرے پر بڑھاپے میں بھی جوانی کی آب و تاب قائم رہی۔
    حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب سن بلوغ کو پہنچیں تو امّ المؤمنین حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کی شادی اپنی بھانجے حضرت ابوعبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ(بن اسود بن مطلب بن اسد بن العزّی بن قصّی) سے کردی۔ ان سے چھہ لڑکے اور تین لڑکیاں پیدا ہوئیں۔
    سنہ 63 ہجری میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو ایک عظیم صدمہ سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ ان کے دو لڑکوں یزید بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور کثیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شہادت تھی جو واقعہ حرّہ میں ہوئی۔ جب انکی لاشیں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے سامنے لائی گئیں تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر فرمایا کہ مجھ پر بڑی مصیبت پڑی، میرا ایک فرزند تو سر میدان لڑ کر شہید ہوا لیکن دوسرا تو خانہ نشین تھا، ظالموں نے اس کو گھر میں گھس کر ناحق قتل کیا۔ اس کے بعد نہایت حوصلہ اور صبر سے اپنے دونوں نونہالوں کے کفن دفن کا انتظام کیا۔

    اس واقعہ کے دس سال بعد (سنہ 73 ہجری میں) حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھی پیک اجل کو لبّیک کہا۔ جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ جنازے میں فقیہ الامّت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی شریک ہوئے۔

    حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن شفقت میں تربیت پائی تھی اس لیے فضل و کمال کے لحاظ سے نہایت بلند مرتبے پر فائز تھیں۔ علامہ عبدالبر نے "استعیاب: میں اور علامہ ابن اثیر نے "اسد الغابہ" میں لکھا ہے:
    "کانت من افقہ نساء زمانھا"
    (وہ اپنے زمانے کی فقیہ ترین خاتون تھیں)
    ارباب سیئر نے یہ بھی لکھا ہے کہ بڑے بڑے ذی علم لوگ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر نے "اصابہ" میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ" جب میں نے مدینہ کی کسی فقیہ عورت کا ذکر کیا تو زینب بنتِ ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کو ضرور یاد کیا"۔
    حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے چند احادیث بھی مروی ہیں۔ ان کے روایت کرنے والوں میں حضرت زین العابدین اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔


    رضی اللہ تعالیِٰ عنہا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں